TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2255 - روزے اور تہجد کا بیان - روزے اور تہجد کا بیان - Silsila Sahih in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 51 of 78 in this chapter
روزے اور تہجد کا بیان
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ لَا يَدَعُهُمَا يَقُولُ: لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا. يَعْنِي: الْفَرِيضَةَ.
) عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں روزہ بھی ركھتے اور افطار بھی كرتے، اور دو ركعتیں پڑھتےانہیں چھوڑتے نہ تھے۔ عبداللہ كہتے ہیں كہ آپ ان دو فرض رکعتوں سے زیادہ (سنن) نہیں پڑھتے تھے
2255
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
الصحيحة رقم (191) ، مسند أحمد رقم (3622) .

Related Chapters

162
1
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat During The Night
باب: قیام اللیل (تہجد) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Night Prayer Of The Prophet (S)
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تہجد کی کیفیت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: When One Sleeps Past The Night Prayer He Prays It During The Daytime
باب: تہجد پڑھے بغیر سو جائے تو اسے دن میں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About The Recitation During The Night
باب: قیام اللیل (تہجد) میں قرأت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: (What Has Been Related About The Atonement)
باب: میت کے چھوڑے ہوئے روزے کے کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Breaking The Fast On Purpose
باب: جان بوجھ کر رمضان کے روزے چھوڑ دینے کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Fast For The One Who Did Not Determine It During The (Preceding) Night
باب: جو رات ہی کو روزے کی نیت نہ کرے اس کا روزہ نہیں
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Breaking The Voluntary Fast
باب: نفلی روزے کے توڑنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: Performing A Voluntary Fast Without Planning It The Night Before
باب: رات میں روزے کی نیت کئے بغیر نفلی روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Wednesday and Thursday
باب: بدھ اور جمعرات کے روزے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Virtue OF Fasting On The Day of Arafah
باب: عرفہ کے دن کے روزے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day of Arafah While At Arafat
باب: میدان عرفات میں یوم عرفہ کے روزے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About Fasting Three (Days) Of Every Month
باب: ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Fasting
باب: روزے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Standing (In The Night Prayer) During The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی راتوں میں قیام (تہجد پڑھنے) کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About What To Say When Standing For Prayer In The Night
باب: رات میں نماز تہجد پڑھنے کے لیے اٹھے تو کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
17
Chapter: Something Else: The Supplication: “O Allah, I Ask You Of Your Mercy”
باب: تہجد کے لیے اٹھے تو اس میں پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Supplication At The Opening Of The Salat At Night
باب: نماز تہجد شروع کرتے وقت کی دعا کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: Something Else: The Supplication: “I Have Directed My Face Towards The One Who Created The Heavens And The Earth”
باب: تہجد میں پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
20
بَاب صَلَاة اللَّيْل
نماز تہجد کا بیان
Mishkat
21
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ
نماز تہجد کے اذکار
Mishkat
22
بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم
روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
Mishkat
23
بَاب تَنْزِيه الصَّوْم
روزے کی تقدیس و پاکیزگی کا بیان
Mishkat
24
بَاب صَوْم الْمُسَافِر
مسافر کے روزے کا بیان
Mishkat
25
نیند سے بیدار ہوتے وقت، تہجد کے وقت اور گھر میں داخل ہوتے وقت مسواک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
26
روزے دار اور بھوکے کے مسواک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
27
فصل دوم:سفر میں رات کو وتر اور تہجد کی نماز مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
28
روزے کی فرضیت میں پیش آنے والے مختلف احوال، رمضان کے روزوں کے وجوب اور ان کی فرضیت کی ابتدا کا بیان
Musnad Ahmad
29
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
30
رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
Musnad Ahmad
31
روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
Musnad Ahmad
32
روزے کی حالت میں سینگی لگوانے کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
33
روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
34
روزے دار کا (اپنی بیوی کا) بوسہ لینا
Musnad Ahmad
35
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
Musnad Ahmad
36
جنابت کی حالت میں صبح کرنے والے، جبکہ وہ روزے دار بھی ہو، کا بیان
Musnad Ahmad
37
روزے دار کو لغو، فحش کلامی اور غیبت سے متنبّہ کرنے اور ان امور کا روزے کے ثواب کو ضائع کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
38
مریض، بوڑھے، حاملہ اور مرضِعہ کے روزے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
39
ہمیشہ کے روزے رکھنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
40
نفلی روزوں اوران ایام کا بیان، جن میں نفلی روزے رکھنا مستحبّ ہیں سفر میں نفلی روزہ رکھنا
Musnad Ahmad
41
اللہ کے مہینے محرم کے روزے اور ان کی فضیلت
Musnad Ahmad
42
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
Musnad Ahmad
43
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
45
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
46
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
47
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
48
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
49
اس شخص کا بیان جس نے معین دن کے روزے کی نذر مانی اور وہ دن ، یومِ عید سے موافق ہو گیا
Musnad Ahmad
50
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی تخلیقی صفات اور ان کے حج اور روزے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

697
Sunnan Ibn e Maja
1193
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَتَهَجَّدُ مِنَ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَكَانَ يُوتِرُ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ .
It was narrated from Salim that his father said: “The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray two Rak’ah while traveling, and he did not do more than that. And he used to pray Tahajjud at night.” I asked: “Did he pray Witr?” He said: “Yes.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو رکعت پڑھتے تھے اس سے زیادہ نہیں، اور رات میں تہجد پڑھتے تھے، سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( سفر میں ) وتر پڑھتے تھے؟ کہا: جی ہاں۔
Jam e Tirmazi
480
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لِيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، ‏‏‏‏‏‏وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْمَوَالِي، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ شَيْخٌ مَدِينِيٌّ ثِقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏رَوَى عَنْهُ سُفْيَانُ حَدِيثًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الْمَوَالِي.
Jabir bin Abdullah narrated: Allah's Messenger would teach us Al-Isthikhara for all of our affairs just as he would teach us a Surah of the Qur'an, saying: 'When one of you is worried about a matter, then let him perform two Rak'ah other than the obligatory (prayer), then let him say: (Allahumma inni astakhiruka bi'ilmika, wa astaqdiruka biqudratika, wa as'aluka min falikal-azim, fa innaka taqdiru wa la qadiru, wa ta'lami wa la a'lamu, wa anta allamul-ghayub. Allahumma in kunta ta'lamu anna hadhal-amra khairun li fi dini wa ma'ishati wa aqibati amri, or said: Fi ajili amri wa ajilihi fayassirhu li,thumma barik li fihi, wa in kunta ta'lamu anna hadhal-amra sharrun li fi dini wa ma'ishati wa aqibati amri, or said: Fi ajili amri wa ajilihi fasrifhu anni wasrifni anhu waqdur Lil-khaira haithu kana, thumma ardini bih.) 'O Allah! I consult Your knowledge, and seek ability from Your power, and I ask You from Your magnificent bounty, for indeed You have power and I do not have power, and You know while I do not know, and You know the unseen. O Allah! If you know that this matter is good for me in my religion or my livelihood, and for my life in the Hereafter - or he said: for my present and future - then make it easy for me, then bless me in it. If You know that this matter is bad for me in my religion and my livelihood and my life in the Hereafter - or he said: for my present and future - then divert it from me and divert me from it, enable me to find the good wherever it is, then make me pleased with it. He said: And he mentions his need.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ہر معاملے میں استخارہ کرنا ۱؎ اسی طرح سکھاتے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے۔ آپ فرماتے: ”تم میں سے کوئی شخص جب کسی کام کا ارادہ کرے تو دو رکعت پڑھے، پھر کہے: «اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعيشتي وعاقبة أمري أو قال في عاجل أمري» یا کہے «فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فيسره لي ثم بارك لي فيه وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعيشتي وعاقبة أمري» یا کہے «في عاجل أمري وآجله فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيث كان ثم أرضني به» ”اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعے تجھ سے بھلائی طلب کرتا ہوں، اور تیری طاقت کے ذریعے تجھ سے طاقت طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں، تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو علم والا ہے اور میں لا علم ہوں، تو تمام غیبوں کو خوب جاننے والا ہے، اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے حق میں، میرے دین، میری روزی اور انجام کے اعتبار سے ( یا آپ نے فرمایا: یا میری دنیا اور آخرت کے لحاظ سے ) بہتر ہے، تو اسے تو میرے لیے آسان بنا دے اور مجھے اس میں برکت عطا فرما، اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے حق میں، میرے دین، میری روزی اور انجام کے اعتبار سے یا فرمایا میری دنیا اور آخرت کے لحاظ سے میرے لیے برا ہے تو اسے تو مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میرے لیے خیر مقدر فرما دے وہ جہاں بھی ہو، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔“ آپ نے فرمایا: ”اور اپنی حاجت کا نام لے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن ابی الموالی کی روایت سے جانتے ہیں، یہ ایک مدنی ثقہ شیخ ہیں، ان سے سفیان نے بھی ایک حدیث روایت کی ہے، اور عبدالرحمٰن سے دیگر کئی ائمہ نے بھی روایت کی ہے، یہی عبدالرحمٰن بن زید بن ابی الموالی ہیں، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود اور ابوایوب انصاری رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
523
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَعُدُّ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ ثَبْتًا فِي الْحَدِيثِ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ. وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ أَمَرَ أَنْ يُصَلَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَرْبَعًا. وَذَهَبَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ الْمُبَارَكِ إِلَى قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ. وقَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ إِنْ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ صَلَّى أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجَّ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَابْنُ عُمَرَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ وَابْنُ عُمَرَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَّى بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ أَرْبَعًا. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ صَلَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ أَرْبَعًا. حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَنَصَّ لِلْحَدِيثِ مِنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا الدَّنَانِيرُ وَالدَّرَاهِمُ أَهْوَنُ عَلَيْهِ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏إِنْ كَانَتِ الدَّنَانِيرُ وَالدَّرَاهِمُ عِنْدَهُ بِمَنْزِلَةِ الْبَعْرِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ سَمِعْت ابْنَ أَبِي عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَسَنَّ مِنْ الزُّهْرِيِّ.
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: Whoever among you is to pray after the Friday prayer, then let him pray four.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم میں سے جمعہ کے بعد نماز پڑھے تو چاہیئے کہ چار رکعت پڑھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۳- نیز عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے کہ وہ جمعہ سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد بھی چار رکعتیں پڑھتے تھے، ۴- اور علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے حکم دیا کہ جمعہ کے بعد پہلے دو پھر چار رکعتیں پڑھی جائیں، ۵- سفیان ثوری اور ابن مبارک بھی ابن مسعود کے قول کی طرف گئے ہیں، ۶- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جمعہ کے دن اگر مسجد میں پڑھے تو چار رکعتیں اور اگر اپنے گھر میں پڑھے تو دو رکعتیں پڑھے، ان کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( یہ بھی ) حدیث ہے کہ تم میں سے جو کوئی جمعہ کے بعد نماز پڑھے تو چار رکعتیں پڑھے، ۷- ابن عمر رضی الله عنہما ہی ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ اور ابن عمر رضی الله عنہما نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسجد میں جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتوں کے بعد چار رکعتیں پڑھیں۔ عطا سے روایت کی ہے کہ میں نے ابن عمر رضی الله عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں۔
Jam e Tirmazi
544
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْوَرَّاقُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانَ فَكَانُوا يُصَلُّونَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ لَا يُصَلُّونَ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا . وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ لَوْ كُنْتُ مُصَلِّيًا قَبْلَهَا أَوْ بَعْدَهَا لَأَتْمَمْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ. لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ مِثْلَ هَذَا. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ سُرَاقَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَطَوَّعُ فِي السَّفَرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَبَعْدَهَا وَقَدْ صَحَّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ يَقْصُرُ فِي السَّفَرِ وَأَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانُ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُتِمُّ الصَّلَاةَ فِي السَّفَرِ وَالْعَمَلُ عَلَى مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ. وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق. إِلَّا أَنَّ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ التَّقْصِيرُ رُخْصَةٌ لَهُ فِي السَّفَرِ فَإِنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ أَجْزَأَ عَنْهُ.
Ibn Umar narrated: I traveled with the Prophet, Abu Bakr, Umar, and Uthman; they would pray Zuhr and Asr as two Rak'ah and two Rak'ah, not praying before them nor after them. And Ibn Umar said: If I was going to pray before it or after it then I would pray it complete.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم کے ساتھ سفر کیا، یہ لوگ ظہر اور عصر دو دو رکعت پڑھتے تھے۔ نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھتے اور نہ اس کے بعد۔ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: اگر میں اس سے پہلے یا اس کے بعد ( سنت ) نماز پڑھتا تو میں انہی ( فرائض ) کو پوری پڑھتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس طرح یحییٰ بن سلیم ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ حدیث بطریق: «عن عبيد الله بن عمر عن رجل من آل سراقة عن عبد الله بن عمر» بھی مروی ہے، ۳- اور عطیہ عوفی ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نماز سے پہلے اور اس کے بعد نفل پڑھتے تھے ۱؎، ۴- اس باب میں عمر، علی، ابن عباس، انس، عمران بن حصین اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہم سفر میں قصر کرتے تھے اور عثمان رضی الله عنہ بھی اپنی خلافت کے شروع میں قصر کرتے تھے، ۶- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ۷- اور عائشہ سے مروی ہے کہ وہ سفر میں نماز پوری پڑھتی تھیں ۲؎، ۸- اور عمل اسی پر ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے مروی ہے، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، البتہ شافعی کہتے ہیں کہ سفر میں قصر کرنا رخصت ہے، اگر کوئی پوری نماز پڑھ لے تو جائز ہے۔
Jam e Tirmazi
551
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَنَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ.
Ibn Umar narrated: I prayed Zuhr with the Prophet on a journey as two Rak'ah, and two Rak'ah after it.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعںیی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابن ابی لیلیٰ نے یہ حدیث عطیہ اور نافع سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے۔
Jam e Tirmazi
552
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ يَعْنِي الْكُوفِيَّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ، وَنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي الْحَضَرِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَّيْتُ مَعَهُ فِي السَّفَرِ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَهَا شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَغْرِبَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ سَوَاءً ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ لَا تَنْقُصُ فِي الْحَضَرِ وَلَا فِي السَّفَرِ هِيَ وِتْرُ النَّهَارِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. سَمِعْت مُحَمَّدًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا رَوَى ابْنُ أَبِي لَيْلَى حَدِيثًا أَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا.
Ibn Umar narrated: I prayed with the Prophet both, while a resident and while traveling. So I prayed four for Zuhr with him as a resident, and two Rak'ah after it. I prayed two Rak'ah for Zuhr with him while traveling and two Rak'ah after it, and two Rak'ah for Asr, and he did not pray anything after it. Maghrib while a resident and traveling is the same; three Rak'ah, it is not decreased as a resident nor while traveling. It is Witr of the day, and after it are two Rak'ah.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے حضر اور سفر دونوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، میں نے آپ کے ساتھ حضر میں ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں، اور اس کے بعد دو رکعتیں، اور سفر میں آپ کے ساتھ ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں اور عصر کی دو رکعتیں، اور اس کے بعد کوئی چیز نہیں پڑھی۔ اور مغرب کی سفر و حضر دونوں ہی میں تین رکعتیں پڑھیں۔ نہ حضر میں کوئی کمی کی نہ سفر میں، یہ دن کی وتر ہے اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابن ابی لیلیٰ نے کوئی ایسی حدیث روایت نہیں کی جو میرے نزدیک اس سے زیادہ تعجب خیز ہو، میں ان کی کوئی روایت نہیں لیتا۔
Jam e Tirmazi
882
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى آمَنَ مَا كَانَ النَّاسُ وَأَكْثَرَهُ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَقْصِيرِ الصَّلَاةِ بِمِنًى لِأَهْلِ مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ لَيْسَ لِأَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَقْصُرُوا الصَّلَاةَ بِمِنًى، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا مَنْ كَانَ بِمِنًى مُسَافِرًا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ لَا بَأْسَ لِأَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَقْصُرُوا الصَّلَاةَ بِمِنًى، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.
Harithah bin Wahb said: I prayed two Rak'ah with the Prophet at Mina, and the people were as secure as they ever were, and even more so.
حارثہ بن وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھی جب کہ لوگ ہمیشہ سے زیادہ مامون اور بےخوف تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حارثہ بن وہب کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابن عمر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور ابن مسعود رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر ابوبکر کے ساتھ، عمر کے ساتھ اور عثمان رضی الله عنہم کے ساتھ ان کے ابتدائی دور خلافت میں دو رکعتیں پڑھیں، ۴- اہل مکہ کے منیٰ میں نماز قصر کرنے کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اہل مکہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ منیٰ میں نماز قصر کریں ۱؎، بجز ایسے شخص کے جو منیٰ میں مسافر کی حیثیت سے ہو، یہ ابن جریج، سفیان ثوری، یحییٰ بن سعید قطان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اہل مکہ کے لیے منیٰ میں نماز قصر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ اوزاعی، مالک، سفیان بن عیینہ، اور عبدالرحمٰن بن مہدی کا قول ہے۔
Jam e Tirmazi
3703
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وغير واحد المعنى واحد، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمَنْقَرِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ فَقَالَ:‏‏‏‏ ائْتُونِي بِصَاحِبَيْكُمُ اللَّذَيْنِ أَلَّبَاكُمْ عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجِيءَ بِهِمَا فَكَأَنَّهُمَا جَمَلَانِ،‏‏‏‏ أَوْ كَأَنَّهُمَا حِمَارَانِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرَ بِئْرِ رُومَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ فَيَجْعَلَ دَلْوَهُ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ ؟ ، ‏‏‏‏‏‏فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلَانٍ فَيَزِيدَهَا فِي الْمَسْجِدِ بِخَيْرٍ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهَا رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ مَالِي ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى ثَبِيرِ مَكَّةَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَعُمَرُ،‏‏‏‏ وَأَنَا فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ حَتَّى تَسَاقَطَتْ حِجَارَتُهُ بِالْحَضِيضِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَرَكَضَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ:‏‏‏‏ اسْكُنْ ثَبِيرُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ،‏‏‏‏ وَصِدِّيقٌ،‏‏‏‏ وَشَهِيدَانِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ شَهِدُوا لِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَنِّي شَهِيدٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عُثْمَانَ.
Narrated Thumamah bin Hazn Al-Qushairi: I was present at the house when 'Uthman appeared above them saying: 'Bring me your two companions who have gathered you against me.' He said: So they were brought as if they were two camels, or as if they were two donkeys. He said: 'Uthman appeared above them and said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that the Messenger of Allah (ﷺ) came to Al-Madinah and there was no water in it that was sweet except the well of Rumah, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Who will purchase this well of Rumah and place his bucket alongside the buckets of the Muslims, in exchange for better than that in Paradise?' So I bought it with the core of my wealth, and today you prevent me from drinking from it, so that I would have to drink from the water of the sea?' They said: 'O Allah! Yes!' He said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that the Masjid, was insufficient for its people, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Who will purchase the land of the family of so-and-so, and add it to the Masjid in exchange for better than that in Paradise?' So I bought it with the core of my wealth, and today you prevent me from praying two Rak'ah in it?' They said: 'O Allah! Yes.' He said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that I prepared the 'army of distress' from my wealth?' They said: 'O Allah! Yes!' Then he said: 'I ask you by Allah and Islam! Do you know that the Messenger of Allah (ﷺ) was on (mount) Thabir of Makkah, and with him was Abu Bakr, and 'Umar, and myself. The mountain began shaking until its rocks fell to the bottom.' He said: 'So he (ﷺ) stomped it with his foot and said: Be still O Thabir! For there is none upon except a Prophet, a Siddiq and two martyrs? ' They said: 'O Allah! Yes!' He said: 'Allah is Great! Bear witness by the Lord of the Ka'bah that I am a martyr!' - three times.
ثمامہ بن حزن قشیری کہتے ہیں کہ میں اس وقت گھر میں موجود تھا جب عثمان رضی الله عنہ نے کوٹھے سے جھانک کر انہیں دیکھا اور کہا تھا: تم میرے سامنے اپنے ان دونوں ساتھیوں کو لاؤ، جنہوں نے میرے خلاف تمہیں جمع کیا ہے، چنانچہ ان دونوں کو لایا گیا گویا وہ دونوں دو اونٹ تھے یا دو گدھے یعنی بڑے موٹے اور طاقتور، تو عثمان رضی الله عنہ نے انہیں جھانک کر دیکھا اور کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں بئررومہ کے علاوہ کوئی اور میٹھا پانی نہیں تھا جسے لوگ پیتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون بئررومہ کو جنت میں اپنے لیے اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اپنے ڈول کو دوسرے مسلمانوں کے ڈول کے برابر کر دے گا؟“، یعنی اپنے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی پینے کا برابر کا حق دے گا، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس کے پینے سے روک رہے ہو، یہاں تک کہ میں سمندر کا ( کھارا ) پانی پی رہا ہوں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، یہی بات ہے، انہوں نے کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مسجد لوگوں کے لیے تنگ ہو گئی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون آل فلاں کی زمین کے ٹکڑے کو اپنے لیے جنت میں اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اسے مسجد میں شامل کر دے گا؟“، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے نہیں دے رہے ہو، لوگوں نے کہا: ہاں، بات یہی ہے، پھر انہوں نے کہا: میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے پہاڑ ثبیر پر تھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر، عمر رضی الله عنہما تھے اور میں تھا، تو پہاڑ لرزنے لگا، یہاں تک کہ اس کے کچھ پتھر نیچے کھائی میں گرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پیر سے مار کر فرمایا: ”ٹھہر اے ثبیر! تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا کوئی اور نہیں“، لوگوں نے کہا: ہاں بات یہی ہے۔ تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر! قسم ہے رب کعبہ کی! ان لوگوں نے میرے شہید ہونے کی گواہی دے دی، یہ جملہ انہوں نے تین بار کہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور عثمان سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ سے بھی آئی ہے۔
Mishkat
288
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مقبل عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» . رَوَاهُ مُسلم
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو مسلمان وضو کرتا ہے اور وہ اپنا وضو اچھی طرح کرتا ہے پھر کھڑا ہو کر مکمل توجہ کے ساتھ دو رکعتیں پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔