ابوہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارك وتعالیٰ فرماتا ہے ،جس نے میرے دوست سےدشمنی كی میں نے اس سے اعلان جنگ كردیا ہے، اور میرا بندہ جتنا میرے عائد كردہ فرض كی ادائیگی كر كے میرے قریب ہوتا ہے كسی اور چیز سے نہیں ہوتا۔ اور میرا بندہ نوافل كے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے ، یہاں تك كہ میں اس سے محبت كرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت كرتا ہوں تومیں اس كا كان ہوجاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے، اور اس كی آنكھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیكھتا ہے، اور اس كا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس كے ذریعے وہ پكڑتا ہے، اور اس كا پاؤں بن جاتا ہے جس كے ذریعے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے سوال كرے تومیں اسے ضرور دیتا ہوں، اگر مجھ سے پناہ مانگے تومیں اسے پناہ دیتا ہوں، اورمیں جوكام كرتاہوں اس میں تردد نہیں كرتا لیكن مومن كی روح قبض كرتے ہوئے مجھے تردد ہوتا ہے۔ وہ موت كوناپسند كرتا ہے اور میں اس كی تكلیف كوناپسند كرتا ہوں۔( )
عن يُونس بن مَيْسَرَة بن حَلْبَس قال: دَخَلْنَا عَلَى يَزيد بن الْأَسْوَد، فَدَخَلَ عَلَيه وَاثِلَةُ، فَلَمَا نَظَرَ إِلَيْه مَـدَّ يَدَه، فَأَخَذَ بِيَدهِ فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَه وَصَدْرَه، لَأَنَّه بَايَع بِهَا رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَال لَه: يَا يَزيد كَيْف ظَنُّكَ بِرَبِّكَ؟ قال: حَسَنٌ. قال: فَأَبْشِر، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقولُ: إِن الله تَعَالَى يَقُولُ: أَنا عِنْدَ ظَنّ عَبْدِي بِي، إِنْ خَيْرًا فَخَيْرٌ، وَإِنْ شَرًّا فَشَرٌّ.
یونس بن میسرہ بن حلبس نے كہا كہ ہم یزید بن اسود كے پاس آئے۔ اتنے میں واثلہ بھی آگئے، جب انہوں نے ان كی طرف دیكھا تواپنا ہاتھ آگے كیا۔ انہوں نے ان كا ہاتھ پكڑا اور اسے اپنے چہرے اور سینے پر لگایا ،كیونكہ انہوں نے اس ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی بیعت كی تھی۔ واثلہ نے كہا: یزید تم اپنے رب كے بارے میں كس طرح كا گمان ركھتے ہو؟انہوں نے كہا: اچھا گمان ركھتا ہوں۔ واثلہ نے كہا: خوش ہوجاؤ كیونكہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے كے گمان كے مطابق ہوتا ہوں ۔اگر اچھا گمان ركھے تواچھا اور اگر برا گمان ركھے توبرا۔( )
Takhreej
حيحة رقم (1640) صحيح البخاري كِتَاب الرِّقَاقِ بَاب التَّوَاضُعِ رقم (6021) .
عن مِحْجَن بن الْأَدْرَع أَن رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بَلَغَه أَن رَجُلًا في الْمَسْجِد يُطِيلُ الصَّلَاةَ، فَأَتَاه فَأَخَذَ بِمَنْكَبِه ثم قال: إِن الله رَضِي لِهَذِه الْأُمَةِ الْيُسْرَ وكَرِهَ لَهم الْعُسْرَ، (قَالَهَا ثَلَاث مَرَّات) وإِنَّ هَذا أَخَذَ بالعُسْرِ وتَرَكَ الْيُسْرَ.
محجن بن ادرع سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تك یہ بات پہنچی كہ مسجد میں ایك آدمی لمبی نماز پڑھاتا ہے۔ آپ اس كے پاس آئے اور اس كے كاندھے سے پكڑا پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس امت كے لئے آسانی كوپسند كیا ہے اورتنگی كونا پسند كیا ہے( آپ نےیہ بات تین مرتبہ فرمائی) اور اس شخص نے تنگی كواختیار كیا ہے اور آسانی كوچھوڑ دیا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1635) رواه الواحدي في الوسيط (1/66/1) .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل فرمائیں:(المائدة44)اور (المائدة45)اور (المائدة47)اور جولوگ اللہ تعالیٰ كی نازل كردہ شریعت كے مطابق فیصلہ نہیں كرتے یہی لوگ كافر ہیں اور یہی لوگ ظالم ہیں اور یہی لوگ فاسق ہیں“۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت یہودیوں كے دوگروہوں كے بارے میں نازل فرمائی،زمانۂ جاہلیت میں ان میں سے ایك گروہ نے دوسرے پر ظلم كیا، پھر اس شرط پر راضی ہوئے اور صلح كی كہ ہر مقتول كے بدلے جسے(طاقتور قبیلےنے كمزورقبیلے سے )قتل كیا ہوگا پچاس وسق ہوں گے، اور ہر وہ مقتول (جسے كمزورقبیلے نے طاقتور قبیلےسے) قتل كیا ہوگا سووسق ہوں گے۔ یہ لوگ اسی معاہدے پر قائم تھے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آگئے۔ دونوں گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے آنے كی وجہ سےکمزور (ذلیل)ہوگئے اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ ان كے سامنے آئے اور نہ ان كی صلح پر كوئی بات كی۔ وہ معاہدے پر تھے كہ(كمزورقبیلےنے،طاقتورقبیلے كا) ایك شخص قتل كر دیا(طاقتورقبیلے نے، كمزورقبیلےكی) طرف پیغام بھیجا كہ ہمیں سووسق بھیجو۔ (كمزور) كہنے لگے: یہ دوقبیلوں كے درمیان كبھی بھی نہیں ہوسكتا جن كا دین ایك ہو، ان كا نسب ایك ہو، ان كا شہر ایك ہو، ایك قبیلے کی دیت دوسرے قبیلے كی دیت سے آدھی ہو؟ پہلے ہم نے تمہیں وہ دیت تمہاری بخیلی كی وجہ سے اور تم سے ڈرتے ہوئے دی ۔ اب جبكہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگئے ہیں توہم تمہیں یہ دیت نہیں دیں گے ۔ قریب تھا كہ جنگ بھڑك اٹھتی کہ وہ اس بات پر راضی ہوگئے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كوثالث بنالیں۔ پھر(طاقتور قبیلہ) كہنے لگا: اللہ كی قسم محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) توتمہیں اس سے دوگنا نہیں دیں گے، جوتم ان كودیتے ہو۔ انہوں نے بھی سچ كہا ہے كہ وہ ہمیں دوگنا ہماری بخیلی اور طاقت كی وجہ سے دیتے تھے۔ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) كی طرف كوئی آدمی بھیجوجوان كی رائے لے كر آئے۔ اگر جوتم چاہتے ہووہ تمہیں دے دے توتم اس سے فیصلہ كروالو، اور اگر تمہیں تمہارا حصہ نہ دے تواس سے فیصلہ مت كرواؤ۔ انہوں نے كچھ منافق لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی طرف بھیجے،تاكہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی رائے جان سكیں۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئے تواللہ تعالیٰ نے اپنے رسول كوان كے سارے معاملے اور جوچاہتے تھے سب بتا دیا۔ اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل كیں:(المائدة) عبداللہ بن عباس نے كہا: واللہ ان دونوں قبیلوں كے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور ان دونوں كے بارے میں اللہ عزوجل نے سمجھایا۔( )
ابوہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ اللہ عزوجل دوآدمیوں كودیكھ كر مسكراتا ہے ۔ ان میں سے ایك شخص دوسرے شخص كوقتل كر دیتاہے، اللہ تعالیٰ ان دونوں كوجنت میں داخل كر دیتاہے۔ ایك شخص كافر ہے وہ دوسرے كوقتل كردیتا ہے ۔ پھر مسلمان ہوجاتا ہے، اور اللہ كے راستے میں جہاد كرتا ہوا شہید ہوجاتاہے۔( )
ابوہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت كے لئے ہر سوسال كے سرے پر اس شخص كو پیدا كر ے گا جوان كے لئے ان كے دین كی تجدید كرے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (599) سنن أبي داؤد كِتَاب الْمَلَاحِمِ بَاب مَا يُذْكَرُ فِي قَرْنِ الْمِائةِ رقم (3740) .
عن الضَّحَّاك بن قيس قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الله يَقول: أَنا خَيْر شَريك، فَمَن أَشْرَك بِي أَحَدًا فَهُو لشريكي يَا أَيَّهَا النَّاس أَخْلِصُوا الْأَعْمَال لِلهِ، فَإِن الله عَزّ وَجَل لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَل إِلَا ما خَلَص لَه، ولاتقولوا: هذا لِلهِ ولِلرَّحِم ولَيْس لِلهِ مِنْه شَيْءٌ! ولَا تَقُولُوا: هذا لِلهِ ولِوُجُوهِكُمْ، فَإِنَّه لِوُجُوهِكُم، ولَيْس لِلهِ مِنْه شَيْءٌ.
ضحاك بن قیس سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ فرماتاہےجس نے میرےساتھ كسی كوشریك كیا وہ میرے شریك كے لئے ہے۔ اے لوگو! اللہ كے لئے اعمال خالص كرو، كیونكہ اللہ عزوجل صرف خالص عمل قبول كرتا ہے اور یہ نہ كہو: یہ اللہ كیلئے اوریہ رشتے داروں كے لئے(صلہ رحمی كے لئے)ہےاس میں سے كوئی بھی چیز اللہ كےلئےنہیں اوریہ نہ كہویہ اللہ كیلئےہےاوریہ تمہارے معززلوگوں كے لئے۔ وہ تمہارے معززلوگوں كے لئے ہوگا اللہ كے لئے اس میں سے كوئی بھی چیز نہیں ۔( )
عن عبد الله بن عَمَرٍو بن الْعاص، قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الْإِيمَان ليَخْلَقُ في جَوْفِ أَحَدِكُم كَمَا يَخْلَق الثَّوْبُ، فَاسْأَلُوا الله أَن يُجَدِّد الْإِيمَانَ في قُلُوبُكُم.
عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان تمہارے پیٹ (دل)میں اس طرح خراب ہوتارہتا ہے جس طرح كپڑا بوسیدہ ہوجاتا ہے ۔ اس لئے اللہ سے سوال كروكہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان كی تجدید كرتا رہے۔( )
عن ابن عمر رضي الله عنهما: أَن رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال: إِن أَوَّل شَيْءٍ خَلَقَه الله الْقَلَمَ، فَأَخَذَه بِيَمِينِه وَكِلْتَا يَدَيْه يَمِينٌ قال: فَكَتَبَ الدُّنْيَا وَمَا يَكُون فِيهَا من عَمَلٍ مَعْمُولٍ، بِرٌّ أَوفُجُورٌ، رَطْـبٌ أَويابسٌ، فَأَحْصَـاه في الذِكْر، ثم قال: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ:ہٰذَا کِتبُنَااٰا یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(الجاثية) فَـهَـل تَكُونُ النَسْخَة إِلَا من أَمْرٍ قَد فُرِّغَ مِنْه.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلی چیز جواللہ تعالیٰ نے پیدا كی وہ قلم ہے ،اللہ نے اس کودائیں ہاتھ میں پکڑا اور اللہ كے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔ فرمایا:اس قلم نے دنیا اور جوكچھ دنیا میں عمل ہوناہے نیك یا بد،تر یا خشك لكھ دیا۔ اللہ نے اسے اپنے پاس ذكر میں محفوظ كر لیا، پھر فرمایا: اگر تم چاہوتویہ آیت پڑھ سكتے ہو: (الجاثية :۲۹) یہ ہماری كتاب ہے جوتمہارے خلاف سچائی كے ساتھ بولے گی، یقینا ہم تمہارے اعمال لكھا كرتے تھے نسخ(نقل كرنا) اسی وقت ہوتا ہے جب لکھنے کے کام سے فراغت ہوچکی ہو۔( )
سلیمان بن یسار سے مروی ہے كہ جب لوگ ابوہریرہرضی اللہ عنہ كے پاس سے منتشر ہوگئے ان سے اہل شام نے كہا: یا شیخ ہمیں كوئی حدیث بیان كیجئے، جوآپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ ابوہریرہرضی اللہ عنہ نے كہا: ہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: سب سے پہلا شخص جس كے خلاف قیامت كے دن فیصلہ كیا جائے گا، وہ شخص ہوگا جسے(دنیامیں)شہید سمجھا جاتا ہوگا۔ اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں گنوائے گا وہ ان كا اعتراف كرے گا۔ اللہ فرمائے گا: ان كے بدلے تم نے كیا كیا؟ وہ كہے گا میں شہید ہونے تك تیرے راستے میں قتال كر تا رہا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: توجھوٹ بولتا ہے، تم نے تواس لئے قتال كیا تاكہ تمہیں بہادر كہا جائے، اور یہ بات دنیا میں كہہ دی گئی۔ پھر اس كے بارے میں حكم دیا جائے گا تواسے منہ كے بل گھسیٹ كر جہنم میں پھینك دیا جائے گا۔ دوسرا وہ شخص ہوگا جس نے علم(دین) سیكھا اور سكھایا ہوگا، اور قرآن پڑھا ہوگا اسے لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں گنوائے گا اور كا اعتراف كرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تونے ان كے بدلے كیا عمل كیا ؟ وہ كہے گا: میں نے علم سیكھا اور سكھایا اور تیرے لئے قرآن پڑھتا رہا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: توجھوٹ بولتا ہے تم نے توعلم اس لئے سكھاا تاكہ تمہیں عالم كہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا تاكہ تمہیں قاری كہا جائے۔ تویہ بات دنیامیں كہہ دی گئی ۔ پھر اس كے بارے میں حكم دیا جائے گا تواسے گھسیٹ كر منہ كے بل جہنم میں پھینك دیا جائے گا۔ اور تیسرا وہ شخص ہوگا جسے اللہ تعالیٰ نے مال ودولت كی فراوانی دی ہوگی اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں گنوائے گا وہ ان كا اعتراف كرے گا ۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تونے ان كے بدلے كیا كیا؟ وہ كہے گا: میں نے تیرے ہر اس راستے میں خرچ كیا جس میں توچاہتا تھا كہ خرچ كیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: توجھوٹ بولتا ہے، تونے تویہ كام اس لئے كیا تھا، تاكہ تجھے سخی كہا جائے اور یہ بات دنیا میں كہہ دی گئی ہے۔پھر اس كے بارے میں حكم دیا جائے گا تواسے بھی گھسیٹ كر جہنم میں پھینك دیا جائے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3518) صحيح مسلم كِتَاب الْإِمَارَةِ بَاب مَنْ قَاتَلَ لِلرِّيَاءِ...رقم (3527) .
یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمن سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ہم عبداللہ بن عمر سے ملے اور ان سے تقدیر كا ذكر كیا اورجوکچھ لوگ اس بارے میں كہتے تھے،انہوں نے كہا: ایك مزنی یا جہنی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (تقدیر كے بارے میں )سوال كیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ہم كس میں عمل كریں؟ كیا اس چیز میں جوگزر چكی ہے یا اس میں جوابھی موجود ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس چیز میں جوگزر چكی ہے۔ اس آدمی یا بعض لوگوں نے كہا: پھر عمل کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنتی لوگوں کیلئے جنتیوں والے عمل آسان کردئے گئےاور جہنمی لوگوں کیلئے جہنمیوں والے عمل آسان کردئے گئے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3521) سنن أبي داؤد كِتَاب السُّنَّةِ بَاب فِي الْقَدَرِ رقم (4075) .
عن أبي هُرَيْرَة، قال: مَرُّوا عَلَى رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِجَنَازَة فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَال: وَجَبتْ ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا شَرًّا، فَقَال: وَجَبَتْ ثم قَال: إِن بَعْضَكُم عَلَى بَعْضٍ شُهَدَاء.
ابوہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس سے ایك جنازہ گزرا تولوگوں نے اس کی تعریف كی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: واجب ہوگئی۔پھر ایك دوسرا جنازہ گزرا تولوگوں نے اس كی برائی كی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہوگئی، پھر فرمایا: تم ایك دوسرے پر گواہ ہو۔( )
نعمان بن بشیررضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو غار كا ذكر كرتے ہوئے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تین آدمی غار میں تھے كہ غار كے دہانے پر ایك پتھر گرا اور دروازہ بند كر دیا۔ ان میں سے ایك نے كہا: یاد كروكہ تم نے كونسا نیك عمل كیا ہے، شاید كہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہم پر رحم فرمائے،ان میں سے ایك آدمی نے كہا: میرے كچھ مزدور تھے جوكام كیا كرتے تھے، میرے كچھ مزدور آئے،میں نے ان سے ایك مناسب معاوضہ طے كر لیا، ایك دن ایك آدمی میرے پاس دوپہر كے وقت آیا میں نے دوسرے مزدوروں كا نصف معاوضہ اس سے طے كر لیا۔ اس نے باقی دن میں اتنا كام كیا جتنا دوسرے مزدوروں نے پورے دن میں كیا تھا ۔میری سمجھ میں یہ بات آئی كہ جتنا میں اس كے ساتھیوں کومعاوضہ دوں اس میں سے اسے كم كر كے نہ دوں كیونكہ اس نے محنت زیادہ كی تھی۔ ان میں سے ایك آدمی نے كہا: كیا تم اسے بھی اتنا دوگے جتنا ہمیں دے رہے ہو؟ اس نے توصرف آدھا دن كام كیا ہے؟ میں نے كہا: اے اللہ كے بندے میں نے تمہارے معاوضے میں سے كچھ بھی كم نہیں كیا، یہ میرا مال ہے جیسا میرا جی چاہے گا كروں گا۔ وہ غصے ہوگیا اور اپنے مزدوری چھوڑ كر چلا گیا، جب تك اللہ نے چاہا، میں نے اس كی مزدوری گھر میں ایك طرف ركھ دی۔،پھر ایك گائے میرے پاس سے گزری تومیں نے گائےکا ایك بچھڑا خرید لیا۔ جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا اس میں بركت دی، كافی وقت كے بعد ایك بوڑھا شخص میرے پاس سے گزرا جسے میں نہیں جانتا تھا كہنے لگا: تمہارے پاس میرا حق ہے۔ اس نے مجھے یاد دلایا مجھے یاد آگیا۔ میں نے كہا: میں توتمہیں تلاش كر رہا تھا۔ یہ تمہارا حق ہے، میں نے سارا ریوڑ اسے دے دیا، اس نے كہا: اے اللہ كے بندے مجھ سے مذاق مت كرو، اگر تم مجھ پر صدقہ نہیں كر سكتے توكم از كم میرا حق تومجھے دے دو۔ میں نے كہا: اللہ كی قسم میں تم سے مذاق نہیں كر رہا، یہ تمہارا حق ہے، اس میں میرا كچھ بھی نہیں اور سارا مال اسے دے دیا۔ اے اللہ اگر میں نے یہ كام تیری خوشنودی كے لئے كیا تھا توہمیں اس مصیبت سے نكال دے۔ پتھر تھوڑا سا كھسك گیا،ا تنا كہ اس میں سے باہر نظر آنے لگا، دوسرے شخص نے كہا: میں نے بھی ایك مرتبہ ایك نیكی كی تھی، میرے پاس كافی دولت تھی، لوگوں كوقحط كی سختی آئی توایك عورت میرے پاس آئی اور مجھ سے مدد مانگی، میں نے كہا: تمہاری مدد اسی وقت كر سكتا ہوں، جب تم اپنا آپ مجھے دےدوگی؟ اس نے انكار كر دیا اور چلی گئی ۔ كچھ وقت كے بعد وہ پھر آئی اور مجھے اللہ كی یاد دلائی میں نے كہا: واللہ یہ مدد اس وقت ہوگی جب تم اپنا آپ مجھے دے دوگی، اور بس اس طرح میں نے انكار كر دیا۔ اس نے بھی انكار كر دیا اور چلی گئی۔ اس نے اپنے شوہر سے اس بات كا تذكرہ كیا تواس نے كہا: اپنا آپ اسے دے دواور اپنے بچوں كا پیٹ بھرو۔ وہ میرے پاس واپس آئی اور مجھے اللہ كا واسطہ دیا میں نے انكار كر دیا اور كہا تمہارے نفس کے بدلے میں مدد كروں گا جب اس نے دیكھا كہ كوئی چارہ نہیں توخود كومیرےسپرد كردیا۔ جب میں نے اس كا كپڑا اٹھایا اور ملنے كا ارادہ كیا تومیرے نیچے سے تڑپ كر نكل گئی، میں نے كہا: تمہیں كیا ہوا؟ كہنے لگی میں اللہ رب العالمین سے ڈرتی ہوں۔ میں نے اس سے كہا: تم بھوك میں اس سے ڈرتی ہواور میں اس سے خوشحالی میں نہیں ڈرتا۔ میں نے اسے چھوڑ دیااور اس كا جوكپڑا ہٹایا تھا اس كے بدلے جوحق اس كابنتا تھا اسے دیدیا۔ اے اللہ اگر میں نے یہ كام تیری رضامندی كے لئے كیا تھا توہمیں اس مصیبت سے نكال دے ۔ پتھر كچھ اور ہٹ گیا۔ اتنا كہ وہ باہر جھانك كر دیكھ سكتے ۔ تیسرے آدمی نے كہا: میں نے بھی ایك نیكی كی ہے،میرے بوڑھے والدین تھے اور میں بكریاں چراتا تھا۔ میں اپنے والدین كوكھانا كھلاتا اور دودھ پلاتا، پھر اپنی بكریوں كی طرف آتا، ایك دن بارش ہوئی جس كی وجہ سے مجھے دیر ہوگئی اور شام دیر سے گھر پہنچا،میں نے دودھ كا برتن لیا اور دودھ نكالنے لگا، دودھ نكال كر اپنے والدین كی طرف گیا تووہ سوچكے تھے۔ میں نے انہیں جگانا مناسب نہیں سمجھا۔ اور یہ بھی مناسب نہیں سمجھا كہ اپنی بكریوں كوچھوڑ دوں، میں بیٹھارہا دودھ كا برتن میرے ہاتھ میں تھا۔ جب صبح ہوئی تومیں نے ان دونوں كودودھ پلایا۔ اے اللہ اگرمیں نے یہ عمل تیری رضا مندی كے لئے كیا تھا توہمیں اس مصیبت سے نكال دے۔ نعمان كہتے ہیں گویا كہ یہ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رہا ہوں۔ پہاڑ ہلا اورپتھر لڑھك گیا، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس مصیبت سے نجات دلائی اور وہ باہر نكل آئے۔( )
عن أَنس أَن رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال: إن الدَجَّالَ يَطْوِي الارْضَ كُلَّهَا إِلَا مَكَّة وَالْمَدِينَة، قال: فَيَأْتِي الْمَدِيَنَة فَيَجِدُ بِكُلِّ نَقْبٍ من أَنْقَابِهَا صُفُوفًا من الْمَلَائكَة، فَيَأْتِي سَبَخَة الْجُرْفِ فَيَضْرِبُ رُوَاقَه ثم تَرْجُفُ الْمَدِيَنَة ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْه كُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَةٍ.
) انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال ساری زمین میں پھرے گا، سوائے مكہ مدینہ كے ۔ وہ مدینے كے پاس آئے گا تومدینے كے ہر راستے پر فرشتوں كی صفیں پائے گا۔ وہ دلدلی علاقے كے مقام پر آئے گا اوراپنا سینگ مارے گاپھر مدینہ تین مرتبہ ہلے گا اس وقت ہر منافق اور منافقہ اس كی طرف چلے جائیں گے۔( )
ابوسعید زرقی سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل كے بارے میں سوال كیا ۔ كہنے لگا میری بیوی میرے بچے كودودھ پلا رہی ہے۔ مجھے ابھی اس كا حاملہ ہونا پسند نہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحم میں جومقدر كر دیا گیا وہ ہوكر رہے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1032) سنن النسائي كِتَاب النِّكَاحِ بَاب الْعَزْلِ رقم (3276) .
عن قيس بن السَّكَن الْأَسَدِيّ، قال: دَخَل عبد الله بن مَسْعَود رضی اللہ عنہ عَلَى امْرَأَةٍ فَرَأَى عَلَيْهَا حِرْزًا من اَلْحُمْرَة فَقَطَعَه قَطَعًا عَنِيفًا ثم قال: إِن آل عبد الله عن الشِّرْكِ أَغْنِيَاءَ وَقَال: كَان مِمَّا حَفِظْنَا عن النَّبِي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَن الرُّقَى وَالتَّمَائم وَالتِّوَلَة مِنَ الشِّرْكِ.
قیس بن سكن اسدی سے مروی ہے كہ عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ اپنی بیوی كے پاس آئے۔ توبخار سے بچاؤ كے لئے اس كے ہاتھ میں دھاگا بندھا ہوا دیكھا۔ انہوں نے سختی سے اسے كاٹ دیا۔پھر كہا: عبداللہ كے گھر والے شرك سے بری ہیں، اور كہنے لگے:ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جوبات یاد كی ہے وہ یہ ہے كہ (شركیہ) دم، تعویذ اورجادوشرك ہیں۔( )
عن أَبَى هُرَيْرَة قال: ثَلَاثٌ سَمِعْتُهُنّ لِبَنِى تَمِيمٍ مِنْ رَسُولِ الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَا اُبْغِضُ بَنِى تَمِيمٍ بَعْدَهُنّ اَبَداً كَان عَلَى عَائشَة رِضى الله عَنْهَا نَذْرُ مُحَرَّر مِنْ وُلْدِ اسمعيل فَسَبى سَبىٌ مِن بَني العَنْبَر فَلَمَا جئ بِذَلِك السَبْىِ قال لَهَا رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سَرَّكِ اَنْ تَفِى بِنَذْرِكِ فَأَعْتِقِي مُحَرَّرًا من هَؤُلَاء وقال: فَجَعَلَهُم من وُلْدِ اسمعيل، وجئ بنِعَمِ من نِعَم الصَّدَقَة فَلَمَا رَآه راعَه حُسْنَه قال فَقَال هذا نِعَم قَوْمِي فَجَعَلَهُم قَوْمَه، قال وَقَال هُم اشدُّ قِتَالًا في الْمَلَاحِم.
ابوہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بنی تمیم کے بارے میں تین باتیں سنیں ،اس كے بعد میں نے كبھی بھی بنی تمیم سے بغض نہیں ركھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اولاد اسماعیل سے ایك غلام آزاد كرنے كی نذر تھی۔ بنی عنبر كے كچھ قیدی لائے گئے۔ تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے كہا: اگر تم اپنی نذر پوری كرنا چاہوتوكرلو۔ ان میں سے ایك غلام آزاد كردو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اولاد اسماعیل سے شمار كیا۔ صدقے كے اونٹ آئے ۔جب آپ نے وہ اونٹ دیكھے توان كی خوبصورتی آپ كوپسند آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میری قوم كے اونٹ ہیں۔ آپ نے انہیں اپنی قوم كہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ جنگوں میں بے تحاشہ لڑتے ہیں۔( )
) ابوہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان اس بات سے نا امید ہوچكا ہے كہ تمہاری اس زمین میں اس كی عبادت كی جائے۔ لیكن وہ اس بات سے راضی ہےکہ تم دوسروں كوحقیر سمجھتے ہو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2635) صحيح مسلم كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ بَاب تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ ... رقم (5030) .