حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَجَمَ أَبُو بَكْرٍ، وَرَجَمْتُ، وَلَوْلَا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَزِيدَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، لَكَتَبْتُهُ فِي الْمُصْحَفِ، فَإِنِّي قَدْ خَشِيتُ أَنْ تَجِيءَ أَقْوَامٌ فَلَا يَجِدُونَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَيَكْفُرُونَ بِهِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ عُمَرَ.
Umar bin Al-Khattab said:
The Messenger of Allah (ﷺ) stoned, Abu Bakr stoned, and I stoned. If I didn't dislike that I add to the Book of Allah. I would have written it in the Mushaf, for I fear that there will come a people and they will not find it in the Book of Allah, so they will disbelieve in it.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا، ابوبکر رضی الله عنہ نے رجم کیا، اور میں نے بھی رجم کیا، اگر میں کتاب اللہ میں زیادتی حرام نہ سمجھتا تو اس کو ۱؎ مصحف میں لکھ دیتا، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کچھ قومیں آئیں گی اور کتاب اللہ میں حکم رجم ( سے متعلق آیت ) نہ پا کر اس کا انکار کر دیں۔ ابوعیسیٰ ( ترمذی ) کہتے ہیں: ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور دوسری سندوں سے بھی عمر رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے، ۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۰۴۵۱)، وانظر مسند احمد (۱/۳۶، ۴۳) وانظر ما یأتي
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی آیت رجم «الشيخ والشيخة إذا زنيا فأرجموهما البتة نكالا من الله ...» کو مصحف میں ضرور لکھ دیتا۔ ۲؎ : سلف صالحین رحمہم اللہ کو اللہ کے احکام و فرائض کے سلسلہ میں کس قدر فکر لاحق تھی اس کا اندازہ عمر رضی الله عنہ کے اس قول سے لگایا جا سکتا ہے، عمر رضی الله عنہ نے جس اندیشہ کا اظہار کیا تھا وہ سو فیصد درست ثابت ہوا، چنانچہ معتزلہ اور خوارج کی ایک جماعت نے رجم کا انکار کیا، افسوس صد افسوس ! برصغیر میں بھی کچھ ایسے سر پھرے لوگ موجود ہیں جو اس سزا کے منکر ہیں، رجم کے انکار کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایسے لوگوں کی فکری بنیاد انکار حدیث پر ہے، ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو احادیث صحیح سندوں سے ثابت اور ان کے راویوں کی ایک بڑی تعداد ہو پھر بھی ان کا انکار کیا جائے۔
1431
Sahih