حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ بِاللَّيْلِ كَبَّرَ، ثُمَّ يَقُولُ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ثُمَّ يَقُولُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرٍ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ أَشْهَرُ حَدِيثٍ فِي هَذَا الْبَابِ، وَقَدْ أَخَذَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَأَمَّا أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ، فَقَالُوا: بِمَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ، وَقَدْ تُكُلِّمَ فِي إِسْنَادِ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ، كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يَتَكَلَّمُ فِي عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ، وقَالَ أَحْمَدُ: لَا يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ.
Abu Sa'eeed Al Khudri narrated:
When Allah;s Messenger stood for Salat during the night, he would say the Takbir (Allahu Akbar), then say: (Subhanaka Allahumma wa bihamdika wa Tabarakasmuka wa Ta'ala Jadduka wa la ilaha ghairuk.) 'Glorious You are O Allah, and with Your praise, and blesses is Your Name, and exalted is Your majesty, and none has the right to be worshipped but You' Then he would say: (A'udhu Bilahi As-Sami'il-Alimi min Ash-Shaitanir-Rajimi, min Hamzihi Wa Nafkhihi wa Nafthihi.) 'Allah is undoubtedly the greatest.' (Allahu Akbaru Kabira). Then he would say: 'I seek refuge in Allah the All-Hearing, the All-Knowing, from the cursed Shaitan, from his madness, his arrogance, and his poetry.'
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «اللہ اکبر» کہتے، پھر «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ”اے اللہ! پاک ہے تو ہر عیب اور ہر نقص سے، سب تعریفیں تیرے لیے ہیں، بابرکت ہے تیرا نام اور بلند ہے تیری شان، اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ پڑھتے پھر «الله أكبر كبيرا» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہتے پھر «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» ”میں اللہ سمیع و علیم کی شیطان مردود سے، پناہ چاہتا ہوں، اس کے وسوسوں سے، اس کے کبر و نخوت سے اور اس کے اشعار اور جادو سے“ کہتے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، عائشہ، عبداللہ بن مسعود، جابر، جبیر بن مطعم اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اس باب میں ابوسعید کی حدیث سب سے زیادہ مشہور ہے، ۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اسی حدیث کو اختیار کیا ہے، رہے اکثر اہل علم تو ان لوگوں نے وہی کہا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» کہتے تھے ۲؎ اور اسی طرح عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما سے مروی ہے۔ تابعین وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ۴- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث کی سند میں کلام کیا گیا ہے۔ یحییٰ بن سعید راوی حدیث علی بن علی رفاعی کے بارے میں کلام کرتے تھے۔ اور احمد کہتے تھے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصلاة ۱۲۲ (۷۷۵)، سنن النسائی/الافتتاح ۱۸ (۹۰۰)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ۱ (۸۰۴)، (تحفة الأشراف : ۴۲۵۲)، سنن الدارمی/الصلاة ۳۳ (۱۲۷۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : دعا استفتاح کے سلسلہ میں سب سے زیادہ صحیح ابوہریرہ رضی الله عنہ کی روایت «اللهم باعد بيني وبين خطاي» الخ ہے کیونکہ اس کی تخریج بخاری اور مسلم دونوں نے کی ہے، پھر اس کے بعد علی رضی الله عنہ کی روایت «إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض» الخ ہے اس لیے کہ اس کی تخریج مسلم نے کی ہے، بعض لوگوں نے اس روایت کے سلسلہ میں یہ کہا ہے کہ امام مسلم نے اس کی تخریج صلاۃ اللیل میں کی جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہ دعا نماز تہجد کے لیے مخصوص ہے اور فرض نماز میں یہ مشروع نہیں، لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ روایت مسلم میں صلاۃ اللیل میں دو طریق سے منقول ہے لیکن کسی میں بھی یہ منقول نہیں ہے کہ یہ دعا آپ صرف تہجد میں پڑھتے تھے، اور امام ترمذی نے ابواب الدعوات میں تین طرق سے اس روایت کو نقل کیا ہے لیکن کسی میں بھی نہیں ہے کہ آپ تہجد میں اسے پڑھتے تھے، اس کے برعکس ایک روایت میں ہے کہ جب آپ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تب یہ دعا پڑھتے تھے، ابوداؤد نے بھی اپنی سنن میں کتاب الصلاۃ میں اسے دو طریق سے نقل کیا ہے، ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں ہے کہ یہ دعا آپ تہجد میں پڑھتے تھے، بلکہ اس کے برعکس ایک میں یہ ہے کہ آپ جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس وقت یہ دعا پڑھتے، اسی طرح دارقطنی کی ایک روایت میں ہے کہ جب فرض نماز شروع کرتے تو «إني وجهت وجهي» پڑھتے، ان احادیث کی روشنی میں یہ قول کہ ” یہ نفلی نماز کے ساتھ مخصوص ہے “ صحیح نہیں ہے۔ ۲؎ : اس حدیث میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ والی مذکور دعا اور عمر بن الخطاب وابن مسعود رضی الله عنہم والی دعا میں فرق یہ ہے کہ ابوسعید والی میں ذرا اضافہ ہے جیسے «الله أكبر كبيراً» اور «أعوذ بالله…من همزه ونفخه» جبکہ عمر رضی الله عنہ والی میں یہ اضافہ نہیں ہے اور سند اور تعامل کے لحاظ سے یہی زیادہ صحیح ہے۔
242
Sahih