عَنِ ابنِ عَبّاس: أَن الْجَنَازَة الَّتِي قَام لَهَا النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم كَانَت جَنَازَة يَهُودِيّ، وَأَن النَّبِي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: آذَانِي ريحُها فَقُمتُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ: وہ جنازہ جس كے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم كھڑے ہوئے ایك یہودی كا جنازہ تھا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس كی بدبو نے مجھے تكلیف دی تو میں كھڑا ہو گیا
Takhreej
الصحيحة رقم (3349) المعجم الأوسط للطبراني رقم (6921) ابن عدي (1/320)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: أَنَّهُ عَادَ مَرِيضًا وَمَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ وَعْكٍ كَانَ بِهِ فَقَالَ لَه رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَبْشِرْ إِنَّ اللهَ يَقُولُ: هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا لِيَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الْآخِرَةِ.
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك مریض كی عیادت كیم آپ كے ساتھ ابوہریرہرضی اللہ عنہ تھے۔ اس مریض كو بخار تھا، تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے(اس سے) كہا: خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:یہ میری آگ ہے جو میں دنیا میں اپنے مومن بندے پر مسلط كرتا ہوں تاكہ آخرت میں ملنے والے عذاب کا بدل بن جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (557) سنن ابن ماجة كِتَاب الطِّبِّ بَاب الْحُمَّى رقم (3461)
) ام العلاء رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت كی، میں بیمار تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، ام العلاء،كیوں كہ مومن كی بیماری كی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس كی خطائیں معاف كر دیتاہے جس طرح آگ سونے اور چاندی كا میل صاف كر دیتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (714) سنن أبي داؤد كِتَاب الْجَنَائِزِ بَاب عِيَادَةِ النِّسَاءِ رقم (2688)
ابو عسیب مولی رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا مروی ہے كہ: جبریل علیہ السلام میرے پاس بخار اور طاعون لے كر آئے۔ بخار میں نے مدینے میں روك لیا اور طاعون كو شام كی طرف بھیج دیا۔ طاعون میری امت كے لئے شہادت اور رحمت ہے جب كہ كافروں كے لئے عذاب ہے۔
مطلب رحمہ اللہ كہتے ہیں كہ جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان كا جنازہ باہر نكالا گیا اور انہیں دفن كر دیا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك آدمی كو حكم دیا كہ وہ ایك پتھر اٹھا كر لائے، وہ اس پتھر كو نہ اٹھا سكا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ كر اس پتھر كی طرف گئے، اپنے بازو اوپر چڑھائے، صحابی كہتا ہے كہ گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے بازؤوں كی سفیدی دیكھ رہا ہوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بازو چڑھائے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پتھر كو اٹھا یا اور اسے اس قبر كے سرہانے ركھ دیا۔ اور فرمایا: اس سے مجھے اپنے بھائی كی قبر كا پتہ چل جائے گا۔ میرے گھر والوں میں سے جو فوت ہو گا اسے یہیں دفن كروں گا
Takhreej
الصحيحة رقم (3060) سنن أبي داؤد كِتَاب الْجَنَائِزِ بَاب فِي جَمْعِ الْمَوْتَى فِي قَبْرٍ وَالْقَبْرُ يُعَلَّمُ رقم (2791)
عَنْ عَطَاءِ بن أبي رباح مرفوعاً مرسلًا. إِذَا أُصِيبَ أَحَدُكُمْ بِمُصِيبَةٍ، فَلْيَتذَكر مُصِيبَتَهُ بِي، فَإِنَّهَا أَعْظَمُ الْمَصَائِبِ.
عطاءبن ابی رباح رحمہ اللہ سے مرفوعا مرسلا مروی ہے كہ: جب تم میں سے كسی شخص كو كوئی مصیبت پہنچے تو وہ میری مصیبت یاد كر لے، كیوں كہ یہ سب سے بڑی مصیبت ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1106) سنن الدارمي باب فِى وَفَاةِ النَّبِىِّ ﷺ رقم (86)
براءبن عازبرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جب مومن كو اس كی قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو اس كے پاس فرشتے آتے ہیں ، پھر وہ گواہی دیتا ہے كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ كے رسول ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ كا وہی فرمان ہے: یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ (اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو قولِ ثابت كے ساتھ ثابت قدم ركھتا ہے) (فرمایا: یہ عذاب قبر كے بارے میں نازل ہوئی)( اور ایك دوسری روایت میں ہے كہ:) مسلمان سے جب اس كی قبر میں سوال كیا جاتا ہے تو وہ گواہی دیتا ہے كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ كے رسول ہیں، یہ اللہ تعالیٰ كا وہی فرمان ہے:یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡقَوۡلِ الثَّابِتِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ (ابراہیم :۷۲) اللہ تعالیٰ ان لوگوں كو جو ایمان لائے دنیا كی زندگی اور آخرت میں قولِ ثابت كے ساتھ ثابت قدم ركھتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3963) صحيح البخاري كِتَاب الْجَنَائِزِ بَاب مَا جَاءَ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ رقم (1280، 4330)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا اتَّبَعْتُمْ جَنَازَةً فَلَا تَجْلِسُوا حَتَّى تُوضَعَ (في الأَرضِ).
) ابو سعید رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازے كے ساتھ چلو تو اس وقت تك نہ بیٹھو جب تك جنازہ( زمین پر )نہ ركھ دیا جائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3967) صحيح مسلم كِتَاب الْجَنَائِزِبَاب الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ رقم (1591)
) ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن كی موت كا وقت آتا ہے تو رحمت كے فرشتے اس كے پاس سفید ریشمی کپڑا لے كر آتے ہیں، اور كہتے ہیں (اے نیک روح) باہر نكلو، تم اس سے راضی ہو اور وہ تم سے راضی ہو چكا ہے۔ اللہ كی مہربانی، خوشبو اور راضی رب كی طرف، روح اس طرح نكلتی ہے جس طرح كستوری كی نرم و ملائم خوشبو ہوتی ہے۔ حتی كہ فرشتے اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور اسے آسمان كے دروازے تك لے آتے ہیں۔ فرشتے كہتے ہیں: كتنی عمدہ خوشبو ہے جو زمین سے آرہی ہے۔ پھر اسے مومنین كی روحوں میں لے آتے ہیں۔ تم اپنے مسافر دوست کی آمد سےجتناخوش ہوتے ہو وہ اس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ اور اس سے سوال كرتے ہیں: فلاں كا كیا حال ہے؟ فلاں كا كیا بنا؟ وہ کہتے ہیں:اُسے چھوڑ دو كیوں كہ وہ دنیا كی پریشانی میں تھا۔ جب وہ یہ كہتا ہے كہ كیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا؟ تو وہ كہتے ہیں اسے اس كی ماں(جائے پناہ) ہاویہ كی طرف لے جایا گیا ہے، اور جب كافر كی موت كا وقت آتا ہے تو عذاب كے فرشتے ٹاٹ لے کر اس كے پاس آتے ہیں، اور كہتے ہیں: یہ تیرے لئے بھی ناتواری کا باعث ہے اور تجھ پر اللہ تعالیٰ کا غصہ ہے۔ اللہ عزوجل كے عذاب كی طرف نكل وہ اس طرح نكلتی ہے جس طرح كسی مردار كی انتہائی بد بو دار لاش ہو۔ حتی كہ اسے زمین كے دروازے تك لاتے ہیں تو وہ كہتے ہیں یہ بو كتنی بدبودار ہے حتی كہ اسے كفار كی روحوں میں لے آتے ہیں۔ ( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1309) سنن النسائي كِتَاب الْجَنَائِزِ بَاب مَا يُلْقَى بِهِ الْمُؤْمِنُ مِنْ الْكَرَامَةِ... رقم (1591)
) شداد بن اوس رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے مردوں كے پاس آؤ تو ان كی آنكھیں بند كر دو، كیوں كہ نگاہیں روح كا پیچھا كرتی ہیں اور اچھی بات كہو۔ كیوں كہ فرشتے اس بات پر آمین كہتے ہیں جو بات گھر والے كہتے ہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1092) سنن ابن ماجة كِتَاب مَا جَاءَ فِي الْجَنَائِزِ بَاب مَا جَاءَ فِي تَغْمِيضِ الْمَيِّتِ رقم (1445)
عَنْ جَابِرٍ عَن النّبِي صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِذَا رَأَى (المؤمن) مَا فُسِحَ لَهُ فِي قَبْرِهِ يَقُولُ: دَعُونِي أُبَشِّرُ أَهْلِي فَيُقَالُ لَهُ: اسْكُنْ.
جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب(مومن) دیكھتا ہے كہ اس كی قبر میں اس كے لئے كتنی زیادہ كشادگی كر دی گئی ہے تو وہ كہتا ہے: مجھے چھوڑ دو میں اپنے گھر والوں كو اطلاع كر دوں، تب اس سے كہا جاتا ہے یہیں ٹرہ ے رہو۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا عَادَ أَحدكُم مَّرِيْضًا فَلْيَقُل :اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا وَّيَمْشِي لَكَ إِلَى الصَّلَاةِ
عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص كسی مریض كی عیادت كرے تو كہے:اے اللہ اپنے بندے كو شفا دے ، تاكہ تیرے دشمن زخمی کرکے مار دے۔ یا تیرے لئے نماز كی طرف جائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1365) سنن أبي داؤد كِتَاب الْجَنَائِزِ بَاب الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ عِنْدَ الْعِيَادَةِ رقم (2701)
عبدالرحمن بن ابی لییہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ ابو موسیٰ حسن بن علی رضی اللہ عنہم كی عیادت كرنے آئے تو علیرضی اللہ عنہ نے ان سے كہا: تم عیادت كرنے كی غرض سے آئے ہو یا خوش ہوکرآئے ہو؟ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ كہنے لگے: نہیں میں عیادت كرنے كی غرض سے آیا ہوں۔ علیرضی اللہ عنہ نے ان سے كہا: اگر تم عیادت كرنے كی غرض سے آئے ہو تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جب آدمی اپنے مسلمان بھائی كی عیادت کرنے کے لئے آتا ہے تو وہ جنت كے باغیچے میں چلتا رہتا ہے حتی كہ آكر بیٹھ جائے، جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے ۔ اگر صبح كے وقت ہو تو ستر ہزار فرشتے شام ہونے تك اس كے لئے دعا كرتے رہتے ہیں اور اگر شام كے وقت میں ہو تو صبح تك ستر ہزار فرشتے اس كے لئے دعا كرتے رہتے ہیں۔( )
) ابو ہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میت كو قبرمیں دفن كیا جاتا ہے ،یا فرمایا: تم میں سے كسی شخص كو تودو فرشتے اس كے پاس آتے ہیں، سیاہ رنگ كے ،نیلی آنكھوں والے، ایك كو منكر، دوسرے كو نكیر كہا جاتا ہے ۔ دونوں كہتے ہیں: تم اس شخص كے بارے میں كہا كہتے ہو؟ وہ كہتا ہے جو وہ(دنیا میں) كہا كرتا تھا كہ وہ اللہ كے بندے اور اس كے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں، اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس كے بندے اور رسول ہیں۔ وہ دونوں فرشتے كہتے ہیں: ہمیں معلوم تھا كہ تم یہی كہوگے ۔ پھر اس كی قبر ستر ہاتھ لمبی اور ستر ہاتھ چوڑی كشادہ كر دی جاتی ہے ۔پھر اس كے لئے اس میں روشنی كر دی جاتی ہے۔ پھر اس سے كہا جاتا ہے : سوجاؤ، وہ كہتا ہے: میں اپنے گھر والوں كی طرف واپس جانا چاہتا ہوں اور انہیں بتانا چاہتا ہوں۔ دونوں فرشتے كہتے ہیں: دلہن كی طرح سو جاؤ جسے اس كا محبوب ہی اٹھاتا ہے ۔ حتی كہ اللہ تعالیٰ اسے اس كی آرامگاہ سے اٹھا لیتا ہے اور اگر وہ منافق ہو تو كہتا ہے كہ میں نے لوگوں سے سنا كہہ رہے تھے ، میں نے بھی اسی طرح كہا، مجھے معلوم نہیں۔ وہ دونوں كہیں گے: ہمیں معلوم تھا كہ تم اسی طرح كہو گے ، زمین سے كہا جائے گا: اس پر تنگ ہو جاؤ ، تو زمین اس پر اس طرح سمٹ جائے گی کہ اس كی پسلیاں آپس میں مل جائیں گی، اسے اس قبر میں عذاب دیا جاتا رہے گا، جب تک اللہ تعالیٰ اسے اس كی اس جگہ سے اٹھائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1391) سنن الترمذي كِتَاب الْجَنَائِزِ بَاب مَا جَاءَ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ رقم (991)
عَن أبِي أَيُوب موقوفا: إِذَا قُبضت نَفْس الْعَبْد تَلْقَاه أَهل الرَّحْمَة من عبَاد الله كَمَا يَلْقَوْن الْبَشِير في الدُّنْيَا، فيقبلون عليه ليسألوه، فَيَقُول بَعْضهُم لِبَعْض: أنْظرُوا أَخَاكُم حَتَّى يَسْتَرِيح، فَإِنَّه كَان في كَرَب، فيقبلون عليه، فَيَسْأَلُونَه: ما فَعَل فُلَان؟ ما فَعَلَت فُلَانَة؟ هَل تَزَوَّجَت؟ فَإِذَا سَأَلُوا عن الرجل قَد مَات قَبلَه قال لَهم : إِنَّه قَد هَلَك، فَيَقُولُون: إِنَّا لِلهِ و إِنَّا إِلَيْه رَاجِعُون، ذَهَب بِه إلى أُمِّه الْهَاوِيَة، فَبِئْسَت الْأُمّ و بِئْسَت المربية. قال: فَيُعرض عَلَيْهِم أَعْمَالَهُم، فَإِذَا رَأَوْا حَسَنًا فَرِحُوا و اسْتَبْشَرُوا و قَالُوا : هَذِه نِعْمَتُك عَلَى عَبَدك فَأَتَمَّهَا، و إِذَا رَأَوْا سُوءًا قَالُوا: اللهم رَاجع بِعبدِك
ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے موقوفا مروی ہے كہ:جب بندے كی روح قبض كی جاتی ہے تو اللہ كے بندوں میں سے اہل رحمت اسے ملتے ہیں جس طرح وہ دنیا میں اس سے ملتے تھے، وہ اس سے سوالات كرنے اس كے پاس آتے ہیں، اور ایك دوسرے سےکہتے ہیں: اپنے بھائی كا خیال کرو، جب تك یہ آرام كر لے، كیوں كہ یہ تكلیف میں تھا۔ پھر وہ اس كی طرف آتے ہیں اور اس سے سوالات کرتے ہیں: فلاں كا كیا بنا؟ فلاں عورت كا كیا ہوا؟كیا اس نے شادی كر لی؟ جب وہ اس سے اس آدمی كے متعلق پوچھیں گے جو اس سے پہلے مر چكا ہو گا تو وہ ان سے كہے گا:وہ تو مرچكا، وہ كہیں گے:” إِنَّا لِلهِ و إِنَّا إِلَيْه رَاجِعُون “(ہم اللہ كے لئے ہیں اور ہمیں اسی كی طرف لوٹ كر جانا ہے)وہ اپنے مسكن ہاویہ كیطرف گیا۔ بری جائے پناہ ہے، اور بری پرورش کرنے والی ہے،ان كے اعمال ان پر پیش كئے جائیں گے، جب وہ اعمال اچھے دیكھیں گے تو خوش ہو جائیں گے اور كہیں گے ، یہ تیرے بندے پر تیری نعمت ہے، اسے مكمل كر دے، اور جب اعمال برے دیكھیں گے تو كہیں گے:اے اللہ اپنے بندے پر رجوع کر۔
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان كرتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كسی بھی شخص كی موت كسی علاقے میں لكھی گئی ہو تو اللہ تعالیٰ اس كے لئے اس علاقے كی طرف كوئی كام پیدا كر دیتا ہے، جب وہ اپنے مقام كی انتہا تك پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے فوت كر دیتا ہے ۔ قیامت كے دن زمین كہے گی: اے رب یہ وہ بندہ ہے جو تو نے میرے پاس امانت ركھا تھا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1222) سنن ابن ماجة كِتَاب الزُّهْدِ بَاب ذِكْرِ الْمَوْتِ وَالِاسْتِعْدَادِ لَهُ رقم (4253)
عَنْ أَبِي موسَى الْأَشْعَرِيّ مرفوعا: إِذَا مَات وَلَد الرجل يَقول الله تَعَالَى لِمَلَائِكَتِه: أقبضتم وَلَد عَبْدِي؟ فَيَقُولُون: نَعَم. فَيَقُول: أقبضتم ثَمَرَة فُؤَادِه؟ فَيَقُولُون: نَعَم. فَيَقُول: فَمَاذَا قال عَبْدِي؟ قال: حَمِدَك واسترجع. فَيَقُول: ابْنُوا لِعَبْدِي بَيْتًا في الْجَنَّة وسَمُّوه بَيْت الْحَمْد
ابو موسیٰ اشعریرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جب كسی آدمی كا بچہ مر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: تم نے میرے بندے كا بچہ فوت كر دیا؟ وہ کہتے ہیں: جی ہاں۔ اللہ فرمائے گا: تم نے اس كے دل كا ٹكڑا قبض كر لیا؟ فرشتےکہتے ہیں: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تب میرے بندے نے كیا كہا: فرشتے کہتے ہیں: اس نے تیری حمد بیان كی اور انا للہ پڑھا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے كے لئے جنت میں ایك گھر بنا دو اور اس كا نام”بیت الحمد“(تعریف والا گھر)ركھ دو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1408) مسند أحمد رقم (18893) شعب الإيمان للبيهقي رقم (9369) مسند عبد بن حميد رقم (553)
كعب بن مالك رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كسی شخص كو تكلیف ہو تو وہ تكلیف والی جگہ پر اپنا ہاتھ ركھے۔ پھر سات مرتبہ كہے: میں اللہ كی عزت اور قدرت كی پناہ میں آتا ہوں، ہر اس چیز كے شر سے جو مجھے محسوس ہو رہی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1415) مسند أحمد رقم (25926) المعجم الكبير للطبراني رقم (15528)
عبدالرحمن بن مہران رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ: جب ابو ہریرہرضی اللہ عنہ كی وفات كاوقت قریب آیا تو انہوں نے كہا: میرے اوپر خیمہ مت لگانا، نہ ہی انگیٹھی (خوشبودار لکڑی وغیرہ کی)جلانا اور مجھے جلدی لے جانا۔ كیوں كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جب نیك بندے كو اس كی چار پائی پر ركھا جاتا ہے تو وہ كہتا ہے: مجھے آگے لے جاؤ، مجھے لے جاؤ مجھے آگے (جلدی) لے جاؤ۔ اور جب برے آدمی كو اس كی چار پائی پر ركھا جاتا ہے تو وہ كہتا ہے: ہائے ہلاكت! تم مجھے كہاں لے جا رہے ہو؟۔
) انسرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے كوئی شخص اپنے بھائی كا ذمہ دار بنے تو وہ اس كا كفن اچھا دے۔ كیوں كہ وہ اپنے كفن میں اٹھائے جائیں گے، اور اپنے كفن میں ایك دوسرے سے ملیں گے