TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3204 جامع ترمزی

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 23 in this chapter
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَسْتَعْجِلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَايَ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ حَتَّى بَلَغَ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 ـ 29، فَقُلْتُ:‏‏‏‏ فِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَفَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا أَيْضًا عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
Narrated 'Aishah [may Allah be pleased with her]: When the Messenger of Allah (ﷺ) was ordered to tell his wives to make a choice, he started with me. He said: 'O 'Aishah! I am going to mention something to you, but you should not hasten (to reply) until you have consulted your parents.' She said: And he knew that my parents would not have ordered me to part from him.' She said: Then Allah [Most High] revealed: 'O Prophet! Say to your wives: If you desire the life of this world and its glitter then come...' until reaching: '...for the good doers among you an enormous reward (33:28 & 29).' I said: 'For what should I consult my parents? Indeed I want Allah, His Messenger, and the abode of the Hereafter.' The (remaining) wives of the Prophet (ﷺ) did the same as I did.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دے دیں ۱؎ تو آپ نے اپنی اس کاروائی کی ابتداء مجھ سے کی: آپ نے کہا: عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملہ رکھتا ہوں، تم اپنے ماں باپ سے مشورہ لیے بغیر جواب دہی میں جلد بازی نہ کرنا، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ آپ خوب سمجھتے تھے کہ میرے والدین مجھے آپ سے جدائی و علیحدگی اختیار کر لینے کا حکم نہیں دے سکتے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين» سے لے کر یہاں تک «للمحسنات منكن أجرا عظيما» ۲؎ میں نے کہا: کیا میں اس بارے میں ماں باپ سے مشورہ لوں؟ ( نہیں مجھے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں ) میں اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہوں اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں، آپ کی دیگر بیویوں نے بھی ویسا ہی کچھ کہا جیسا میں نے کہا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث زہری سے بھی مروی ہے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے عائشہ سے روایت کی ہے۔
3204
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 5, Book 44, Hadith 3204 Arabic reference : Book 47, Hadith 3509
صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3204
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة الأحزاب ۴ (۴۷۸۵)، صحیح مسلم/الطلاق ۴ (۱۴۷۵)، سنن النسائی/النکاح ۲ (۳۲۰۳)، والطلاق ۲۶ (۳۴۶۹)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ۲۰ (۲۰۵۳) (تحفة الأشراف : ۱۷۷۶۷)، و مسند احمد (۶/۷۸، ۱۰۳، ۱۸۵، ۲۴۸، ۲۶۴)، وسنن الدارمی/الطلاق ۵ (۲۲۷۴)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : یعنی وہ چاہیں تو آپ کے ساتھ رہیں اور تنگی کی زندگی گزاریں، اور اگر دنیا اور دنیا کی زینت چاہتی ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیں۔ ۲؎ : ” اے نبی ! آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ تمہیں اگر دنیا اور دنیا کی زینت چاہیئے تو آؤ میں کچھ دے کر چھوڑ چھاڑ دوں، (طلاق کے ساتھ کچھ مال دے کر بھلے طریقے سے رخصت کر دوں) اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہو اور آخرت کا گھر تمہیں مطلوب ہے تو اللہ نے تم نیکو کاروں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے “ (الاحزاب : ۲۸-۲۹)۔

Related Chapters

1,030
1
باب: سورۃ فاتحہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
2
باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
3
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
4
باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
5
باب: سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
6
باب: سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
7
باب: سورۃ الاعراف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
8
باب: سورۃ الانفال سے بعض آیات کی تفسیر​
Jam e Tirmazi
9
باب: سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
10
باب: سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
11
باب: سورۃ ہود سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
12
باب: سورۃ یوسف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
13
باب: سورۃ الرعد سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
14
باب: سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
15
باب: سورۃ الحجر سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
16
باب: سورۃ النحل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
17
باب: سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
18
باب: سورۃ الکہف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
19
باب: سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
20
باب: سورۃ طہٰ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
21
باب: سورۃ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
22
باب: سورۃ الحج سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
23
باب: سورۃ المومنون سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
24
باب: سورۃ النور سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
25
باب: سورۃ الفرقان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
26
باب: سورۃ الشعراء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
27
باب: سورۃ النمل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
28
باب: سورۃ قص سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
29
باب: سورۃ العنکبوت کی بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
30
باب: سورۃ الروم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
31
باب: سورۃ لقمان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
32
باب: سورۃ السجدہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
33
باب: سورۃ سبا سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
34
باب: سورۃ فاطر (ملائکہ) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
35
باب: سورۃ یس سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
36
باب: سورۃ الصافات سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
37
باب: سورۃ ص سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
38
باب: سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
39
باب: سورۃ مومن سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
40
باب: سورۃ حم سجدہ (سورۃ فصلت) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
41
باب: سورۃ حم عسق (سورۃ شوریٰ) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
42
باب: سورۃ الزخرف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
43
باب: سورۃ الدخان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
44
باب: سورۃ الاحقاف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
45
باب: سورۃ محمد سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
46
باب: سورۃ الفتح سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
47
باب: سورۃ الحجرات سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
48
باب: سورۃ قٓ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
49
باب: سورۃ الذاریات سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
50
باب: سورۃ الطور سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

7
Sahih Muslim
3681
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ، بَدَأَ بِي، فَقَالَ: «إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ»، قَالَتْ: قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، قَالَتْ: ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا} [الأحزاب: 29] ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: فِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ؟ فَإِنِّي أُرِيدُ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَتْ: ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ
A'isha (Allah be pleased with her) reported: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was commanded to give option to his wives, he started it from me saying: I am going to mention to you a matter which you should not (decide) in haste until you have consulted your parents. She said that he already knew that my parents would never allow me to seek separation from him She said: Then he said: Allah, the Exalted and Glorious, said: Prophet, say to thy wives: If you desire this world's life and its adornment, then come, I will give you a provision and allow you to depart a goodly departing; and if you desire Allah and His Messenger and the abode of the Hereafter, then Allah has prepared for the doers of good among you a great reward She is reported to have said: About what should I consult my parents, for I desire Allah and His Messenger and the abode of the Hereafter? She ('A'isha) said: Then all the wives of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) did as I had done
ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دیں تو آپ نے ( اس کی ) ابتدا مجھ سے کی ، اور فرمایا : " میں تم سے ایک بات کرنے لگا ہوں ۔ تمہارے لیے اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے والدین سے مشورہ کرنے تک ( جواب دینے میں ) عجلت سے کام نہ لو ۔ " انہوں نے کہا : آپ کو بخوبی علم تھا کہ میرے والدین مجھے کبھی آپ سے جدا ہونے کا مشورہ نہیں دیں گے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : " اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں ( دنیا کا ) ساز و سامان دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں ۔ اور اگر تم اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے ۔ " ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : میں نے عرض کی : ان میں سے کس بات میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ ، اس کا رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہوں ۔ کہا : پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج نے وہی کیا جو میں نے کیا تھا
Sunnan Ibn e Maja
2053
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة الأحزاب آية 29 دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا عَائِشَةُ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَقَرَأَ عَلَيَّ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا سورة الأحزاب آية 28 الْآيَاتِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ فِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ قَدِ اخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
It was narrated that Aishah said: When the following was revealed: 'But if you desire Allah and His Messenger, (ﷺ) the Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me and said: 'O Aishah I want to say something to you, and you do not have to hasten (in making a decision) until you have consulted your parents. ' She said: He knew, by Allah, that my parents would never tell me to leave him. She said: Then he recited to me: ' O Prophet (Muhammad)! Say to your wives: If you desire the life of this world, and its glitter.' I said: 'Do I need to consult my parents about this? I choose Allah and His Messenger. '
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت: «وإن كنتن تردن الله ورسوله» اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس آ کر فرمایا: عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تم اس میں جب تک اپنے ماں باپ سے مشورہ نہ کر لینا جلد بازی نہ کرنا ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ کی قسم! آپ خوب جانتے تھے کہ میرے ماں باپ کبھی بھی آپ کو چھوڑ دینے کے لیے نہیں کہیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ آیت پڑھی: «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» ( سورة الأحزاب: 28 ) اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش و زیبائش پسند کرتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ دے کر اچھی طرح رخصت کر دوں، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور یوم آخرت کو چاہتی ہو تو تم میں سے جو نیک ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ... ( یہ سن کر ) میں بولی: کیا میں اس میں اپنے ماں باپ سے مشورہ لینے جاؤں گی! میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کر چکی ہوں ۱؎۔
Sahih Muslim
3696
قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا مَضَى تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَدَأَ بِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، وَإِنَّكَ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ، فَقَالَ: «إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ»، ثُمَّ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ، إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ»، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ الْآيَةَ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ} [الأحزاب: 28] حَتَّى بَلَغَ {أَجْرًا عَظِيمًا} [النساء: 40]، قَالَتْ عَائِشَةُ: قَدْ عَلِمَ وَاللهِ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَوَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ؟ فَإِنِّي أُرِيدُ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَ مَعْمَرٌ، فَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَا تُخْبِرْ نِسَاءَكَ أَنِّي اخْتَرْتُكَ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ أَرْسَلَنِي مُبَلِّغًا، وَلَمْ يُرْسِلْنِي مُتَعَنِّتًا»، قَالَ قَتَادَةُ: «صَغَتْ قُلُوبُكُمَا، مَالَتْ قُلُوبُكُمَا
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) said: I came along with Umar until we reached Marr al-Zahran (the name of a place), and the rest of the hadith is the same as narrated by Sulaiman b. Bilal (except with) the variation (of words) that I said: (What) about these two women? He said: They were Hafsa and Umm Salama. And he made this addition: I came to the apartments and in every apartment there was (the noise) of weeping. And this addition was also made: And he (the Holy Prophet) had taken an oath of remaining away from them for a month, and when twenty-nine days had passed, he visited them.
زہری نے کہا : مجھے عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی ، انہوں نے کہا : جب انتیس راتیں گزر گئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، آپ نے میرے ( گھر ) سے ابتدا کی ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ نے قسم کھائی تھی کہ مہینہ بھر ہمارے پاس نہیں آئیں گے ، اور آپ انتیسویں دن تشریف لائے ہیں ، میں انہیں شمار کرتی رہی ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ مہینہ انتیس دن کا ہے ۔ "" پھر فرمایا : "" عائشہ! میں تم سے ایک بات کرنے لگا ہوں ، تمہارے لیے کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے والدین سے بھی مشورہ کرنے تک اس میں جلدی نہ کرو ۔ "" پھر آپ نے میرے سامنے تلاوت فرمائی : "" اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے "" سے لے کر "" بہت بڑا اجر ہے "" تک پہنچ گئے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کی قسم! آپ کو بخوبی علم تھا کہ میرے والدین مجھے کبھی آپ سے جدائی کا مشورہ نہیں دیں گے ۔ کہا : تو میں نے عرض کی : کیا میں اس کے بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ میں یقینا اللہ ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آخرت کے گھر کی طلب گار ہوں ۔ معمر نے کہا : مجھے ایوب نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ اپنی دوسری بیویوں کو نہ بتائیں کہ میں نے آپ کو چن لیا ہے ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے مجھے مبلغ ( پہنچانے والا ) بنا کر بھیجا ہے ، کمزوریاں ڈھونڈنے والا بنا کر نہیں بھیجا ۔ "" قتادہ نے کہا : ( صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ۖ ) ( التحریم : 4 : 66 ) کا معنی ہے : تم دونوں کے دل مائل ہو چکے ہیں
Mishkat
3249
وَعَن جَابر قَالَ: دخل أَبُو بكر رَضِي الله عَنهُ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ النَّاسَ جُلُوسًا بِبَابِهِ لَمْ يُؤْذَنْ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ قَالَ: فَأُذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ فَدَخَلَ ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَوَجَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا حَوْلَهُ نِسَائِهِ وَاجِمًا سَاكِتًا قَالَ فَقُلْتُ: لَأَقُولَنَّ شَيْئًا أُضْحِكُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ خَارِجَةَ سَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «هُنَّ حَوْلِي كَمَا تَرَى يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ» . فَقَامَ أَبُو بكر إِلَى عَائِشَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا وَقَامَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا كِلَاهُمَا يَقُولُ: تَسْأَلِينَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ؟ فَقُلْنَ: وَاللَّهِ لَا نَسْأَلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا أبدا لَيْسَ عِنْدَهُ ثُمَّ اعْتَزَلَهُنَّ شَهْرًا أَوْ تِسْعًا وَعشْرين ثمَّ نزلت هَذِه الْآيَة: (يَا أَيهَا النَّبِي قل لِأَزْوَاجِك) حَتَّى بلغ (للمحسنات مِنْكُن أجرا عَظِيما) قَالَ: فَبَدَأَ بعائشة فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْكِ أَمْرًا أُحِبُّ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَشِيرِي أَبَوَيْكِ» . قَالَتْ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَتَلَا عَلَيْهَا الْآيَةَ قَالَتْ: أَفِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَشِيرُ أَبَوَيَّ؟ بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ وَأَسْأَلُكَ أَنْ لَا تُخْبِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِكَ بِالَّذِي قُلْتُ: قَالَ: «لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا أَخْبَرْتُهَا إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا وَلَا مُتَعَنِّتًا وَلَكِنْ بَعَثَنِي معلما ميسرًا» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے اجازت طلب کرنا چاہی تو انہوں نے لوگوں کو دروازے پر بیٹھے ہوئے پایا جن میں سے کسی کو اجازت نہ ملی تھی ، راوی بیان کرتے ہیں : ابوبکر ؓ کو اجازت مل گئی تو وہ اندر چلے گئے ، پھر عمر ؓ آئے ، انہوں نے اجازت طلب کی تو انہیں بھی اجازت مل گئی ، انہوں نے نبی ﷺ کو پریشانی کے عالم میں خاموش بیٹھا ہوا پایا جبکہ آپ کی ازواج مطہرات آپ کے اردگرد تھیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : انہوں (یعنی عمر ؓ) نے کہا : میں کوئی ایسی بات کہوں گا جس سے نبی ﷺ کو ہنساؤں گا ۔ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر خارجہ کی بیٹی مجھ سے خرچہ مانگتی تو میں اس کی گردن مروڑ دیتا ، رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے اور فرمایا :’’ انہوں نے میرے گرد گھیرا ڈال رکھا ہے ، جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو ، اور مجھ سے خرچہ مانگ رہی ہیں ۔‘‘ (یہ سن کر) ابوبکر ؓ ، عائشہ ؓ کی طرف بڑھے اور ان کی سرزنش کی ، اور عمر ؓ ، حفصہ ؓ کی گردن کوٹنے لگے ، اور وہ دونوں کہہ رہے تھے : تم رسول اللہ ﷺ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتی ہو ، جو ان کے پاس نہیں ہے ، انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم رسول اللہ ﷺ سے کبھی ایسی چیز کا مطالبہ نہیں کریں گی جو آپ کے پاس نہ ہو ، پھر آپ ایک ماہ یا انتیس دن ان سے الگ رہے ، اور پھر یہ آیت نازل ہوئی :’’ اے نبی ! اپنی ازواج سے فرمائیں ...... تم میں سے محسنات کے لیے اجرِ عظیم ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے عائشہ ؓ سے ابتدا فرمائی تو فرمایا :’’ عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات پیش کرنا چاہتا ہوں ، اور میں پسند کرتا ہوں کہ تجھے اس بارے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے جب تک تم اپنے والدین سے مشورہ نہ کر لو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہ کیا بات ہے ؟ آپ نے انہیں وہ آیت سنائی تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں آپ کے بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی ، نہیں ، بلکہ میں اللہ ، اس کے رسول اور دارِ آخرت کو اختیار کرتی ہوں ، اور میں آپ سے مطالبہ کرتی ہوں کہ میں نے آپ سے جو بات کی ہے وہ آپ اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی ایک کو مت بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھ سے تو جو بھی پوچھے گی میں اسے ضرور بتاؤں گا ، کیونکہ اللہ نے مجھے (لوگوں کو) رنج و مشقت میں مبتلا کرنے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ اس نے مجھے آسانی پیدا کرنے والا معلم بنا کر بھیجا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Musnad Ahmad
7160
۔ (۷۱۶۰)۔حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ قَالَ سَأَلْتُ الزُّہْرِیَّ عَنْ الرَّجُلِ یُخَیِّرُ امْرَأَتَہُ فَتَخْتَارُہُ قَالَ حَدَّثَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ أَتَانِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّی سَأَعْرِضُ عَلَیْکِ أَمْرًا فَلَا عَلَیْکِ أَنْ لَا تَعْجَلِی فِیہِ حَتّٰی تُشَاوِرِی أَبَوَیْکِ فَقُلْتُ وَمَا ہٰذَا الْأَمْرُ قَالَتْ فَتَلَا عَلَیَّ {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ إِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا وَزِینَتَہَا فَتَعَالَیْنَ أُمَتِّعْکُنَّ وَأُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیلًا وَإِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ فَإِنَّ اللّٰہَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْکُنَّ أَجْرًا عَظِیمًا۔} قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَقُلْتُ وَفِی أَیِّ ذٰلِکَ تَأْمُرُنِی أُشَاوِرُ أَبَوَیَّ بَلْ أُرِیدُ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ، قَالَتْ فَسُرَّ بِذٰلِکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَعْجَبَہُ وَقَالَ: ((سَأَعْرِضُ عَلٰی صَوَاحِبِکِ مَا عَرَضْتُ عَلَیْکِ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ لَہُ: فَلَا تُخْبِرْہُنَّ بِالَّذِی اخْتَرْتُ، فَلَمْ یَفْعَلْ وَکَانَ یَقُولُ لَہُنَّ کَمَا قَالَ لِعَائِشَۃَ ثُمَّ یَقُولُ: ((قَدْ اِخْتَارَتْ عَائِشَۃُ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ۔)) قَالَتْ عَائِشَۃُ قَدْ خَیَّرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَرَ ذٰلِکَ طَلَاقًا۔ (مسند احمد: ۲۶۰۳۳)
۔ جعفر بن برقان کہتے ہیں: میں نے امام زہری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ سے سوال کیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کورہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیتا ہے، وہ اپنے خاوند کو اختیار کر لیتی ہے، اس کے متعلق کیا رائے ہیں؟ زہری نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت کیا، وہ کہتی ہیں: میرے پاس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ((میں تجھ پر ایک معاملہ پیش کر رہا ہوں،تو نے جواب دینے میں جلدی نہیں کرنا، بلکہ اپنے ماں باپ سے مشورہ کرنا۔ میں نے عرض کیا: وہ کیا معاملہ ہے؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ آیات پڑھ کر سنائیں: {یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا۔ وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۔} … اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آؤ میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اور تمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: بھلا یہ کونسی چیز ہے کہ میںاپنے ماں باپ سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں، اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بہت خوش ہوئے اور یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بہت پسند آئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! جوبات میں نے تمہارے سامنے پیش کی ہے، یہی میں تمہاری دیگر سوکنوں پر پیش کرنے والا ہوں۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: لیکن میں نے جو چیز پسند کی ہے، اس کے بارے میں آپ نے میری سوکنوں کو نہیں بتانا۔لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسا نہیں کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری بیویوں پر یہی بات پیش کی اور سیدہ عائشہ نے جس کو اختیار کیا تھا، وہ بھی ان کو بتایا کہ عائشہ نے اللہ تعالی اور اس کے رسول اور آخرت کو چن لیا ہے۔ تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا، جو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے دیا تھا، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیا اورہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اختیار کر لیا،لیکن اس کو طلاق شمار نہ کیا تھا۔
Musnad Ahmad
8709
۔ (۸۷۰۹)۔ عَنْ أَ بِی سَلَمَۃَ: أَ نَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِتَخْیِیرِ أَزْوَاجِہِ بَدَأَ بِی فَقَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! إِنِّی أَذْکُرُ لَکِ أَ مْرًا وَلَا عَلَیْکِ أَ نْ لَا تَسْتَعْجِلِی حَتّٰی تُذَاکِرِی أَ بَوَیْکِ۔)) قَالَتْ: وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَ بَوَیَّ لَمْ یَکُونَا لِیَأْمُرَانِی بِفِرَاقِہِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ: {یَا أَ یُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِأَ زْوَاجِکَ إِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا وَزِینَتَہَا} حَتّٰیبَلَغَ: {أَ عَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْکُنَّ أَ جْرًا عَظِیمًا} [الأحزاب: ۲۸۔ ۲۹] فَقُلْتُ: فِی أَ یِّ ہٰذَا أَسْتَأْمِرُ أَ بَوَیَّ؟ فَإِنِّی قَدِ اخْتَرْتُ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ، قَالَتْ: ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا فَعَلْتُ، وَفِیْ لَفْظٍ: فَقُلْتُ: قَدِ اخْتَرْتُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ،قَالَتْ: فَرِحَلِذٰلِکَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۶۶۳۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب نے سے پہلے مجھ سے کہا: اے عائشہ! میں آپ سے ایک معاملہ بیان کرنے لگا ہوں، اپنے ماں باپ سے ذکر کئے بغیر جلد بازی سے اس کا جواب نہ دینا۔ جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو علم تھا کہ میرے والدین مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جدا ہونے کا حکم نہیں دیں گے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرمایا ہے: {یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا۔ وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۔} … اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آؤ میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اور تمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ میں نے کہا: کیا میں اس بارے میں والدین سے مشورہ کروں؟ میں نے اللہ تعالیٰ،اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کیا ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سے خوش ہو گئے۔
Sahih Muslim
3690
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ النَّاسَ جُلُوسًا بِبَابِهِ، لَمْ يُؤْذَنْ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ، قَالَ: فَأُذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ، فَدَخَلَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ، فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ، فَوَجَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ، وَاجِمًا سَاكِتًا، قَالَ: فَقَالَ: لَأَقُولَنَّ شَيْئًا أُضْحِكُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ خَارِجَةَ، سَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ، فَقُمْتُ إِلَيْهَا، فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «هُنَّ حَوْلِي كَمَا تَرَى، يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ»، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا، فَقَامَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا، كِلَاهُمَا يَقُولُ: تَسْأَلْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ، فَقُلْنَ: وَاللهِ لَا نَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا أَبَدًا لَيْسَ عِنْدَهُ، ثُمَّ اعْتَزَلَهُنَّ شَهْرًا - أَوْ تِسْعًا وَعِشْرِينَ - ثُمَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةُ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ} [الأحزاب: 28] حَتَّى بَلَغَ {لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا} [الأحزاب: 29]، قَالَ: فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْكِ أَمْرًا أُحِبُّ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَشِيرِي أَبَوَيْكِ»، قَالَتْ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَتَلَا عَلَيْهَا الْآيَةَ، قَالَتْ: أَفِيكَ يَا رَسُولَ اللهِ، أَسْتَشِيرُ أَبَوَيَّ؟ بَلْ أَخْتَارُ اللهَ وَرَسُولَهُ، وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ لَا تُخْبِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِكَ بِالَّذِي قُلْتُ، قَالَ: «لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا أَخْبَرْتُهَا، إِنَّ اللهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا، وَلَا مُتَعَنِّتًا، وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported: Abu Bakr (Allah be pleased with him) came and sought permission to see Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He found people sitting at his door and none amongst them had been granted permission, but it was granted to Abu Bakr and he went in. Then came 'Umar and he sought permission and it was granted to him, and he found Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sitting sad and silent with his wives around him. He (Hadrat 'Umar) said: I would say something which would make the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) laugh, so he said: Messenger of Allah, I wish you had seen (the treatment meted out to) the daughter ofKhadija when you asked me some money, and I got up and slapped her on her neck. Allah's Messenger (mav peace be upon him) laughed and said: They are around me as you see, asking for extra money. Abu Bakr (Allah be pleased with him) then got up went to 'A'isha (Allah be pleased with her) and slapped her on the neck, and 'Umar stood up before Hafsa and slapped her saying: You ask Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) which he does not possess. They said: By Allah, we do not ask Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) for anything he does not possess. Then he withdrew from them for a month or for twenty-nine days. Then this verse was revealed to him: Prophet: Say to thy wives... for a mighty reward (xxxiii. 28). He then went first to 'A'isha (Allah be pleased with her) and said: I want to propound something to you, 'A'isha, but wish no hasty reply before you consult your parents. She said: Messenger of Allah, what is that? He (the Holy Prophet) recited to her the verse, whereupon she said: Is it about you that I should consult my parents, Messenger of Allah? Nay, I choose Allah, His Messenger, and the Last Abode; but I ask you not to tell any of your wives what I have said He replied: Not one of them will ask me without my informing her. God did not send me to be harsh, or cause harm, but He has sent me to teach and make things easy.
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگ رہے تھے ۔ انہوں نے لوگوں کو آپ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے پایا ۔ ان میں سے کسی کو اجازت نہیں ملی تھی ۔ کہا : ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اجازت ملی تو وہ اندر داخل ہو گئے ، پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اجازت مانگی ، انہیں بھی اجازت مل گئی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غمگین اور خاموش بیٹھے ہوئے پایا ، آپ کی بیویاں آپ کے ارد گرد تھیں ۔ کہا : تو انہوں ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں ضرور کوئی ایسی بات کروں گا جس سے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنساؤں گا ۔ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول! کاش کہ آپ بنت خارجہ کو دیکھتے جب اس نے مجھ سے نفقہ کا سوال کیا تو میں اس کی جانب بڑھا اور اس کی گردن دبا دی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ۔ اور فرمایا : "" یہ بھی میرے اردگرد بیٹھی ہیں ، جیسے تم دیکھ رہے ہو ، اور مجھ سے نفقہ مانگ رہی ہیں ۔ "" ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جانب اٹھے اور ان کی گردن پر ضرب لگانا چاہتے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی جانب بڑھے اور وہ ان کی گردن پر مارنا چاہتے تھے ، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اس سے روک دیا ۔ مسند احمد : 3/328 ) اور دونوں کہہ رہے تھے : تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا سوال کرتی ہو جو ان کے پاس نہیں ہے ۔ وہ کہنے لگیں : اللہ کی قسم! آج کے بعد ہم کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیز کا مطالبہ نہیں کریں گی جو آپ کے پاس نہ ہو گی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ یا انتیس دن تک کے لیے ان سے علیحدگی اختیار کر لی ۔ پھر آپ پر یہ آیت نازل ہوئی : "" اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اپنی بیویوں سے کہہ دو ۔ "" حتی کہ یہاں پہنچ گئے : "" تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بڑا اجر ہے ۔ "" ( جابر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : آپ نے ابتدا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کی اور فرمایا : "" اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملہ پیش کر رہا ہوں اور پسند کرتا ہوں کہ تم ، اپنے والدین سے مشورہ کر لینے تک اس میں جلدی نہ کرنا ۔ "" انہوں نے کہا : کیا میں آپ کے بارے میں ، اللہ کے رسول! اپنے والدین سے مشورہ کروں گی! بلکہ میں تو اللہ ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چنتی ہوں ، اور آپ سے یہ درخواست کرتی ہو کہ جو میں نے کہا ہے ، آپ اپنی بیویوں میں سے کسی کو اس کی خبر نہ دیں ۔ آپ نے فرمایا : "" مجھ سے جو بھی پوچھے گی میں اسے بتا دوں گا ، اللہ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا اور لوگوں کے لیے مشکلات ڈھونڈنے والا بنا کر نہیں بھیجا ، بلکہ اللہ نے مجھے تعلیم دینے والا اور آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے