TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان - تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان - Book 7 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 7 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 123 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

123 Hadith · 1 Chapters
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَنَحْنُ نَذْكُرُ الْفَقْرَ وَنَتَخَوَّفُهُ فَقَالَ: آلْفَقْرَ تَخَافُونَ؟! وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُصَبَّنَّ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا صَبًّا حَتَّى لَا يُزِيغَ قَلْبَ أَحَدِكُمْ إِزَاغَةً إِلَّا هِيهْ وَايْمُ اللهِ لَقَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى مِثْلِ الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءٌ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: صَدَقَ –وَاللهِ- رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌تَرَكَنَا وَاللهِ عَلَى مِثْلِ الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءٌ.
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمارے پاس آئے۔ ہم فقیری كا تذكرہ كر رہے تھے اور اس سے ڈررہے تھے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كیا تم فقیری(محتاجی) سے ڈر رہے ہو؟ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہےتم پر دنیا بے انتہا فراخ كر دی جائے گی حتی كہ یہ مال ہی تم میں سےکسی بھی شخص کا دل ٹیڑھا کرے گا اور اللہ كی قسم میں نے تمہیں ایك روشن راستے پر چھوڑا ہے، اس كے رات اور دن ایك جیسے ہیں، ابو درداءكہتے ہیں كہ اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےسچ فرمایا، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روشن راستے پر چھوڑا ۔ اس كے رات اور دن برابر ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (688) سنن ابن ماجة كِتَاب الْمُقَدِّمَةِ بَاب اتِّبَاعِ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّه ﷺ رقم (5)
1189
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ عَائِشَة أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لِأُمِّ هَانِئٍ: اتَّخِذُوا الْغَنَمَ فَإِنَّ فِيهَا بَرَكَةً.
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےام ھانی رضی اللہ عنہا سے فرمایا: بكریاں لو كیوں كہ ان میں بركت ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (773) معجم ابن المقرئ رقم (703)
1190
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمرٍو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بَعَثَ عتابَ بنِ أُسِيْدٍ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ: أَتَدرِي إِلَى أَيْن أَبْعَثُكَ؟ إِلَى أَهْلِ اللهِ وَ هُمْ أَهلُ مَكَّةَ، فَانْهَهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنْ بَیْعٍ وَّسَلَفٍ وَعَنْ شَرْطَیْنِ فِی بَیعٍ وَرِبْحِ مَا لَمْ یَضْمَنْ وَبَیْعِ مَالَیْسَ عِنْدَکَ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ كو مكہ كی طرف بھیجا تو فرمایا: كیا تمہیں معلوم ہے كہ میں تمہیں كس طرف بھیج رہا ہوں؟ اللہ والوں كی طرف، جو كہ اہل مكہ ہیں، انہیں چار چیزوں سے منع كرنا:بیع سلف (قرض پر بیع)سے، ایک بیع میں دو شرطوں سے، ایسی (چیز کے)منافع سے جس کے نقصان کا ضامن نہ ہو، اور ایسی چیز کی فروخت سے جو تمہارے پاس نہ ہو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1212) البغوي في حديث عيسى بن سالم الشاشي (ق 108 / 1)
1191
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ مرفوعاً: اثْنَتَانِ يَكْرَهُهُمَا ابْنُ آدَمَ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَالْمَوْتُ خَيْرٌ لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتْنَةِ وَيَكْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ وَقِلَّةُ الْمَالِ أَقَلُّ لِلْحِسَابِ.
محمود بن لبید سے مرفوعا مروی ہے كہ دو چیزوں كو ابن آدم نا پسند كرتا ہے۔ موت كو حالانكہ موت مومن كے لئے فتنے سے بہتر ہے۔ اور مال كی كمی كو نا پسند كرتا ہے حالانكہ مال كی كمی حساب میں كمی كا باعث ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (813) مسند أحمد رقم (22519)
1192
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنصَارِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنصَار، فَلـَمَّا انْصَـرَفْنَا، لَقِينَا دَاعِيَ امْرَأَةٍ مِّنْ قُرَيشٍ، فَقَال: إِن فُلَانَةَ تَدْعُوكَ، وَمَنْ مَعَكَ عَلَى طَعَامٍ، فَانْصَرَفَ، وَجَلَسَ وَجَلَسْنَا مَعَه، وَجِيء بِالطَّعَام، فَوَضَعَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَدَهُ، وَوَضَعَ الْقَوْمُ أَيْدِيَهُم، فَنَظَرُوا إلى النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم ، فَإِذَا أُكلتُه فِي فِيهِ لَا يُسِيغُهَا فَكَفُّوا أَيْدِيَهُم لِيَنْظُرُوا مَا يَصْنَعُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَأَخَذَ لُقْمَتَه فَلَفَظَهَا، وَقَال: أَجِدُ لَحْمَ شَأةٍ أُخِذَتْ بِغَيْر إِذْنِ أَهْلِهَا أَطْعِمُوهَا الْأُسَارَى. ( )
ایك انصاری سے مروی ہے اس نے كہا كہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ ایك انصاری كے جنازے میں نكلے، جب ہم واپس لوٹے توہمیں ایك قریشی عورت كا پیامبرملا ،جس نے كہا كہ فلاں عورت آپ كو اور آپ كے ساتھیوں كو كھانے پر بلا رہی ہے۔ آپ آكر بیٹھ گئے ، ہم بھی آپ كے ساتھ بیٹھ گئے ،كھانا لایا گیا، نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو لوگوں نےبھی اپنے ہاتھ آگے بڑھائے،لوگوں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی طرف دیكھاكہ آپ كےمنہ میں جو لقمہ ہے آپ اس کو نگل نہیں رہے۔انہوں نےاپنےہاتھ روك لئےتاكہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو دیكھیں،آپ نےلقمہ پھینك دیااورفرمایا:میں اس میں ایسی بكری كا گوشت محسوس كررہا ہوں جواس كےمالكوں كی اجازت كےبغیر پكڑی گئی ہے۔یہ كھاناقیدیوں كو كھلادو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (754) معرفة الصحابة لأبي نعيم رقم (6507)
1193
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَجْمِلُوا فِي طَلَبِ الدُّنْيَا فَإِنَّ كُلًّا مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ.
ابو حمید ساعدی سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: دنیا كو احسن طریقے سے حاصل كرو ۔كیوں كہ جو شخص جس چیز كے لئے پیدا كیا گیا ہے اس كے لئے اسے آسانی دی گئی ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (898) سنن ابن ماجة كِتَاب التِّجَارَاتِ بَاب الِاقْتِصَادِ فِي طَلَبِ الْمَعِيشَةِ رقم (2133)
1194
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ عُقْبَةَ بن عَامِرٍ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَتَرَكَتْ حُلِيًّا وَلَمْ تُوصِ، فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ فَقَالَ: احْبِسْ عَلَيْكَ مَالَكَ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا: میری ماں فوت ہوگئی ہے اور اس نے كچھ زیورات چھوڑے ہیں لیکن وصیت نہیں كی، اگر میں اس كی طرف سے صدقہ كر دوں تو كیا اسے فائدہ ملے گا؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اپنا مال روك كر ركھو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2779) المعجم الكبير للطبراني رقم (14192)
1195
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عن مصْعَبِ بْنِ سَعدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : اِحْذَرُوا الدُّنْيَا، فَإِنَّهَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ
مصعب بن سعد كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: دنیا سے بچو كیوں كہ یہ سر سبز اور میٹھی ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (910) الزهد لأحمد بن حنبل رقم (62)
1196
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ حُصَيْنِ بن قَيْسٍ: أَنَّهُ حَمَلَ طَعَامًا إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَقِيَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: مَاذَا تَحْمِلُ يَا أَعْرَابِيُّ ؟ قَالَ: قَمْحًا، قَالَ: مَا أَرَدْتَ بِهِ، أَوْ مَا تُرِيدُ بِهِ؟! قَالَ: أَرَدْتُ بَيْعَهُ، فَمَسَحَ رَأْسِي، وَقَالَ: أَحْسِنُوا مُبَايَعَةَ الأَعْرَابِيِّ .
زیاد بن حصین اپنے والد حصین بن قیس سے بیان كرتے ہیں كہ وہ مدینے كی طرف غلہ لے كر آئے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس سے ملےاور فرمایا:اے اعرابی تم نے كیا اٹھا ركھا ہے؟ اس نے كہا: گندم، آپ نے پوچھا تمہارا كیا ارادہ ہے؟ اس نے كہا: میں اسے فروخت كرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اعرابی سے خرید نے (بیچنے) میں اچھا طریقہ اختیار كرو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3235) المعجم الكبير للطبراني رقم (3478)
1197
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ جَابِرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: طُلِّقَتْ خَالَتِي ثَلَاثًا فَخَرَجَتْ تَجُدُّ نَخْلًا لَهَا فَلَقِيَهَا رَجُلٌ فَنَهَاهَا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم : فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهَا: اُخْرُجِي فَجُدِّي نَخْلَكِ لَعَلَّكِ أَنْ تَصَدَّقِي مِنْهُ أَوْ تَفْعَلِي خَيْرًا.
جابر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں کہ میری خالہ كو تین طلاقیں دے دی گئیں۔ وہ اپنا کھجور کا پھل اتارنے کے لئے نكلیں۔ ایك آدمی انہیں ملا تو انہیں اس كام سے منع كیا۔ وہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئیں اور ان سے اس بات كا تذكرہ كیا۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان سے فرمایا: جا کر اپنی کھجوریں اتار لو، شاید كہ تم اس میں سے صدقہ كرو، یا نیك كا م كرو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (723) سنن أبي داؤد كِتَاب الطَّلَاقِ بَاب فِي الْمَبْتُوتَةِ تَخْرُجُ بِالنَّهَارِ رقم (1952)
1198
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ مَرْفُوعًا: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ جس شخص نے تمہارے پاس امانت ركھی ہے اسے امانت واپس كر دو، اور جس نے تم سے خیانت كی ہے اس سے خیانت نہ كرو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (423) سنن أبي داؤد كِتَاب الْبُيُوعِ بَاب فِي الرَّجُلِ يَأْخُذُ حَقَّهُ مَنْ تَحْتَ يَدِهِ رقم (3068)
1199
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَدْخَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الجَنَّةَ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا وَبَائِعًا وَقَاضِيًا وَمُقْتَضِيًا.
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص كو جنت میں داخل كر ے گا جو خرید نےاور بیچنے میں یا قرض لینے اور واپس کرنے میں آسان (نرم خو) تھا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1181) سنن النسائي كِتَاب الْبُيُوعِ باب حُسْنُ الْمُعَامَلَةِ وَالرِّفْقُ فِي الْمُطَالَبَةِ رقم (4617)
1200
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنَ مَسْعُودٍ مرفوعا: إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَهُوَ مَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَتَارَكَانِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جب خرید و فروخت کرنے والے دو آدمیوں میں اختلاف ہوجائے اور ان دونوں كے درمیان كوئی واضح دلیل یا گواہی نہ ہو تو سامان کے مالک کی بات کا اعتبار ہوگا۔ یا دونوں اسے چھوڑ دیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (789) سنن أبي داؤد كِتَاب الْبُيُوعِ بَاب إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَالْمَبِيعُ قَائِمٌ رقم (3047)
1201
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانٍ قَالَ: هُوَ جَدِّي مُنْقِذُ بْنُ عَمْرٍو وَكَانَ رَجُلًا قَدْ أَصَابَتْهُ آفَةٌ فِي رَأْسِهِ فَكَسَرَتْ لِسَانَهُ وَكَانَ لَا يَدَعُ عَلَى ذَلِكَ التِّجَارَةَ وَكَانَ لَا يَزَالُ يُغْبَنُ فَأَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ: إِذَا أَنْتَ بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ ثُمَّ أَنْتَ فِي كُلِّ سِلْعَةٍ ابْتَعْتَهَا بِالْخِيَارِ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَإِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ سَخِطُتَّ فَارْدُدْهَا عَلَى صَاحِبِهَا.
محمد بن یحییٰ بن حبان نے كہا كہ منقذ بن عمرو میرے دادا تھے، ان كے سر میں كوئی چوٹ لگی تھی جس سے ان كی زبان كٹ گئی، اس كے باوجود وہ تجارت نہیں چھوڑ تے تھے اور ہمیشہ دھوكہ كھاتے، وہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے اور آپ سے اس بات كا تذكرہ كیا تو آپ نے ان سے كہا: جب تم خریدو فروخت كرو تو كہو: كوئی دھوكہ نہیں ،پھر تمہیں اپنے سارے سامان میں تین دن تك اختیار ہے، اگر تم راضی ہو جاؤ تو سامان ركھ لو اور اگر پسند نہ آئے تو اس كے مالك كو لوٹا دو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2875) سنن ابن ماجة كِتَاب الْأَحْكَامِ بَاب الْحَجْرِ عَلَى مَنْ يُفْسِدُ مَالَهُ رقم (2346)
1202
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا بَاعَ أَحَدُكُمُ الشَّاةَ وَاللِّقْحَةَ فَلَا يُحَفِّلْهَا.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےفرمایا:جب تم میں سے كوئی شخص بكری اور دودھیل اونٹنی بیچےتو ان کا دودھ تھنوں میں نہ روکے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3236) سنن النسائي كِتَاب الْبُيُوعِ باب الْمُحَفَّلَةُ رقم (4410)
1203
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ مرفوعاً: إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ سَلَّطَ اللهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ جب تم بیع عینہ کرو بیع عینہ سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی کو ادھار چیز بیچ کر پھر اس سے کم قیمت میں نقد خرید لے۔ اور بیلوں كی دمیں پكڑ لو، كھیتی باڑی میں مشغول ہو جاؤ اور جہاد كو چھوڑ دو تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط كر دے گا اور اس وقت نہیں ہٹائے گا جب تك تم اپنے دین پر واپس نہ لوٹ آؤ۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (11) سنن أبي داؤد كِتَاب الْبُيُوعِ بَاب فِي النَّهْيِ عَنْ الْعِينَةِ رقم (3003)
1204
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَقَالَ: إِذَا جَاءَكَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا.
) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے شراب كی قیمت، زانیہ كی كمائی اور كتے كی قیمت لینے سے منع فرمایا ،اور فرمایا كہ جب كوئی شخص تمہارے پاس كےس كی قیمت لینے آئے تو اس كے دونوں ہاتھ مٹی سے بھر دو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1303) مسند أحمد رقم (3103)
1205
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ كَانَ عَامِلًا عَلَى الْيَمَامَةِ وَأَنَّ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَيْهِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَيْهِ أَنَّ: أَيَّمَا رَجُلٍ سُرِقَ مِنْهُ سَرِقَةٌ فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا حَيْثُ وَجَدَهَا ثُمَّ كَتَبَ بِذَلِكَ مَرْوَانُ إِلَيَّ وَكَتَبتُ إِلَى مَرْوَانَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَضَى بِأَنَّهُ إِذَا كَانَ الَّذِي ابْتَاعَهَا يعني: السرقة. مِن الَّذِي سَرَقَهَا غَيْرُ مُتَّهَمٍ يُخَيَّرُ سَيِّدُهَا فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الَّذِي سُرِقَ مِنْهُ بِثَمَنِهَا وَإِنْ شَاءَ اتَّبَعَ سَارِقَهُ. ثُمَّ قَضَى بِذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فَبَعَثَ مَرْوَانُ بِكِتَابِي إِلَى مُعَاوِيَةَ وَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى مَرْوَانَ: إِنَّكَ لَسْتَ أَنْتَ وَلَا أُسَيْدٌ تَقْضِيَانِ عَلَيَّ وَلَكِنِّي أَقْضِي فِيمَا وُلِّيتُ عَلَيْكُمَا فَأَنْفِذْ لِمَا أَمَرْتُكَ بِهِ فَبَعَثَ مَرْوَانُ بِكِتَابِ مُعَاوِيَةَ فَقُلْتُ: لَا أَقْضِي بِهِ مَا وُلِّيتُ بِمَا قَالَ مُعَاوِيَةُ.
عكرمہ بن خالد سے مروی ہے كہ اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ نے اسے بتایا: وہ یمامہ كا گورنر تھا۔ مروان نے اسے خط لكھا كہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے خط لكھا ہے کہ: جس شخص كی كوئی چیز چوری ہو جائے ،پھر اسے دیكھ لے تو وہ اس كا زیادہ حق دار ہے۔ پھر مروان نے مجھے خط لكھا ، اور اسید انصاری رضی اللہ عنہ نے مروان کو خط لكھا كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے یہ فیصلہ فرمایا: جب وہ شخص جس نے چوری شدہ مال اس شخص سے خریدا ہے جس نے چوری كی ہے اور وہ چوری میں بدنام نہیں تو اس كے مالك كو اختیار دیا جائے گا، اگر چاہے تو جس شخص كا مال چوری ہوا ہے اسے اختیار ہے چاہے تو اس کی قیمت دے کر وہ اپنی چیز لے لے۔ اور اگر چاہے تو چور كا پیچھا كرے۔ پھر ابو بكر،عمر اورعثمان  رضی اللہ عنہم نے بھی یہی فیصلہ كیا۔ مروان نے میرا خط معاویہ تك پہنچایا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مروان كو خط لكھا: تم اور اسید میرے حكم كے خلاف فیصلہ نہیں كر سكتے۔ لیكن مجھے یہ اختیار حاصل ہے كہ میں تم پر جس معاملےمیں ذمہ دار ہوں اس كے بارے میں فیلہس كر سكتا ہوں۔ اس لئے جو میں نے تمہیں حكم دیا ہے اسے نافذ كر دو۔ مروان نے معاویہ كا خط بھیجا تو میں نے كہا: مجھے جس معاملے كا ذمہ دار بنایا گیا ہے اس میں معاویہ رضی اللہ عنہ كے كہنے كے مطابق فیصلہ نہیں كروں گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (609) سنن النسائي كِتَاب الْبُيُوعِ باب الرَّجُلُ يَبِيعُ السِّلْعَةَ فَيَسْتَحِقُّهَا مُسْتَحِقٌّ رقم (4601)
1206
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: أَرْبَعَةٌ يَبْغُضُهُمْ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: الْبَيَّاعُ الْحَلَّافُ وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ وَالشَّيْخُ الزَّانِي وَالْإِمَامُ الْجَائِرُ.
) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: چار لوگوں سے اللہ تعالیٰ بغض ركھتا ہے۔ قسم كھا كر سودا بیچنےوالے سے، متكبر فقیر سے، بوڑھے زانی سے، اور ظالم حاكم سے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (609) سنن النسائي كِتَاب الْبُيُوعِ باب الرَّجُلُ يَبِيعُ السِّلْعَةَ فَيَسْتَحِقُّهَا مُسْتَحِقٌّ رقم (4601)
1207
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
) عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا أَنَا عَمِلْتُهُ أَحَبَّنِيَ اللهُ وَأَحَبَّنِيَ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبَّكَ اللهُ وَازْهَدْ فِيمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبَّكَ النَّاسُ.
) سہل بن سعد ساعدی سے مروی ہے كہ ایك آدمی نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مجھے كسی ایسے عمل كے بارےمیں بتایئے جب میں وہ عمل كروں تو اللہ تعالیٰ مجھ سے محبت كرے اور لوگ بھی مجھ سے محبت كریں ۔رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے محبت كرے گا اور جو كچھ لوگوں كے ہاتھوں میں ہے اس سے بے پرواہ ہو جاؤ لوگ تم سے محبت كریں گے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (944) سنن ابن ماجة كِتَاب الزُّهْدِ بَاب الْهَمِّ بِالدُّنْيَا رقم (4092)
1208
Sahih