ابو ا بی بن ام حرام سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرمارہے تھے:سنا اور شہد کو لازم کرلو، كیوں كہ ان دونوں میں سام كے علاوہ ہر بیماری سے شفاء ہے۔ كہا گیا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ سام كیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت
Takhreej
الصحيحة رقم (1798) ، سنن ابن ماجه،كِتَاب الطِّبِّ،بَاب السَّنَا وَالسَّنُّوتِ، رقم (3448)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: نظر لگنا حق ہے،یہ بلندی والے کو نیچے اتار دیتی ہے (یعنی کسی عہدے وغیرہ کی بلندی یا آدمی کا صحت میں اچھا ہو نا )۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: نظر لگنا حق ہے، اگر تقدیر سے كوئی چیز سبقت لے جاتی تو وہ نظر ہوتی، اور جب تم سے غسل كرنے كا كہا جائے تو غسل كرکے (ان کو پانی دے دو)
Takhreej
الصحيحة رقم (1251) ، صحيح مسلم ،كِتَاب السَّلَامِ، بَاب الطِّبِّ وَالْمَرَضِ وَالرُّقَى، رقم (4058) .
عمرہ بنت قیس عدویہ سے مروی ہے، كہتی ہیں كہ میںعائشہ رضی اللہ عنہاكے پاس آئی اور ان سے طاعون سے فرار كے بارے میں سوال كیا۔ انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طاعون سے بھاگنا گویا مقابلے كے دن دشمن سے بھاگنا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1292) ، مسند أحمد رقم ( 6 / 82 و 255) .
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دو پوشیدہ رگوں اور گردن کے قریب بالائی حصے میں سینگی لگوایا کرتے اور آپ سترہ (17)،انیس(19)،اکیس(21)تاریخ کو سینگی لگواتے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (908) ، سنن الترمذي،كِتَاب الطِّبِّ، بَاب مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ، رقم (1976) .
عن عَائَشَة قالتْ:كانتْ تَأْخُذُ رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الخاصرة، فَاشْتَدَّت بِه جِداً؛ وَأَخَذَتْه يوماً، فَأُغْمِي عَلَى رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حَتَّى ظَنَّنَا أَنَّه قَدْ هَلَكَ عَلَى الْفِرَاش ، فَلَدَدْنَاه ، فَلَمَّا أَفَاقَ عَرَفَ أنّا قَدْ لَدَدْنَاه ، فَقَال: كُنْتُم تَرَوْن أَن الله كَان يسلّطُ عليَّ ذَات الْجَنْب ؟ ما كَان الله لِيَجْعَل لَهَا عليَّ سُلطاناً، وَالله لَا يَبْقَى في الْبَيْت أَحَدٌ إِلَا لدَدْتُمُوْهُ إِلَا عَمِّي العباس. قالتْ: فَمَا بَقِيَ في الْبَيْت أَحَدٌ إِلَا لُدَّ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنْ بَعْضِ نِسَائِه تَقُولُ: أَنَا صَائِمَةٌ! قَالُوْا: تَرَيْن أنّا نَدَعُك؟ وَقَد قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : لَا يَبْقَى أَحَدٌ في الْبَيْتِ إِلَا لُدَّ فَلَدَدْنَاهَا وَهِي صَائِمَةٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو پہلو میں تكلیف ہوئی، تكلیف بہت زیادہ بڑھ گئی۔ اک دن آپ کو سخت تکلیف ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہوگئی، حتی كہ ہم سمجھے كہ آپ بستر پر ہی فوت ہوگئے ہیں۔ ہم نے(آپ کے منہ کے ایک گوشے سے آپ کو دواپلائی ) جب آپ كو افاقہ ہوا تو آپ كو معلوم ہو گیا كہ ہم نے آپ کو دوا پلائی ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا تمہارے خیال میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ذات الجنب(عرق النساء) كو مسلط كر دیا ہے؟ اللہ تعالیٰ اسے مجھ پر غالب نہیں كرے گا، واللہ! گھر میں موجود ہر شخص کودوا پلاؤسوائے میرے چچا عباسرضی اللہ عنہ كے عائشہ کہتی ہیں کہ گھر میں موجود ہر شخص کو دوا پلائی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی کہنے لگیں كہ میں روزے سے ہوں۔ وہاں موجود لوگوں نے كہا: تمہارے خیال میں ہم تمہیں چھوڑ دیں گے حالانكہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے كہ گھر میں موجود ہر شخص کودوا پلاؤ ؟ ہم نے اسے بھی روزے كی حالت میں دوا پلادی
عن علي قال: لَدَغَتِ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَقْرَبٌ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَلَمَا فَرَغَ قَالَ: لَعَنَ اللهُ الْعَقْرَبَ ، لَا تَدَعُ مُصَلِّيًا ، وَلَا غَيْره ، ثم دَعَا بِمَاءٍ وَمِلْحٍ ، وَجَعَل يَمْسَحُ عَلَيْهَا ، وَيَقْرَأُ: قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الۡکٰفِرُوۡنَ ۙ(۱) قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ ۙ(۱) قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۚ(۱).
علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كو نماز كی حالت میں ایك بچھو نے ڈنگ ماردیا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اللہ تعالیٰ بچھو پر لعنت كرے، نمازی اور غیر نمازی كا لحاظ ہی نہیں كرتا۔ پھر پانی اور نمك منگوایا اور زخم پر ملنا شروع كر دیا اور (سورۃ الکافرون، الفلق اور الاخلاص) پڑھنے لگے
Takhreej
الصحيحة رقم (458) ، المعجم الأوسط للطبراني رقم (6052) .
عبداللہ بن عمرو مرفوعا بیان كرتے ہیں كہ: اگر اسے(حجر اسود كو)جاہلیت كی نجاستیں نہ چھوتیں تو جو بھی مریض اسے چھوتا تو شفاءپاجاتا، اور زمین پر اس كے علاوہ جنت كی اور كوئی چیز نہیں ہے
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنَ مَسْعُود يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا أَنْزَلَ اللهُ دَاءً إِلَّا قَدْ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا بیان كرتے ہیں كہ:اللہ تعالیٰ نے جو بیماری بھی نازل كی ہے اس كے لئے شفاءنازل كی ہے، كچھ لوگوں كو معلوم ہو گیا اور كچھ لوگ اس سے لاعلم رہے
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اند داخل ہوئے تو ایك بچے كے رونے كی آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بچے كو كیا ہوا جو یہ رو رہا ہے؟ تم اس كے لئے نظر كا دم كیوں نہیں كروایا؟
ابو سعیداورابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: مومن كو جوتھكاوٹ، بیماری، غم حتی كہ كوئی پریشانی بھی پہنچتی ہے تو اس کی وجہ سے اس کی برائیاں ختم کردی جاتی ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (2503) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ، بَاب ثَوَابِ الْمُؤْمِنِ...، رقم (4670) .