Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 57

سورة البقرة

وَ ظَلَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡغَمَامَ وَ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ؕ کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ ؕ وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۵۷﴾

And We shaded you with clouds and sent down to you manna and quails, [saying], "Eat from the good things with which We have provided you." And they wronged Us not - but they were [only] wronging themselves.

اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا ( اور کہہ دیا ) کہ ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا ، البتہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Shade, the Manna and the Quail After Allah mentioned the calamities that He saved the Children of Israel from, He mentioned the favors that He granted them, saying, وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ ... And We shaded you with clouds. This Ayah mentions the white clouds that provided shade for the Children of Israel, protecting them from the sun s heat during their years of wandering. In the Hadith about the trials, An-Nasa'i recorded Ibn Abbas saying, Allah shaded the Children of Israel with clouds during the years of wandering. Ibn Abi Hلa0tim said, Narrations similar to that of Ibn Abbas were reported from Ibn Umar, Ar-Rabi bin Anas, Abu Mijlaz, Ad-Dahhak, and As-Suddi. Al-Hasan and Qatadah said that, وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ (And We shaded you with clouds), "This happened when they were in the desert and the clouds shielded them from the sun." Ibn Jarir said that several scholars said that the type of cloud the Ayah mentioned, "was cooler and better than the type we know." ... وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى ... and sent down on you Al-Manna and the quail, Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas commented on Allah's statement, وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ (And sent down on you Al-Manna), The manna used to descend to them to the trees, and they used to eat whatever they wished of it. Also, Qatadah said, The manna, which was whiter than milk and sweeter than honey, used to rain down on the Children of Israel, just as the snow falls, from dawn until sunrise. One of them would collect enough for that particular day, for if it remained more than that, it would spoil. On the sixth day, Friday, one would collect enough for the sixth and the seventh day, which was the Sabbath during which one would not leave home to seek his livelihood, or for anything else. All this occurred in the wilderness. The type of manna that we know provides sufficient food when eaten alone, because it is nutritious and sweet. When manna is mixed with water, it becomes a sweet drink. It also changes composition when mixed with other types of food. However, this is not the only type. The evidence to this fact is that Al-Bukhari narrated, that Sa'd bin Zayd said that the Messenger of Allah said, الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاوُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْن Kam'ah (truffles) is a type of manna, and its liquid is a remedy for the eyes. This Hadith was also collected by Imam Ahmad. The group of Hadith compilers, with the exception of Abu Dawud, also collected it, and At-Tirmidhi graded it Hasan Sahih. At-Tirmidhi recorded Abu Hurayrah saying that the Messenger of Allah said, الْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَفِيهَا شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ وَالْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاوُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْن The Ajwah (pressed, dried date) is from Paradise and it cures poison, Al-Kam'ah (truffles) is a form of manna, and its liquid heals the eye." At-Tirmidhi is the only one of them who recorded this Hadith. As for the quail (Salwa) in question, Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said, "The (Salwa) is a bird that looks like the quail." This is the same opinion reported from Mujahid, Ash-Sha`bi, Ad-Dahhak, Al-Hasan, Ikrimah and Ar-Rabi bin Anas, may Allah have mercy upon them. Also, Ikrimah said that; the Salwa is a bird in Paradise about the size of a sparrow. Qatadah said ; "The Salwa is a bird that is similar to a sparrow. During that time, an Israelite could catch as many quails as was sufficient for that particular day, otherwise the meat would spoil. On the sixth day, Friday, he would collect what is enough for the sixth and the seventh day, the Sabbath, during which one was not allowed to depart his home to seek anything." Allah said, ... كُلُواْ مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ... Eat of the good lawful things We have provided for you, this form of command is a simple order of allowance, guiding to what is good. This Ayah is similar to Allah's statement, كُلُواْ مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُواْ لَهُ Eat of the provision of your Lord, and be grateful to Him. (34:15) Allah said, ... وَمَا ظَلَمُونَا وَلَـكِن كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ And they did not wrong Us but they wronged themselves, means, `We commanded them to eat from what We gave them, and to perform the acts of worship (but they rebelled).' Yet, the Children of Israel rebelled, disbelieved and committed injustice against themselves, even though they saw the clear signs, tremendous miracles and extraordinary events. The Virtue of Muhammad's Companions over the Companions of all Other Prophets Here it is important to point out the virtue of Muhammad's Companions over the companions of the other Prophets. This includes firmness in the religion, patience and the lack of arrogance, may Allah be pleased with them. Although the Companions accompanied the Prophet in his travels and battles, such as during the battle of Tabuk, in intense heat and hardship, they did not ask for a miracle, though this was easy for the Prophet by Allah's leave. And when the Companions became hungry, they merely asked the Prophet - to invoke Allah - for an increase in the amount of food. They collected whatever food they had and brought it to the Prophet, and he asked Allah to bless it, told each of them to take some food, and they filled every pot they had. Also, when they needed rain, the Prophet asked Allah to send down rain, and a rain cloud came. They drank, gave water to their camels and filled their water skins. When they looked around, they found that the cloud had only rained on their camp. This is the best example of those who were willing to accept Allah's decision and follow the Messenger of Allah.

یہود پہ احسانات الہیہ کی تفصیل سابقہ آیات میں بیان ہوا تھا کہ فلاں فلاں بلائیں ہم نے تم پر سے دفع کر دیں اب بیان ہو رہا ہے کہ فلاں فلاں نعمتیں بھی ہم نے تمہیں عطا فرمائیں غمام غمامتہ کی جمع ہے چونکہ یہ آسمان کو چھپا لیتا ہے اس لئے اسے غمامہ کہتے ہیں یہ ایک سفید رنگ کا بادل تھا جو وادی تیہ میں ان کے سروں پر سایہ کئے رہتا تھا جیسے نسائی وغیرہ میں ابن عباس سے ایک لمبی حدیث میں مروی ہے ، ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ ابن عمر ربیع بن انس ابو مجاز ضحاک اور سدی نے بھی یہی کہا ہے حسن اور قتادہ بھی یہی کہتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ بادل عام بادلوں سے زیادہ ٹھنڈک والا اور زیادہ عمدہ تھا ۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ وہی بادل تھا جس میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آئے گا ابو حذیفہ کا قول بھی یہی ہے آیت ( ھَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ) 2 ۔ البقرۃ:210 ) اس آیت میں اس کا ذکر ہے کہ کیا ان لوگوں کو اس کا انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بادل میں آئے ۔ یہی وہ بادل ہے جس میں بدر والے دن فرشتے نازل ہوئے تھے ۔ جو من ان پر اترا وہ درختوں پر اترا تھا ۔ یہ صبح جاتے تھے اور جمع کر کے کھا لیا کرتے تھے وہ گوند کی قسم کا تھا ۔ کوئی کہتا ہے شبنم کی وضع کا تھا حضرت قتادہ فرماتے ہیں اولوں کی طرح من ان کے گھروں میں اترتا تھا جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا تھا ۔ صبح صادق سے لے کر آفتاب نکلنے تک اترتا رہتا تھا ہر شخص اپنے گھر بار کے لئے اتنی مقدار میں جمع کر لیتا تھا جتنا اس دن کافی ہو اگر کوئی زیادہ لیتا تو بگڑ جاتا تھا ۔ جمعہ کے دن وہ دو دن کا لے لیتے تھے جمعہ اور ہفتہ کا اس لئے کہ ہفتہ ان کا بڑا دن تھا ربیع بن انس کہتے ہیں من شہد جیسی چیز تھی جس میں پانی ملا کر پیتے تھے شعبی فرماتے ہیں تمہارا یہ شہد اس من کا سترواں حصہ ہے شعروں میں یہی من شہد کے معنی میں آیا ہے یہ سب اقوال قریب قریب ہیں غرض یہ ہے کہ ایک ایسی چیز تھی جو انہیں بلا تکلیف و تکلف ملتی تھی اگر صرف اسے کھایا جائے تو وہ کھانے کی چیز تھی اور اگر پانی میں ملا لی جائے تو پینے کی چیز تھی اور اگر دوسری چیزوں کے ساتھ مرکب کر دی جاتی تو اور چیز ہو جاتی تھی ۔ لیکن یہاں من سے مراد یہی من مشہور نہیں صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کھمبی من میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفا ہے ۔ ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں ترمذی میں ہے کہ عجوہ جو مدینہ کی کھجوروں کی ایک قسم ہے وہ جنتی چیز ہے اور اس میں زہر کا تریاق ہے اور کھمبی من میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے درد کی دوا ہے یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ دوسرے بہت سے طریقوں سے بھی مروی ہے ۔ ابن مردویہ کی حدیث میں ہے کہ صحابہ نے اس درخت کے بارے میں اختلاف کیا جو زمین کے اوپر ہوتا ہے جس کی جڑیں مضبوط نہیں ہوتیں ۔ بعض کہنے لگے کھمبی کا درخت ہے آپ نے فرمایا کھمبی تو من میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفا ہے سلویٰ ایک قسم کا پرند ہے چڑیا سے کچھ بڑا ہوتا ہے ۔ سرخی مائل رنگ کا جنوبی ہوائیں چلتی تھی اور ان پرندوں کو وہاں لا کر جمع کر دیتی تھیں بنی اسرائیل اپنی ضرورت کے مطابق انہیں پکڑ لیتے تھے اور ذبح کر کے کھاتے تھے اگر ایک دن گزر کر بچ جاتا تو وہ بگڑ جاتا تھا اور جمعہ کے دن دو دن کے لئے جمع کر لیتے تھے کیونکہ ہفتہ کا دن ان کے لئے عید کا دن ہوتا تھا اس دن عبادتوں میں مشغول رہنے اور شکار وغیرہ سے بچنے کا حکم تھا ۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ پرند کبوتر کے برابر ہوتے تھے ایک میل کی لمبائی چوڑائی میں ایک نیزے کے برابر اونچا ڈھیر ان پرندوں کا ہو جاتا تھا ۔ یہ دونوں چیزیں ان پر وادی تیہ میں اتری تھیں ۔ جہاں انہوں نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اس جنگل میں ہمارے کھانے کا بندوبست کیسے ہو گا تب ان پر من و سلوی اتارا گیا اور پانی کے لئے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی گئی تو پروردگار عالم نے فرمایا کہ اس پتھر پر اپنا عصا مارو عصا لگتے ہی اس سے بارہ چشمے جاری ہو گئے اور بنی اسرائیل کے بارہ ہی فرقے تھے ۔ ہر قبیلہ نے ایک ایک چشمہ اپنے لئے بانٹ لیا ، پھر سایہ کے طالب ہوئے کہ اس چٹیل میدان میں سایہ بغیر گزر مشکل ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے طور پہاڑ کا ان پر سایہ کر دیا ، رہ گیا لباس تو قدرت الٰہی سے جو لباس وہ پہنے ہوئے تھے وہ ان کے قد کے بڑھنے کے ساتھ بڑھتا رہتا تھا ایک سال کے بچہ کا لباس جوں جوں اس کا قدوقامت بڑھتا لباس میں بڑھتا جاتا نہ پھٹتا نہ خراب ہوتا نہ میلا ہوتا ، ان تمام نعمتوں کا ذکر مختلف جگہ قرآن پاک میں موجود ہے جیسے یہ آیت اور آیت ( اذا ستسقی ) والی آیت وغیرہ ۔ بذلی کہتے ہیں کہ سلویٰ شہید کو کہتے ہیں لیکن ان کا یہ قول غلط ہے ثورج نے اور جوہری نے بھی یہی کہا ہے اور اس کی شہادت میں عرب شاعروں کے شعر اور بعض لغوی محاورے بھی پیش کئے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ ایک دوا کا نام ہے ۔ کسائی کہتے ہیں سلویٰ واحد کا لفظ ہے اور اس کی جمع سلاوی آتی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ جمع میں اور مفرد میں یہی صیغہ رہتا ہے یعنی لفظ سلویٰ ۔ غرض یہ اللہ کی دو نعمتیں تھیں جن کا کھانا ان کے لئے مباح کیا گیا لیکن ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی ناشکری کی اور یہی ان کا اپنی جانوں پر ظلم کرنا تھا باوجودیکہ اس سے پہلے بہت کچھ اللہ کی نعمتیں ان پر نازل ہو چکی تھیں ۔ تقابلی جائزہ بنی اسرائیل کی حالت کا یہ نقشہ آنکھوں کے سامنے رکھ کر پھر اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت پر نظر ڈالو کہ باوجود سخت سے سخت مصیبتیں جھیلنے اور بے انتہا تکلیفیں برداشت کرنے کے وہ اتباع نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اور عبادت الٰہی پر جمے رہے نہ معجزات طلب کئے نہ دنیا کی راحتیں مانگیں نہ اپنے تعیش کے لئے کوئی نئی چیز پیدا کرنے کی خواہش کی ، جنگ تبوک میں جبکہ بھوک کے مارے بیتاب ہو گئے اور موت کا مزہ آنے لگا تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ اس کھانے میں برکت کی دعا کیجئے اور جس کے پاس جو کچھ بچا کھچا تھا جمع کر کے حاضر کر دیا جو سب مل کر بھی نہ ہونے کے برابر ہی تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے قبول فرما کر اس میں برکت دی انہوں نے خوب کھایا بھی اور تمام توشے دان بھر لئے ، پانی کے قطرے قطرے کو جب ترسنے لگے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ایک ابر آیا اور ریل پیل کر دی ، پیا پلایا اور مشیں اور مشکیزے سب بھر لئے ۔ پس صحابہ کی اس ثابت قدمی اوالوالعزمی کامل اتباع اور سچی توحید نے ان کی اصحاب موسیٰ علیہ السلام پر قطعی فضیلت ثابت کر دی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

57۔ 1 اکثر مفسرین کے نزدیک یہ مصر اور شام کے درمیان میدان تیہ کا واقعہ ہے۔ جب انہوں نے حکم الٰہی عمالقہ کی بستی میں داخل ہونے سے انکار کردیا اور بطور سزا بنو اسرائیل چالیس سال تک تیہ کے میدان میں پڑے رہے۔ بعض کے نزدیک یہ تخصیص صحیح نہیں۔ یہ صحرائے سینا میں اترنے کے بعد جب سب سے پہلے پانی اور کھانے کا مسئلہ درپیش آیا تو اسی وقت یہ انتظام کیا گیا۔ 58۔ 1 بعض کے نزدیک اوس جو درخت اور پتھر پر گرتی شہد کی طرح میٹھی ہوتی اور خشک ہو کر گوند کی طرح ہوجاتی۔ بعض کے نزدیک شہد یا میٹھا پانی ہے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں حدیث ہے کھمبی مَن کی اس قسم سے ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی، اس کا مطلب یہ ہے جس طرح بنی اسرائیل کو وہ کھانا بلادقت پہنچ جاتا تھا اسی طرح کھمبی بغیر کسی کے بوئے کے پیدا ہوجاتی ہے۔ سلوا بٹیر یا چڑیا کی طرح کا ایک پرندہ تھا جسے ذبح کر کے کھالیتے تھے۔ (فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٣] بنی اسرائیل کا جہاد سے انکار :۔ یہ واقعہ تفصیل سے سورة مائدہ میں آئے گا۔ مختصر یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب بنی اسرائیل کو لے کر وادی سینا میں پہنچے تو اس وقت یہ قوم لاکھوں کی تعداد میں تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ملک شام پر حملہ کرنے کے لیے کہا ( یہی وہ ملک تھا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا) تو کہنے لگے ! موسیٰ وہاں تو جابر قسم کے لوگ رہتے ہیں۔ لہذا ہم ان کے مقابلہ کی سکت نہیں رکھتے، اور اگر یہ حملہ ایسا ہی ضروری ہے تو تم اور تمہارا پروردگار دونوں جا کر ان سے جنگ کرو ہم تو یہاں ہی بیٹھتے ہیں۔ && ان کا یہ جواب دراصل اس بزدلی کی وجہ سے تھا جو مدتوں فرعون کی غلامی میں رہنے کی وجہ سے ان میں پیدا ہوچکی تھی۔ جہاد سے انکار کی سزا :۔ اس جواب پر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ملک شام کی فتح چالیس سال تک کے لئے موخر کردی۔ تاکہ اس عرصہ میں یہ بزدل نسل مر کھپ جائے اور آئندہ جو نسل اس بیابان اور آزادانہ فضا میں پیدا ہو۔ اس میں کچھ ہمت اور جرأت پیدا ہو اور جہاد کے قابل بن جائیں۔ اب سوال یہ تھا کہ اس بیابان میں نہ کوئی مکان تھے اور نہ سامان خوردو نوش اور لوگ لاکھوں کی تعداد میں تھے۔ ابر & من وسلویٰ اور بارہ چشمے :۔ اندریں صورت اللہ تعالیٰ نے اس طویل مدت کے لیے آسمان کو ابر آلود رکھا، ورنہ یہ سارے لوگ دھوپ کی شدت سے تباہ و برباد ہوجاتے اور خوراک کا یہ انتظام فرمایا کہ کثیر تعداد میں من وسلویٰ نازل فرمایا۔ من ایک میٹھی چیز تھی جو دھنیے کے بیج جیسی تھی اور رات کو اوس کی شکل میں نازل ہوتی تھی اور سلویٰ بٹیر کی قسم کے پرندے تھے جنہیں یہ لوگ بھون کر اور کباب بنا کر کھاتے تھے اور یہ غذائیں بلامشقت انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کثیر مقدار میں اس طویل عرصہ میں ملتی رہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قوم پر خاص انعامات تھے۔ ورنہ جو مایوس کن جواب انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا تھا۔ اگر اللہ چاہتا تو اس کی پاداش میں انہیں ہلاک کردیتا اور پھر اس جزیرہ میں اس طرح زندگی بسر کرنا بھی ان کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا تھا۔ اسی جنگل میں سیدنا ہارون (علیہ السلام) کی وفات ہوئی۔ پھر ایک سال بعد سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی وفات ہوئی تھی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

صحرائے سینا میں ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ تھا اور صحرا کی دھوپ انھیں جلائے دیتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر خاص قسم کے بادل کا سایہ کردیا اور کھانے کے لیے من وسلویٰ کا انتظام فرما دیا۔ ” مَنَّ “ کی تفسیر میں سب سے صحیح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تفسیر ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اَلْکَمَأَۃُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاءُھَا شِفَاءٌ لِلْعَیْنِ ) [ بخاری، الطب، باب المن شفاء للعین : ٥٧٠٨۔ مسلم : ٢٠٦٩، عن سعید بن زید (رض) ] ” کھنبی ” مَنَّ “ میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لیے شفا ہے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ ” مَنَّ “ متعدد چیزیں تھیں جو صحرا میں خود بخود پیدا ہوتی تھیں، ان میں سے ایک کھنبی بھی تھی۔ اسی طرح وہ میٹھی گوند بھی ” مَنَّ “ کی ایک قسم تھی جو ابن عباس (رض) اور مجاہد (رح) سے ” مَنَّ “ کی تفسیر میں آئی ہے۔ ”(السَّلْوٰى) اسم جنس ہے، اس کا واحد ” سَلْواۃٌ“ آتا ہے، بٹیر یا بٹیر سے ملتا جلتا پرندہ ہے۔ صحرا میں اللہ کے حکم سے بیشمار پرندے آجاتے اور وہ انھیں پکڑ کر کھالیتے تھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

These two incidents took place in the wilderness of Tih. The Israelites belonged to Syria, but had gone to Egypt in the time of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) (Joseph), and settled there, while Syria itself had come under the domination of a people called the ` Amaliqah (Amaleks). When the Pharaoh had been drowned and the Israelites could live in peace, Allah commanded them to go to war against the ` Amaliqah, and to free their homeland. The Israelites started on the expedition, but, on approaching Syria, when they came to learn about the military strength of the foe, their courage failed them, and they refused to engage themselves in the Jihad. Allah punished them for their disobedience, so that for full forty years they kept wandering about in a wilderness, and could not even go back to Egypt. The wilderness was not very vast, but only a stretch of some ten miles, lying between Egypt and Syria. They would make a day-long march in the direction of Egypt, and stop somewhere for the night. But, on getting up the next morning, they would always find themselves just where they had started from. Thus, they spent forty years wandering about in the wilderness in futile rage and exasperation. That is why the wilderness is called Tih تیہ ، which signifies &having lost one&s way&. The wilderness was just a barren space without a tree or a building which could offer protection against heat or cold. There was no food to eat, and no clothes to wear. But in answer to the prayer of Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، Allah made a miraculous provision for all their needs. When they could not bear the scorching sun, Allah sent them the shade of a thin, white cloud. When they began to starve, Allah blessed them with Mann مَن (manna) and Salwa سلوا . That is to say, Allah produced honeydew in abundance which they could easily gather. Hence it has been designated as mann مَن which signifies |"a gift or favour|". Then, quails would not flee but come around them, so that they could catch the birds with little effort. The two things being unusual, the Holy Qur&an says that Allah made them |"descend|" for the benefit of the Israelites. Similarly, when they were thirsty, Allah commanded Sayyidna Musa (علیہ السلام) to strike a rock with his staff, which made twelve streams gush forth, as the Holy Qur&an narrates in another place. When they complained of the thick darkness of the night, Allah produced for them a constant pillar of light. When their clothes began to wear out, Allah showed another miracle - their clothes would neither go dirty nor wear out, while the clothes of the children grew with their growth. (Qurtubi) Allah had commanded the Israelites to take as much of the miraculous food as they really needed, and not to store it for future use. But when they disobeyed this commandment, the meat began to rot. This is how they harmed, not Allah, but themselves.

خلاصہ تفسیر : اور سایہ فگن کیا ہم نے تم پر ابر کو (میدان تیہ میں) اور (خزانہ غیب سے) پہنچایا ہم نے تمہارے پاس ترنجین اور بٹیریں (اور تم کو اجازت دی کہ) کھاؤ نفیس چیزوں سے جو کہ ہم نے تم کو دی ہیں (مگر وہ لوگ اس میں بھی خلاف بات کر بیٹھے) اور (اس سے) انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے تھے، فائدہ : دونوں قصے وادی تیہ میں واقع ہوئے وادی تیہ کی حقیقت یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا اصلی وطن ملک شام ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے وقت میں مصر آئے تھے اور یہاں ہی رہ پڑے اور ملک شام میں عمالقہ نامی قوم کا تسلط ہوگیا فرعون جب غرق ہوگیا اور یہ لوگ مطمئن ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کا ان کو حکم ہوا کہ عمالقہ سے جہاد کرو اور اپنی اصلی جگہ کو ان کے قبضہ سے چھڑا لو بنی اسرائیل اس ارادہ پر مصر سے چلے اور ان کی حدود میں پہنچ کر جب عمالقہ کے زور وقوت کا حال معلوم ہوا تو ہمت ہار بیٹھے اور جہاد سے صاف انکار کردیا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس انکار کی یہ سزا دی کہ چالیس برس تک ایک میدان میں سرگرداں و پریشان پھرتے رہے گھر پہنچنا بھی نصیب نہ ہوا، یہ میدان کچھ بہت بڑا رقبہ نہ تھا بلکہ مصر اور شام کے درمیان پانچ چھ کوس یعنی تقریباً دس میل کا رقبہ تھا روایت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے وطن مصر جانے کے لئے دن بھر سفر کرتے اور رات کو کسی منزل پر اترتے صبح کو دیکھتے کہ جہاں سے چلے تھے وہیں ہیں اسی طرح چالیس سال سرگرداں و پریشان اس میدان میں پھرتے رہے اسی لئے میدان کو وادی تیہ کہا جاتا ہے۔ تیہ کے معنی ہیں سرگردانی اور پریشانی کے یہ وادی تیہ ایک کھلا میدان تھا نہ اس میں کوئی عمارت تھی نہ درخت جس کے نیچے دھوپ اور سردی اور گرمی سے بچا جاسکے اور نہ یہاں کوئی کھانے پینے کا سامان تھا نہ پہننے کے لئے لباس مگر اللہ تعالیٰ نے معجزہ کے طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے اسی میدان میں ان کی تمام ضروریات کا انتظام فرما دیا بنی اسرائیل نے دھوپ کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے ایک سفید رقیق ابر کا سایہ کردیا اور بھوک کا تقاضا ہوا تو من وسلوٰی نازل فرما دیا یعنی درختوں پر ترنجین جو ایک شیریں چیز ہے بکثرت پیدا کردی یہ لوگ اس کو جمع کرلیتے اسی کو من کہا گیا ہے اور بٹیریں ان کے پاس جمع ہوجاتیں ان سے بھاگتی نہ تھیں یہ ان کو پکڑ لیتے اور ذبح کرکے کھاتے اسی کو سلویٰ کہا گیا ہے یہ لوگ دونوں لطیف چیزوں سے پیٹ بھر لیتے چونکہ جرنجین کی کثرت معمول سے زائد تھی اور بٹیروں کا وحشت نہ کرنا یہ بھی معمول کے خلاف ہے لہذا اس حیثیت سے دونوں چیزیں خزانہ غیب سے قرار دی گئیں ان کو پانی کی ضرورت پیش آئی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک پتھر پر لاٹھی مارنے کا حکم دیا گیا اس پتھر سے چشمے پھوٹ پڑے جیسا کہ دوسری آیات قرآنی میں مذکور ہے ان لوگوں نے رات کی اندھیری کا شکوہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے غیب سے ایک روشنی عمودی شکل میں ان کے محلہ کے درمیان قائم فرمادی کپڑے میلے ہوئے اور پھٹنے لگے اور لباس کی ضرورت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے بطور اعجاز یہ صورت کردی کہ ان کے کپڑے نہ میلے ہوں نہ پھٹیں اور بچوں کے بدن پر جو کپڑے ہیں وہ ان کے بدن کے بڑہنے کے ساتھ ساتھ اسی مقدار میں بڑہتے رہیں (تفسیر قرطبی) اور ان لوگوں کو یہ بھی حکم ہوا تھا کہ بقدر خرچ لے لیا کریں، آئندہ کے لئے جمع کرکے نہ رکھیں مگر ان لوگوں نے حرص کے مارے اس میں بھی خلاف کیا تو رکھا ہوا گوشت سڑنا شروع ہوگیا اسی کو فرمایا ہے کہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى۝ ٠ ۭ كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ۝ ٠ ۭ وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ۝ ٥٧ ظلل الظِّلُّ : ضدُّ الضَّحِّ ، وهو أعمُّ من الفیء، فإنه يقال : ظِلُّ اللّيلِ ، وظِلُّ الجنّةِ ، ويقال لكلّ موضع لم تصل إليه الشّمس : ظِلٌّ ، ولا يقال الفیءُ إلّا لما زال عنه الشمس، ويعبّر بِالظِّلِّ عن العزّة والمنعة، وعن الرّفاهة، قال تعالی: إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] ، أي : في عزّة ومناع، ( ظ ل ل ) الظل ۔ سایہ یہ الضح ( دهوپ ) کی ضد ہے اور فیی سے زیادہ عام ہے کیونکہ ( مجازا الظل کا لفظ تورات کی تاریکی اور باغات کے سایہ پر بھی بولا جاتا ہے نیز ہر وہ جگہ جہاں دہوپ نہ پہنچنے اسے ظل کہہ دیا جاتا ہے مگر فییء صرف اس سے سایہ کو کہتے ہیں جوز وال آفتاب سے ظاہر ہو ہے اور عزت و حفاظت اور ہر قسم کی خش حالی کو ظل سے تعبیر کرلیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] کے معنی یہ ہیں کہ پرہیز گار ہر طرح سے عزت و حفاظت میں ہوں گے ۔ غم الغَمُّ : ستر الشیء، ومنه : الغَمَامُ لکونه ساترا لضوء الشمس . قال تعالی: يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ [ البقرة/ 210] . والغَمَّى مثله، ومنه : غُمَّ الهلالُ ، ويوم غَمٌّ ، ولیلة غَمَّةٌ وغُمَّى، قال : ليلة غمّى طامس هلالها وغُمَّةُ الأمر . قال : ثُمَّ لا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً [يونس/ 71] ، أي : كربة . يقال : غَمٌ وغُمَّةٌ. أي : كرب وکربة، والغَمَامَةُ : خرقة تشدّ علی أنف النّاقة وعینها، وناصية غَمَّاءُ : تستر الوجه . ( غ م م ) الغم ( ن ) کے بنیادی معنی کسی چیز کو چھپا لینے کی ہیں اسی سے الغمیٰ ہے جس کے معنی غبار اور تاریکی کے ہیں ۔ نیز الغمیٰ جنگ کی شدت الغمام کہتے ہیں کیونکہ وہ سورج کی روشنی کو ڈھانپ لیتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ [ البقرة/ 210] کہ خدا کا عذاب بادلوں کے سائبانوں میں آنازل ہوا ۔ اسی سے غم الھلال ( چاند ابر کے نیچے آگیا اور دیکھا نہ جاسکا ۔ ویوم غم ( سخت گرم دن ولیلۃ غمۃ وغمی ٰ ( تاریک اور سخت گرم رات ) وغیرہ ہا محاورات ہیں کسی شاعر نے کہا ہے ( جز ) ( 329) لیلۃ غمی ٰ طامس ھلالھا تاریک رات جس کا چاند بےنور ہو ۔ اور غمۃ الامر کے معنی کسی معاملہ کا پیچدہ اور مشتبہ ہونا ہیں ، قرآن پاک میں ہے : ۔ ثُمَّ لا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً [يونس/ 71] پھر تمہارا معاملہ تم پر مشتبہ نہ رہے ۔ یعنی پھر وہ معاملہ تمہارے لئے قلق و اضطراب کا موجب نہ ہو اور غم وغمۃ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی حزن وکرب جیسے کرب وکربۃ اور غمامۃ اس چیتھڑے کو کہتے ہیں جو اونٹنی کی ناک اور آنکھوں پر باندھ دیا جاتا ہے تاکہ کسی چیز کو دیکھ یاسونگھ نہ سکے ) اور ناصیۃ غماء پیشانی کے لمبے بال جو چہرے کو چھالیں ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا منّ ( من و سلوي) في قوله : وَأَنْزَلْنا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوى[ البقرة/ 57] فقد قيل : المنّ شيء کالطّلّ فيه حلاوة يسقط علی الشجر، والسّلوی: طائر، وقیل : المنّ والسّلوی، كلاهما إشارة إلى ما أنعم اللہ به عليهم، وهما بالذّات شيء واحد لکن سماه منّا بحیث إنه امتنّ به عليهم، وسماه سلوی من حيث إنّه کان لهم به التّسلّي . ومَنْ عبارة عن النّاطقین، ولا يعبّر به عن غير النّاطقین إلا إذا جمع بينهم وبین غيرهم، کقولک : رأيت مَنْ في الدّار من النّاس والبهائم، أو يكون تفصیلا لجملة يدخل فيهم النّاطقون، کقوله تعالی: فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي الآية [ النور/ 45] . ولا يعبّر به عن غير النّاطقین إذا انفرد، بعض نے کہا ہے منۃ بالقول بھی اسی سے ہے کیونکہ احسان جتلانے نعمت کو قطع کر دیاتا ہے اور شکر گزرای کئ انقطاع کو مقتضی ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَأَنْزَلْنا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوى[ البقرة/ 57] اور تمہارے لئے من سلوی اتارتے رہے ۔ میں من سے شبنمی گوند مراد ہے جو رات کو درخت کو درخت کے پے وں پر چم جاتی تھی اور سلویٰ ایک پرند کا نام ہے بعض نے کہا ہے کہ من اور سلوی سے احسانات کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر کئے تھے اور یہ دونوں اصل میں ایک ہی چیز سے عبارت ہیں ؛لیکن ان پر احسان کرنے کے لحاظ سے اسے من کہا ہے اور اس لحاظ سے کہ وہ نعمت ان کے لئے باعث اطمینا ن تھی اسے سلویٰ فرمایا ہے جو کہ تسلی سے ماخوذ ہے ۔ اس سے ذوی العقول مراد ہوتے ہیں اور غیر ذوی العقول پر اس کا اطلاق یا تو اس وقت ہوتا ہے ۔ جب وہ ذوی العقول کے ملتبع مراد ہوں مثلا رایت من فی الدار کہہ کر گھر کے لوگ اور بہا ئم دونوں مراد لئے جائیں ۔ اور یا اس وقت جب اہل نطق کے ساتھ شامل کر کے پھر ان کی تفصیل بیان کرنا مقصود ہوتی ہے جیسے فرمایا : ۔ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي الآية [ النور/ 45] تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں اور یہ یہ تنہا غیر ذوی العقول کے لئے استعمال نہیں ہوتا أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ طيب يقال : طَابَ الشیءُ يَطِيبُ طَيْباً ، فهو طَيِّبٌ. قال تعالی: فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ، وأصل الطَّيِّبِ : ما تستلذّه الحواسّ ، وما تستلذّه النّفس، والطّعامُ الطَّيِّبُ في الشّرع : ما کان متناولا من حيث ما يجوز، ومن المکان الّذي يجوز فإنّه متی کان کذلک کان طَيِّباً عاجلا وآجلا لا يستوخم، وإلّا فإنّه۔ وإن کان طَيِّباً عاجلا۔ لم يَطِبْ آجلا، وعلی ذلک قوله : كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] ( ط ی ب ) طاب ( ض ) الشئی یطیب طیبا فھم طیب ( کے معنی کسی چیز کے پاکیزہ اور حلال ہونے کے ہیں ) قرآن میں ہے : : فَانْكِحُوا ما طاب لَكُمْ [ النساء/ 3] تو ان کے سوا عورتیں تم کو پسند ہوں ان سے نکاح کرلو ۔ ، فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ [ النساء/ 4] ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے تم کو چھوڑدیں ۔ اصل میں طیب اسے کہا جاتا ہے جس سے انسان کے حواس بھی لذت یاب ہوں اور نفس بھی اور شریعت کی رو سے الطعام الطیب اس کھانے کو کہا جائے گا جو جائز طریق سے حاصل کیا جائے اور جائز جگہ سے جائز انداز کے مطابق لیا جائے کیونکہ جو غذا اس طرح حاصل کی جائے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں خوشگوار ثابت ہوگی ورنہ دنیا کی خوشگوار چیزیں آخرت میں نقصان وہ ثابت ہونگی اسی بنا پر قرآن طیب چیزوں کے کھانے کا حکم دیتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ كُلُوا مِنْ طَيِّباتِ ما رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 172] جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں اور ان کو کھاؤ ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٧) اور ہم نے وادی تیہ میں تم پر بادل کو سایہ فگن کیا اور بٹیر تمہارے پاس وادی تیہ میں پہنچائے اور یہ حلال روزیاں ہم نے تمہیں کھانے کو دیں مگر کل کے لیے اس میں سے جمع کرکے مت رکھو لیکن تم نے ایسا ہی کیا اور ہم نے ان کے ذخیرہ بنانے کی وجہ سے کوئی کمی نہیں مگر کل کے لئے اس میں سے جمع کرکے مت رکھو لیکن تم نے ایسا ہی کیا اور ہم نے ان کے ذخیرہ بنانے کی وجہ سے کوئی کمی نہیں مگر خود انہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٧ (وَظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ ) جزیرہ نمائے سینا کے لق و دق صحرا میں چھ لاکھ کا قافلہ چل رہا ہے ‘ کوئی اوٹ نہیں ‘ کوئی سایہ نہیں ‘ دھوپ کی تپش سے بچنے کا کوئی انتظام نہیں۔ ان حالات میں ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہوا کہ تمام دن ایک بادل ان پر سایہ کیے رہتا اور جہاں جہاں وہ جاتے وہ بادل ان کے ساتھ ساتھ ہوتا۔ (وَاَنْزَلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی ط) “ صحرائے سینا میں بنی اسرائیل کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا تو ان کے لیے مَنّ وسلویٰ نازل کیے گئے۔ ” مَنّ “ رات کے وقت شبنم کے قطروں کی مانند اترتا تھا ‘ جس میں شیرینی بھی ہوتی تھی ‘ اور اس کے قطرے زمین پر آکر جم جاتے تھے اور دانوں کی صورت اختیار کرلیتے تھے۔ یہ گویا ان کا اناج ہوگیا ‘ جس سے کاربوہائیڈریٹس کی ضرورت پوری ہوگئی۔ ” سلویٰ “ ایک خاص قسم کا بٹیر کی شکل کا پرندہ تھا۔ شام کے وقت ان پرندوں کے بڑے بڑے جھنڈ آتے اور جہاں بنی اسرائیل ڈیرہ ڈالے ہوتے اس کے گرد اتر آتے تھے۔ رات کی تاریکی میں یہ ان پرندوں کو آسانی سے پکڑ لیتے تھے اور بھون کر کھاتے تھے۔ چناچہ ان کی پروٹین کی ضرورت بھی پوری ہو رہی تھی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو مکمل غذا فراہم کردی تھی۔ (کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ ط) ” (ہم نے کہا) کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں کو جو ہم نے تم کو عطا کی ہیں۔ “ (وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ ) “ ہر قدم پر نافرمانی اور ناشکری بنی اسرائیل کا وطیرہ تھی۔ چناچہ انہوں نے ” مَنّ وسلویٰ “ جیسی نعمت کی قدر بھی نہ کی اور ناشکری کی روش اپنائے رکھی۔ اس کا ذکر اگلی آیات میں آجائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

72. That is, God provided them with shade from clouds in the Sinai peninsula where there was no shelter from the heat of the sun. It should be remembered that the Israelites had left Egypt in their hundreds of thousands. In Sinai, there were not even any tents in which they could shelter, never mind proper houses. But for the fact that God by His grace kept the sky, overcast for a considerable period, these people would have been scorched to death by the heat of the sun. 73. Manna and quails constituted the natural food that was continually made available to them throughout the forty years of their wandering in the Sinai desert. Manna was like coriander seed. When the dew fell in the night, manna fell with it from above. By God's grace the quails were made available so plentifully that the entire nation was able to live on them alone and so escaped starvation. (For details regarding manna and quails see Exodus 16; Numbers 11: 7-9 and 31-2; Joshua 5: 12)

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :72 یعنی جزیرہ نمائے سینا میں جہاں دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ تمہیں میسّر نہ تھی ، ہم نے ابر سے تمہارے بچاؤ کا انتظام کیا ۔ اس موقع پر خیال رہے کہ بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں مصر سے نکل کر آئے تھے اور سینا کے علاقے میں مکانات کا تو کیا ذکر ، سر چھُپانے کے لیے ان کے پاس خیمے تک نہ تھے ۔ اس زمانے میں اگر خدا کی طرف سے ایک مدّت تک آسمان کو اَبر آلود نہ رکھا جاتا ، تو یہ قوم دھوپ سے ہلاک ہو جاتی ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :73 مَنّ و سَلْویٰ وہ قدرتی غذائیں تھیں ، جو اس مہاجرت کے زمانے میں ان لوگوں کو چالیس برس تک مسلسل ملتی رہیں ۔ مَنّ دھنیے کے بیج جیسی ایک چیز تھی ، جو اُوس کی طرح گرتی اور زمین پر جم جاتی تھی ۔ اور سَلْویٰ بٹیر کی قسم کے پرندے تھے ۔ خدا کے فضل سے ان کی اتنی کثرت تھی کہ ایک پُوری کی پُوری قوم محض انہی غذاؤں پر زندگی بسر کرتی رہی اور اسے فاقہ کشی کی مصیبت نہ اُٹھانی پڑی ، حالانکہ آج کسی نہایت متمدّن ملک میں بھی اگر چند لاکھ مہاجر یکایک آپڑیں ، تو ان کی خوراک کا انتظام مشکل ہو جاتا ہے ۔ ( مَنّ اور سَلْویٰ کی تفصیلی کیفیّت کے لیے ملاحظہ ہو بائیبل ، کتاب خرُوج ، باب ۱٦- گنتی ، باب ۱۱ ، آیت ۹-۷ و ۳۲-۳۱ و یشوع ، باب ۵- آیت ۱۲ )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

44 : جیسا کہ سورۂ مائدہ میں آئے گا، بنی اسرائیل نے جہاد کے ایک حکم کی نافرمانی کی تھی جس کی پاداش میں انہیں صحرائے سینا میں مقید کردیا گیا تھا ،لیکن اس سزا یابی کے دوران بھی اﷲ تعالیٰ نے انہیں جن نعمتوں سے نوازا یہاں ان کا ذکر ہورہا ہے۔ صحرا میں چونکہ کوئی چھت ان کے سروں پر نہیں تھی اس لئے ان کو دُھوپ کی تمازت سے بچانے کے لئے اﷲ تعالیٰ نے یہ انتظام فرمایا کہ ایک بادل ان پر مسلسل سایہ کئے رہتا تھا۔ اسی صحرا میں جہاں کوئی غذا دستیاب نہیں تھی، اﷲ تعالیٰ نے غیب سے من وسلویٰ کی شکل میں انہیں بہترین خوراک مہیا فرمائی۔ بعض روایات کے مطابق من سے مراد ترنجبین ہے جو اس علاقے میں افراط سے پیدا کردی گئی تھی، اور سلویٰ سے مراد بٹیریں ہیں جو بنی اسرائیل کی قیام گاہوں کے آس پاس کثرت سے منڈلاتی رہتیں، اور کوئی انہیں پکڑنا چاہتا تو وہ بالکل مزاحمت نہیں کرتی تھیں۔ بنی اسرائیل نے ان تمام نعمتوں کی بُری طرح ناقدری کی اور اس طرح خود اپنی جانوں پر ظلم کیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

پورا قصہ تو سورة مائدہ میں آئے گا مگر ان آیتوں کا مطلب اس قصہ کے اس قدر خلاصہ سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ بیت المقدس میں اس زمانہ میں جب کہ بنی اسرائیل مصر سے نکلے تھے قوم عاد کے بقیہ لوگ بستے تھے جو عمالقہ قوم کے نام سے مشہور تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر عمالقہ قوم سے لڑو۔ اللہ کے حکم سے یہ بستی فتح ہوجائے گی اور اس میں بنی اسرائیل بس جائیں گے۔ یہ کنعانی عمالقہ نام کے لوگ قوی اور صاحب جسامت تھے ان کا حال سن کر بنی اسرائیل نے ان کے ساتھ لڑنے سے انکا کردیا۔ اس شرارت اور گستاخی کی سزا میں ملک شام اور مصر کے درمیان ایک جنگل میں چالیس برس تک بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے قید کردیا۔ دھوپ کے وقت اس جنگل میں ان پر ایک ابر کا سایہ ہوتا تھا۔ من وسلوٰی ان کی غذا تھی۔ حضرت موسیٰ کے معجزہ سے ایک پتھر پر عصا مارنے سے آدمیوں اور جانوروں کی ضرورت کے موافق پانی نکلتا تھا۔ اس جنگل میں من و سلوٰی کھاتے کھاتے اکتا کر بنی اسرائیل نے پیاز و لہسن وغیرہ کھانے کی چیزوں کی خواہش کی تھی۔ بعض مفسروں کا قول ہے کہ یہ ابر کا سایہ قید کے جنگل میں نہیں تھا بلکہ مصر سے نکل کر بنی اسرائیل جب ملک شام کو جارہے تھے یہ سایہ اس وقت تھا مگر حضرت عبد اللہ بن عباس کی نسائی کی روایت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابر کا سایہ قید کے جنگل میں تھا۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ من تو ترنجبین کا نام ہے اور سلوٰی ایک قسم کے جانور تھے جو بنی کے پڑاؤ کی جگہ آجاتے تھے اور بنی اسرائیل بلا وقت ان کو پکڑ لیتے اور ذبح کر کے کھالیتے تھے۔ سوائے ابو داؤد کے صحاح ستہ میں جو روایت ہے کہ کھنبی من کی قسم سے ہے ٢۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح بنی اسرائیل کو وہ کھانا بلا وقت وقت بہم پہنچ جاتا تھا اسی طرح کھنبی بغیر کسی کے بونے کے پیدا ہوجاتی ہے۔ سورة رعد میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے { اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُ ْوا مَا بِاَنْفُسِہِمْ } (١٣: ١١) جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس قوم پر اپنی کریمی سے کچھ انعام و احسان کرتا ہے تو جب تک اس قوم کے لوگ خدا تعالیٰ کی نافرمانی نہ کریں۔ اس وقت تک وہ انعام و احسان الٰہی قائم رہتا ہے۔ آخر رکوع تک ان آیتوں کا حاصل مطلب یہی ہے کہ باوجود اللہ تعالیٰ کے طرح طرح کے احسانات کے جب کہ بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے ساتھ حد سے زیادہ بدسلوکی کی یہاں تک کہ ان کو شہید کر ڈالا اور عمالقہ کی بستی فتح ہوگئی تو جس طرح سے ان کو اس بستی میں داخل ہونے کا حکم تھا اس حکم کے بجا لانے میں انہوں نے نافرمانی کی اور من و سلوٰی جو بغیر محنت و مشقت کے ان کو کھانے کو ملتا تھا اس کی ناشکری کر کے انہوں نے یہ کہا کہ اس ایک کھانے سے ہمارا دل نہیں بھرتا۔ غرض اس طرح کی نافرمانیوں سے اللہ تعالیٰ کا ان پر غصہ ہوا اور وہ بےمحنت و مشقت کا کھانا بند ہو کر ہمیشہ کی ذلت و خوری ان کے پیچھے لگ گئی۔ چناچہ اب یہود لوگ جہاں نظر آتے ہیں ان میں خوش حال بہت کم ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق قیامت تک اس قوم کا یہی حال رہے گا۔ اسی مضمون کو مختصر طور پر اس آیت میں فرمایا ہے کہ انہوں نے ہمارا کچھ نہیں کیا پر اپنا ہی نقصان کرتے رہے۔ مسند امام احمد میں بسند معتبر حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن سب سے بڑھ کر عذاب اس شخص کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے کسی نبی کو قتل کرے۔ یا اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی اس کو قتل کرے ٣۔ اس سے معلوم ہوا کہ علاوہ دنیا کے مواخدہ کے قیامت کے دن حضرت زکریا ( علیہ السلام) و یحییٰ ( علیہ السلام) اور انبیاء کے قتل کے مواخذہ میں یہود پر بڑا عذاب ہوگا۔ ان آیتوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہوں کے سبب سے اللہ تعالیٰ کا طرح طرح کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو گناہ سے بچاوے تاکہ اللہ تعالیٰ کی ہر ایک طرح کی بلا سے دنیا میں امن رہے۔ جب عمالقہ کی بستی فتح ہوئی تو حکم تھا کہ اس بستی کے دروازہ میں شکریہ کا سجدہ کر کے جاؤ اور حطۃ کا لفظ کہو جس کے معنی گناہوں کے زائل ہوجانے کے ہیں۔ بنی اسرائیل نے یہ شرارت کی کہ بجائے سجدہ کے تو چوتڑوں کے بل کھسکنے لگے اور بجائے حطۃ کے حنطۃ کہا جس کے معنی ” گیہوں “ کے ہیں۔ اس شرارت کے وبال سے ان میں طاعون پھیلا اور دوپہر کے عرصہ میں ستر ہزار کے قریب آدمی ہلاک ہوگئے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:57) وظلنا علیکم الغمام اور انزلنا علیکم المن والسلوی ہر دو جملوں کا عطف بعثنکم پر ہے۔ ظللنا، ماضی جمع متکلم تظلیل (تفعیل) مصدر سے، ہم نے سایہ کیا۔ ہم نے سایہ فگن کردیا۔ علیکم الغمام۔ علیکم جار مجرور مل کر متعلق فعل ہے اور الغمام اسم جنس ہے اور فعل ظللنا کا مفعول ہے بمعنی ابر، بادل المن اسم ہے۔ شبنمی گوند جو وادی یتہ میں بھٹکنے والے اسرائیلوں کے کھانے کے لئے اللہ تعالیٰ روزانہ درختوں پر جما دیتا تھا۔ السلوی۔ ایک پرندہ ہے جس کو بٹیر کہتے ہیں۔ کلوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر، اکل (باب نصر) مصدر سے اصل میں اوکلوا تھا ۔ تم کھاؤ۔ طیبت، ستھری چیزیں۔ پاکیزہ چیزیں۔ طیبۃ کی جمع طیبت مضاف ہے مارزقنکم ۔ ما موصولہ ۔ رزقنکم جملہ فعلیہ ہوکر صلہ ہے موصول اور صلہ مل کر مضاف الیہ طیبت کا۔ جو بطور رزق ہم نے تمہیں عطا کیا اس میں کا صاف ستھرا و پاکیزہ حصہ۔ وما ظلمونا۔ مانافیہ ہے عطف محذوف عبارت پر ہے۔ فظلموا ولم یقابلوا النعم بالشکر۔ پس انہوں نے ظلم کیا اور نعمتوں کو شکر کے ساتھ قبول نہ کیا ۔ وما ظلمونا (اس ناشکرری سے) انہوں نے ہم پر تو ظلم نہ کیا (یعنی ہمارا تو کچھ نہ بگاڑا) ولکن کانوا انفسھم یظلمون لیکن اپنی جانوں پر ہی ظلم کرتے رہے۔ یعنی اپنا ہی کچھ بگاڑتے رہے۔ کانوا یظلمون۔ ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ فائدہ : ما رزقنکم تک مخاطبین سے بلاواسطہ خطاب تھا۔ اب ان کی اہانت کے لئے ضمیر گا ئب لائی گئی ہے کہ تم نے ہماری نعمتوں کی قدردانی نہ کی اور کفر ان نعمت کے مرتکب ہوئے لہٰذا تم خطاب کے لائق نہیں رہے ۔ اس التفات ضمائر کی مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ جزیرہ نمائے سینا میں ان کے غذا کے ذخیرے ختم ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر خاص قسم کے بادل سے سایہ کیا اور کھانے کے لیے من وسلوی اتارا۔ دھنیے کے دانوں جیسی میٹھی چیز تھی جو ان پر اوس کی مانند رات کے وقت گرتی اور لشکر کے گرد ڈھیر لگ جاتے مفسرین نے لکھا ہے ایک قسم کا گوند تھا جو نہا یت شریں اور لذیذ تھا۔ اور سلوی بٹیر کی طرح ایک پرند تھا جو شام کے وقت لشکر کے گرد ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوجاتا اور بنی اسرائیل انہیں پکڑ کھالیتے ہیں ابن کثیر، قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 57 ظلمنا (ہم نے سایہ کردیا) ۔ الغمام (بادل، ابر) ۔ من (من، دھنیے کے دانوں کی طرح لذیذ اور شیریں روٹی کی طرح) ۔ السلوی (سلوی، (صحرائے سینا کا پرندہ ، بٹیر) ۔ ظلموا (انہوں نے ظلم کیا) ۔ ما ظلمونا (انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا) ۔ یظلمون (وہ ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 57 بنی اسرائیل کا اصل وطن شام (فلسطین ) تھا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے تمام بیٹے کنعان سے مصر آگئے تھے۔ اس وقت تو ان کی تعداد بہتر (72) تھی لیکن پھر ان کے بارہ بیٹوں کی اولاد پھیلتی گئی اور بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے بن گئے۔ عمالقہ کا دور حکومت تھا جنہوں نے اس پورے علاقے پر قبضہ کر رکھا تھا، عمالقہ نے نافرمانیوں اور بدکاریوں کی انتہا کردی تھی اس لئے بنی اسرائیل کو ان سے جہاد کر کے اس سرزمین کو آزاد کرانے کا حکم دیا گیا ، بنی اسرائیل نے صاف جواب دے دیا اور جہاد کرنے سے انکار کردیا جہاد سے انکار کی سزا یہ دی گئی کہ ان کو چالیس سال تک تیہ کے ریگستان کی خاک چھاننا پڑی۔ ان سب نافرمانیوں کے باوجود اللہ جس نے ہر ایک کو رزق اور زندگی کی آسائشیں عطا کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے ان کو من وسلوی ، پانی اور ریگستان کی شدید گرمی سے بچاؤ کے لئے بادل کا سایہ عطا فرمایا۔ بنی اسرائیل مصر سے جس بےسروسامانی میں لاکھوں کی تعداد میں نکلے تھے ان کے پاس خیمے تک نہ تھے، اگر ان پر بادل کا سایہ نہ کردیا گیا ہوتا تو وہ گرمی اور دھوپ کی شدت سے ہلاک ہوجاتے۔ “ من ” شیریں، لذیذ اور عمدہ غذا تھی۔ دھنیے کے دانوں کی طرح ہوتی تھی جہاں گرتی جم جاتی ۔ سلوی جو ریگستان سینا کا خاص پرندہ بٹیر ہے وہ لاکھوں کی تعداد میں ان کے اس قریب آجاتے کہ ایک بچہ بھی ان کو سہولت سے پکڑ سکتا تھا، بنی اسرائیل رات کے اندھیرے میں ان کو پکڑتے اور پھر ان کا گوشت پکا کر کھاتے۔ روٹی کی جگہ من عطا کی گئی تھی جو سختی میں روٹی کی طرح ہوتی تھی یہ بنی اسرائیل کے لئے اللہ کی طرف سے ایک انعام تھا مگر انہوں نے اس کی بھی قدر نہ کی اور اپنی مسلسل نافرمانیوں میں لگے رہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جو شخص نافرمانیوں میں لگا رہتا ہے اصل میں اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور اپنی دنیا و آخرت برباد کرتا ہے۔ مگر ایسے لوگ اللہ کا تو کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے البتہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی ضرور مار لیتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یہ دونوں قصے وادی تیہ میں ہوئے، تیہ کے معنی ہیں سرگردانی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل پر من وسلویٰ کی شکل میں ساتواں اور آٹھواں احسان۔ بنی اسرائیل کا آزادی کے بعدشکر کی بجائے شرک کرنا، جناب موسیٰ (علیہ السلام) پر عدم اعتماد کا اظہار اور اللہ تعالیٰ کو خود دیکھنے کا گستاخانہ مطالبہ، وطن کی آزادی کے لیے جہاد فی سبیل اللہ سے انکار جیسے پے در پے سنگین جرائم کرنے کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ ان کو صحرائے سینا میں تڑپ تڑپ کر بھوک سے مرنے دیا جاتا۔ لیکن اس کے باوجود رحیم و کریم رب نے انہیں پہلے سے زیادہ عمدہ و لذیذ کھانا ‘ گھنے بادلوں کا سایہ، پینے کے لیے میٹھے اور صاف و شفاف چشموں کا پانی عنایت کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے ہم پر زیادتی نہیں کی وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ یعنی جو کچھ وہ کرتے تھے اللہ تعالیٰ کی ذات پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ وہ اپنے جرائم کے بدلے خود ہی ذلیل و خوار ہوتے رہے۔ چناچہ حکم دیا کہ بس میری عبادت کرو، امن سے رہو اور دشمن کے مقابلے میں اپنے آپ کو جہاد کے لیے تیار کرو۔ اس میں یہ حکمت پنہاں تھی کہ فرعون کی غلامی میں پلنے والی نسل ختم ہو اور نئی نسل کھلی فضا اور آزاد ماحول میں پروان چڑھے جو جسمانی لحاظ سے تنو مند و کڑیل جوان اور فکری طور پر آزادی کے متوالے، اعتقاد و کردار کے اعتبار سے انتہائی پختہ ہوں اور جو قابض قوم عمالقہ سے نبرد آزما ہو کر اپنا آبائی وطن ملک فلسطین آزاد کروانے کی ہمت اور جرأت رکھتے ہوں۔ صحرائے سینا کا حدود اربعہ : یہ مثلث نما جزیرہ ہے جو بحر الکاہل (بحیرہ روم) (شمال کی طرف) اور ریڈسی (جنوب کی طرف) کے درمیان مصر میں واقع ہے اور اس کا رقبہ ساٹھ ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی زمینی سرحدیں سویز نہر مغرب کی طرف اور اسرائیل۔ مصر سرحد ‘ شمال مشرق کی طرف ہیں۔ سینائی جزیرہ نما جنوب مغربی ایشیا میں واقعہ ہے۔ اسے مغربی ایشیا بھی کہتے ہیں یہ زیادہ درست جغرافیائی اصطلاح ہے جبکہ مصر کا باقی حصہ شمالی افریقہ میں واقعہ ہے جغرافیائی و سیاسی مقاصد کے لیے سینائی کو اکثر افریقہ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ سینائی تقریباً مکمل طور پر صحرا ہے اور تبا (Taba) میں سباہ ساحل (Sabah Coast) کے ساتھ ساتھ واقعہ ہے۔ (موجودہ اسرائیل قصبہ ایلٹ ( eilat) کے نزدیک) جہاں ایک ہوٹل اور رقص گاہ (Casino) ہے جب ساحل کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف حرکت کی جائے تو وہاں نیو ویبا (Nuweiba) داھاب (Dahab) اور شرم الشیخ (Sharmel Sheikh) و اقع ہیں سینائی العریش (el Arish) میں غزہ پٹی کے نزدیک شمالی ساحل پر بھی واقع ہے۔ جبل موسیٰ جسے جبل سینائی بھی کہتے ہیں۔ تورات میں اہمیت کا حامل ہے۔ اس جگہ جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خدائی احکام وصول کیے جنوبی سینائی جزیرہ نما میں واقع ہے۔ جس کے لیے دعویٰ ہے کہ یہ تورات کے سینائی پہاڑ کی جگہ ہے۔ اس قصے کی تفصیلات بائبل کی کتاب ‘ گنتی استثناء اور یشعو میں ملیں گی۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دشت فاران سے بنی اسرائیل کے بارہ سرداروں کو فلسطین کا دورہ کرنے کے لیے بھیجا تاکہ وہاں کے حالات معلوم کر کے آئیں۔ یہ لوگ چالیس دن دورہ کر کے وہاں سے واپس آئے اور انہوں نے قوم کے مجمع عام میں بیان کیا کہ واقعی وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ لیکن جو لوگ وہاں بسے ہوئے ہیں وہ زور آور ہیں۔ ہم اس لائق نہیں ہیں کہ ان لوگوں پر حملہ کریں وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھے وہ سب بڑے قد آور ہیں اور ہم نے وہاں بنی عناق کو بھی دیکھا جو جبار ہیں اور جباروں کی نسل سے ہیں اور ہم تو اپنی ہی نگاہ میں ایسے تھے جیسے ٹڈے ہوتے ہیں اور ایسے ہی ان کی نگاہ میں تھے۔ یہ بیان سن کر سارا مجمع چیخ اٹھا کہ ” اے کاش ہم مصر ہی میں مرجاتے یا کاش اس بیابان میں ہی مرتے۔ خداوند کیوں ہمیں اس ملک میں لے جا کر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے ؟ پھر تو ہماری بیویاں اور بال بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے۔ کیا ہمارے لیے بہتر نہ ہوگا کہ ہم مصر واپس چلے جائیں ؟ پھر وہ آپس میں کہنے لگے کہ آؤ ہم کسی کو اپنا سردار بنا لیں اور مصر لوٹ چلیں۔ اس پر ان بارہ سرداروں میں سے جو فلسطین کے دورے پر بھیجے گئے تھے۔ دو سردار یوشع اور کالب اٹھے اور انہوں نے اس بزدلی پر قوم کو ملامت کی۔ کالب نے کہا ” چلو ہم یک دم جا کر اس ملک پر قبضہ کرلیں کیونکہ ہم اس قابل ہیں کہ اس پر تصرف کریں۔ “ پھر دونوں نے یک زبان ہو کر کہا ” اگر خداوند ہم سے راضی رہے تو وہ ہمیں اس ملک میں پہنچائے گا فقط اتنا ہو کہ تم خداوند سے بغاوت نہ کرو اور نہ اس ملک کے لوگوں سے ڈرو اور ہمارے ساتھ خداوند ہے سو ان کا خوف نہ کرو۔ “ مگر قوم نے جواب یہ دیا کہ ” انہیں سنگسار کردو۔ “ آخر کار اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور اس نے فیصلہ فرمایا کہ اچھا اب یوشع اور کالب کے سوا اس قوم کے بالغ مردوں میں سے کوئی بھی اس سر زمین میں داخل نہ ہونے پائے گا۔ یہ قوم چالیس برس تک بےخانماں پھرتی رہے گی یہاں تک کہ جب ان میں سے بیس برس سے لے کر اوپر کی عمر تک کے سب مرد مرجائیں گے اور نئی نسل جوان ہو کر اٹھے گی تب انہیں فلسطین فتح کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس دوران وہ سب لوگ مر کھپ گئے جو جوانی کی عمر میں مصر سے نکلے تھے۔ شرق اردن فتح کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد یوشع بن نون کے عہد خلافت میں بنی اسرائیل اس قابل ہوئے کہ فلسطین فتح کرسکیں۔ ” من “ کے بارے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الْعَجْوَۃُ مِنَ الْجَنَّۃِ وَفِیہَا شِفَاءٌ مِّنَ السُّمِّ وَالْکَمْأَۃُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُہَا شِفَاءٌ لِلْعَیْنِ ) (رواہ الترمذی : باب ماجاء فی الکمأۃ والعجوۃ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عجوہ (کھجور کی ایک خاص قسم) جنت سے ہے اور اس میں زہر کے لیے شفا ہے اور کھنبی ” مَنْ “ سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا کا باعث ہے۔ “ مسائل ١۔ صحرائے سینا میں بنی اسرائیل پر بادل سایہ فگن رہتا تھا۔ ٢۔ اللہ نے حلال اور طیب چیزیں کھانے کا حکم دیا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کسی پر زیادتی نہیں کرتا۔ ٤۔ لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ ٥۔ من کا معنٰی ہے میٹھی چیز، سلو ٰی نمکین تھا۔ ٦۔ اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن ظالم کی سزا : ١۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ (الحج : ١٠) ٢۔ اللہ تعالیٰ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔ (آل عمران : ١٤٠) ٣۔ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہوتی ہے۔ ( الاعراف : ٤٤) ٤۔ ظالم کامیاب نہیں ہوں گے۔ (الانعام : ٢١) ٥۔ قیامت کو ظالموں کا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔ (المؤمن : ٥٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں وہ مراعات اور احسانات یاددلاتے ہیں ، جو اس نے ان پر سینائی کے چٹیل میدان میں کئے ، ان کو کھانے کے لئے مطلوبہ خوراک دی گئی ۔ جس کے لئے انہیں کوئی خاص محنت نہ کرنی پڑتی تھی ، بےکدوکاش وہ انہیں مل جاتی تھی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور تدبیر خاص سے انہیں صحرا کی تپش اور سورج کی جھلسادینے والی گرمی سے بچایا۔ وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ” ہم نے تم پر ابر کا سایہ کیا ، من سلویٰ کی غذا تمہارے لئے فراہم کی اور تم سے کہا کہ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں ، انہیں کھاؤ ، مگر تمہارے اسلاف نے جو کچھ کیا وہ ہم پر ظلم نہ تھا ، انہوں نے آپ اپنے ہی اوپر ظلم کیا۔ “ روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بادل کا ایک ٹکڑا ان کے سروں پر قائم رکھا تاکہ وہ گرمی سے محفوظ رہیں ۔ صحرا کا موسم ایسا ہوتا ہے کہ اگر بادل اور بارش نہ ہو تو وہ ایک کھولتی ہوئی جہنم کے مانندہوتا ہے ۔ اس سے آگ کے شعلے بلند ہورہے ہوتے ہیں ۔ لیکن اگر صحرا میں بارش ہوجائے اور مطلع ابرآلود ہو تو اس کا موسم تروتازہ اور نہایت خوشگوار ہوتا ہے ۔ جس میں جسم و روح دونوں فرحت محسوس کرتے ہیں ۔ روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے من کا انتظام فرمایا ، جو درختوں پر ہوتا تھا اور شہد کی طرح میٹھا ہوتا تھا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان کی خوراک کے لئے سلویٰ پرندے کی وافر مقدار پیدا کردی اور ان کے گھروں کے قریب بڑی مقدار میں پائے جاتے تھے ۔ ان دوچیزوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے ایسے لذیذ کھانے کا بندوبست کیا جس کی نظیر دنیا نہ تھی ۔ رہائش کے لئے مقام کو خوشگوار بنایا اور ان پاکیزہ چیزوں کو ان کے حلال کیا ۔ لیکن اب ذرا اس قوم کی روش تو دیکھئے ! کیا اب بھی وہ شکر گزار بنتی ہے یا نہیں ؟ ہدایت پاتی ہے یا نہیں ؟ آیت کا آخری حصہ صاف صاف نشان دہی کررہا ہے کہ انہوں نے ان تمام نعمتوں کا انکار کیا اور ظلم کا ارتکاب کیا لیکن یہ ظلم خود اپنے اوپر تھا۔ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ” تمہارے اسلاف نے جو کچھ کیا وہ ہم پر ظلم نہ تھا ، انہوں نے اپنے ہی اوپر ظلم کیا۔ “ اس کے بعد بنی اسرائیل کے انحراف ، انکار حق اور معصیت پر مسلسل اصرار کی یہ طویل داستان اور آگے بڑھتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

میدان تیہ میں بنی اسرائیل پر بادلوں کا سایہ کرنا اور من وسلوی نازل ہونا جب بنی اسرائیل مصر سے سے نکلے اور دریا پار کرکے ایک بیابان جنگل میں پہنچے جہاں سے ان کو اپنے وطن کنعان جانا تھا اور وہاں پہنچنے میں چالیس سال لگ گئے صبح کو جہاں سے چلتے تھے شام کو وہیں موجود ہوتے تھے۔ (ذکرہ البیضاوی فی تفسیر قولہ تعالیٰ یَتِیْھُوْنَ فِی الْاَرْضِ ) ۔ دھوپ اور گرمی میں چلنا اور روزانہ چلنا نہایت تکلیف دہ تھا انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ ہمارے لیے کچھ سایہ کا انتظام ہونا چاہیے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں دعاء کی جس کی وجہ سے ان کے لیے بادل بھیج دئیے گئے دن میں جب وہ سفر کرتے تھے تو بادل ان پر سایہ کرتے تھے اس سایہ میں ان کا سفر طے ہوتا تھا چونکہ روزانہ سفر ہی سفر تھا کسی طرح کی تجارت یا صنعت و حرفت یا زراعت کا موقع نہیں تھا اور کھانے کی ضرورت بدستور موجود تھی جس کا ہر انسان محتاج ہے تو ان کی اس حاجت کے پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے من اور سلوی نازل فرمائے۔ من : من کے بارے میں علماء تفسیر کے بہت سے اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ یہ ایسی چیز تھی جو درختوں پر نازل ہوجاتی تھی۔ صبح جا کر اس میں سے جس قدر چاہتے کھالیتے تھے۔ حضرت مجاہد نے فرمایا کہ یہ ایک قسم کا گوند تھا۔ حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ وہ کوئی چیز تھی جو گاڑھے گودے کے مشابہ تھی۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ یہ لوگ جہاں مقیم ہوتے وہیں برف کی طرح ان کی جگہوں میں من کا نزول ہوجاتا تھا جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوتا تھا۔ اور یہ طلوع فجر سے طلوع شمس تک نازل ہوتا تھا لیکن ایک دن کی ضرورت کے بقدر ہر شخص کو لینے کی اجازت تھی اس سے زیادہ کوئی لے لیتا تو وہ خراب ہوجاتا تھا۔ البتہ جمعہ کے دن جمعہ اور سنیچر دونوں دنوں کے لیے لے لیتے تھے۔ (تفسیر ابن کثیر) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ عجوہ (مدینہ منورہ کی کھجوروں کی ایک قسم) جنت سے ہے اور اس میں زہر سے شفا ہے اور کھمبی من سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے۔ (اخرجہ الترمذی ابواب الطب ؛ وھو فی البخاری ص ٦٤٣ ج ٢ من غیر ذکر العجوۃ) اس سے معلوم ہوا کہ یہ جو کھمبی کبھی کبھی زمین پر نظر آجاتی ہے۔ یہ اس من کا بقیہ ہے جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا۔ راوی حدیث حضرت ابوہریرہ (رض) نے بیان فرمایا کہ میری ایک باندی چندھی تھی میں نے کھمبی کا پانی لیکر اس کی آنکھ میں ڈالا تو وہ ٹھیک ہوگئی۔ سلویٰ : یہ کیا چیز تھی ؟ یہ کوئی پرندہ تھا جو بٹیرے سے مشابہ تھا اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کے پاس خوب زیادہ تعداد میں پرندے بھیج دیتا تھا جو ہوا کے ذریعہ آجاتے تھے وہ لوگ ان کو ذبح کردیتے تھے اس بارے میں بھی حکم تھا کہ بقدر ضرورت لیں اور ذخیرہ بناکر نہ رکھیں لیکن انہوں نے اس بات پر عمل نہ کیا۔ من اور سلویٰ دونوں کا ذخیرہ بنا لیا اور جب دوسرے دن اسے دیکھا تاکہ کھائیں تو اس میں بدبو آچکی تھی اور خراب ہوچکا تھا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت میں تغیر نہ آتا اور بدبو دار نہ ہوتا اور اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت کبھی بھی اپنے شوہر کی خیانت نہ کرتی (صحیح بخاری ص ٤٦٩ ج ١) مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ پر بھروسہ نہ کیا ان کے لیے حکم تھا کہ من وسلوی اٹھا کر نہ رکھیں لیکن وہ نہ مانے، اٹھا کر رکھا تو اس میں بدبو آگئی۔ خراب ہوگیا لہٰذا گوشت کے خراب ہونے کی ابتداء ان لوگوں سے ہوئی اور ان کی حرکت بد کی وجہ سے ہوئی۔ اسی طرح سے حضرت حوا نے حضرت آدم کو جنت کا وہ درخت کھانے پر آمادہ کیا جس کے کھانے سے منع کیا گیا تھا پھر دونوں نے کھالیا اور دونوں دنیا میں بھیج دئیے گئے۔ شوہر کی خیانت کی ابتداء سیدہ حوا سے ہوئی ‘ لہٰذا ان کی نسل میں بھی یہ بات باقی رہ گئی۔ (مرقاۃ شرح مشکوۃ کتاب النکاح باب عشرۃ النساء)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

115 ۔ یہ ساتواں انعام ہے۔ بنی اسرائیل کا اصلی وطن ملک شام تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں مصر میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ جب فرعون غرق ہوگیا اور اسرائیلی بالکل مطمئن ہوگئے تو انہیں قوم عمالقہ سے جو اس وقت ملک شام پر قابض تھے جہاد کر کے اپنا وطن آزاد کرانے کا حکم ملا تو یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سر کردگی میں جہاد کے لیے چل نکلے جب قریب پہنچے اور عمالقہ کی طاقت اور قوت کا پتہ چلا تو ہمت ہار بیٹھے اور ان سے لڑنے صاف انکار کردیا۔ اس پر اللہ نے ان کو یہ سزا دی کہ وہ پورے چالیس سال میدان تیہ میں سرگرداں اور مارے مارے پھرتے رہے۔ یہ جنگل بالکل چٹیل اور بےآب وگیاہ تھا۔ اس میں نہ سایہ کے لیے کوئی درخت تھا نہ پینے کے لیے پانی اور نہ کھانے کے لیے کوئی چیز جب انہوں نے دھوپ کی شکایت کی، اللہ نے ان پر بادل پھیلا کر سایہ مہیا فرما دیا۔ جب بھوک کی شکایت کی، من وسلوی کا انتظام کردیا۔ اس آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ المن کے معنی ترنجبین کے ہیں وہ گوند کے مشابہ ایک میٹھی چیز ہے جو اوس کی طرح صبح کے وقت پودوں پر گرتی ہے۔ اسرائیلی جب صبح اٹھتے تو پودوں پر انہیں ترنجبین کی بہت بڑی مقدار ملتی جسے وہ مزے سے کھاتے۔ والمشہور انہ الترنجبین وھو شیئ یشبہ الصمغ حلو مع شئی من الحموضۃ کان ینزل علیہم کالطل (روح ص 263 ج 1) اور سلوی ایک قسم کی بٹیریں ہیں۔ وھو طائر یشبہ السمانی او ھو السمانی بعینہ (روح ص 264 ج 1) کان یبعث علیہم الجنوب فتحشر علیہم السلوی وھی السمانی فیذبح الرجل منھا مایکفیہ (مدارک ص 39 ج 1) یعنی اللہ تعالیٰ جنوب کی طرف سے ہوا چلا دیتا جس کے ساتھ بٹیریں اڑتی چلی آتیں اور وہ انہیں پکڑ کر ذبح کرلیتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک سہولت بھی مہیا کی کہ بٹیریں ان سے بھاگتی نہیں تھیں وہ جب چاہتے پکڑ لیتے تھے۔ كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ۔ قرآن مجید میں گذشتہ واقعات کے سلسلہ میں جہاں کہیں صیغہ امر استعمال ہوگا اس سے پہلے قال یا قلنا وغیرہ حسب موقع محذوف ہوگا (رضی ص) ولنا لھم کلوا من الطیبات (مدارک ص 39 ج 1، روح ص 264 ج 1، قرطبی ص 408 ج 1) ۔116 اسرائیلیوں نے اللہ کے انعامات کی ناشکری کی اور اس سے اللہ کا انہوں نے کچھ نہیں بگاڑا بلکہ اپنا ہی نقصان کیا۔ کیونکہ اس ناشکری کا وبال خود انہیں پر پڑا۔ بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ وہ صرف اتنا ہی من وسلوی جمع کریں جتنا وہ کھا سکیں اور آئندہ کے لیے جمع نہ کریں مگر وہ حرص و لالچ کے بندے باز نہ آئے اور انہوں نے ذخیرہ اندوزی کر کے اللہ کی نافرمانی کی اور اس طرح انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور ہم نے تمہارے سروں پر بادل کو سایہ افگن کیا اور تمہارے لئے ہم نے ترنجیں اور بیٹریں نازل فرمائیں اور تم سے کہا کہ جو حلال اور لذیذ چیزیں ہم نے تم کو عطا کی ہیں ان میں سے کھائو اور انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنا ہی نقصان کرتے رہے۔ (تیسیر) یہ احسان ان پر اس وقت ہوا جب وہ ارض تیہ میں تھے کیونکہ فرعن سے نجات پانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم اپنے اصل وطن شام میں چلے جائو اور وہاں قوم عمالقہ کا قبضہ ہے ان سے جہاد کرو اور ان پر فتح حاصل کرلو بنی اسرائیل پہلے تو اس پر آمادہ ہوگئے لیکن شام کے قریب جا کر لڑنے سے انکار کردیا اللہ تعالیٰ نے سزا دی اور کہا چالیس سال تک در بدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرو اور جنگلوں میں مارے مارے پھرو چناچہ خانہ بدوشوں کی طرح ایک جنگل میں جا بسے اور ان کے خیمے وغیرہ بھی پھٹ گئے کھانے کو بھی کچھ نہ رہا تو اللہ تعالیٰ نے سورج کی گرمی سے بچائو کے لئے ان پر ابر کا سایہ کردیا اور رات کو اللہ تعالیٰ درختوں پر ترنجین پیدا کردیتا جس کو یہ سمیٹ لائے اور شام کو بیٹریں ان کے پاس جمع ہوجاتیں جن کو یہ آسانی سے پکڑ لیتے بیٹروں کے گوشت اور ترنجیں پر زندگی بسر کرتے رہے ان کو یہ بھی حکم ہوا تھا کہ بقدر ضرورت ان چیزوں کا استعمال کرنا ذخیرہ بنا کر نہ رکھنا لیکن انہوں نے حرص کی وجہ سے اٹھا اٹھا کر رکھنا شروع کیا نتیجہ یہ ہوا کہ گوشت سڑنے لگا اسی کو فرمایا ہ ہمارا کوئی نقصان نہ کرسکے ہاں اپنا آپ نقصان کرتے رہے اسی جنگل کو جس میں بنی اسرائیل چالیس سال تک رہے ارض تیہ اور وادی تیہ کہتے ہیں تفصیل انشاء اللہ سورة مائدہ میں آئے گی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جب فرعون غرق ہوچکا اور بنی اسرائیل خلاص ہو کر چلے جنگل میں ان کے خیمے پھٹ گئے تو سارے دن ابر رہتا دھوپ کا بچائو اور اناج نہ پہنچا تو من اور سلویٰاترتا کھانے کو من ایک چیز تھی میٹھی دھنیے کے سے دانے رات کو اوس میں برستے لشکر کے گرد ڈھیر ہو رہتے صبح کو ہر آدمی اپنی قوت کے برابر چن لاتا اور سلویٰ ایک جانور کا نام ہے شام کو لشکر کے گرد ہزاروں جانور جمع ہوتے اندھیرا پڑے پکڑ کر لاتے کباب کر کے کھاتے مدتوں تک یہی کھایا کئے۔ من اور سلویٰ کا ترجمہ ترنجبین اور بٹیروں سے کیا گیا ہے ہوسکتا ہے کہ ترنجبین سے ملتی جلتی کوئی اور میٹھی چیز ہو اسی طرح سلویٰ کوئی اور پرندہ ہو جو بٹیریا کوئے کی ہم شکل ہو (موضع القرآن) السبیل۔