TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3245 - باب: سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر - Chapters on tafsir - Jam e Tirmazi in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 10 of 11 in this chapter
باب: سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ يَهُودِيٌّ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ:‏‏‏‏ لَا وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَرَفَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَدَهُ فَصَكَّ بِهَا وَجْهَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَقُولُ هَذَا وَفِينَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ سورة الزمر آية 68 فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا أَدْرِي أَرَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلِي أَمْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ قَالَ:‏‏‏‏ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذَبَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Hurairah: In the market of Al-Madinah, a Jew said 'No! By the One who chose Musa above all humans.' He said: A man from the Ansar raised his hand and struck him in his face. He said 'You say this while Allah's Prophet (ﷺ) is among us?' So the Messenger of Allah (ﷺ) said 'And the Trumpet will be blown, and all who are in the heavens and all who are on the earth will swoon away, except him whom Allah wills. Then it will blown another time and behold, they will be standing, looking on (39:68). So I shall be the first to raise his head and there will be Musa holding on to one of the supports of the Throne. So I will not know if he raised his head before me, or if he was one of those whom Allah made the exception for. And whoever says: 'I am better than Yunus bin Matta, then he has indeed lied.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے مدینہ کے بازار میں کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں میں سے چن لیا، ( یہ سنا ) تو ایک انصاری شخص نے ہاتھ اٹھا کر ایک طمانچہ اس کے منہ پر مار دیا، کہا: تو ایسا کہتا ہے جب کہ ( تمام انسانوں اور جنوں کے سردار ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ( دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت: «ونفخ في الصور فصعق من في السموات ومن في الأرض إلا من شاء الله ثم نفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون» ”جب صور پھونکا جائے گا آواز کی کڑک سے سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے گا آسمانوں و زمین کے سبھی لوگ غشی کھا جائیں گے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا، تو وہ کھڑے ہو کر دیکھتے ہوں گے ( کہ ان کے ساتھ ) کیا کیا جاتا ہے؟“ ( الزمر: ۶۹ ) ، پڑھی اور کہا: سب سے پہلا سر اٹھانے والا میں ہوں گا تو موسیٰ مجھے عرش کا ایک پایہ پکڑے ہوئے دکھائی دیں گے، میں نہیں کہہ سکتا کہ موسیٰ نے مجھ سے پہلے سر اٹھایا ہو گا یا وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے «إلا من شاء الله» کہہ کر مستثنیٰ کر دیا ہے ۲؎ اور جس نے کہا: میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں اس نے غلط کہا ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
3245
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 5, Book 44, Hadith 3245 Arabic reference : Book 47, Hadith 3553
حسن صحيح تخريج الطحاوية ص // (160 - // 162) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3245
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۵۰۶۲)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : روز حشر کا یہ واقعہ سنانے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ علیہ السلام کی فضیلیت ذکر کرنا چاہتے ہیں نیز اپنی خاکساری کا اظہار فرما رہے ہیں، اپنی خاکساری ظاہری کرنا دوسری بات ہے، اور فی نفسہ موسیٰ علیہ السلام کا تمام انبیاء کے افضل ہونا اور بات ہے البتہ اس طرح کسی نبی کا نام لے کر آپ کے ساتھ مقابلہ کر کے آپ کی فضیلت بیان کرنے والے کو تاؤ میں آ کر مار دینا مناسب نہیں ہے، آپ نے اس وقت یہی تعلیم دہی ہے۔ ۳؎ : حقیقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل نبی ہیں، اور سیدالأنبیاء و الرسل ہیں، لیکن انبیاء کا آپس میں تقابل عام حالات میں صحیح نہیں ہے، بلکہ خلاف ادب ہے، اس کا تواضح و انکساری اور انبیاء و رسل کی غرض و احترام میں آپ نے ادب سکھایا اور اس طرح کے موازنہ پر تنقید فرمائی۔

Related Chapters

1,030
1
باب: سورۃ فاتحہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
2
باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
3
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
4
باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
5
باب: سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
6
باب: سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
7
باب: سورۃ الاعراف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
8
باب: سورۃ الانفال سے بعض آیات کی تفسیر​
Jam e Tirmazi
9
باب: سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
10
باب: سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
11
باب: سورۃ ہود سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
12
باب: سورۃ یوسف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
13
باب: سورۃ الرعد سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
14
باب: سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
15
باب: سورۃ الحجر سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
16
باب: سورۃ النحل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
17
باب: سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
18
باب: سورۃ الکہف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
19
باب: سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
20
باب: سورۃ طہٰ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
21
باب: سورۃ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
22
باب: سورۃ الحج سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
23
باب: سورۃ المومنون سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
24
باب: سورۃ النور سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
25
باب: سورۃ الفرقان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
26
باب: سورۃ الشعراء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
27
باب: سورۃ النمل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
28
باب: سورۃ قص سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
29
باب: سورۃ العنکبوت کی بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
30
باب: سورۃ الروم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
31
باب: سورۃ لقمان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
32
باب: سورۃ السجدہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
33
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
34
باب: سورۃ سبا سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
35
باب: سورۃ فاطر (ملائکہ) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
36
باب: سورۃ یس سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
37
باب: سورۃ الصافات سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
38
باب: سورۃ ص سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
39
باب: سورۃ مومن سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
40
باب: سورۃ حم سجدہ (سورۃ فصلت) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
41
باب: سورۃ حم عسق (سورۃ شوریٰ) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
42
باب: سورۃ الزخرف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
43
باب: سورۃ الدخان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
44
باب: سورۃ الاحقاف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
45
باب: سورۃ محمد سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
46
باب: سورۃ الفتح سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
47
باب: سورۃ الحجرات سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
48
باب: سورۃ قٓ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
49
باب: سورۃ الذاریات سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
50
باب: سورۃ الطور سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,547
Sunnan Ibn e Maja
4274
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ،‏‏‏‏ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ:‏‏‏‏ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ،‏‏‏‏ فَرَفَعَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَدَهُ فَلَطَمَهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ تَقُولُ هَذَا وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ سورة الزمر آية 68،‏‏‏‏ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ،‏‏‏‏ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ،‏‏‏‏ فَلَا أَدْرِي أَرَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلِي،‏‏‏‏ أَوْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ،‏‏‏‏ وَمَنْ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى،‏‏‏‏ فَقَدْ كَذَبَ .
It was narrated that Abu Hurairah said: “A Jewish man said in the marketplace of Al-Madinah: ‘By the One Who chose Musa above all of mankind.’ An Ansari man raised his hand and slapped him. He said: ‘How dare you say this when the Messenger of Allah (ﷺ) is among us?’ Mention of that was made to the Messenger of Allah (ﷺ), and he said: ‘Allah says: “And the trumpet will be blown, and all who are in the heavens and all who are on the earth will swoon away, except him whom Allah wills. Then it will be blown a second time, and behold they will be standing, looking on (waiting).” [39:68] I will be the first one to raise his head, and I will see Musa holding on to one of the pillars of the Throne, and I do not know whether he will have raised his head before me, or he will be one of those whom Allah exempts. And whoever says that I am better than Yunus bin Matta, he is lying.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے مدینہ کے بازار میں کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام لوگوں سے برگزیدہ بنایا، یہ سن کر ایک انصاری نے اس کو ایک طمانچہ مارا، اور کہا: تم ایسا کہتے ہو جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: «ونفخ في الصور فصعق من في السموات ومن في الأرض إلا من شاء الله ثم نفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون» اور صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان والے سب بیہوش ہو جائیں گے، سوائے اس کے جس کو اللہ چاہے، پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تب وہ سب کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے ( سورۃ الزمر: ۶۸ ) ، میں سب سے پہلے اپنا سر اٹھاؤں گا، تو دیکھوں گا کہ موسیٰ ( علیہ السلام ) عرش کا ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں، میں نہیں جانتا کہ انہوں نے مجھ سے پہلے سر اٹھایا، یا وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کر دیا ہے، اور جس نے یہ کہا: میں یونس بن متی سے بہتر ہوں تو اس نے غلط کہا ۱؎۔
Jam e Tirmazi
1150
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الْبَصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏حَدِيثُ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ:‏‏‏‏ الصَّحِيحُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ دِينَارٍ وَزَادَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا هُوَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ َلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ. (حديث موقوف) وَقَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ أُنْزِلَ فِي الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ ، ‏‏‏‏‏‏فَنُسِخَ مِنْ ذَلِكَ خَمْسٌ، ‏‏‏‏‏‏وَصَارَ إِلَى خَمْسِ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَبِهَذَا كَانَتْ عَائِشَةُ تُفْتِي، ‏‏‏‏‏‏وَبَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ ذَهَبَ ذَاهِبٌ، ‏‏‏‏‏‏إِلَى قَوْلِ عَائِشَةَ فِي خَمْسِ رَضَعَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَهُوَ مَذْهَبٌ قَوِيٌّ وَجَبُنَ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يَقُولَ فِيهِ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ:‏‏‏‏ يُحَرِّمُ قَلِيلُ الرَّضَاعِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَثِيرُهُ إِذَا وَصَلَ إِلَى الْجَوْفِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَوَكِيعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلِ الْكُوفَةِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ وَيُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَدِ اسْتَقْضَاهُ عَلَى الطَّائِفِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَدْرَكْتُ ثَلَاثِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Abdullah bin Az-Zubair narrated from Aishah from the Prophet who said: “One sip or two sips do not make a prohibition.”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار یا دو بار چھاتی سے دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام فضل، ابوہریرہ، زبیر بن عوام اور ابن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس حدیث کو دیگر کئی لوگوں نے بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ایک یا دو بار دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی“۔ اور محمد بن دینار نے بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن الزبير عن الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اس میں محمد بن دینار بصریٰ نے زبیر کے واسطے کا اضافہ کیا ہے۔ لیکن یہ غیر محفوظ ہے، ۳- محدثین کے نزدیک صحیح ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے جسے انہوں نے بطریق: «عبد الله بن الزبير عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: صحیح ابن زبیر کی روایت ہے جسے انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے اور محمد بن دینار کی روایت جس میں: زبیر کے واسطے کا اضافہ ہے وہ دراصل ہشام بن عروہ سے مروی ہے جسے انہوں نے اپنے والد عروہ سے اور انہوں نے زبیر سے روایت کی ہے، ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ۶- عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قرآن میں ( پہلے ) دس رضعات والی آیت نازل کی گئی پھر اس میں سے پانچ منسوخ کر دی گئیں تو پانچ رضاعتیں باقی رہ گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو معاملہ انہیں پانچ پر قائم رہا ۲؎، ۷- اور عائشہ رضی اللہ عنہا اور بعض دوسری ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اسی کا فتویٰ دیتی تھیں، اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ ۸- امام احمد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ”ایک بار یا دو بار کے چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی“ کے قائل ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی عائشہ رضی الله عنہا کے پانچ رضعات والے قول کی طرف جائے تو یہ قوی مذہب ہے۔ لیکن انہیں اس کا فتویٰ دینے کی ہمت نہیں ہوئی، ۹- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ جب پیٹ تک پہنچ جائے تو اس سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے۔ یہی سفیان ثوری، مالک بن انس، اوزاعی، عبداللہ بن مبارک، وکیع اور اہل کوفہ کا قول ہے۔
Jam e Tirmazi
2134
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ مُوسَى:‏‏‏‏ يَا آدَمُ، ‏‏‏‏‏‏أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ آدَمُ:‏‏‏‏ وَأَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ أَتَلُومُنِي عَلَى عَمَلٍ عَمِلْتُهُ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَجُنْدَبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Abu Hurairah narrated that the Prophet(S.A.W) said: Adam and Musa argued, Musa said: O Adam! You are the one that Allah created with His Hand, and blew into you of His Spirit, and you misled the people and caused them to be expelled from Paradise.' So Adam said: 'You are Musa, the one Allah selected with His Speech! Are you blaming me for something I did which Allah had decreed for me, before creating the heavens and the earth?' He said: So Adam confuted Musa.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم اور موسیٰ نے باہم مناظرہ کیا، موسیٰ نے کہا: آدم! آپ وہی تو ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی ۱؎ پھر آپ نے لوگوں کو گمراہ کیا اور ان کو جنت سے نکالا؟ آدم نے اس کے جواب میں کہا: آپ وہی موسیٰ ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے گفتگو کرنے کے لیے منتخب کیا، کیا آپ میرے ایسے کام پر مجھے ملامت کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے پہلے میرے اوپر لازم کر دیا تھا؟، آدم موسیٰ سے دلیل میں جیت گئے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند سے یعنی سلیمان تیمی کی روایت سے جسے وہ اعمش سے روایت کرتے ہیں، ۳- اعمش کے بعض شاگردوں نے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ اور بعض نے اس کی سند یوں بیان کی ہے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم»،‏‏‏‏ ۴- کئی اور سندوں سے یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، ۵- اس باب میں عمر اور جندب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
3921
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Sa'eed bin Al-Musayyab: that Abu Hurairah used to say: If I saw hyenas roaming in Al-Madinah, I would not advance upon them. Indeed the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whatever is between its two lava tracts is sacred.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے تھے کہ اگر میں مدینہ میں ہرنوں کو چرتے دیکھوں تو انہیں نہ ڈراؤں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اس کی دونوں پتھریلی زمینوں ۱؎ کے درمیان کا حصہ حرم ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، عبداللہ بن زید، انس، ابوایوب، زید بن ثابت، رافع بن خدیج، سہل بن حنیف اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sahih Muslim
6464
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: حَالَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ، فِي دَارِهِ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ
Anas reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) established fraternity between the Quraish and the Ansar in his house at Medina.
عبدہ بن سلیمان نے عاصم سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں میرے گھر میں قریش اور انصار کو ایک دوسرے کا حلیف بنایا ۔
Sunnan Ibn e Maja
3114
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ، ‏‏‏‏‏‏أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever wishes bad upon the people of Al-Madinah, Allah will cause him to melt as salt melts in water.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ والوں کو جو کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح گھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
22
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِلَاهُمَا عِنْدِي صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّمَا صَحَّ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل فَزَعَمَ أَنَّ حَدِيثَ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ،‏‏‏‏ وَعَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَحُذَيْفَةَ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ وَابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَأُمِّ حَبِيبَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي أُمَامَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي أَيُّوبَ،‏‏‏‏ وَتَمَّامِ بْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ،‏‏‏‏ وَأُمِّ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ،‏‏‏‏ وَأَبِي مُوسَى.
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: If it were not that it would be difficult on my nation, then I would have ordered them to use the Siwak for each prayer.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت کو حرج اور مشقت میں مبتلا کرنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بروایت ابوسلمہ، ابوہریرہ اور زید بن خالد رضی الله عنہما کی مروی دونوں حدیثیں میرے نزدیک صحیح ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کا خیال ہے کہ ابوسلمہ کی زید بن خالد رضی الله عنہ سے مروی حدیث زیادہ صحیح ہے ۲؎، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق، علی، عائشہ، ابن عباس، حذیفہ، زید بن خالد، انس، عبداللہ بن عمرو، ابن عمر، ام حبیبہ، ابوامامہ، ابوایوب، تمام بن عباس، عبداللہ بن حنظلہ، ام سلمہ، واثلہ بن الاسقع اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
91
حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ يُغْسَلُ الْإِنَاءُ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ أَوْ أُخْرَاهُنَّ بِالتُّرَابِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ إِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً. وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ.
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said: Wash the vessel the dog has drunk from seven times: the first or the last of them with dirt. And when the cat drinks out of it, wash it once.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن میں جب کتا منہ ڈال دے تو اسے سات بار دھویا جائے، پہلی بار یا آخری بار اسے مٹی سے دھویا جائے ۱؎، اور جب بلی منہ ڈالے تو اسے ایک بار دھویا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ۳- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے کئی سندوں سے اسی طرح مروی ہے جن میں بلی کے منہ ڈالنے پر ایک بار دھونے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، ۳- اس باب میں عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Jam e Tirmazi
207
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ،‏‏‏‏ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ،‏‏‏‏ عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ،‏‏‏‏ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ،‏‏‏‏ وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ،‏‏‏‏ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَرَوَى نَافِعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وسَمِعْت أَبَا زُرْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَذَكَرَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ أَنَّهُ لَمْ يُثْبِتْ حَدِيثَ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا حَدِيثَ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذَا.
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: The Imam is answerable and the Mu'adh-dhin is entrusted. O Allah! Guide the Imams and pardon the Mu'adh-dhins.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام ضامن ہے ۱؎ اور مؤذن امین ۲؎ ہے، اے اللہ! تو اماموں کو راہ راست پر رکھ ۳؎ اور مؤذنوں کی مغفرت فرما“ ۴؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ، سہل بن سعد اور عقبہ بن عامر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۲- مولف نے حدیث کے طرق اور پہلی سند کی متابعت ذکر کرنے اور ابوصالح کی عائشہ سے روایت کے بعد فرمایا: میں نے ابوزرعہ کو کہتے سنا کہ ابوصالح کی ابوہریرہ سے مروی حدیث ابوصالح کی عائشہ سے مروی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ نیز میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابوصالح کی عائشہ سے مروی حدیث زیادہ صحیح ہے اور بخاری، علی بن مدینی کہتے ہیں کہ ابوصالح کی حدیث ابوہریرہ سے مروی حدیث ثابت نہیں ہے اور نہ ہی ابوصالح کی عائشہ سے مروی حدیث صحیح ہے۔