خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنَّهُ قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ يَلِي أَمْرَ عَشَرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أَتَى اللهَ عَزَّ وَجَلَّ مَغْلُولًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ فَكَّهُ بِرُّهُ أَوْ أَوْبَقَهُ إِثْمُهُ أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ وَأَوْسَطُهَا نَدَامَةٌ وَآخِرُهَا خِزْيٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص دس یا ان سے زیادہ آدمیوں کا امیر مقرر كر دیا گیا تو قیامت كے دن اسے اللہ كے سامنے اس حال میں لایا جائے گا كہ اس كے دونوں ہاتھ اس كی گردن میں بندھے ہوئے ہوں گے۔ اس كی نیكی انہیں كھلوادے گی یا اس كا گناہ اسے ہلاك كر وا دے گا۔ اس كی ابتداء ملامت ہے اس كا وسط ندامت ہے اور اس كی انتہا قیامت كے دن رسوائی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (349) ، مسند أحمد رقم (21268) .
1781
Sahih