حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ: فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِي مِنْ وَرَائِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، قَالُوا: إِذَا كَانَ الرَّجُلُ مَعَ الْإِمَامِ يَقُومُ عَنْ يَمِينِ الْإِمَامِ.
Ibn Abbas narrated:
I prayed with the Prophet one night. I stood at his left, so Allah's Messenger took me by my head, from behind me, to put me on his right (side).
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، میں جا کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے میرا سر پکڑا اور مجھے اپنے دائیں طرف کر لیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد والے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب ایک آدمی امام کے ساتھ ہو تو وہ امام کے دائیں جانب کھڑا ہو۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم ۴۱ (۱۱۷)، والوضوء ۵ (۱۳۸)، والأذان ۵۷ (۶۹۷)، و (۶۹۸)، ۵۹ (۶۹۹)، و۷۷ (۷۲۶)، و۷۹ (۷۲۸)، و۱۶۱ (۸۵۹)، والوتر ۱ (۹۹۲)، والعمل فی الصلاة ۱ (۱۱۹۸)، وتفسیر آل عمران ۱۹ (۴۵۷۱)، و۲۰ (۴۵۷۲)، واللباس ۷۱ (۵۹۱۹)، والدعوات ۱۰ (۶۳۱۹)، صحیح مسلم/المسافرین ۲۶ (۷۶۳)، سنن ابی داود/ الصلاة ۷۰ (۶۱۰)، و۳۱۶ (۱۳۶۴)، سنن النسائی/الغسل ۲۹ (۴۴۳)، الإمامة ۲۲ (۸۰۷)، وقیام اللیل ۹ (۱۶۲۱)، (تحفة الأشراف : ۶۳۵۶)، مسند احمد (۱/۲۱۵، ۲۵۲، ۲۸۵، ۲۸۷، ۳۴۱، ۳۴۷، ۳۵۴، ۳۵۷، ۳۶۰، ۳۶۵)، سنن الدارمی/الصلاة ۴۳ (۱۲۹۰)
232
Sahih