TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان - تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان - Book 7 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 7 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 123 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

123 Hadith · 1 Chapters
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: وَرَأَى سِكَّةً وَشَيْئًا مِّنْ آلَةِ الْحَرْثِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَا يَدْخُلُ هَذَا بَيْتَ قَوْمٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ الذُّلَّ.
ابو امامہ باہلی سے مروی ہے كہتے ہیں كہ انہوں نے ہل اور کاشت کا کوئی اوزار دیکھا تو كہنے لگے: میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: جس گھر میں یہ داخل ہو جائیں اللہ تعالیٰ اس میں ذلت داخل كر دیتے ہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (10) صحيح البخاري كِتَاب الْمُزَارَعَةِ بَاب مَا يُحَذَّرُ مِنْ عَوَاقِبِ... رقم (2153)
1309
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌جَالِسٌ فَجَعَلَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ فَغَضِبَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَقَامَ فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ قَالَ: إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَّرُدُّ عَنْكَ فَلَمَّا رَدَدْتَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ! ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ بِمَظْلَمَةٍ فَيُغْضِي عَنْهَا لِلهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَعَزَّ اللهُ بِهَا نَصْرَهُ وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً إِلَّا زَادَهُ اللهُ بِهَا كَثْرَةً وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً إِلَّا زَادَهُ اللهُ بِهَا قِلَّةً.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی نے ابو بكر رضی اللہ عنہ كو گالی دی۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌بیٹھے ہوئے تھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو رہے تھے اور مسكرا رہے تھے ۔جب اس نے بہت زیادہ گالیاں دیں تو ابو بكر رضی اللہ عنہ نے اسے جواب دے دیا۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌غصے ہوگئے اور وہاں سے كھڑے ہوگئے، ابو بكر آپ كے پاس گئے اور كہا: اے اللہ كے رسول وہ مجھے گالی دے رہا تھا اور آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ جب میں نے اس كی كسی بات كا جواب دیا تو آپ غصے ہو كر كھڑے ہوگئے۔ آ پ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہارے ساتھ ایك فرشتہ تھا جو تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا۔ جب تم نے اس كی كسی بات كا جواب دیا تو شیطان آگیا۔ اور میری صورتحال یہ ہے كہ میں شیطان كے ساتھ نہیں بیٹھتا۔ پھر فرمایا: ابو بكر : تین باتیں مكمل حق ہیں : جس بندے پر كوئی ظلم كیا گیا لیكن اس نے اللہ كے لئے چشم پوشی كی اللہ تعالیٰ اپنی مدد سے اسے عزت دے گا، اور جس شخص نے سخاوت كا دروازہ كھولا، اس كے ذریعے صلہ رحمی كی نیت تھی تو اللہ تعالیٰ اسے زیادہ عطا كرے گا۔اور جس شخص نے مانگنے كا دروازہ كھولا جس كے ذریعے وہ زیادہ دولت جمع كرنا چاہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس كے مال میں بے بركتی دے دے گا۔ ( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2231) مسند أحمد رقم (9251)
1310
Sahih
تجارت، مزدوری اور زہد کا بیان
عَنْ ابنِ عُمر قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَعدَ بن عبَادَةَ مُصَدّقًا، فَقَال: يَا سَعد! اتَّقِ أَن تَجِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِير تحَمِلُهُ لَهُ رُغَاءٌ قَالَ: لَا آخُذَهُ ، اُعْفُنِي: فَأَعْفَاهُ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے سعدبن عبادہ كو زكاۃ لینے كے لئے بھیجا تو آپ نے فرمایا: اے سعداس بات سے بچنا كہ كل قیامت كے دن تم اپنے كاندھوں پر كوئی اونٹ اٹھائے ہوئے آؤ، جو بلبلا رہا ہو۔ سعد نے كہا: میں یہ ذمہ داری نہیں لوں گا، مجھے رہنے دیجئے، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان سے ذمہ داری واپس لے لی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2542) مسند البزار ( ص/ 92) مستدرك الحاكم رقم (1403)
1311
Sahih