TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان - خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان - Book 12 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 12 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 77 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

77 Hadith · 1 Chapters
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ سَفِينَة أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَن مَوْلى رَسُوْلِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مرفوعا:الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ تَكُوْنُ بَعْدَ ذَلِكَ مُلُوْكاً
سفینہ ابی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےمرفوعامروی ہے كہ:خلافت تیس(30)سال رہےگی اس كے بعد بادشاہت آجائے گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (459) ، صحيح ابن حبان رقم (6783) .
1761
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ مَرْفُوْعاً: الْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ وَالْحُكْمُ فِي الْأَنْصَارِ وَالدَّعْوَةُ فِي الْحَبَشَةِ وَالْهِجْرَةُ فِي الْمُسْلِمِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ بَعْدُ .
عتبہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:خلافت قریش میں ہوگی، فیصلہ انصار میں، دعوت حبشیوں میں اور اس كے بعد ہجرت مسلمانوں اور مہاجرین میں ہوگی
Takhreej
الصحيحة رقم (1851) ، مسند أحمد رقم (16995) .
1762
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ شَأْنِ ثَقِيفٍ إِذْ بَايَعَتْ؟ فَقَالَ: اشْتَرَطَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْ لَا صَدَقَةَ عَلَيْهَا وَلَا جِهَادَ قَالَ وَأَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: سَيَصَّدَّقُونَ وَيُجَاهِدُونَ إِذَا أَسْلَمُوا.
ابن لہیعہ سے مروی ہے كہ ابو زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان كیا كہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے ثقیف كے معاملے كے بارے میں دریافت كیا جب انہوں نے بیعت كی۔ جابر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شرط لگائی كہ نہ ان پر زكاۃ لاگو ہوگی نہ جہاد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ اسلام لے آئیں گے تو جلد ہی زكاۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی كریں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (1888) ، مسند أحمد رقم (14146و 14147) .
1763
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : سَيَكُون بَعْدِي خُلَفَاء يَعْمَلُون بِمَا يَعْلَمُوْن وَيَفْعَلُون مَا يُؤْمَرُون، وَسَيَكُون بَعْدِي خُلَفَاء يَعْمَلُون بِمَا لَا يَعْلَمُونَ وَيَفْعَلُون بِمَا لَا يُؤْمَرُون، فَمَن أَنْكَر عَلَيْهِم بَرِئ وَمَن أَمْسَكَ يَدَه سَلِمَ وَلَكِن مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب میرے بعد اسے خلفاء آئیں گے جو علم کے مطابق عمل کریں گے اور انہیں جس کام کا حکم دیا جائے گا وہ سرانجام دیں گے۔ پھر ان کے بعد ایسے خلفاءآئیں گے جو ایسے عمل كریں گے جن كے بارے میں جانتے نہیں ہوں گے ، اور جس كا حكم نہیں دیا گیا ہوگا وہ كام كریں گے۔ جس نے ان كے عمل كا انكار كیا وہ بری ہے، جس نے ان سے اپنا ہاتھ روک لیا وہ سلامت رہا ، لیكن جو راضی ہوگیا اور اس كی فرمانبرداری كی(وہ ہلاك ہوگیا)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3007) ، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (5769) .
1764
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ عُبَادَة بنِ الصَّامِت مَرْفُوْعاً: سَيَلِيكُم أُمَرَاءَ بَعْدِي يُعَرِّفُونَكُم ما تُنْكِرُون، وَيُنْكِرُون عَلَيْكُم ما تَعْرِفُون، فَمَن أَدْرَك ذَلِك مِنْكُم فَلَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى الله .
عبادہ بن صامت‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: میرے بعد عنقریب ایسے حكمران آئیں گے جسے تم برائی سمجھتے ہو گے وہ تمہیں نیكی باور كرائیں گے ۔ اور جسے تم نیكی سمجھتے ہو گے اسے برائی باور كرائیں گے۔ تم میں سے جو ایسے حاكم كا زمانہ پائے تو اللہ کی نافرمانی کرنے والے کی کوئی اطاعت نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (590) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (5541) .
1765
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عن أبي هُرَيْرَة قَالَ :قَالَ رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: طَاعَةُ الْإِمَامِ حَقٌّ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ مَا لَمْ يَأْمُرْ بِمَعْصِيَةِ الله عَزّ وَجَلَّ , فَإِذَا أَمَرَبِمَعْصِيَةِ اللهِ , فَلَا طَاعَةَ لَه .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان آدمی پر حكمران كی اطاعت لازم ہے جب تك وہ اللہ كی نافرمانی كا حكم نہ دے۔ جب وہ اللہ كی نا فرمانی كا حكم دے تو پھر كوئی اطاعت نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (752) ، الفوائد رقم ( 10 / 1 ) .
1766
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ عَلْقَمَةَ بن وَائِلٍ، عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنْ كَانَ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَعْمَلُوْنَ بِغَيْرِ طَاعَةِ اللهِ؟ فَقَالَ: عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ .
علقمہ بن وائل اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان كرتے ہیں كہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے كہا:اگر ہم پر ایسے حكمران مسلط ہو جائیں جو اللہ كی نافرمانی والےعمل كریں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:ان پروہی ذمہ داری ہےجس كاانہیں ذمہ داربنایاگیااورتم پروہی ہےجس كےتم ذمےداربنائے گئے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3176) ، المعجم الكبير للطبراني رقم ( 6198 ) .
1767
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ كُنْتُ مُخَاصِراً لِلنَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَوْمًا إِلَى مَنْزِلِهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَى أُمَّتِي مِنْ الدَّجَّالِ الْأَئِمَّةَ الْمُضِلُّوْنَ .
ابو ذر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ ایک دوسرے کی کمر پر ہاتھ رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے گھر تك گیا، میں نے سنا آپ فرما رہے تھے: دجال كے علاوہ مجھے اپنی امت كے بارے میں سب سے زیادہ خوف گمراہ كرنے والے حكمرانوں كا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1989) ، مسند أحمد رقم (20335) .
1768
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنِ الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللهُ بِهَذَا الْخَيْرِ(فَنَحْنُ فِيْهِ)، (وَجَاءَ بِكَ) فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ(كَمَا كاَنَ قَبْلَهُ؟). (قَالَ: يَا حُذَيْفَةُ! تَعلَّمْ كِتاَبَ اللهِ وَاتَّبِعْ مَا فِيْهِ، (ثَلاَثَ مَرَّاتٍ). قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَبَعْدَ هَذَا الشرِّ مِنْ خَيْرٍ؟ قَالَ: نَعَمْ. (قُلْتُ فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْهُ؟ قَالَ: السَّيْف). قُلْتُ وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟ (وَفِي طَرِيْقٍ: قُلْتُ وَهَلْ بَعْدَ السَّيْفِ بَقِيَّةٌ؟) قَالَ: نَعَمْ وَفِيهِ (وَفِي طَرِيْقٍ: تَكُوْنُ إِمَارَةٌ (وَفِي لَفْظٍ: جَمَاعَةٌ) عَلَى أَقْذَاءٍ، وَهُدْنَة عَلَى) دَخَن. قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟ قَالَ: قَوْمٌ (وَفِي طَرِيْقٍ: أُخْرَى: يَكُوْنُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ (يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي، وَ) يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ (وَسَيَقُوْمُ فِيْهِمْ رِجَالٌ قُلُوْبُهُمْ قُلُوْبُ الشَّيَاطِيْن، فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ). (وَفِي أُخْرَى: الْهُدْنَةُ عَلَى دَخَنٍ مَا هِيَ؟ قَالَ: لاَ تَرْجِعُ قُلُوْبُ أَقوَام عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ). قُلْتُ: فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ ، (فِتْنَةٌ عُمْيَاء صُمْيَاء عَلَيْهَا) دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! صِفْهُمْ لَنَا. قَالَ: هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا. قُلْتُ: (ياَ رَسُوْلَ الله) فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ: تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ، (تَسْمَعْ وَتُطِيْعَ الْأَمِيْرَ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ). قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟ قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ. (وَفِي طَرِيْقٍ): فَإِنْ تَمُتْ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٍ عَلَى جَذْلٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتَّبِعَ أَحَدٌا مِنْهُمْ). (وَفِي أُخْرَى): فَإِنْ رَأَيْتَ يَوْمَئِذٍ لِلهِ -عَزَّوَجَلَّ- فِي الْأَرْضِ خَلِيْفَةً ، فَالْزَمْهُ وَإِنْ ضَرَبَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ، فَإِنْ لَمْ تَرَ خَلْيْفَةً فَاهْرُبْ (فِي الْأَرْضِ) حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى جَذْلٍ شَجَرَةٍ). (قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّال. قَالَ: قُلْتُ: فَبِمَ يَجِيُءُ؟ قَالَ: بِنَهْرٍ -أَوْ قَالَ: مَاءٍ وَناَرٍ- فَمَنْ دَخَلَ نَهْرَهُ حَطَّ أَجْرُهُ ، وَوَجَبَ وِزْرُهُ، وَمَنْ دَخَلَ نَارَهُ وَجَبَ أَجْرُهُ وَحَطَّ وِزْرُهُ. (قُلْتُ: يَارَسُوْلَ الله: فَمَا بَعْدَ الدَّجَّال؟ قَالَ: عِيْسَى ابْنُ مَرْيَم علیہ السلام). قَالَ: قُلْتُ: ثَمَّ مَاذَا؟ قَالَ: لَوْأُنْتِجَتْ فَرَساً لَمْ تَرْكَبْ فُلُوَّهَا حَتَّى تَقُوْمُ السَّاعَة ) .
حذیفہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر كے بارے میں سوال كیا كرتے تھے، اور میں آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے شر كےبارے میں سوال كیا كرتا تھا، اس خدشے سے كہ كہیں شر مجھ تك نہ پہنچ جائے۔ میں نے كہا:اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم جاہلیت اور شر میں مبتلا تھے ، تب اللہ تعالیٰ ہمارے پاس اس خیر(دین اسلام)كو لایا(جس میں ہم داخل ہوگئے)(اور آپ كو لایا)كیا اس خیر كے بعد كوئی شر ہے(جس طرح پہلے تھا؟) (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تین مرتبہ)فرمایا:اے حذیفہ! اللہ كی كتاب كا علم حاصل كرو اور جو كچھ اس میں ہے اس كی پیروی كرو۔ میں نے كہا:اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !كیا اس شر كے بعد كوئی خیر ہے؟ آپ نے فرمایا: (ہاں)میں نے كہا: اس سے بچاؤ كس طرح ممكن ہے؟ آپ نے فرمایا:تلوار سے)(میں نے كہا: كیا اس شر كے بعد خیر ہے؟(اور ایك روایت میں ہے:میں نے كہا:كیا تلوار كے بعد كچھ باقی بچے گا؟)آپ نے فرمایا:ہاں اور اس میں (اور ایك روایت میں ہے:امارت(اور ایك روایت میں ہے:جماعت ہوگی)دلوں میں فساد ہوگا۔ دخن (دھوکے پر صلح ہوگی) میں نے كہا: یہ دخن كیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ایك قوم ہوگی(اور دوسری روایت میں ہے: میرے بعد ایسے حكمران ہوں گے (جو میرے طریقے كے خلاف طریقہ اختیار كریں گے)اور میرے راستے كے علاوہ دوسرا راستہ اختیار كریں گے، ان میں نیك عمل بھی ہوں گے اور برے بھی(اور ان میں ایسے لوگ بھی كھڑے ہوں گے جن كے دل انسانوں كے جسموں میں شیاطین كے دلوں جیسے ہوں گے) (اور دوسری روایت میں ہے:دھوکے پر صلح کا کیا مطلب؟آپ نے فرمایا:لوگوں كے دل اس بات پر واپس نہیں آئیں گے جس پر وہ پہلے تھے)میں نے كہا: كیا اس خیر كے بعد كوئی شر ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں(اندھا بہرا فتنہ ہوگا، اس پر ) ایسے بلانے والے ہیں جو جہنم كے دروازوں پر كھڑے ہیں، جنہوں نے ان كی بات قبول كی وہ انہیں جہنم میں پھینك دیں گے۔ میں نے كہا:اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان كا حلیہ بتایئے؟ آپ نے فرمایا: ہمارے جیسی كھال ہوگی اور ہماری زبان بولیں گے، میں نے كہا:(اے اللہ كے رسول) اگر مجھے وہ زمانہ مل جائے تو آپ مجھے كیا حكم دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مسلمانوں كی جماعت اور ان كے امام(امیر) كو لازم پكڑنا(تم اس كی بات سنو اور اس امیر كی اطاعت كرو، اگرچہ تمہاری پشت پر كوڑے لگائے جائیں اور تمہارا مال ضبط كر لیا جائے تب بھی اس كی بات سنو اور اطاعت كرو)میں نے كہا: اگر اس وقت مسلمانوں كی جماعت اور امیر نہ ہو تو؟ آپ نے فرمایا: تب تمام فرقوں سے الگ ہو جانا اور موت آنے تك اسی حال پر قائم رہنا اگرچہ درخت کے تنے سے چمٹے رہنا پڑے۔ (اور ایك روایت میں ہے)اے حذیفہ اگر تم مرو تو حالت یہ ہو كہ تم کسی درخت کے تنے کے ساتھ چمٹے ہوئے ہو تمہارے لئے اس بات سے بہتر ہے كہ ان میں سے كسی كی پیروی كرو۔ (اور دوسری روایت میں ہے)اگر اس دن تم زمین میں اللہ عزوجل كا مقررر كردہ خلیفہ دیكھو تو اس سے چمٹ جاؤ چاہے وہ تمہاری پشت پر كوڑے لگوائے اور تمہارا مال ہتھیالے۔ اگر تم كوئی خلیفہ نہ دیكھو تو(زمین پہاڑ وغیرہ میں) بھاگ جاؤ حتی كہ تمہیں موت آجائے اور تم درخت کے تنے کے ساتھ چمٹے ہوئے ہو۔ (میں نے كہا: پھر كیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا:پھر دجال نكلے گا، میں نے كہا: وہ كیا لائے گا؟ آپ نے فرمایا: ایك نہر ، یا فرمایا:پانی اور آگ۔ جو شخص اس كی نہر میں داخل ہوگیا اس كا اجر ضائع ہوگیا اور اس پر گناہ لازم ہو گیا، اور جو شخص اس كی آگ میں داخل ہوگیا اس كا اجرو اجب ہو گیا اور اس كا گناہ ختم ہوگیا(میں نے كہا: اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ دجال كے بعد كیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا: عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام، میں نے كہا:پھر كیا ہوگا آپ نے فرمایا :اگر کوئی گھوڑی بچہ جنے گی وہ سواری کے قابل بھی نہیں ہوگا کہ قیامت آجائے گی
Takhreej
الصحيحة رقم (2739) ، صحيح البخاري،كِتَاب الْمَنَاقِبِ، بَاب عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الْإِسْلَامِ، رقم (3338) .
1769
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ لَا يُصَافِحُ النِّسَاءَ فِي الْبَيْعَةِ .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بیعت لینے میں عورتوں سے مصافحہ نہیں كرتے تھے
Takhreej
الصحيحة رقم (530) ، مسند أحمد رقم (6307) .
1770
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ مَرْفُوْعاً: كَانَ يَأْخُذُ الْوَبَرَةَ مِنْ جَنْبِ الْبَعِيرِ مِنَ الْمَغْنَمِ ثُمَّ يَقُولُ مَا لِي فِيهِ إِلَّا مِثْلُ مَا لِأَحَدِكُمْ ثُمَّ يَقُوْلُ: إِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ فَإِنَّ الْغُلُولَ خِزْيٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمَخِيطَ وَمَا فَوْقَ ذَلِكَ وَجَاهِدُوا فِي اللهِ الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَإِنَّ الْجِهَادَ بَابٌ مِنَ الْجَنَّةِ إِنَّهُ يُنَجِّي اللهُ صَاحِبَهُ مِنْ الْهَمِّ وَالْغَمِّ وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللهِ فِي الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ وَلَا تَأْخُذْكُمْ فِي اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ .
عبادہ بن صامت‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت كے اونٹوں كے بال لے كر فرمایا: میرے لئے بھی اس میں اتنا ہی حصہ ہے جتنا تمہارے عام آدمی كا ۔ پھر فرمایا: خیانت سے بچو، كیوں كہ خیانت قیامت كے دن خائن كے لئے رسوائی كا باعث ہوگی۔ سوئی دھاگہ اور اس سے بڑھ كر چیز واپس كر دو، اللہ كے راستے میں قریب اور دور ،حضر اور سفر میں جہاد كرو ، كیوں كہ جہاد جنت كا دروازہ ہے ۔ یہ جہاد كرنے والے كو پریشانی اور غم سے نجات دیتا ہے ۔ اللہ كے لئے قریبی اور دور كے عزیزپر اللہ كی حدود قائم كرو۔ اور اللہ كے بارے میں تمہیں كسی ملامت كرنے والے كی ملامت کمزور نہ کرے
Takhreej
الصحيحة رقم (1942) ، مسند أحمد رقم (21730) .
1771
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخِطَّاب قَالَ : كَان صلی اللہ علیہ وسلم يَسْمَرُ مَعَ أَبِي بَكرٍ فِي الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِيْن، وَأَناَ مَعَهُمَا .
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں كے كسی معاملے میں ابو بكر رضی اللہ عنہ كے ساتھ رات گئے تك گفتگو كرتے رہتے ، اور میں بھی آپ دونوں كے ساتھ ہوتا
Takhreej
الصحيحة رقم (2781) ، أخرجه الترمذي رقم (169 )
1772
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ: كُنَّا مُعَسْكِرِينَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بَعْدَ قَتْلِ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَامَ كَعْبُ بْنُ مُرَّةَ الْبَهْزِيُّ فَقَالَ: لَوْلَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَا قُمْتُ هَذَا الْمَقَامَ فَلَمَّا سَمِعَ (مُعَاوِيَةَ) بِذِكْرِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَجْلَسَ النَّاسَ فَقَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذْ مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَيْهِ مُرَجِّلًا (مُعْدِفاً) قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَتَخْرُجَنَّ فِتْنَةٌ مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ -أَوْ مِنْ بَيْنِ رِجْلَيْ – هَذَا- يعني: عثمان-رضي الله عنه- هَذَا يَوْمَئِذٍ وَمَنِ اتَّبَعَهُ عَلَى الْهُدَى قَالَ فَقَامَ ابْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ مِنْ عِنْدِ الْمِنْبَرِ فَقَالَ: إِنَّكَ لَصَاحِبُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: وَاللهِ إِنِّي لَحَاضِرٌ ذَلِكَ الْمَجْلِسَ وَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي فِي الْجَيْشِ مُصَدِّقًا كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ تَكَلَّمَ بِهِ .
جبیر بن نفیر رحمۃ اللہ علیہ كہتے ہیں كہ ہم عثمان رضی اللہ عنہ كی شہادت كے بعد معاویہ‌رضی اللہ عنہ كے لشکر میں تھے۔ كعب بن مرہ بہزی‌رضی اللہ عنہ كھڑے ہوئے اور كہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایك بات نہ سنی ہوتی تو میں اس جگہ كھڑا نہ ہوتا۔ جب(معاویہ رضی اللہ عنہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كا تذكرہ سنا تو لوگوں كو بٹھادیا، انہوں نے كہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس بیٹھے تھے كہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پیدل وہاں سے گزرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے قدموں كے نیچے یا اس کے پاؤں کے نیچے سے ایك فتنہ نكلے گا۔ یہ( یعنی عثمان‌رضی اللہ عنہ ) اور جنہوں نے ان كی پیروی كی ہدایت پر ہوں گے۔ ابن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ منبر كے پاس سے كھڑے ہوئے اور كہا: كیا تم اس حدیث كو بیان كرنے والے ہو؟ انہوں نے كہا: ہاں۔ ابن حوالہ نے كہا: واللہ میں بھی اس مجلس میں موجود تھا، اگر مجھے معلوم ہوتا كہ لشكر میں میری تصدیق كرنے والا كوئی ہے تو میں پہلے اس حدیث كو بیان كرتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3119) ، مسند أحمد رقم (17373) .
1773
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ عِنْدَ اسْتِهِ .
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دھوكہ باز شخص كے لئے قیامت كے دن اس کی دبر پر ایك جھنڈا ہوگا جس كے ذریعے وہ پہچانا جائے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (1690) ، مسند أحمد رقم (11190) .
1774
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَة ، قَالاَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَيَأْتِيَنّ عَلَيْكُم أُمَرَاء يُقْرِّبُونَ شِرَارَ النَّاس، وَيُؤَخِّرُوْنَ الصَّلاَة عَنْ مَوَاقِيتِهَا، فَمَن أَدْرَك ذَلِك مِنْهُمْ فَلَا يَكُوْنَنَّ عَرِيْفاً ، وَلَا شُرْطِيًّا ، وَلَاجَابِيًا، وَلَاخَازِنًا
ابو سعید اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم پر ایسے امراء مقرر ہوں گے جو شرار الناس(بد ترین لوگوں) كو اپنے قریب كریں گے اور نماز كو ان كے اوقات سے مو خر كریں گے، جو شخص ان کا زمانہ پائے تو وہ نہ حاکم بنے ، نہ ساَہی بنے،نہ ٹیکس وصول کرنے والا ،نہ خزانچی بنے
Takhreej
الصحيحة رقم (360) ، صحيح ابن حبان رقم (4669)
1775
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ شَدَّادِ بن أَوْسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَرْفُوْعاً: لَيُحْمَلَنَّ شِرَارُ هَذِهِ الأُمَّةِ عَلَى سَنَنِ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَذْوَ الْقُذَّةِ بِالْقُذَّةِ .
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت كے بدترین لوگ تم سے پہلے کے اہل کتاب کے طریقوں پر برابر برابر چلیں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (3312) ، صحيح ابن حبان رقم (16512) .
1776
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ يَزِيْدِ بْن شَريكٍ، أَنَّ الضِّحَّاك بن قيس بَعَثَ مَعَه بِكِسْوَةٍ إلى مَرْوَان بن الْحَكَم فَقَال مَرْوَان لِلْبَوَّاب: انْظُر مَنْ بِالْبَاب ؟ قَالَ: أَبُو هُرَيْرَة ، فَاَذِنَ لَه فَقَالَ: يَا أبا هُرَيْرَة ، حَدِّثْنَا شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْلَ: لَيُوشِكُ رَجَلٌ أَنْ يَتَمَنَّى أَنَّه خرَّ مِنَ الثُّرَيَّا وَلَم يَلِ مِنْ أَمَرِ النَّاسِ شَيْئًا.
یزید بن شریك سے مروی ہے كہ ضحاك بن قیس رضی اللہ عنہ نے انہیں كچھ كپڑے دے كر مروان بن حكم كی طرف بھیجا، مروان نے دربان سے كہا: دیكھو دروازے پر كون ہے؟ دربان نے كہا: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ مروان نے انہیں اجازت دے دی۔ مروان نے كہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ،ہمیں كوئی حدیث بیان كیجئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: عنقریب آدمی یہ خواہش كرے گا كہ وہ وہ ثریا سے گر جائے لیكن لوگوں كے معاملات كا ذمہ دار نہ بنے
Takhreej
الصحيحة رقم (361) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (7115) .
1777
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ يَزِيْدِ بْن شَرِيْك، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ بَعَثَ مَعَهُ بِكِسْوَةٍ إِلَى مَرْوَانِ بْنِ الْحَكَم فَقَالَ مَرْوَان لِلْبَوَّاب: انْظُر مَنْ بِالْبَاب؟ قَالَ: أَبُوْ هُرَيْرَة، فَاَذِنَ لَه فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَة، حَدِّثْنَا شَيْئًا سَمِعْتَه مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل: لَيُوشَكَنَّ رَجُلٌ أَنْ يَتَمَنَّى أَنَّه خَّر مِنَ الثُّرَيَّا وَلَمْ يَلِ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا.
یزید بن شریك سے مروی ہے كہ ضحاك بن قیس رضی اللہ عنہ نے انہیں كچھ كپڑے دے كر مروان بن حكم كی طرف بھیجا ۔ مروان نے دربان سے كہا:دیكھو دروازے پر كون ہے۔ دربان نے كہا: ابو ہریرہ ‌رضی اللہ عنہ ہیں۔ مروان نے انہیں اجازت دے دی۔ مروان نے كہا: ابو ہریرہ ہمیں كوئی حدیث بیان كیجئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے كہا كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: عنقریب آدمی خواہش كرے گا كہ وہ ثریا سے گر جائے لیكن لوگوں كے معاملات كا ذمہ دار نہ بنے
Takhreej
الصحيحة رقم (361) ، مسند أحمد رقم ( 2 / 377 و 520 و 536 ) .
1778
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ عَمْروٍ بْنِ مُرَّةَ قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ بْنِ سُفْيَان: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَا مِنْ إِمَامٍ يُغْلِقُ بَابَهُ دُونَ ذَوِي الْحَاجَةِ وَالْخَلَّةِ وَالْمَسْكَنَةِ إِلَّا أَغْلَقَ اللهُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ دُونَ خَلَّتِهِ وَحَاجَتِهِ وَمَسْكَنَتِهِ .
عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہا سے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرمارہے تھے:جو حكمران ضرورتمندوں، فقیروں اورمسكینوں پر اپنا دروازہ بندكر دیتاہے،اللہ تعالیٰ اس كی حاجت، ضرورت اورمسكینی کے سامنے آسمانوں كے دروازے بند كر دیتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (629) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الْأَحْكَامِ، بَاب مَا جَاءَ فِي إِمَامِ الرَّعِيَّةِ، رقم (1253) .
1779
Sahih
خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا لَا يَفُكُّهُ إِلَّا الْعَدْلُ أَوْ يُوبِقُهُ الْجَوْرُ .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دس آدمیوں پر بھی امیر مقرر ہوگا تو قیامت كے دن اسے طوق ڈال كر اس کا عدل اسے چھڑا لے گا یا اس کا ظلم و ستم اس کو ہلاک کردے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (2621) ، مسند أحمد رقم (9204) .
1780
Sahih