ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اگر میرے پاس احد پہاڑ كے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ بات پسند ہے كہ میری تین راتیں نہ گزریں کہ اس میں سے سوائے قرض ادا كرنے كے میرے پاس كچھ بھی ہو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2907) صحيح البخاري كِتَاب الرِّقَاقِ بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا رقم (5964)
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَّا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ. ( )روی من حدیث سیھل بن سعد و ابی ھریرة و عبداللہ بن عمرو عبداللہ بن عباس و جماعة من الصحابة رضی اللہ عنہم والحسن و عمرو بن مر مرسلا.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر اللہ كے ہاں دنیا ایك مچھر كے پر كے برا بر بھی حیثیت ركھتی تو اللہ تعالیٰ كسی كافر كو پانی کا ایك گھونٹ بھی نہ پلاتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2907) صحيح البخاري كِتَاب الرِّقَاقِ بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا رقم (5964)
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ كے ہاں دنیا مچھر كے پر كے برابر بھی حیثیت ركھتی تو اللہ تعالیٰ كسی كافر كو پانی كا ایك گھونٹ بھی نہ پلاتا
Takhreej
الصحيحة رقم (686) سنن الترمذي كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مَا جَاءَ فِي هَوَانِ الدُّنْيَا عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ رقم (2242)
ابو حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس بیوی كے مہر میں مدد مانگنے آئے۔ آپ نے فرمایا: تم نے كتنا مہر مقرر كیا ہے؟ انہوں نے كہا:دو سو درہم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بحاین سے بھی ہاتھ بھرتے تو پھر بھی تم زیادہ نہ كرتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (943) سنن الترمذي كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مَا جَاءَ فِي هَوَانِ الدُّنْيَا عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ رقم (2242
ابو درداء رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بادشاہوں سے ملنے والے كے مال كے بارے میں پوچھا گیا ،تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ،بادشاہ كے مال میں سے تمہیں جو كچھ بغیر سوال كئے اور بغیر كسی عہدے كے دے اسے كھاؤ اور مال بناؤ
Takhreej
الصحيحة رقم (2202) مسند أحمد رقم (21965) سنن الدارمي رقم (2774)
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ : مجھے پسند نہیں كہ یہ احد پہاڑ میرے پاس سونے كی صورت میں ہو اور تین راتوں كے بعد میرے پاس اس میں سے ایك دینار بھی باقی بچے، سوائے اس دینار كے جو میں قرض ادا كرنے كے لئے بچا كر ركھوں۔ میں اس پہاڑ كو اللہ كے بندوں میں اس طرح اور اس طرح دائیں بائیں خرچ كر دوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو دائیں بائیں پھیلایا۔( )
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: میں تمہارے بارے میں محتاجی سے نہیں ڈرتا لیكن میں تم پر دولت کی کثرت سے سے ڈرتا ہوں اورمیں تمہارے بارے میں خطا ہونے(بغیرعلم كےغلطی ہو جانے)سے نہیں ڈرتا لیكن مجھے تمہارے بارے جان بوجھ كر غلطی كرنے سے ڈر لگتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2211) صحيح البخاري كِتَاب الرِّقَاقِ بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا رقم (5963، 5964)
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس تكلیف میں جس میں وہ فوت ہوئے فرمایا:(اے عائشہ )سونے كا كیاكیا؟ میں نے كہا: وہ میرے پاس ہے، آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ، میں اسے آپ كے پاس لائی یہ كوئی نو یا پانچ دینار ہوگا۔ آپ نے اسے اپنے ہاتھ میں ركھا اور یزید راوی نے بھی ہاتھ سے اشارہ کیا اورفرمایا: محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) كا اللہ كے بارے میں كیا گمان ہے، اگر وہ اللہ سے ملاقات كرے اور یہ سونا اس كے پاس ہو؟ اسے خرچ كردو
Takhreej
الصحيحة رقم (2216) مسند أحمد رقم (7728) مستدرك الحاكم رقم (3929)
ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ایك دن میں اور عروہ بن زبیر عائشہ رضی اللہ عنہا كے پاس آئے۔ كہنے لگیں : ایك مرتبہ اگر تم اللہ كے نبی صلی اللہ علیہ وسلم كو اس بیماری میں دیكھ لیتے جس میں وہ فوت ہوئے، میرے پاس ان كے چھ دینار تھے۔ موسیٰ(راوی) نے كہا یاسات دینار اللہ كے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حكم دیا كہ میں انہیں تقسیم كر دوں۔ اللہ كے نبی صلی اللہ علیہ وسلم كی تكلیف کی وجہ سے میں مصروف ہو گئی (بھول گئی)۔ حتی كہ آپ كو كچھ افاقہ ہوا۔ آپ نے پھر مجھ سے ان كے بارے میں پوچھا: ان چھ یا سات دیناروں كا كیا ہوا؟ میں نے كہا: اللہ کی قسم! آپ كی تكلیف نے مجھے مصروف كر دیا۔ آپ نے وہ دینار منگوائے پھر انہیں اپنی ہتھیلی میں ترتیب سے ركھا اور فرمایا: اللہ كے نبی نے كیا گمان كیا ہے اگر وہ اللہ عزوجل سے ملاقات كرے اور یہ اس كے پاس ہوں؟ یعنی چھ یا سات دینار۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2653) مسند أحمد رقم (24317) صحيح ابن حبان رقم (3281)
عَنْ أَنَسِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ.
انس رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی مسلمان كوئی پودا لگاتا ہے، یا كاشتكاری كرتا ہے، پھر اس میں سے كوئی پرندہ، انسان یا جانور كھاتا ہے تو وہ اس كے لئے صدقہ ہے
جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے جو مسلمان كوئی پودا لگاتا ہے، اس میں سے جو كچھ كھایا جاتا ہے ، اس كے لئے صدقہ ہے۔ جو چوری كیاجائے اس كے لئے صدقہ ہے ، جانور اس میں سے جو كچھ كھائیں اس كے لئے صدقہ ہے، پرندے كھائیں تو اس كے لئے صدقہ ہے اور جو کوئی بھی اس سے مانگ کر اس میں کمی کرتا ہے اس كے لئے( قیامت تك) صدقہ ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (7) صحيح البخاري كِتَاب الْمُزَارَعَةِ بَاب فَضْلِ الزَّرْعِ وَالْغَرْسِ إِذَا أُكِلَ مِنْهُ رقم (2152)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ مجھے یہ بات پسند نہیں كہ میرےلئے احد پہاڑ سونے كا بن جائے اور تین راتیں گزرنےكے بعد سوائے قرض ادا كرنے كے میرے پاس اس میں سے ایك دینار بھی باقی ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (8) صحيح مسلم كِتَاب الْمُسَاقَاةِ بَاب فَضْلِ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ رقم (2900)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ : جو شخص تحفہ دے كر واپس طلب كرتا ہے وہ اس كتے كی طرح ہے جو قے كر كے اپنی قے چاٹتا ہے۔ جب تحفہ دینے والا واپسی كا مطالبہ كرے تو اسے كھڑا كیا جائے اور بتایا جائے كہ وہ كیا مانگ رہا ہے پھر تحفہ واپس كر دیا جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (1028) صحيح مسلم كِتَاب الزَّكَاةِ بَاب تَغْلِيظِ عُقُوبَةِ مَنْ لَا يُؤَدِّي الزَّكَاةَ رقم (1653)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے كوئی چیز ذخیرہ كی تاكہ مسلمانوں كے لئے وہ چیز مہنگی ہوجائے تو وہ گنہگار ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2282) سنن أبي داؤد كِتَاب الْبُيُوعِ بَاب الرُّجُوعِ فِي الْهِبَةِ رقم (3073)
عبیدا للہ بن عبداللہ بن عتبہ سے مروی ہے كہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض لیا تو ان سے كہا گیا: ام المومنین! آپ قرض تو لے رہی ہیں لیكن آپ كے پاس قرض ادا كرنے كے لئے كچھ نہیں؟ انہوں نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: جو شخص ادا كرنے كی نیت سے قرض لیتاہے اللہ تعالیٰ اس كی مدد كرتا ہے۔( )
ا بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:جس شخص کو فاقہ پیش آیا پھر اسےلوگوں كےسامنےبیان كیاتواس كا فاقہ ختم نہیں كیاجائے گا اور جس شخص نے اللہ كے سامنے فریاد كی تو اللہ تعالیٰ عنقریب اسےغنی كر دے گا۔یا تو جلد موت دے دے گا یا پھر جلد دولت دے دے گا۔ ( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1029) سنن النسائي كِتَاب الْبُيُوعِ باب التَّسْهِيلُ فِيهِ رقم (4608)
عَنْ أَبِي شريح قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَن أَقَالَ أَخَاهُ بَيْعًا أَقَالَ الله عَثْرَتَه يَوم الْقِيَامَة.
ابو شریح رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی كو بیچی ہوئی چیز (اس کے مطالبے پر) واپس لے لی، اللہ تعالیٰ قیامت كےدن اس كی غلطیاں واپس لے لے گا(یعنی درگزر کردے گا)۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2787) سنن أبي داؤد كِتَاب الزَّكَاةِ بَاب فِي الِاسْتِعْفَافِ رقم (1402)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جس شخص نے ایك چیز میں دو قیمتیں مقرر كیں تو اس کے لئے ان میں سے کم قیمت والی بیع (جائز) ہے یا اس کے لئے سود ہے۔ ( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2614) المعجم الأوسط للطبراني رقم (901)