باب: پچھنا لگوانے کا بیان - باب: پچھنا لگوانے کا بیان - Chapters on medicine - Jam e Tirmazi with Urdu and English Translation
Chapter 12 of Chapters on medicine in Jam e Tirmazi. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Anas narrated:
The Prophet (S.A.W) would get cupped in his jugular veins and his upper back. And he would get cupped on the seventeenth (of the month), (or) the nineteenth, and (or) the twenty first.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دونوں جانب موجود دو پوشیدہ رگوں اور کندھے پر پچھنا لگواتے تھے، اور آپ مہینہ کی سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگواتے تھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور معقل بن یسار رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الطب ۴ (۳۸۶۰)، سنن ابن ماجہ/الطب ۲۱ (۳۴۸۲) (تحفة الأشراف : ۱۱۴۷)، و مسند احمد (۳/۱۱۹)
Ibn Mas'ud said:
The Messenger of Allah (S.A.W) narrated about the Night of Isra', saying that he did not pass an assembly of angels except that they ordered him: 'Order cupping among your Ummah.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات کا حال بیان کیا کہ آپ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے آپ کو یہ حکم ضرور دیا کہ اپنی امت کو پچھنا لگوانے کا حکم دیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابن مسعود کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Abbad bin Mansur narrated from 'Ikrimah who said:
Ibn 'Abbas had three boys who were cuppers. He would use the proceeds from two of them for himself and his family, and one of them would cup him and his family. He said: Ibn 'Abbas said: 'The Prophet (S.A.W) said: 'How excellent is the slave who cups, letting the blood, relieving the back, and clearing the vision. And he said: Indeed the best for you to cup on are the seventeenth, the nineteenth, and the twenty-first. And he said: Indeed the best of what you treat is As-Sa'ut, Al-Ladud, cupping and laxatives. And indeed, The Messenger of Allah (S.A.W) was given medicine by Al-Abbas and his companions. So the The Messenger of Allah (S.A.W) said: Who gave me this medicine? All of them were silent, so he said that there shall not remain anyone in the house but he should be treated with Ladud except for his uncle Al-Abbas.' An-Nadr said: Al-Ladud is Al-Wajur.
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس پچھنا لگانے والے تین غلام تھے، ان میں سے دو ابن عباس اور ان کے اہل و عیال کے لیے غلہ حاصل کرتے تھے اور ایک غلام ان کو اور ان کے اہل و عیال کو پچھنا لگاتا تھا، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والا غلام کیا ہی اچھا ہے، وہ ( فاسد ) خون کو دور کرتا ہے، پیٹھ کو ہلکا کرتا ہے، اور آنکھ کو صاف کرتا ہے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرے انہوں نے یہ ضرور کہا کہ تم پچھنا ضرور لگواؤ، آپ نے فرمایا: ”تمہارے پچھنا لگوانے کا سب سے بہتر دن مہینہ کی سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”سب سے بہتر علاج جسے تم اپناؤ وہ ناک میں ڈالنے کی دوا، منہ کے ایک طرف سے ڈالی جانے والی دوا، پچھنا اور دست آور دوا ہے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں عباس اور صحابہ کرام نے دوا ڈالی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میرے منہ میں کس نے دوا ڈالی ہے؟“ تمام لوگ خاموش رہے تو آپ نے فرمایا: ”گھر میں جو بھی ہو اس کے منہ میں دوا ڈالی جائے، سوائے آپ کے چچا عباس کے“۔ راوی عبد کہتے ہیں: نضر نے کہا: «لدود» سے مراد «وجور» ہے ( حلق میں ڈالنے کی ایک دوا ) ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عباد منصور ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for
YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status —
Arabic with English and Urdu translation, free on
WizTools123.