انس رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا اور كہنے لگا: میں آپ سے محبت كرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاقہ كے لئے تیار ہو جاؤ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2827) شعب الإيمان للبيهقي رقم (1451) البزار في مسنده رقم (3595)
سعید بن ابی سعید خدری اپنے والد ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بیان كرتے ہیں كہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے سامنے اپنی ضرورت كا تذكرہ كیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو سعید! صبر كرو، كیوں كہ تم میں سے جو شخص مجھ سے محبت كرتا ہے غربت اس كی طرف اس سے بھی زیادہ تیزی سے آتی ہے جتنا كہ سیلاب كسی وادی كے اوپر اور پہاڑ كے اوپر سے نیچے كی طرف آتا ہے۔( )
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: أَطْيَبُ الْكَسْبِ عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ. ( )
رافع بن خدیجرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال كیا گیا: كون سی كمائی زیادہ پاكیزہ(حلال)ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ پاكیزہ كمائی آدمی كے ہاتھ كی كمائی اور ہر صاف ستھری تجارت ہے ۔
) حرام بن سعد بن محیصہ سے مروی ہے كہ محیصہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے حجام (سینگی لگانے والے) كی كمائی كے بارے میں پوچھا، تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ وہ یہی بات كرتا رہا حتی كہ آپ نے فرمایا: اپنی اونٹنی كو چارہ كھلا دو، اور اپنے غلام كو دے دو ۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (4000) مؤطا امام مالك رقم (1543) سنن أبي داؤد كِتَاب الْبُيُوعِ بَاب فِي كَسْبِ الْحَجَّامِ رقم (2968)
عَنِ ابنِ مَسْعَود، رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الله تَعَالَى جَعَل الدُّنْيَا كُلَّهَا قَلِيلًا، وَمَا بَقِي مِنها إِلَا الْقَلِيلَ مِنَ الْقَلِيلِ، وَمَثَلُ مَا بَقِيَ مِنْهَا كَالثَّغْب -يَعْني الغَدِيْرِ- شُرِبَ صَفْوُهُ وَبَقِيَ كَدْرُهُ. ( )
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا قلیل بنائی ہے، اور جو دنیا باقی بچی ہے وہ قلیل میں سے بھی قلیل ہے۔ اور دنیا میں سے جو كچھ باقی بچا ہے وہ تالاب كی طرح ہے، جس كا صاف حصہ پی لیا گیا ہے، اور میل كچیل باقی رہ گیا ہے۔
ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوتا تو ہم آپ كے پاس آتے اور آپ ہمیں بیان كرتے۔ایك دن آپ نے ہم سے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: ہم نے مال نماز قائم كرنے اور زكاۃ ادا كرنے كے لئے نازل كیا، اور اگر ابن آدم كے لئے كوئی وادی ہو تو وہ خواہش كرے گا كہ اس كے لئے دوسری وادی ہو، اگر اس كے لئے دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری كی خواہش كرے گا۔ سوائے مٹی كے ابن آدم كا پیٹ كوئی چیز نہیں بھر سكتی۔ پھر اللہ تعالیٰ اس شخص كی توبہ قبول كرتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے توبہ كرتا ہے۔( )
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہےكہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:یقینا اللہ تعالیٰ بیچنےمیں خریدنے میں اور یا قرض کے تقاضے كرنےمیں نرمی كوپسندفرماتاہے۔
عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: تاجر ہی فاجر لوگ ہیں ۔پوچھا گیا: اے اللہ كے رسول كیا ایسی بات نہیں كہ اللہ تعالیٰ نےتجارت كو حلال كیا ہے؟ آپ نے فرمایا: كیوں نہیں لیكن یہ بات كرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں اور قسم كھاتے ہیں تو گنہگار ہوتے ہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (366) مسند أحمد رقم (14982، 15111، 15116) المعجم الكبير للطبراني رقم (16067)
عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج سے مروی ہے كہ جب ان كے دادا فوت ہوئے تو انہوں نے ایك لونڈی ، غلام ،حجام اوركچھ زمین تركے میں چھوڑے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی كے بارے میں فرمایا اس كی كمائی نہ لی جائے۔ شعبہ نے كہا: اس ڈر سے كہیں وہ زنا نہ كرلے۔ اور فرمایا: جو حجام كمائے اسے اونٹنی كا چارہ بنا دو۔ اور زمین كے بارے میں فرمایا: اسے آباد كرو یا چھوڑ دو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1400) مسند أحمد رقم (16631) المعجم الكبير للطبراني رقم (4279)
عبید بن رفاعہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ عیدگاہ كی طرف نكلے تو آپ نے كچھ لوگوں كو خریدو فروخت كرتے دیكھا۔ آپ نے فرمایا: اے تاجروں كی جماعت (اللہ كے رسول كی بات سنو)انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہی اور اپنی گردنیں اور نگاہیں آپ كی طرف اٹھالیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تاجر قیامت كے دن گنہگار كھڑے ہوں گے سوائے اس تاجر كے جو اللہ سے ڈرتا رہا ،نیكی كرتا رہا اور سچ بولتا رہا۔( )
(١٢٢١) براءبن عازب رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع كی طرف ہمارے پاس آئے اور فرمایا: اے تاجروں كی جماعت! جب وہ آپ كی طرف متوجہ ہو گئے تو آپ نے فرمایا: تاجر قیامت كے دن گنہگار کی حیثيت سےجمع كئے جائیں گے سوائے اس تاجر كے جو اللہ سے ڈر تا رہا، نیكی كرتا اور سچ بولتا رہا۔( )
خولہ رضی اللہ عنہا بنت قیس ،حمزہ رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب كی بیوی سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ رضی اللہ عنہ كے پاس آئے اور دونوں دنیا كا تذكرہ كرنےلگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا سر سبز اور میٹھی ہے، جس شخص نے حق کے ساتھ اسے لیا اس كے لئے اس میں بركت ڈال دی جائے گی اور كتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو اللہ اور اس كے رسول كے مال میں ناحق تصرف كرتے ہیں ، ان كے لئے اللہ سے ملاقات كے دن آگ ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1592) سنن الترمذي كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مَا جَاءَ فِي أَخْذِ الْمَالِ بِحَقِّهِ رقم (2296) مسند أحمد رقم (25808)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضی اللہ عنہ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا لِيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاءِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سےمروی ہےكہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:یہ دنیا سرسبزا ورمیٹھی ہے ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلافت(ذمہ داری) دے گا۔تاكہ تمہیں آزمائے كہ تم كیسےعمل كرتے ہو۔ دنیاسے بچو اورعورتوں سے بچو،كیوں كہ بنی اسرائیل كا پہلافتنہ عورت سےشروع ہوا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (911) صحيح مسلم كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ بَاب أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْفُقَرَاءُ...رقم (4925)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ كسی كشتی میں ایك آدمی شراب بیچ رہا تھا اور شراب میں پانی ملا رہا تھا۔ اس كے پاس ایك بندر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے تھیلی پکڑی اور بادبان کی لکڑی پر چڑھ گیا اور ایك دینار سمندر میں اور ایك دینار كشتی میں پھینكنا شروع كر دیا۔ حتی كہ انہیں دو حصوں میں تقسیم كر دیا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2844) مسند أحمد رقم (7710) شعب الإيمان للبيهقي رقم (5075)
ابو الخیر سے مروی ہے كہ مسلمہ بن مخلد نے جو كہ مصر كے امیر تھے، نے رویفع بن ثابت کو عشور یعنی ٹیکس وصولی کی ذمہ داری دینے کی پیش کش کی ، تو رویفع نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: ٹیكس لینے والا آگ میں ہوگا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3405) مسند أحمد رقم (16387) شعب الإيمان للبيهقي رقم (5075)
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر قیامت قائم ہو جائے ، اور تم میں سے كسی شخص كے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو ،اور اسے قیامت قائم ہونے سے پہلے پودا گاڑنے كی مہلت مل جائے تو وہ اس پودے كو گاڑ دے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (9) مسند أحمد رقم (12512) مسند عبد بن حميد رقم (1220)