TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان - ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان - Book 5 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 5 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 256 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

256 Hadith · 1 Chapters
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَيُؤْمِنُوا بِي وَبِمَا جِئتُ بِهِ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں لوگوں سےاس وقت تك قتال كروں گا جب تك وہ لاالہ الا اللہ كی گواہی نہ دے دیں اور مجھ پر ایمان نہ لے آئیں ، اور جودین میں لایا ہوں اس پر ایمان نہ لے آئیں۔ جب وہ ایسا كر لیں گے تومجھ سے اپنی جان ومال محفوظ كر لیں گے۔ سوائے اس كے حق كے اور ان كا حساب اللہ كے ذمے ہوگا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1506) سنن الترمذي كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْكَفَافِ وَالصَّبْرِ عَلَيْهِ رقم (2272) .
959
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي صَخْرٍ الْعُقَيْلِيِّ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ قَالَ جَلَبْتُ جَلُوبَةً إِلَى الْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ بَيْعَتِي قُلْتُ لَأَلْقَيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْهُ قَالَ فَتَلَقَّانِي بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشُونَ فَتَبِعْتُهُمْ فِي أَقْفَائهِمْ حَتَّى أَتَوْا عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ نَاشِرًا التَّوْرَاةَ يَقْرَؤُهَا يُعَزِّي بِهَا نَفْسَهُ عَلَى ابْنٍ لَهُ فِي الْمَوْتِ كَأَحْسَنِ الْفِتْيَانِ وَأَجْمَلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْشُدُكَ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ هَلْ تَجِدُ فِي كِتَابِكَ ذَا صِفَتِي وَمَخْرَجِي فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَكَذَا أَيْ لَا فَقَالَ ابْنُهُ أي وَالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ إِنَّا لَنَجِدُ فِي كِتَابِنَا صِفَتَكَ وَمَخْرَجَكَ وَأَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ فَقَالَ: أَقِيمُوا الْيَهُودِيَّ عَنْ أَخِيكُمْ. يَعْنِي: ابْنَ اليَهُوْدِيَّ الذَّي أَسْلَمَ. ثُمَّ وَلِيَ كَفَنَهُ وَحَنَّطَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ. ( )
ابوصخر عقیلی سے مروی ہے كہ مجھے ایك بدونے حدیث بیان كی كہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی زندگی میں ایك دودھیل اونٹنی مدینے لے گیا، میں خرید وفروخت سے فارغ ہوا تومیں نے كہا: میں اس آدمی(محمد صلی اللہ علیہ وسلم )سےضرورملوں گا اوراس كی بات سنوں گا۔آپ مجھےابوبكراورعمر رضی اللہ عنہما كے درمیان ملے، وہ جا رہے تھے ۔ میں ان كے پیچھے پیچھے چل پڑا، وہ ایك یہودی كے پاس پہنچے جوتورات كھولے پڑھ رہا تھا۔ اپنے بیٹے كی موت كے وقت اس کے ذریعے اپنے دل کو تسلی دے رہاتھا ،اس كا بیٹا بہت خوب صورت تھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں تمہیں اس ذات كی قسم دیتا ہوں جس نے تورات نازل كی! كیا تمہیں تورات میں میری صفت اور میرے مبعوث ہونے كا ذكر ملتا ہے؟ اس نے اپنے سر كے اشارے سے جواب دیاکہ نہیں ۔ اس كے بیٹے نے كہا: ہاں اس ذات كی قسم جس نے تورات نازل كی، ہم اپنی كتاب میں آپ كا وصف اور آپ كے مبعوث ہونے كا ذكر پاتے ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئی سچا معبود نہیں اور آپ اللہ كے رسول ہیں۔توآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اپنے بھائی كے پاس سے اس یہودی كواٹھادو۔ یعنی اس یہودی كے بیٹے كے پاس سے جومسلمان ہوگیا تھا( اس كے باپ كواٹھادو) پھر آپ نے اس كے كفن كا انتظام كیا،اسے خوشبولگائی اور اس كی نماز جنازہ پڑھی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (410) صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب الْأَمْرِ بِقِتَالِ النَّاسِ ... رقم (31) .
960
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عن أبي هُرَيْرَة مرفوعا: أَكْثِرُوا من شَهَادَة أَن لَا إِلَه إِلَا الله، قَبل أَن يُحَال بَيْنَكُم وبَيْنَهَا ولَقِّنُوهّا مَوْتَاكُم.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ لاالہ الا اللہ كی گواہی كثرت سے دیا كرواس سے پہلے كہ تمہارے اور اس گواہی كے دمیان كوئی ركاوٹ حائل ہوجائے اور اپنے مُردوں كواس كی تلقین كیا كرو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (467) مسند أبي يعلى الموصلي رقم ( 4 / 1460) .
961
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
) عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَلَا إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللهِ شَيْئا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَسْرِقُوا قَالَ فَمَا أَنَا بِأَشَحَّ عَلَيْهِنَّ مِنِّي إِذْ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم .
سلمہ بن قیس اشجعی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے حجۃ الوداع كے موقع پر فرمایا: خبردار یہ چار چیزیں ہیں: اللہ كے ساتھ كسی كوشریك نہ كرو، اس جان كوقتل نہ كروجسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے سوائے حق كے۔ زنا نہ كرو اور چوری نہ كرو، سَلَمَةَ‌رضی اللہ عنہ نےکہا: جب سے میں نے یہ باتیں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی ہیں میں نے كبھی ان چیزوں پر حرص نہیں كی۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1759) مسند أحمد رقم (18220) .
962
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثُمَّ يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا فَيُقَالُ لَهُ: أَتُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا تَزِيدُ عَلَيْهَا يَا أَبَا إِسْحَاقَ! فَيَقُولُ نَعَمْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ الَّذِي لَا يَنَامُ حَتَّى يُوتِرَ حَازِمٌ.
سعد بن ابی وقاص‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی مسجد میں عشاء كی نماز پڑھا كرتے تھے ۔ پھر ایك وتر پڑھتے، اس سے زیادہ نہ پڑھتے۔ ان سے كہا جاتا: ابواسحاق آپ ایك وتر پڑھتے ہیں، اس سے زیادہ نہیں پڑھتے؟ وہ كہتے ہاں، میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے جوشخص وتر پڑھ كر سوتا ہے وہ دانش مند ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2208) مسند أحمد رقم (1382) .
963
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ عَبْداللهِ بْنِ عَمْرٍو قاَلَ: أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائلٍ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَنْحَرَ مِائةَ بَدَنَةٍ وَأَنَّ هِشَامَ بْنَ الْعَاصِ نَحَرَ حِصَّتَهُ خَمْسِينَ بَدَنَةً وَأَنَّ عَمْرًا سَأَلَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَمَّا أَبُوكَ فَلَوكَانَ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ فَصُمْتَ وَتَصَدَّقْتَ عَنْهُ نَفَعَهُ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ عاص بن وائل نے زمانۂ جاہلیت میں نذر مانی تھی كہ وہ سواونٹنیاں نحر كرے گا۔ ہشام بن عاص نے اپنا حصہ پچاس اونٹنیاں قربان كیں، عمرونے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے اس بارے میں سوال كیا توآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہارے والد اگر توحید كا اقرار كرلیتے اور تم روزے ركھتے اور اپنی طرف سے صدقہ كرتے تواسے نفع پہنچتا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (484) مسند أحمد رقم (6417)
964
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَفِي عُنُقِي صَلِيبٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ يَا عَدِيُّ اطْرَحْ هَذَا الْوَثَنَ وَسَمِعْتُهُ يَقْـرَأُ فِي سُورَةِ بَرَاءَةٌ اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ﴿۳۱﴾ (التوبة: ٣١) (فقلت: إنا لَسْنَا نَعْبُدَهُم) قَالَ أَمَا إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَهُمْ شَيْئاً اسْتَحَلُّوهُ وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ شَيْئاً حَرَّمُوهُ؟ (فَتِلْكَ عِبَادَتُهُمْ).
عدی بن حاتم‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا تومیری گرد ن میں سونے كی ایك صلیب تھی۔ آپ نے فرمایا: اے عدی اس بت كوپھینك دو، اور میں نے آپ کو سورۂ برات كی آیت تلاوت كرتے ہوئے سنا:(التوبة: ٣١) انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں كورب بنا لیا۔ میں نے كہا: ہم ان كی عبادت نہیں كرتے ؟ آپ نے فرمایا: ایسا نہیں كہ وہ ان كی عبادت كرتے ہوں،بلكہ معاملہ اس طرح تھا كہ جب وہ كسی چیز كوحلال كرتے تووہ لوگ بھی اسے حلال سمجھنے لگے اور جب ان پر كسی چیز كوحرام كرتے تووہ بھی اسے حرام سمجھتے (یہ ان كی عبادت ہے)۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3293) سنن الترمذي كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب وَمِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ رقم ( 3020) .
965
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنْ يَسْتَقْبِلُوا قِبْلَتَنَا وَيَأْكُلُوا ذَبِيحَتَنَا وَأَنْ يُصَلُّوا صَلَاتَنَا فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ (فَقَدْ) حُرِّمَتْ عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے حكم دیا گیا ہے كہ لوگوں سے اس وقت تك قتال كروں جب تك وہ اس بات كی گواہی نہ دے دیں كہ لاالہ الا اللہ محمدا عبدہ ورسولہ، (اللہ كے علاوہ كوئی معبودِبرحق نہیں اور محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس كے بندے اور رسول ہیں۔) ہمارے قبلے كی طرف منہ كر كے نماز نہ پڑھ لیں، ہمارا ذبیحہ نہ كھالیں، اور ہماری نماز كی طرح نماز نہ پڑھنے لگ جائیں۔ جب وہ ایسا كر لیں گے توہم پر ان كا خون اور ان كے مال حرام ہوجائیں گے سوائے اس (اسلام) كے حق كے، ان كے لئے وہی حقوق ہوں گے جومسلمانوں كے لئے ہیں اور ان كے ذمے وہی فرائض لاگوہوں گے جومسلمانوں كے ذمے ہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3293) سنن الترمذي كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب وَمِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ رقم ( 3020) .
966
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عن أبي هريرة قَالَ: قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَمِرْتُ أَن أُقَاتِل النَّاس حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَه إِلَا الله، فَمَن قال لَا إِلَه إِلَا الله فَقَد عَصَمَ مِنِّي مَالَه ونَفْسَه إِلَا بِحَقِّه، وحِسَابُه عَلَى الله.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے حكم دیا گیا ہے كہ لوگوں سے اس وقت تك قتال كروں جب تك وہ یہ گواہی نہ دےدیں كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں، توجس شخص نے لا الہ الا اللہ كہا اس نے مجھ سے اپنا خون اور مال محفوظ كر لیا سوائے اس كے حق كے، اور اس كا حساب اللہ كے ذمے ہوگا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (303) سنن الترمذي،كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب مَا جَاءَ فِي قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ أُمِرْتُ بِقِتَالِهِمْ رقم (2533) .
967
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ فَإِذَا فَعَلُوا ذلك عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الإسلام وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ. ( )
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے حكم دیا گیا ہے كہ لوگوں سے قتال كروں حتی كہ وہ گواہی دیں كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں، اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ كے رسول ہیں، اور نماز قائم كریں، زكاۃ ادا كریں۔ جب وہ ایسا كر لیں گے تومجھ سے اپنا خون اور اپنا مال محفوظ كر لیں گے سوائے اس كے حق كے، اور ان كا حساب اللہ كے ذمے ہوگا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (407) الجامع الصغير للسيوطي .
968
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَإِذَا قَالُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ ثُمَّ قَرَأَ: اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ ﴿ؕ۲۱﴾ لَسۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِمُصَۜیۡطِرٍ ﴿ۙ۲۲﴾ (الغاشية).
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے حكم دیا گیا ہے كہ لوگوں سے اس وقت تك قتال كروں جب تك وہ لا الہ الا اللہ نہ كہہ لیں۔ جب وہ لا الہ الا اللہ كہہ لیں گے تومجھ سے اپنا خون اور مال محفوظ كر لیں گے سوائے اس كے حق كے اور ان كا حساب اللہ كے ذمے ہوگا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:(الغاشیة ۲۱،۲۲) آپ صرف یاد دہانی كروانے والے ہیں، آپ ان پر نگران نہیں۔ ( )
Takhreej
الصحيحة رقم (408) صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب الْأَمْرِ بِقِتَالِ النَّاسِ ... رقم (33) .
969
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
) عن جَابِرٍ، أَمَرَنَا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِأَرْبَعٍ، وَنَهَانَا عن خَمْسٍ، إِذَا رَقَدْتَ فَأَغْلِقْ بَابَكَ، وَأَوْكِ سِقَاءَكَ، وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ، وَأَطْفِئ مِصْبَاحَكَ، فَإِن الشَّيْطَان لَا يَفْتَحُ بَابًا، وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً، وَلَا يَكْشِفُ غِطَاءً، وَإِنَّ الْفَأْرَةَ الْفُوَيْسِقَة تُحَرِّقُ عَلَى أَهَل الْبَيْتِ بَيْتَهُم، وَلَا تَأَكُلْ بِشِمَالِكَ، وَلَا تَشْرَبْ بِشِمَالِكَ، وَلَا تَمْشِ في نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، وَلَا تَشْتَمِلْ الصَّمَّاءَ، وَلَا تَحْتَبْ في الإِزَارِ مُفْضِيًا.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ہمیں چار باتوں كا حكم دیا اور پانچ باتوں سے منع كیا۔ (١) جب سونے لگوتواپنادروازہ بند كر لو، (٢) مشكیزے كا منہ بند كردو، (٣) برتن پر كپڑا ڈھانك دو،(٤) اپنا چراغ بجھا دو،كیونكہ شیطان دروازہ نہیں كھولتا،نہ وہ مشكیزہ كھولتا ہے، نہ كپڑا ہٹاتا ہے، اور فاسق چوہیا گھر جلا دیتی ہے۔ (١) اپنے بائیں ہاتھ سے مت كھاؤ،(٢) بائیں ہاتھ سے مت پیو،(٣) ایك جوتے میں نہ چلو،(٤)چادر كو پورے جسم پر نہ لپیٹو،(٥) اور گوٹھ مار كر نہ بیٹھو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (409) صحيح مسلم كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب الْأَمْرِ بِقِتَالِ النَّاسِ ... رقم (2531) .
970
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ عِمْرَانَ بن الْحُصَيْنِ، قَالَ: جَاءَ حُصَيْنٌ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلاً كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَقْرِي الضَّيْفَ مَاتَ قَبْلَكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ. فَمَا مَضَتْ عِشرُون لَيْلَةً حَتَى مَاتَ مُشْرِكاً.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ حصین نبی كریم ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے اور كہا: آپ كا اس شخص كے بارے میں كیا خیال ہے جوصلہ رحمی كرتاتھا ، مہمان نوازی كرتا تھا، آپ سے پہلے مر گیا؟آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میرے اور تمہارے والد آگ میں ہیں۔ ابھی بیس دن ہی گزرے تھے كہ وہ شرك كی حالت میں مر گیا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2974) صحيح ابن حبان رقم (1290) .
971
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ عَائشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ يَأْتِيهِ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ مَنْ خَلَقَكَ فَيَقُولُ اللهُ فَيَقُولُ فَمَنْ خَلَقَ اللهَ فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقْرَأْ آمَنْتُ بِاللهِ وَرُسُلِهِ فَإِنَّ ذَلِكَ يُذْهِبُ عَنْهُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم میں سے كسی شخص كے پاس شیطان آتا ہے اور كہتا ہے: تمہیں كس نے پیدا كیا؟ وہ آدمی كہتا ہے اللہ نے۔ شیطان كہتا ہے: اللہ كوكس نے پیدا كیا؟ ۔ جب ایسی صورتحال ہوتووہ یہ كلمات ادا كرے : آمَنْتُ بِاللهِ وَرُسُلِهِ، میں اللہ اور كے رسولوں پر آیمان لایا۔ اس طرح شیطان اسکے پاس سے بھاگ جائے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2592) المعجم الكبير للطبراني رقم (3472) .
972
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عن حذيفة قَالَ: قَالَ رسولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن أَخْوَفَ ما أَخَافُ عَلَيْكُم رَجُلٌ قَرَأَ القُرْآنَ، حَتَّى إِذَا رُئيَتْ بَهْجَتُه عَلَيه، وَكَانَ رِدْءاً لِلإِسْلَامِ؛ انْسَلَخَ مِنْه ونَبَذَه وَرَاءَ ظَهْرِه، وَسَعَى عَلَى جَارِه بِالسَّيْفِ، وَرَمَاه بِالشِّرْكِ. قُلْتُ: يَا نبيَّ الله! أيُّهُما أَوْلَى بِالشِّرْكِ، الرَّامِي أَوالمَرْمِي؟ قال: بَل الرَّامِي.
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے سب سے زیادہ خوف اس شخص پر ہے جس نے قرآن پڑھا، یہاں تك كہ قرآن كا نور اس شخص كے چہرے پر نظر آنے لگا۔وہ اسلام کا مددگار تھا پھر اس سے نكل گیا اور اسے پس پشت ڈال دیا، تلوار لے كر اپنے پڑوسی كے خلاف چڑھ دوڑا، اور اس پر شرك كی تتہ لگائی گئی، میں نے كہا: اے اللہ كے نبی ان دونوں میں شرك كے زیادہ قریب كون ہے؟ تہمت لگانے والا یا جس پر تہمت لگائی؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تہمت لگانے والا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (116) مسند أحمد رقم (25006) .
973
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عن مَحْمُود بن لَبِيد قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن أَخْوَف ما أَخَاف عَلَيْكُم الشِّرْك الْأَصْغَر، قَالُوا: وما الشِّرْك الْأَصْغَر؟ قال الرِّيَاء، يَقول الله عَزّ وَجَل لِأَصْحَاب ذَلِك يَوم الْقِيَامَة إِذَا جازى النَّاس: اذْهَبُوا إلى الَّذِين كُنْتُم تَرَاءَوْن في الدُّنْيَا، فَانْظُرُوا هَل تَجِدُون عِنْدَهُم جَزَاءً؟
محمود بن لبید سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے تم پر سب سے زیادہ شرك اصغر كا خوف ہے۔ لوگوں نے كہا: اے اللہ كے رسول شرك اصغر كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ریا ءكاری۔ اللہ عزوجل قیامت كے دن لوگوں كوبدلہ دے گاتوریا کاروں سے فرمائے گا: دنیا میں جن لوگوں كودكھایا كرتے تھے ان كے پاس چلے جاؤ،دیكھوكیا تمہیں ان كے پاس كچھ بدلہ ملے گا؟( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3201) صحيح ابن حبان رقم (1/148/ 81) .
974
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ كَعْبًا الْوَفَاةُ دَخلَتْ عليه أُمُّ مُبَشر بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ فَقَالَتْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنْ لَقِيتَ ابني فَاقْرَأْئه مِنِّي السَّلَامَ قَالَ: غَفَرَ اللهُ لَكِ يَا أُمَّ مُبَشر نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذَلِكَ قَالَتْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ بِشَجَرِ الْجَنَّةِ؟ قَالَ بَلَى قَالَتْ: فَهُو ذَاكَ.
کعب بن مالک سے مروی ہے کہتے ہیں کہ جب کعب کی موت کا وقت قریب آیا تو ام مبشر بنت البراء بن معرور ان کے پاس آئیں اور کہا: اے ابوعبدالرحمن اگر تم فلاں شے ملو تو اسے سلام کہنا, کعب نے کہا: ام مبشر اللہ تمہیں معاف کرے ہم تو اس سے زیادہ مصروفیت میں ہیں۔ کہنے لگیں: ابوعبدالرحمن کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے نہیں سنا فرمارہے تھے: مومنین کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹ میں جنت کے درختوں کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا: کیوں نہیں کہنے لگیں: تو یہی بات تو میں کہہ رہی تھی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (951) رواه أحمد ( 5 / 428 و 429 ) .
975
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عن عبداللہ ابن مسعود عن النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: ان الاشلام بدا غریبا وسیعود غریبا کما بدا فطوبی للغرباء۔ قیل: من ھم یا رسول اللہ؟ قال: الذین یصلحون اذا فسد الناس۔
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سےمرفوعا مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہواتھا اور جس طرح اجنبی حالت میں شروع ہوا تھا اسی طرح اجنبی حالت میں واپس لوٹ جائے گا۔ اجنبیوں كے لئے خوش خبری ہو۔ پوچھا گیا: اے اللہ كے رسول یہ كون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب لوگ فساد كریں گےتویہ لوگ اصلاح كریں گے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (995) سنن ابن ماجه كِتَاب مَا جَاءَ فِي الْجَنَائزِ بَاب مَا جَاءَ فِيمَا يُقَالُ عِنْدَ الْمَرِيضِ إِذَا حُضِرَ رقم (1439) .
976
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عن مُجَاهِد، قال: خَرَجْتُ إلى الْعِرَاقِ، وشَيَّعَنَا عبد الله بن عمر، فَلَمَّا فَارقَنَا، قال: إِنّي لَيْس عندي شَيْءٌ أُعْطِيَكُم، وَلَكني سَمِعتُ رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقول: إن اللهَ إِذَا اسْتَوْدِعَ شَيْئاً حَفِظَه، وَإِنِّي أَسْتَوْدِعُ الله دِينَكُم وأمانَتَكُم، وَخَوَاتِيمَ أعَمَالَكُم. ( )
مجاہد سے مروی ہے کہ جب میں ایک شخص کے ساتھ عراق کی طرف نکلا تو عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہا ہمارے ساتھ چلنے لگے۔ جب ہم سے جدا ہونے لگے تو کہنے لگے: میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو تمہیں دوں، لیکن میں نے رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرمارہے تھے: اﷲ تعالیٰ کو جب کوئی چیز سپرد کی جاتی ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے، اور میں تمہارا دین، تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کا خاتمہ اﷲ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔ ( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1273) السنن الواردة في الفتن لأبي عمر ( 25 / 1 ) .
977
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَكِيمِ (بن حزام) عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدٍ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ.
معاویہ بن حكیم(بن حزام)اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:اللہ تبارك وتعالیٰ اس بندے كی توبہ قبول نہیں فرماتا جو اسلام لانے كے بعد كفر كرتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2574) صحيح ابن حبان رقم (2748) .
978
Sahih