Every available translation of Surat ul Baqara, verse 249, side by side - Urdu, English, Hindi and Roman - with the Arabic text above them.
|
فَلَمَّا
پس جب
|
فَصَلَ
جدا ہوا
|
طَالُوۡتُ
طالوت
|
بِالۡجُنُوۡدِ
ساتھ لشکروں کے
|
قَالَ
اس نے کہا
|
اِنَّ
بیشک
|
اللّٰہَ
اللہ تعالی
|
مُبۡتَلِیۡکُمۡ
آزمانے والا ہے تمہیں
|
بِنَہَرٍ
ایک نہر سے
|
فَمَنۡ
تو جس نے
|
شَرِبَ
پیا
|
مِنۡہُ
اس سے
|
فَلَیۡسَ
تو نہیں وہ
|
مِنِّیۡ
مجھ سے
|
وَمَنۡ
اور جس نے
|
لَّمۡ
نہ
|
یَطۡعَمۡہُ
چکھا اسے
|
فَاِنَّہٗ
تو بیشک وہ
|
مِنِّیۡۤ
مجھ سے ہے
|
اِلَّا
مگر
|
مَنِ
جو
|
اغۡتَرَفَ
چلو بھر لے
|
غُرۡفَۃًۢ
ایک چلو
|
بِیَدِہٖ
اپنے ہاتھ سے
|
فَشَرِبُوۡا
تو انہوں نے پی لیا
|
مِنۡہُ
اس سے
|
اِلَّا
مگر
|
قَلِیۡلًا
بہت تھوڑوے
|
مِّنۡہُمۡ
ان میں سے
|
فَلَمَّا
پھر جب
|
جَاوَزَہٗ
اس نے پار کیا اسے
|
ہُوَ
اس نے
|
وَالَّذِیۡنَ
اور انہوں نے جو
|
اٰمَنُوۡا
ایمان لائے تھے
|
مَعَہٗ
ساتھ اس کے
|
قَالُوۡا
انہوں نے کہا
|
لَاطَاقَۃَ
نہیں کوئی طاقت
|
لَنَا
ہمارے لیے
|
الۡیَوۡمَ
آج
|
بِجَالُوۡتَ
ساتھ جالوت
|
وَجُنُوۡدِہٖ
اور اس کے لشکروں کے
|
قَالَ
کہا
|
الَّذِیۡنَ
انہوں نے جو
|
یَظُنُّوۡنَ
یقین رکھتے تھے
|
اَنَّہُمۡ
کہ بیشک وہ
|
مُّلٰقُوا
ملاقات کرنے والے ہیں
|
اللّٰہِ
اللہ سے
|
کَمۡ
کتنی ہی
|
مِّنۡ فِئَۃٍ
جماعتیں
|
قَلِیۡلَۃٍ
کم (تعداد )کی
|
غَلَبَتۡ
غالب آجاتی ہیں
|
فِئَۃً
جماعتوں پر
|
کَثِیۡرَۃًۢ
کثیر (تعداد) کی
|
بِاِذۡنِ اللّٰہِ
اللہ کے اذن سے
|
وَاللّٰہُ
اور اللہ
|
مَعَ
ساتھ ہے
|
الصّٰبِرِیۡنَ
صبر کرنے والوں کے
|
|
فَلَمَّا
پس جب
|
فَصَلَ
جدا ہوا
|
طَالُوۡتُ
طالوت
|
بِالۡجُنُوۡدِ
ساتھ فوجوں کے
|
قَالَ
اس نے کہا
|
اِنَّ
بیشک
|
اللّٰہَ
اللہ تعالیٰ
|
مُبۡتَلِیۡکُمۡ
آزمانے والا ہے تمہیں
|
بِنَہَرٍ
ایک نہر کے ذریعے
|
فَمَنۡ
چنانچہ جس نے
|
شَرِبَ
پیا
|
مِنۡہُ
اس میں سے
|
فَلَیۡسَ
تو نہیں ہے
|
مِنِّیۡ
مجھ سے
|
وَمَنۡ
اور جس نے
|
لَّمۡ یَطۡعَمۡہُ
نہ چکھا اسے
|
فَاِنَّہٗ
تو یقینا ًوہ
|
مِنِّیۡۤ
مجھ سے ہے
|
اِلَّا
مگر
|
مَنِ
جوکوئی
|
اغۡتَرَفَ
بھر لے
|
غُرۡفَۃًۢ
ایک چلو
|
بِیَدِہٖ
ساتھ اپنے ہاتھ کے
|
فَشَرِبُوۡا
سو ان سب نے پیا
|
مِنۡہُ
اس میں سے
|
اِلَّا
سوائے
|
قَلِیۡلًا
تھوڑے لوگوں کے
|
مِّنۡہُمۡ
ان میں سے
|
فَلَمَّا
چنانچہ جب
|
جَاوَزَہٗ
پار کر لیا اسے
|
ہُوَ
اس نے
|
وَالَّذِیۡنَ
اور ان لوگوں نے جو
|
اٰمَنُوۡا
ایمان لائے
|
مَعَہٗ
ساتھ اس کے
|
قَالُوۡا
انہوں نے کہا
|
لَا
نہیں
|
طَاقَۃَ
طاقت
|
لَنَا
ہمارے لیے
|
الۡیَوۡمَ
آج
|
بِجَالُوۡتَ
جالوت کےساتھ
|
وَجُنُوۡدِہٖ
اور اس کےفوجوں کےساتھ
|
قَالَ
کہا
|
الَّذِیۡنَ
ان لوگوں نے
|
یَظُنُّوۡنَ
جو یقین رکھتے تھے
|
اَنَّہُمۡ
یقیناً وہ
|
مُّلٰقُوا
ملاقات کرنے والے ہیں
|
اللّٰہِ
اللہ تعالیٰ سے
|
کَمۡ
کتنی ہی
|
مِّنۡ فِئَۃٍ
جماعتیں تھیں
|
قَلِیۡلَۃٍ
تھوڑی
|
غَلَبَتۡ
غالب آگئیں
|
فِئَۃً
جماعتوں پر
|
کَثِیۡرَۃًۢ
بڑی
|
بِاِذۡنِ
ساتھ حکم کے
|
اللّٰہِ
اللہ تعالیٰ کے
|
وَاللّٰہُ
اور اللہ تعا لٰی
|
مَعَ
ساتھ ہے
|
الصّٰبِرِیۡنَ
صبر کرنے والوں کے
|
And when Saul went forth with the soldiers, he said, "Indeed, Allah will be testing you with a river. So whoever drinks from it is not of me, and whoever does not taste it is indeed of me, excepting one who takes [from it] in the hollow of his hand." But they drank from it, except a [very] few of them. Then when he had crossed it along with those who believed with him, they said, "There is no power for us today against Goliath and his soldiers." But those who were certain that they would meet Allah said, "How many a small company has overcome a large company by permission of Allah . And Allah is with the patient."
جب ( حضرت ) طالوت لشکروں کو لے کر نکلے تو کہا سنو اللہ تعالٰی تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے ، جس نے اس میں سے پانی پی لیا وہ میرا نہیں اور جو اسے نہ چکھے وہ میرا ہے ، ہاں یہ اور بات ہے کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے ۔ لیکن سوائے چند کے باقی سب نے وہ پانی پی لیا ( حضرت ) طالوت مومنین سمیت جب نہر سے گزر گئے تو وہ لوگ کہنے لگے آج تو ہم میں طاقت نہیں کہ جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑیں لیکن اللہ تعالٰی کی ملاقات پر یقین رکھنے والوں نے کہا بسا اوقات چھوٹی اور تھوڑی سی جماعتیں بڑی اور بہت سی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غلبہ پا لیتی ہیں ، اللہ تعالٰی صبر والوں کے ساتھ ہے ۔
پھر جب طالوت اپنے لشکروں سمیت چل کھڑا ہوا تو اس نے ان سے کہا کہ (راستے میں) ایک نہر ہے جس سے اللہ تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ جس نے اس نہر سے (سیر ہو کر) پانی پی لیا وہ میرا ساتھی نہیں۔ میرا ساتھی وہ ہے جو اسے نہ چکھے۔ الا یہ کہ چلو بھر پانی لے لے۔ پھر ماسوائے چند آدمیوں کے سب نے سیر ہو کر اس نہر سے پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اور اس کے لشکری اس نہر سے آگے گئے۔ تو طالوت کے لشکری کہنے لگے : آج ہمیں جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑنے کی طاقت نہیں۔ البتہ ان میں سے وہ لوگ، جو یہ یقین رکھتے تھے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں، کہنے لگے : کئی دفعہ ایسا ہوا کہ تھوڑی سی جماعت اللہ کے حکم سے بڑی جماعت پر غالب رہی ہے اور اللہ تو صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
پس جب طالوت فوجوں کے ساتھ جداہوا تواس نے کہا: ’’اﷲ تعالیٰ تمہیں یقیناًایک نہرکے ذریعے آزمانے والاہے چنانچہ جس نے اس میں سے پیاوہ مجھ سے نہیں اورجس نے اسے نہ چکھاتویقیناًوہ میرا ہے مگرجو کوئی اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے۔‘‘سو ان میں سے تھوڑے لوگوں کے سواسب نے پیاچنانچہ جب طالوت نے اوران لوگوں نے جواس کے ساتھ ایمان لائے انہوں نے دریاپارکرلیاتو انہوں نے کہا: ’’آج ہم میں جالوت اوراس کی فوجوں کامقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔‘‘ لیکن جو یقین رکھتے تھے کہ وہ اﷲ تعالیٰ سے ملاقات کرنے والے ہیں اُنہوں نے کہا: ’’کتنی ہی چھوٹی چھوٹی جماعتیں اﷲ تعالیٰ کے حکم سے بڑی بڑی جماعتوں پرغالب آگئیں!‘‘اوراﷲ تعالیٰ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔
So, when &Talut& set out along with the troops, he said: |"Allah is going to test you by a river, so, whoever drinks from it is not my man, and whoever does not taste it is surely a man of mine, except the one who scoops a little with his hand.|" Then, they drank from it, except a few of them. So, when he crossed it and (crossed) those who believed with him, they said: |"There is no strength with us today against &Jalut جالوت &55 and his troops.|" Said those who believed that they were to meet Allah: |"How many small groups have overcome the large groups by the will of Allah. And Allah is with the patient.|"
پھر جب باہر نکلا طالوت فوجیں لے کر کہا بیشک اللہ تمہاری آزمائش کرتا ہے ایک نہر سے سو جس نے پانی پیا اس نہر کا تو وہ میرا نہیں اور جس نے اس کو نہ چکھا تو وہ بیشک میرا ہے مگر جو کوئی بھرے ایک چلو اپنے ہاتھ سے، پھر پی لیا سب نے اس کا پانی مگر تھوڑوں نے ان میں سے پھر جب پار ہوا طالوت اور ایمان والے ساتھ اس کو تو کہنے لگے طاقت نہیں ہم کو آج طالوت اور اس کے لشکروں سے لڑنے کی کہنے لگے وہ لوگ جن کو خیال تھا کہ ان کو اللہ سے ملنا ہے، بارہا تھوڑی جماعت غالب ہوئی بڑی جماعت پر اللہ کے حکم سے اور اللہ صبر کرنیوالوں کے ساتھ ہے
پھر جب طالوت اپنے لشکروں کو لے کر چلے تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش کرے گا ایک دریا سے (یعنی دریائے اُردن) تو جو اس میں سے (پیٹ بھر کر) پانی پئے گا وہ میرا ساتھی نہیں ہے اور جو اس میں سے پانی نہیں پئے گا وہ میرا ساتھی ہے سوائے اس کے کہ کوئی اپنے ہاتھ سے صرف چلوّ بھر پانی لے کر پی لے تو انہوں نے اس میں سے (خوب جی بھر کر) پانی پیا سوائے ان میں سے ایک قلیل تعداد کے تو جب دریا پار کر کے آگے بڑھے طالوت اور اس کے ساتھی اہل ایمان تو انہوں نے کہا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے تو کہا ان لوگوں نے جو یقین رکھتے تھے کہ انہیں (ایک دن) اللہ سے ملاقات کرنی ہے کہ کتنی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک چھوٹی جماعت بڑی جماعت پر غالب آگئی اللہ کے حکم سے اور اللہ تو صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
پھرجب طالوت لشکر لے کر چلا ، تو اس نے کہا: ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے ۔ جو اس کا پانی پیے گا ، وہ میرا ساتھی نہیں ۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے ، ہاں ایک آدھ چلّو تو کوئی پی لے مگر ایک گروہ قلیل کے سوا وہ سب اس دریا سے سیراب ہوئے ۔ 271 پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کر کے آگے بڑھے ، تو انہوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے ۔ 272 لیکن جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انھیں ایک دن اللہ سے ملنا ہے ، انھوں نے کہا: بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے ۔ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے ۔
چنانچہ جب طالوت لشکر کے ساتھ روانہ ہوا تو اس نے ( لشکر والوں سے ) کہا کہ : اللہ ایک دریا کے ذریعے تمہارا امتحان لینے والا ہے ، جو شخص اس دریا سے پانی پیے گا وہ میرا آدمی نہیں ہوگا ، اور جو اسے نہیں چکھے گا وہ میرا آدمی ہوگا ، الا یہ کہ کوئی اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے ( تو کچھ حرج نہیں ) ( ١٦٧ ) پھر ( ہوا یہ کہ ) ان میں سے تھوڑے آدمیوں کے سوا باقی سب نے اس دریا سے ( خوب ) پانی پیا ۔ چنانچہ جب وہ ( یعنی طالوت ) اور اس کے ساتھ ایمان رکھنے والے دریا کے پار اترے ، تو یہ لوگ ( جنہوں نے طالوت کا حکم نہیں مانا تھا ) کہنے لگے کہ : آج جالوت اور اس کے لشکر کا مقابلہ کرنے کی ہم میں بالکل طاقت نہیں ہے ۔ ( مگر ) جن لوگوں کا ایمان تھا کہ وہ اللہ سے جا ملنے والے ہیں انہوں نے کہا کہ : نجانے کتنی چھوٹی جماعتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں ، اور اللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں ۔
پھر جب طالوت جو جوں سمیت اپنے مام سے نکلا تو کہنے لگا اللہ تم کو پانی کی ایک نہر سے آزمائے گا جو کوئی اس میں سے کر یا پیٹ بھر کر پی لے وہ میرا نہیں اور جو نہ پئے اس کو وہ میرا ہے 1 مگر ایک چلو ہاتھ سے لے لے اور پی لے تو قباحت نہیں پھر سبھوں نے اس کا پانی پی لیا مگر تھوڑے لوگوں نے 3 جب طالات اور اس کے ساتھ والے ایمندار نہر کے پار ہوئے تو کہنے لگے آج تو ہم کو جالوت اور اسکی فوجوں سے لڑنے کی طاقت نہیں 3 جن لوگوں کو خدا سے ملنے کا یقین تھا انہوں کہا ایسابہت ہوا ہے کہ تھوڑی جماعت بڑی جماعت پر اللہ کے حکم غالب ہوگئی ہے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر چلے تو فرمایا بیشک اللہ تم کو نہر سے آزمائیں گے پھر جو اس میں سے پی لے گا تو وہ میرے ساتھیوں میں نہیں اور جو کوئی اسے نہیں چکھے گا تو وہ میرا ساتھی ہوگا سوائے اس کے کوئی اپنے ہاتھ سے چلو بھر لے پھر ان میں سے سوائے تھوڑے لوگوں کے (سب نے) اس سے پی لیا پھر جب وہ (طالوت) اور ایمان والے لوگ جو ان کے ساتھ تھے اس کے پار اترے تو وہ کہتے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکرکے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں۔ جو اللہ سے ملاقات پر یقین رکھتے تھے انہوں نے کہا کتنی ہی تھوڑی جماعتوں نے اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غلبہ پایا اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں
پھر جب طالوت لشکر کو لے کر نکلا تو اس نے کہا تمہیں اللہ ایک نہر کے ذریعہ آزمائے گا جس نے اس نہر سے پانی پیاوہ میرا نہیں ہے اور جس نے اس کو نہ چکھا وہ میرا ہے سوائے اس کے جو ایک چلو پانی بھر لے۔ پھر سوائے کچھ لوگوں کے سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالو ت اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے دریا پار کر گئے تو کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم میں یہ طاقت نہیں ہے کہ آج جالوت اور اس کے لشکر کا مقابلہ کرسکیں۔ اور وہ لوگ جو یہ سمجھتے تھے کہ انہیں اللہ سے ملنا ہے انہوں نے کہا کتنی ہی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ چھوٹی چھوٹی جماعتیں محض اللہ کے حکم سے بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آگئی ہیں اور اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو صبر کرنے والے ہیں
غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ) وہ میرا نہیں۔ اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائے گا کہ) میرا ہے۔ ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے (تو خیر۔ جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے۔ تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ ان کو خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسااوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے
Then when Talut sallied forth with the hosts, he said, verily God will prove you with a river: then whosoever drinketh thereof shall be none of mine, and whosoever tasteth it not, verily shall be mine, excepting him who ladeth a lading with his hand. But they drank thereof, save a few of them. Then when he had crossed it, he, and those who believe with him, they said: We have no strength to-day against Jalut and his hosts. But those who imagined that they were going to meet Allah Said how oft hath a small party prevailed against a large party by God's leave! And Allah is with the patiently persevering.
پھر جب طالوت فوجوں کو لے کر بڑھے تو بولے ۔ کہ اللہ تمہارے امتحان ایک دریا کے ذریعہ سے لینا چاہتا ہے ۔ سو جو کوئی اس میں سے پانی پی لے گا وہ میرا نہیں ہے ۔ اور جو کوئی اسے نہ چکھے سو وہی میرا ہے مگر ہاں جو کوئی اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے لے (اس کا مضائقہ نہیں) ۔ ۔ لیکن ان (سب) نے اس سے پی لیا بجز ان میں سے تھوڑے سے (آدمیوں) کے ۔ پھر جب طالوت اور مومنین بھی ان کے ساتھ اس (دریا) سے اتر گئے تو وہ بولے کہ آج تو ہم میں جالوت اور اس کی فوجوں سے مقابلہ کی طاقت نہیں ۔ اور وہ لوگ جنہیں یقین تھا کہ اللہ کے روبروپیش ہوں گے ۔ بولے کہ بارہا چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتیں پر اللہ کے حکم سے غالب آگئی ہیں ۔ اور اللہ تو صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔
پھر جب طالوت فوجوں کو لے کر چلے تو انہوں نے بتایا کہ اللہ ایک ندی کے ذریعہ سے تمہاری جانچ کرنے والا ہے تو جو اس میں سے پی لے گا ، وہ میرا ساتھی نہیں اور جو اس کو نہیں چکھے گا تو بیشک وہ میرا ساتھی ہے ، مگر یہ کہ کوئی اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے ۔ تو انہوں نے اس میں سے خوب پیا ، صرف ان میں سے تھوڑے لوگ اس سے بچے ۔ پھر جب طالوت اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ایمان پر ثابت قدم رہے ، دریا پار کرگئے تو یہ لوگ بولے کہ اب ہم میں تو جالوت اور اس کی فوجوں سے لڑنے کی طاقت نہیں ۔ جو لوگ یہ گمان رکھتے تھے کہ بالآخر انہیں اللہ سے ملنا ہے ، انہوں نے للکارا کہ کتنی چھوٹی جماعتیں رہی ہیں ، جو اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آگئی ہیں ۔ اللہ تو ثابت قدموں کے ساتھ ہوتا ہے ۔
پھر جب ( حضرت ) طالوت لشکروں کو لے کر نکلے ( تو ) فرمایا: بے شک اﷲ ( تعالیٰ ) ایک نہر سے تمہاری آزمائش فرمائیں گے ، پس جو اس میں سے پی لے تو وہ مجھ سے نہیں اور جو اسے نہ چکھے پس وہ مجھ سے ہے سوائے اس کے کہ ہاتھ سے ایک چلو بھرلے ، پس انہوں نے سوائے تھورے ( لوگوں ) کے اس سے پیا ، پھر جب انہوں ( حضرت طالوت ) اور جو ان کے ساتھ ایمان والے تھے نہر سے پار ہوگئے تو انہوں نے کہا: آج کے دن ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابل طاقت نہیں ہے ، جن لوگوں کو یقین تھا کہ بے شک وہ اﷲ ( تعالیٰ ) سے ملنے والے ہیں ، انہوں نے کہا: اﷲ کے حکم سے کتنی ہی ( بار ) چھوٹی جماعتیں بہت بڑی جماعتوں پر غالب آچکی ہیں اﷲ ( تعالیٰ ) ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہیں ۔
پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا تو اس نے کہا ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے جو اس کا پانی پیئے گا وہ میرا ساتھی نہیں۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے ہاں ایک آدھ چلو کوئی پی لے۔ مگر سوائے تھوڑے لوگوں کے باقی سب نے سیر ہو کر پانی پیا پھر جب طالوت اور اس کے مومن ساتھی دریا پار کرکے آگے بڑھے تو انہوں نے (طالوت سے) کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ لیکن جو لوگ سمجھتے تھے کہ انہیں ایک دن اللہ سے ملنا ہے انہوں نے کہا۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ تھوڑی تعداد کا گروہ اللہ کے حکم سے بڑی تعداد کے گروہ پر غالب آگیا ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے
پھر جب طالوت لشکر لے کر روانہ ہونے لگے تو ان سے کہا کہ دیکھو اللہ کہ طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے ایک نہر کے پانی سے سو یاد رکھو کہ جس نے اس سے پانی پی لیا وہ میرا ساتھی نہیں اور جس نے اس سے چکھا بھی نہ اصل میں وہی میرا ساتھی ہے ہاں جس نے ایک آدھ چلو بھر لیا تو وہ اسے معاف ہے مگر اس سب کے باوجود ان لوگوں نے اس دریا سے سیر ہو کر پانی پیا بجز ان میں کے تھوڑے سے لوگوں کے پھر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب طالوت اور ان کے ساتھ والے اہل ایمان نے اس دریا کو پار کیا تو انہوں نے ہمت ہار کر صاف کہہ دیا کہ ہمارے اندر جالوت اور اس کے لشکروں سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں اس پر ان لوگوں نے جو اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ انہوں نے بہرحال اللہ سے ملنا ہے ان سے کہا کی دیکھو کتنی ہی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک چھوٹی جماعت بڑی جماعت پر غالب آگئی اللہ کے اذن و حکم سے پس تم گھبراؤ نہیں اور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے
پھرجب طالوت اپنے لشکروں سمیت چل کھڑا ہواتواس نے کہاکہ اللہ ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرے گاجس نے اس نہرسے پانی پیا ، وہ میرا ساتھی نہیں میراساتھی وہ ہےجو اس ( پانی ) کونہ چکھے سوائے یہ کہ چلوبھرپانی پی لے پھر ان میں سے چند آدمیوں کے علاوہ سب نے سیر ہو کر پانی پیاپھرطالوت اور ا س کے لشکری اس سے آگے گئے تووہ کہنے گے:’’آج ہمیں جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑنے کی طاقت نہیں البتہ ان میں سےجو یقین رکھتے تھے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں ‘‘ کہنے لگے: ’’کئی بارتھوڑی جماعت اللہ کے حکم سے بڑی جماعت پر غالب رہی اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر شہر سے جدا ہوا بولا بیشک اللہ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے تو جو اس کا پانی پئے وہ میرا نہیں اور جو نہ پیئے وہ میرا ہے مگر وہ جو ایک چلُو اپنے ہاتھ سے لے لے ( ف۵۰٦ ) تو سب نے اس سے پیا مگر تھوڑوں نے ( ف۵۰۷ ) پھر جب طالوت اور اس کے ساتھ کے مسلمان نہر کے پار گئے بولے ہم میں آج طاقت نہیں جالوت اور اس کے لشکروں کی بولے وہ جنہیں اللہ سے ملنے کا یقین تھا کہ بارہا کم جماعت غالب آئی ہے زیادہ گروہ پر اللہ کے حکم سے ، اور اللہ صابروں کے ساتھ ہے ( ف۵۰۸ )
پھرجب طالوت اپنے لشکروں کو لے کر شہر سے نکلا ، تو اس نے کہا: بیشک اﷲ تمہیں ایک نہر کے ذریعے آزمانے والا ہے ، پس جس نے اس میں سے پانی پیا سو وہ میرے ( ساتھیوں میں ) سے نہیں ہوگا ، اور جو اس کو نہیں پئے گا پس وہی میری ( جماعت ) سے ہوگا مگر جو شخص ایک چُلّو ( کی حد تک ) اپنے ہاتھ سے پی لے ( اس پر کوئی حرج نہیں ) ، سو ان میں سے چند لوگوں کے سوا باقی سب نے اس سے پانی پی لیا ، پس جب طالوت اور ان کے ایمان والے ساتھی نہر کے پار چلے گئے ، تو کہنے لگے: آج ہم میں جالوت اور اس کی فوجوں سے مقابلے کی طاقت نہیں ، جو لوگ یہ یقین رکھتے تھے کہ وہ ( شہید ہو کر یا مرنے کے بعد ) اﷲ سے ملاقات کا شرف پانے والے ہیں ، کہنے لگے: کئی مرتبہ اﷲ کے حکم سے تھوڑی سی جماعت ( خاصی ) بڑی جماعت پر غالب آجاتی ہے ، اور اﷲ صبر کرنے والوں کو اپنی معیّت سے نوازتا ہے
اب جو طالوت فوجیں لے کر چلے تو ( اپنے ہمراہیوں سے ) کہا کہ خدا ایک نہر کے ساتھ تمہاری آزمائش کرنے والا ہے ( دیکھو ) جو شخص اس سے پانی پی لے گا اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہ ہوگا اور جو اسے چکھے گا بھی نہیں اس کا مجھ سے تعلق ہوگا ۔ مگر یہ کہ اپنے ہاتھ سے ایک چُلو بھر لے ۔ ( انجام کار وقت آنے پر ) تھوڑے لوگوں کے سوا باقی سب نے اس ( نہر ) سے پانی پی لیا ۔ پس جب وہ اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے آگے بڑھے ( نہر پار کی ) تو ( پانی پینے والے ) کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کی افواج سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے ( مگر ) جن لوگوں کو خدا کو منہ دکھانے کا یقین تھا کہنے لگے خدا کے حکم سے کئی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں اور خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔
When Talut set forth with the armies, he said: "Allah will test you at the stream: if any drinks of its water, He goes not with my army: Only those who taste not of it go with me: A mere sip out of the hand is excused." but they all drank of it, except a few. When they crossed the river,- He and the faithful ones with him,- they said: "This day We cannot cope with Goliath and his forces." but those who were convinced that they must meet Allah, said: "How oft, by Allah's will, Hath a small force vanquished a big one? Allah is with those who steadfastly persevere."
When Saul set forth with the army he said, "God will test you with a river. Those who drink its water will not be of my people and those who do not even taste the water or who only taste some of it from within the hollow of their hand, will be my friends. They all drank the water except a few of them. When Saul and those who believed in him crossed the river, his people said, "We do not have the strength to fight against Goliath and his army." Those who thought that they would meet God said, "How often, with God's permission, have small groups defeated the large ones?" God is with those who exercise patience.
Then when Talut set out with the army, he said: "Verily, Allah will try you by a river. So whoever drinks thereof, he is not of me; and whoever tastes it not, he is of me, except him who takes (thereof) in the hollow of his hand." Yet, they drank thereof, all, except a few of them. So when he had crossed it (the river), he and those who believed with him, they said: "We have no power this day against Jalut (Goliath) and his hosts." But those who knew with certainty that they were going to meet Allah, said: "How often has a small group overcome a mighty host by Allah's leave" And Allah is with As-Sabirin (the patient).
So when Talut departed with the forces, he said: Surely Allah will try you with a river; whoever then drinks from it, he is not of me, and whoever does not taste of it, he is surely of me, except he who takes with his hand as much of it as fills the hand; but with the exception of a few of them they drank from it. So when he had crossed it, he and those who believed with him, they said: We have today no power against Jalut and his forces. Those who were sure that they would meet their Lord said: How often has a small party vanquished a numerous host by Allah's permission, and Allah is with the patient.
And when Saul set out with the army, he said: Lo! Allah will try you by (the ordeal of) a river. Whosoever therefore drinketh thereof he is not of me, and whosoever tasteth it not he is of me, save him who taketh (thereof) in the hollow of his hand. But they drank thereof, all save a few of them. And after he had crossed (the river), he and those who believed with him, they said: We have no power this day against Goliath and his hosts. But those who knew that they would meet Allah exclaimed: How many a little company hath overcome a mighty host by Allah's leave! Allah is with the steadfast.
फिर जब निकले तालूत फ़ौजों को लेकर तो उन्होंने कहाः अल्लाह तुमको एक नदी के ज़रिए आज़माने वाला है, पस जिसने उसका पानी पिया वह मेरा साथी नहीं रहेगा, और जिसने उसको न चखा वह मेरा साथी होगा, मगर यह कि कोई एक-आध चुल्लू भर ले अपने हाथ से, तो उन्होंने उसमें से ख़ूब पी लिया सिवाए थोड़े आदमियों के, फिर जब तालूत और जो उसके साथ ईमान पर क़ायम रहे थे दरिया पार कर चुके तो उन लोगों ने कहा कि आज हमको “जालूत” और उसकी फ़ौजों से लड़ने की ताक़त नहीं, जो लोग यह जानते थे कि वे अल्लाह से मिलने वाले हैं उन्होंने कहाः कितनी ही बार छोटी जमातें अल्लाह के हुक्म से बड़ी जमातों पर ग़ालिब आई हैं, और अल्लाह तो सब्र करने वालों के साथ है।
پھر جب طالوت فوجوں کو لیکر (بیت المقدس سے عمالقہ کی طرف) چلے تو انہوں نے کہا کہ حق تعالیٰ تمہارا امتحان کریں گے ایک نہر سے سو جو شخص (افراط کے ساتھ) اس سے پانی پیوے گا وہ تو میرے ساتھیوں میں نہیں اور جو اس کو زبان پر بھی نہ رکھے وہ میرے ساتھیوں میں ہے لیکن جو شخص اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھرلے (تو اتنی رخصت ہے) تو سب نے اس سے (بےتحاشا) پینا شروع کردیا مگر تھوڑے سے آدمیوں نے ان میں سے (2) سو جب وہ (طالوت) اور جو مومنین ان کے ہمراہ تھے نہر سے پار اتر گئے کہنے لگے آج تو ہم میں جالوت اور اس کو لشکر سے (لڑنے کی) طاقت نہیں معلوم ہوتی (یہ سنکر) ایسے لوگ جن کو یہ خیال تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہونے والے ہیں کہنے لگے کہ کثرت سے بہت سی چھوٹی چھوٹی جماعتیں بڑی بڑی جماعتوں پر خدا کے حکم سے غالب آگئی ہے اور اللہ تعالیٰ استقلال والوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ (249)
جب طالوت لشکروں کو لے کر نکلے تو کہا سنو اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے جس نے اس میں سے پانی پی لیا وہ میرا نہیں اور جو اس سے نہ چکھے وہ میرا ساتھی ہے۔ ہاں یہ کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے لیکن چند لوگوں کے سوا باقی سب نے پانی پی لیا۔ طالوت مومنوں کے ساتھ جب نہر سے گزر گئے تو وہ لوگ کہنے لگے آج تو ہم میں طاقت نہیں کہ جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑائی کریں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ملاقات پر یقین رکھنے والوں نے کہا بسا اوقات چھوٹی سی جماعت بڑی جماعت پر اللہ کے حکم سے غالب آجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا ، تو اس نے کہا : ایک دریا پر اللہ کی طرف تمہاری آزمائش ہونے والی ہے ۔ جو اس کا پانی پئے گا وہ میرا ساتھی نہیں ۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے کہ جو اس سے پیاس نہ بجھائے ہاں ایک آدھ چلو کوئی بھر لے ، مگر ایک گروہ قلیل کے سوا وہ سب اس دریا سے سیراب ہوئے ۔ پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کرکے آگے بڑھے تو انہوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے ۔ لیکن جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انہیں اللہ سے ملنا ہے انہوں نے کہا بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے ۔
طالوت لشکروں کے ساتھ روانہ ہوئے تو انہوں نے کہا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر کے ذریعہ آزمانے والا ہے، سو جس نے اس میں سے پی لیا وہ مجھ سے نہیں ہے اور جس نے اس میں سے نہ پیا تو وہ مجھ سے ہے سوائے اس شخص کے جس نے اپنے ہاتھ سے ایک چلو پی لیا، پھر تھوڑے سے افراد کے علاوہ سب نے اس میں سے پی لیا پھر جب آگے بڑھے طالوت اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے تو کہنے لگے کہ آج ہمیں جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے، جو لوگ اللہ کی ملاقات کا یقین رکھتے تھے وہ کہنے لگے کتنی ہی کم تعداد جماعتیں اللہ کے حکم سے بھاری تعداد والی جماعتوں پر غالب ہوچکی ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
پھر جب باہر نکلا طالوت فوجیں لے کر کہا بیشک اللہ تمہاری آزمائش کرتا ہے ایک نہر سے سو جس نے پانی پیا اس نہر کا تو وہ میرا نہیں اور جس نے اس کو نہ چکھا تو وہ بیشک میرا ہے مگر جو کوئی بھرے ایک چلو اپنے ہاتھ سے پھر پی لیا سب نے اس کا پانی مگر تھوڑوں نے ان میں سے پھر جب پار ہوا طالوت اور ایمان والے ساتھ اس کے تو کہنے لگے طاقت نہیں ہم کو آج جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑنے کی کہنے لگے وہ لوگ جن کو خیال تھا کہ ان کو اللہ سے ملنا ہے بارہا تھوڑی جماعت غالب ہوئی ہے بڑی جماعت پر اللہ کے حکم سے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
پھر جب طالوت فوجیں ہمراہ لیکر باہرنکلا تو اس نے کہا یقینا اللہ تعالیٰ تم کو ایک نہر سے آزمائے گا سو جو شخص اس نہر کا پانی پی لے گا وہ میرا نہیں ہے اور جس نے اس کے پانی کو نہ چکھا تو یقینا وہ میرا ہے مگر ہاں جو اپنے ہاتھ سے ایک چلوبھر لے تو اتنی رخصت ہے پھر ان میں سے بجز معدودے چند کے سب نے اس کا پانی پی لیا پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی ایمان والے اس نہر کو پار کر گئے تو کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم میں یہ طاقت نہیں کہ آج جالوت اور اس کے لشکر کا مقابلہ کرسکیں اور جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ان کو خدا کے سامنے جانا ہے انہوں ں نے کہا بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ چھوٹی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں اور اللہ تعالیٰ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے