TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان - فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان - Book 22 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 22 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 271 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

271 Hadith · 1 Chapters
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنِ الْبَرَاء،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ، فَإِنَّ الصَّوْتَ الْحَسَنَ يَزِيدُ الْقُرْآنَ حُسْنا.
براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو، کیوں کہ اچھی آواز قرآن کے حسن میں اضافہ کر دیتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (771) مستدرك الحاكم رقم (2083)
2853
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ، وَلا إِلَهَ إِلا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، مِنَ الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلهِ، وَلا إِلَهَ إِلا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ باقی رہنے والی نیکیاں ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (3264) المعجم الكبير للطبراني رقم (657)
2854
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
) عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قالت: مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ أَوْ كَمَا قَالَتْ: مُرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ وَأَنَا جَالِسَةٌ قَالَ سَبِّحِي اللهَ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ لَكِ مِئَةَ رَقَبَةٍ تُعْتِقِينَهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَاحْمَدِي اللهَ مِائَةَ تَحْمِيدَةٍ تَعْدِلُ لَكِ مِئَةَ فَرَسٍ مُسْرَجَةٍ مُّلْجَمَةٍ تَحْمِلِينَ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللهِ وَكَبِّرِي اللهَ مِئَةَ تَكْبِيرَةٍ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ لَكِ مِائَةَ بَدَنَةٍ مُقَلَّدَةٍ مُتَقَبَّلَةٍ وَهَلِّلِي اللهَ مِئَةَ تَهْلِيلَةٍ قَالَ ابْنُ خَلَفٍ: أَحْسِبُهُ قَالَ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَا يُرْفَعُ يَوْمَئِذٍ لِأَحَدٍ عَمَلٌ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ بِمِثْلِ مَا أَتَيْتِ بِهِ.
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌میرے پاس سے گزرے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بوڑھی اور کمزور ہو چکی ہوں، مجھے کوئی عمل بتایئے جو میں بیٹھے بیٹھے کر سکوں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: سو مرتبہ سبحان اللہ کہو، یہ تمہارے لئے اولاد اسماعیل سے سو گرد نیں آزاد کرنے کے برابر ہے۔ اور سو مرتبہ الحمدللہ کہو، یہ تمہارے لئے سو عدد زین اور لگام پہنائے ہوئے( تیار شدہ)گھوڑوں کے برابر ہوگاجو تم اللہ کے راستے میں دو۔ اور سو مرتبہ اللہ اکبر کہو، یہ تمہارے لئے نکیل ڈالی ہوئی مقبول اونٹنیوں کے برابر ہوگا۔ سو مرتبہ لا الہ الا اللہ کہو۔ ابن خلف نے کہا: میرے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ آسمان و زمین کو بھر دے گا، اس دن کسی شخص کا عمل اتنا بلند نہیں ہو گا سوائے اس شخص کے جو اس طرح کہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1316) مسند أحمد رقم (25675) المعجم الكبير للطبراني رقم (20445)
2855
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! وَمَنِ (الْمُفَرِّدُونَ)؟ قَالَ: الَّذِينَ يُهْتَرُونَ فِي ذِكْرِ اللهِ عزو جل.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تنہا رہنے والےسبقت لے گئے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تنہا رہنے والے کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جو لوگ اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1317) مسند أحمد رقم (7940)
2856
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُريدَة، عَنْ أَبِيه قَالَ: سَمعتُ النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يقْرَأ في الصّلاة : « لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ لَابْتَغَى إِلَيْه ثَانِيًا، وَلَو أعْطِي ثَانِيًا لَابْتَغَى إِلَيْه ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأ جَوْفَ ابْن آدَم الَّا التراب » .
عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ میں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، آپ نماز میں پڑھ رہے تھے: اگر ابن آدم کے لئے سونے کی ایک وادی ہو تو وہ دوسری وادی تلاش کرے گا۔ اگر اسے دوسری وادی دے دی جائے تو وہ تیسری وادی تلاش کرے گا۔ اور ابن آدم کا پیٹ قبر کی مٹی کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں بھر سکتی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2911) مشكل الآثار للطحاوي رقم (1715) مسند الروياني رقم (45)
2857
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ (بن مَسعُودٍ) مَرفُوعاً : « سُورَةُ تَبَارَكَ هِيَ الْمَانِعَةُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ».
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: سورۂ تبارک (سورۃ الملک) عذاب قبر سے رکاوٹ کا باعث ہے۔(
Takhreej
الصحيحة رقم (1140) السنن الصغير للبيهقي رقم (772) فضائل القرآن للفريابي رقم (26، 29)
2858
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عن عقبة مرفوعا: « سَيَخْرُج أَقْوَام مِّنْ أُمَتِي يَشْرَبُون الْقُرْآن كَشُربهم الْمَاء ».
)عقبہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ میری امت میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو قرآن کو پانی کی طرح پئیں گے۔( )s
Takhreej
الصحيحة رقم (1886) فضائل القرآن للفريابي رقم (99)
2859
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رضی اللہ عنہ يَا رَسُولَ اللهِ! قَدْ شِبْتَ؟ قَالَ: شَيَّبَتْنِي (هُودٌ) وَ (الْوَاقِعَةُ) وَ (الْمُرْسَلَاتُ) وَ (عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ) وَ (إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ابو بکر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ بوڑھے محسوس ہوتے ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ھود، واقعہ، المرسلات، عم یتساء لون، اور اذا الشمس کورت سورتوں نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (955) سنن الترمذي كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب وَمِنْ سُورَةِ الْوَاقِعَةِ رقم (3219)
2860
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ يَحْيَى بن أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثني ابن أُبَيّ أَنَّ أّبَاهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ كَانَ لَهُم جُرْنٌ فِيهِ تَمْرٌ، وَكَان أَبِي يَتعَاهَده فَوَجدَه يَنْقُصُ فَحَرَسَهُ فَإِذَا هُوَ بِدَابَّةٍ تشبه الْغُلامَ الْمُحْتَلِمِ، قَالَ: فَسَلَّمَتُ فَرَدَّ السَّلامَ، فَقُلتُ: مَنْ أَنْتَ؟ أَجِنٌّ أَمْ إِنْسٌ؟ قَالَ: جِنٌّ قَالَ : فَنَاوِلْنِي يَدَكَ ، فَنَاوَلَنِي يَدَهُ، فَإِذَا هِي يَدُ كَلْبٍ، وشَعْرُ كَلْبٍ، قَالَ: هَكَذَا خَلْقُ الْجِنِّ؟ قَالَ: لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنُّ مَا فِيهِمْ أَشَدُّ مِنِّي، قَالَ لَه أَبِي: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنعْتَ؟ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّكَ رَجُلٌ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ، فَأحبَبْنَا أَن نُصِيبَ مِنْ طَعَامِكَ، قَالَ أَبِي: فَمَا الذِي يجِيرنا مِنكُم؟ قَالَ: هَذِهِ الآيَةُ: آيَةُ (الكرسي) ثُم غَدا إِلى النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فأخبَره فَقَالَ: صَدَقَ الْخَبِيثُ.
یحییٰ بن ابی کثیر سے مروی ہے کہتے ہیں کہ مجھے ابن ابی نے بیان کیا، ان کے والد نے انہیں بتایا کہ ان کا ایک کھجور سکھانے کا میدان تھا جس میں کھجوریں تھیں۔ ان کا والد اس کی نگرانی کرتا تھا۔ ایک دن دیکھا کہ کھجوریں کم ہیں، تو اس کا پہرہ دیا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک جانور ہے جو بالغ لڑکے کے مشابہ ہے۔ میں نے سلام کہا ،اس نے سلام کا جواب دیا ۔میں نے کہا: جن ہو یا انسان؟ اس نے کہا جن ،انہوں نے کہا: مجھے اپنا ہاتھ دکھاؤ۔ اس نے اپنا ہاتھ دکھایا تو کیا دیکتےو ہیں وہ ایک کتے کی طرح کا ہاتھ ہے اور کتے کی طرح بال ہیں ۔انہوں نے کہا: جن کی تخلیق اس طرح ہوتی ہے؟ جن نے کہا: جنات جانتے ہیں کہ ان میں مجھ سے طاقتور کوئی نہیں ہے۔ میرے والد نے اس سے کہا: تمہیں اس کام پر کس نے مجبور کیا ؟ اس نے کہا:ہمیں خبر ملی ہے کہ تم ایسے شخص ہو جو صدقہ پسند کرتے ہو، اس لئے ہم نے سوچا کہ ہم بھی آپ کا کھانا کھائیں ،میرے والد نے کہا: ہمیں تم سے کونسی چیز پناہ دیتی ہے؟ اس نے کہا:آیتہ الکرسی ۔میرے والد صبح نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس گئے اور انہیں بتایا تو آپ نے فرمایا: اس خبیث نے سچ کہا
Takhreej
الصحيحة رقم (3254) المعجم الكبير للطبراني رقم (542) بغية الحارث رقم (1057) دلائل النبوة لأبي نعيم رقم (528)
2861
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَن أَبي هُريْرة مَرفوعاً: صَلُّوْا عَلَى أَنْبِيَاء اللهِ وَرُسُلِه ، فَإِن الله بَعَثَهُم كَمَا بَعَثَنِي
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ کے انبیاء علیہم السلام اور رسولوں پر درود بھیجو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اسی طرح مبعوث کیا جس طرح مجھے مبعوث کیا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2963) شعب الإيمان للبيهقي رقم (123)
2862
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَن أَبِي هُرَيرة رضی اللہ عنہ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :صَلُّوْاعليَّ فَإِن صَلَاتَكُم عليَّ زَكَاةٌ لَكُم وَسَلُواالله لِيَ الْوَسِيلَة.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھ پر درود بھیجو کیوں کہ تمہارا مجھ پر درود بھیجنا تمہارے لئے پاکیزگی کا باعث ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے میرے لئے وسیلے کا سوال کرو
Takhreej
الصحيحة رقم (3268) مسند اسحاق ابن راهويه رقم (250) مسند أبي يعلى رقم (6283)
2863
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
) عَن عَبْدِ اللهِ بْنِ بسر المَازني قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيَانِ إِلَى رَسُول اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَال أَحدهُمَا: يَا رَسُول الله! أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَال: طُوبَى لِمَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ . وَقَال الْآخَر: أَيُّ الْعَمَلِ خَيْرٌ؟ قَالَ: خَيْرُ الْعَمَلِ أَنْ تُفَارِقَ الدُّنْيَا وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللهِ.
عبداللہ بن بسر مازنی کہتے ہیں کہ دو بدو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آئے ۔ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! کونسا شخص بہتر ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس شخص کے لئے خوشخبری ہو جس کی عمر لمبی ہوئی ،اور اس نے نیک اعمال کئے۔ دوسرے شخص نے کہا: کونسا عمل بہتر ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا کہ: بہترین عمل یہ ہے کہ تم دنیا سے اس طرح جاؤ کہ تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تر ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (1836) الأحاد والمثاني لابن أبي عاصم رقم (1220)
2864
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ:قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَا غَنِيمَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ؟ قَالَ: غَنِيمَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ الْجَنَّةُ .
عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول!مجالس ذکر کی غنیمت(انعام)کیا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجالس ذکر کا انعام جنت ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3335) مسند أحمد رقم (6364)
2865
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَن ابنِ عَبَاسِ عَنِ النَّبِّي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: قَالَ اللهُ تَبارك تَعَالَى: يَا ابْنَ آدَم! إِذَا ذَكَرْتَنِي خَالِيًا، ذَكَرْتُك خَالِيًا، وَإِن ذَكَرْتَنِي في مَلَأ ذَكَرْتُكَ في مَلَأ خَيْرٍ مِّنَ الَّذِين تَذْكُرُنِي فِيْهِم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم !جب تم مجھے تنہائی میں یاد کرو گے تو میں تمہیں تنہائی میں یاد کرو ں گا۔ اور جب تم مجھے لوگوں میں یاد کرو گے تو میں تمہیں ان لوگوں میں یاد کروں گا جو ان سے بہتر ہوں گے جن میں تم مجھے یاد کرتے ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (2011) شعب الإيمان للبيهقي رقم (578)
2866
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: قَالَ اللهُ تَعَالَى: يَا ابْنَ آدَمَ! إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ وَلَا أُبَالِيِ يَا ابْنَ آدَمَ! لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ، وَلَا أُبَالِي يَا ابْنَ آدَمَ! إِنَّكَ لَوْ أَتَيْتَنِيِ بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :اے ابن آدم!تو مجھے جب بھی پکارے گا اور مجھ سے امید رکھے گا تو میں تیرے سارے گناہ بخش دوں گا اور کوئی پرواہ نہیں کروں گا۔ اے ابن آدم !اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندی کو چھولیں،پھر تو مجھ سے معافی مانگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔ اے ابن آدم! اگر تو میرے پاس زمین بھر خطائیں لے کر آئے بس تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو میں تیرے لئے زمین بھر مغفرت لاؤں گا
Takhreej
الصحيحة رقم (127) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب فِي فَضْلِ التَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ ...رقم (3463)
2867
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ سَلمَان قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : قَالَ رَجُلٌ: اَلْحَمْد لِلهِ كَثِيرًا، فَأَعظَمهَا الْمَلَكُ أَن يَكْتُبهَا، وَرَاجَعَ فِيهَا رَبَّه عَزّ وَجَل، فَقِيلَ لَه: اُكْتُبْهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي: كَثِيرًا.
سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ایک آدمی نے کہا: الحمدللہ کثیرا (اللہ کے لئے بہت زیادہ تعریفات ہوں) فرشتے کو لکھنا گراں محسوس ہوا تو اس نے اس بارے میں اپنے رب عزوجل سے رجوع کیا۔ تو اس سے کہا گیا: اسے اسی طرح لکھو جس طرح میرے بندے نے کہا: بہت زیادہ
Takhreej
الصحيحة رقم (3452) المعجم الأوسط للطبراني رقم (2138)
2868
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : اُدْعُ لَنَا رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا وَنُؤْمِنُ بِكَ قَالَ: وَتَفْعَلُونَ؟ قَالُوا: نَعَمْ فَدَعَا فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ: إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَ لَهُمْ (الصَّفَا) ذَهَبًا فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْهُمْ عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ وَإِنْ شِئْتَ فَتَحْتُ لَهُمْ بَابَ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ قَالَ: بَلْ بَابُ التَّوْبَةِ وَالرَّحْمَةِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کیجئے کہ وہ صفا کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے ، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا تم ایسا کرو گے؟ قریش نے کہا: ہاں۔ آپ نے دعا کی تو جبریل آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر تم چاہو تو (صفا) ان کے لئے سونے کا بن جائے لیکن اس کے بعد جس شخص نے کفر کیا اسے میں ایسا عذاب دوں گا جو دنیا میں کسی کو نہیں دیا ہوگا۔ اور اگر تم چاہو تو میں ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھلا رکھوں ۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تو بہ اور رحمت کا دروازہ اچھا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3388) مسند أحمد رقم (2058) المعجم الكبير للطبراني رقم (12567)
2869
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِيهِ (طارق بن أشيم) أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! كَيْفَ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي؟ قَالَ: قُلْ: اَللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي وَيَجْمَعُ أَصَابِعَهُ إِلَّا الْإِبْهَامَ فَإِنَّ هَؤُلَاءِ تَجْمَعُ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتَكَ.
ابو مالک اشجعی رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد(طارق بن اشیم) سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! جب میں اپنے رب سے سوال کروں تو کیا کہوں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کہو: اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، اور مجھے رزق دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاروں انگلیاں ملائیں سوائے انگوٹھے کے ۔ یہ چاروں دعائیں تمہارے لئے دنیا اور آخرت کی بھلائی جمع کر دیں گی
Takhreej
الصحيحة رقم (1318) صحيح مسلم كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ بَاب فَضْلِ التَّهْلِيلِ وَالتَّسْبِيحِ وَالدُّعَاءِ رقم (4865)
2870
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْر الصدِيق رضی اللہ عنہ يَا رَسُولَ الله! مُرْنِي بِشَيْءٍ أَقَوْلُه إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ قال: قُلْ: اَللهُمّ عَالِم الْغَيْب وَالشَّهَادَة فَاطِر السَّمَاوَات وَالأَرْضِ رَبّ كُل شئ وَمَلِيكَه أَشهَد أَن لَا إِلَه أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِن شَرّ نَفْسِي وَشَرّ الشَّيْطَان وَشِرْكه قُلْه إِذَا أَصْبَحت وَإِذَا أَمْسَيْت وَإِذَا أَخْذتَ مَضْجَعَك.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو بکر صدیق‌رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!مجھے ایسی دعا سکھائیے جو میں صبح و شام پڑھتا رہوں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کہو ،اے اللہ غیب اور حاضر کو جاننے والے ،آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، ہر چیز کے رب اور مالک ،میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی سچا معبود ہے میں اپنے نفس کے شر، شیطان کے شر اور شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ صبح شام اور رات سوتے وقت یہ کلمات کہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2753) السنن الكبرى للبيهقي رقم (7715)
2871
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَنسٍ رضی اﷲ عنہ قَالَ: جَاء أَعْرَابِيٌّ۔ إلی النَّبِي ﷺ فَقَال: یَا رَسُولَ اﷲ، عَلَمنِي خَیْرًا فَأَخَذ النَّبِي ﷺ بِیَدہ فَقَال: قُل سُبْحَان اﷲ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ فَعَقَد الْأَعْرَابِيّ عَلَی یدہ۔ وَمَضَی وَتَفَکَّرتُم رَجَع فَتَبَسَّم النَّبِي ﷺ قَالَ: تَفکر الْبَائِس فَجَاء فَقَال: یَا رَسُول اللّٰہ!، سُبْحَان اﷲ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ ھٰذَا لِلّٰہِ فَمَا لِي؟ فَقَال لَہ النَّبِي ﷺ: یا أَعْرَابِيّ! إذَا قُلْتَ: سُبْحَانَ اﷲِ قَالَ اﷲُ: صَدقْتَ وَإِذَا قُلْتَ: الْحَمْدُ لِلّٰہِ قَالَ اﷲُ: صَدَقْتَ، وَإِذَا قُلْتَ: وَلَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ قَالَ اﷲُ: صَدَقْتَ، وَإِذَا قُلْتَ: اﷲُ أَکْبَر قَالَ اﷲُ: صَدَقْتَ، وَإِذَا قُلْتَ:: اللھُمّ! اغْفِرْ لِي قَالَ اﷲُ: قَد فَعلتُ وَإِذَا قُلْتَ: اللھُمّ! ارْحَمْنِي قَالَ اﷲُ: (قد) فَعلتُ وَإِذَا قُلْتَ: اللھُمّ! ارْزُقْنِي قَالَ اﷲُ: قَد فَعلتُ قَالَ: فَعَقَد الْأَعْرَابِيّ عَلَی سَبع في یَدہ ثُمَّ وَلَّی۔
انس رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک بدو نبی ﷺ کے پاس آیا او رکہنے لگا: اے اﷲ کے رسول! مجھے خیر سکھائیے۔ نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہو: سبحان اﷲ، والحمدللہ، ولا الہ الّا اﷲ، واﷲ اکبر۔ بدو نے اپنے انگلیوں پر گنا، اور سوچتا ہوا چلا گیا۔ پھر واپس پلٹا، تو نبی ﷺ تبسم فرمانے لگے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ناامید شخص کی طرح فکر کررہا ہے۔ وہ آپ کے قریب آیا اور کہنے لگا: اے اﷲ کے رسول! سبحان اﷲ، والحمدللہ، ولا الہ الا اﷲ، واﷲ اکبر یہ اﷲ کے لیے ہیں میرے لیے کیا ہے؟ نبی ﷺ نے اس سے فرمایا: اے دیہاتی! جب تم سبحان اﷲ کہو گے تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا تم نے سچ کہا، جب تم الحمدللّٰہ کہو گے تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا تم نے سچ کہا، جب تم لا الہ الا اﷲ کہو گے تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: تم نے سچ کہا، جب تم اﷲ اکبر کہو گے تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا تم نے سچا کہا، جب تم کہو گے: اے اﷲ مجھے بخش دے تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا میں نے بخش دیا جب تم کہو گے: اے اﷲ مجھ پر رحم فرما تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے رحم کردیا، اور جب تم کہو گے اے اﷲ مجھے رزق عطا فرما، تو اﷲ تعالیٰ فرمائے گا میں نے رزق دے دیا، بدو نے اپنے ہاتھ پر سات کی گنتی گنی پھر واپس پلٹ گیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (840) مسند أحمد رقم (14913، 14914)
2872
Sahih