حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: فُرِضَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ الصَّلَوَاتُ خَمْسِينَ، ثُمَّ نُقِصَتْ حَتَّى جُعِلَتْ خَمْسًا، ثُمَّ نُودِيَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَإِنَّ لَكَ بِهَذِهِ الْخَمْسِ خَمْسِينَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي قَتَادَةَ، وَمَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Anas bin Malik narrated:
On the Night of Isra, fifty prayers were made obligatory upon the Prophet. Then it was decreased until it was made five. Then it was called out: 'O Muhammad! Indeed My Word does not change; these five prayers will be recorded for you as fifty.'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر معراج کی رات پچاس نمازیں فرض کی گئیں، پھر کم کی گئیں یہاں تک کہ ( کم کرتے کرتے ) پانچ کر دی گئیں۔ پھر پکار کر کہا گیا: اے محمد! میری بات اٹل ہے، تمہیں ان پانچ نمازوں کا ثواب پچاس کے برابر ملے گا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ ۲- اس باب میں عبادہ بن صامت، طلحہ بن عبیداللہ، ابوذر، ابوقتادہ، مالک بن صعصہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۳۹۸۰)، وانظر مسند احمد (۳/۱۶۱)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی : پہلے جو پچاس وقت کی نمازیں فرض کی گئی تھیں، کم کر کے ان کو اگرچہ پانچ وقت کی کر دیا گیا ہے مگر ثواب وہی پچاس وقت کا رکھا گیا ہے، ویسے بھی اللہ کے یہاں ہر نیکی کا ثواب شروع سے دس گنا سے ہوتا ہے۔
213
Sahih