حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَإِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ.
Al-Bara bin Azib narrated:
The Salat of Allah's Messenger (was such that) when he bowed, and when he raised his head from bowing, and when he prostrated, and when he raised his head from prostration it (all) was nearly the same.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے، جب رکوع سے سر اٹھاتے، جب سجدہ کرتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو آپ کی نماز تقریباً برابر برابر ہوتی تھی ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی حدیث ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان ۱۲۱ (۷۹۲)، و۱۲۷ (۸۰۱)، و۱۴۰ (۸۲۰)، صحیح مسلم/الصلاة ۳۸ (۴۷۱)، سنن ابی داود/ الصلاة ۱۴۷ (۸۵۲)، سنن النسائی/التطبیق ۲۴ (۱۰۶۶)، و۸۹ (۱۱۴۷)، والسہو ۷۷ (۱۳۳۱)، (تحفة الأشراف : ۱۷۸۱)، مسند احمد (۴/۲۸۰، ۲۸۵، ۲۸۸)، سنن الدارمی/الصلاة ۸۰ (۱۳۷۳)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہ حدیث اس بات پر صریحاً دلالت کرتی ہے کہ رکوع کے بعد سیدھے کھڑا ہونا اور دونوں سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا ایک ایسا رکن ہے جسے کسی بھی حال میں چھوڑنا صحیح نہیں، بعض لوگ سیدھے کھڑے ہوئے بغیر سجدے کے لیے جھک جاتے ہیں، اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان بغیر سیدھے بیٹھے دوسرے سجدے میں چلے جاتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ رکوع اور سجدے کی طرح ان میں تسبیحات کا اعادہ اور ان کا تکرار مسنون نہیں ہے تو یہ دلیل انتہائی کمزور ہے کیونکہ نص کے مقابلہ میں قیاس ہے جو درست نہیں، نیز رکوع کے بعد جو ذکر مشروع ہے وہ رکوع اور سجدے میں مشروع ذکر سے لمبا ہے۔
279
Sahih