TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان - فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان - Book 22 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 22 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 271 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

271 Hadith · 1 Chapters
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ: قُلْتُ: لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَنْبَشٍ التَّمِيمِيِّ وَكَانَ (شيخا) كَبِيرًا: أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: نَعَمْ قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَيْلَةَ كَادَتْهُ الشَّيَاطِينُ؟ فَقَالَ: إِنَّ الشَّيَاطِينَ تَحَدَّرَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنَ الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ وَفِيهِمْ شَيْطَانٌ بِيَدِهِ شُعْلَةُ نَارٍ يُرِيدُ أَنْ يُحْرِقَ بِهَا وَجْهَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَهَبَطَ إِلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! قُلْ: قَلتُ: وَمَا أَقُولُ؟ قَالَ: قُلْ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ ، وَلا فَاجِرٌ مِّنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا ، وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ! قَالَ: فَطَفِئَتْ نَارُهُمْ وَهَزَمَهُمُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى.
ابو تیاح سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن خنبش تمیمی‌رضی اللہ عنہ جو ایک بوڑھے شخص تھے، سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو دیکھا ہے ؟انہوں نے کہا:جی ہاں، میں نے کہا: جس رات شیاطین آپ کے قریب آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے کیا کیا؟ کہنے لگے: اس رات شیاطین آپ کی طرف وادیوں اور گھاٹیوں سے آنے لگے، ان میں ایک شیطان ایسا بھی تھا جس کے ہاتھ میں آگ کا شعلہ تھا ،اور وہ آپ کا چہرہ جلانا چاہتا تھا ،جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !کہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کیا کہوں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: آپ کہئے: میں اللہ تعالیٰ کے ان مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں جن سے کوئی نیک یا بد تجاوز نہیں کر سکتا ،ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی اور زمین میں پھیلائی۔ اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے ،اور جو آسمان میں چڑھتی ہے اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں پھلتی پھولتی ہے اور جو زمین سے نکلتی ہے ، رات اور دن کے فتنوں سے اور رات کو آنے والے فتنوں کے شر سے سوائے اس کے جو خیر لے کر آئے اے رحمن۔ یہ کہتے ہی ان کی آگ بجھ گئی اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں شکست دے دی
Takhreej
الصحيحة رقم (840) مسند أحمد رقم (14913، 14914)
2873
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الۡکٰفِرُوۡنَ ۙ(۱) تَعْدِلُ رُبْعَ الْقُرْآنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الۡکٰفِرُوۡنَ﴿۱﴾ ،چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (840) مسند أحمد رقم (14913، 14914)
2874
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ فِيهَا؟ قَالَ: قُولِي (وفي رواية: تَقُولِينَ) اللهُمَّ! إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے خیال میں اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ لیلۃ القدر کونسی ہے تو مجھے کیا کہنا چاہیئے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کہو، اے اللہ تو درگزر کرنے والا ہے، درگزر کو پسند کرتا ہے ،مجھے معاف کر دے
Takhreej
الصحيحة رقم (576) المعجم الكبير للطبراني رقم (172)
2875
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: اَلْقُرْآنُ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ، مَنْ جَعَلَهُ أَمَامَهُ قَادَهُ إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَنْ جَعَلَهُ خَلْفَ ظَهرِه سَاقَهُ إِلَى النَّارِ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: قرآن سفارش کرنے والا ہے اور اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔ جو شخص اسے اپنے سامنے رکھے گا اسے جنت کی طرف لے جائے گا اور جو اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دے گا اسے جہنم کی طرف ہانک کر لے جائے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (2019) شعب الإيمان للبيهفي رقم (1954)
2876
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الْقُصَّاصُ ثَلَاثَةٌ أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ.
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:قصہ بیان کرنے والے تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں امیر، مامور اور تکبر والا
Takhreej
الصحيحة رقم (2019) شعب الإيمان للبيهفي رقم (1954)
2877
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَنسٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا اجْتَهَد لِأَحد في الدُّعَاء قَالَ: جَعل الله عَلَيْكُم صَلَاةَ قَوْمٍ أَبْرَارٍ، يَقُومُون اللَّيْل وَيَصُومُون النَّهَار، لَيْسُوا بِأَثِمَّةٍ وَلَا فُجَّارٍ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب کسی کے لئے انتہائی سنجیدگی سے دعا کرتے تو فرماتے :اللہ تعالیٰ تم پر نیک لوگوں کی رحمت فرمائے ،جو رات کو قیام کرتے ہیں اور دن کو روزہ رکھتے ہیں ،نہ گنہگارہیں نہ فاسق وفاجر ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1810) مسند عبد بن حميد رقم (1363)
2878
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنِ الْبَرَاءِ بن عازب قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ خَدِّهِ الأَيْمَنِ، وَيَقُولُ: اَللّٰهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ. ورد ایضا ..........
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور کہتے: اے اللہ جس دن تو اپنےبندوں کو اٹھائے گا مجھے اس دن کے عذاب سے بچا ۔( ) یہ حدیث سیدنا حذیفہ بن یمان اور ام المؤمنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2754) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب مِنْهُ رقم (3320) مسند أحمد رقم (17888)
2879
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ(وَهُوجُنُبٌ)غَسَلَ يَدَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو وضو کرلیتے، اور جب (جنابت کی حالت میں)کھانا کھانے کا ارادہ فرماتے تو اپنے ہاتھ دھولیتے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (390) سنن النسائي كِتَاب الطَّهَارَةِ بَاب اقْتِصَارِ الْجُنُبِ عَلَى غَسْلِ يَدَيْهِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ رقم (256)
2880
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عن أبي لُبَابَة بن عبد الْمُنْذِر، أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَان إِذَا أَرَاد دُخُول قَرْيَةٍ لَمْ يَدْخُلْهَا حَتَّى يَقُول: اَللّٰهُمّ رَبّ السَّمَوَات السَّبعِ وَمَا أَظلَّتْ، وَرَبَّ الْأَرَضِين السَّبعِ وَمَا أَقلَّتْ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا أَذرت، وَرَبّ الشَّيَاطِين وَمَا أَضلَّت، إِنِّي أَسْأَلَك خَيْرَهَا، وَخَيْر مَا فِيهَا، وَأَعُوذ بِك مِن شَرّهَا، وَشَرّ مَا فِيهَا
ابو لبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب کسی بستی میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو جب تک یہ دعا نہ کر لیتے اس بستی میں داخل نہ ہوتے، اے اللہ! ساتوں آسمان کے رب اور جن چیزوں کو انہوں نے ڈھانپا ہوا ہے، اور ساتوں زمینوں کے رب اور جن چیزوں کو انہوں نے اٹھایا ہوا ہے،ہواؤں کے رب اور جن چیزوں کو یہ اڑائے پھرتی ہیں، شیاطین کے رب اور جن کو یہ گمراہ کرتے ہیں ،میں تجھ سے اس بستی بھلائی اور جو اس بستی میں ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس بستی کے شر اور جو اس بستی میں ہے اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2759) المعجم الأوسط للطبراني رقم (7729)
2881
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ سَلَمَةَ بن الأَكْوَعِ، قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا اشْتَدَّتِ الرِّيحُ يَقُول: اَللّٰهُمَّ لَقَحًا لا عَقِيمًا.
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ: جب ہوا تیز چلنے لگتی تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرماتے :اے اللہ اس ہوا کوخیر والی بناتباہی والی نہ بنا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2058) المعجم الكبير للطبراني رقم (6171) صحيح ابن حبان رقم (1014)
2882
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا أَصْبَحَ قَالَ: اللّٰهُمَّ! بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ النُّشُورُ. وَإِذَا أَمْسَى قَالَ: اَللّٰهُمَّ! بِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: جب صبح ہو تی تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرماتے اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ ہم نے صبح کی اور تیرے نام کے ساتھ ہم نے شام کی ،تیرے نام کے ساتھ ہم زندہ ہیں اور تیرے نام کے ساتھ ہم مرتے ہیں اور تیری طرف ہی اٹھ کر جانا ہے، اور جب شام ہوتی تو فرماتے :اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ ہم نے شام کی، اور تیرے نام کے ساتھ ہم نے صبح کی، تیرے نام کے ساتھ ہم زندہ ہیں اور تیرے نام کے ساتھ ہم مرتے ہیں اور تیری طرف ہی لوٹ کر جانا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (262) سنن أبي داؤدكِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ رقم (4406) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ رقم (3313)
2883
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا أوَى إِلَى فِرَاشِهِ نَامَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ قَالَ: اللّٰهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ وَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ قَالَهُنَّ ثُمَّ مَاتَ تَحْتَ لَيْلَتِهِ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب اپنے بستر پر آتے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹتے، پھر فرماتے :اے اللہ! میں نے خود کو تیرے سپرد کر دیا، اور اپنا رخ تیری طرف کر لیا، اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، تجھے اپنا سہارا بنالیا، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے ، تیرے علاوہ کوئی پناہ گاہ اور جائے نجات نہیں، اور جو کتاب تو نے نازل فرمائی اس پر ایمان لایا اور جو نبی تو نے مبعوث فرمایا میں اس پر ایمان لایا، اور آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص نے یہ کلمات کہے اور اسی رات مرگیا تو وہ فطرت پر فوت ہوا
Takhreej
الصحيحة رقم (2889) صحيح البخاري كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب النَّوْمِ عَلَى الشِّقِّ الْأَيْمَنِ رقم (5840)
2884
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَاحَزَبَهُ أَمْرٌ قَالَ: يَا حَيُّ! يَا قَيُّومُ! بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو جب کوئی معاملہ پریشان کرتا تو آپ فرماتے :يَا حَيُّ! يَا قَيُّومُ! بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ۔اے زندہ اور قائم رہنے والے! میں تیری رحمت کے ذریعے ہی مدد طلب کرتا ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (3182) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب مِنْهُ رقم (3446)
2885
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قال كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا دَعَا (يَعني: فِي الإِسْتسقَاء) جَعَلَ ظَاهِرَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ.
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب دعا کرتے (استسقاء میں)تو اپنے ہاتھوں کی پشت اپنے چہرے کی طرف کرتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2491) مسند أحمد رقم (11792)
2886
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا رَأَى مَا يُحِبُّ قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ.
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب کسی پسندیدہ چیز کو دیکھتے تو فرماتے: تمام تعریفات اس اللہ کے لئے جس کے انعام سے نیک اعمال پورے ہوتے ہیں اور جب کوئی نا پند یدہ کام دیکھتے تو فرماتے: ہر حال میں اللہ کا شکر ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (265) سنن ابن ماجة كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فَضْلِ الْحَامِدِينَ رقم (3793)
2887
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ: اَللّٰهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ.
طلحہ بن عبیداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہتے ہیں کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب چاند دیکھتے تو فرماتے :اے الہا! اسے ہم پر برکت ،ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ طلوع فرما، میرا اور تمہارا رب اللہ ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1816) سنن الترمذي كِتَاب الدَّعَوَاتِ بَاب مَا يَقُولُ عِنْدَ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ رقم (3373)
2888
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ ثَوبَان رضی اللہ عنہ ، أَن النَّبي صلی اللہ علیہ وسلم : كَان إِذَا رَاعه شَيْء قَالَ : هُو الله رَبِّي لَا أشْرك به شَيْئًا .
ثوبان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ جب نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کو کوئی چیز عمدہ لگتی تو آپ فرماتے ۔وہ اللہ میرا رب ہے میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا
Takhreej
الصحيحة رقم (2070) مسند الشاميين للطبراني رقم (414) عمل اليوم والليلة لابن السني رقم (334)
2889
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فَأَسْحَرَ يَقُولُ: سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللهِ وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا رَبّنَا صَاحِبْنَا وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا عَائِذًا بِاللهِ مِنَ النَّارِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب کسی سفر میں ہوتےاور صبح ہوجاتی تو آپ فرماتے: سننے والے نے اللہ کی حمد اور ہم پر ہمارے رب کی نعمت کے بارے میں سن لیا (اے اللہ!)ہمارا ساتھی بن اور ہم پر فضل کرہم آگ سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (2638) صحيح مسلم كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ بَاب التَّعَوُّذِ مِنْ شَرِّ مَا عُمِلَ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ يُعْمَلْ رقم (4895)
2890
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ أَنسٍ قَالَ: كَان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا هَاجَتْ رِيْحٌ شَدِيْدَةٌ قَالَ: «اَللّٰهُمّ إِنِّي أَسْأَلُك مِنْ خَيْر مَا أُرْسِلَتْ بِه ، وَأَعُوذ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أرْسِلَتْ بِه».
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ جب تیزہوا چلتی تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرماتے : اے اللہ! جس بھلائی کے ساتھ اسے بھیجا گیا ہے میں تجھ سے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور جس برائی کے ساتھ اسے بھیجا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (2757) الأدب المفرد للبخاري رقم (739)
2891
Sahih
فضائل قرآن ،دعاؤں ،اذکار اور دَم کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْد الْخَطمي قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا وَدَّعَ الجَيْشَ قَالَ: «أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكُم وَأَمَانتَكُم وَخَوَاتِيم أَعْمَالَكُم».
عبداللہ بن زید خطمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب لشکر کو الوداع کرتے تو فرماتے: میں تمہارا دین،تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کا انجام اللہ کے سپرد کرتا ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (1605) الدعاء للمحاملي رقم (5)
2892
Sahih