شہر بن حوشب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المومنین ! جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس ہوتے تو ان کی اکثر دعا کیا ہوتی تھی ؟ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر دعا یہ تھی:”اے دلوں کو پھیرنے والے، میرا دل اپنے دین ثابت رکھ۔ “آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر آدمی کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے، جس کا دل چاہے ثابت رکھے، جس کا چاہے ٹیڑھا کر دے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2091) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب مِنْهُ رقم (3444)
زید بن ارقمرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک (یہودی) شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتا تھا، (آپ اس سے بے خوف رہتے) اس شخص نے آپ پر جادو کی گرہیں لگا کر ایک انصاری کے کنویں میں رکھ دیں،(آپ اس جادو کی وجہ سے کچھ دن بیمار رہے (عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے چھ ماہ)دو فرشتے آپ کی عیادت کرنے آئے، ایک آپ کے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا آپ کے پاؤں کے پاس ،ایک نے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ آپ کو کیا تکلیف ہے؟ دوسرے نے کہا: فلاں یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتا تھا، اس نے آپ پر جادو کر دیا ہے، اور فلاں انصاری کےکنویں میں پھینک دیا ہے۔ اگر آپ وہاں کسی آدمی کو بھیجیں اور وہ اس گرہ کو اس میں سے نکال لے تو وہ دیکھے گا کہ کنویں کا پانی زرد ہوچکا ہے۔ (پھر جبریل علیہ السلام آپ کے پاس معوذتین لے کر آئے اور کہنے لگے: فلاں یہودی نے آپ پر جادو کر دیا ہے اور وہ جادو فلاں شخص کے کنویں میں ہے ،آپ نے ایک آدمی کو بھیجا(اور ایک روایت میں ہے :علیرضی اللہ عنہ کو بھیجا)(انہوں نے دیکھا کہ پانی زرد ہو چکا ہے)انہوں نے وہ گرہیں اٹھائی (اور آپ کے پاس لے آئے) (جبریل علیہ السلام نے آپ سے کہا کہ آپ آیت پڑھتے جائیں اور گرہ کھولتے جائیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہ کھولی (اور قرآن پڑھنا شروع کردیا اور گرہ کھولتے رہے) (آپ جب بھی کوئی گرہ کھولتے تو آپ تخفیف محسوس کرتے ) پھر آپ تندرست ہوگئے (اور دوسری روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کھڑے ہوگئے جس طرح رسیوں سے کھولے گئے ہوں) اس کے بعد بھی وہ شخص آپ کے پاس آیا کرتا لیکن آپ نے اس سے کوئی بات نہیں کی نہ ہی اسے کبھی سزا دی(حتی کہ وہ فوت ہوگیا)
Takhreej
الصحيحة رقم (2761) المعجم الكبير للطبراني رقم (4873، 4876) مسند عبد بن حميد رقم (273) مشكل الآثار للطحاوي رقم (5188)
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں یہ دعا کثرت سے پڑھا کرتے تھے: اللہ اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے، میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں ،اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں(عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو یہ دعا زیادہ پڑھتے ہوئے دیکھتی ہوں؟ اللہ اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے،میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں ،اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میں اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا اور مجھے حکم دیا ہے کہ جب میں وہ نشانی دیکھوں تو اللہ کی تعریف کےساتھ اس کی پاکی بیان کروں اوراس سےبخشش طلب کروں،اوروہ نشانی میں نےدیکھ لی ہے:(سورۃ النصر:۱،۳) ’’جب اللہ کی مدد آجائے گی اور آپ دیکھیں گے کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں تب اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح بیان کیجئے اور اس سے بخشش طلب کیجئے۔ یقیناً وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘
Takhreej
الصحيحة رقم (3157) صحيح مسلم كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ رقم (749)
عن ابن مسعود، عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، قال: کان الکتاب الأول ینزل من باب واحد علی حرف واحد، ونزل القرآن من سبعۃ أبواب علٰی سبعۃ أحرف۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی کتابیں ایک دروازے سے ایک انداز پر نازل ہوتیںٹ جبکہ قرآن سات دروازوں سے سات انداز پر نازل ہوا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3157) صحيح مسلم كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ رقم (749
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تھی:اے اللہ میرے پہلے اور پچھلے پوشیدہ اور اعلانیہ اور جنہیں تو مجھ سے بہتر جانتا ہے گناہ معاف فرما،یقیناً تو ہی مقدم ہے اور تو ہی مؤخر ہے۔ تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں۔
عَنْ جَابِرٍ:كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ: (الم تَنْزِيلُ) السَّجْدَةِ وَ (تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ)
جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک”الم تَنْزِيلُ“ سجدہ اور ”تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ“سورتیں نہ پڑھ لیتے سوتے نہ تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (585) سنن الترمذي كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْمُلْكِ رقم (2817، 3326)
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے وقت اپنے دائیں بازو کو اپنا تکیہ بناتے اور پھر یہ کہتے : اے میرے رب! جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا مجھے اس دن کے عذاب سے بچا ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2703) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب مِنْهُ رقم (3321)
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! اسلام کے ساتھ قیام(صحت) کی حالت میں میری حفاظت فرما، بیٹھی ہوئی حالت میں اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما، سوئی ہوئی حالت میں اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما، اور حسد کرنے والے دشمنوں کو مجھ پر مت ہنسا۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے ہاتھ میں موجود ہر خزانے کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اور تیرے ہاتھ میں موجود ہر خزانے کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَال: كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم : يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! میں قرض کے غلبے، دشمن کے غلبے اور دشمنوں کے ہنسنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1541) سنن النسائي كِتَاب الِاسْتِعَاذَةِ الِاسْتِعَاذَةُ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ رقم (5380)
عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابزٰی اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (ہمیں سکھایا کرتے تھے)کہ جب(ہم میں سے کوئی شخص)صبح کرے تو وہ کہے: ہم نے اسلام کی فطرت پر اورکلمہ اخلاص پراپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پراور اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر جو (مسلمان تھے) اور مشرکوں سے نہ تھے، پر صبح کی۔
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ پناہ مانگا کرتے تھے:( اے اللہ لوگوں کے رب)تکلیف لے جا، شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے ،تیری شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں، ایسی شفا جو بیماری کو نہ چھوڑے۔ جب مرض الموت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھ گئی۔ تو میں نے آپ کا ہاتھ پکڑا اور یہ کلمات پڑھ کر اور اسے آپ کے جسم پر پھیرنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھڑایا اور فرمانے لگے: اے اللہ مجھے بخش دے اور مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے۔ وہ کہتی ہیں: یہ وہ آخری کلام تھا جو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2775) صحيح مسلم كِتَاب السَّلَامِ بَاب اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ(4061)سنن ابن ماجة كِتَاب الْجَنَائِزِ (1608)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کو جاننے والے، تو ہر چیز کا رب اور ہر چیز کا معبودہے میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ۔تو اکیلا ہے ،تیرا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں۔ اے اللہ میں شیطان اور شیطان کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اور اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ خود کسی گناہ کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان کی طرف اسے منسوب کروں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3443) مسند أحمد رقم (6309) الدعاء للطبراني رقم (238)
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کھڑے ہونے سے پہلے ہر نماز کے بعد بلند آواز سے کہا کرتے: اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ،وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ کی توفیق کے علاوہ گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں، اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، ہم اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرتے، اسی کےلئے نعمت ہے اور اسی کے لئے فضل ہے اور اسی کے لئے اچھی تعریف ہے ،اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں، ہم اس کے لئے مخلص ہو کر عبادت کرنے والے ہیں اگرچہ کفار اس بات کو نا پسند کریں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3160) المعجم الكبير للطبراني رقم (76)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النّبي صلی اللہ علیہ وسلم : كَانَ يَقُول فِي دُعائِه: اَللّٰهُمَّ! إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوْءِ فِي دَارِ الْمُقَامة فَإِنَّ جَارَ الْبَادِيَةِ يَتَحَوَّلُ.
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں کہا کرتے تھے: اے اللہ! میں برے ہمسائے سے تیری پناہ میں آتا ہوں، جو مستقل قیام کرنے والا ہوتا ہے، کیونکہ سفر کا ہمسایہ واپس چلا جاتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3943) سنن النسائي كِتَاب الِاسْتِعَاذَةِ الِاسْتِعَاذَةُ مِنْ جَارِ السُّوءِ رقم (5407) مستدرك الحاكم رقم (1906)
عَنْ أَبِي هُرَيرَة أَن النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم :كُتِبتْ عنده سورةُ (النجم) فلمَّا بَلغَ السَّجْدَة سَجَدَ، وسَجَدْنا معه، وَسَجَدَتِ الدَّوَاةُ والقَلَمُ.
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سورہ نجم لکھی گئی، جب سجدہ پر پہنچے تو آپ نے سجدہ کیا، ہم نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا، دوات اور قلم نے بھی سجدہ کیا