TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان - Book 21 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 21 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 226 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

226 Hadith · 1 Chapters
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
) عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْت جَحْشٍ زَوْجِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَتْ: خَرَجَ عَلَينَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَوْمًا فَزِعًا مُحْمَرًّا وَجْهُهُ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ! فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلَ هَذِهِ وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ الْإِبْهَامَ وَالَّتِي تَلِيهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَنُهْلَكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ.
ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا، زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہیں،کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمارے پاس گھبرائے ہوئے آئے آپ کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرما رہے تھے:عرب کے لئے اس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آچکا ہے،آج یا جوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ کر دیا گیا ہے آپ نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے حلقہ بنایا،میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک کر دیئے جائیں گے، حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہاں،جب خبث( گناہ) زیادہ ہو جائےگا
Takhreej
الصحيحة رقم (9878) صحيح البخاري كِتَاب الْفِتَنِ بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ رقم (6535)
2687
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عِمرَانَ بْن حُصَيْن مَرْفُوْعاً: لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ.
عمران بن حصین‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: میری امت کا ایک گروہ قیامت تک حق پر قائم (غالب) رہے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (2708) مستدرك الحاكم رقم (8508) المحدث الفاصل بين الراوي للرامهرمزي رقم (24)
2688
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَبْد الرَّحْمَنِ بْن شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ وَعِنْدَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ الْخَلْقِ هُمْ شَرٌّ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَدْعُونَ اللهَ بِشَيْءٍ إِلَّا رَدَّهُمْ عَلَيْهِمْ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ فَقَالَ لَهُ مَسْلَمَةُ: يَا عُقْبَةُ! اسْمَعْ مَا يَقُولُ عَبْدُ اللهٍ فَقَالَ عُقْبَةُ: هُوَ أَعْلَمُ وَأَمَّا أَنَا فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: لَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِّنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى أَمْرِ اللهِ قَاهِرِينَ لِعَدُوِّهِمْ لَا يَضُرُّهُمْ مَّنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ. فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: أَجَلْ ثُمَّ يَبْعَثُ اللهُ رِيحًا كَرِيحِ الْمِسْكِ مَسُّهَا مَسُّ الْحَرِيرِ فَلَا تَتْرُكُ نَفْسًا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِّنَ الْإِيمَانِ إِلَّا قَبَضَتْهُ ثُمَّ يَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ عَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ.
عبدالرحمن بن شمامہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان کے پاس عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بھی تھے، عبداللہ نے کہا: قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہوگی جو اہل جاہلیت سے بھی زیادہ بدترین ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ سے جس چیز کی دعا کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں دے دے گا، وہ یہی گفتگو کر رہے تھے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ آگئے ۔مسلمہ نے ان سے کہا: عقبہ سنو! عبداللہ کیا کہہ رہے ہیں؟ عقبہ نے کہا: وہ بہتر جانتے ہیں۔ میں نے تو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم قتال کرتا رہے گا، دشمن پر غالب ہوگا، جو ان کی مخالفت کرے گا انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا حتی کہ قیامت آجائےگی اور وہ اسی حالت میں ہوں گے،عبداللہ نے کہا: بالکل صحیح، پھر اللہ تعالیٰ کستوری کی مانند ایک ہوا بھیجے گا، جس کا لمس ریشم کے لمس کی طرح ہوگا، جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا اس کی روح قبض کر لے گی، پھر بدترین لوگ باقی رہیں گے،جن پر قیامت قائم ہوگی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (946) سنن الترمذي كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ وَالْوَرَعِ بَاب مَا جَاءَ فِي شَأْن الْحِسَابِ وَالْقِصَاصِ رقم (2340)
2689
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌قَالَ: لَا تَزُولُ قَدَمُ ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ: عَنْ عُمُرِهِ فِيمَ أَفْنَاهُ؟ وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَ أَبْلَاهُ؟ وَمَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ؟ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ؟ وَمَاذَا عَمِلَ فِيمَا عَلِمَ؟.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت کے دن ابن آدم کے قدم اپنے رب کے پاس سے اس وقت تک حرکت نہیں کریں گے جب تک اس سے پانچ سوال نہ کر لئے جائیں ۔اس کی عمر کے متعلق کہ کس کام میں ختم کی؟ اس کی جوانی کے متعلق کہ کس کام میں بوسیدہ کی؟ اس کے مال کے متعلق کہ کہاں سے کمایا؟ کہاں خرچ کیا؟ اور جتناعلم تھا اس پر کتنا عمل کیا؟
Takhreej
الصحيحة رقم (2427) سنن الترمذي كِتَاب السِّيَرِ بَاب مَا جَاءَ مَا قَالَ النَّبِيُّ ﷺ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ رقم (1536) مسند أحمد رقم (17194)
2690
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ بَرْصَاءَ مَرفُوعاً: لَا تُغْزَى هَذِهِ (يعني: مكة) بَعْدَ الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ: (وَلَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ بَعْدَ هَذَا الْعَامِ صَبْرًا أَبَدًا). .
حارث بن مالک ابن برصاء رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: آج کے بعد قیامت تک اس( مکہ) کے خلاف چڑھائی نہیں کی جائے گی(اور اس سال کے بعد کسی قریشی کو کبھی بھی باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا)
Takhreej
الصحيحة رقم (2427) سنن الترمذي كِتَاب السِّيَرِ بَاب مَا جَاءَ مَا قَالَ النَّبِيُّ ﷺ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ رقم (1536) مسند أحمد رقم (17194)
2691
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَزُولَ الْجِبَالُ عَنْ أَمَاكِنِهَا، وَتَرَوْنَ الأُمُورَ الْعِظَامَ الَّتِي لَمْ تَكُونُوا تَرَوْنَهَا.
سمرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک پہاڑ اپنی جگہ سے ہل نہ جائیں،اور تم اتنے بڑے بڑے معاملات دیکھو جو تم نے پہلے نہیں دیکھے
Takhreej
الصحيحة رقم (3061) المعجم الكبير للطبراني رقم (6714)
2692
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: تَجَشَّأْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: مَا أَكَلْتَ يَا أَبَا جُحَيْفَةَ؟ فَقُلْتُ: خُبْزًا وَلَحْمًا، فَقَالَ: إِنَّ أَطْوَلَ النَّاسِ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ شَبِعًا فِي الدُّنْيَا.
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتےہیں کہ مجھے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس ڈکار آئی آپ نے فرمایا: ابو جحیفہ تم نے کیا کھایا ہے؟ میں نے کہا: روٹی گوشت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لمبی بھوک والے وہ ہوں گے جو دنیا میں سیر ہو کر کھاتے ہوں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (3372) المعجم الكبير للطبراني رقم (17783)
2693
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرفُوعاً: لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: میری امت کے کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سےنکلتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2201) سنن ابن ماجة كِتَاب الْمُقَدِّمَةِ بَاب فِي ذِكْرِ الْخَوَارِجِ رقم (167)
2694
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَنسٍ مَرفُوعاً: لَيَكُوننّ في هَذِه الْأَمَةِ خَسفٌ، وَقَذفٌ، وَمَسْخٌ وَذَلِك إِذَا شَرِبُوا الْخُمُور وَاتَّخَذُوا الْقَيْنَات وَضَرَبُوا بِالْمَعَازِف.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ اس امت میں زمین میں دھنساھ،پتھروں کی بارش اور چہروں کا بدلنا ہوگا، یہ اس وقت ہوگا جب لوگ شراب پئیں گے، اور گانے بجانے والیوں کو کا اہتمام کریں گے اور آلات موسیقی بجائیں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (2203)
2695
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
) عَنِ ابْنِ عُمَر مَرفُوعاً: «لَيَغْشَيَنَّ أُمَّتِي من بَعْدِي فِتنٌ كَقِطَع اللَّيْل المظلم، يُصْبِح الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كافرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِح كَافِرًا، يَبِيْعُ أَقْوَامٌ دِينَهُم بِعَرَض من الدُّنْيَا قَلِيل».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سےمرفوعامروی ہےکہ: میرے بعد میری امت کو فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ڈھانپ لیں گے، آدمی صبح ایمان کی حالت میں کرے گا اور شام کفر کی حالت میں اور شام ایمان کی حالت میں کرے گا تو صبح کفر کی حالت میں،لوگ اپنا دین،دنیا کے تھوڑے مال کے عوض بیچ دیں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (1267) مستدرك الحاكم رقم (8472) مسند الشاميين للطبراني رقم (1932)
2696
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَيَسْتَحِلَّنَّ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ بِاسْمٍ يُسَمُّونَهَا إِيَّاهُ (وفي رواية: يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا).
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ شراب کا نام بدل کر اسے حلال کر لے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (90) سنن ابن ماجة كِتَاب الْأَشْرِبَةِ بَاب الْخَمْرِ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا رقم (3375 3376) مسند أحمد رقم (21651)
2697
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَيَتَمَنَّيَنّ أَقْوَامٌ لَو أَكْثَرُوا من السَّيِّئَات قالوا: بِم يَا رَسُول الله؟ قال: الَّذِين بَدَّل الله سَيِّئَاتِهِم حَسَنَاتٌ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کچھ لوگ تمنا کریں گےکہ کاش وہ بہت زیادہ برائیاں کرتے، صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!کس وجہ سے ؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ لوگ جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں میں بدل دے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2177) مستدرك الحاكم رقم (7751)
2698
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنِ ابنِ عَبّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : «لَيَبِيتَنّ قَوْمٌ من هَذِه الْأُمَّةِ عَلَى طعامٍ وَشَرَابٍ ولهوٍ، ويُصْبِحُوا قَدْ مُسِخُوا قِرَدَة وَخَنَازِير».
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:اس امت میں سے ایک قوم شراب و کباب اور گانے بجانے میں رات گزارے گی صبح ہوگی تو ان کے چہرے بندروں اور خنزیروں کی صورت میں تبدیل ہو چکے ہوں گے
Takhreej
الصحيحة رقم (1604) المعجم الصغير للطبراني رقم (168)
2699
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَنَزَلْنَا (ذَا الْحُلَيْفَةَ) فَتَعَجَّلَتْ رِجَالٌ إِلَى الْمَدِينَةِ وَبَاتَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَبِتْنَا مَعَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهُمْ؟ فَقِيلَ: تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ: تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَالنِّسَاءِ أَمَا إِنَّهُمْ سَيَدَعُونَهَا أَحْسَنَ مَا كَانَتْ. ثُمَّ قَالَ: لَيْتَ شِعْرِي! مَتَى تَخْرُجُ نَارٌ مِّنَ الْيَمَنِ مِنْ جَبَلِ الْوِرَاقِ تُضِيءُ مِنْهَا أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بُرُوكًا بِبُصْرَى كَضَوْءِ النَّهَارِ
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے ساتھ آرہے تھے ہم نے (ذوالحلیفہ)میں پڑاؤ ڈالا،کچھ لوگوں نے مدینے جانے کی جلدی کی جب کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اور ہم نے رات وہیں گزاری۔جب صبح ہوئی تو آپ نے ان کے بارے میں سوال کیا ؟آپ کو بتایا گیا کہ انہوں نے مدینے جانے کے لئے جلدی کی۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:انہوں نے مدینے اور بیویوں کی طرف جانے میں جلدی کی، عنقریب وہ اسے اس کی بہترین حالت میں چھوڑ دیں گے، پھر فرمایا:کاش میں جانتا ہوتا کہ یمن کے جبل الوراق سے آگ کب نکلے گی جس سے بصری میں اونٹوں کی گردنیں دن کی روشنی کی مانند چمکیں گی ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3083) مسند أحمد رقم (20328)
2700
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَيَأْتِيَنّ عَلَى النَّاس زَمَانٌ قُلُوبُهُم قُلُوبُ الْعَجَمِ. (قُلْتُ: وَمَا قُلُوْب الْعَجَم؟ قَالَ:) حُبُّ الدُّنْيَا، سُنَّتُهُمْ سُنَّةَ الأَعْرَابِ: مَا أَتَاهُم مِّنْ رِزْقِ جَعَلُوْه في الحَيوان، يَرَوْن الْجِهَادَ ضِرَارًا، وَالزَّكَاةَ مَغْرَمًا.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ ان کے دل عجمیوں کے دل ہو جائیں گے۔میں نے کہا: یہ عجمیوں کے دل کس طرح ہوتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کی محبت، ان کا طریقہ بدوؤں کا طریقہ، ان کے پاس جو رزق آتا ہے اسے جانوروں میں لگا دیتے ہیں، جہاد کو نقصان اور زکاة کو تاوان سمجھتے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (3357) تهذيب الآثار للطبري رقم (344)
2701
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ جَمْعٍ مِّنْهُمْ: الْمِقْدَاد، وَأَبو ثَعْلَبَةَ، وَتَمِيمُ الدَّارِيُّ مَرفُوعاً: لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَلَا يَتْرُكُ اللهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ هَذَا الدِّينَ بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ عِزًّا يُعِزُّ اللهُ بِهِ الْإِسْلَامَ وَذُلًّا يُذِلُّ اللهُ بِهِ الْكُفْرَ.
ایک جماعت سے مرفوعا مروی ہے جن میں مقداد، ابو ثعلبہ اور تمیم داری رضی اللہ عنہم بھی ہیں: جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں یہ دین بھی وہاں تک پہنچے گا، اللہ تعالیٰ کسی کچے یا پکے مکان کو نہیں چھوڑے گا مگر اس میں اس دین کو داخل کر دے گا، عزت دار کی عزت کے ساتھ یا ذلیل کی ذلت کے ساتھ۔ ایسی عزت جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اسلام کو عزت دے گا اور ایسی ذلت جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کفر کو ذلیل کرے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3) مسند أحمد رقم (16344)
2702
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاص قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مِنِ اقْترَابِ (وَفِي رواية: أَشْرَاط) السَّاعَة أَن تُرْفَعَ الْأَشْرَار وتُوْضَعَ الأَخْيَارَ، وَيُفْتَحَ الْقَوْلُ ويُخْزَنَ العَمَلُ، وَيُقْرَأ بِالْقَوْم المُثَنَّاة ِلَيْسَ فِيهِمْ أَحَدٌ يُنْكِرُهَا. قِيْلَ: وَمَا المُثَنَاةُ ؟ قَالَ: مَا اسْتَكْتَبَ سوَى كِتَاب الله عَزّ وَجَل.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قیامت کے قرب سے ہے(اور ایک روایت میں ہے، نشانیوں سے ہے)کہ بدترین لوگ اوپر آجائیں گے اچھے لوگوں کو پیچھے کر دیا جائے گا، باتیں زیادہ ہوں گی،عمل کم ہوگا، لوگوں میں مثناة پڑھی جائیں گی لیکن ان میں کوئی شخص ایسا نہیں ہوگا جو ان کا انکار کر سکے۔ پوچھا گیا کہ یہ مثناة کیا ہے؟آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ عزوجل کی کتاب کے علاوہ جو کچھ بھی لکھوایا جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (2821) مستدرك الحاكم رقم (8810)
2703
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أَنسٍ مَرفُوعاً: مَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: تم میں سے جو شخص عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو ملے وہ میری طرف سے انہیں سلام کہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2308) مستدرك الحاكم رقم (8784)
2704
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ فَقَالَ: قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا مِنْ عَامٍ إِلَّا وَالَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ
زبیر بن عدی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور حجاج کی تکالیف کی شکایت کی، تو کہنے لگے: آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جو سال بھی ہوگا،اس کے بعد آنے والا اس سے بد تر ہوگا حتی کہ تم اپنے رب سے ملاقات کر لو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1218) سنن الترمذي كِتَاب الْفِتَنِ بَاب مَا جَاءَ فِي رَفْعِ الْأَمَانَةِ رقم (2132)
2705
Sahih
ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ (وَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ) عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ
اسامہ بن زید بن حارثہ (اور سعید بن زید بن عمرو بن نفیل)رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں نے اپنے بعد کوئی فتنہ ایسا نہیں چھوڑا جو مَردوں کے لئے عورتوں کے فتنےسے زیادہ نقصان دہ ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (2701) صحيح البخاري كِتَاب النِّكَاحِ بَاب مَا يُتَّقَى مِنْ شُؤْمِ الْمَرْأَةِ رقم (4706)
2706
Sahih