عبداللہ بن بریدہ كہتے ہیں كہ میں نے اپنے والد سے سنا كہہ رہے تھے: جب عمرو بن معاذ کی ٹانگ كاٹی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس پر اپنا لعاب دہن لگایا تو وہ صحیح ہوگئی۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ انہوں نے نافع سے کہا: میرا خون جوش ماررہا ہے، میرے لئے سینگی لگانے والا تلاش كرو اور كوشش كرنا كہ نرم ہاتھ والا ہو۔ كوئی بوڑھا یا بچہ نہ لے آنا۔ كیوں كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناآپ فرما رہے تھے:نہار منہ سینگی لگوانا زیادہ فائدہ ہے۔ اس میں شفا اور بركت ہے، عقل اور حفظ كو زیادہ كرتی ہے، جمعرات كے دن اللہ كی بركت پر سینگی لگواؤ، بدھ كے دن سینگی لگوانے سے بچو۔ جمعہ ،ہفتہ اور اتوار كے دن سے بھی، جبكہ پیر اور منگل كو سینگی لگواؤ۔ كیوں كہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام كو آزمائش سے عافیت دی تھی، اور بدھ كے دن انہیں آزمائش میں مبتلا كیا تھا۔ كوڑھ اور برص بدھ كے دن یا بدھ كی رات ہی ظاہرہوتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (766) ، سنن ابن ماجه،كِتَاب الطِّبِّ، بَاب فِي أَيِّ الْأَيَّامِ يُحْتَجَمُ، رقم (3478) .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: بہترین دن جس میں تم سینگی لگواتے ہو سترہ(17) ،انیس(19)، اور اكیس(21) تاریخ كے دن ہیں اور معراج كی رات میں فرشتوں کی جس جماعت كے پاس سے گزرا انہوں نے یہی كہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! سینگی لازم کرلو۔
ایك انصاری سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك زخمی شخص كی عیادت كی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس كے لئے بنی فلاں کے طبیب کو بلاؤ۔ لوگوں نے اسے بلایا ، وہ آگیا اور كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم كیا دوا بھی كسی مرض كے كام آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ نے زمین میں جو بیماری بھی نازل كی ہے تو اس كے لئے شفا بھی بنائی ہے
انس بن مالكرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: عرق النساء كا علاج جنگلی بكری كی سرین ہے۔ اسے گلایا جائے (خوب پکایاجائے)،پھر تین حصوں میں تقسیم كیا جائے اور مریض تین دن تك نہار منہ ہر روز ایك حصہ پئے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1899) ، سنن ابن اجه ،كِتَاب الطِّبِّ، بَاب دَوَاءِ عِرْقِ النَّسَا، رقم (3454) .
ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہا: میرے بھائی كو دست ہو گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ، اس نے اپنے بھائی كو شہد پلایا، پھر آپ كے پاس آیا اور كہا: میں نے اسے شہد پلایا تھا، لیكن اس كے دست بڑھ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین مرتبہ فرمایا پھر وہ چوتھی مرتبہ آپ كے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ۔ اس نے كہا: میں نے اسے شہد پلایا تھا لیكن اس كے دست بڑھ گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا، تیرے بھائی كا پیٹ جھوٹا ہے، اس نے پھر اپنے بھائی كو شہد پلایا تو وہ ٹھیك ہوگیا
Takhreej
الصحيحة رقم (243) ، صحيح مسلم ،كِتَاب السَّلَامِ، بَاب التَّدَاوِي بِسَقْيِ الْعَسَلِ، رقم (4107) .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے كہ: طاعون میری امت كی شہادت ہے اور تمہارے دشمنوں میں سے جنات کے لئے نیزہ مارنے کی طرح چوکا ہےاونٹ کے غدود کی طرح جو بغل میں اور پہلو میں نکلتا ہے،جو شخص اس میں فوت ہوا وہ شہادت کے درجے پر فائز ہو گا اور جوشخص طاعون زدہ علاقے میں ٹھہرا رہاوہ گو یا اللہ کے راستے میں پہرہ دینے والے کی طرح ہے،اورجو شخص اس علاقے سے فرار ہواتو گویا کہ وہ مقابلے کے دشمن کے سامنے سے فرار ہوا
Takhreej
الصحيحة رقم (1928) ، المعجم الأوسط للطبراني رقم (5689) .
عَنْ عبدِ الرَحَّمَن بن عوف مرفوعا: عَائِدُ الْمَرِيض في مَخْرَفَة الْجَنَّة فَإِذَا جَلَس عِنْدَه غَمَرَتْه الرَّحْمَة.
عبدالرحمن بن عوفرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: مریض كی عیادت كرنے والا جنت كے باغ میں ہوتا ہے، جب وہ مریض كے پاس بیٹھتا ہے تواللہ کی رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان كے پاس آئے تو ایك عورت ان كا علاج كر رہی تھی یا انہیں دم كر رہی تھی۔ا ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس كا علاج اللہ كی كتاب كے ذریعے كرو
عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ:عَلَيْكُمْ بِالْإِثْمَدِ عِنْدَ النَّوْمِ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَر.
جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرمارہے تھے: رات كو سوتے وقت اثمدسرمہ كو استعمال كرو كیوں كہ یہ نظر تیز كرتا ہے اور پلكیں اگاتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (724) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب الطِّبِّ، بَاب الْكُحْلِ بِالْإِثْمِدِ، رقم (3487)