TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

طب اور عیادت کا بیان - طب اور عیادت کا بیان - Book 18 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 18 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 70 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

70 Hadith · 1 Chapters
طب اور عیادت کا بیان
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي حَصِينٍ نَعُودُهُ وَمَعَنَا عَاصِمٌ قَالَ: قَالَ أَبُو حَصِينٍ لِعَاصِمٍ: تَذْكُرُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ مُخَيْمِرَةَ؟ قَالَ: قَالَ: نَعَمْ، إِنَّهُ حَدَّثَنَا يَوْمًا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا اشْتَكَى الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ قَالَ اللهُ - تَعاَلىَ- لِلَّذِي يَكْتُبُوْن: اكْتُبُوا لَهُ أَفْضَلَ مَا كَانَ يَعْمَلُ إِذْ كَانَ طَلقًا حَتَّى أُطْلِقَهُ.
ابو بكربن عیاش كہتے ہیں كہ ہم ابو حصین كے پاس ا ن كی عیادت كرنے آئے۔ ہمارے ساتھ عاصم بھی تھے۔ ابو حصین نے عاصم سے كہا: كیاآپ كو وہ حدیث یاد ہے جو ہمیں قاسم بن مخیمرہ نے بیان كی تھی؟ عاصم نے كہا: جی ہاں۔ انہوں نے ایك دن ہمیں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بیان كیا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مسلمان بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے (عمل كے لئے فرشتہ سے )كہتا ہے:جب تك میں اسے تندرست نہ كردوں اس كے لئے صحتمندی کی حالت میں اس کے افضل عمل کے مطابق عمل لکھتے جاؤ
Takhreej
الصحيحة رقم (1232) ، مسند أحمد رقم (6622) .
2283
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
عَنْ عَائَشَة، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا اشْتَكَى الْمُؤْمِن أَخْلَصَهُ اللهُ كَمَا يَخْلُصُ الْكِيْر خَبَث الْحَدِيد.
عائشہ rسے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن بیمار ہوتا ہے تواللہ تعالیٰ اسے(گناہوں سے) اس طرح صاف كردیتا ہےجس طرح بھٹی لوہے كا میل صاف كر دیتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1257) ، الأدب المفرد للبخاري رقم (515) .
2284
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُودُ مَرِيضًافَلْيَقُلْ: اللهم اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْيَمْشِي لَكَ إِلَى الصَّلَاةِ ، وَفِي رِوَايَةٍ: إِلَى جَناَزَةٍ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب كوئی شخص مریض كی عیادت كرنے آتا ہے تواسے یہ كہاْ چاہئے: اللهم اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْيَمْشِي لَكَ إِلَى الصَّلَاةِ،” اے اللہ اپنے بندے كو شفا دےتاکہ یہ تیرے راستے میں دشمن كے سامنے ڈٹ جائے، یا تیرے راستے میں نماز كے لئے چلے“، اور ایك روایت میں ہے: جنازے كی طرف۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1304) ، مسند أحمد رقم (6312) .
2285
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِذَا حُمَّ أَحَدُكُم فَلْيسُنَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ الْبَارِدَ ثَلَاثَ لَيَالٍ مِنَ السَّحَر.
) انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب كسی شخص كو بخار ہو جائے تو اس پر سحری کے وقت تین دن ٹھنڈا پانی ڈالا جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (1310) ، مسند أبو يعلى الموصلي رقم (3692) .
2286
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ انْطَلَقَ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يُرِيدَانِ الْغُسْلَ قَالَ فَانْطَلَقَا يَلْتَمِسَانِ الْخُمُرَ قَالَ فَوَضَعَ عَامِرٌ (كَذاَ فِي الْمُسْنَد وَفِي الْمُستَدْرَك: سَهْلٌ وَهُوَ الصَّوَاب) جُبَّةً كَانَتْ عَلَـيْهِ مِـنْ صُوفٍ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَأَصَبْتُهُ بِعَيْنِي فَنَزَلَ الْمَاءَ يَغْتَسِلُ قَالَ فَسَمِعْتُ لَهُ فِي الْمَاءِ قَرْقَعَةً فَأَتَيْتُهُ فَنَادَيْتُهُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُجِبْنِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخْبَرْتُهُ فَجَاءَ يَمْشِي فَخَاضَ الْمَاءَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: اللهم أَذْهِبْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا قَالَ فَقَامَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ وَمِنْ نَفْسِهِ وَمِنْ مَالِهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيُبَرِّكْهُ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ.
عبداللہ بن عمر wسے مروی ہے كہ عامر بن ربیعہ اور سہل بن حنیف غسل كے ارادے سے جارہے تھےاور جھاڑیوں کی اوٹ تلاش کررہےتھے،عامر نے (مسندمیں اسی طرح ہے اور المستدرك میں سھل ہے اور یہی درست ہے) اپنا اون كا جبہ اتار كر ایك طرف ركھا، میں نے ان كی طرف دیكھا تو انہیں میری نظرلگ گئی۔ وہ پانی میں غسل كرنے كے لئے داخل ہوئے تو میں نے پانی میں ایک دھماکہ (گونج)سنامیں ان كے پاس آیا اور انہیں تین مرتبہ آوازدی، انہوں نے مجھے جواب نہیں دیا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور آپ كو اطلاع دی۔ آپ چلتے ہوئے آئے اور پانی میں داخل ہوگئے۔ گویا میں آپ كی پنڈلیوں كی سفیدی اب بھی دیكھ رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان كے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اللهمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا،” اے اللہ اس سے اس كی گرمی ، اس كی سردی اور اس کی بیماری ختم كر دے“۔تو وہ كھڑے ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص اپنے بھائی میں ، اس كے جسم میں اور اس كے مال میں كوئی ایسی چیز دیكھے جو اسے پسند ہو تو وہ اس كے لئے بركت كی دعا كرے۔ كیوں كہ نظر لگنا حق ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2576) ، مسند أحمد رقم (15144) .
2287
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
) قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ فِي أَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا (فَرارًا مِنْهُ). وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ أَوِ السَّقَمَ رِجْزٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ، (أَوْ طاَئِفَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيل) ثُمَّ بَقِيَ بَعْدُ بِالْأَرْضِ فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ وَيَأْتِي الْأُخْرَى فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا يَقْدَمَنَّ عَلَيْهِ وَمَنْ وَقَعَ بِأَرْضٍ وَهُوَ بِهَا فَلَا يُخْرِجَنَّهُ الْفِرَارُ مِنْهُ. جآء من حدیث اساقہ بن زید و سعد بن ابی وقاص و عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم كسی علاقے میں طاعون كے بارے میں سنو تو اس میں نہ جاؤ، اور جب كسی علاقے میں طاعون پھیل جائے اور تم اس علاقے میں ہو تو (اس سے فرار ہوتے ہوئے)وہاں سے نہ نكلو، اور ایك روایت میں ہے، یہ تكلیف یا بیماری عذاب ہے جو تم سے پہلے كسی امت كو دیا گیا(یا بنی اسرائیل كے كسی گروہ كو دیا گیا) پھر اس كے بعد یہ بیماری زمین میں باقی رہی۔ كبھی چلی جاتی ہے، كبھی آجاتی ہے، جو شخص كسی علاقے میں اس كے پھیلنے كی خبر سنے وہ وہاں نہ جائے اور جو شخص كسی علاقے میں ہو اور یہ بیماری وہاں پھیل جائے تو وہاں سے فرار نہ ہو۔ یہ حدیث سیدنا اسامہ بن زید، سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2576) ، مسند أحمد رقم (15144) .
2288
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا هَاجَّ بِأَحَدِكُم الدَّمَ فَلْيَحْتَجِمْ ، فَإِنَّ الدَّم إِذَا تَبَيَّغَ بِصَاحِبِه يَقْتُلَه.
انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کسی شخص کا خون جوش مارے تو وہ سینگی لگوائے،کیونکہ جب خون جوش مار تا ہے تو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2747) ، تهذيب الأثار للطبري رقم (2819)
2289
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَأَى فِي بَيْتِهَا جَارِيَةً فِي وَجْهِهَا سَفْعَةٌ فَقَالَ: اسْتَرْقُوا لَهَا فَإِنَّ بِهَا النَّظْرَةَ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان كے گھر میں ایك بچی دیكھی جس کا چہرہ سرخی مائل سیاہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: اس پر دم كرو كیوں كہ اسے نظر لگ گئی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1247) ، صحيح البخاري،كِتَاب الطِّبِّ، بَاب رُقْيَةِ الْعَيْنِ، رقم (5298) .
2290
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الطِّيَرَةُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْمَسْكَنِ وَالْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ؟ قَالَ: إِذًا أَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌(مَا لَمْ يَقُلْ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ) يَقُولُ: أَصْدَقُ الطِّيَرَةِ الْفَأْلُ وَالْعَيْنُ حَقٌّ.
) محمد بن قیس كہتے ہیں كہ ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے سوال كیا گیا كہ كیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں گھر، گھوڑے اور عورت كے بارے میں نحوست كا سنا ہے؟ ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: تب تو میں ایسی بات كہوں گا(جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں كہی) لیكن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا) فرما رہے تھے: سچا شگون نیك فال ہے اور نظر لگنا برحق (یعنی ممکن ہے)
Takhreej
الصحيحة رقم (2576) ، مسند أحمد رقم (7544) .
2291
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
) عَنْ جَابِر بِنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ عَادَ مَرِيضًا فَقَالَ: أَلَا تَدْعُو لَه طَبِيبًا ؟. قَالُوا: يَا رَسُولَ الله وَأَنْتَ تَأْمُرَنَا بِهَذَا؟ قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنَزِّلْ دَاءً إِلَّا أُنْزِلَ مَعَهُ دَوَاءٌ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك مریض كی عیادت كی تو فرمایا: كیا تم اس كے لئے طبیب كونہیں بلاؤگے؟ لوگوں نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا آپ ہمیں یہ حكم دے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے جو بیماری بھی نازل كی ہے اس كے ساتھ اس كی دوا بھی نازل كی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1533) ، رواه البغوي في حديث علي بن الجعد ( 11 / 122 / 1 ) .
2292
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
عَنْ زُهَيْر ( يَعْنِي: ابن مُعَاوِية ) عَن امْرَأَتِه، أَنَّها سَمِعَتْ مُلَيْكَة بَنْتِ عُمَر - وَذَكَرَ أَنَّها رَدَّتِ الْغَنَم عَلَى أَهْلِهَا فِي إِمْرَةِ عُمَر بن الْخِطَاب رَضِي الله عَنْه - أَنَّهَا وَضَعَتْ لَهَا مِنْ وَجَعٍ بِهَا سَمْنُ بَقَرِ ، وَقَالَت: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَلْبَانُهَا شِفَاءٌ وَسَمَنُهَا دَوَاءٌ وَ لُحُومُهَا دَاءٌ. يَعْني الْبَقَر.
زھیر(بن معاویہ)اپنی بیوی سے بیان كرتے ہیں انہوں نے ملیكہ بنت عمر سے سنا اور عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ كے دورِ خلافت میں بكریاں لوٹانے كا بھی تذكرہ كیا، كہ انہوں (ملیکۃ بنت عمر) نے ان (زہیر بن معاویہ کی بیوی) کے لئے ایک بیماری میں گائے کا گھی تجویز کیا تھا۔ اور كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس كا دودھ شفا ہے اس كا گھی دوا ہے اور اس كا گوشت بیماری ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1533) ، رواه البغوي في حديث علي بن الجعد ( 11 / 122 / 1 ) .
2293
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ... قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبِي: أَرِنِي هَذَا الَّذِي بِظَهْرِكَ فَإِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ قَالَ: اللهُ الطَّبِيبُ بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ رَفِيقٌ طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا.
ابو رمثہ سے مروی ہے كہ میں اپنے والد كے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس گیا۔ میرے والد نے آپ سے عرض كیا: جوچیزآپ كی پشت میں ہے مجھے دكھایئے ، كیوں كہ میں طبیب ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہی طبیب ہے، تم تو ایك دوست آدمی ہو، اس بیماری كا طبیب وہ ہے جس نے یہ بیماری پیدا كی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1537) ، سنن أبي داؤد،كِتَاب التَّرَجُّلِ، بَاب فِي الْخِضَابِ، رقم (3674) .
2294
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
عن أبي الدَّرْدَاء مَرْفُوْعاً: إِن الله خَلَقَ الدَّاءَ والدَّوَاءَ ، فَتَدَاوَوْا ، ولَا تَتَدَاوَوْا بِحَرَامٍ.
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: یقینا اللہ تعالیٰ نے بیماری اور دوا(دونوں) نازل كیں ہیں۔ علاج كیا كرو اور حرام كے ساتھ علاج نہ كرو
Takhreej
الصحيحة رقم (1633) ، رواه الدولابي رقم (2 / 38) .
2295
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ اللهَ - عَزَّوَجَلَّ- لَمْ يُنْزِلِ دَاءً إِلا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً إِلا الْهَرَمَ، فَعَلَيْكُمْ بِأَلْبَانِ الْبَقَرِ فَإِنَّهَا تَرُمُّ مِنْ كُلِّ شَجَر.
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ عزوجل نے جو بھی بیماری نازل كی اس كے ساتھ شفا بھی نازل كی سوائے بڑھاپے کے ۔ گائے كا دودھ لازم كرو كیوں كہ یہ ہر درخت سے چرتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (518) ، مسند الطيالسي رقم (2 / 38)
2296
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
عَنْ أَبِي سعيد الْخُدْرِيّ مَرْفُوْعاً: إِن الله لَم يُنَزِّل دَاءً - أَو لَم يَخْلُقْ دَاءً - إِلَا أَنَزَلَ - أَو خَلَقَ - لَه دَوَاءً عَلِمَه مَنْ عَلِمَه ، وَجَهِلَه مَنْ جَهِلَه إِلَا السَّام قَالُوا: يَا رَسُول الله وَمَا السَّامُ ؟ قَالَ: الْمَوْت.
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اللہ تعالیٰ نےجو بیماری بھی نازل كی یا پیدا كی تو اس كے لئے دوا بھی نازل كی یا پیدا كی۔ كچھ لوگوں كو معلوم ہو گیا اور كچھ لوگ لا علم رہے سوائے سام(موت )كے۔لوگوں نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ سام كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: موت
Takhreej
الصحيحة رقم (1650) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (8321) .
2297
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
) عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ فِي عَجْوَةِ الْعَالِيَةِ شِفَاءً أَوْ إِنَّهَا تِرْيَاقٌ أَوَّلَ الْبُكْرَةِ.
عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالائی عجوہ میں شفا ءہے یا یہ کہ اس کا نہار منہ کھانا كا تریاق ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3539) ، صحيح مسلم،كِتَاب الْأَشْرِبَةِ، بَاب فَضْلِ تَمْرِ الْمَدِينَةِ، رقم (3815) .
2298
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
عَنْ بُكَيْرٍ أَنَّ عَاصِم بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَادَ الْمُقَنَّعَ ثُمَّ قَالَ لَا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ فِيهِ شِفَاءٌ.
بكیر سے مروی ہے كہ عاصم بن قتادہ نے انہیں بیان كیا، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے مقنع(بن سنان رحمۃ اللہ علیہ ) كی عیادت كی تو كہا: جب تك تم سینگی نہ لگواؤ گے میں یہیں رہوں گا۔ كیوں كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے كہ اس میں شفاء ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (864) ، صحيح البخاري،بَاب الْحِجَامَةِ مِنْ الدَّاءِ، كِتَاب الطِّبِّ رقم (5264) .
2299
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ شِفَاءٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ أَوْ كَيَّةٍ تُصِيبُ أَلَمًا وَأَنَا أَكْرَهُ الْكَيَّ وَلَا أُحِبُّهُ.
عقبہ بن عامر جہنی سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر كسی چیز میں شفا ہے تو سینگی لگانے میں ۔ شہد كے گھونٹ میں، یا كسی تكلیف سے داغنے میں ہے اور میں داغنے كو نا پسند كرتا ہوں ۔ اس سے دل چسپی نہیں ركھتا(اسے پسند نہیں کرتا)
Takhreej
الصحيحة رقم (4035) ، مسند أحمد رقم (16677)
2300
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ فَالْحِجَامَةُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جو علاج تم كرتے ہو اگر كسی میں خیر ہے تو سینگی میں ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (760) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب الطِّبِّ، بَاب الْحِجَامَةُ، رقم (3467) .
2301
Sahih
طب اور عیادت کا بیان
) أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَادَ الْمُقَنَّعَ ثُمَّ قَالَ: لَا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ.
جابر بن عبداللہ نے مقنع(بن سنان رحمۃ اللہ علیہ )كی عیادت كی پھر كہا: جب تك تم سینگی نہیں لگواؤ گے میں یہیں رہوں گا۔ كیوں كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا آپ فرما رہے تھے: اگر تمہاری كسی دوا میں خیر ہے تو وہ سینگی میں ہے یا شہد كے گھونٹ میں ہے یا پھر آگ كے داغ میں ہے اور مجھے داغ لگانا پسند نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (245) ، صحيح البخاري،كِتَاب الطِّذبِّ،بَاب الدَّوَاءِ بِالْعَسَلِ، رقم (5251) .
2302
Sahih

Chapters

1