) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا ، وَإِذَا ذُكِرَ النُّجُومُ فَأَمْسِكُوا ، وَإِذَا ذُكِرَ الْقَدَرُ فَأَمْسِكُوا.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میرے صحابہ كا ذكر كیا جائے تو رك جاؤ، جب ستاروں كا ذكر كیا جائے تو رك جاؤ، اور جب تقدیر كا ذكر كیا جائے تو رك جاؤ
Takhreej
الصحيحة رقم (34) المعجم الكبير للطبراني رقم (1411، 10296)
معاویہ بن قرہ اپنے والد سے مرفوعا بیان كرتے ہیں: جب شام والے خراب ہو جائیں گے تو تم میں كوئی بھلائی باقی نہیں رہے گی۔ میری امت كا ایك گروہ مدد یافتہ رہے گا جو انہیں چھوڑ دے گا وہ انہیں نقصان نہیں پہنچا سكے گا۔ حتی كہ قیامت قائم ہو جائے
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ يُّرْفَعَ الْحِجَابُ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے ہاں داخل ہونے کے لئے تمہارے لئے اجازت یہ ہے کہ پردہ اٹھا دیا جائے اور تم پوشیدہ (آہستہ) گفتگو سن لو جب تک میں تمہیں منع نہ کردوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1427) صحيح مسلم ،كِتَاب السَّلَامِ، بَاب جَوَازِ جَعْلِ الْإِذْنِ...، رقم (4033)
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے میری امت پر سب سے زیادہ رحمدل ابو بكر رضی اللہ عنہ ہیں، اور اللہ كے معاملے میں سب سے سخت عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔سب سے زیادہ با حیا عثمان رضی اللہ عنہ ، سب سے زیادہ قاری ا بی بن كعب رضی اللہ عنہ ، فرائض كو جاننے والا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ، اور حلال و حرام كا زیادہ علم ركھنے والا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہے۔ خبردار ہر امت كا ایك امین ہے اور میری امت كا امین ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1224) سنن الترمذي ،كِتَاب الْمَنَاقِبِ، بَاب مَنَاقِبِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَزَيْدِ...، رقم (3723)
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دكھایا گیا كہ میری امت میرے بعد كیا كرے گی۔ یہ ایك دوسرے كا خون بہائیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ كی طرف سے پہلے ہی لكھا جا چكا ہے جس طرح كہ پہلی امتوں كے بارے میں لكھ دیا گیا تھا۔ میں نے اللہ سے درخواست كی كہ مجھے قیامت كے دن ان كی شفاعت كا حق دے، تو اللہ تعالیٰ نے میری درخواست قبول كر لی
Takhreej
الصحيحة رقم (1440) المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (209)
حبان بن واسع اپنی قوم كے بزرگوں سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر كے دن اپنے صحابہ كی صفیں درست كیں، آپ كے ہاتھ میں ایك تیر تھا جس كے ذریعے لوگوں كو سیدھا كر رہے تھے۔ جب سواد بن غزیہ رضی اللہ عنہ بنو عدی بن نجار كے حلیف كے پاس سے گزرے جو صف سے آگے نکلے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان كے پیٹ میں تیر چبھو دیا اور فرمایا: سواد سیدھے ہو جاؤ، انہوں نے كہا: اے اللہ كے رسول! آپ نے مجھے تكلیف دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ كو حق و انصاف دے كر بھیجا ہے، مجھے بھی بدلہ دیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ مبارك سے كپڑا اٹھایا اور فرمایا: بدلہ لے لو ۔ وہ آپ سے چمٹ گیا اور آپ كے پیٹ كا بوسہ لے لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سواد! تمہیں یہ كام كرنے پر كس بات نے مجبور كیا؟ سواد نے كہا: اے اللہ كے رسول آپ دیكھ رہے ہیں كہ موت سامنے ہے، میں نے چاہا كہ آپ كے ساتھ میرا آخری معاملہ یہ ہو كہ میرا جسم آپ كے جسم سے مل جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس كے لئے خیر كی دعا كی اور اس سے كہا: سواد سیدھے ہو جاؤ
Takhreej
الصحيحة رقم (2835) معرفة الصحابة لأبي نعيم رقم (3133)
علی بن زید سے مروی ہے كہ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ گو انصار کے ایک سردار کی طرف سے کوئی (قابل اعتراض) بات پہنچی تو انہوں نے بدلہ لینےکا ارادہ کیا۔ انس بن مالكرضی اللہ عنہ آئے اور ان سے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرما رہے تھے: انصار كے ساتھ اچھا برتاؤ كرو، ان كے نیكی كرنے والے سے قبول كرو، اور ان كے برے شخص سے درگزر كرو، مصعبرضی اللہ عنہ نے خود كو چار پائی سے گرالیا اور اپنا رخسار چٹائی سے چمٹا لیا اور كہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كا حكم سر آنكھوں پر اور اسے چھوڑدیا
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: عرب قبائل میں ہلاکت و فنا سے تیز ترین قریش ہیں۔ قریب ہے كہ كوئی عورت جوتی میں چلے تو كہا جائے یہ قریشی جوتی ہے
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ اسلم، اللہ انہیں سلامتی دے، قبیلہ غفار، اللہ انہیں بخشے، یہ بات میں نے نہیں كہی بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات كہی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3988) صحيح مسلم ،كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ، بَاب دُعَاءِ النَّبِيِّ ﷺ لِغِفَارَ وَأَسْلَمَ ، رقم (4574
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَسْلَمُ النَّاسِ وَآمَنُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ.
) عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے: لوگوں میں سب سے زیادہ سلامتی اور امن والا عمرو بن عاص ہے
ابو ایوب انصاریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلم، غفار، اشجع ،مزینہ، جہنیہ اور جو بنی كعب سے تعلق ركھتے ہیں، دوسرے لوگوں سے ہٹ كر میرے خاص دوست ہیں اور اللہ اور اس كا رسول انكے دوست ہیں
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَشَدُّ أُمَّتِي لِي حُبًّا قَوْمٌ يَّكُونُونَ أَوْ يَخْرُجُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ أَعْطَى أَهْلَهُ وَمَالَهُ وَأَنَّهُ رَآنِي .
ابو ذررضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں مجھ سے شدید ترین محبت كرنے والے ایسے ہونگے جو میرے بعد آئیں گے۔ ان میں سے ہر شخص چاہے گا كہ وہ اپنا گھر بار اور مال دے دے اور مجھے دیكھ لے
عَنْ عَبْدِ الله بْن عُمَر رضی اللہ عنہ قَالَ : أَتَى النَّبِي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كِتَاب رَجُل ، فَقَال لَعَبْد الله بن الْأَرْقَم : أَجِب عَنِّي فَكَتَب جَوَابَه ، ثُمَّ قَرَأَه عَلَيْهِ ، فَقَال : أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ، اللَّهُمّ وَفِّقْه . فلما وُلِّي عُمَر كَانَ يُشَاوِره
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس ایك آدمی كا خط آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ارقمرضی اللہ عنہ سے كہا: میری طرف سے جواب لكھو۔ انہوں نے لكھا اور آپ كو پڑھ كر سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے درست لكھا اوراچھا كیا۔ اے اللہ! اسے توفیق دے۔ پھر جب عمررضی اللہ عنہ كو خلافت دی گئی تو وہ ان سے مشورہ كیا كرتے تھے
Takhreej
الصحيحة رقم (2838) المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (5450)
انس بن مالكرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول ! فلاں شخص كی ایك كھجور ہے، میں بھی وہاں كھجور لگا رہا ہوں، آپ اسے حكم دیجئے كہ وہ كھجور مجھے دے دے تاكہ میں وہاں اپنا باغ بنالوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے كہا: جنت میں ایك كھجور كے بدلے اسے وہ درخت دے دو، اس نے انكار كر دیا۔ ابو دحداحرضی اللہ عنہ اس كے پاس آئے اور كہا : مجھے اپنی كھجور میرے باغ كے بدلے بیچ دو۔ اس نے كھجور بیچ دی، ابو دحداحرضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئے اور كہا: اے اللہ كے رسول! میں نے وہ كھجور اپنے باغ كے بدلے خریدلی ہے۔ یہ كھجور آپ اس كو دے دیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے كئی مرتبہ فرمایا: ابو داحداح كے لئے كتنی ہی كھجوریں جنت میں ہیں یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار دہرایا۔ وہ اپنی بیوی كے پاس آئے اور كہا: ام داحداح باغ سے نكل آؤ، میں نے اسے جنت میں ایك كھجور كے درخت كے بدلے بیچ دیا ہے۔ اس نے كہا: تم نے نہایت نفع بخش تجارت كی ہے۔یااس طرح كی كوئی بات كہی
ابو بكر صدیقرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ستر ہزار ایسے امتی دیئے گئے جو بغیر حساب كے جنت میں داخل ہونگے۔ ان كے چہرے چودھویں رات كے چاند كی طرح روشن ہونگے۔ ان كے دل یكجان ہونگے۔ میں نے اپنے رب سے زیادہ كا مطالبہ كیا تو اس نے ہر شخص كے ساتھ ستر ہزار كا اضافہ كر دیا۔ ابو بكررضی اللہ عنہ نے كہا: میرا خیال ہے كہ یہ لوگ بستی مكہ والوں كے پاس آنے والے اور دیہاتوں كی دیہاتوں کے اطراف میں آنے والے لوگ ہیں
ابو موسیٰ اشعریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے كلمات كی ابتداءو انتہا دی گئی ہے۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول جو اللہ تعالیٰ نے آپ كو سكھلایا ہے ہمیں بھی سكھلایئے۔ آپ نے ہمیں تشہد سكھایا
Takhreej
الصحيحة رقم (1483) مسند أبي يعلى الموصلي رقم (7079) .
) علی بن ابی طالبرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو انبیاءمیں سے كسی كو نہیں دی گئیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رعب كے ساتھ میری مدد كی گئی ہے۔ مجھے زمین كی چابیاں دی گئیں۔ میرا نام احمد ركھا گیا، مٹی كو میرے لئے پاكیزگی كا ذریعہ بنایا گیا اور میری امت كو بہترین امت بنایا گیا
عَنْ وَاثِلَة بْن الْأَسْقَع، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَعْطِيْتُ مَكَان التَّوْرَاةِ السَّبْع الطِوال وَمَكَان الزَّبُور الْمَئِين وَمَكَان الْإِنْجِيل الْمَثَانِي وَفُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّل
واثلہ بن اسقع سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے تورات كی جگہ سبع طوال(سات طویل سورتیں)،زبوركی جگہ مئین(ایک سو آیت پر مشتمل سورتیں) اور انجیل كی جگہ مثانی(بار بار پڑھی جانے والی) دی گئیں اور مجھے مفصل(جن میں جلدی جلدی بسم اللہ سے فصل آتی ہے) كے ساتھ فضیلت دی گئی۔