عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ بَاعَ دَارًا وَّلَمْ يَجْعَلْ ثَمَنَهَا فِي مِثْلِهَا لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهَا.
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے كوئی گھر بیچا اور اس کی قیمت اس جیسے (کسی دوسرے گھر) میں نہ لگائی اس کے لئے اس میں برکت نہیں دی جائے گی
Takhreej
الصحيحة رقم (2326) سنن أبي داؤد كِتَاب الْبُيُوعِ بَاب فِيمَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ رقم (3002)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص كے پاس گزارے جتنا موجود تھا، پھر بھی اس نے مانگا تو قیامت كے دن اس كا سوال اس كے چہرے پر خراش کی صورت بن كر آئے گا۔ پوچھا گیا: اے اللہ كے رسول اسے كتنا مال كفایت كرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اس كے برابر قیمت كا سونا
Takhreej
الصحيحة رقم (2637) المعجم الكبير للطبراني رقم (19936)
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك دن انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے صدقے كے بارے میں تذكرہ كیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے كہا: كیا تم نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا جب آپ نے صدقے میں خیانت كا ذكر كیا كہ: جس شخص نے اس میں سے(یعنی صدقے میں سے)كسی اونٹ یا بكری كی خیانت كی تو قیامت كے دن وہ اسے اٹھائے ہوئے آئے گا۔ ۔۔؟ عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے كہا: كیوں نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (2354) سنن ابن ماجة كِتَاب الزَّكَاةِ بَاب مَا جَاءَ فِي عُمَّالِ الصَّدَقَةِ رقم (1800)
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص پر قرض ہو اور وہ ادا كرنے كی نیت ركھتا ہو تو اس كےساتھ اللہ كی طرف سے مدد ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس كے لئے رزق كا ذریعہ بنا دیتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2822) المعجم الأوسط للطبراني رقم (7823)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص كی زمین ہو اور وہ بیچنا چاہتا ہو تو وہ( پہلے)اپنے پڑوسی كے سامنے پیش كرے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2358) سنن ابن ماجة كِتَاب الْأَحْكَامِ بَاب مَنْ بَاعَ رُبَاعًا فَلْيُؤْذِنْ شَرِيكَهُ رقم (2484)
قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ. جاء عن جماعة من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من حدیث ابی ھریرة و عائشة وانس بن مالک و عمرو بن عوف و رافع بن خدیج و عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسلمان اپنی شروط كے ساتھ ہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2915) المعجم الكبير للطبراني رقم (4278) مستدرك الحاكم رقم (2270، 2271)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس كچھ مانگنے آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف وسق ادھار لے كر اسے دے دیا۔ پھر (كچھ عرصے بعد) ادھار دینے والا شخص آیا اور ادھار كا تقاضہ كرنے لگا۔ آپ نے اسے ایك وسق دیا اور فرمایا: آدھا وسق ادھار كے بدلے اور آدھا وسق میری طرف سے تمہارے لئے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3413) السنن البيهقي (5/351)، شعب الإيمان (11237)
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا كہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کنوئیں کا بچا ہوا زائد پانی روکا جائے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2388) سنن ابن ماجة كِتَاب الْأَحْكَامِ بَاب النَّهْيِ عَنْ مَنْعِ فَضْلِ الْمَاءِ...رقم (2470)
عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده -يعني الحسين- مرفوعا: نَهَى عن الْجدَاد بِاللَّيْل و الْحَصَاد بِاللَّيْل . قَالَ جَعْفَر بن مُحَمَد : أَرَاه مِنْ أَجْلِ الْمَسَاكِينِ
جعفر بن محمد اپنے والد وہ ان كے دادا حسین رضی اللہ عنہ سے مرفوعا بیان كرتے ہیں كہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات كے وقت پھل توڑنے اور فصل كاٹنے سے منع فرمایا۔ جعفر بن محمد كہتے ہیں : میرے خیال میں مساكین كی وجہ سے (آپ نے ایسا حکم دیا۔)( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2393) معجم ابن الأعرابي (ق 203 / 2) السنن الكبرى البيهقي ( 4/ 133)
انس رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم كی جان ہے، آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس صبح كے وقت كبھی نہ گندم كا صاع ہوا اور نہ كھجور كا صاع ہوا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2404) سنن ابن ماجة كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مَعِيشَةِ آلِ مُحَمَّدٍ ﷺ رقم (4137)
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ : میرے پاس ایك انصاریہ عورت آئی ۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كا بستر دیكھا جو کہ دو ہری کی ہوئی چادر کی صورت میں تھا۔وہ واپس گئی اور آپ كے لئے ایك بستر بھیجا جس كے اندر اون بھری ہوئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو فرمایا: یہ كیا ہے؟ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول فلاں انصاریہ عورت میرے پاس آئی تو اس نے آپ كا بستر دیكھا۔ واپس گئی اور یہ بستر آپ كے لئے بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے واپس كر دو،: میں نے اسے واپس نہیں کیا مجھے یہ بات اچھی لگی کہ وہ میرے گھر میں رہے۔ آپ نے تین مرتبہ كہا، پھر فرمایا: واللہ ، اے عائشہ اگر میں چاہوں تو اللہ تعالیٰ میرے ساتھ سونے اور چاندی كے پہاڑ چلا دے۔
عَنْ خَوَّاتِ بن جُبَيْرٍ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ وَأَوْصَى إِلَيَّ فَكَانَ فِيمَا أَوْصَى بِهِ أُمُّ وَلَدِهِ وَامْرَأَةٌ حُرَّةٌ، فَوَقَعَ بَيْنَ أُمِّ الْوَلَدِ وَالْمَرْأَةِ كَلامٌ، فَقَالَتْ لَهَا الْمَرْأَةُ: يَا لَكْعَا! غَدًا يُّؤْخَذُ بِأُذُنِكِ فَتُبَاعِينَ فِي السُّوقِ! فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: لا تُبَاعُ أُمُّ الولَدِ.
خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك آدمی مرنے لگا تو اس نے مجھے وصیت کی، اس کی وصیت میں ام ولد (لونڈی)اور آزاد بیوی کا ذکر تھا ، تو ایک دن ام ولد اورآزاد بیوی میں تلخ كلامی ہو گئی ۔ اس عورت نے كہا: اے کمینی! كل تمہارا كان پكڑا جائے گا اور تمہیں بازار میں بیچ دیا جائے گا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: ام ولد نہ بیچی جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (2417) المعجم الكبير للطبراني رقم (4039)
ابو امامہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گانے بجانے والی لونڈیاں نہ بیچو نہ خریدو اور نہ لونڈیوں کو گانا بجانا سکھاؤ۔ ان كی تجارت میں كوئی بھلائی نہیں اور ان كی قیمت حرام ہے۔ اسی كے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَہْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اﷲِ بِغَیْرِ عِلْمٍ (لقمان: ٦ )”كچھ لوگ ایسے ہیں جو لغو بات خریدتے ہیں تاكہ اللہ كے راستے سے گمراہ كریں“۔( )