Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 58

سورة البقرة

وَ اِذۡ قُلۡنَا ادۡخُلُوۡا ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃَ فَکُلُوۡا مِنۡہَا حَیۡثُ شِئۡتُمۡ رَغَدًا وَّ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ نَّغۡفِرۡ لَکُمۡ خَطٰیٰکُمۡ ؕ وَ سَنَزِیۡدُ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۸﴾

And [recall] when We said, "Enter this city and eat from it wherever you will in [ease and] abundance, and enter the gate bowing humbly and say, 'Relieve us of our burdens.' We will [then] forgive your sins for you, and We will increase the doers of good [in goodness and reward]."

اور ہم نے تم سے کہا کہ اس بستی میں جاؤ اور جو کچھ جہاں کہیں سے چاہو با فراغت کھاؤ پیو اور دروازے میں سجدے کرتے ہوئے گزرو اور زبان سے حطہ کہو ہم تمہاری خطائیں معاف فرما دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Jews were Rebellious instead of Appreciative when They gained Victory Allah tells; وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُواْ هَـذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُواْ مِنْهَا حَيْثُ شِيْتُمْ رَغَداً وَادْخُلُواْ الْبَابَ سُجَّداً ... And (remember) when We said: "Enter this town (Jerusalem) and eat bountifully therein with pleasure and delight wherever you wish, and enter the gate in prostration (or bowing with humility), Allah admonished the Jews for avoiding Jihad and not entering the holy land as they had been ordered to do when they came from Egypt with Musa. They were also commanded to fight the disbelieving Amaliq (Canaanites) dwelling in the holy land at that time. But they did not want to fight, because they were weak and exhausted. Allah punished them by causing them to become lost, and to continue wandering, as Allah has stated in Surah Al-Ma'idah. The correct opinion about the meaning of, `the holy land' mentioned here is that it was Bayt Al-Maqdis (Jerusalem), as As-Suddi, Ar-Rabi bin Anas, Qatadah and Abu Muslim Al-Asfahani, as well as others have stated. Musa said, يَاقَوْمِ ادْخُلُوا الاٌّرْضَ المُقَدَّسَةَ الَّتِى كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَلاَ تَرْتَدُّوا O people! Enter the holy land which Allah has assigned to you and turn not back (in flight). (5:21) However, some scholars said that; the holy land is Jericho, (Ariha') and this opinion was mentioned from Ibn Abbas and Abdur-Rahman bin Zayd. After the years of wandering ended forty years later, in the company of Yuwsha` (Joshua) bin Nun, Allah allowed the Children of Israel to conquer the holy land on the eve of a Friday. On that day, the sun was kept from setting for a little more time, until victory was achieved. When the Children of Israel conquered the holy land, they were commanded to enter its gate while, سُجَّداً (prostrating) in appreciation to Allah for making them victorious, triumphant, returning them to their land and saving them from being lost and wandering. Al-Awfi said that Ibn Abbas said that, وَادْخُلُواْ الْبَابَ سُجَّداً (and enter the gate Sujjadan) means, "While bowing". Ibn Jarir reported Ibn Abbas saying, وَادْخُلُواْ الْبَابَ سُجَّداً (and enter the gate in prostration) means, "Through a small door while bowing." Al-Hakim narrated it, and Ibn Abi Hatim added, "And they went through the door backwards!" Al-Hasan Al-Basri said that; they were ordered to prostrate on their faces when they entered the city, but Ar-Razi discounted this explanation. It was also said that; the Sujud mentioned here means, `submissiveness', for actually entering while prostrating is not possible. Khasif said that Ikrimah said that Ibn Abbas said, "The door mentioned here was facing the Qiblah." Ibn Abbas, Mujahid, As-Suddi, Qatadah and Ad-Dahhak said that; the door is the door of Hittah in Iylya, which is Jerusalem. Ar-Razi also reported that; some of them said that it was a door in the direction of the Qiblah. Khasif said that Ikrimah said that Ibn Abbas said that; the Children of Israel entered the door sideways. As-Suddi said that Abu Sa`id Al-Azdy said that Abu Al-Kanud said that Abdullah bin Mas`ud said that; they were commanded to, وَادْخُلُواْ الْبَابَ سُجَّداً (enter the gate in prostration (or bowing with humility)) but instead, they entered while their heads were raised in defiance. Allah said next, ... وَقُولُواْ حِطَّةٌ ... and say: `Hittah', Ibn Abbas commented, "Seek Allah's forgiveness." Al-Hasan and Qatadah said that it means, "Say, `Relieve us from our errors." ... نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ and We shall forgive you your sins and shall increase (reward) for the good-doers. Here is the reward for fulfilling Allah's commandment. This Ayah means, "If you implement what We commanded you, We will forgive your sins and multiply your good deeds." In summary, upon achieving victory, the Children of Israel were commanded to submit to Allah in tongue and deed and, to admit to their sins and seek forgiveness for them, to be grateful to Allah for the blessings He gave them, hastening to do the deeds that Allah loves, as He said, إِذَا جَأءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِى دِينِ اللَّهِ أَفْوَجاً فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوِبَا When there comes the help of Allah (to you, O Muhammad against your enemies) and the conquest (of Makkah). And you see that the people enter Allah's religion (Islam) in crowds. So glorify the praises of your Lord, and ask His forgiveness. Verily, He is the One Who accepts the repentance. (110:1-3). Allah said,

یہود کی پھر حکم عدولی جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے آئے اور انہیں ارض مقدس میں داخل ہونے کا حکم ہوا جو ان کی موروثی زمین تھی ان سے کہا گیا کہ یہاں جو عمالیق ہیں ان سے جہاد کرو تو ان لوگوں نے نامردی دکھائی جس کی سزا میں انہیں میدان تیہ میں ڈال دیا گیا جیسے کہ سورۃ مائدہ میں ذکر ہے قریہ سے مراد بیت المقدس ہے ۔ سدی ، ربیع ، قتادہ ، ابو مسلم وغیرہ نے یہی کہا ہے ، قرآن میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اس پاک زمین میں جاؤ جو تمہارے لئے لکھ دی گئی ہے بعض کہتے ہیں اس سے مراد ریخاء ہے بعض نے کہا ہے مصر مراد ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے کہ مراد اس سے بیت المقدس ہے یہ واقعہ تیہ سے نکلنے کے بعد کا ہے جمعہ کے دن شام کو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس پر فتح عطا کی بلکہ سورج کو ان کے لئے ذرا سی دیر ٹھہرا دیا تھا تاکہ فتح ہو جائے فتح کے بعد انہیں حکم ہوا کہ اس شہر میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں ۔ جو اس فتح کی اظہار تشکر کا مظہر ہو گا ابن عباس نے سجدے سے مراد رکوع لیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ سجدے سے مراد یہاں پر خشوع خضوع ہے کیونکہ حقیقت پر اسے محمول کرنا ناممکن ہے ۔ ابن عباس کہتے ہیں یہ دروازہ قبلہ کی جانب تھا اس کا نام باب الحطہ تھا ۔ رازی نے یہ بھی کہا ہے کہ دروازے سے مراد جہت قبلہ ہے ۔ بجائے سجدے کے اس قوم نے اپنی رانوں پر کھسکنا شروع کیا اور کروٹ کے بل داخل ہونے لگے سروں کو جھکانے کے بجائے اور اونچا کر لیا حطتہ کے معنی بخشش کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ امر حق ہے عکرمہ کہتے ہیں اس سے مراد آیت ( لا الہ الا اللہ ) کہنا ہے ابن عباس کہتے ہیں ان میں گناہوں کا اقرار ہے حسن اور قتادہ فرماتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں اللہ ہماری خطاؤں کو ہم سے دور کر دے ۔ پھر ان سے وعدہ کیا جاتا ہے کہ اگر تم اسی طرح یہی کہتے ہوئے شہر میں جاؤ گے اور اس فتح کے وقت بھی اپنی پستی اور اللہ کی نعمت اور اپنے گناہوں کا اقرار کرو گے اور مجھ سے بخشش مانگو تو چونکہ یہ چیزیں مجھے بہت ہی پسند ہیں میں تمہاری خطاؤں سے درگزر کر لوں گا ۔ فتح مکہ کے موقع پر فرمان الٰہی سورۃ اذا جاء نازل ہوئی تھی اور اس میں بھی یہی حکم دیا گیا تھا کہ جب اللہ کی مدد آ جائے مکہ فتح ہو اور لوگ دین اللہ میں فوج در فوج آنے لگیں تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم اپنے رب کی تسبیح اور حمد و ثنا بیان کرو اس سے استغفار کرو وہ توبہ قبول کرنے والا ہے ۔ اس سورت میں جہاں ذکرو استغفار کا ذکر ہے وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری وقت کی خبر تھی ۔ حضرت ابن عباس نے حضرت عمر کے سامنے اس سورت کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا تھا جسے آپ نے فرمایا تھا جب مکہ فتح ہونے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم شہر میں داخل ہوئے تو انتہائی تواضع اور مسکینی کے آثار آپ پر تھے یہاں تک کے سر جھکائے ہوئے تھے اونٹنی کے پالان سے سر لگ گیا تھا ۔ شہر میں جاتے ہی غسل کر کے صحیٰ کے وقت آٹھ رکعت نماز ادا کی جو ضحی کی نماز بھی تھی اور فتح کے شکریہ کی بھی دونوں طرح کے قول محدثین کے ہیں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب ملک ایران فتح کیا اور کسری کے شاہی محلات میں پہنچے تو اسی سنت کے مطابق آٹھ رکعتیں پڑھیں دو دو رکعت ایک سلام سے پڑھنے کا بعض کا مذہب ہے اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آٹھ ایک ساتھ ایک ہی سلام سے پڑھیں واللہ اعلم ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بنی اسرائیل کو حکم کیا گیا کہ وہ سجدہ کرتے ہوئے اور حطتہ کہتے ہوئے دروازے میں داخل ہوں لیکن انہوں نے بدل دیا اور اپنی رانوں پر گھسٹتے ہوئے اور حطتہ کے بجائے حبتہ فی شعرۃ کہتے ہوئے جانے لگے ۔ نسائی ، عبدالرزاق ، ابو داؤد ، مسلم اور ترمذی میں بھی یہ حدیث بہ اختلاف الفاظ موجود ہے اور سنداً صحیح ہے حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے ۔ ذات الحنطل نامی گھاٹی کے قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ اس گھاٹی کی مثال بھی بنی اسرائیل کے اس دروازے جیسی ہے جہاں انہیں سجدہ کرتے ہوئے اور حطتہ کہتے ہوئے داخل ہونے کو کہا گیا تھا اور ان کے گناہوں کی معافی کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ حضرت برآء فرماتے ہیں سیقول السففھاء میں سفہاء یعنی جاہلوں سے مراد یہود ہیں جنہوں نے اللہ کی بات کو بدل دیا تھا حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں حطتہ کے بدلے انہوں نے حنطۃ حبتہ حمراء فیھا شعیرۃ کہا تھا ان کی اپنی زبان میں ان کے الفاظ یہ تھے ھطا سمعانا ازبتہ مزبا ابن عباس بھی ان کی اس لفظی تبدیلی کو بیان فرماتے ہیں کہ رکوع کرنے کے بدلے وہ رانوں پر گھسٹتے ہوئے اور حطتہ کے بدلے حنطۃ کہتے ہوئے داخل ہوئے حضرت عطا ، مجاہد ، عکرمہ ، ضحاک ، حسن ، قتادہ ، ربیع ، یحییٰ نے بھی یہی بیان کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس قول و فعل کا انہیں حکم دیا گیا تھا انہوں نے مذاق اڑایا جو صریح مخالفت اور معاندت تھی اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب نازل فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے ظالموں پر ان کے فسق کی وجہ سے آسمانی عذاب نازل فرمایا ۔ رجز سے مراد عذاب ہے کوئی کہتا ہے غضب ہے کسی نے طاعون کہا ہے ایک مرفوع حدیث ہے طاعون رجز ہے اور یہ عذاب تم سے اگلے لوگوں پر اتارا گیا تھا ۔ بخاری اور مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ دکھ اور بیماری رجز ہے تم سے پہلے لوگ انہی سے عذاب دئیے گئے تھے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

ف 1 اس بستی سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک بیت المقدس ہے۔ ف 2 سجدہ سے بعض حضرات نے یہ مطلب لیا ہے کہ جھکتے ہوئے داخل ہو اور بعض نے سجدہ شکر ہی مراد لیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بارگاہ الٰہی میں عجز اور انکسار کا اظہار اور اعتراف شکر کرتے ہوئے داخل ہو۔ ف 3 حِطَّةٌ اس کے معنی ہیں ہمارے گناہ معاف فرما دے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٤] پھر جب یہ تربیت کا عرصہ گزر گیا اور انہوں نے ایک بستی کو فتح کرلیا تو ہم نے انہیں ہدایت کی کہ اس شہر میں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کر اور منکسرانہ انداز سے داخل ہونا اور اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کرنا (یعنی بدنی اور قولی دونوں طرح کی عبادت کرنا اور (حِطَّۃٌ) کا ایک یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں پر تم فتح پاؤ، ان میں قتل و غارت نہ شروع کرنا بلکہ انہیں معاف کردینا (جیسا کہ فتح مکہ کے موقعہ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی کچھ کیا تھا) تاکہ ہم تمہاری خطائیں معاف کر کے تمہیں انعامات سے نوازیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اس شہر سے مراد کون سا شہر ہے، بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے اریحاء شہر مراد ہے۔ مگر یہ بعید ہے، کیونکہ اس وقت بنی اسرائیل بیت المقدس کی طرف جا رہے تھے اور یہ اس راستے پر نہیں ہے اور بعض نے فرعون والا مصر مراد لیا ہے، یہ قول اس سے بھی زیادہ بعید ہے۔ زیادہ صحیح قول جسے اکثر مفسرین نے اختیار کیا ہے، یہ ہے کہ اس سے بیت المقدس کا شہر ہی مراد ہے، جیسا کہ سورة مائدہ (٢١) میں ہے : (يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِيْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ )” اے میری قوم ! اس مقدس زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے۔ “ (ابن کثیر) یہاں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ بیت المقدس تو موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں فتح ہی نہیں ہوسکا، حالانکہ ” فبدل “ کی فاء سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم کے بعد وہ فوراً شہر میں چلے گئے۔ رازی نے اس اشکال کا حل پیش کیا ہے کہ ضروری نہیں کہ یہ حکم موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی دیا گیا ہو، بلکہ عین ممکن ہے کہ یوشع بن نون (علیہ السلام) کے عہد نبوت میں جب بیت المقدس فتح ہوا تو انھیں حکم دیا گیا ہو کہ اس فتح کی شکر گزاری میں اللہ تعالیٰ کے عاجز بندوں کی طرح سجدہ ریز ہو کر اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہوئے شہر میں داخل ہوں۔ ابن کثیر (رض) لکھتے ہیں یہ حکم ویسے ہی تھا جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سورة نصر میں فتح کے موقع پر تسبیح و استغفار کا حکم دیا گیا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ میں داخل ہونے کے بعد نماز فتح (آٹھ رکعات ) ادا کی ہے۔ (وَسَنَزِيْدُ الْمُحْسِنِيْنَ ) یعنی گناہوں کی بخشش کے علاوہ مزید درجات حاصل ہوں گے۔ احسان کا معنی خالص اللہ کے لیے عمل کرنا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے احسان کی حقیقت کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَإِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہٗ فَإِنَّہٗ یَرَاکَ ) ” اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، سو اگر تم اسے نہیں دیکھتے ہو تو یقیناً وہ تمہیں دیکھتا ہے۔ “ [ بخاری، الإیمان، باب سؤال جبریل النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔۔ : ٥٠، عن عمر (رض) ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

There are two views as to when this incident took place. According to Shah ` Abd al-Qadir (رح) ، when the Israelites grew weary of eating the same Mann مَن and Salwa سلوا every day and prayed for being granted the kind of food they were used to (2:61), they were commanded to go to a certain city where they could get what they wished for. So, the com¬mandment in the present verse pertains to the mode of entering this city, and lays down the spiritual etiquette for action and speech on this occasion. On the other hand is the view that the commandment per¬tains to the city against which the Israelites had been ordered to engage themselves in a Jihad جہاد . They obeyed it only after their long wanderings in the wilderness, and conquered the city. The commandment reported in Verse 58 was sent to them through Sayyidna Yusha& (علیہ السلام) (Joshua ) who was the prophet among them at the time. The discrepancy between the two views, which raises a question about the chronological sequence of the events, should not confuse us as to the nature of the stories narrated in the Holy Qur&an. The Holy Qur&an does not tell the stories for the sake of telling stories, the usual purpose of which is to provide entertainment. The real intention here is to draw certain conclusions from the stories, and to illustrate or point out certain spiritual principles. Now, the various episodes of a story help to bring out various principles. So, in view of a particular effect sought in a particular context, the chronological sequence of the episodes may be invented and the incidents re-arranged to serve the interest of the pattern of meaning that is intended. This is just what the Holy Qur&an does; in fact, this is a quite usual literary method, and the disturbance of the chronological order in the stories narrated by the Holy Qur&an should not raise irrelevant questions in the mind of the reader - after all, in any and every piece of writing, or even speech, it is the intention which governs the ordering of the material. The Verse holds out the promise that if the Israelites obeyed the commandment, their errors would be forgiven. On the basis of the first of the two views we have referred to, one must include among the errors their rejection of the Mann مَن and the Salwa سلوا and their request for the normal kind of food. The demand was really insolent, but Allah promised that if they showed their obedience by following the new commandment, He would forgive this error too. Anyhow, the promise of pardon was general, and extended to everyone who was ready to obey the new commandment, while a special reward was promised to those who devoted themselves to good deeds sincerely and wholeheartedly. The meaning of Ihsan احسان |"We may add that &sincerity& and &wholeheartedness& are a very weak rendering in English of the essential quality of the text&s Muh¬sinun محسنون (rendered here as |"those who are good in deeds|" ). This word comes from Ihsan احسان which signifies |"doing a thing beautifully - that is, in the manner that is proper to it.|" Beside this lexical meaning, Ihsan احسان has a technical meaning which has been defined in a famous Hadith: تعبداللہ کانک تراہ ، فالم تکن تراہ فانہُ یراک : |"Offer your prayers as if you can see Him, and if you do not see Him, He is seeing you (in any case).|" (Bayan al-Qur&an)

خلاصہ تفسیر : اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب ہم نے حکم کیا کہ تم لوگ اس آبادی کے اندر داخل ہو پھر کھاؤ اس کی چیزوں میں جس جگہ تم رغبت کرو بےتکلفی سے اور (یہ بھی حکم دیا کہ جب اندر جانے لگو تو) دروازہ میں داخل ہونا (عاجزی سے) جھکے جھکے اور (زبان سے یہ) کہتے جانا کہ توبہ ہے ( تو یہ ہے) ہم معاف کردیں گے تمہاری (پچھلی) خطائیں (توسب کی) اور مزید برآں اور دیں گے دل سے نیک کام کرنے والوں کو، فائدہ : بقول شاہ عبد القادر صاحب یہ قصہ بھی زمانہ وادی تیہ کا ہے کہ جب من وسلویٰ کھاتے کھاتے اکتا گئے اور اپنے معمولی کھانے کی درخواست کی (جیسا آگے کی چوتھی آیت میں آرہا ہے) تو ان کو ایک شہر میں جانے کا حکم ہوا تھا کہ وہاں کھانے پینے کی اور معمولی چیزیں ملیں گی سو یہ حکم اس شہر کے اندر جانے کے متعلق ہے اس میں قولی اور فعلی ادب داخل ہونے کے متعلق بیان کیا گیا اور اندر جاکر کھانے پینے میں توسیع کی گئی اس قول پر بہت سے بہت یہ کہا جاسکے گا کہ قصہ کے بیان میں تقدم وتأخر ہوگیا کہ بعد کا قصہ پہلے بیان ہوا اور پہلے کا بعد میں تو یہ اشکال اس وقت ہوتا جب قرآن مجید میں خود قصوں کا بیان کرنا مقصود اصلی ہوتا اور جب نظر نتائج پر ہے تو اگر ایک قصہ کے اجزا میں ہر جزو کا نتیجہ جدا ہو اور ان نتائج کے کسی اثر کا لحاظ کرکے جزو مقدم کو مؤ خر اور جزو مؤ خر کو مقدم کردیا جائے تو اس میں نہ کوئی مضائقہ ہے اور نہ کوئی اشکال، دیگر مفسرین حضرات نے اس حکم کو اس شہر سے متعلق سمجھا ہے جس پر جہاد کرنے کا حکم ہوا تھا اور بعد مدت تیہ کے پھر اس پر جہاد ہوا اور وہ فتح ہوا اس وقت یوشع (علیہ السلام) نبی تھے یہ حکم ان کی معرفت اس شہر کے بارے میں ہوا تھا، قول اول کی بناء پر پچھلی خطاؤں میں وہ درخواست بھی داخل کرلینا مناسب ہے جو من وسلویٰ چھوڑ کر معمولی کھانوں کے متعلق کی گئی تھی مطلب یہ ہوگا کہ درخواست تھی تو گستاخی لیکن خیر اب اگر اس ادب اور حکم کو بجا لائے تو اس کو معاف کردیں گے اور ہر قول پر یہ معافی تو سب کہنے والوں کے لئے عام ہوگی اور جو اخلاص سے اعمال صالحہ کریں گے ان کا انعام اس کے علاوہ ہے،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا ھٰذِہِ الْقَرْيَۃَ فَكُلُوْا مِنْہَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّۃٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰيٰكُمْ۝ ٠ ۭ وَسَنَزِيْدُ الْمُحْسِـنِيْنَ۝ ٥٨ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے ہیں أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ حيث حيث عبارة عن مکان مبهم يشرح بالجملة التي بعده، نحو قوله تعالی: وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/ 144] ، وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ [ البقرة/ 149] . ( ح ی ث ) حیث ( یہ ظرف مکان مبنی برضم ہے ) اور ) مکان مبہم کے لئے آتا ہے جس کی مابعد کے جملہ سے تشریح ہوتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/ 144] اور تم جہاں ہوا کرو شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد يحصل العسر والتّظالم فيما بين الناس، قالوا : ومن الفرق بينهما أنّ إرادةالإنسان قد تحصل من غير أن تتقدّمها إرادة الله، فإنّ الإنسان قد يريد أن لا يموت، ويأبى اللہ ذلك، ومشيئته لا تکون إلّا بعد مشيئته لقوله : وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] ، روي أنّه لما نزل قوله : لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] ، قال الکفّار : الأمر إلينا إن شئنا استقمنا، وإن شئنا لم نستقم، فأنزل اللہ تعالیٰ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ وقال بعضهم : لولا أن الأمور کلّها موقوفة علی مشيئة اللہ تعالی، وأنّ أفعالنا معلّقة بها وموقوفة عليها لما أجمع الناس علی تعلیق الاستثناء به في جمیع أفعالنا نحو : سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] ، سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] ، يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] ، ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] ، قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] ، وَما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ، وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] . ( ش ی ء ) الشیئ المشیئۃ اکثر متکلمین کے نزدیک مشیئت اور ارادہ ایک ہی صفت کے دو نام ہیں لیکن بعض کے نزدیک دونوں میں فرق سے ( 1 ) مشیئت کے اصل معنی کسی چیز کی ایجاد یا کسی چیز کو پا لینے کے ہیں ۔ اگرچہ عرف میں مشیئت ارادہ کی جگہ استعمال ہوتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے معنی اشیاء کو موجود کرنے کے ہیں اور لوگوں کی مشیئت کے معنی کسی چیز کو پالینے کے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کو چاہنا چونکہ اس کے وجود کو مقتضی ہوتا ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے ۔ ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن کہ جو اللہ تعالیٰ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو نہ چاہے نہیں ہوتا ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا ارادہ کرنا اس کے حتمی وجود کو نہیں چاہتا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا ۔ کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ لوگوں میں عسرۃ اور ظلم پائے جاتے ہیں ۔ ( 2 ) اور ارادہ میں دوسرا فرق یہ ہے کہ انسان کا ارادہ تو اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر ہوسکتا ہے مثلا انسان چاہتا ہے کہ اسے موت نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ اس کو مار لیتا ہے ۔ لیکن مشیئت انسانی مشئیت الہیٰ کے بغیروجود ہیں نہیں آسکتی جیسے فرمایا : ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الإنسان/ 30] اور تم کچھ بھی نہیں چاہتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے ایک روایت ہے کہ جب آیت : ۔ لِمَنْ شاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ [ التکوير/ 28] یعنی اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے ۔ نازل ہوئی تو کفار نے کہا ہے یہ معاملہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم چاہیں تو استقامت اختیار کریں اور چاہیں تو انکار کردیں اس پر آیت کریمہ ۔ وَما تَشاؤُنَ إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ «1» نازل ہوئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ اگر تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیئت پر موقوف نہ ہوتے اور ہمارے افعال اس پر معلق اور منحصر نہ ہوتے تو لوگ تمام افعال انسانیہ میں انشاء اللہ کے ذریعہ اشتشناء کی تعلیق پر متفق نہیں ہوسکتے تھے ۔ قرآن میں ہے : ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّه مِنَ الصَّابِرِينَ [ الصافات/ 102] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائے گا ۔ سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللَّهُ صابِراً [ الكهف/ 69] خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے ۔ يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شاءَ [هود/ 33] اگر اس کو خدا چاہے گا تو نازل کریگا ۔ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شاءَ اللَّهُ [يوسف/ 69] مصر میں داخل ہوجائیے خدا نے چاہا تو ۔۔۔۔۔۔۔ قُلْ لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلا ضَرًّا إِلَّا ما شاء اللَّهُ [ الأعراف/ 188] کہدو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے وما يَكُونُ لَنا أَنْ نَعُودَ فِيها إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّہُ رَبُّنا [ الأعراف/ 89] ہمیں شایان نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو ( ہم مجبور ہیں ) ۔ وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فاعِلٌ ذلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشاءَ اللَّهُ [ الكهف/ 24] اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا مگر ان شاء اللہ کہہ کر یعنی اگر خدا چاہے ۔ رغد عيش رَغَدٌ ورَغِيدٌ: طيّب واسع، قال تعالی: وَكُلا مِنْها رَغَداً [ البقرة/ 35] ، يَأْتِيها رِزْقُها رَغَداً مِنْ كُلِّ مَكانٍ [ النحل/ 112] ، وأَرْغَدَ القوم : حصلوا في رغد من العیش، وأَرْغَدَ ماشیتَهُ. فالأوّل من باب جدب وأجدب «1» ، والثّاني من باب دخل وأدخل غيره «2» ، والمِرْغَادُ من اللّبن : المختلط الدّالّ بکثرته علی رغد العیش . ( رغ د ) رغد ا ورغیدا ۔ آسودہ زندگی قرآن میں ہے : ۔ وَكُلا مِنْها رَغَداً [ البقرة/ 35] اور اس میں سے تم دونوں بافراغت کھاؤ ۔ يَأْتِيها رِزْقُها رَغَداً مِنْ كُلِّ مَكانٍ [ النحل/ 112] ہر طرف سے ان کا رزق بافراغت ان کے پاس چلا آتا تھا ۔ ارغد القوم آرام راحت میں بسر کرنا ۔ ارغد ماشیتۃ اس سے اپنے مویشی چراگاہ میں آزاد چھوڑ دیئے ۔ ان میں اول یعنی ارغد القوم جدب واجدب کی طرح لازم ہے اور دوسرا یعنی ارغد ماشیتہ ادخل کی طرح متعدی ہے ۔ المر غاد ایک قسم کا کھانا جو دودھ میں خرما وغیرہ ڈال کر بنا یا جاتا ہے اور وافر ہونے کی وجہ سے زندگی کی آسودگی پر دلالت کرتا تھا دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ باب البَاب يقال لمدخل الشیء، وأصل ذلک : مداخل الأمكنة، کباب المدینة والدار والبیت، وجمعه : أَبْوَاب . قال تعالی: وَاسْتَبَقَا الْبابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُ مِنْ دُبُرٍ وَأَلْفَيا سَيِّدَها لَدَى الْبابِ [يوسف/ 25] ، وقال تعالی: لا تَدْخُلُوا مِنْ بابٍ واحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوابٍ مُتَفَرِّقَةٍ [يوسف/ 67] ، ومنه يقال في العلم : باب کذا، وهذا العلم باب إلى علم کذا، أي : به يتوصل إليه . وقال صلّى اللہ عليه وسلم : «أنا مدینة العلم وعليّ بابها» «1» . أي : به يتوصّل، قال الشاعر : أتيت المروءة من بابها«2» وقال تعالی: فَتَحْنا عَلَيْهِمْ أَبْوابَ كُلِّ شَيْءٍ [ الأنعام/ 44] ، وقال عزّ وجل : بابٌ باطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ [ الحدید/ 13] وقد يقال : أبواب الجنّة وأبواب جهنم للأشياء التي بها يتوصّل إليهما . قال تعالی: فَادْخُلُوا أَبْوابَ جَهَنَّمَ [ النحل/ 29] ، وقال تعالی: حَتَّى إِذا جاؤُها وَفُتِحَتْ أَبْوابُها وَقالَ لَهُمْ خَزَنَتُها سَلامٌ عَلَيْكُمْ [ الزمر/ 73] ، وربما قيل : هذا من بَابَة كذا، أي : ممّا يصلح له، وجمعه : بابات، وقال الخلیل : بابة «3» في الحدود، وبَوَّبْتُ بابا، أي : عملت، وأبواب مُبَوَّبَة، والبَوَّاب حافظ البیت، وتَبَوَّبْتُ بوابا : اتخذته، وأصل باب : بوب . الباب ہر چیز میں داخل ہونے کی جگہ کو کہتے ہیں ۔ دراصل امکنہ جیسے شہر ، مکان ، گھر وغیرہ میں داخل ہونے کی جگہ کو باب کہتے ہیں ۔ اس کی جمع ابواب ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ ۔ وَاسْتَبَقَا الْبابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُ مِنْ دُبُرٍ وَأَلْفَيا سَيِّدَها لَدَى الْبابِ [يوسف/ 25] اور دونوں دروازون کی طرف بھاگے اور عورت نے ان کا کرتہ پیچھے سے ( پکڑ کر جو کھینچا تو ) چھاڑ ڈالا ۔ اور دونوں کو دروازں کے پاس عورت کا خاوند مل گیا ۔ لا تَدْخُلُوا مِنْ بابٍ واحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوابٍ مُتَفَرِّقَةٍ [يوسف/ 67] ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدادروازوں سے داخل ہونا ۔ اور اسی سے ( مجازا ) علم میں باب کذا کا محاورہ ہے ۔ نیز کہا جاتا ہے کہ یعنی یہ علم فلاں تک پہنچنے کا ذریعہ ہے ۔ ایک حدیث میں آنحضرت نے فرمایا : ۔ یعنی میں علم کا شہرہوں اور علی اس کا دروازہ ہے ۔ کسی شاعر نے کہا ہے ( رجہ ) تم نے جو انمردی کو اسی کی جگہ سے حاصل کیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَتَحْنا عَلَيْهِمْ أَبْوابَ كُلِّ شَيْءٍ [ الأنعام/ 44] تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے بابٌ باطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ [ الحدید/ 13] جس میں ایک دروازہ ہوگا جو اس کی جانب اندرونی ہے اس میں تو رحمت ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابواب جنۃ اور ابوب جہنم سے مراد وہ باتیں ہیں جو ان تک پہنچنے کا ذریعے بنتی ہیں قرآن میں ہے : ۔ فَادْخُلُوا أَبْوابَ جَهَنَّمَ [ النحل/ 29] کہ دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ۔ حَتَّى إِذا جاؤُها وَفُتِحَتْ أَبْوابُها وَقالَ لَهُمْ خَزَنَتُها سَلامٌ عَلَيْكُمْ [ الزمر/ 73] یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو اسکے دروازے کھول دیئے جائیں گے ۔ تو اسکے دراغہ ان سے کہیں کے کم تم پر سلام ۔ اور جو چیز کسی کام کے لئے صلاحیت رکھتی ہو اس کے متعلق کہا جاتا ہے ۔ کہ یہ اس کے مناسب ہے اس کی جمع بابت ہے خلیل کا قول ہے کہ بابۃ کا لفظ حدود ( اور حساب میں ) استعمال ہوتا ہے بوبت بابا : میں نے دروازہ بنایا ۔ نے بنے ہوئے دروازے قائم کئے ہوئے دروازے ۔ البواب دربان تبوبت بابا میں نے دروازہ بنایا ۔ باب اصل میں بوب ہے اور اس میں الف واؤ سے مبدل ہے ۔ سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی عبادت کرنے کو سجود کہا جاتا ہے اور یہ انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ( کیونکہ ) سجود کی دو قسمیں ہیں ۔ سجود اختیاری جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور اسی سے وہ ثواب الہی کا مستحق ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی ) عبادت کرو ۔ سجود تسخیر ی جو انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] اور فرشتے ) جو آسمانوں میں ہیں اور جو ( انسان ) زمین میں ہیں ۔ چار ونا چار اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں ) حطَّ الحَطّ : إنزال الشیء من علو، وقد حططت الرجل، وجارية محطوطة المتنین، أي : ملساء غير مختلفة ولا داخلة، أي : مستوية الظهر، وقوله تعالی: وَقُولُوا حِطَّةٌ [ البقرة/ 58] ، كلمة أمر بها بنو إسرائيل، ومعناه : حطّ عنا ذنوبنا وقیل : معناه : قولوا صوابا . ( ح ط ط ) الحط ( ن ) کے معنی کسی چیز کو اوپر سے نیچے اتارنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے حططت الرحل ( میں نے سواری سے پالاں اتار کر نیچے رکھ دیا ) جاریتہ محطوطتہ المتن دوختر پست شکم کہ پشت دی درازو ہموار باشد ) اور آیت کریمہ : وَقُولُوا حِطَّةٌ [ البقرة/ 58] اور حطتہ کہنا میں بنی اسرائیل کو یہ کلمہ کہنے کا حکم دیا گیا تھا جس کے معنی ہیں اے اللہ ہمارے گناہ ہم سے اتار دے بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی قولوا صوابا کے ہیں یعنی صحیح بات کہنا ۔ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ خطأ الخَطَأ : العدول عن الجهة، وذلک أضرب : أحدها : أن ترید غير ما تحسن إرادته فتفعله، وهذا هو الخطأ التامّ المأخوذ به الإنسان، يقال : خَطِئَ يَخْطَأُ ، خِطْأً ، وخِطْأَةً ، قال تعالی: إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] ، وقال : وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] . والثاني : أن يريد ما يحسن فعله، ولکن يقع منه خلاف ما يريد فيقال : أَخْطَأَ إِخْطَاءً فهو مُخْطِئٌ ، وهذا قد أصاب في الإرادة وأخطأ في الفعل، وهذا المعنيّ بقوله عليه السلام : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» «3» وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» «4» ، وقوله عزّ وجلّ : وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ [ النساء/ 92] . والثّالث : أن يريد ما لا يحسن فعله ويتّفق منه خلافه، فهذا مخطئ في الإرادة ومصیب في الفعل، فهو مذموم بقصده وغیر محمود علی فعله، والخَطِيئَةُ والسّيّئة يتقاربان، لکن الخطيئة أكثر ما تقال فيما لا يكون مقصودا إليه في نفسه، بل يكون القصد سببا لتولّد ذلک الفعل منه ( خ ط ء ) الخطاء والخطاء ۃ کے معنی صحیح جہت سے عدول کرنے کے ہیں اس کی مختلف صورتیں ہیں ۔ ( 1 ) کوئی ایسا کام بالا رادہ کرے جس کا ارادہ بھی مناسب نہ ہو ۔ یہ خطا تام ہے جس پر مواخزہ ہوگا ا س معنی میں فعل خطئی یخطاء خطاء وخطاء بولا جا تا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت جرم ہے ۔ وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] اور بلا شبہ ہم خطا کار تھے ۔ ( 2 ) ارادہ تو اچھا کام کرنے کا ہو لیکن غلطی سے برا کام سرزد ہوجائے ۔ کہا جاتا ہے : ۔ اس میں اس کا ارادہ وہ تو درست ہوتا ہے مگر اس کا فعل غلط ہوتا ہے اسی قسم کی خطا کے متعلق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» میری امت سے خطا سے خطا اور نسیان اٹھائے گئے ہیں ۔ نیز فرمایا : وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» جس نے اجتہاد کیا ۔ لیکن اس سے غلطی ہوگئی اسے پھر بھی اجر ملے گا قرآن میں ہے : ۔ اور جو غلطی سے مومن کو مار ڈالے تو ایک تو غلام کو ازاد کردے ۔ ( 3 ) غیر مستحن فعل کا ارادہ کرے لیکن اتفاق سے مستحن فعل سرزد ہوجائے ۔ اس صورت میں اس کا فعل تو درست ہے مگر ارادہ غلط ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل بھی قابل ستائس نہیں ہوگا ۔ الخطیتۃ یہ قریب قریب سیئۃ کے ہم معنی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَحاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ [ البقرة/ 81] اور اسکے گناہ ہر طرف سے اس کو گھیر لیں گے ۔ لیکن زیادہ تر خطئۃ کا استعمال اس فعل کے متعلق ہوتا ہے جو بزات خود مقصود نہ ہو بلکہ کسی دوسری چیز کا ارادہ اس کے صدر کا سبب بن جائے زاد الزِّيادَةُ : أن ينضمّ إلى ما عليه الشیء في نفسه شيء آخر، يقال : زِدْتُهُ فَازْدَادَ ، وقوله وَنَزْداد كَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] ( زی د ) الزیادۃ اس اضافہ کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے پورا کرنے کے بعد بڑھا جائے چناچہ کہاجاتا ہے ۔ زدتہ میں نے اسے بڑھا یا چناچہ وہ بڑھ گیا اور آیت :۔ وَنَزْدادُكَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] اور ( اس کے حصہ کا ) ایک بار شتر غلہ اور لیں گے ۔ احسان الإحسان فوق العدل، وذاک أنّ العدل هو أن يعطي ما عليه، ويأخذ أقلّ مما له، والإحسان أن يعطي أكثر مما عليه، ويأخذ أقلّ ممّا له «3» . فالإحسان زائد علی العدل، فتحرّي العدل واجب، وتحرّي الإحسان ندب وتطوّع، وعلی هذا قوله تعالی: وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] ، وقوله عزّ وجلّ : وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] ، ولذلک عظّم اللہ تعالیٰ ثواب المحسنین، فقال تعالی: وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] ، وقال تعالی:إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] ، وقال تعالی: ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] ، لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] . ( ح س ن ) الحسن الاحسان ( افعال ) احسان عدل سے بڑھ کر چیز ہے کیونکہ دوسرے کا حق پورا دا کرنا اور اپنا حق پورا لے لینے کا نام عدل ہے لیکن احسان یہ ہے کہ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیا جائے اور اپنے حق سے کم لیا جائے لہذا احسان کا درجہ عدل سے بڑھ کر ہے ۔ اور انسان پر عدل و انصاف سے کام لینا تو واجب اور فرض ہے مگر احسان مندوب ہے ۔ اسی بنا پر فرمایا :۔ وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا قبول کیا اور وہ نیکو کا ر بھی ہے ۔ اور فرمایا ؛ وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] اور پسندیدہ طریق سے ( قرار داد کی ) پیروی ( یعنی مطالبہ خونہار ) کرنا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محسنین کے لئے بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] بیشک خدا نیکی کرنیوالوں کو دوست رکھتا ہے ۔ ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے ۔ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٨) اور جس وقت ہم نے کہا کہ اس ” اریحا “ نامی بستی میں داخل ہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ تمہارے لیے فراخی اور وسعت ہے اور اس بستی کے دروازہ سے جھکتے ہوئے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے یا لاالہ الا اللہ “۔ کہتے ہوئے داخل ہونا، ہم تمہارے گناہوں کی معافی کے ساتھ، تمہاری نیکیوں میں بھی اضافہ کریں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٨ (وَاِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ فَکُلُوْا مِنْہَا حَیْثُ شِءْتُمْ رَغَدًا) (وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّۃٌ نَّغْفِرْ لَکُمْ خَطٰیٰکُمْ ط) (وَسَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ ) بنی اسرائیل کے صحرائے سینا میں آنے اور تورات عطا کیے جانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کے زمانے میں انہیں جہاد اور قتال کا حکم ہوا ‘ لیکن اس سے پوری قوم نے انکار کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ سزاّ مسلط کردی کہ یہ چالیس برس تک اسی صحرا میں بھٹکتے پھریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یہ ابھی جہاد اور قتال کرتے تو ہم پورا فلسطین ان کے ہاتھ سے ابھی فتح کرا دیتے ‘ لیکن چونکہ انہوں نے بزدلی دکھائی ہے لہٰذا اب ان کی سزا یہ ہے : (فَاِنَّھَا مُحَرَّمَۃٌ عَلَیْھِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ج یَتِیْھُوْنَ فِی الْاَرْضِ ط) (المائدۃ : ٢٦) یعنی ارض فلسطین جو ان کے لیے ارض موعود تھی وہ ان پر چالیس سال کے لیے حرام کردی گئی ہے ‘ اب یہ چالیس سال تک اسی صحرا میں بھٹکتے پھریں گے۔ صحرا نوردی کے اس عرصے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی انتقال ہوگیا اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا بھی۔ اس عرصے میں ایک نئی نسل پیدا ہوئی اور وہ نسل جو مصر سے غلامی کا داغ اٹھائے ہوئے آئی تھی وہ پوری کی پوری ختم ہوگئی۔ غلامی کا یہ اثر ہوتا ہے کہ غلام قوم کے اندر اخلاق و کردار کی کمزوریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ صحرا نوردی کے زمانے میں جو نسل پیدا ہوئی اور صحرا ہی میں پروان چڑھی وہ ایک آزاد نسل تھی جو ان کمزوریوں سے پاک تھی اور ان میں ایک جذبہ تھا۔ بنی اسرائیل کی اس نئی نسل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلیفہ یوشع بن نون [ تورات میں ان کا نام یشوع (Joshua) آیا ہے ] کی قیادت میں قتال کیا اور پہلا شہر جو فتح ہوا وہ ” اریحا “ تھا۔ یہ شہر آج بھی جریکو (Jericho) کے نام سے موجود ہے۔ یہاں پر اس فتح کے بعد کا تذکرہ ہو رہا ہے کہ یاد کرو جبکہ ہم نے تم سے کہا تھا کہ اس شہر میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوجاؤ اور پھر جو کچھ نعمتیں یہاں ہیں ان سے متمتعّ ہو ‘ خوب کھاؤ پیو ‘ لیکن شہر کے دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا۔ مراد یہ ہے کہ جھک کر ‘ سجدۂ شکر بجا لاتے ہوئے داخل ہونا۔ ایسا نہ ہو کہ تکبر کی وجہ سے تمہاری گردنیں اکڑ جائیں۔ اللہ کا احسان مانتے ہوئے گردنیں جھکا کر داخل ہونا۔ یہ نہ سمجھنا کہ یہ فتح تم نے بزور بازو حاصل کی ہے۔ اس کا نقشہ ہمیں ٌ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شخصیت میں نظر آتا ہے کہ جب فتح مکہ کے موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے تو جس سواری پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے ہوئے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیشانی مبارک اس کی گردن کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔ یہ وقت ہوتا ہے جبکہ ایک فاتح تکبرّ اور تعلّی کا مظاہرہ کرتا ہے ‘ لیکن بندۂ مؤمن کے لیے یہی وقت تواضع کا اور جھکنے کا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں حکم دیا گیا : (وََقُوْلُوْا حِطَّۃٌ) ” اور کہتے جاؤ مغفرت مغفرت “۔ حِطَّۃٌ کا وزن فِعْلَۃٌ اور مادہ ” ح ط ط “ ہے۔ حَطَّ یَحُطُّ حَطًّا کے متعدد معنی ہیں ‘ جن میں سے ایک ” پتے جھاڑنا “ ہے۔ مثلاً کہیں گے حَطَّ وَرَقَ الشَّجَرِ (اس نے درخت کے ّ پتے جھاڑ دیے) ۔ حِطَّۃٌ کے معنی ” استغفار ‘ طلب مغفرت اور توبہ “ کے کیے جاتے ہیں۔ گویا اس میں گناہوں کو جھاڑ دینے اور خطاؤں کو معاف کردینے کا مفہوم ہے۔ چناچہ ” وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ“ کا مفہوم یہ ہوگا کہ مفتوح بستی میں داخل ہوتے وقت جہاں تمہاری گردنیں عاجزی کے ساتھ جھکی ہونی چاہئیں وہیں تمہاری زبان پر بھی استغفار ہونا چاہیے کہ اے اللہ ہمارے گناہ جھاڑ دے ‘ ہماری مغفرت فرما دے ‘ ہماری خطاؤں کو بخش دے ! اگر تم ہمارے اس حکم پر عمل کرو گے تو ہم تمہاری خطائیں معاف فرما دیں گے ‘ اور تم میں جو محسن اور نیکوکار ہوں گے انہیں مزید فضل و کرم اور انعام و اکرام سے نوازیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

74. It has not yet been possible to arrive at any conclusion about the identity of the locality mentioned here. The series of events in the context of which God's command to enter the city is mentioned belong to the period of the exodus of the Children of Israel in the Sinai peninsula. It is therefore probable that the place mentioned in this verse is some Sinaitic city. Another plausible suggestion is that it is Shattim, which was located opposite Jericho on the eastern bank of the river Jordan. According to the Bible the Iscaelites conquered this town during the last years of.the life of Moses. After the conquest the Israelites became so decadent that God smote them with a plague from which twenty-four thousand died (Numbers 25: 1-9) . 75. God's command was to enter the city not with the arrogance of tyrannical conquerors, but with the humility of men of God (in the manner in which the Prophet would later enter Makka at the time of its conquest) . As for 'hit ' tah', it could either mean that when they entered the town they should seek God's pardon for their sins or that instead of plundering and massacring people in the wake of their conquest, they should proclaim an amnesty.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :74 یہ ابھی تک تحقیق نہیں ہو سکا ہے کہ اس بستی سے مراد کونسی بستی ہے ۔ جس سلسلہء واقعات میں یہ ذکر ہو رہا ہے وہ اس زمانے سے تعلق رکھتا ہے ، جبکہ بنی اسرائیل ابھی جزیرہ نمائے سینا ہی میں تھے ۔ لہٰذا اغلب یہ ہے کہ یہ اسی جزیرہ نما کا کوئی شہر ہو گا ۔ مگر یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد شِطّیم ہو ، جو یَرِْیْحُو کے بالمقابل دریائے اُرْدُن کے مشرقی کنارے پر آباد تھا ۔ بائیبل کا بیان ہے کہ اس شہر کو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ کی زندگی کے اخیر زمانے میں فتح کیا اور وہاں بڑی بدکاریاں کیں جن کے نتیجے میں خدا نے ان پر وبا بھیجی اور ۲٤ ہزار آدمی ہلاک کر دیے ۔ ( گنتی - باب ۲۵ ، آیت ۸-۱ ) سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :75 یعنی حکم یہ تھا کہ جابر و ظالم فاتحوں کی طرح اَکڑتے ہوئے نہ گھُسنا ، بلکہ خدا ترسوں کی طرح منکسرانہ شان سے داخل ہونا ، جیسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکّہ کے موقع پر مکّہ میں داخل ہوئے ۔ اور حِطَّۃٌ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ خدا سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگتے ہوئے جانا ، دوسرے یہ کہ لوٹ مار اور قتلِ عام کے بجائے بستی کے باشندوں میں درگذر اور عام معافی کا اعلان کرتے جانا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:58) منھا۔ ھاء ضمیر واحد مؤنث غائب القریۃ کی طرف راجع ہے ای من طعام القریۃ وثمارھا یعنی اس قریہ میں جو طرح طرح کی نعمتیں اور میوے ہیں وہ کھاؤ۔ القریۃ بستی۔ منصوب بوجہ ظرفیت یا بوجہ مفعول ہے اس کی جمع القوی ہے۔ یہ کونسی بستی تھی اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس سے مراد ریحا ہے بعض کے نزدیک اس سے بیت المقدس مراد ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد ایلیا ہے۔ اور بعض اس سے شام مراد لیتے ہیں۔ حیث شئتم۔ حیث جہاں۔ جس جگہ۔ ظرف مکان ہے مبنی برضمہ ہے شئتم۔ شاء یشاء مشیۃ (باب سمع) ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ اصل میں شیئتم تھا۔ ی کی حرکت ما قبل کو دی۔ اور ی اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگیا۔ شیئتم ہوگیا۔ تم نے چاہا۔ حیث شیئتم جہاں سے چاہو۔ رغدا بافراغت، خوب، اچھی طرح، وسیع۔ یہ اصل میں رغد یرغد (باب سمع) کا مصدر ہے بمعنی بہت نعمت ہونے کے۔ اور صفت مشبہ ہوکر مستعمل ہے۔ راعد کی جمع بھی ہوسکتی ہے۔ جیسے خادم کی جمع خدم مطلب یہ کہ کھاتے پھرو۔ اس میں جہاں چاہو۔ محفوظ ہوکر (رغبت سے خوب اچھی طرح) منصوب بوجہ مصدر کے ہے یا ضمیر فکلوا سے حال ہے۔ الباب۔ دروازہ الباب معرفہ لایا گیا ہے کہ اس سے مراد القریۃ کا دروازہ ہے جو القریۃ سے اریحا مراد لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک الباب سے مراد اس شہر کا کوئی بھی دروازہ ہے اور اس کے سات دروازے بتائے جاتے ہیں۔ فمن قال ان القریۃ اریحا قال ادخلوا من ای باب کان من ابوابھا وکان لہا سبعۃ ابواب، اور جن کے نزدیک القریۃ سے مراد بیت المقدس ہے ابواب سے مراد بیت المقدس کا خاص دروازہ ہے جیسے باب حط کہتے ہیں ومن قال ان القریۃ ہی بیت المقدس قال ھو باب حطۃ۔ سجدا ضمیر ادخلوا سے حال ہے سجدہ کرتے ہوئے ۔ سجدا ساجد کی جمع ہے۔ بعض نے سجدہ کے یہاں لغوی معنی مراد لئے ہیں۔ یعنی تذلیل و انکسار ، خژوع و خضوع۔ اور جملہ کا مطلب ہے کہ جب تم دروازے سے داخل ہو تو نہایت انکساری اور تواضع سے مطیع اور فرمانبرداروں کی طرح داخل ہو۔ اور جنہوں نے اس کے شرعی معنی لئے ہیں ان کے نزدیک مطلب یہ ہوگا کہ جب تم دروازہ کے اندر داخل ہوجاؤ تو سجدہ شکر بجا لاؤ۔ بعض نے اس سے جھکنا اور رکوع مراد لیا ہے۔ حطۃ ۔ حط یحط (باب نصر) حط، مصدر، اترنا، نازل ہونا ۔ ای انزلہ اس نے اسے اونچی جگہ سے نیچی جگہ رکھا چناچہ کہتے ہیں حططت الرحل میں نے سواری سے پاؤں اتار کر نیچے رکھ دیا۔ اور یہاں حطۃ سے مراد یہ ہے حط عنا ذنوبنا (اے اللہ) ہمارے گناہ ہم سے اتار دے (یعنی اپنے گناہوں کے بوجھ کو ہلکا کرنے کی دعا کرو) ۔ بعض کے نزدیک اس کے معنی معلوم نہیں محض امتثال امر مقصود تھا۔ بعض نے اسے توبہ کے معنی میں لیا ہے۔ اور یہ قولوا کا مفعول بھی ہوسکتا ہے یعنی تم حطۃ حطۃ کہتے ہوئے داخل ہو۔ نغفرلک مضارع مجزوم جمع متکلم ۔ بوجہ جواب امر کے مجزوم ہے تو ہم تمہیں معاف کردیں گے۔ خطیکم مضاف مضاف الیہ، تمہاری خطائیں۔ سنزید المحسنین۔ س مضارع پر داخل ہوکر اسے مستقبل کے معنی دیتا ہے محسنین اسم فاعل جمع مذکر محسن واحد ، نیکوکار مرد۔ احسان کرنے والے۔ بھلائی کرنے والے۔ یعنی اس حکم کی تعمیل پر تم میں سے جو گنہگار ہیں ان کی توبہ قبول ہوگی اور ان کو مغفرۃ عطا ہوگی۔ اور جو تم میں پہلے ہی نیک اور فرمانبردار ہیں ان کے لئے ثواب بڑھا دیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ۔ یہ آٹھو اں انعام ہے سابقہ انعامات کا تعلق دنیوی زندگی سے تھا اور اس تعلق دینی زند گی سے ہے۔ اس میں مقام تیہ کی شدتوں سے نجات اور گناہوں کو نجشش کا طریقہ بتلا یا ہے۔ ( کبیر) اس شہر مراد ہے اس بارے میں علمائے تفسیر نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں بعض نے کہا ہے کہ اس سے اریحا شہر مرا اد ہے مگر یہ قیاس ہے کیونکہ اسرائیل اس وقت بیت المقدس جارہے تھے اور یہ راستے پر نہیں ہے۔ اور بعض نے مصر فرعون ہی ماد لے لیا جو پہلے قول سے بھی زیادہ مستبعد ہے لیکن زیادہ صحیح قول جسے اکثر مفسرین نے اختیار کیا ہے یہ ہے کہ اس سے بیت المقدس کا شہر ہی مراد ہے جیسا کہ سورت مائدہ میں ہے ( اے میر قوم اس قوم اس مقدس سر زمین میں چلے جاؤ جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے ( ابن کثیر) یہاں پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ بیت المقدس تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں فتح ہی نہیں ہوسکا حالانکہ فبدل کی فاء سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم کے بعد وہ فورا شہر میں چلے گئے۔ امام رازی نے اس اشکال کا حل پیش کیا ہے کہ ضروری نہیں کہ یہ حکم موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر دیا گیا ہو بلکہ عین ممکن ہے کہ حضرت یو شع (علیہ السلام) کے دور نبوت میں یہ حکم ملا ہو جیسا کہ واقعات سے اس کی تائید ہوتی ہے تو مطلب یہ ہے کہ چالیس سال کی صحرا نو ردی کے بعد حضرت یو شع کے عہد نبوت میں جب بیت المقدس فتھ ہو اتو ہم نے ان کے حکم دیا کہ اس فتح کی شکر گزاری میں اللہ تعالیٰ کے عاجز بندوں کی طرح سجدہ ریز ہو کر اپنے گنا ہوں کی بخشش مانگتے ہوئے شہر میں داخل ہونا۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں یہ حکم ویسے ہی تھا جیسا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سورت نصر میں فتح پر تسبیح و استغفار کا حکم دیا گیا ہے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ میں داخل ہونے کے بعد نماز فتح ( آٹھ رکعات) ادا کی ہے حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ وہ دروازہ جس سے شہر میں داخل ہوئے یعنی گنا ہوں کی بخشش کے علاوہ مزید درجات حاصل ہوں گے احسان کے معنی اخلاص عمل کے ہیں حدیث میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے احسان کی حیقیقت کے متعلق سوال کیا گیا۔ جس کے جواب میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان نعبد اللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ نانہ یراک کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گو یا تم اسے دیکھ رہے ہو ورنہ یہ سمجھ کر کہ عبادت کرو کہ وہ ضرور تمہیں دیکھ رہا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 58 تا 59 ادخلوا (داخل ہوجاؤ) ۔ القریۃ (بستی، آبادی، گاؤں) ۔ سجد (جھکے جھکے ، سجدہ کرتے ہوئے) ۔ حطۃ (الٰہی توبہ) ۔ نغفر (ہم معاف کردیں گے) ۔ خطیا (خطائیں ، لغزشیں) ۔ بدل (بدل ڈالا) ۔ غیر الذی قیل (جو کہی نہ گئی تھی) ۔ انزلنا (ہم نے نازل کیا، اتارا) ۔ رجز (عذاب، سزا) ۔ یفسقون (فسق کرتے ہیں، نافرمانیاں کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 58 تا 59 ملک شام کی ایک بستی “ یریحو ” جسے آج کل “ اریحا ” کہتے ہیں بڑی خوشحال بستی تھی۔ اس بستی والوں کو زندگی کی تمام سہولتیں اور راحتیں حاصل تھیں۔ سرسبزی و شادابی، پھلوں سے لدے ہوئے باغات اور کثرت سے پانی عطا کیا گیا تھا۔ مگر وہ زندگی کی ان راحتوں میں پڑ کر اللہ سے اور آخرت سے اس قدر غافل ہوچکے تھے کہ جھوٹ، فریب اور دھوکا دہی ان کی زندگی کا معمول بن کر رہ گیا تھا۔ بدکاریاں عروج پر پہنچ گئی تھیں۔ بالاخر اللہ کا فیصلہ آگیا۔ طرح طرح کی بیماریاں پھیل گئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے چوبیس ہزار انسان لقمہ اجل بن گئے بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ تم اس بستی میں داخل ہوجاؤ۔ فتح تمہارے قدم چومے گی۔ لیکن یہ بات یاد رہے کہ جھکے جھکے داخل ہونا متکبروں کی طرح اکڑتے اتراتے داخل نہ ہونا۔ بلکہ عاجزی و انکساری کے ساتھ اس طرح جھکے جھکے داخل ہونا کہ تمہاری زبان پر گناہوں سے معافی کے کلمات ہوں۔ جب بنی اسرائیل اس بستی میں داخل ہوئے تو وہاں کی ظاہری چمک دمک دیکھ کر اللہ کے سارے احکامات کو بھول گئے، تکبر اور غرور کا انداز اختیار کرلیا اور حطۃ جس کے معنی گناہوں کی معافی کے ہیں اس لفظ کے بجائے انہوں نے حنطۃ حنطۃ یعنی گیہوں گیہوں کہنا شروع کردیا، اس کے علاوہ بڑی کثرت سے بدکاریوں میں مبتلا ہوگئے ۔ اس نافرمانی پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔ ان میں طاعون پھیل گیا اور چند روز میں ستر ہزار بنی اسرائیل مر گئے۔ اس طرح وہ قوم جو اللہ کی فرماں برداری اور اطاعت کر کے اس کی رحمتوں کی مستحق بن سکتی تھی۔ نافرمانیوں میں مبتلا ہو کر اپنی دنیا و آخرت تباہ و برباد کر بیٹھی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نواں احسان : دشمن پر غلبہ عطا فرمایا لیکن بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے ناشکری کی اور ظلم و زیادتی کا بازار گرم رکھا۔ بیت المقدس میں بنی اسرائیل کے داخل ہونے کے واقعہ کے بارے میں مفسرین کے دو نقطہ نگاہ ہیں۔ ایک مکتب فکر کا خیال ہے کہ ان کا داخلہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ہوا تھا اور دوسروں کا نقطہ نظر یہ ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قیادت میں بیت المقدس میں داخل ہوئے تھے لیکن ٹھوس حقائق کی بنیاد پر اکثریت کا خیال یہ ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بیت المقدس میں داخل ہوئے تھے۔ ” حطۃ “ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سر جھکائے اس سے معافی مانگتے ہوئے اور لوگوں کے ساتھ در گزر کا رویہ اختیار کرتے ہوئے داخل ہونا لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو یکسر تبدیل کردیا اور خدا فراموشی اور تکبر کا رویہ اختیار کر کے دنیا دار فاتحین کی طرح قتل و غارت اور لوٹ کھسوٹ کا مظاہرہ کیا جس کے بدلے میں ان پر طاعون کی بیماری مسلط کی گئی جس سے ان کی فتح کی خوشیاں غارت ہوئیں اور یہ ہزاروں کی تعداد میں موت کے گھاٹ اتر گئے۔ اللہ تعالیٰ ظالموں اور نافرمانوں کو ایسے بھی سزا دیا کرتا ہے۔ بظاہر بنی اسرائیل کا واقعہ بیان ہوا ہے لیکن اس میں ہر طاقت ور اور فاتح کے لیے ہدایت ہے کہ وہ متکبر اور ظالم بننے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے مفتوحہ قوم کے ساتھ زیادہ سے زیادہ درگزر کا مظاہرہ کرے۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِيِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ قِیْلَ لِبَنِيْ إِسْرَاءِیْلَ (ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّۃٌ) فَدَخَلُوْا یَزْحَفُوْنَ عَلٰی أَسْتَاھِھِمْ فَبَدَّلُوْا وَقَالُوْا حِطَّۃٌ حَبَّۃٌ فِيْ شَعَرَۃٍ ) (رواہ البخاری : کتاب تفسیر القرآن، باب وإذقلنا ادخلوا ھذہ القریۃ۔۔ ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کو کہا گیا : (دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور بخشش مانگنا) تو وہ اپنی پیٹھوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور ” حطۃ “ کی جگہ ” حَبَّۃٌ فِيْ شَعَرَۃٍ “ کہتے ہوئے داخل ہوئے۔ “ (عَنْ أُسَامَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ ہٰذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ سُلِّطَ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ أَوْ عَلٰی بَنِیْ إِسْرَاءِیلَ فَإِذَاکَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوْا مِنْہَا فِرَارًا مِّنْہُ وَإِذَاکَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوہَا) (رواہ مسلم : کتاب السلام، باب الطاعون والطیرۃ والکھانۃ ونحوھا) ” حضرت اسامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : طاعون کی بیماری وہ عذاب ہے جسے تم سے پہلے کسی قوم یا بنی اسرائیل پر مسلط کیا گیا تھا۔ جب طاعون کی بیماری کسی علاقے میں پھیلی ہوئی ہو تو اس بیماری کی وجہ سے وہاں سے نہ نکلو اور جب کسی علاقے میں طاعون پھیلا ہوا ہو تو وہاں مت جاؤ۔ “ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کا کردار فتح مکہ کے موقع پر ملاحظہ فرمائیں کہ جب آپ نے مکہ فتح کیا تو اتنی عاجزی اور انکساری کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے کہ آپ کا سر مبارک اس حد تک جھکا جا رہا تھا کہ آپ کی مبارک داڑھی سواری کے پلان کے ساتھ لگ رہی تھی اور آپ کی زبان اطہر سے اللہ تعالیٰ کے شکرانے کے الفاظ جاری تھے۔ اس موقع پر مجاہدین کو حکم صادر فرمایا کہ جو مخالف بیت اللہ یا ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو یا اپنے گھر کے کواڑ بند کرلے اس پر کسی قسم کی دست درازی نہیں کرتا یہاں تک کہ مکہ سے نکل جانے والوں کا بھی پیچھا کرنے سے منع فرمایا۔ (ابن ہشام) مسائل ١۔ نیکی کرنے والوں کو اللہ زیادہ دیتا ہے۔ ٢۔ ظالم اللہ کے احکام تبدیل کردیتے ہیں۔ ٣۔ نافرمانوں پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ ٤۔ فتح حاصل ہونے پر اللہ کا شکرادا کرنا چاہیے۔ ٥۔ فتح حاصل ہونے پر اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے۔ ٦۔ فاتح کو مفتوح قوم کے ساتھ زیادہ سے زیادہ درگزر کرنی چاہیے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

بعض روایات میں اس کی تصریح آتی ہے کہ اس گاؤں سے مراد بیت المقدس ہے ۔ مصر سے خروج کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ اس شہر میں داخل ہوجائیں ۔ اس وقت اس میں عمالقہ آباد تھے ۔ بنی اسرائیل کو یہ حکم تھا کہ وہ ان لوگوں کو نکال دیں۔ لیکن بنی اسرائیل نے اس سے انکار کردیا اور کہا تھا ” اے موسیٰ ! اس شہر میں ایک جبار قوم آباد ہے ۔ ہم تو اس میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک وہ وہاں سے نکل نہیں جاتے ۔ اگر وہ نکل جاتے ہیں تو ہم داخل ہوں گے ۔ “ نیزاسی شہر کے بارے میں انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا ” اے موسیٰ (علیہ السلام) ہم ہرگز اس شہر میں داخل نہ ہوں گے ، جب تک کہ یہ لوگ اس شہر میں موجود ہیں ، جائیں آپ اور آپ کا رب لڑیں ان سے ، ہم توی ہیں بیٹھے ہیں ۔ “ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کی یہ سزا دی کہ وہ چالیس سال تک بھٹکتے پھرے ۔ ان کی موجودہ نسل سب مرگئی ، ایک جدید نسل تیار ہوگئی اور اس نے حضرت یوشع بن نون کی قیادت میں اس شہر کو فتح کیا اور یہ لوگ شہر میں داخل ہوئے ۔ لیکن اس طویل سز ا کے بعد بھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا کہ خشوع و خضوع اور تواضع سے جھک کر شہر میں داخل ہوں اور حطۃ حطۃ پکاریں ، انہوں نے ویسا نہ کیا ۔ شہر میں داخلے کی جو صورت اللہ تعالیٰ نے تجویز کی تھی اس کے مطابق داخل نہ ہوئے ، نیز وہ لفظ بھی ادانہ کئے جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ ، ان کی اس تاریخی نافرمانی کو نقل کرکے ان کے سامنے رکھتے ہیں ۔ نیز تاریخی لحاظ سے یہ واقعہ پیش بھی ، موضوع زیربحث میں یعنی خروج بنی اسرائیل کے متصلاً بعد آیا تھا ۔ اس لئے یہاں اس کا بھی ذکر ہوا ۔ قرآن کریم کا یہ انداز بتارہا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ کو ایک اکائی تصور کرتا ہے جس کا آغاز ، وسط اور انتہابالکل یکساں ہے ۔ کیونکہ یہ لوگ ہمیشہ اپنی پوری تاریخ میں ، مخالف حق ، سرکش ، نافرمان اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تاریخی طور پر یہ واقعہ جو بھی ہو اس کا کوئی یقینی علم ہمیں نہیں ہے۔ البتہ قرآن کریم ان کے سامنے جو واقعہ پیش کررہا ہے ۔ اس کا انہیں علم ہے ۔ وہ اس بات کو جانتے ہیں جس کی طرف یہاں اشارہ کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کی تھی اور وہ اس خاص شہر میں داخل ہوئے تھے ۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ تھا کہ خضوع اور خشوع کی حالت میں ، اس شہر میں داخل ہوں اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ان کی ان غلطیوں کو معاف کرے ۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کی غلطیوں کو معاف کردے گا ۔ اور نیکی کرنے والوں پر اپنا مزید فضل وکرم کرے گا ۔ لیکن ان لوگوں نے اپنی عادت مستمرہ کے مطابق اس حکم کی بھی خلاف ورزی ہی کی فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ ” مگر جو بات کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیا “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ایک بستی میں خشوع کے ساتھ داخل ہونے کا حکم اور بنی اسرائیل کی شرارت اور اس پر عذاب آنا یہ کون سی بستی ہے جس میں داخل ہونے کا یہاں اس آیت شریفہ میں ذکر فرمایا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے بیت المقدس مراد ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ اریحا بستی تھی جس میں داخل ہونے کا حکم ہوا تھا۔ مفسرابن کثیر لکھتے ہیں کہ پہلا قول ہی صحیح ہے۔ کیونکہ یہ مصر سے آکر اپنے علاقہ ارض مقدسہ میں جا رہے تھے اور اریحا ان کے راستہ میں نہیں پڑتا تھا اور پھر لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا نہیں ہے بلکہ جب بنی اسرائیل چالیس سال میدان میں حیران و سرگرداں پھرتے رہے تو حضرت یوشع بن نون (علیہ السلام) کی معیت میں ان کو بیت المقدس میں داخل ہونا نصیب ہوا۔ ان کے علاقہ میں (جسے یہ چھوڑ کر مصر چلے گئے تھے) قوم عمالقہ آباد تھی۔ وہ بڑے قدآور اور قوت و شوکت والے لوگ تھے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جب بنی اسرائیل سے فرمایا کہ چلو اس سر زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے تو ان لوگوں نے کہا کہ اس میں تو بڑے جابر قسم کے لوگ آباد ہیں۔ ہمارے بس کا نہیں جو ان سے مقابلہ کریں تم جاؤ اور تمہارا رب جائے دونوں وہاں جا کر قتال کرلیں۔ ان کی حرکت پر چالیس سال کے لیے بیت المقدس کی سر زمین ان پر حرام کردی گئی پھر یوشع (علیہ السلام) کی سر کردگی میں بیت المقدس فتح ہوا۔ جب بیت المقدس میں داخل ہونے لگے تو حکم ہوا کہ اللہ جل شانہ کا شکر ادا کرتے ہوئے داخل ہوں کہ اس نے ان کا علاقہ ان کو واپس فرمایا اور اس میں فتح یابی نصیب فرمائی اور ان کو میدان تیہ کی حیرانی اور پریشانی سے نجات دی اور اس شکر کے اظہار کے لیے عملی طور پر یہ تجویز فرمایا کہ جھکے ہوئے داخل ہوں تو اضع کا طریقہ اختیار کریں غرور اور تکبرکو پاس نہ آنے دیں۔ اور ایسی کوئی صورت اختیار نہ کریں جس سے استہزاء کی کیفیت ظاہرہو اور ان کو یہ حکم دیا تھا کہ حِطَّۃٌ کہتے ہوئے داخل ہوں جس کا معنی یہ ہے کہ اللہ ہم گناہوں کی بخشش کا سوال کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا تھا کہ ایسا کرو گے تو ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے اور جو لوگ اچھے کام کرنے والے ہیں ان کے ثواب میں اور اضافہ کردیں گے۔ حکم کیا ہوا تھا اور حرکت کیا کی ؟ اسی کو فرمایا کہ ظالموں نے اس کو بدل دیا جس کا حکم دیا تھا، عمل کو تو اس طرح بدلا کہ جھکے ہوتے داخل ہونے کی بجائے بچوں کی طرح اپنے دھڑوں پر گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے جس میں ایک طرح کا استہزاء ہے۔ اور جو معافی مانگنے کا حکم ہوا تھا اس میں اس طرح ادل بدل کیا کہ حِطَّۃٌ کی بجائے (حَبَّۃٌ فِیْ شَعِیْرَۃٍ ) کہتے ہوئے داخل ہوئے۔ (کما فی صحیح البخاری ٢/٦٤٣) جب انہوں نے ایسی حرکت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے فاسقانہ کرتوتوں کی وجہ سے ان پر عذاب نازل فرما دیا۔ یہ عذاب جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا اس کو ” رجز “ سے تعبیر فرمایا ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ ان لوگوں پر طاعون بھیج دیا گیا تھا جس کی وجہ سے کثیر تعداد میں بنی اسرائیل کی موتیں ہوئیں۔ علماء تفسیر نے یہاں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد بھی نقل کیا ہے کہ : (اَلطَّاعُوْنُ رِجْزٌ عَذَابٌ بِہٖ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ ) (یعنی طاعون رجز ہے عذاب ہے جس کے ذریعہ تم سے پہلی امتوں کو عذاب دیا گیا) ۔ (ذکرہ ابن کثیر، عن ابن ابی حاتم) معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ طاعون کی وجہ سے بنی اسرائیل کے ستر ہزار آدمی ایک ہی ساعت میں ہلاکت ہوگئے۔ مومن بندوں کو ہر حال میں اپنے خالق ومالک ہی کی طرف متوجہ رہنا چاہئے جب اللہ تعالیٰ فتح اور کامرانی دے تو خصوصیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ شانہ کی طرف متوجہ ہوں عاجزی اور فروتنی کو اختیار کریں سید عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے دن مکہ معظمہ میں خشوع خضوع کے ساتھ داخل ہوئے فتح مکہ کے بعد ام ھانی کے گھر میں آٹھ رکعات نماز پڑھی یہ چاشت کا وقت تھا، مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ بعض علماء نے اس کو صلاۃ الضحیٰ اور بعض حضرات نے صلاۃ الفتح سے تعبیر کیا ہے جب امیر لشکر کسی شہر کو فتح کرلے تو اس کے لیے مستحب ہے کہ اول مرتبہ جب داخل ہو تو آٹھ رکعت نفل پڑھے حضرت سعدبن ابی وقاص (رض) نے جب فارس فتح کیا اور ایوان کسریٰ میں داخل ہوئے تو انہوں نے بھی آٹھ رکعت نماز پڑھی۔ (ابن کثیرص ٩٩ ج ١)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

117 ۔ یہ پہلا عذاب ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تو میدان تیہ ہی میں وفات ہوچکی تھی اور حضرت یوشع (علیہ السلام) آپ کے جانشیں ہوچکے۔ ادھر بنی اسرائیل کے وہ بڑے بوڑھے سرکش بھی ختم ہوچکے تھے جنہوں نے جہاد سے انکار کیا تھا۔ اب حضرت یوشع (علیہ السلام) نے نوجوانوں کی نئی پود کو جہادِ عمالقہ پر آمادہ کیا اور ملک شام کو فتح کرلیا اس کے بعد انہیں بیت المقدس کے شہر میں داخل ہونے کا حکم ملا یہاں القریہ سے مراد بیت المقدس کا شہر ہے۔ وھو اختیار قتادۃ والربیع وابی مسلم الاصفہانی۔ انہ بیت المقدس (کبیر ص 534 ج 1)118 ۔ یہاں دنیوی لذائذ سے متمع ہونے کی اباحت فرمائی۔ وَّادْخُلُوا الْبَابَ ۔ الباب سے مراد بیت المقدس کا دروازہ ہے والمراد بھا علی المشہور احد ابواب بیت المقدس وتدعی الان باب حطۃ قالہ ابن عباس (روح ص 265 ج 1) وھو قول الضحاک و مجاھد وقتادۃ کبیر ص 534 ج 1) اور سجود سے مراد اصطلاحی سجدہ نہیں بلکہ محض انحنا اور جھکنا مراد ہے اور بعض نے اسے تواضع اور خضوع پر محمول کیا ہے۔ اور ممکن ہے کہ اس سے مراد اصطلاحی سجدہ ہو یعنی پیشانی کا زمین پر رکھنا۔ قال الحسن اراد بہ نفس السجود الذی ھو الصاق الوجہ بالارض (کبیر ص 534 ج 1) امام رازی (رح) نے اس پر اشکال وارد کیا ہے کہ اگر سجدہ سے مراد اصطلاحی سجدہ ہو تو سجدہ کی حالت میں دروازے سے داخل ہونا ناممکن ہے مگر اشکال صرف اسی صورت میں ہے جبکہ دروازے سے فصیل شہر کا دروازہ مراد ہو لیکن اگر دروازہ سے بیت المقدس کی مسجد کا دروازہ مراد ہو جیسا کہ امام نسفی فرماتے ہیں باب القبلۃ التی کانوا یصلون الیھا (مدارک ص 39 ج 1) اور سجداً حال موکدہ نہ ہو بلکہ حال مقدرہ ہو جیسا کہ یا ایہا النبی انا ارسلناک شاہداً میں علامہ زمخشری نے لکھا ہے (کشاف ص 434 ج 2) تو اس صورت میں اصل عبارت یوں ہوگی وادخلوا باب المسجد مقدرین لکم السجود وقت حصولکم فیہ۔ اور مقصد یہ ہے کہ اس شہر میں کھانے پینے کی چیزیں کثرت اور فراوانی سے موجود ہیں۔ خوب فراخی سے کھاؤ، پیو اور ساتھ بطور شکر نعمت خدا کے گھر میں حاضر ہو کر اس کی عبادت بجا لاؤ۔ حضرت شیخ (رح) اسی معنی کو ترجیح دیتے ہیں۔119 ۔ حِطَّۃٌمبتداء محذوف کی خبر ہے۔ ای مسئلتنا حطۃ (مدارک ص 40 ج 1، کبیر ص 535 ج 1) یعنی ہماری درخواست گناہوں کی معافی ہے۔ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰيٰكُمْ ۔ یہ ادخلوا اور قولو دونوں کا جواب ہے۔ یعنی جب تم میری عبادت بجا لاؤ گے اور مجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو گے تو میں تمہارے تمام گناہ معاف کردوں گا۔ وَسَنَزِيْدُ الْمُحْسِنِيْنَ ۔ محسنین سے مخلصین کاملین مراد ہیں جیسا کہ حدیث جبریل میں احسان کی تفسیر میں سے ان تعبد اللہ کانک تراہ مطلب یہ کہ گناہوں کی معافی تو ان سب کے لیے ہے جو مذکورہ حکم کی تعمیل کرینگے مگر مخلصین کو مزید انعام واکرام سے نوازا جائیگا۔ یا محسنین سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے ماضی میں خدا کی نافرمانی نہیں کی تھی مثلا گوسالہ کی پوجا نہیں کی اور من وسلوی کا ذخیرہ نہیں کیا وغیرہ (قرطبی ص 415 ج 1 ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 اور وہ زمانہ یاد کرو جب اے بنی اسرائیل ہم نے تم کو حکم دیا کہ تم اس بستی میں داخل ہو پھر اس کی چیزیں میں سے بےتکلفی کے ساتھ خوب جی بھر کر اور شکم سیر ہو کر کھائو اور یہ بھی حکم دیا کہ جب اس بستی کے دروزے میں داخل ہونے لگو تو عاجزی کے ساتھ کمر کو جھکائے ہوئے داخل ہونا اور زبان سے حطۃ کہتے جانا یعنی بخشدے ہماری توبہ ہے ایسا کرو گے تو ہم تمہائیں خطائیں معاف کردیں گے اور مزید برآں نیک روش اختیار کرنے والوں کے ساتھ اور بھی سلوک کریں گے۔ جس بستی میں داخل ہنے کا حکم ہوا تھا وہ بیت المقدس یا اس کے قریب اور کوئی بستی تھی اور ہوسکتا ہے کہ وہ اریحا ہو جیسا کہ عبداللہ عباس فرماتے ہیں۔ بہرحال بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب وادی تیہ میں پڑے پڑے گھبرا گئے تو ان کو کسی شہر میں جانے کا حکم ہوا جس کی تفصیل آگے آتی ہے لیکن اس بستی یا شہر میں جاتے وقت یہ ہدایت کی گئی کہ سجدہ کر کے اور شکر کے نفل پڑھ کر داخل ہونا یا تواضع اور عاجزی کرتے ہوئے دروازے میں جانا یا کمر کو جھکائے ہوئے ادب سے داخل ہونا اور زبان سے حطہ کہئے جانا یعنی ہمارے گناہ ہم پر سے گرا دے اور ہماری خطائیں اور کو تا ہیں معاف کر دے۔ اگر تم نے اس حکم کی تعمیل کی تو ہم تمہاری سب خطائیں معاف فرما دیں گے اور نیک لوگوں کو اس کے علاوہ اور زیادہ بھی دیں گے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس جنگل میں پھنسے تھے، اپنی تقصیر سے کہ سورة مائدہ میں بیان ہے۔ پھر ایک کھانے سے تھک گئے۔ تب ایک شہر میں پہنچایا اور حکم کیا کہ دروازے میں سجدہ کر کر جائو اور حطہ کہو یعنی گناہ اترے۔ (موضح القرآن) فائدہ : اگر اس واقعہ کا تعلق بھی وادی تیہ سے ہو جیسا کہ شاہ صاحب نے فرمایا تو یہ اسی واقعہ کا ایک حصہ سمجھا جائے جس کا بیان آگے آتا ہے اور یہ جو فرمایا کہ نیک اور مخلصین کو زیادہ دیں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ثواب اور زیادہ دیا جائیگا۔ (تسہیل)