| Perfect Tense | Imperfect Tense | Imperative | Active Participle | Passive Participle | Noun Form |
جَهَرَ |
يَجْهَرُ |
اِجْهَرْ |
جَاھِر |
مَجْھُوْر |
جَھْر |
اَلْجَھْرُ: (ف) اس کے اصل کسی چیز کا حاسہ سمع یا بصر میں افراط کے سبب پوری طرح ظاہر اور نمایاں ہونے کے ہیں چنانچہ حاسہ بصر یعنی نظروں کے سامنے کسی چیز کے ظاہر ہونے کے متعلق کہا جاتا ہے رَأَیْتُہُ جِھَاراً کہ میں نے اسے کھلم کھلا دیکھا۔ قرآن پاک میں ہے: (لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَہۡرَۃً ) (۲:۵۵) کہ جب تک ہم خدا کو سامنے نمایاں طور پر نہ دیکھ لیں تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔ (اَرِنَا اللّٰہَ جَہۡرَۃً ) (۴:۱۵۳) ہمیں نمایاں اور ظاہر طور پر خدا دکھا دو۔ اور اسی معنی سے جَھَرَ الْبِئٔرَ وَاجْتَھَرَھَا ہے، جس کے معنی ہیں اس نے کنواں (کو صاف کرکے) اس کا پانی ظاہر کردیا۔ محاورہ ہے مَافِی الْقَومِ اَحَدٌ یَجْھَرُہٗ عَیْنِیْ۔ قوم میں کوئی ایسا نہیں ہے کہ جو میری نظر میں بڑا معلوم ہوتا ہو۔ اَلْجَوْھَرُ: یہ بھی اسی مادہ سے فَوعَلٌ کے وزن پر ہے اور جوہر اسے کہتے ہیں جس کے بطلان سے اس کے جملہ محمولات کا بطلان لازمی آتا ہو، اور اسے جوہر اس لئے کہا جاتا ہے۔ کہ وہ حاسۂ بصر یعنی نظر کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔ اور حاسہ کے سامنے ظاہر ہونے کے متعلق فرمایا: (سَوَآءٌ مِّنۡکُمۡ مَّنۡ اَسَرَّ الۡقَوۡلَ وَ مَنۡ جَہَرَ بِہٖ) (۱۳:۱۰) کہ تم میں سے کوئی چپکے سے بات کہے یا بآواز بلند پکار کر (اس کے نزدیک) دونوں برابر ہیں، (وَ اِنۡ تَجۡہَرۡ بِالۡقَوۡلِ فَاِنَّہٗ یَعۡلَمُ السِّرَّ وَ اَخۡفٰی ) (۲۰:۷) تم پکار کر بات کہو وہ تو چھپے ہوئے بھید اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے۔ (وَ اَسِرُّوۡا قَوۡلَکُمۡ اَوِ اجۡہَرُوۡا بِہٖ) (۶۷:۱۳) اور تم پوشیدہ بات کرو یا ظاہر۔ (وَ لَا تَجۡہَرُوۡا لَہٗ بِالۡقَوۡلِ کَجَہۡرِ بَعۡضِکُمۡ لِبَعۡضٍ ) (۴۹:۲) اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے کے سامنے بات کرتے ہو (اسی طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو۔کَلَامٌ جَھُوْرِیٌّ: بلند گفتگو اور بلند آواز شخص کو جَھِیْرٌ کہا جاتا ہے، نیز جَھِیْرٌ کے معنی ہیں وہ شخص جو اپنے حسن و جمال سے نظر کو خیرہ کردے۔
Surah:2Verse:55 |
سامنے / ظاہر / روبرو
manifestly"
|
|
Surah:4Verse:153 |
سامنے
manifestly"
|
|
Surah:6Verse:47 |
اعلانیہ
openly
|