TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان - ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان - Book 5 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 5 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 256 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

256 Hadith · 1 Chapters
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْداللهِ الْأَنْصَارِيِّ مَرْفُوْعاً: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ.
جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: شیطان اس بات سے ناامید ہوچكا ہے كہ جزیرۃ العرب میں نمازی اس كی عبادت كریں،لیكن وہ انہیں آپس میں بھڑكاتا رہتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1068)
999
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ سَبْرَةَ بْنِ أَبِي فَاكِهٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ الشَّيْطَانَ قَعَدَ لِابْنِ آدَمَ بِأَطْرُقِهِ فَقَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ: تُسْلِمُ وَتَذَرُ دِينَكَ وَدِينَ آبَائكَ وَآبَاءِ أَبِيكَ؟ فَعَصَاهُ فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ: تُهَاجِرُ وَتَدَعُ أَرْضَكَ وَسَمَاءَكَ؟ وَإِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَاجِرِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي الطِّوَلِ فَعَصَاهُ فَهَاجَرَ ثُمَّ قَعَدَ لَهُ بِطَرِيقِ الْجِهَادِ فَقَالَ: تُجَاهِدُ فَهُو جَهْدُ النَّفْسِ وَالْمَالِ فَتُقَاتِلُ فَتُقْتَلُ فَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ وَيُقْسَمُ الْمَالُ فَعَصَاهُ فَجَاهَدَ فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ قُتِلَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَإِنْ غَرِقَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَووَقَصَتْهُ دَابَّتُهُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ.
) مسہرہ بن ابی فاكہہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: شیطان ابن آدم كے لئے اس كے راستوں میں بیٹھتا ہے، وہ اس كے لئے اسلام كے راستے میں بیٹھتا ہے اور كہتا ہے تم اسلام قبول كروگے اور اپنے آباء واجداد كا دین چھوڑ دوگے؟ وہ آدمی شیطان كی بات نہیں مانتا اور اسلام قبول كر لیتا ہے۔ پھر وہ اس كے لئے ہجرت كے راستے میں بیٹھتا ہے اور كہتا ہے تم ہجرت كروگے، اپنی زمین اپنا آسمان چھوڑدوگے؟ ہجرت كرنے والے كی مثال تواس گھوڑے كی طرح ہے جورسی سے بندھا ادھر ادھر بھاگ رہا ہوتا ہے؟ وہ اس كی بات نہیں مانتا اور ہجرت كر لیتا ہے۔پھر وہ اس كے لئے جہاد كے راستے میں بیٹھتا ہے اور كہتا ہے تم جہاد كروگے جوكہ جان اور مال كا جہاد ہے ؟ تم قتال كروگے توتمہیں قتل كر دیا جائے گا۔ تمہاری بیوی سے كوئی دوسرا شخص نكاح كر لے گا۔تمہارا مال تقسیم ہوجائے گا، وہ اس كی بات نہیں مانتا اور جہاد كرتاہے ۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص نے ایسا كیا اللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جنت میں داخل فرمائے، اور جوشخص قتل كر دیا گیا اللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جنت میں داخل كرے۔ اگر وہ ڈوب جائے تواللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جنت میں داخل كرے،یا اس كی سواری اسے گرا كر ہلاك كر دے تواللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جنت میں داخل كر ے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2979) سنن النسائي،كِتَاب الْجِهَادِ،باب مَا لِمَنْ أَسْلَمَ وَهَاجَرَ وَجَاهَدَ رقم (3083) .
1000
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ ذَكَرُوا الشُّؤْمَ عِنْدَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ فَفِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ لوگوں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس نحوست كا تذكرہ كیا توآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر كسی چیز میں نحوست ہوتی تو،گھر میں،عورت میں اور گھوڑے میں ہوتی۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (799) صحيح البخاري،كِتَاب النِّكَاحِ،بَاب مَا يُتَّقَى مِنْ شُؤْمِ الْمَرْأَةِ ... رقم (4724)
1001
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ طُفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا قَالَ: أَنَّهُ رَأَى فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّهُ مَرَّ بِرَهْطٍ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ الْيَهُودُ قَالَ: إِنَّكُمْ أَنْتُمْ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ عُزَيْرا ابْنُ اللهِ فَقَالَتْ الْيَهُودُ: وَأَنْتُمْ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ! ثُمَّ مَرَّ بِرَهْطٍ مِنْ النَّصَارَى فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ النَّصَارَى فَقَالَ: إِنَّكُمْ أَنْتُمْ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ الْمَسِيحُ ابْنُ الهَِ قَالُوا: وَإِنَّكُمْ أَنْتُمْ الْقَوْمُ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللهُ وَمَا شَاءَ مُحَمَّدٌ! فَلَمَّا أَصْبَحَ أَخْبَرَ بِهَا مَنْ أَخْبَرَ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: هَلْ أَخْبَرْتَ بِهَا أَحَدًا؟ قَالَ: نَعَمْ فَلَمَّا صَلَّوْا خَطَبَهُمْ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ طُفَيْلًا رَأَى رُؤْيَا فَأَخْبَرَ بِهَا مَنْ أَخْبَرَ مِنْكُمْ وَإِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَقُولُونَ كَلِمَةً كَانَ يَمْنُعُنِي الْحَيَاءُ مِنْكُمْ أَنْ أَنْهَاكُمْ عَنْهَا قَالَ: لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللهُ وَمَا شَاءَ مُحَمَّدٌ.
طفیل بن سخبرہ رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا كے اخیافی بھائی سے مروی ہے كہ انہوں نے ایك خواب دیكھا گویا كہ وہ یہودیوں كے ایك گروہ كے پاس سے گزرے ہیں۔طفیل نے كہا: تم كون ہو؟ كہنے لگے ہم یہودی ہیں۔ طفیل نے كہا: تم ہی وہ لوگ ہو اگر تم عزیر علیہ السلام كو اللہ كا بیٹا نہ با تے(تو كتنا بہتر ہوتا)۔ یہود نے كہا: تم ہی وہ لوگ ہو جو یہ كہتے كہ جو اللہ نے چاہا اور جو محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )نے چاہا( تو كتنا اچھا ہوتا)۔ پھر طفیل عیسائیوں كے ایك گروہ كے پاس سے گزرے ۔طفیل نے كہا: تم كون ہو؟ كہنے لگے: ہم عیسائی ہیں۔ طفیل نے كہا: تم ہی وہ لوگ ہو جو یہ نہ كہتے كہ مسیح اللہ كے بیٹے ہیں( تو كتنا اچھا ہوتا)۔ كہنے لگے: تم وہ لوگ ہو اگر تم یہ نہ كہتے جو اللہ نے چاہا اور جو محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )نے چاہا( تو كتنا اچھا ہوتا)۔ جب صبح ہوئی تو طفیل نے كسی شخص كو بتایا۔ پھر نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے اور آپ كواپنا خواب بیان کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا تم نے كسی اور كو بتایا ہے؟ طفیل نے كہا : جی ہاں، جب لوگوں نے نماز پڑھ لی تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے انہیں خطبہ ارشاد فرمایا:اللہ كی حمد و ثنا كی پھر فرمایا: طفیل نے ایك خواب دیكھا ہے اس نے تم میں سے كسی شخص کو بتایا بھی ہے۔ تم ایك ایسی بات كہتے ہو كہ مجھے حیا روكتی تھی كہ میں تمہیں اس سے منع كروں۔ اس طرح نہ كہا كرو: جو اللہ نے چاہا اور جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )نے چاہا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1689) صحيح مسلم كِتَاب الْقَدَرِ بَاب تَصْرِيفِ اللَّهِ تَعَالَى الْقُلُوبَ كَيْفَ شَاءَ رقم (4798)
1002
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: إِنَّ الْعَيْنَ لَتُولِعُ بِالرَّجُلِ بِإِذْنِ اللهِ حَتَّى يَصْعَدَ حَالِقًا ثُمَّ يَتَرَدَّى مِنْهُ.
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےآنکھ بھی اللہ کے حکم سےآدمی سے جھوٹ بولتی ہےحتی کہ وہ پہاڑکی چوٹی پرچڑھ جاتا ہےپھر اس سے نیچے گرجاتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3438) مسند البزار رقم (2841)
1003
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
أَنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا) فعن أسماء أنها قالت للحجاج: أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَدَّثَنَا أَنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا؟ فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَرَأَيْنَاهُ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا اَخَالُكَ إِلَّا إِيَّاهُ. ( )
(بنو ثقیف میں ایك کذا ب اورسفاک شخص ہوگا۔)اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ انہوں نے حجاج سے كہا: ہمیں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے حدیث بیان كی تھی كہ ثقیف میں ایك كذاب اور سفاک شخص ہوگا۔ كذاب (یعنی مسیلمہ)تو ہم نے دیكھ لیا اورمیرے خیال میں سفاک تم ہی ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (333) عمل اليوم والليلة لإبن السني رقم (159)
1004
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضی اللہ عنہ قَالَ: سَمِعتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ يُصَرِّفُهُ كَيْفَ يَشَاءُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یقینا تمام بنی آدم كے دل رحمن كی انگلیوں میں سے دوانگلیوں كے درمیان ایك دل كی طرح ہیں۔ جس طرح چاہتا ہے پھیر دیتا ہے ۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے دلوں كو پھركنے والے ہمارے دل اپنی اطاعت كی طرف پھیر دے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1701) سنن أبي داؤد كِتَاب الْجِهَادِ بَاب فِي الْجَاسُوسِ الذِّمِّيِّ رقم (2280)
1005
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أبي هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إنّ قوماً يأتونَ مِن بعْدِي، يودُّ أحدُهم أنْ يفتدِيَ برؤيتي أهلَه ومالَه.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میرے بعد كچھ لوگ آئیں گے جنہیں یہ بات پسند ہوگی كہ اپنے گھربار اور مال كے بدلے میری ایك جھلك دیكھ لیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3546) صحيح البخاري كِتَاب الْمَغَازِي بَاب غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ رقم (3822)
1006
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أبي هُرَيْرَة رضی اللہ عنہ عَن النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِن لِلْإِسْلَام صوىً و مناراً كمنارِ الطَّرِيق ، مِنها أَن تُؤمِن بِالله ولَا تُشْرِك بَه شَيْئًا وإِقَام الصّلاة و إِيتَاء الزَّكَاة وصَوْمِ رَمَضَان وحَجّ الْبَيْت والْأَمْرُ بِالْمَعْرُوف والنَّهْيُ عن الْمُنْكَر وأَن تُسَلِّم عَلَى أَهْلِكَ إِذَا دَخَلَتَ عَلَيْهِم و أَن تُسَلِّم عَلَى الْقَوْم إِذَا مَرَرْت بَهْم فَمَن تَرَك من ذَلِك شَيْئًا، فَقَد تَرَك سَهْمًا من الْإِسْلَام و من تَرَكَهُنّ كُلَّهُنّ ، فَقَد وَلَّى الْإِسْلَامَ ظَهْرَه.
) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے بیان كرتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام كے سنگ میل اور راستہ كے مینار كی طرح مینار ہوتے ہیں۔ ان میں سے یہ ہیں: اللہ پر ایمان لانا، اس كے ساتھ كسی كو شریك نہ كرنا، نماز قائم كرنا، زكوٰۃ ادا كرنا، رمضان كے روزے ركھنا، بیت اللہ كا حج كرنا، نیكی كا حكم دینا، برائی سے منع كرنا، اپنے گھر والوں كو سلام كہناجب تم گھر میں داخل ہواور جب تم اپنی قوم كے پاس سے گذرو تو انہیں سلام كہنا، جس نے ان میں سے كسی چیز كو چھوڑ دیا اس نے اسلام كا ایك حصہ چھوڑ دیا اور جس نے ان سب كو چھوڑ دیا اس نے اسلام كو پس پشت ڈال دیا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1161) صحيح البخاري كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب الدِّينُ يُسْرٌ رقم (38)
1007
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ وَكَانَ حَلِيفًا لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَمَرَّ بِحَلَقَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ يَقُولُ: إِنَّى مُسْلِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ. ( )
) فرات بن حاقن سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل كرنے كا حكم دیا، وہ ابو سفیان كا جاسوس اور انصار كے ایك آدمی كا حلیف تھا۔ وہ انصار كے ایك حلقے كے پاس سے گزرا تو كہنے لگا:میں مسلمان ہوں۔ ایك انصاری نے كہا: اے اللہ كے رسول یہ كہتا ہے كہ میں مسلمان ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كچھ آدمی ایسے ہیں جنہیں ہم ان كے ایمان كے سپرد كرتے ہیں، ان میں سے فرات بن حانن بھی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2857) مسند أحمد رقم (19811 19813)
1008
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَفَلَ مَعَهُ فَأَدْرَكَتْهُمْ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ قَالَ جَابِرٌ: فَنِمْنَا نَوْمَةً فَإِذَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَدْعُونَا فَجِئْنَاهُ فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا فَقَالَ لِي: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قُلْتُ اللهُ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نجد كی جانب اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ مل كر جہاد كیا، جب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌واپس لوٹے تو وہ بھی واپس لوٹ آئے۔ درختوں والی ایك وادی میں دوپہر ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے نیچے اتر آئے، لوگ بھی درختوں کا سایہ حاصل كرنے كے لئے بكھر گئے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایك كیكر كے درخت كے نیچے آئے، اس پر اپنی تلوار لٹكائی ،جابر كہتے ہیں: پھر ہم سوگئے۔ اچانك رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمیں پكارنے لگے۔ ہم آپ كے پاس آئے كیا دیكھتے ہیں ایك بدو آپ كے پاس بیٹھا ہوا ہے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس نے میری تلوار سونت لی میں سویا ہوا تھا، میں جاگا تو تلوار اس كے ہاتھ میں تنی ہوئی تھی اس نے مجھ سے كہا: تمہیں مجھ سے كون بچائے گا؟ میں نے كہا: اللہ، اب یہ یہاں بیٹھا ہے ۔ پھر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اسے سزا نہیں دی۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2866) شعب الإيمان للبيهقي رقم (9989)
1009
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: إِنَّ هَذا الدِّينَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنْ الدُّلْجَةِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: یہ دین آسان ہے، جو شخص اس دین میں سختی كرے گا یہ دین اس پر غالب آجائے گا۔(معاملات کو) سیدھا رکھو قریب رہو خوشخبری دو اور صبح شام اور رات كی سیاہی (اندھیرے)میں مدد طلب كرتے رہو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3587) صحيح مسلم كِتَاب السَّلَامِ بَاب تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ رقم (4136)
1010
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ يَزِيد بْن عَبْدِ اللهِ بْنِ الخيرِ قَالَ: بَينَا نَحنُ بِالْمِرْبَدِ إِذ أَتَى عَلَيْنَا أَعْرَابِي شَعثُ الرِأسِ مَعَهُ قِطْعَةُ أَدِيمٍ أَو قِطْعَةُ جِرَابٍ فَقُلْنَا: كَأَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ فَقَالَ: أَجل هَذَا كِتَابٌ كَتَبَهُ لِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ القُوم: هَاتِ فَأَخذْتُه فَقَرأَتُه فَإِذَا فِيهِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ قَالَ أَبُو العَلَا: وَهُمْ حَيٌّ مِنْ عُكْلٍ إِنَّكُمْ إِنْ شَهِدتُم أَنّ لَا إِلَه إلَا الله، وَأَقَمْتُمْ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمْ الزَّكَاةَ وَفَارَقْتُمْ الْمُشْرِكِينَ وَأَعْطَيْتُمْ مِنْ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ وَسَهْمَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَالصَّفِيَّ وَرُبَّمَا قَالَ: وَصَفِيَّهُ فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللهِ وَأَمَانِ رَسُولِهِ.
) یزید بن عبداللہ بن خیر رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ ہم مربد (نامی مقام)میں بیٹھے ہوئے تھے، اچانك بكھرے بالوں والا ایك اعرابی ہمارے پاس آیا، اس كے پاس چمڑے كا ایك ٹكڑا تھا۔ ہم كہنے لگے: ایسا لگتا ہے كہ یہ بدو ہے۔ اس نے كہا: ہاں یہ خط ہے جو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے لكھ كر دیا ہے۔ لوگوں نے كہا: لاؤ، میں نے وہ خط لیا اور پڑھنا شروع كر دیا۔ اس میں لكھا تھا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم ،یہ خط محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ كے رسول كی طرف سے بنی زہیر بن اقیش(جوعکل نامی ایک قبیلہ تھا) كے لئے لكھا گیا ہے۔ اگر تم گواہی دو كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں ، نماز قائم كرو، زكاۃ ادا كرو، مشركین كو چھوڑ دو، اور غنیمتوں میں سے خمس اور اللہ كے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كا حصہ اور چنا ہوا مال(منتخب شدہ) دو تو تم اللہ اور اس كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی امان میں ہو“۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1161) صحيح البخاري كِتَاب الْإِيمَانِ بَاب الدِّينُ يُسْرٌ رقم (38)
1011
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضی اللہ عنہ مَرفُوعاً: إِنَّه لَيْس شَيْءٌ يُقَرِّبُكُم إلى الْجَنَّة إِلَا قَد أَمَرْتُكُم بَه و لَيْس شَيْءٌ يُقَرِّبُكُم إلى النَّار إِلَا قَد نَهَيْتُكُم عَنْه ، إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِي رَوْعِي : إِنَّ نفْسًا لَا تَمُوت حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا فَاتَّقُوا الله وأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ ، وَلا يَحْمِلَنَّكُمُ اسْتِبْطَاءُ الرِّزْقِ أَنْ تَطْلُبُوه بمعاصي الله ، فَإِن الله لَا يُدْرك مَا عِنْدَهُ إِلا بِطَاعَتِهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جو چیز تمہیں جنت كے قریب كر سكتی تھی میں نے تمہیں اس كا حكم دے دیا، اور جو چیزتمہیں آگ كے قریب كر سكتی تھی اس سے منع كر دیا۔ روح القدس (جبریل علیہ السلام) نے مجھے بتایا ہے كہ كوئی نفس اس وقت تك نہیں مرے گا جب تك اپنا رزق مكمل نہ كر لے ۔اس لئے اللہ سے ڈرو ، اور اچھے انداز سے طلب كرو، اور رزق میں تاخیر تمہیں اللہ تعالیٰ كی نا فرمانی پرنہ ابھارے۔ كیوں كہ اللہ تعالیٰ كے پاس جو كچھ ہے اس كی اطاعت كے ذریعے ہی حاصل كیا جا سكتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2857) مسند أحمد رقم (19811 19813)
1012
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْ الْأَنْصَارِ: أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَاذَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا؟ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ! كُنَّا نَقُولُ وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّهَا لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنْ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى اسْمُهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ثُمَّ قَالَ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ مَاذَا قَالَ قَالَ: فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَتَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيَقْذِفُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ وَيُرْمَوْنَ بِهِ فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ مجھے ایك انصاری صحابی نے بتایا كہ ایك رات وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ بیٹھے ہوئےتھے ۔ ایك ستارہ ٹوٹ كر گرا، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان سے كہا: تم زمانہ جاہلیت میں كیا كہا كرتے تھے جب اس طرح كوئی ستارہ ٹوٹتا؟كہنے لگے اللہ اور اس كا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ ہم كہا كرتے تھے، آج كی رات كوئی عظیم آدمی پید اہوا ہے یا كوئی عظیم آدمی فوت ہوا ہے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ كسی كی موت یا زندگی كی وجہ سے نہیں ٹوٹتا ، معاملہ اس طرح ہے كہ جب ہمارا رب تبارك وتعالیٰ كسی معاملے كا فیصلہ كرتا ہے تو عرش اٹھانے والے فرشتے تسبیح بیان كرتے ہیں۔ پھر اس آسمان والے تسبیح بیان كرتے ہیں جو ان سے ملا ہوتا ہے حتی كہ وہ تسبیح اس دنیا كے آسمان والوں تك پہنچتی ہے۔ پھر عرش كے نیےں والے عرش اٹھانے والے فرشتوں سے كہتے ہیں تمہارے رب نے كیا كہا؟ وہ انہیں بتاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے كہا ہوتا ہے۔ آسمان والے ایك دوسرے سے پوچھتے ہیں حتی كہ آسمانِ دنیا والوں تك یہ خبر پہنچتی ہے ۔یہ خبرجن سن لیتے ہیں اور دوستوں كو بتاتے ہیں۔ یہ ستارہ انہیں مارا جاتا ہے، جو خبر اصل صورت میں لاتے ہیں وہ صحیح ہوتی ہے ۔لیكن یہ اس میں اضافہ كر لیتے ہیں اور جھوٹ ملا لیتے ہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3587) صحيح مسلم كِتَاب السَّلَامِ بَاب تَحْرِيمِ الْكَهَانَةِ وَإِتْيَانِ الْكُهَّانِ رقم (4136)
1013
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ سَلمْة بن نُفَيْل السَّكُّونِيّ قال: دَنَوْت من رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، حَتَّى كَادَت رُكْبَتَاي تَمَسَّان فخذه، فقلت: يارسول الله! تُركَتْ الخَيلُ، وَأُلْقِي السِّلاحُ، وَزَعَم أَقْوَامٌ أَن لَا قِتَالَ! فَقَال:كَذَبُوا! الْآن جَاء القتال، لَا تَزَال من أَمَتِي أَمَة قَائِمَةٌ عَلَى الحق، ظَاهَرْةٌ عَلَى الناس، يَزِيغُ الله قُلُوبَ قَوْمٍ قَاتَلُوهُم لِيَنَالُوا مِنْهم. وَقَال وَهو مُوَلّ ظَهْره إلى اليمن: إِنِّي أَجِد نَفَس الرَحمَن من هنا- يُشِير إلى الْيَمَن وَلَقَد أُوحِي إِلَيّ أَنِّي مَكْفُوفٌ غَيْر ملبث، وَتَتْبَعُونِي أفْنَاداً، وَالْخَيْلُ مَعْقُودٌ في نَوَاصِيهَا الْخَيْر إلى يَوِم القيامة، وَأَهْلَهَا مُعَانُون عَلَيها.
سلمہ بن نفیل سكونی سے مروی ہے كہتے ہیں كہ میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے قریب ہوا اتنا كہ میرے گھٹنے آپ كی ران كو چھونے لگے۔میں نے كہا: اے اللہ كے رسول گھوڑے چھوڑ دیئے گئے، اسلحہ ركھ دیا گیا اور لوگوں نے سمجھ لیا كہ اب كوئی قتال نہیں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا : لوگ جھوٹ بولتے ہیں ، ابھی تو قتال آیاہے ۔ میری امت كا ایك گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، لوگوں پر غالب ہوگا ، اللہ تعالیٰ ان لوگوں كے دلوں كو ٹیڑھا كر دےگا جو انہیں نقصان پہنچانے كی غرض سے ان سے لڑائی كریں گے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌یمن كی طرف پیٹھ كئے ہوئے تھے فرمایا: میں یہاں سے محسوس كر رہا ہوں۔ یمن كی طرف اشارہ كیا میری طرف وحی كی گئی كہ میں محفوظ ہوں، اور ركا ہوا نہیں ہوں اور تم گروہ در گروہ میری پیروی كر رہے ہو اور گھوڑوں كی پیشانی میں قیامت تك خیر ركھ دی گئی ہےاورگھوڑوں والوں كی مدد كی گئی ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3367) الأسماء والصفات للبيهقي رقم (916) مسند البزار رقم (3130)
1014
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَوْمًا فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ جِبْرِيلَ عِنْدَ رَأْسِي وَمِيكَائِيلَ عِنْدَ رِجْلَيَّ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ اضْرِبْ لَهُ مَثَلًا فَقَالَ اسْمَعْ سَمِعَتْ أُذُنُكَ وَاعْقِلْ عَقِلَ قَلْبُكَ إِنَّمَا مَثَلُكَ وَمَثَلُ أُمَّتِكَ كَمَثَلِ مَلِكٍ اتَّخَذَ دَارًا ثُمَّ بَنَى فِيهَا بَيْتًا ثُمَّ جَعَلَ فِيهَا مَائِدَةً ثُمَّ بَعَثَ رَسُولًا يَدْعُو النَّاسَ إِلَى طَعَامِهِ فَمِنْهُمْ مَنْ أَجَابَ الرَّسُولَ وَمِنْهُمْ مَنْ تَرَكَهُ فَاللهُ هُوَ الْمَلِكُ وَالدَّارُ الْإِسْلَامُ وَالْبَيْتُ الْجَنَّةُ وَأَنْتَ يَا مُحَمَّدُ رَسُولٌ فَمَنْ أَجَابَكَ دَخَلَ الْإِسْلَامَ وَمَنْ دَخَلَ الْإِسْلَامَ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَكَلَ مَا فِيهَا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك دن رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمارے پاس آئے اور فرمایا: میں نے نیند میں دیكھا كہ گویاجبریل میرے سرہانے كھڑے ہیں اور میكائیل میرے پیروں كے پاس كھڑے ہیں۔ ایك دوسرے سے كہہ رہا ہے: اس كے لئے كوئی مثال بیان كرو، دوسرے نے كہا: غور سے سنو، اور اچھی طرح سمجھو، آپ كی مثال اور آپ كی امت كی مثال اس بادشاہ كی طرح ہے جس نے گھر بنایا پھر اس میں ایك بڑا كمرہ بنایا، اس میں دستر خوان ركھا اور اپنا قاصد بھیجا جو لوگوں كو كھانے كی دعوت دے۔ ان میں سے كچھ نے قاصد كی دعوت قبول كی اور كچھ نے دعوت قبول نہ كی۔ اللہ تعالیٰ بادشاہ ہے، گھر اسلام ہے، بڑا كمراہ جنت ہے، اور آپ اے محمد قاصد ہیں۔ جس نے دعوت قبول كی وہ اسلام میں داخل ہو گیا اور جو اسلام میں داخل ہوا وہ جنت میں داخل ہوگیا اور جو جنت میں داخل ہوا اس نے اس میں موجود سب چیزیں كھالیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3595) سنن الترمذي كِتَاب الْأَمْثَالِ بَاب مَا جَاءَ فِي مَثَلِ اللَّهِ لِعِبَادِهِ رقم (2787)
1015
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَاهُ قَالَ: فَمَرَّ رَجُلٌ بِغَارٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَالَ: فَحَدَّثَ نَفْسَهُ بِأَنْ يُقِيمَ فِي ذَلِكَ الْغَارِ فَيَقُوتُهُ مَا كَانَ فِيهِ مِنْ مَاءٍ وَيُصِيبُ مَا حَوْلَهُ مِنْ الْبَقْلِ وَيَتَخَلَّى مِنْ الدُّنْيَا! ثُمَّ قَالَ: لَوْ أَنِّي أَتَيْتُ نَبِيَّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَإِنْ أَذِنَ لِي فَعَلْتُ وَإِلَّا لَمْ أَفْعَلْ فَأَتَاهُ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ! إِنِّي مَرَرْتُ بِغَارٍ فِيهِ مَا يَقُوتُنِي مِنْ الْمَاءِ وَالْبَقْلِ فَحَدَّثَتْنِي نَفْسِي بِأَنْ أُقِيمَ فِيهِ وَأَتَخَلَّى مِنْ الدُّنْيَا قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا بِالنَّصْرَانِيَّةِ وَلَكِنِّي بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ وَالَّذِي نَفْسي بِيَدِهِ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَمُقَامُ أَحَدِكُمْ فِي الصَّفِّ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ سِتِّينَ سَنَةً.
ابو امامہ سے مروی ہے كہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ ایك معركے كے لئے نكلے ایك آدمی ایك غار كے پاس سے گزرا جس میں كچھ پانی تھا۔ اس نے دل میں سوچا كہ وہ اس غار میں قیام كر لے، اس غار میں موجود پانی پیتا رہے اور اردگرد سبزیاں وغیرہ كھاکرگذارہ کرتا رہےگا، دنیا سےکنارہ کش ہو جائے، پھر كہنے لگا ، اگر میں نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس جا كر ان سے اس بات كا تذكرہ كروں تو بہتر رہے گا۔ اگر آپ مجھے اجازت دے دیں تو میں ایسا كر لوں گا اور اگر اجازت نہ دیں تو رك جاؤں گا۔ وہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پا س آیا اور كہنے لگا: اے اللہ كے نبی میں ایك غار كے پاس سے گزرا اس میں میری كفایت كے لئے پانی اور سبزی موجود ہے، میں نے دل میں سوچا كہ میں اس میں قیام كروں اور دنیا سے الگ ہو جاؤں۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے یہودیت و نصرانیت دے كر مبعوث نہیں كیا گیا۔ مجھے دینِ حنیف دے كر مبعوث كیا گیا ہے۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ایك اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام نکلنا دنیا اور جو كچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہے اور تم میں سے كوئی شخص جنگی صف میں كھڑا ہو تو یہ اس كے لئے ساٹھ سال كی نماز سے بہتر ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2924) مسند أحمد رقم (21260)
1016
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
) عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ هَاتِ اُلْقُطْ لِي فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ فَوَضَعْهُنَّ فِي يَدِهِ فَقَالَ: بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ مَرَّتَيْنِ وَقَالَ: بِيَدِهِ فَأَشَارَ يَحْيَى –أحد رواته- أَنَّهُ رَفَعَهَا وَقَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِين فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھے عقبہ كی صبح كہا آپ اپنی سواری پر كھڑے تھے۔ آپ نےفرمایا: مجھے زمین سے كچھ اٹھا كر دو، میں نے چنے کے برابر كچھ كنكریاں اٹھا كر آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیں۔ آپ نے دوبارفرمایا: ان جیسی(کے ساتھ جمرات کو نشانہ بناؤ)، پھرآپ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا: دین میں غلو سے بچو، كیوں كہ تم سے پہلے لوگ بھی دین میں غلو كی وجہ سے ہلاك ہوئے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3091) مسند أحمد رقم (15352)
1017
Sahih
ایمان، توحید، دین اورتقدیر كا بیان
عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتَهَى؟ قَالَ: أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ الْعَرَبِ أَوْ الْعجمِ أَرَادَ اللهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمْ الْإِسْلَامَ قَالَ: ثُمَّ مَهْ قَالَ: ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ قَالَ رجُلٌ: كَلَّا وَاللهِ إِنْ شَاءَ اللهُ قَالَ: بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ثُمَّ تَعُودُونَ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.
كرز بن علقمہ خزاعی سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے كہا:اے اللہ كے رسول كیا اسلام كی بھی كوئی انتہا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اہل عرب یا عجم كا جو بھی گھر ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی كا ارادہ فرمالیا ہے اللہ تعالیٰ ان گھروں میں اسلام داخل كر دے گا، پھر فتنوں كا ظہور ہوگا۔ جس طرح سائے ہوتے ہیں۔(اس آدمی نے )كہا:واللہ ہر گز نہیں اگراللہ نے چاہا۔آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:كیوں نہیں اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے، پھر تم بڑی تعدادمیں واپس لوٹوگےاور ایك دوسرے كی گردن مارو گے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2560) مسند أحمد رقم (16539) المعجم الكبير للطبراني رقم (18247)
1018
Sahih