Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of At-Tasbih, At-Takbir, At-Tahlil, And At-Tahmidباب: تسبیح، تکبیر، تہلیل اور تحمید کی فضیلت کا بیان
Chapter 50 of Chapters on supplication in Jam e Tirmazi. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Abu Hurairah narrated that:
A man was supplicating with his two fingers so the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Make it one, make it one.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی دو انگلیوں کے اشارے سے دعا کرتا تھا تو آپ نے اس سے کہا: ”ایک سے ایک سے“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہی اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی تشہد میں انگلیوں سے اشارہ کرتے وقت صرف ایک انگلی سے اشارہ کرے۔
وضاحت: ۱؎ : جیسا کہ مؤلف نے خود تشریح کر دی ہے کہ یہ تشہد (اولیٰ اور ثانیہ) میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کے بارے میں ہے، تشہد کے شروع ہی سے ترپن کا حلقہ بنا کر شہادت کی انگلی کو باربار اٹھا کر توحید کی شہادت برابر دی جائے گی، نہ کہ صرف «أشہد أن لا إلہ إلا اللہ» پر جیسا کہ ہند و پاک میں رائج ہو گیا ہے، حدیث میں واضح طور پر صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ترپن کا حلقہ بناتے تھے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے، یا حرکت دیتے رہتے تھے، اس میں جگہ کی کوئی قید نہیں ہے۔
Mu`adh bin Rifa`ah narrated from his father, that he said:
“Abu Bakr stood upon the Minbar, then wept, and said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) stood upon the Minbar the first year (of Hijrah), then wept, and said: “Ask Allah for pardon and Al-`Āfiyah, for verily, none has been given anything better than Al-`Āfiyah.’”
رفاعہ بن رافع انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی الله عنہ منبر پر چڑھے، اور روئے، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے پہلے سال منبر پر چڑھے، روئے، پھر کہا: اللہ سے ( گناہوں سے ) عفو و درگزر اور مصیبتوں اور گمراہیوں سے عافیت طلب کرو کیونکہ ایمان و یقین کے بعد کسی بندے کو عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی ابوبکر رضی الله عنہ کی سند سے حسن غریب ہے۔
Abu Bakr narrated:
That the Messenger of Allah (ﷺ) said: “He who seeks forgiveness has not been persistent in sin, even if he does it seventy times in a day.”
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص گناہ کر کے توبہ کر لے اور اپنے گناہ پر نادم ہو تو وہ چاہے دن بھر میں ستر بار بھی گناہ کر ڈالے وہ گناہ پر مُصر اور بضد نہیں مانا جائے گا“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف ابونصیرہ کی روایت سے جانتے ہیں ۳- اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔
Abu Umamah narrated:
That `Umar bin Al-Khattab [may Allah be pleased with him] wore a new garment and said: “All praise is due to Allah who clothed me with what I may cover my `Awrah, and what I may beautify myself with in my life (Al-ḥamdulillāh, alladhī kasānī mā uwārī bihī `awratī, wa atajammalu bihī fī ḥayātī).” Then he said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: ‘Whoever wears a new garment and then says: “Allah praise is due to Allah who clothed me with what I may cover my `Awrah and what I may beautify myself with in my life (Al-ḥamdulillāh, alladhī kasānī mā uwārī bihī `awratī, wa atajammalu bihī fī ḥayātī)” and then he takes the garment that has worn out and gives it in charity, he shall be under Allah’s guard, Allah’s protection, and Allah’s covering, alive and dead.’”
ابوامامہ الباہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں حسن و جمال پیدا کرتا ہوں“، پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”جس نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» پھر اس نے اپنا پرانا ( اتارا ہوا ) کپڑا لیا اور اسے صدقہ میں دے دیا، تو وہ اللہ کی حفاظت و پناہ میں رہے گا زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/اللباس ۲ (۳۵۵۷) (تحفة الأشراف : ۱۰۴۶۷)
`Umar bin Al-Khattab narrated:
That the Prophet (ﷺ) sent an expedition in the direction of Najd. They gained many spoils of war and returned quickly. A man among those who did not go out said: “We have not seen an expedition quicker in return or greater in spoils than this expedition.” So the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Should I not direct you to a group greater in spoils and quicker in return? A group who attended Salat As-Subh, then sat remembering Allah until the sun rose, for these are quicker in return and greater in spoils.”
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک فوج بھیجی تو اس نے بہت ساری غنیمت حاصل کیا اور جلد ہی لوٹ آئی، ( جنگ میں ) نہ جانے والوں میں سے ایک نے کہا: میں نے اس فوج سے بہتر کوئی فوج نہیں دیکھی جو اس فوج سے زیادہ جلد لوٹ آنے والی اور زیادہ مال غنیمت لے کر آنے والی ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم لوگوں کو ایک ایسے لوگوں کی ایک جماعت نہ بتاؤں جو زیادہ غنیمت والی اور جلد واپس آ جانے والی ہو؟ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز فجر میں حاضر ہوتے ہیں پھر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں یہاں تک کہ سورج نکل آتا ہے یہ لوگ ( ان سے ) جلد لوٹ آنے والے اور ( ان سے ) زیادہ مال غنیمت لانے والے ہیں“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حماد بن ابی حمید یہ محمد بن ابی حمید ہیں، اور یہ ابوابراہیم انصاری مدنی ہیں ۱؎۔ حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں۔
Ibn `Umar narrated from `Umar:
that he sought permission from the Prophet (ﷺ) concerning `Umrah, so he said: “O my little brother, include us in your supplication and do not forget us.”
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت مانگی تو آپ نے ( اجازت دیتے ہوئے ) کہا: ”اے میرے بھائی! اپنی دعا میں ہمیں بھی شریک رکھنا، بھولنا نہیں“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصلاة ۳۵۸ (۱۴۹۸)، سنن ابن ماجہ/المناسک ۵ (۲۸۹۴)
Al-Bara’ bin `Azib narrated that the Prophet (ﷺ) said:
“When you go to your bed, perform the Wudu’ as you would perform for Salat. Then lie on your right side, then say: ‘O Allah, I submit my face to You, and I entrust my affair to You, and I lay myself down relying upon You, hoping in You and fearing You. There is no refuge nor escape from You except to You. I believe in Your Book which You have revealed, and in Your Prophet whom You have sent (Allāhumma aslamtu wajhī ilaika wa fawwaḍtu amrī ilaika, wa alja’tu ẓahrī ilaika, raghbatan wa rahbatan ilaika, lā malja’a wa lā manjā minka illā ilaika, āmantu bikitābikalladhī anzalta wa bi-nabiyykalladhī arsalt).’ And if you die that night, you shall die upon the Fitrah” - Al-Bara’ said: I repeated it to retain it in memory, “So I said: ‘I believe in Your Messenger whom You have sent.’” He said: “So he (ﷺ) struck with his hand upon my chest, then said: ‘And in Your Prophet whom You have sent.’”
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے بستر پر سونے کے لیے جاؤ تو جس طرح نماز کے لیے وضو کرتے ہو ویسا ہی وضو کر کے جاؤ، پھر داہنے کروٹ لیٹو، پھر ( یہ ) دعا پڑھو: «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» ”اے اللہ! میں تیرا تابع فرمان بندہ بن کر تیری طرف متوجہ ہوا، اپنا سب کچھ تجھے سونپ دیا، تجھ سے ڈرتے ہوئے اور رغبت کرتے ہوئے میں نے تیرا سہارا لیا، نہ تو میری کوئی امید گاہ ہے اور نہ ہی کوئی جائے نجات، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اتاری ہے اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے“، پس اگر تو اپنی اس رات میں مر گیا تو فطرت ( اسلام ) پر مرے گا، براء رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے دعا کے ان الفاظ کو دہرایا تاکہ یاد ہو جائیں تو دہراتے وقت میں نے کہا: «آمنت برسولك الذي أرسلت» کہہ لیا تو آپ نے فرمایا: ” ( رسول نہ کہو بلکہ ) «آمنت بنبيك الذي أرسلت» کہو، میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث براء بن عازب سے کئی سندوں سے آئی ہے مگر اس رات کے سوا کسی بھی روایت میں ہم یہ نہیں پاتے کہ وضو کا ذکر کیا گیا ہو۔
Mu`adh bin `Abdullah bin Khubaib, narrated from his father, who said:
“We went out on a rainy and extremely dark night, looking for the Messenger of Allah (ﷺ), so that he could lead us in Salat.” He said: “So I met him and he (ﷺ) said: ‘Speak’ but I did not say anything. Then he (ﷺ) said: ‘Speak.’ But I did not say anything. He (ﷺ) said: ‘Speak.’ So I said: ‘What should I say?’ He (ﷺ) said: ‘Say: “Say: He is Allah, the One” and Al-Mu`awwidhatain, when you reach evening, and when you reach morning, three times, they will suffice you against everything.’”
عبداللہ بن خبیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک بارش والی سخت تاریک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے نکلے تاکہ آپ ہمیں نماز پڑھا دیں، چنانچہ میں آپ کو پا گیا، آپ نے فرمایا: ”کہو ( پڑھو ) “، تو میں نے کچھ نہ کہا: ”کہو“ آپ نے پھر فرمایا، مگر میں نے کچھ نہ کہا، ( کیونکہ معلوم نہیں تھا کیا کہوں؟ ) آپ نے پھر فرمایا: ”کہو“، میں نے کہا: کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل هو الله أحد» اور «المعوذتين» ( «قل أعوذ برب الفلق»، «قل أعوذ برب الناس» ) صبح و شام تین مرتبہ پڑھ لیا کرو، یہ ( سورتیں ) تمہیں ہر شر سے بچائیں گی اور محفوظ رکھیں گی۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابوسعید براد: یہ اسید بن ابی اسید مدنی ہیں۔
`Uthman bin Hunaif narrated that a blind man came to the Prophet (ﷺ) and said:
“Supplicate to Allah to heal me.” He (ﷺ) said: “If you wish I will supplicate for you, and if you wish, you can be patient, for that is better for you.” He said: “Then supplicate to Him.” He said: “So he ordered him to perform Wudu’ and to make his Wudu’ complete, and to supplicate with this supplication: ‘O Allah, I ask You and turn towards You by Your Prophet Muhammad (ﷺ), the Prophet of Mercy. Indeed, I have turned to my Lord, by means of You, concerning this need of mine, so that it can be resolved, so O Allah so accept his intercession for me (Allāhumma innī as’aluka wa atawajjahu ilaika binabiyyka Muḥammadin nabi-ir-raḥmati, innī tawajjahtu bika ila rabbī fī ḥājatī hādhihī lituqḍā lī, Allāhumma fashaffi`hu fīyya).’”
عثمان بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے عافیت دے، آپ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں دعا کروں اور اگر چاہو تو صبر کیے رہو، کیونکہ یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ( و سود مند ) ہے“۔ اس نے کہا: دعا ہی کر دیجئیے، تو آپ نے اسے حکم دیا کہ ”وہ وضو کرے، اور اچھی طرح سے وضو کرے اور یہ دعا پڑھ کر دعا کرے: «اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة إني توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى لي اللهم فشفعه» ”اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیرے نبی محمد جو نبی رحمت ہیں کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، میں نے آپ کے واسطہ سے اپنی اس ضرورت میں اپنے رب کی طرف توجہ کی ہے تاکہ تو اے اللہ! میری یہ ضرورت پوری کر دے تو اے اللہ تو میرے بارے میں ان کی شفاعت قبول کر ۱؎“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں یعنی ابو جعفر کی روایت سے، ۲- اور ابوجعفر خطمی ہیں ۳- اور عثمان بن حنیف یہ سہل بن حنیف کے بھائی ہیں۔
وضاحت: ۱؎ : یہی وہ مشہور روایت ہے جس سے انبیاء اور اولیاء کی ذات سے وسیلہ پکڑنے کے جواز پر استدلال کیا جاتا ہے، بعض محدثین نے تو اس حدیث کی صحت پر کلام کیا ہے، اور جو لوگ اس کو صحیح قرار دیتے ہیں، ان میں سے سلفی منہج و فکر کے علماء (جیسے امام ابن تیمیہ و علامہ البانی نے اس کی توجیہ کی ہے کہ نابینا کو اپنی ذات بابرکات سے وسیلہ پکڑنے کا مشورہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیا تھا، بلکہ آپ کی دعا کو قبول کرنے کی دعا اس نے کی، اور اب آپ کی وفات کے بعد ایسا نہیں ہو سکتا، اسی لیے عمر رضی الله عنہ نے قحط پڑنے پر آپ کی قبر شریف کے پاس آ کر آپ سے دعا کی درخواست نہیں کی، (آپ کی ذات سے وسیلہ پکڑنے کی بات تو دور کی ہے) بلکہ انہوں نے آپ کے زندہ چچا عباس رضی الله عنہ سے دعا کرائی، اور تمام صحابہ نے اس پر ہاں کیا، تو گویا یہ بات تمام صحابہ کے اجماع سے ہوئی، کسی صحابی نے یہ نہیں کہا کہ کیوں نہ نابینا کی طرح آپ سے دعا کی درخواست کی جائے، اور اس دعا یا آپ کی ذات کو وسیلہ بنایا جائے۔
Abu Umamah [may Allah be pleased with him] said:
`Amr bin `Abasah reported to me that he heard the Prophet (ﷺ) say: “The closest that the Lord is to a worshipper is during the last part of the night, so if you are able to be of those who remember Allah in that hour, then do so.”
عمرو بن عنبسہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”رب تعالیٰ اپنے بندے سے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری نصف حصے کے درمیان میں ہوتا ہے، تو اگر تم ان لوگوں میں سے ہو سکو جو رات کے اس حصے میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو تم بھی اس ذکر میں شامل ہو کر ان لوگوں میں سے ہو جاؤ ( یعنی تہجد پڑھو ) “۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
`Umarah bin Za`karah said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying; ‘Indeed, Allah, the Mighty and Sublime, says: “Indeed My worshipper who is entirely My slave is the one who remembers Me when he is about to meet his enemy.” That is: “At the time of fighting.”
عمارہ بن زعکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ میرا بندہ کامل بندہ وہ ہے جو مجھے اس وقت یاد کرتا ہے جب وہ جنگ کے وقت اپنے مدمقابل ( دشمن ) کے سامنے کھڑا ہو رہا ہوتا ہے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اس کی سند قوی نہیں ہے، اس ایک حدیث کے سوا ہم عمارہ بن زعکرہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اور روایت نہیں جانتے، ۲- اللہ کے قول «وهو ملاق قرنه» کا معنی و مطلب یہ ہے کہ لڑائی و جنگ کے وقت، یعنی ایسے وقت اور ایسی گھڑی میں بھی وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے۔
`Umar bin Al-Khattab said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) taught me, saying: ‘Say: “O Allah, make my secret better than my apparent condition, and make my apparent condition righteous. O Allah, I ask You for the righteous of what you give to the people, of wealth, wives, and children, not (to be) misguided, nor misguiding. (Allāhummaj`al sarīratī khairan min `alāniyatī waj`al `alāniyatī ṣāliha. Allāhumma innī as’aluka min ṣālihi mā tu’tin-nāsa minal-māli wal-ahli wal waladi, ghairaḍ-ḍāli wa lal-muḍil).”
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا، آپ نے فرمایا: ”کہو «اللهم اجعل سريرتي خيرا من علانيتي واجعل علانيتي صالحة اللهم إني أسألك من صالح ما تؤتي الناس من المال والأهل والولد غير الضال ولا المضل» ”اے اللہ! میرا باطن میرے ظاہر سے اچھا کر دے اور میرے ظاہر کو نیک کر دے۔ اور لوگوں کو جو مال تو بیوی اور بچے کی شکل میں دیتا ہے ان میں سے اچھا مال دے جو نہ خود گمراہ ہوں اور نہ دوسروں کو گمراہ کریں“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور اس کی سند قوی نہیں ہے۔
`Asim bin Kulaib Al-Jarmi narrated from his father, from his grandfather, who said:
“I entered upon the Prophet (ﷺ) while he was praying and he had placed his left hand on his left thigh, and he had placed his right hand on his right thigh, and clasped his fingers, and extended his index finger, and he was saying: ‘O changer of the hearts, make my heart firm upon Your religion (Yā muqallibal-qulūbi thabbit qalbī `alā dīnik).’”
عاصم بن کلیب بن شہاب کے دادا شہاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نماز پڑھا رہے تھے، آپ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا تھا، اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھا، انگلیاں بند کی تھیں ( یعنی مٹھی باندھ رکھی تھی ) اور «سبابہ» ( شہادت کی انگلی ) کھول رکھی تھی اور آپ یہ دعا کر رہے تھے: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ”اے دلوں کے پھیرنے والے میرا دل اپنے دین پر جما دے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔