The tafseer of Surat ul Baqara, verse 249, from every tafseer on this site - read one or compare them with each other.
Allah tells; فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ ... Then when Talut set out with the army, Allah states that Talut, the king of the Children of Israel, marched forth with his soldiers and the Israelites who obeyed him. His army was of eighty thousand then, according to As-Suddi, but Allah knows best. Talut said: ... قَالَ إِنَّ اللّهَ مُبْتَلِيكُم بِنَهَرٍ ... he said: "Verily, Allah will try you by a river. meaning, He will test you with a river, which flowed between Jordan and Palestine, i.e., the Shariah river, according to Ibn Abbas and others. He continued, ... فَمَن شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي ... So whoever drinks thereof, he is not of me; meaning, shall not accompany me today. ... وَمَن لَّمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي إِلاَّ مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهِ ... and whoever tastes it not, he is of me, except him who takes (thereof) in the hollow of his hand. meaning, there is no harm in this case. Allah then said: ... فَشَرِبُواْ مِنْهُ إِلاَّ قَلِيلً مِّنْهُمْ ... Yet, they drank thereof, all, except a few of them. Ibn Jurayj stated that Ibn Abbas commented, "Whoever took some of it (the river's water) in the hollow of his hand, quenched his thirst; as for those who drank freely from it, their thirst was not quenched." Ibn Jarir reported that Al-Bara bin Azib said, "We used to say that the Companions of Muhammad who accompanied him on the battle of Badr were more than three hundred and ten, just as many as the soldiers who crossed the river with Talut. Only those who believed crossed the river with him." Al-Bukhari also reported this. This is why Allah said: ... فَلَمَّا جَاوَزَهُ هُوَ وَالَّذِينَ امَنُواْ مَعَهُ قَالُواْ لاَ طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنودِهِ ... So when he had crossed it (the river), he and those who believed with him, they said: "We have no power this day against Jalut (Goliath) and his hosts." This Ayah indicates that the Israelites (who remained with Saul) thought that they were few in the face of their enemy who were many then. So, their knowledgeable scholars strengthened their resolve by stating that Allah's promise is true and that triumph comes from Allah Alone, not from the large numbers or the adequacy of the supplies. ... قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَقُو اللّهِ ... But those who knew with certainty that they were going to meet Allah, said: ... كَم مِّن فِيَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِيَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللّهِ وَاللّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ "How often has a small group overcome a mighty host by Allah's leave" And Allah is with As-Sabirin (the patient).
نہر الشریعہ اب واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ جب ان لوگوں نے طالوت کی بادشاہت تسلیم کر لی اور وہ انہیں لے کر جہاد کو چلے ، حضرت سدی کے قول کے مطابق ان کی تعداد اسی ہزار تھی ، راستے میں طالوت نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر کے ساتھ آزمانے والا ہے ، حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق یہ نہر اردن اور فلسطین کے درمیان تھی اس کا نام نہر الشریعہ تھا ، طالوت نے انہیں ہوشیار کر دیا کہ کوئی اس نہر کا پانی نہ پیئے ، اگر پی لے گا تو میرے ساتھ نہ چگے ، ایک آدھ گھونٹ اگر کسی نے پی لی تو کچھ حرج نہیں ، لیکن جب وہاں پہنچے پیاس کی شدت تھی ، نہر پر جھک پڑے اور خوب پیٹ بھر کر پانی پی لیا مگر کچھ لوگ ایسے پختہ ایمان والے بھی تھے کہ جنہوں نے نہ پیا ایک چلو پی لیا ، بقول ابن عباس کے ایک چلو پینے والوں کی تو پیاس بھی بجھ گئی اور وہ جہاد میں بھی شامل رہے لیکن پوری پیاس پینے والوں کی نہ تو پیاس بجھی نہ وہ قابل جہاد رہے ، سدی فرماتے ہیں اسی ہزار میں سے چھہتر ہزار نے پانی پی لیا صرف چار ہزار آدمی حقیقی فرمانبردار نکلے ۔ حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ بدر کی لڑائی والے دن ہماری تعداد اتنی ہی تھی جتنی تعداد حضرت طالوت بادشاہ کے اس فرمانبردار لشکر کی تھی ، جو آپ کے ساتھ نہر سے پار ہوا تھا یعنی تین سو تیرہ یہاں سے پار ہوتے ہی نافرمانوں کے چھکے چھوٹ گئے اور نہایت بزدلانہ پن سے انہوں نے جہاد سے انکار کر دیا اور دشمنوں کی زیادتی نے ان کے حوصلے توڑ دئیے ، صاف جواب دے بیٹھے کہ آج تو ہم جالوت کے لشکر سے لڑنے کی طاقت اپنے میں نہیں پاتے ، گو سرفروش مجاہد علماء کرام نے انہیں ہر طرح ہمت بندھوائی ، وعظ کہے ، فرمایا کہ قلت و کثرت پر فتح موقوف نہیں صبر اور نیک نیتی پر ضرور اللہ کی امداد ہوتی ہے ۔ بار ہا ایسا ہوا ہے کہ مٹھی بھر لوگوں نے بڑی بڑی جماعتوں کو نیچا دکھا دیا ہے ، تم صبر کرو ، طبیعت میں استقلال اور عزم رکھو ، اللہ کے وعدوں پر نظریں رکھو ، اس صبر کے بدلے اللہ تمہارا ساتھ دے گا لیکن تاہم ان کے سرد دِل نہ گرمائے اور ان کی بزدلی دور نہ ہوئی ۔
249۔ 1 یہ نہر اردن اور فلسطین کے درمیان ہے (ابن کثیر) 249۔ 2 اطاعت امیر ہر حال میں ضروری ہے تاہم دشمن سے معرکہ آرائی کے وقت تو اس کی اہمیت دو چند بلکہ صد چند ہوجاتی ہے دوسرے جنگ میں کامیابی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ فوجی اس دوران بھوک پیاس اور دیگر تکلیفات کو نہایت حوصلے سے برداشت کرے۔ چناچہ ان دونوں باتوں کی تربیت اور امتحان کے لئے طالوت نے کہا کہ نہر پر تمہاری پہلی آزمائش ہوگی لیکن تنبیہ کے باوجود اکثریت نے پانی پی لیا۔ اس طرح نہ پینے والوں کی تعداد 313 بتائی گئی ہے جو اصحاب بدر کی تعداد ہے۔ واللہ عالم۔ 249۔ 3 ان اہل ایمان نے بھی ابتداء جب دشمن کی بڑی تعداد دیکھی تو اپنی قلیل تعداد کے پیش نظر اس رائے کا اظہار کیا جس پر ان کے علماء جو ان سے زیادہ پختہ یقین رکھنے والے تھے انہوں نے کہا کہ کامیابی تعداد کی کثرت اور اسلحہ کی فروانی پر منحصر نہیں بلکہ اللہ کی مشعیت اور اس کے اذن پر موقوف ہے اور اللہ کی تائید کے لئے صبر کا اہتمام ضروری ہے۔
[٣٤٨] چناچہ بادشاہ طالوت کی قیادت میں بنی اسرائیل کا ایک لشکر جرار جالوت کے مقابلہ میں نکل کھڑا ہوا۔ طالوتنے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جس نے بزدلی دکھانا ہو وہ ہمارے ساتھ نہ نکلے۔ بنی اسرائیل زبانی باتوں میں بڑے دلیر تھے۔ چناچہ ان کی تعداد ستر ہزار ہوگئی راستہ میں ایک منزل پر پانی نہ ملا تو طالوت سے شکایت کی۔ طالوت نے کہا آگے ایک نہر آتو رہی ہے مگر تم لوگ اس میں سے سیر ہو کر پانی نہ پینا، صرف ایک آدھ گھونٹ پی لینا اور یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے آزمائش ہے۔ کہ اگر تم اپنی پیاس بھی برداشت نہ کرسکے تو لڑائی میں کیا کارنامے سر انجام دو گے ؟ لہذا میں تو صرف اس آدمی کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا جو اپنی پیاس کو برداشت کرے گا۔ چناچہ جب وہ نہر آئی تو سب نے سیر ہو کر پانی پی لیا اور بعضوں نے تو منہ ہی نہر میں ڈال دیا اور مویشیوں کی طرح پینے لگے۔ اس طرح یکدم کثیر مقدار میں پانی پینے سے ان کے بدن ٹوٹنے لگے اور تھوڑا سا فاصلہ چل کر گرپڑے اور کہنے لگے کہ اب ہمیں جالوت اور اس کے لشکر سے لڑنے کی تاب نہیں رہی۔ [٣٤٩] اور جن لوگوں نے اپنی پیاس برداشت کی تھی ان کی تعداد صرف تین سو تیرہ یا اس کے لگ بھگ تھی۔ انہیں صبر کرنے والوں میں بوڑھے نبی سموئیل، حضرت داؤد، ان کے باپ اور ان کے چھ بھائی شامل تھے اور بروایت براء بن عازب یہ وہی تعداد باقی رہ گئی تھی جتنی اصحاب بدر کی تھی (بخاری، کتاب المغازی، باب عدۃ اصحاب بدر) کجا ان زبانی شیخی بگھارنے والوں کی تعداد ستر ہزار تھی اور کجا ان میں سے خالص تین سو تیرہ رہ گئے، یعنی ہر دو ہزار میں سے صرف نو آدمی سچے مجاہد ثابت ہوئے۔ ان لوگوں کے حوصلے بلند تھے۔ صبر کرنے والے اور توکل کرنے والے تھے۔ وہ آپس میں کہنے لگے کہ اگر ہم تھوڑے سے باقی رہ گئے ہیں تو کوئی بات نہیں فتح و شکست اور زندگی اور موت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اللہ تھوڑی سی صبر کرنے والی جماعت کو بہت بڑے لشکر کے مقابلہ میں فتح عطا کردیتا ہے کیونکہ اللہ کی مدد ان کے شامل حال ہوتی ہے۔
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بالْجُنُوْدِ ” بِالْجُنُوْدِ “ (لشکروں) کے لفظ سے ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی بہت بڑی تعداد لڑنے کے لیے نکلی تھی۔ طالوت نے ان کی اطاعت، جفاکشی، بھوک پیاس اور میدان جنگ میں صبر کا امتحان لینا ضروری سمجھا، تاکہ صرف وہ شخص ساتھ جائے جس میں یہ صفات موجود ہوں، مگر اس امتحان میں تھوڑے سے لوگ کامیاب ہوئے، باقی نا کام ہوگئے۔ کامیاب ہونے والے نہر سے پار ہوئے تو دشمن کی تعداد دیکھ کر ان میں سے کچھ کمزور ایمان والے کہہ اٹھے کہ ہم میں آج جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلے کی طاقت نہیں، مگر پختہ ایمان والوں نے، جنھیں اللہ سے ملاقات کا یقین تھا، ان کی ہمت بندھائی کہ لڑائی میں قلت و کثرت فیصلہ کن نہیں ہوتی، اللہ کا حکم فیصلہ کن ہوتا ہے۔ بہت دفعہ ایسا ہوا ہے کہ جب اللہ کا حکم ہوتا ہے تو تھوڑی جماعتیں صبر و استقامت کی وجہ سے بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں، کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اس قسم کے بیشمار واقعات موجود ہیں۔ بدر، احد، خندق کو دیکھ لیجیے۔ جنگ موتہ میں مسلمان تین ہزار اور دشمن دو لاکھ تھا۔ (الرحیق المختوم، معرکہ موتہ) براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں، مجھے اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتایا، جو بدر میں شریک تھے کہ ان کی تعداد طالوت کے ساتھیوں کے برابر تھی جو نہر سے پار ہوئے تھے، تین سو دس سے کچھ زیادہ۔ براء کہتے ہیں، اللہ کی قسم ! اس کے ساتھ کسی مومن کے سوا کوئی پار نہیں ہوا۔ [ بخاری، المغازی، باب عدۃ أصحاب بدر : ٣٩٥٧ ]
Verse 249: قَالَ إِنَّ اللَّـهَ مُبْتَلِيكُم بِنَهَرٍ (He said: Allah is going to test you by a river). The wisdom behind this test, as perceived by this humble commentator, appears to be as follows. Not difficult to imagine is the excitement created on such occasions but there are not many who would stay firm in their hour of trial. And should such a time come, the weakness shown by such people becomes contagious making others panic as well. Allah Almighty willed that such people be pruned out. This purpose was accomplished by this test, which is very appropriate, because steadfastness is necessary in fighting. So, being patient, when water is made available without asking in a state of intense thirst, is a proof of steadfastness, and dashing for water is a proof of its absence. Later on comes the unusual: Those who drank too much water became mysteriously more incapacitated. This has appeared in Ruh al-Ma&ani on the authority of Ibn Abi Haim from Ibn ` Abbas (رض) . Now the events and sayings mentioned in this story tell us that there were three kinds of people among them: (1) The weak in faith who failed to make the grade in their hour of trial. (2) The perfect who fully succeeded in their trial but did feel concerned about how low they were in numbers. (3) The most perfect who did not bother even about that.
(٣) قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ اس امتحان کی حکمت اور توجیہ احقر کے ذوق میں یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایسے مواقع پر جوش و خروش میں بھیڑ بھڑکا بہت ہوجایا کرتا ہے لیکن وقت پر جمنے والے کم ہوتے ہیں اور اس وقت ایسوں کا اکھڑ جانا باقی لوگوں کے پاؤں بھی اکھاڑ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کا علیحدہ کرنا منظور تھا اس کا یہ امتحان مقرر کیا گیا جو کہ نہایت ہی مناسب ہے کیونکہ قتال میں ضرورت استقلال وجفاکشی کی ہوتی ہے سو شدت پیاس کے وقت بےمنت پانی ملنے پر ضبط کرنا دلیل استقلال کی اور اندھے باؤ لوں کی طرح جا گرنا دلیل بےاستقلالی کی ہے، آگے خرق عادت ہے کہ زیادہ پانی پینے والے غیبی طور پر بھی زیادہ بیکار اور ازکار رفتہ ہوگئے جیسا روح المعانی میں بسند ابن ابی حاتم حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اور اس قصے میں جو احوال و اقوال مذکور ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں تین قسم کے لوگ تھے، ناقص الایمان جو امتحان میں پورے نہ اترے اور کامل جو امتحان میں پورے اترے مگر اپنی قلت کی فکر ہوئی اور اکمل جن کو یہ بھی فکر نہیں ہوئی۔
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُـنُوْدِ ٠ ۙ قَالَ اِنَّ اللہَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَہَرٍ ٠ ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَيْسَ مِنِّىْ ٠ ۚ وَمَنْ لَّمْ يَطْعَمْہُ فَاِنَّہٗ مِنِّىْٓ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَۃًۢ بِيَدِہٖ ٠ ۚ فَشَرِبُوْا مِنْہُ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْہُمْ ٠ ۭ فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ھُوَوَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ ٠ ۙ قَالُوْا لَا طَاقَۃَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ ٠ ۭ قَالَ الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوا اللہِ ٠ ۙ كَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِيْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً كَثِيْرَۃًۢ بِـاِذْنِ اللہِ ٠ ۭ وَاللہُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ٢٤٩ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال ہوتا ہے ۔ اور یہ قرآن میں بکژت آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔ طلت طَالُوتٌ اسمٌ أعجميٌّ. جند يقال للعسکر الجُنْد اعتبارا بالغلظة، من الجند، أي : الأرض الغلیظة التي فيها حجارة ثم يقال لكلّ مجتمع جند، نحو : «الأرواح جُنُودٌ مُجَنَّدَة» «2» . قال تعالی: إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] ( ج ن د ) الجند کے اصل معنی سنگستان کے ہیں معنی غفلت اور شدت کے اعتبار سے لشکر کو جند کہا جانے لگا ہے ۔ اور مجازا ہر گروہ اور جماعت پر جند پر لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ( حدیث میں ہے ) کہ ارواح کئ بھی گروہ اور جماعتیں ہیں قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] اور ہمارا لشکر غالب رہے گا ۔ ابتلاء وإذا قيل : ابْتَلَى فلان کذا وأَبْلَاهُ فذلک يتضمن أمرین : أحدهما تعرّف حاله والوقوف علی ما يجهل من أمره، والثاني ظهور جو دته ورداء ته، وربما قصد به الأمران، وربما يقصد به أحدهما، فإذا قيل في اللہ تعالی: بلا کذا وأبلاه فلیس المراد منه إلا ظهور جو دته ورداء ته، دون التعرف لحاله، والوقوف علی ما يجهل من أمره إذ کان اللہ علّام الغیوب، وعلی هذا قوله عزّ وجل : وَإِذِ ابْتَلى إِبْراهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ [ البقرة/ 124] . ويقال : أَبْلَيْتُ فلانا يمينا : إذا عرضت عليه الیمین لتبلوه بها «3» . ( کسی کا امتحان کرنا ) یہ دو امر کو متضمن ہوتا ہے ( 1) تو اس شخص کی حالت کو جانچنا اور اس سے پوری طرح باخبر ہونا مقصود ہوتا ہے دوسرے ( 2 ) اس کی اچھی یا بری حالت کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا ۔ پھر کبھی تو یہ دونوں معنی مراد ہوتے ہیں اور کبھی صرف ایک ہی معنی مقصود ہوتا ہے ۔ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف تو صرف دوسرے معنی مراد ہوتے ہیں یعنی اس شخص لہ خوبی یا نقص کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے ۔ کیونکہ ذات ہے اسے کسی کی حالت سے باخبر ہونے کی ضرورت نہیں لہذا آیت کریمہ : وَإِذِ ابْتَلى إِبْراهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ [ البقرة/ 124] اور پروردگار نے چند باتوں میں ابراھیم کی آزمائش کی تو وہ ان میں پورے اترے ۔ دوسری معنی پر محمول ہوگی ( یعنی حضرت ابراھیم کے کمالات کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا مقصود تھا ) ابلیت فلانا یمینا کسی سے آزمائش قسم لینا ۔ نهر النَّهْرُ : مَجْرَى الماءِ الفَائِضِ ، وجمْعُه : أَنْهَارٌ ، قال تعالی: وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] ، ( ن ھ ر ) النھر ۔ بافراط پانی بہنے کے مجری کو کہتے ہیں ۔ کی جمع انھار آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی ۔ شرب الشُّرْبُ : تناول کلّ مائع، ماء کان أو غيره . قال تعالیٰ في صفة أهل الجنّة : وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] ، وقال في صفة أهل النّار : لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمِيمٍ [يونس/ 4] ، وجمع الشَّرَابُ أَشْرِبَةٌ ( ش ر ب ) الشراب کے معنی پانی یا کسی اور مائع چیز کو نوش کرنے کے ہیں ۔ قرآن نے ہی جنت کے متعلق فرمایا : ۔ وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] اور ان کا پروردگار انہیں نہایت پاکیزہ شراب پلائیگا ۔ اور اہل دوزخ کے متعلق فرمایا : ۔ لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمِيمٍ [يونس/ 4] ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی ۔ شراب کی جمع اشربۃ ہے اور شربتہ شربا وشربا کے معنی پینے کے ہیں طعم الطَّعْمُ : تناول الغذاء، ويسمّى ما يتناول منه طَعْمٌ وطَعَامٌ. قال تعالی: وَطَعامُهُ مَتاعاً لَكُمْ [ المائدة/ 96] ، قال : وقد اختصّ بالبرّ فيما روی أبو سعید «أنّ النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أمر بصدقة الفطر صاعا من طَعَامٍ أو صاعا من شعیر» «2» . قال تعالی: وَلا طَعامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ [ الحاقة/ 36] ، ( ط ع م ) الطعم ( س) کے معنی غذا کھانے کے ہیں ۔ اور ہر وہ چیز جو بطورغذا کھائی جائے اسے طعم یا طعام کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَطَعامُهُ مَتاعاً لَكُمْ [ المائدة/ 96] اور اس کا طعام جو تمہارے فائدہ کے لئے ۔ اور کبھی طعام کا لفظ خاص کر گیہوں پر بولا جاتا ہے جیسا کہ ابوسیعد خدری سے ۔ روایت ہے ان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امر بصدقۃ الفطر صاعا من طعام اوصاعا من شعیر ۔ کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ فطر میں ایک صحابی طعام یا ایک صاع جو د ینے کے حکم دیا ۔ قرآن میں ہے : وَلا طَعامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ [ الحاقة/ 36] اور نہ پیپ کے سوا ( اس کے ) لئے کھانا ہے غرف الْغَرْفُ : رفع الشیء وتناوله، يقال : غَرَفْتُ الماء والمرق، والْغُرْفَةُ : ما يُغْتَرَفُ ، والْغَرْفَةُ للمرّة، والْمِغْرَفَةُ : لما يتناول به . قال تعالی:إِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهِ [ البقرة/ 249] ، ومنه استعیر : غَرَفْتُ عرف الفرس : إذا جززته «3» ، وغَرَفْتُ الشّجرةَ ، والْغَرَفُ : شجر معروف، وغَرَفَتِ الإبل : اشتکت من أكله «4» ، والْغُرْفَةُ : علّيّة من البناء، وسمّي منازل الجنّة غُرَفاً. قال تعالی: أُوْلئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِما صَبَرُوا[ الفرقان/ 75] ، وقال : لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفاً [ العنکبوت/ 58] ، وَهُمْ فِي الْغُرُفاتِ آمِنُونَ [ سبأ/ 37] . ( غ ر ف ) الغرف ( ض) کے معنی کسی چیز کو اٹھانے اور کڑنے کے ہیں جیسے غرفت الماء لنا لمرق ہیں نے پانی یا شوربہ لیا ) اور غرفۃ کے معنی چلو پھر پانی کے ہیں اور الغرفۃ ایک مرتبہ چلو سے پانی نکالنا المخرفۃ چمچہ وغیرہ جس سے شوربہ وغیرہ نکال کر برتن میں ڈالا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے :إِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهِ [ البقرة/ 249] ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو پھر پانی لے لے ( تو خیر) اسی سے بطور استعارہ کہاجاتا ہے غرفت عرف الفرس میں نے گھوڑے کی پیشانی کے بال کاٹ ڈالے غرفت الشجرۃ میں نے درخت کی ٹہنیوں کو کاٹ ڈالا ۔ الغرف ایک قسم کا پودا جس سے چمڑے کو دباغت دی جاتی ہے ) غرفت الابل اونٹ غرف کھا کر بیمار ہوگئے ۔ الغرفۃ بلا خانہ ( جمع غرف وغرفات قرآن میں ) جنت کے منازل اور درجات کو الغرف کہا گیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : أُوْلئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِما صَبَرُوا[ الفرقان/ 75] ان صفات کے لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیئے جائیں گے ۔ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ غُرَفاً [ العنکبوت/ 58] ان کو ہم بہشت کے اونچے اونچے محلوں میں جگہ دیں گے ۔ وَهُمْ فِي الْغُرُفاتِ آمِنُونَ [ سبأ/ 37] اور وہ خاطر جمع سے بالا خانوں میں بیٹھے ہوں گے ۔ يد الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] ، ( ی د ی ) الید کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں یہ اصل میں یدی ( ناقص یائی ) ہے کیونکہ اس کی جمع اید ویدی اور تثنیہ یدیان اور آیت کریمہ : ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دئے ۔ جاوز قال تعالی: فَلَمَّا جاوَزَهُ هُوَ [ البقرة/ 249] ، أي : تجاوز جوزه، وقال : وَجاوَزْنا بِبَنِي إِسْرائِيلَ الْبَحْرَ [ الأعراف/ 138] ، وجَوْزُ الطریق : وسطه، وجاز الشیء كأنه لزم جوز الطریق، وذلک عبارة عمّا يسوغ، وجَوْزُ السماء : وسطها، والجوزاء قيل : سمیت بذلک لاعتراضها في جوز السماء، وشاة جوزاء أي : ابیضّ وسطها، وجُزْتُ المکان : ذهبت فيه، وأَجَزْتُهُ : أنفذته وخلّفته، وقیل : استجزت فلانا فأجازني : إذا استسقیته فسقاک، وذلک استعارة، والمَجَاز من الکلام ما تجاوز موضعه الذي وضع له، والحقیقة ما لم يتجاوز ذلك . ( ج و ز ) جو ز اطریق کے معنی راستہ کے وسط کے ہیں اسی سے جازاشئیء ہے جو کسی چیز کے جائز یا خوشگوار ہونے کی ایک تعبیر ہے گو یا ۔ اس نے وسط طریق کو لازم پکرا ۔ جو اسماء وسط آسمان ۔ الجوزاء آسمان کے ایک برج کا نام ہے کیونکہ وہ بھی وسط آسمان میں ہے سیاہ بھیڑ جس کے وسط میں سفیدی ہو ۔ ( جاوزہ کسی چیز کے وسط میں سفیدی ہو ۔ ( جاوزہ کسی چیز کے وسط سے آگے گزر جانا ؟ قرآن میں ہے فَلَمَّا جاوَزَهُ هُوَ [ البقرة/ 249] پھر جب وہ حضرت طالوت ) اس دریا کے وسط سی آگے گزر گئے یعنی پار ہوگئے ۔ وَجاوَزْنا بِبَنِي إِسْرائِيلَ الْبَحْرَ [ الأعراف/ 138] اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا ۔ جزت المکان کسی جگہ میں گزرنا ۔ اجزتہ میں نے اسے نافذ کردیا اس کو پیچھے چھوڑدیا ۔ ( میں نے اس سے ( جانوروں یا کھیتی کے لئے ) پانی طلب کیا چناچہ اس نے مجھے دے دیا ۔ یہ بطور استعارہ استعمال ہوتا ہے ۔ اور کسی لفظ کا حقیقی معنی وہ ہوتا ہے جو اپنے وضعی معنی میں استعمال ہو اور اس سے تجاوز نہ کرے ورنہ اسے مجازا کہتے ہیں ) طاقت وقد يعبّر بنفي الطَّاقَةِ عن نفي القدرة . وقوله : وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعامُ مِسْكِينٍ [ البقرة/ 184] ، ظاهره يقتضي أنّ المُطِيقَ له يلزمه فدية أفطر أو لم يفطر، لکن أجمعوا أنه لا يلزمه إلّا مع شرط آخر وروي :( وعلی الّذين يُطَوَّقُونَهُ ) أي : يُحَمَّلُونَ أن يَتَطَوَّقُوا . اور کبھی طاقتہ کی نفی سے قدرت کا انکار مراد ہوتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعامُ مِسْكِينٍ [ البقرة/ 184] اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں ( لیکن رکھیں نہیں ) وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلا دیں ۔ کے بظاہر معنی تو یہی ہیں کہ جو شخص روزہ کی طاقت رکھتا ہو اس پر فدیہ لازم ہے خواہ روزہ رکھے یا نہ رکھے مگر اس امر پر اجماع ہوچکا ہے کہ صرف دوسری شروط کے ساتھ فدیہ یعنی جن پر ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ وہ مشقت روزہ رکھیں ۔ جلت قال تعالی: وَلَمَّا بَرَزُوا لِجالُوتَ وَجُنُودِهِ [ البقرة/ 250] ، وذلک أعجميّ لا أصل له في العربية . ( ج ل ت ) جالوت یہ اسم عجمی ہے عربی میں اس کی اصل نہیں قرآن میں ہے : ۔ وَلَمَّا بَرَزُوا لِجالُوتَ وَجُنُودِهِ [ البقرة/ 250] اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل میں آئے ۔ ظن والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ، ( ظ ن ن ) الظن اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔ لقی اللِّقَاءُ : مقابلة الشیء ومصادفته معا، وقد يعبّر به عن کلّ واحد منهما، يقال : لَقِيَهُ يَلْقَاهُ لِقَاءً ولُقِيّاً ولُقْيَةً ، ويقال ذلک في الإدراک بالحسّ ، وبالبصر، وبالبصیرة . قال : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] ، وقال : لَقَدْ لَقِينا مِنْ سَفَرِنا هذا نَصَباً [ الكهف/ 62] . ومُلَاقَاةُ اللہ عز وجل عبارة عن القیامة، وعن المصیر إليه . قال تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] ( ل ق ی ) لقیہ ( س) یلقاہ لقاء کے معنی کسی کے سامنے آنے اور اسے پالینے کے ہیں اور ان دونوں معنی میں سے ہر ایک الگ الگ بھی بولاجاتا ہے اور کسی چیز کا حس اور بصیرت سے ادراک کرلینے کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] اور تم موت ( شہادت ) آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے اور ملاقات الہی سے مراد قیامت کا بپا ہونا اور اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] اور جان رکھو کہ ایک دن تمہیں اس کے دوبرو حاضر ہونا ہے ۔ كم كَمْ : عبارة عن العدد، ويستعمل في باب الاستفهام، وينصب بعده الاسم الذي يميّز به نحو : كَمْ رجلا ضربت ؟ ويستعمل في باب الخبر، ويجرّ بعده الاسم الذي يميّز به . نحو : كَمْ رجلٍ. ويقتضي معنی الکثرة، وقد يدخل «من» في الاسم الذي يميّز بعده . نحو : وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها[ الأعراف/ 4] ، وَكَمْ قَصَمْنا مِنْ قَرْيَةٍ كانَتْ ظالِمَةً [ الأنبیاء/ 11] ، والکُمُّ : ما يغطّي الید من القمیص، والْكِمُّ ما يغطّي الثّمرةَ ، وجمعه : أَكْمَامٌ. قال : وَالنَّخْلُ ذاتُ الْأَكْمامِ [ الرحمن/ 11] . والْكُمَّةُ : ما يغطّي الرأس کالقلنسوة . کم یہ عدد سے کنایہ کے لئے آتا ہے اور یہ دو قسم پر ہے ۔ استفہامیہ اور خبریہ ۔ استفہامیہ ہوتا اس کا مابعد اسم تمیزبن کر منصوب ہوتا ( اور اس کے معنی کتنی تعداد یا مقدار کے ہوتے ہیں ۔ جیسے کم رجلا ضربت اور جب خبریہ ہو تو اپنی تمیز کی طرف مضاف ہوکر اسے مجرور کردیتا ہے اور کثرت کے معنی دیتا ہے یعنی کتنے ہی جیسے کم رجل ضربت میں نے کتنے ہی مردوں کو پیٹا اور اس صورت میں کبھی اس کی تمیز پر من جارہ داخل ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها[ الأعراف/ 4] اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کروالیں ۔ وَكَمْ قَصَمْنا مِنْ قَرْيَةٍ كانَتْ ظالِمَةً [ الأنبیاء/ 11] اور ہم نے بہت سے بستیوں کو جو ستم گار تھیں ہلاک کر ڈالا ۔ فِئَةُ ( جماعت) والفِئَةُ : الجماعة المتظاهرة التي يرجع بعضهم إلى بعض في التّعاضد . قال تعالی: إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45] ، كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً [ البقرة/ 249] ، فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتا[ آل عمران/ 13] ، فِي الْمُنافِقِينَ فِئَتَيْنِ [ النساء/ 88] ، مِنْ فِئَةٍ يَنْصُرُونَهُ [ القصص/ 81] ، فَلَمَّا تَراءَتِ الْفِئَتانِ نَكَصَ عَلى عَقِبَيْهِ [ الأنفال/ 48] الفئۃ اس جماعت کو کہتے ہیں جس کے افراد تعاون اور تعاضد کے لئے ایک دوسرے کیطرف لوٹ آئیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45] جب ( کفار کی ) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو ۔ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً [ البقرة/ 249] بسا اوقات تھوڑی سی جماعت نے ۔۔۔۔۔ بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ۔ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتا[ آل عمران/ 13] دو گر ہوں میں جو ( جنگ بدد میں ) آپس میں بھڑ گئے ۔ فِي الْمُنافِقِينَ فِئَتَيْنِ [ النساء/ 88] کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گر وہ ۔ مِنْ فِئَةٍ يَنْصُرُونَهُ [ القصص/ 81] کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی فَلَمَّا تَراءَتِ الْفِئَتانِ نَكَصَ عَلى عَقِبَيْهِ [ الأنفال/ 48] جب یہ دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابلے میں صف آر ہوئیں ۔ غلب الغَلَبَةُ القهر يقال : غَلَبْتُهُ غَلْباً وغَلَبَةً وغَلَباً «4» ، فأنا غَالِبٌ. قال تعالی: الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [ الروم/ 1- 2- 3] ( غ ل ب ) الغلبتہ کے معنی قہرا اور بالادستی کے ہیں غلبتہ ( ض ) غلبا وغلبتہ میں اس پر مستول اور غالب ہوگیا اسی سے صیغہ صفت فاعلی غالب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [ الروم/ 1- 2- 3] الم ( اہل ) روم مغلوب ہوگئے نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہوجائیں گے وأَذِنَ : استمع، نحو قوله : وَأَذِنَتْ لِرَبِّها وَحُقَّتْ [ الانشقاق/ 2] ، ويستعمل ذلک في العلم الذي يتوصل إليه بالسماع، نحو قوله : فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ البقرة/ 279] . ( اذ ن) الاذن اور اذن ( الیہ ) کے معنی تو جہ سے سننا کے ہیں جیسے فرمایا ۔ { وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ } ( سورة الِانْشقاق 2 - 5) اور وہ اپنے پروردگار کا فرمان سننے کی اور اسے واجب بھی ہے اور اذن کا لفظ اس علم پر بھی بولا جاتا ہے جو سماع سے حاصل ہو ۔ جیسے فرمایا :۔ { فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ } ( سورة البقرة 279) تو خبردار ہوجاؤ کہ ندا اور رسول سے تمہاری چنگ ہے ۔ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں
قول باری ہے (فمن شرب منہ فلیس منی ومن لم یطعمہ فانہ منی لا من اغترف غرفۃ بیدہ، (a) جو اس کا پانی پئے گا وہ میرا ساتھی نہیں۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے۔ ہاں ایک آدھ کلو کوئی پی لے تو پی لے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دریا سے پینے سے مراد منہ لگاکر اور اپنے ہونٹ پانی پر رکھ کر پنا ہے۔ اس لئے کہ آیت میں دریا سے پینے اور پیاس بجھانے کی ممانعت تھی۔ البتہ ایک آدھ چلو بھر لینے کی اجازت تھی۔ یہ تشریح امام ابوحنیفہ کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے۔ ” میں نے اگر دریائے فرات سے پانی پی لیا تو میرا غلام آزاد ہے۔ “ تو اسے منہ لگاکر پینے پر محمول کیا جائے گا۔ اگر اس نے چلو بھر کر یا کسی برتن میں ڈال کر دریا کا پانی پی لیا تو حانث نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں انہیں دریا سے پانی پینے کی ممانعت کردی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ پیاس بجھانے سے بھی انہیں روک دیا گیا تھا۔ لیکن اس سے چلو بھر لینے کو مستثنیٰ کردیا گیا تھا۔ اس لئے شرب یعنی پانی پینے کی ممانعت بحالہ باقی رہی اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ چلو بھر لینا شرب میں داخل نہیں ہے۔
(٢٤٩) جب حضرت طالوت لشکر لے کر روانہ ہوئے تو انہیں چٹیل زمین سے واسطہ پڑا جہاں گرمی اور پیاس کی سخت شدت تھی، انہوں نے پانی مانگا، طالوت نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ایک جاری نہر سے تمہیں آزمائے گا، سو جو شخص اس نہر سے زیادہ پانی پیئے گا وہ تو میرے ساتھ میرے دشمن کے مقابلے کے لیے نہیں جائے گا اور نہ اس نہر کو پار کرسکے گا اور جو اس میں سے نہیں پیئے گا وہ میرے ساتھ ہوگا لیکن جو شخص اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے، (آیت) ” غرفۃ “۔ غین کی زبر کے ساتھ پڑھا جائے تو اس میں ایک چلو مراد ہوگا، جو ان کی پیاس اور ان کے جانوروں کے لیے کافی ہوجائے گا، چناچہ جب لوگ نہر پر پہنچے تو نہر تو نہر کے کنارے پر کھڑے ہو کر سب نے بہت زیادہ پانی پینا شروع کردیا مگر تین سو تیرہ آدمیوں نے احتیاط کی اور حکم الہی کے مطابق انہوں نے اس میں سے پانی پیا، چناچہ جب طالوت اور سچے حضرات نے نہر کو پار کرلیا تو آپس میں کہنے لگے کہ آج تو جالوت کے مقابلہ کی طاقت معلوم نہیں ہوتی، لیکن جن حضرات کو اس بات کا علم اور یقین تھا کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے، وہ کہنے لگے کہ ایسے واقعات بہت گزر چکے ہیں کہ حکم الہی سے بہت سی اہل حق کی چھوٹی جماعتیں باطل کے بڑے بڑے لشکروں پر غالب آگئی ہیں اور لڑائی میں استقامت والوں کے ساتھ اللہ کی مدد شامل حال ہے۔
آیت ٢٤٩ ( فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بالْجُنُوْدِ لا) (قَالَ اِنَّ اللّٰہَ مُبْتَلِیْکُمْ بِنَہَرٍج ) (فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّیْ ج ) (وَمَنْ لَّمْ یَطْعَمْہُ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ ) ( اِلاَّ مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَۃًم بِیَدِہٖج ) اصل میں ہر کمانڈر کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ کسی بھی بڑی جنگ سے پہلے اپنے ساتھیوں کے جوش و جذبہ اور عزم و حوصلہ ‘ (morale) کو پرکھے اور نظم ‘ (discipline) کی حالت کو دیکھے۔ چناچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی غزوۂ بدر سے قبل مشاورت کی تھی کہ مسلمانو ! ایک طرف جنوب سے کیل کانٹے سے لیس ایک لشکر آ رہا ہے اور دوسری طرف شمال سے مال و اسباب سے لدا پھندا ایک قافلہ آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان دونوں میں سے ایک تمہیں ضرور ملے گا۔ بتاؤ کدھر چلیں ؟ کچھ لوگ جو کمزوری دکھا رہے تھے انہوں نے کہا کہ چلیں پہلے قافلہ لوٹ لیں ! اور جو لوگ باہمت تھے انہوں نے کہا حضور ! جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارادہ ہو ‘ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ کی منشا ہو ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے مطابق فیصلہ فرمایئے ‘ ہم حاضر ہیں ! تو یہاں بھی طالوت نے اپنے لشکریوں کا ٹیسٹ لیا کہ وہ میرے حکم کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔ (فَشَرِبُوْا مِنْہُ ) (اِلاَّ قَلِیْلاً مِّنْہُمْ ط) (فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ہُوَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ لا) واضح رہے کہ سب سے پہلی سکریننگ قبل ازیں ہوچکی تھی۔ ان میں سے جو قتال ہی کے منکر ہوگئے ‘ تھے وہ پہلے ہی الگ ہوچکے تھے۔ اب یہ دوسری چھلنی تھی۔ جو اس میں سے نہیں نکل سکے وہ پانی پی کر بےسدھ ہوگئے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے غزوۂ احد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک ہزار آدمی مدینہ منورہ سے نکلے تھے اور پھر عین وقت پر تین سو افراد ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ تو جب طالوت اور ان کے ان ساتھیوں نے جو ایمان پر ثابت قدم رہے تھے ‘ دریا پار کرلیا۔۔ (قَالُوْا لاَ طَاقَۃَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہٖ ط) ۔ جالوت ‘ (Goliath) بڑا قوی ہیکل اور گرانڈیل انسان تھا۔ زرہ بکتر میں اس کا پورا جسم اس طرح چھپا ہوا تھا کہ سوائے آنکھ کے سوراخ کے جسم کا کوئی حصہ کھلا نہیں تھا۔ اس کی مبارزت کے جواب میں کوئی بھی مقابلے پر نہیں آ رہا تھا۔ (قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوا اللّٰہِ لاکَمْ مِّنْ فِءَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِءَۃً کَثِیْرَۃًم بِاِذْنِ اللّٰہِ ط) ۔ سو تم آگے بڑھو ‘ ہمت کرو ‘ اپنی کم ہمتی کا ثبوت نہ دو ۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد سے تمہیں فتح حاصل ہوجائے گی۔
271. This may refer either to the river Jordan or to some other river or stream in that region. Saul wanted to take the Israelite army across the river. He was aware, however, that there was little moral discipline and restraint left in them. Hence he hit upon this device to distinguish the worthy from the worthyless. Those who could not endure thirst even for a short while, would not be expected to remain steadfast in their confrontation with an enemy at whose hands they had already taken a beating. 272. These were presumable the people who had shown their impatience on the bank of the river. (See the preceding note - Ed.)
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :271 ممکن ہے اس سے مراد دریائے اردن ہو یا کوئی اور ندی یا نالہ ۔ طالوت بنی اسرائیل کے لشکر کو لے کر اس کے پار اترنا چاہتا تھا ، مگر چونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کی قوم کے اندر اخلاقی انضباط بہت کم رہ گیا ہے ، اس لیے اس نے کار آمد اور ناکارہ لوگوں کو ممیز کرنے کے لیے یہ آزمائش تجویز کی ۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ تھوڑی دیر کے لیے اپنی پیاس تک ضبط نہ کر سکیں ، ان پر کیا بھروسہ کیا جا سکتا ہے کہ اس دشمن کے مقابلے میں پامردی دکھائیں گے جس سے پہلے ہی وہ شکست کھا چکے ہیں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :272 غالباً یہ کہنے والے وہی لوگ ہوں گے ، جنہوں نے دریا پر پہلے ہی اپنی بے صبری کا مظاہرہ کر دیا تھا ۔
167: یہ دریائے اردن تھا اور یہ امتحان بظاہر یہ دیکھنے کے لئے لیا گیا تھا کہ لشکر کے کتنے لوگ ہیں جو اپنے امیر کی اطاعت کا ایسا جذبہ رکھتے ہیں کہ اس پر اپنی خواہشات کو بھی قربان کردیں کیونکہ اس طرح کی جنگ میں ایسی مضبوط اطاعت کے بغیر کام نہیں چلتا۔
جب تابوت سکینہ طالوت کے پاس آگیا تو بنی اسرائیل کو طالوت کی بادشاہت کا پورا یقین ہوگیا کہ اس کی بادشاہت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ سب نے اس کی اطاعت اور فرماں برداری قبول کرلی اور تابوت سکینہ کے واپس آجانے کے سبب سے یہ بھی ان سب کو یقین ہوگیا کہ اب تابوت کی برکت سے ضرور ہم کو دشمن پر فتح ہوگی اس واسطے جس وقت طالوت نے لڑائی پر جانے کا قصد کیا تو اسی ہزار آدمی کے قریب کا لشکر اس کے ساتھ ہوا ایک منزل میں پانی نہ ملا گرمی کا موسم تھا پانی کے نہ ملنے سے لشکر میں بڑی پریشانی پھیل گئی دوسری منزل میں ایک نہر ملی اور نہر کے اس پار دشمن کی فوج مقابلہ کو تیار تھی طالوت نے یہ سمجھ کر کہ ایک دن کی پیاس کے بعد اگر یہ لوگ خوب پیٹ بھر کر پانی پی جائیں گے تو بالکل کاہل ہوجائیں گے لشکر میں یہ حکم دے دیا کہ یہ نہر کیا ہے گویا اللہ کی طرف سے تمہارے حق میں ایک آزمائش ہے اس واسطے لشکر میں کا جو شخص پیٹ بھر کر پانی پئے وہ میرے ساتھ نہر کے اس پار نہ چلے۔ کیونکہ وہ لڑنے کے کام کا نہیں ہے۔ ہاں جو شخص چلو دو چلو پانی سے اپنی پیاس بجھا لیوے وہ میرے کام کا ہے ایسا شخص میرے ساتھ چلے پیاس کی شدت میں طالوت کے اس حکم کی تعمیل لوگوں پر ایسی شاق گزری کہ اتنے بڑے لشکر میں صرف تین سو تیرہ آدمیوں نے اس حکم کی تعمیل کی اور باقی کے لوگوں نے خوب پیٹ بھر کر پانی پیا اور پست ہمت ہو کر نہر کے اس پار رہ گئے۔ جو لوگ نہر کے اس پار گئے تھے انہوں نے اپنی فوج کو قلیل اور دشمن کی فوج کو کثیر دیکھ کر جب یہ بات کہی کہ میں تو اتنے بڑے لشکرکے مقابلہ کی طاقت نظر نہیں آتی تو طالوت اور لشکر کے ایمان دار عالم لوگوں نے سب کی ہمت بندہانے کو کہا کہ خبردار استقامت سے کام لو کہ اللہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہے اور اس کی مدد سے اکثر ایسا ہوا ہے کو تھوڑی سی جماعت نے بڑے بڑے لشکروں پر فتح پائی ہے۔
(2:249) فلما فصل طالوت بالجنود قال ان اللہ مبتلیکم بنھر۔ آیت سے قبل اور درمیان آیت بعض جگہ عبارت مقدرہ ہے۔ تقدیر کلام (بحوالہ تفسیر خازن) یوں ہے : فلما جاء ھم التابوت واقروا بالملک لطالوت تاھب للخروج الی الجھاد فاسرعوا لطاعتہ وخرجوا معہ وذلک قولہ تعالیٰ (فلما فصل طالوت بالجنود) ای خرج من بیت المقدس بالجنودوھم سبعون الفا و ذلک انھم لما رأو التابوت لم یشکروا فی النصر فسادعوا الی الخروج فی الجھاد وکان مسیرھم فی شدید فشکوا الی طالوت قلۃ الماء بینھم وبین عدوھم و قالوا ان المیاء لا تحملنا فادع اللہ ان یجری لنا نھراً و (قال) طالوت (ان اللہ مبتلیکم بنھر) یعنی جب تابوت ان کے پاس آپہنچا اور انہوں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور انہیں حضرت طالوت کی سرداری کا یقین ہوگیا۔ تو حضرت طالوت نے (ان کو مطمئن پاکر) جہاد کی تیاری کرکے (بیت المقدس سے) خروج کیا۔ بنی اسرائیل فوراً ان کے زیر کمان اکٹھے ہوگئے اس وقت ان کی تعداد ستر ہزار (یا بعض رواۃ کے مطابق اسی ہزار یا ایک لاکھ بیس ہزار) تھی۔ ان کی یہ اطاعت اس لئے تھی کہ جب انہوں نے تابوت کو دیکھا تو ان کو اپنی مدد ہونے میں کوئی شک و شبہ نہ رہا اور سب کے سب فوراً جہاد کے لئے تیار ہوگئے۔ اس وقت بہت سخت گرمی پڑ رہی تھی اس لئے انہوں نے حضرت طالوت سے قلت آب کی شکایت کی اور کہا کہ وہ اللہ سے ان کے لئے ایک نہر جاری کرا دے) ۔ حضرت طالوت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب نہر کی بابت بتایا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان اللہ مبتلیکم بنھر اللہ تعالیٰ ایک نہر سے تمہاری آزمائش کریگا۔ یعنی تمہاری استدعا کے بموجب ایک جاری نہر آئے گی لیکن اس سے تمہارا امتحان بھی مطلوب ہوگا۔ فلما۔ ف عاطفہ ہے۔ لما حرف ظرف بمعنی جب فصل۔ فصول سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے بمعنی جدا ہونا۔ نکلنا۔ باب ضرب۔ اس صورت میں یہ فعل لازم ہے۔ اور آیت میں یہی مراد ہے لیکن اگر اس کا مصدر فصل ہے تو یہ فعل متعدی ہوگا۔ اس صورت میں اس کے معنی ہوتے ہیں کاٹنا۔ جدا کرنا۔ ٹکڑے کردینا۔ بچے کا دودھ چھڑانا۔ اول الذکر کی صورت میں معنی ہوں گے : پھر جب طالوت فوجیں لے کر (بیت المقدس سے) نکلا۔ مبتلیکم۔ مبتلی۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ مضاف کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ مضاف الیہ۔ ابتلاء (افتعال) مصدر۔ تمہاری آزمائش کرنے والا۔ تم کو جانچنے والا۔ اس کا مادہ بلی ہے (باب ضرب) سے بمعنی فرسودہ ہوجانا۔ پرانا ہوجانا۔ بوسیدہ ہوجانا ۔ جیسے بلی الثوب۔ بلی وبلائ۔ کپڑا فرسودہ اور کہنہ ہوگیا۔ لیکنباب نصر سے یہ مادہ آزمائش کرنے اور جانچنے کے معنوں میں مستعمل ہے۔ جیسے انما یبلوکم اللہ بہ (16:92) بیشک خدا تمہیں آزماتا ہے اس سے۔ ان اللہ مبتلیکم بنھر۔ بیشک اللہ تعالیٰ ایک نہر سے تمہاری آزمائش کریگا۔ یعنی تم سے ممتحن جیسا سلوک کرے گا۔ تاکہ مطیع اور عاصی میں فرق ظاہر ہوجائے۔ من شرب منہ۔ من شرطیہ ہے اور جملہ شرطیہ ہے۔ فلیس منی۔ ف جواب شرط میں ہے اور جملہ جواب شرط ہے۔ لیس منی نہیں ہے میرے میں سے۔ میرے حامیوں میں سے۔ میرے طرف داروں میں سے۔ میرے حمائیتیوں میں سے ای لیس من اشیاعی (جمع شیعۃ واحد) ومن لم یطعمۃ فانہ منی۔ پہلا جملہ شرطیہ۔ دوسرا جواب شرط ہے۔ واؤ عاطفہ لم یطعمہ میں لم یطعم مضارع نفی جحد بلم واحد مذکر غائب (جس نے) نہ چکھا۔ طعم الشیء اس وقت بھی بولا جاتا ہے جب کسی چیز کو (کھانے کی ہو یا پینے کی) چکھے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ جس کا مرجع نہر کا پانی ہے۔ منی۔ من حرف جاری ساکن ضمیر واحد متکلم ۔ مجرور۔ مجھ سے ۔ میری طرف سے۔ الا من اغترف غرفۃ ابیدہ۔ الا حرف استثناء من موصولہ۔ اغتراف (افتعال) مصدر۔ غرفۃ ایک چلو پانی۔ چلو بھر پانی۔ اغترف غرفۃ بیدہ (جس نے) اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر پانی پی لیا۔ غرفۃ (بمعنی معروف) بوجہ مفعول بہ ہونے کے منصوب ہے۔ الا من اغترف غرفۃ بیدہ۔ معناہ الرخصۃ فی اغتراف الغرفۃ بالید دون الکرع۔ یعنی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لینے کی اجازت ہے۔ بدون برتن یا منہ لگا کر پانی پینے کے۔ فشربوا منہ۔ ای من النھر۔ پس ان (سب نے) نہر سے پانی پی لیا۔ الا قلیلا۔ الا حرف استثناء قلیلا مستثنیٰ ۔ الا کے بعد کلام موجب میں واقع ہے لہٰذا منصوب ہے (جس کلام میں استثناء ہو اور اس میں نفی ۔ نہی و استفہام نہ ہو وہ موجب کہلاتا ہے۔ فلما۔ پھر جب۔ جاوزہ ھو والذین امنوا معہ۔ جاوز۔ ماضی واحد مذکر غائب مجاوزۃ (مفاعلۃ) بمعنی پارہونا۔ پار اترنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب نہر کے لئے ہے۔ ھو ای طالوت واؤ عاطفہ۔ الذین موصول امنوا صلہ۔ دونوں مل کر معطوف۔ عطف بر ضمیر ھو۔ معہ۔ مع اسم ظرف مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب، مضاف الیہ ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر متعلق جاوز۔ یعنی جب حضرت طالوت دریا کے پار اتر گئے۔ اور ان کے ساتھ صاحب ایمان لوگ بھی دریا پار کرگئے۔ قالوا۔ صاحب تفسیر ماجدی رقم طراز ہیں : (بہ نظر احوال ظاہر) یہ گفتگو ان میں آپس میں ہونے لگی دشمن کی کثرت تعداد اور اس کی عظمت و سامان پر نظر کرکے اس کی ہیبت کا دل پر بیٹھ جانا اور اپنی طرف سے مایوس ہوجانا ایک امر طبعی تھا۔ اچھے اچھے اہل ایمان کی بھی ایسے موقع پر طبعی طور پر ہمت جھوٹ جاتی ہے۔ بجالوت و جنودہ۔ ب۔ حرف جار۔ جالوت غیر متصرف کطالوت۔ واؤ عاطفہ جنودہ مضاف مضاف الیہ مل کر معطوف۔ جس کا عطف جالوت پر ہے۔ جالوت اور اس کی فوجوں کے مقابلہ میں۔ قال الذین یظنون انھم ملقوا اللہ۔ وہ لوگ جنہیں یقین تھا کہ بیشک وہ اللہ کے روبرو پیش ہونے والے ہیں۔ وہ بولے۔ یظنون مضارع جمع مذکر غائب ظن (باب نصر) وہ یقین کرتے ہیں وہ گمان کرتے ہیں۔ آیت ہذا میں اول الذکر معانی مراد ہیں۔ ملاقوا اصل میں ملاقون تھا اضافت کی وجہ سے نون گرگیا ہے۔ یہ اسم فاعل جمع مذکر۔ مضاف ہے اللہ مضاف الیہ۔ یہاں مذکورہ بالا مومنین میں سے وہ لوگ مراد ہیں جن کا ایمان خدا اور آخرت پر بالکل پختہ اور غیر متزلزل تھا۔ اور وہ ہنگامی طور پر مرعوب اور دہشت زدہ نہ ہوئے تھے بلکہ بڑے استقلال کے ساتھ بولے ۔۔ کم من فئۃ ۔۔ مع الصبرین یہ مقولہ ہے قال کا۔ کم اسم مبنی ہے اور صدر کلام میں آتا ہے۔ اور مبہم ہونے کی وجہ سے تمیز کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ دو طرح مستعمل ہے : (1) استفہامیہ ۔ مثلاً کتنی مقدار۔ کتنی تعداد۔ کتنی دیر۔ قرآن مجید میں کم استفہامیہ نہیں آیا ہے۔ (الاتقان) (2) کم خبر یہ۔ جو مقدار کی بیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کی تمیز ہمیشہ مجرور ہوتی ہے۔ جیسے کم قریۃ اہلکناھا۔ ہم نے بہت سی بستیوں کو برباد کردیا۔ کبھی تمیز سے پہلے من آتا ہے۔ جیسے وکم من قریۃ اہلکناھا (7:4) اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر دالیں۔ اور وکم من ملک فی السموت لا تغنی شفاعتھم شیئا۔ اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی۔ کم من فئۃ قلیلۃ۔ فئۃ قلیلۃ۔ موصوف و صفت۔ فئۃ واحد۔ گروہ۔ جماعت۔ ٹولی۔ وہ گروہ جس کے افراد باہم مددگار ہوں اور ایک دوسرے کی طرف مدد کرنے کے لئے دوڑیں۔ فاء یفییٔ فییٔ (باب ضرب) فئی مادہ۔ اچھی حالت کی طرف لوٹنا۔ رجوع کرنا۔ جیسے حتی تفییٔ الی امر اللہ فان فاءت (49:9) یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے۔ پس جب وہ رجوع لائے ترجمہ ہوگا : (بسا اوقات) چھوٹی چھوٹی کتنی ہی جماعتوں نے بڑی بڑی جماعتوں پر غلبہ پالیا اللہ کے حکم سے) یعنی اس کی توفیق و مدد سے۔
ف 1 اس نہر سے مراد دریائے اردن ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے جس کی فلسطین میں بہت اہمیت ہے۔ مطلب یہ تھا کہ جو شخص جہاد کی راہ میں بھوک پیاس اور تکالیف برداست کرنے کی ہمت رکھتا ہے وہ میرے ساتھ چلے اور جو یہ ہمت نہیں رکھتا وہ ابھی سے الگ ہوجائے۔2 اتنی تعداد جتنی غزوہ بدر میں مسلمانوں کی تھی۔ یعنی تین سو تیرہ۔ حضرت براء کہتے ہیں کہ ہم آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ بدر کے روز مسلمانوں کی تعداد اتنی تھی جتنی ان لوگوں کی جنہوں طالوت کے ساتھ نہر کو پار کیا۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)3 بعض نے لکھا ہے کہ یہ کہنے والے وہی لوگ تھے جنہوں نے نہر پر پہلے ہی اپنی بےصبری کا مضاہرہ کردیا تھا لیکن عبارت کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کے یہ بات ام مومنین نے کہی جنہوں نے طالوت کے ساتھ نہر کو پار کیا تھا۔ ممکن ہے انہوں نے جالوت کے لشکر کی کثرت اور اپنی قلت کو دیکھ کر یہ کہہ دیا ہو۔
آیات 249 253 اسرارو معارف فلما فصل طالوت………………لمن المرسلین۔ اب جہاد کی تیاری شروع ہوئی اور حضرت طالوت لشکر کو لے کر چلے تو فرمایا اللہ نے تمہارا امتحان مقرر کیا ہے کہ راستے میں نہر پڑتی ہے لیکن اس سے پانی پینے کی اجازت نہیں ہاں اگر کوئی چلو بھر کر پی لے تو اجازت ہے۔ اب سفر اور گرمی کے مارے ہوئے لوگ صبر نہ کرسکے سوائے ایک محدود تعداد کے جن کے ایمان مضبوط تھے۔ جس نے پیٹ بھر کر پانی پیا وہ چلنے کے قابل ہی نہ رہا اور نہ اس کی پیاس ہی بجھ سکی۔ جنہوں نے چند گھونٹ لئے پیاس بھی بجھ گئی اور جہاد کی فضیلت بھی نصیب ہوئی۔ مگر جب جالوت کے لشکر کا سامنا ہوا تو یہ تعداد میں بہت کم تھے کچھ لوگ گھبراگئے کہ اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کییس کرسکیں گے۔ جالوت عمالقہ کے حکمران کا نا م تھا جو بہت خود سر اور سخت مزاج تھا اور ایک بڑا لشکر اس کے پاس تھا۔ مگر ان میں بھی جو اخص الخواص اور اکمل تھے کہنے لگے۔ کہ فتح وشکست اللہ کے ہاتھ ہے کتنی کم تعداد جماعتوں کے حالات تاریخ میں محفوظ ہیں جو اپنے سے بڑے لشکروں پر فتحیاب ہوئیں۔ لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں ۔ ناقص ، جو پانی پر بھی صبر نہ کرسکے اور پیچھے رہ گئے ، کامل جو دنیاوی نعمتوں پر صبر کرتے ہوئے آگے بڑھے اور اکمل جو ان کے لئے بھی ثابت قدمی کا سبب بنے۔ جب جالوت کے لشکر کے مقابل ہوئے تو اللہ سے دعا کی کہ ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہمارے دلوں پر اپنی طرف سے صبر اور استقامت کی قوت نازل فرما ! نیز ہمیں کفار پر فتح دے اور یہی توکل ہے کہ اللہ سے دعا بھی کرے ، اسباب ظاہر ی پوری کوشش سے اختیار کرے اور پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کردے جو اللہ کی طرف سے ہو اس پر راضی رہے۔ چنانچہ حضرت دائو د (علیہ السلام) نے ، جو اس وقت نو عمر تھے اور کمزور اور زرد رو تھے اللہ کے حکم سے جالوت کو قتل کرکے اس کا غرور خاک میں ملادیا۔ طالوت نے انہیں بیٹی کا رشتہ بھی دیا اور پھر سلطنت بھی انہی کو منتقل ہوگئی اور اللہ نے نبوت سے سرفراز فرما دیا اور جس قدر حاصل کرتے اور حکومت اللہ کے لئے کرتے تھے تمام جانوروں کی زبان سمجھتے تھے۔ اللہ نے زبان میں سوزرکھا پہاڑ اور درخت ان کے ساتھ مل کر ذکر کرتے تھے جسے ذکر حال نہ سمجھا جائے کہ وہ تو ہر شے اللہ کا ذ کہ ہمہ وقت کررہی ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کی خصوصیت تو یہ تھی کہ پہاڑ اور چٹانیں زبان قال سے ان کے ساتھ مل کر اللہ کا ذکر کیا کرتی تھیں۔ اللہ ہمیشہ بدی کا نیکی سے اور بدکاروں کا نیکوکاروں سے رد فرماتے رہتے ہیں یہ بھی اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور جہان والوں پر کرم اور اللہ تو ہے عالمین پر کرم فرمانے والا۔ یہ سب احوال اللہ کی طرف سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بیان ہوتے ہیں اور بالکل درست اور صحیح۔ جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ کسی سے پڑھا ، نہ سنا۔ تو یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی بھی بہت بڑی دلیل ہے جہاں ان میں ترغیب وترہیب ہے وہاں ان کا بیان آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک بہت بڑا معجزہ بھی ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد نوع انسانی کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت یا پھر اللہ کی گرفت ، دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض…………ولکن اللہ یفعل مارید۔ پارہ دوم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت ونبوت کے اثبات کے موضوع پر ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ امتوں اور انبیاء (علیہ السلام) کے احوال اس صحت کے ساتھ بیان کرنا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی دلیل قرار دیا۔ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ کسی مکتب ومدرسہ میں تعلیم حاصل کی ، نہ کسی راہب وعالم سے کچھ سیکھا ، نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی قصہ گو کی مجلس اختیار فرمائی اور نہ عوامی میلوں میں کبھی شرکت فرمائی بلکہ ایسے معاشرے میں جس میں تعلیم و تعلم کا سرے سے کوئی اہتمام ہی نہیں ، بحالت یتیمی پرورش پائی اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بچپن بھی سادگی ، سنجیدگی وصداقت ، شرم وحیا اور تنہائی کے لمحات پر محیط ہے ایسے شخص کا جس کی عمر عزیز چالیس سال سے متجاوز ہورہی ہے اور یہ چالیس برس صداقتوں کے سنگ میل ہیں اعلان فرمانا کہ اللہ نے مجھ پر وحی نازل فرمائی ہے سراسر حق ہے کہ جس ہستی نے اتنی عمر میں کسی انسان پر بھی جھوٹ نہ بولا ہو ، وہ یکایک اللہ پر کیسے جھوٹ بول سکتا ہے اور پھر اس کے ساتھ وہ حقائق پوری صحت کے ساتھ بیان فرمانا جنہیں سابقہ امتوں کے علماء بھی صحت کے ساتھ بیان نہیں کرسکتے بیشک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی دلیل ہے۔ اس کے بعد انبیاء ورسل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فضیلت اور ان کا اعلیٰ مقام اور ان کی عظمت ارشاد فرما کر پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت کو جملہ انبیاء ورسل پر ارشاد فرمایا : یہ اللہ کے رسولوں کی مقدس جماعت ہے۔ رسالت بجائے خود بہت بڑا مرتبہ ہے کہ نبی یا رسول ہی ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو براہ راست ذات باری سے اخذ فیض کرتا ہے باقی مخلوق اس استعداد سے محروم ہے اور ساری مخلوق کے لئے انتہائی کمال یہ ہے کہ اپنے نبی یا رسول سے ایسی نسبت حاصل ہوجائے کہ وہ اس کی وساطت سے فیوضات باری پاسکے۔ انبیاء ورسل معصوم عن الخطا ہوتے ہیں کہ براہ راست ذات باری سے حصول فیض کے لئے عصمت شرط ہے اس لئے اگر کسی نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد بھی کسی انسان کو معصوم مانا تو گویا وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اجرائے نبوت کا قائل ہے اور یہ کفر ہے کیونکہ نبوت و رسالت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات والا صفات پر ختم ہے۔ اب قیامت تک یہی امت ہے یہی کتاب اور یہی دین رہے گا حتیٰ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اپنے نزول کے بعد اپنی کتاب یا شریعت پر عمل نہ فرمائیں گے بلکہ خود شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تابع ہوں گے اور لوگوں کو بھی اس کی تعلیم وتلقین فرمائیں گے۔ انبیاء ورسل اگرچہ نبوت میں سب شریک ہیں مگر عنداللہ قرب میں اور آخرت کے ثواب میں اپنے اپنے مدارج ہیں جس میں بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ انبیاء کے درمیان تفصیل نہ کیا کرو۔ اس کے مختلف جوابات دیئے گئے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ کام اپنی رائے سے مت کرو ، کسی انسان کے بس کا نہیں۔ ہاں ! اگر کتاب اللہ یا حدیث پاک سے ثابت ہو تو پھر اس پر ایمان رکھنا ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ وصف نبوت میں سب برابر ہیں۔ فرق صرف مراتب قرب الٰہی میں ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ارشاد فرماسکتا ہے یا اللہ کے حکم سے اللہ کا رسول بتا سکتا ہے۔ اہل اللہ کی باہم دگر فضیلت : نیز ایسی فضیلت کسی حال نہ دی جائے جس میں دوسرے نبی کی کسر شان ہو کر سب اعلیٰ اور اچھے ہیں پھر بعض اچھوں میں بھی بہت اچھے ہیں اور یہی طریقہ اہل اللہ کی ذوات سے بھی روارکھنا چاہیے کہ ولایت کا تعلق بندے اور اللہ کے بین ہے۔ اللہ ہی جانے کہ کون زیادہ مقبول ہے ، ہاں حالات وواقعات بیان کرنے میں حرج نہیں مگر اس احتیاط سے کہ کسی ایک کے ذکر سے دوسرے ولی اللہ کی توہین کا پہلو نہ نکلتا ہو۔ اب بعض فضائل کا ذکر ہے کہ کوئی براہ راست اللہ سے ہمکلام ہوا ، کسی کو اس سے بھی زیادہ مراتب نصیب ہوئے ، جیسے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر وحی کے واسطے کے اللہ سے شرف ہمکلامی نصیب ہوا۔ اللہ جس کو نبوت کے لئے چن لیتا ہے اسے عصمت عطا فرماتا ہے نوع انسانی سے ہونا جملہ انسانی حاجات و ضروریات کے ساتھ ، اور زندگی کے جملہ تقاضوں کو مختلف بھلے برے معاشرے میں رہ کر پورا کرنا اور پھر ایسی دیانت ، امانت ، صداقت اور شرافت سے پورا کرنا کہ زندگی بھر کبھی گناہ یا معصیت سرزد نہ ہو۔ معصوم عن الخطا ہے۔ یہ صرف اور صرف نبی کا شان اور مقام ہے غیر نبی کو نصیب نہیں۔ یہ رفعت انہیں حاصل ہے جن پر وحی نازل ہوئی۔ اب جس ہستی کو وحی کے بغیر براہ راست اللہ سے شرف ہمکلامی نصیب ہوا اس کی شان کتنی بلند اور اس کی پاکیزگی ونفاست کس قدر اعلیٰ وارفع ہوگی ، سبحان اللہ !۔ فرمایا بعض کے درجات اس سے بھی بہت بلند ہیں جس سے مفسرین کرام کے نزدیک آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی مراد ہے کہ وہاں رف ہمکلامی ہے مگر بلا حجاب نہیں اور پھر زمین ہی کے ایک حصہ پر یہ دولت نصیب ہوتی ہے مگر آپائے نامدار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آسمانوں سے اوپر تشریف لے گئے۔ کروڑوں ، اربوں حجابات سے بالا ، جہاں شرف ہمکلامی سے مشرف ہوئے کہ ارشاد ہوتا ہے۔ فاوحی الی عبدہ ما اوحی۔ جب یہ کلام ہورہا تھا تو حامل وحی سدرۃ المنتہیٰ پہ منتظر تھے جو بہت نیچے ساتویں آسمان کے آخر پہ ایک مقام ہے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بہت اوپر ، بہت آگے جہاں اللہ نے چاہا تشریف رکھتے تھے پھر تجلیات باری سے بھی سیراب ہو رہے تھے کہ یہاں طور پر دیدار جمال کا تقاضا ہوا تو فرمایا لن ترانی کہ برداشت نہ کر پائو گے اور پھر واقعی جب کوئی ذرہ تجلی ذاتی کا جلوہ گر ہوا تو نہ طور برداشت کرپایا اور نہ اللہ کا رسول ہوش میں رہا۔ یہاں بھی علمائے کرام کی دو آراء ہیں بعض کے نزدیک دیدار باری نہیں ہو اور بعض کے نزدیک ہوا۔ کہ نہ ہونا تو دنیا میں ہے ، دنیا اور یہاں کی زندگی میں انسانی قوت برداشت ایسی نہیں کہ دیدار کرسکے۔ مگر آخرت میں نگاہ اور دل دونوں کو وہ قوت عطا ہوگی کہ مومن اپنے رب کا دیدار کرسکیں گے اور یہ بات تو بالائے عرش کی ہے۔ دیدار باری : جب وجود مادی جو مادہ سے صورت پذیر ہے مگر اس قدر شفاف ، اس قدر پاکیزہ ، اس قدر لطائف سے پر ہے کہ بالائے عرش جہاں پہنچنے کو روحیں ترستی ہیں وہاں تشریف لے جاسکتا ہے وہاں جب جنت و دوزخ کا ملاحظہ فرمای جانا مذکور ہے براہ راست ہم کلام ہونا مذکور ہے تو دیدار سے مشرف ہونے میں کوئی شے مانع نہیں بلکہ اللہ کا یہ فرمان ماذاغ البصر وما طغیٰ بجائے خوددیدار باری کی دلیل ہے کہ اگر جمال باری کا دیدار نہیں ہوا تو پھر آنکھ کس چیز سے نہیں بھٹکی۔ میری ناقص رائے میں سب سے قریب تر جو ذاتی تجلی تھی وہ صرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ملاحظہ فرمائی اور دیدار باری سے مراد بھی یہی ہے کہ تجلیات ذاتی کا دیدار ہوا ورنہ ذات باری تو مخلوق کی رسائی سے بالاتر ہے۔ اگر کوئی ایک آنکھ ہی سہی جب وہ اللہ کو سما سکے تو وجود باری محدود قرار پائے گا۔ جو باطل ہے اللہ حدود سے بالاتر ہے۔ اس کے دیدار سے مراد قریب ترین ذاتی تجلی جہاں تک مخلوق کی رسائی ہوسکی وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشاہدہ فرمائی یہ تجلی نہ عین ذات ہے اور نہ ذات سے جدا ہے اور اس کی فضیلت میں بھی بدستور ترقی ہوتی رہے گی اور قریب سے قریب تر تجلیات کا دیدار نصیب ہوگا کہ دیدار باری کے مختلف مدارج بلحاظ افراد کے ہوں گے ، بلحاظ مقامات کے ہوں گے اور بلحاظ اوقات کے ہوں گے جیسا کہ جنت میں سب جنتی دیدار باری سے ضرور مشرف ہوں گے مگر اپنے اپنے درجے کے مطابق۔ ایسے ہی بلحاظ فرد اور بلحاظ مقام سب پر آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی کو فضیلت حاصل ہے۔ ایسے ہی عیسیٰ (علیہ السلام) کو معجزات عطا فرمائے کہ بیماروں کو اچھا کرنا ، مادر زادہ اندھوں کو بینا کرنا اور کوڑھ کے مریضوں کو تندرست کردینا ، مٹی کا پرندہ بناکر اس میں دم کرنا اور اس کا زندہ ہونا ، مردوں کو زندہ کرنا آپ کے معجزات میں سے تھا ، اور آپ پر آسمان سے خون اتارا گیا تھا۔ نیز یہود سے حفاظت کے لئے روح القدس یعنی جبرائیل امین (علیہ السلام) آپ کے ساتھ رہتے تھے ۔ یہ سب اللہ کے انعامات تھے ، ان کی صداقت اور حقانیت کا ثبوت تھے۔ نہ یہ کہ یہود نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تو مانا مگر عیسیٰ (علیہ السلام) کی توہین پہ اترآئے اور عیسائی حضرات نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بنادیا۔ یہ دونوں نظرئیے باطل قرار پائے اور کمالات موسوی نیز کمالات ان حضرات (علیہ السلام) کی نبوت کا ثبوت اور اللہ کے انعامات ہیں۔ ان کے ارشادات اور ان کی تعلیمات پہ عمل ہی کا نام ان سے نسبت ہے۔ مشرکین عرت کے ساتھ یہود ونصاریٰ ہی دو قومیں تھیں جو اپنی مذہبی حیثیت منوانے پہ مصر تھیں اور خود کو حق پر کہتی تھیں۔ انبیاء کے فضائل کے ضمن میں یہ بات بھی واضح ہوگئی۔ انبیاء سابقہ کی تعلیمات میں بھی یہ بات موجود تھی کہ بعثت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد صرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اتباع ضروری ہوگا۔ اب ہر شخص کا معاملہ اللہ سے ہے اور جیسا اس کا تعلق ہوتا ہے ویسے اللہ نتائج مرتب کرتا ہے وہ قادر ہے چاہتا تو سب کو بچا لیتا اور ایسی عظیم ہستیوں کی بعثت کے بعد اور اس قدر روشن دلائل کے بعد گمراہ نہ ہوتے۔ نہ ایک دوسرے کا گلا کاٹتے اور نہ فساد بپا کرتے۔ لیکن یہ سب کچھ ہوا کہ اللہ کی حکمت نے انہیں اپنی راہ پسند کرنے کا اختیار بخشا تھا۔ لوگوں نے اختلاف کیا ، آراء میں ، اعمال میں اور یہی اختلاف بڑھ کر قتل و غارت گری تک جا پہنچا۔ کوئی ایمان پر قائم نہ رہا اور کچھ دوسرے کفر کی گمراہی میں چلے گئے۔ اللہ تو قادر ہے اگر بچانا چاہتا تو یقینا ایک دوسرے کو قتل نہ کرتے ، مگر وہ حکیم ودانا ہے اور مالک ومختار جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس میں بہت بڑی تسلی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے بھی ہے کہ اختلاف لوگوں کی فطرت ہے یقینا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی کریں گے کہ کبھی سارے لوگ ایک بات پہ جمع نہیں ہوتے۔
2۔ اس امتحان کی حکمت اور توجیہ راقم کے ذوق میں یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایسے مواقع پر جوش و خروش بھیڑ بھڑکا بہت ہوجایا کرتا ہے لیکن وقت پر جمنے والے کم ہوتے ہیں اور اس وقت ایسوں کا اکھڑ جانا باقی لوگوں کے پاوں بھی اکھاڑ دیتا ہے اللہ کو ایسے لوگوں کا علیحدہ کرنا منظور تھا۔
فہم القرآن ربط کلام : واقعہ طالوت و جالوت کی تفصیل جاری ہے۔ جناب طالوت قوم کے حالات اور عادات کو جانتے تھے اس لیے انہوں نے مناسب سمجھا کہ پہلے ان کی آزمائش کرنا چاہیے تاکہ دشمن کے مقابلے میں ان کی طاقت و صلاحیت کا اندازہ لگایا جاسکے۔ اسی سے ٹریننگ اور فوجی مشقوں کا اصول نکلا ہے۔ جنا بِ طالوت نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے راستے میں ایک نہر آنے والی ہے اور وہ نہر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے آزمائش ہوگی۔ جس نے نہر سے سیر ہو کر پانی پی لیا وہ میرا ساتھی نہیں ہوگا چلو بھر پانی پینا تمہارے لیے جائز قرار دیا گیا ہے۔ جو نہی وہ نہر کے کنارے پہنچے تو چند لوگوں کو چھوڑ کر ان کی اکثریت نے خوب سیر ہو کر پانی پیا۔ جنہوں نے پانی نہیں پیا تھا ان کی تعداد تین سو تیرہ (313) تھی۔ (عَنِ الْبَرَاءِ (رض) قَالَ کُنَّا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نَتَحَدَّثُ أَنَّ عِدَّۃَ أَصْحَابَ بَدْرٍ عَلٰی عِدَّۃِ أَصْحَابِ طَالُوْتَ الَّذِیْنَ جَاوَزُوا النَّھْرَ وَلَمْ یُجَاوِزُوْا مَعَہٗ إِلَّا مُؤْمِنٌ بِضْعَۃَ عَشَرَ وَثَلَاث ماءَۃٍ ) [ رواہ البخاری : کتاب المغازی : باب عدۃ أصحاب بدر ] ” حضرت براء (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی باہم گفتگو کیا کرتے تھے کہ اصحاب بدر کی تعداد طالوت کے ان ساتھیوں کی تعداد کے برابر تھی جنہوں نے نہر پار کی تھی اور ان کے ساتھ صرف 313 مومن تھے۔ “ جب ان کا سامنا جالوت کی فوج کے ساتھ ہوا تو سیر ہو کر پانی پینے والوں نے لڑنے سے انکار کردیا۔ بعض مفسرین نے اسرائیلی روایات کے حوالے سے لکھا ہے کہ سیر ہو کر پانی پینے والوں کے پیٹ پھول گئے۔ جب فوجوں کا آمنا سامنا ہوا تو انہوں نے جہاد سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ہم میں جالوت کے لشکر کے ساتھ لڑنے کی ہمت نہیں ہے۔ اس صورت حال سے عہدہ برآ ہونے اور بزدلوں کو جہاد پر آمادہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر سچا یقین رکھنے والے مجاہدوں نے کم ہمت لوگوں کو بار بار سمجھایا کہ کم ہمتی اور بزدلی نہ دکھاؤ۔ ہمت کرو اور یقین جانو کہ تاریخ میں بار ہا دفعہ ایسا ہوا کہ قلیل جماعتیں کثیر جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غالب آتی رہی ہیں۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ اسلام کا تابناک ماضی اس پر گواہ ہے کہ مسلمان اسلحہ اور افرادی قوت کے اعتبار سے کبھی بھی اپنے دشمن سے زیادہ نہیں رہے لیکن جب تک یہ منظم ‘ مستقل مزاج، پر عزم، صاحب کردار اور حوصلہ مند یعنی صابر رہے یہی غالب آتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مستقل مزاج لوگوں کا ساتھ دیا کرتا ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ مختلف طریقوں کے ساتھ لوگوں کو آزماتا ہے۔ ٢۔ دشمن کے مقابلے سے پہلے ٹریننگ اور تربیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کی مدد سے قلیل کثیر پر غالب آیا کرتے ہیں۔ ٤۔ اللہ کے نافرمان بزدل ہوتے ہیں۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ حوصلہ مند لوگوں کی مدد فرماتا ہے۔ ٦۔ جناب طالوت کے ثابت قدم رہنے والے ساتھی 313 تھے۔ ٧۔ آزمائش کے وقت ایک دوسرے کو ثابت قدم رہنے کی تلقین کرنا چاہیے۔
یہاں پہلے قدم پر ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت طالوت کا انتخاب کیوں فرمایا تھا۔ وہ ایک سخت معرکہ سر کرنے جارہے تھے ، لیکن ان کے ساتھ جو فوج تھی وہ شکست خوردہ لوگوں پر مشتمل تھی ۔ یہ لوگ اپنی طویل تاریخ میں بار بار ہزیمت اٹھاچکے تھے ۔ اور بار بار ذلت اٹھانے کے خوگر ہوگئے تھے ۔۔ اور مقاتلہ ایک فاتح اور غالب قوم کی فوج کے ساتھ تھا ۔ اس لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ اس ظاہریہ شان و شوکت والی فوج کے مقابلے میں ایک ایسی فوج لے کر جائیں جن کے ضمیر قوت ، پوشیدہ قوت سے بھرے ہوئے ہوں ، یہ پوشیدہ قوت ، قوت ارادہ ہی ہوسکتی ہے۔ اتنا پختہ ارادہ کہ وہ ہر خواہش اور ہر رجحان کو ضبط کرسکے ۔ وہ محرومیت اور شدائد کے مقابلے میں چٹان کی طرح کھڑا ہوسکے ۔ جو ضروریات اور لازمی حاجات سے بھی بلند ہوجائے ۔ وہ اطاعت حکم کو ترجیح دے اور اس سلسلے میں مشکلات اور تکلیفات کو انگیز کرے ۔ آزمائش کے بعد آزمائش سے گزرتا چلاجائے ، لہٰذا اس چنے ہوئے ، اللہ کے پسند کئے ہوئے کمانڈر کا فرض تھا کہ وہ اپنی فوج کی قوت ارادی کو آزمائے ۔ اس کی ثابت قدمی اور صبر کو پرکھے کس حدتک وہ خواہشات نفس اور مرغوبات کے مقابلے میں ٹھہر سکتے ہیں ۔ کس قدر وہ ضروریات زندگی سے محرومی اور مشکلات برداشت کرسکتے ہیں ۔ روایات میں آتا ہے کہ کمانڈر نے یہ حکم فوج کو اس وقت دیا جبکہ وہ سخت پیاسے تھے ۔ پیاس سے نڈھال ہورہے تھے ۔ یہ جاننے کے لئے کہ کون ہے جو صبر کرتا ہے اور کون ہے جو پیٹھ پھیر کر واپس ہوجاتا ہے ، الٹے پاؤں پھرتا ہے اور کنج عافیت میں بیٹھ جاتا ہے چناچہ اس مختا رکمانڈر کی فراست صحیح ثابت ہوئی ۔ فَشَرِبُوا مِنْهُ إِلا قَلِيلا مِنْهُمْ ” ایک گروہ قلیل کے سب اس سے سیراب ہوئے ۔ “ انہوں نے پیا لیکن خوب پیٹ بھر کر حالانکہ ان کو اجازت یہ دی گئی تھی کہ وہ صرف ہاتھ سے ایک آدھ چلو بھر کر پی لیں ۔ اس قدر کہ پیاس کی تیزی ختم ہوجائے ۔ لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ وہ واپس ہونا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کی اکثریت نے گویا ہتھیار ڈال دئیے ۔ پیاس کے سامنے ، اور پیٹھ پھیرلی دشمن سے ، اس لئے یہ جدا ہوگئے ۔ یہ اس قابل ہی نہ تھے کہ طالوت اور اس کے ساتھیوں کے ذمہ جو مہم سر کرنی تھی اس میں ان کو شریک کیا جائے ۔ بہتری اسی میں تھی ۔ دانشمندی یہی تھی کہ وہ اس فوج سے الگ ہوجائیں جس نے فی الوقعہ جنگ لڑنی ہے ۔ یہ دراصل کمزوری ، شکست اور ناکامی کا بیج تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ فوج کی کامیابی عظیم تعداد کی وجہ سے نہیں ہوا کرتی بلکہ پختہ ارادے اور مضبوط ایمان ، مضبوط دل اور مستقبل مزاجی سے ہوا کرتی ہے۔ اس تجربہ سے معلوم ہوا کہ صرف چھپی ہوئی نیت ہی کافی نہیں بلکہ عملی تجربہ بھی ضروری ہے ۔ میدان جنگ میں قدم رکھنے سے پہلے اس راہ کے نشیب و فراز سے واقفیت ضروری ہے ۔ اس تجربے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جو قائد چنا تھا وہ کس قدر اولوالعزم تھا ۔ اس کی ہمت کی بلندی تو دیکھو کہ اکثر لوگوں نے اعلان جہاد کے وقت ہی انکار کردیا لیکن اس کا ارادہ متزلزل نہ ہوا۔ پھر پہلے تجربہ ہی میں اس کی فوج کی اکثریت ناکام رہی اور انہوں نے پیٹھ پھیرلی ۔ لیکن وہ ثابت قدم رہا اور اپنی راہ پر گامزن رہا ۔ یہاں پہلے تجربے نے جیش طالوت کو اگرچہ چھان کر رکھ دیا ، کمزور لوگ اگرچہ الگ ہوگئے تھے لیکن اب بھی تجربات کا سلسلہ جاری ہے : اب یہاں آکر فی الواقعہ وہ ایک قلیل تعداد میں رہ گئے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ دشمن کے پاس ایک عظیم قوت ہے ۔ جالوت جیسا کمانڈر اس کی قیادت کررہا ہے ۔ وہ مومن ہیں انہوں نے اپنے نبی کے ساتھ جو کیا تھا ، اس پر وہ اب بھی قائم ہیں ۔ لیکن اب وہ اپنی آنکھوں سے حالات کو دیکھ رہے ہیں ، وہ صدق دل سے محسوس کررہے ہیں کہ وہ اس عظیم قوت کے ساتھ مقابلے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ اب یہ آخری اور فیصلہ کن تجربہ ہے ۔ یہ تجربہ کہ کون دنیا کی ظاہری قوت پر بھروسہ کرتا ہے اور کون ہے جو ظاہری قوت کے مقابلے میں اللہ کی عظیم قوت پر بھروسہ کرتا ہے۔ ایسے معاملات میں صرف وہ لوگ ہی ثابت رہ سکتے ہیں جن کا ایمان مکمل ہوچکا ہو ، ان کے دل اللہ تک پہنچ چکے ہوں ۔ ان کی قدریں بدل چکی ہوں ۔ وہ خیر وشر کا امتیاز اپنے ایمان کی روشنی میں متعین کرتے ہوں ، ان ظاہری حالات کی روشنی میں نہیں جن میں عوام الناس گرفتارہوتے ہیں۔ یہاں آکر اب وہ مٹھی بھرگنے چنے اہل ایمان کھل کر سامنے آجاتے ہیں ۔ وہ لوگ جن کی تعداد کا یقین ایمان کی روشنی میں ہوتا ہے۔ جن کا پیمانہ ظاہر بیں کے پیمانوں سے مختلف ہوتا ہے : یہ ہے اصول ان لوگوں کا جنہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ایک دن اللہ کے سامنے پیش ہوں گے ، کہ بار بار ایسا ہوا ہے کہ کم لوگ کثیر تعداد پر غالب آگئے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ مصائب وشدائد کے مختلف مراحل سے گزرکر ، کٹھن حالات سے دوچار ہوکر ، مقام برگزیدگی اور مقام عالی پر فائز ہوچکے ہوتے ہیں اور غالب اس لئے ہوتے ہیں کہ طاقت کا سرچشمہ ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ وہ اس عظیم قوت تک رسائی پاچکے ہوتے ہیں ، جو تمام قوتوں کا سرچشمہ ہوتی ہے ، تمام قوتوں پر غالب ہوتی ہے جس کے احکام نافذ ہوتے ہیں جو اپنی مخلوق کے مقابلے میں جبار ہے ، جو دنیا کے جباروں کو پاش پاش کردیتی ہ ہے ، جو ظالموں کو ذلیل کردیتی ہے اور بڑے بڑے گردن فرازوں پر غلبہ پالیتی ہے ۔ ان کو یہ کامیابی اللہ کے اذن سے ہوتی ہے ، خود ان میں کوئی کمال نہیں ہوتا ۔ اس کا حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی ذات برترہوتی ہے ۔ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ اس لئے کہ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہوتا ہے ۔ وہ اس لئے کامیاب ہوتے ہیں کہ اذن الٰہی ایسا ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں کہہ کر یہ مٹھی بھر لوگ ثابت کردیتے ہیں کہ یہ ہیں وہ لوگ جو معرکہ حق و باطل کے لئے چن لئے گئے ہیں۔ اب ہم اس کہانی کو لے کر ذرا آگے بڑھتے ہیں ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ نہایت ہی قلیل افراد پر مشتمل ایک گروہ ہے جسے یہ یقین ہے کہ وہ ایک دن اللہ کے سامنے پیش ہوں گے ۔ اسے اس ملاقات کا پورا یقین ہے اور یہی یقین اس کی اس مصابرت کا سرچشمہ ہے ۔ یہ گروہ اپنی قوت حکم الٰہی اور اذن اللہ میں تلاش کرتا ہے ۔ اسے اللہ پر پورا بھروسہ ہے ، اس لئے اسے اپنی کامیابی کو پورا یقین ہے اور یہ گروہ ان لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے جو اللہ کے ہاں صابرین کہلاتے ہیں ۔ غرض یہ گروہ جو صابر ہے ثابت قدم ہے اور غیر متزلزل ، ضعف و قلت کے باوجود خائف نہیں ۔ یہ گروہ اچانک میدان معرکہ میں ایک عظیم قوت کے مقابلے میں کود پڑتا ہے اور فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے ۔ یہ تجدید عہد کرتا ہے ۔ اس کے دل اللہ تک جاپہنچتے ہیں ، صرف اللہ سے نصرت مانگتے ہیں اور اس ہولناک معرکے میں کود پڑتے ہیں ۔
طالوت کے لشکر کا عمالقہ پر غالب ہونا اور جالوت کا مقتول ہونا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت طالوت کو بنی اسرائیل کا حکمران مقرر کردیا گیا اور ان کے نبی کی خبر کے مطابق مذکورہ تابوت فرشتے لے کر آگئے تو اب بنی اسرائیل کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہی، اور جہاد کرنے کے لیے نکلنا پڑا۔ جب دشمن سے جنگ کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو حضرت طالوت نے اپنے لشکروں سے فرمایا کہ تم لوگوں کا امتحان ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تم کو مبتلا فرمائے گا اور یہ ابتلا اور امتحان ایک پانی کی نہر کے ذریعہ ہوگا، چونکہ گرمی سخت تھی اور پیاس سے بےتاب ہو رہے تھے اس لیے اکثر افراد امتحان میں نا کام ہوگئے۔ مفسرین نے لکھا ہے یہ نہر فلسطین تھی اور بعض حضرات کا قول ہے کہ اردن اور فلسطین کے درمیان کوئی نہر تھی جس کا پانی میٹھا تھا، حضرت طالوت نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ دیکھو اس میں چلو بھر پانی پینے تک تو بات ٹھیک ہے جس نے چلو بھر پانی پی لیا وہ تو میرا ساتھی ہے میرے آدمیوں میں ہے اور جس نے زیادہ پانی پی لیا وہ مجھ سے نہیں ہے میری جماعت میں اس کا شمار نہیں، چونکہ اکثر افراد نے خوب پانی پی لیا تھا اس لیے ان کے حوصلے پست ہوگئے اور جی چھوڑ بیٹھے اور ہمت ہار گئے اور کہنے لگے ہم تو آج اپنے دشمن جالوت اور اس کے لشکر کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں۔ ہماری بساط نہیں کہ ہم ان سے لڑ سکیں۔ مفسرین نے لکھا ہے جو لوگ طالوت کے ساتھ روانہ ہوئے تھے وہ ستر یا اسی ہزار تھے ان میں سے تھوڑے ہی رہ گئے جنہوں نے پانی نہیں پیا، جن لوگوں نے پانی نہیں پیا تھا ان کی تعداد تین سو تیرہ لکھی ہے۔ یہ تھوڑا سا ایک چلو پانی جن لوگوں نے پیا اللہ نے اتنے ہی پانی کو ان کے لیے کافی فرمادیا ان کی پیاسیں اس سے بجھ گئیں اور جن لوگوں نے ڈٹ کے پانی پی لیا تھا وہ وہیں نہر کے کنارے پھیل گئے اور بزدل ہو کر گرپڑے، جو لوگ حضرت طالوت کے ساتھ آگے بڑھے اور دشمن کی طرف پیش قدمی کی وہ دشمن کے مقابلے میں بہت تھوڑے تھے لیکن انہیں یقین تھا کہ ہمیں اللہ کے پاس جانا ہے۔ میدان جہاد سے بھاگنا مؤمن کا شیوہ نہیں۔ ہمیں جہاد کرنا ہی کرنا ہے۔ رہا ہماری جماعت کا کم تعداد ہونا تو اللہ کی مدد کی امید رکھنے والوں کے لیے یہ بات سوچنے کی نہیں ہے۔ بہت سی کم تعداد جماعتیں بڑی بھاری تعداد والی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غالب ہوچکی ہیں، صبر و ثابت قدمی اللہ کی مدد کو لانے والی ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ جب حضرت طالوت کا لشکر دشمن سے جہاد کرنے کے لیے جا رہا تھا تو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اپنے ایک تھیلے میں چند پتھر رکھ لیے تھے جب دونوں فریق مقابل ہوئے تو جالوت نے کہا تم لوگ اپنے میں سے ایک شخص نکالو جو مجھ سے جنگ کرے اگر اس نے مجھے قتل کردیا تو میرا ملک تمہارا ہوجائے گا۔ اور میں نے قتل کردیا تو تمہارا ملک میرے ملک میں شامل ہوجائے گا۔ حضرت طالوت نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو جالوت کے مقابلہ کے لیے روانہ کرنا چاہا اور ان کو ہتھیار پہنا دئیے، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے اس سے جنگ کرنے کے لیے ہتھیار پہننا منظور نہیں ہے۔ اصل اللہ کی مدد ہے اگر اللہ نے مدد نہ فرمائی تو کوئی ہتھیار کام نہیں دے سکتا۔ یہ کہہ کر جالوت سے مقابلہ کرنے کے لیے نکلے۔ جالوت نے کہا کہ تم مجھ سے مقابلہ کرو گے انہوں نے فرمایا کہ ہاں، جالوت نے کہا تم تو یہ پتھر اور غلیل لے آئے ہو جس سے کتے کو مارا جاتا ہے، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تو اللہ کا دشمن ہے کتے سے بھی بدتر ہے یہ کہہ کر اپنی غلیل سے ایک پتھر مارا جو اس کی آنکھوں کے درمیان لگا اور دماغ میں گھس گیا۔ اس سے جالوت کا کام تمام ہوا اور اس کے لشکر نے شکست کھائی۔ جالوت جو ان کا دشمن تھا اور قوم عمالقہ کا بادشاہ تھا اس سے اور اس کے لشکروں سے آمنا سامنا ہوا، دونوں فریق صف آرا ہوئے تو حضرت طالوت کے ساتھیوں نے اللہ تعالیٰ سے صبر کی اور ثابت قدمی کی اور کافروں کے مقابلہ میں فتح یاب ہونے کی دعا کی، جنگ ہوئی جس کے نتیجہ میں جالوت اور اس کے لشکروں کو شکست ہوئی، اس جہاد میں حضرت داؤد (علیہ السلام) بھی شریک تھے۔ ان کے ہاتھ سے جالوت قتل ہوا۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو حکومت عطا فرما دی جس کا ذکر سورة صٓ کے پہلے رکوع میں فرمایا ہے۔ حضرات مفسرین نے فرمایا ہے کہ ملک سے حکومت اور حکمت سے نبوت مراد ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو دونوں سے سر فراز فرمایا، صاحب روح المعانی ص ١٧٣ ج ٢ لکھتے ہیں کہ ان کے زمانہ کے جو نبی تھے ان کی وفات کے بعد اور طالوت کی وفات کے بعد ان کو نبوت اور بادشاہت دی۔ جس کا اجمالی طور پر (وَعَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآءُ ) میں تذکرہ فرمایا ہے۔ مذکورہ قصہ جہاد بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضُھُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ) (کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ دفع نہ فرماتا تو زمین فساد والی ہوجاتی اور لیکن اللہ تعالیٰ جہانوں پر فضل فرمانے والا ہے) وہ قوت اور شوکت والوں کی طاقت کو دوسرے لوگوں کے ذریعہ دفع فرماتا رہتا ہے اور ظالمین تباہ ہوتے رہتے ہیں۔ اگر کسی ایک ہی علاقہ یا ایک ہی قوم کی قوت و شوکت ہمیشہ رہتی تو وہ ساری دنیا کو مصیبت میں ڈال دیتے اور سب کو مقہور و مجبور بنا لیتے اور ہمیشہ طغیانی سرکشی کرتے رہتے۔ آخر میں فرمایا ” کہ یہ اللہ کی آیات ہیں جنہیں ہم حق کے ساتھ آپ پر تلاوت کرتے ہیں اور بلاشبہ آپ پیغمبروں میں سے ہیں۔ “ چونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ کتابیں پڑھیں تھیں، نہ پرانی تاریخیں سنی تھیں۔ اس لیے ان واقعات کا علم ہوجانا اور لوگوں کو بتانا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو بتایا گیا ہے۔ قال صاحب الروح قولہ (وانک لمن المرسلین) حیث تخبر بتلک الآیات و القرون الماضیۃ علی ماھی علیہ من غیر مطالعۃ کتاب ولا اجتماع بأحد یخبر بذلک۔ (ص ١٧٥ ج ٢)
486:۔ جس فوج کو طالوت لے کر دشمن کے مقابلہ میں نکلے تھے ان میں کچھ مخلص تھے مگر اکثریت ان لوگوں کی تھی جو اخلاص کی خوبیوں سے محروم تھے اور اتنی بڑی فوج جو ہزارہاں سپاہیوں پر مشتمل تھی اس میں منافقین بھی ہوں گے اس لیے ضروری تھا کہ منافقین اور مخلصین امتیاز کیا جائے اور میدان جنگ میں پہنچنے سے پہلے ہی غیر مخلصین کو الگ کردیا جائے۔ کیونکہ ایسے لوگوں کی جنگ میں موجودگی ہمیشہ نقصان کا باعث ہوا کرتی ہے اس لیے راستہ میں واقع ہونے والے ایک دریا کے ذریعے ان کا امتحان کیا گیا۔ 487 یہ امتحان کی تفصیل ہے یعنی جو شخص اس میں سے پیٹ بھر کر پانی پی لے گا وہ میرے ساتھیوں اور رفیقوں میں سے نہیں ہے۔ اور وہ میرے ساتھ جہاد میں شریک نہیں ہوسکے گا۔ نفی صرف رفاقت کی ہے ان کو ایمان سے خارج قرار دینا مقصود نہیں۔ ای تفسیر من اصحابی فی ھذہ الحرب ولم یخرجھم (قرطبی ص 252 ج 3) ۔ وَمَنْ لَّمْ يَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّىْ ۔ اور جس نے پانی کو نہ چکھا وہ میرے ساتھیوں میں سے ہوگا۔ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِيَدِهٖ ۔ اصل حکم تو وہی تھا کہ اس پانی میں سے کوئی چکھے تک نہیں مگر ساتھ رخصت دے دی کہ اگر کوئی ایک ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے تو مضائقہ نہیں مگر پیٹ بھر پانی پینے کی اجازت نہیں۔ معناہ الرخصۃ فی اغتراف الغرفۃ بالید دون الکرع (مدارک ص 98 ج 1) ۔488 موسم چونکہ گرمی کا تھا اور انہیں سخت پیاس لگی ہوئی تھی اس لیے انہوں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا البتہ کچھ لوگوں نے جو 313 تھے اللہ کے حکم کا احترام کیا اور پانی نہ پیابس ایک چلو پر ہی اکتفا کیا جس کی اللہ نے اجازت دی تھی۔489 اکثر مفسرین کا خیال ہے والذین آمنوا سے وہ مومن مراد ہیں جنہوں نے پانی نہیں پیا تھا کیونکہ صرف اتنے ہی لوگوں نے طالوت کے ساتھ دریا کو عبور کیا تھا۔ اور جنہوں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا تھا وہ تو اس قابل ہی رہے تھے کہ فوج کے ساتھ مارچ کرسکیں اس لیے وہ وہیں رہ گئے و اکثر المفسرین علی انہ انما جاوز معہ النھر من لم یشرب جملۃ (قرطبی ص 355 ج 3) لیکن دریا عبور کرنے کے بعد جب ان لوگوں کا دشمن کی فوج سے آمنا سامنا ہوا تو ان میں سے کچھ لوگوں نے بتقاضائے بشریت کمزوری دکھائی۔ دشمن فوج کا سردار جالوت بڑا قوی ہیکل، شہ زور اور بہادر تھا اور اس کی فوج ایک لاکھ سپاہیوں پر مشتمل تھی جو سارے کے سارے جنگی سازوسامان سے لیس تھے اس لیے بعض مسلمانوں نے یہ منظر دیکھ کر کہ دیا کہ جالوت اور اس کے لشکر سے لڑنے کی ہم میں تو طاقت نہیں کیونکہ وہ ہمارے مقابلہ میں تعداد کے لحاظ سے بھی کئی گنا زیادہ ہیں اور سامان جنگ کے اعتبار سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔490 ظن یہاں یقین معنوں میں ہے جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے۔ والظن ھما بمعنی الیقین (قرطبی ص 255 ج 1) یظنون ای یستیقنون (روح ص 171 ج 2) یعنی ان میں سے جو لوگ اصحاب عزم پختہ ایمان والے تھے جب انہوں نے یہ صورتحال دیکھی تو مسلمانوں کو سمجھانے لگے کہ فتح وشکست کا مدار فوج اور سامان کی کثرت وقلت پر نہیں بلکہ یہ معاملہ تو خدا کے اختیار میں ہے کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کئی چھوٹے چھوٹے لشکروں کو محض اپنی مدد اور توفیق سے بڑی بڑی فوجوں پر فتح دی ہے اس لیے تم ہمت مت ہارو اور جم کر استقلال کے ساتھ دشمن سے لڑؤ۔ اللہ تمہاری مدد کریگا اور تمہاری قلت کے باوجود تم کو دشمن کی کثیر فوج پر فتح دیگا۔ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ۔ کیوکن کہ وہ صبر و استقلال کا دامن تھامنے والوں کی ضرور مدد کرتا ہے۔
ف 3 پھر جب طالوت کو بادشاہ تسلیم کرلیا گیا اور وہ اپنے لشکر اور فوجوں کو لے کر بیت المقدس سے نکلا اور عمالقہ کی طرف چلا تو طالوت نے شمویل (علیہ السلام) نبی کو وحی کے موافق اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تم سب کی ایک نہر کے ذریعہ آزمائش کرنے والا ہے ، لہٰذا جو شخص اس میں سے سیر ہو کر پانی پئے گا وہ میرے ہمراہمیوں سے نہ ہوگا اور وہ مجھ سے نہ ہوگا اور جو شخص اس کے پانی کو بالکل نہیں چکھے گا اور اس پانی کو زبان پر بھی نہیں رکھے گا تو لاریب وہ میرے ہمراہ اور میرے دین ہوگا اور میرا مطیع سمجھا جائے گا ، مگر ہاں جو کوئی اپنے ہاتھ میں ایک چلوبھر لے تو اس قدر پانی کی رخصت ہے پھر سب نے نہر پر پہنچتے ہی خوب سیر ہو کر پینا شروع کردیا ۔ مگر ان میں سے تھوڑے آدمیوں نے احتیاط سے کام لیا کسی نے غریمتہ پر عمل کیا اور کسی نے رخصت پر۔ بہر حال جب طالوت اور اس کے ساتھی مخلص اہل ایمان نہر کو عبورکر چکے تو اس وقت انہوں نے جالوت اور اس کے لشکر کو دیکھ کر آپس میں بعض نے کہا کہ ہم میں آج جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلہ کی طاقت نہیں معلوم ہوتی۔ یہ سن کر ان لوگوں نے جو جانتے تھے کہ وہ اللہ سے ملاقات کرنے والے اور اس کی جناب میں حاضر ہونے والے ہیں ۔ یہ کہا کہ بسا اوقتا ایسے واقعات پیش آئے اور بہت دفعہ ایسا ہوچکا ہے کہ تھوڑی تھوڑی جماعتیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں ۔ اصل چیز تو صبر و استقلال اور ثابت قدمی ہے اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں اور ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے اور ثابت قدم رہنے والوں کا ساتھ دیتا ہے۔ ( تیسیر) مطلب یہ ہے کہ ظاہری دکھاوے کو تو سب طالوت کے سب ہولئے لیکن راہ کھرے کھوٹے کے امتیاز کے لئے ایک نہر کو امتحان گاہ مقرر کردیا گیا ۔ طالوت نے شمویل نبی کی ہدایت کے موافق اعلان کردیا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ تم کو نہر کے پانی کے ساتھ آزمانا چاہتا ہے اس نہر کے پانی کا حکم یہ ہے کہ کوئی شخص اس کا پانی بالکل نہ چکھے یہ عزیمت ہے اور ایک چلو یعنی جتنا کف دست میں آجائے اتنا لے لو تو یہ رخصت ہے اور جو اس سے زیادہ پئے گا وہ ہماری جماعت سے خارج ہے۔ چنانچہ جو ناقص الایمان تھے وہ چھٹ گئے اور جو کامل الایمان تھے وہ نمایاں ہوگئے خواہ انہوں نے عزیمت پر عمل کیا ہو یا رخصت پر ان کی تعداد کل تین سو تیرہ تھی پھر ان میں بعض کامل تھے جو ظاہری اسباب سے بےنیاز اور بالا تر تھے ان کی باہمی گفتگو کا ذکر فرما دیا تا کہ مخلص مسلمانوں کی ہمت بڑھے۔ کامل الایمان اور اکمل الایمان کی تعداد تین سو تیرہ تھی۔ رہے وہ جنہوں نے علی الاعلان حکم کی خلاف ورزی کی ان کو جماعت سے خارج کردیا گیا ان کی صحیح تعدادمعلوم نہیں ہوئی ۔ ستر ہزار اور ایک لاکھ بیس ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس سے کم و بیش ہو ، وہ جاعت سے بھی خارج ہوئے اور ان کی پیاس بھی نہ بجھی ، ان ہی تین سو تیرہ میں حضرت دائود کے والد ایشا بھی تھے۔ جنود، جند کی جمع ہے۔ جند سخت زمین کو کہتے ہیں اور مخلوق کی ہر ہر قسم کو بھی جند کہتے ہیں ۔ یہاں لشکر اور فوجیں مراد ہیں ۔ غرفہ سے مراد پانی کی وہ مقدار ہے جو ہتھیلی میں آجائے غرفہ عمارت کے اس بالائی حصہ کو بھی کہتے ہیں جیسا کہ انشاء اللہ آگے آجائے گا ۔ فئۃ جماعت کو کہتے ہیں خواہ اس میں تھوڑے آدمی ہوں یا بہت ، ظن کی بحث ہم پہلے پارے میں کرچکے ہیں۔ ہم نے مولانا شاہ ولی اللہ صاحب (رح) کا ترجمہ اختیار کیا ہے۔ ملقوا اللہ کی بحث بھی پہلے پارے میں آچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کی وجہ سے بجائے ملاقات اور ملنے کے ہم اس کا ترجمہ اس کی پیشی میں حاضرہونا اور اس کے حضور حاضر ہونا کیا کرتے ہیں ۔ طالوت عبرانی لفظ ہے جیسا کہ بیضاوی نے تصریح کی ہے۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ کا قول ہے کہ جنگ بدر میں ہماری تعداد اتنی ہی تھی جتنی طالوت کے مخلص ہمراہیوں کی یعنی تین سو تیرہ۔ قتادہ نے اس قول کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ہے اگرچہ سند متصل نہیں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر میں اپنے اصحاب سے فرمایا ، تمہاری تعداد اتنی ہی ہے جتنی طالوت کے ہمراہیوں کی اس دن تھی جس دن وہ جالوت کا مقابل ہوا تھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ۔ طالوت کے ساتھ نکلنے کو سب تیار ہوئے ہوس سے اس نے تقید کیا کہ جو شخص جو ان اور بےفکر ہو وہی نکلے ایسے بھی اسی ہزار نکلے۔ اس نے چاہا کہ اس کو آزما دے ایک منزل پانی نہ ملا ۔ بعد اس کے ایک نہر ملی اس نے تقید کیا کہ ایک چلو سے زیادہ جو کوئی پیوے وہ میرے ساتھ نہ آوے تین سو تیرہ آدمی رہ گئے باقی سب موقوف ہوئے ( موضح القرآن) اب آگے اسی قصے کی اور بقیہ تفصل ہے۔ (تسہیل)