جریر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: مہاجرین دنیا اور آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور فتح مکہ کے دن مسلمان ہونے والے قریش اور ثقیف کے آزاد کر دہ دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔
Takhreej
لصحيحة رقم (1036) ، المعجم الكبير للطبراني (برقم : 2253) .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: ہم آخری امت ہیں، لیکن سب سے پہلے حساب لیا جائے گا۔ کہا جائے گا: امی امت اور ان کا نبی کہاں ہے؟ پس ہم آخری اور پہلے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2374) ، سنن إبن ماجه ،كِتَاب الزُّهْدِ، بَاب صِفَةِ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ﷺ، رقم (4280) .
عَنِ الْجَفْشِيشِ الْكِنْدِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَنْتَ مِمَّنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: نَحْنُ بنو النَّضْرِ بن كِنَانَةَ ، لا نَقْفُو أُمَّنَا، وَلا نَنْتَفِي مِنْ أَبِينَا
جفشیش کندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کن سے تعلق رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہم بنو نضر بن کنانہ سے تعلق رکھتے ہیں ،ہم اپنی والدہ میں بھی شک نہیں کرتے اورنہ اپنے والدکی نفی کرتے ہیں ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2375) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (2147) .
خالد بن معدان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہمیں اپنے بارے میں بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے ۔میں اپنے والد ابراہیم کی دعا اور عیسیٰکی خوشخبری ہوں ،میں اپنی ماں کے پیٹ میں تھا تو میری ماں نے ایک روشنی دیکھی جو ان سے نکلی، جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔ مجھے بنی سعد بن بکر میں دودھ پلایا گیا۔ اس وقت میں وہاں بکریاں چرا رہا تھا کہ میرے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ان کے پاس برف سے بھر اسونے کا ایک تھا ل تھا۔ ان دونوں نے مجھے لٹایا اور میرا پیٹ چیر دیا، پھر میرا دل نکال کر دونوں نے اسے چیرا اور اس سے ایک سیاہ لوتھڑا نکال کر پھینک دیا۔ پھر دونوں نے اس برف سے میرا دل اور پیٹ دھویا ۔جب خوب صاف کر دیا تو دوبارہ اسی جگہ رکھ دیا جس طر ح وہ پہلے تھا ۔پھر ایک نے دوسرے ساتھی سے کہا: اس کی امت کے دس آدمیوں سے اس کا وزن کرو، اس نے دس آدمیوں سے میرا وزن کیا تو میں ان پر بھاری رہا، پھر اس نے کہا: اس کی امت کے سو آدمیوں سے اس کا وزن کرو، اس نے سو آدمیوں کے ساتھ میرا وزن کیا تو میں ان پر بھاری رہا ،پھر اس نے کہا: اس کی امت سے ایک ہزار دمیوں سے اس کا وزن کرو، اس نے ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ میرا وزن کیا تو میں ان پر بھاری رہا۔ پھر اس نے کہا: اسے چھوڑ دو، اگر اس کی ساری امت کے ساتھ بھی اس کا وزن کرو گے تو یہ ان پر بھاری رہے گا۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں اپنے بارے میں بتائیے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ میں ابراہیم کی دعا ہوں، اور جس نے سب سے آخر میں میری بشارت دی وہ عیسیٰ بن مریم ہیں
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، (لوگ) گزرنے لگے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے:ابو ہریرہرضی اللہ عنہ ! یہ کون ہے؟ میں کہتا :فلاں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے :فلاں اللہ کا نیک بندہ ہے۔ پھر کوئی گزرتا تو آپ فرماتے: ابو ہریرہ! یہ کون ہے؟ میں کہتا فلاں۔ آپ فرماتے: فلاں اللہ کا بندہ یہ تو برا آدمی ہے۔ حتی کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ گزرے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خالد، اللہ کا بہت اچھا بندہ ہے۔ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1237) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الْمَنَاقِبِ، بَاب مَنَاقِبِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، رقم (3781) .
عباس بن عبدالمطلبرضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ابو طالب کو آپ سے کوئی فائدہ ہوگا؟ کیوں کہ وہ آپ کی حفاظت کرتے تھے اور آپ کے لئے (لوگوں سے )غصے ہوتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وہ آگ کم گہرے حصے میں ہوگا۔ اگر میں نہ ہوتا( یعنی میری سفارش) تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتا۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے ،حتی کہ آپ ہمیں بنی نجار کے ایک باغ میں لے گئے۔ اس میں ایک اونٹ تھا، جو بھی باغ میں داخل ہوتا اس پر حملہ کر دیتا۔ صحابہ نے اس بات کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ کیا۔ آپ اس اونٹ کے پاس آئے اور اسے بلایا، وہ اپنا ہونٹ زمین سے چمٹائے آپ کے پاس ٓاگیا اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا :لگام لاؤ ،آپ نے اسے لگام پہنائی اور اسے اس کے مالک کے سپرد کر دیا۔ پھر نظریں اٹھا کر دیکھا اور فرمایا: زمین و آسمان کے درمیان جو بھی مخلوق ہے وہ جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں سوائے نافرمان جن و انس کے۔
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: اہل یمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہمارے ساتھ کسی ایسے شخص کو بھیجئے جو ہمیں سنت اور اسلام کی تعلیم دے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ بن جراحرضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: یہ اس امت کے امین ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1964) صحيح مسلم ،كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ، بَاب فَضَائِلِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، رقم (4443) .
عَنْ جَابِر بن عَبْدِ اللهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : هَذَا الرَّجُل الصَّالِح الَّذِي فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ شُدِّدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ . يَعْنِي: سَعَد بْن مُعَاذ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ نیک آدمی ہے جس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے گئے۔ اس پر قبر تنگ ہوئی، پھر کشادہ ہوگئی۔ یعنی سعد بن معاذ
عَنْ جَابِر بن عَبْدِ اللهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : هَذَا الرَّجُل الصَّالِح الَّذِي فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ شُدِّدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ . يَعْنِي: سَعَد بْن مُعَاذ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ نیک آدمی ہے جس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے گئے۔ اس پر قبر تنگ ہوئی، پھر کشادہ ہوگئی۔ یعنی سعد بن معاذرضی اللہ عنہ ۔
عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، کہتی ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک رات عشاء کے بعد میں تاخیر سے آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : تم کہاں تھیں؟ میں نے کہا: میں آپ کے ایک صحابی کی قراءت سن رہی تھی، میں نے اس جیسی قراءت اور آواز کسی کی نہیں سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور میں بھی آپ کے ساتھ کھڑی ہوگئی حتی کہ آپ نے اس کی قرأت سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: یہ سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ ہے۔ تمام تعریفات اللہ کے لئے جس نے میری امت میں اس جیسا شخص پیدا کیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3342) سنن إبن ماجه ،كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةِ فِيهَا، بَاب فِي حُسْنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ ، رقم (1328) .
سعد بن ابی وقاصرضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: یہ عباس بن عبدالمطلبرضی اللہ عنہ ہیں، قریش میں سب سے زیادہ سخی اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں
قیس بن ابی حازم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اور آپ کے سامنے کھڑا ہوا تو گھبراہٹ کی وجہ سے اس پر کپکپی طاری ہوگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خود پر آسانی کرو، میں کوئی بادشاہ نہیں۔ میں قریش کی ایک عورت کا بیٹا ہوں۔ جوخشک گوشت کےٹکڑے کھاتی تھی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1876) ، سنن إبن ماجه ، كِتَاب الْأَطْعِمَةِ ، بَاب الْقَدِيدِ ، رقم (3303) .