Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 60

سورة البقرة

وَ اِذِ اسۡتَسۡقٰی مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ فَقُلۡنَا اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡحَجَرَ ؕ فَانۡفَجَرَتۡ مِنۡہُ اثۡنَتَاعَشۡرَۃَ عَیۡنًا ؕ قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَہُمۡ ؕ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ اللّٰہِ وَ لَا تَعۡثَوۡا فِی الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِیۡنَ ﴿۶۰﴾

And [recall] when Moses prayed for water for his people, so We said, "Strike with your staff the stone." And there gushed forth from it twelve springs, and every people knew its watering place. "Eat and drink from the provision of Allah , and do not commit abuse on the earth, spreading corruption."

اور جب موسیٰ ( علیہ السلام ) نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے کہا اپنی لاٹھی پتھر پر مارو ، جس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہر گروہ نے اپنا چشمہ پہچان لیا ، ( اور ہم نے کہہ دیا کہ ) اللہ تعالٰی کا رزق کھاؤ پیو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Twelve Springs gush forth Allah tells; وَإِذِ اسْتَسْقَى مُوسَى لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْناً قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ كُلُواْ وَاشْرَبُواْ مِن رِّزْقِ اللَّهِ ... And (remember) when Musa asked for water for his people, We said: "Strike the stone with your stick." Then gushed forth therefrom twelve springs. Each (group of) people knew its own place for water. "Eat and drink of that which Allah has provided, Allah said, "Remember My favor on you when I answered the supplication of your Prophet, Musa, when he asked Me to provide you with water. I made the water available for you, making it gush out through a stone. Twelve springs burst out of that stone, a designated spring for each of your tribes. You eat from the manna and the quails and drink from the water that I provided for you, without any effort or hardship for you. So worship the One Who did this for you. ... وَلاَ تَعْثَوْاْ فِي الاَرْضِ مُفْسِدِينَ And do not act corruptly, making mischief on the earth, meaning, "Do not return the favor by committing acts of disobedience that cause favors to disappear." Ibn Abbas said that; the Children of Israel, "Had a square stone that Musa was commanded to strike with his staff and, as a result, twelve springs burst out of that stone, three on each side. Each tribe was, therefore, designated a certain spring, and they used to drink from their springs. They never had to travel from their area, they would find the same bounty in the same manner they had in the first area." This narration is part of the long Hadith that An-Nasa'i, Ibn Jarir and Ibn Abi Hatim recorded about the trials. This story is similar to the story in Surah Al-A`raf although the latter was revealed in Makkah. In Surah Al-A`raf, Allah used the third person when He mentioned the Children of Israel to the Prophet and narrated what He favored them with. In this Surah Al-Baqarah, which was revealed in Al-Madinah, Allah directed His Speech at the Children of Israel. Further, Allah said in Surah Al-A`raf, فَانبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا And there gushed forth out of it twelve springs. (7:160), describing what first occurred when the water begins to gush out. In the Ayah in Surah Al-Baqarah, Allah described what happened later on, meaning when the water burst out in full force. Allah knows best.

یہود پر تسلسل احسانات یہ ایک اور نعمت یاد دلائی جا رہی ہے کہ جب تمہارے نبی نے تمہارے لئے پانی طلب کیا تو ہم نے اس پتھر سے چشمے بہا دئیے جو تمہارے ساتھ رہا کرتا تھا اور تمہارے ہر قبیلے کے لئے اس میں سے ایک ایک چشمہ ہم نے جاری کرا دیا جسے ہر قبیلہ نے جان لیا اور ہم نے کہہ دیا کہ من و سلویٰ کھاتے رہو اور ان چشموں کا پانی پیتے رہو بےمحنت کی روزی کھا پی کر ہماری عبادت میں لگے رہو نافرمانی کر کے زمین میں فساد مت پھیلاؤ ورنہ یہ نعمتیں چھن جائیں گی ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یہ ایک چکور پتھر تھا جو ان کے ساتھ ہی تھا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بحکم اللہ اس پر لکڑی ماری چاروں طرف سے تین تین نہریں بہ نکلیں ۔ یہ پتھر بیل کے سر جتنا تھا جو بیل پر لاد دیا جاتا تھا ۔ جہاں اترتے رکھ دیتے اور عصا کی ضرب لگتے ہی اس میں سے نہریں بہ نکلیں ۔ جب کوچ کرتے اٹھا لیتے نہریں بند ہو جاتیں اور پتھر کو ساتھ رکھ لیتے ۔ یہ پتھر طور پہاڑ کا تھا ایک ہاتھ لمبا اور ایک ہاتھ چوڑا تھا بعض کہتے ہیں یہ جنتی پتھر تھا دس دس ہاتھ لمبا چوڑا تھا دو شاخیں تھیں جو چمکتی رہتی تھیں ۔ ایک اور قول میں ہے کہ یہ پتھر حضرت آدم کے ساتھ جنت سے آیا تھا اور یونہی ہاتھوں ہاتھ پہنچتا ہوا حضرت شعیب کو ملا تھا انہوں نے لکڑی اور پتھر دونوں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دئے تھے بعض کہتے ہیں یہ وہی پتھر ہے جس پر حضرت موسیٰ اپنے کپڑے رکھ کر نہا رہے تھے اور بحکم الٰہی یہ پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگا تھا اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت جبرائیل کے مشورے سے اٹھا لیا تھا جس سے آپ کا معجزہ ظاہر ہوا ۔ زمحشری کہتے ہیں کہ حجر پر الف لام جس کے لئے ہے عہد کے لئے نہیں یعنی اسی ایک پتھر پر عصا مارو یہ نہیں کہ فلاں پتھر ہی پر مارو حضرت حسن سے بھی یہی مروی ہے اور یہی معجزے کا کمال اور قدرت کا پورا اظہار ہے آپ کی لکڑی لگتے ہی وہ بہنے لگتا اور پھر دوسری لکڑی لگتے ہی خشک ہو جاتا بنی اسرائیل آپس میں کہنے لگے کہ اگر یہ پتھر گم ہو گیا تو ہم پیاسے مرنے لگیں گے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم لکڑی نہ مارو صرف زبانی کہو تاکہ انہیں یقین آ جائے واللہ اعلم ۔ ہر ایک قبیلہ اپنی اپنی نہر کو اس طرح جان لیتا کہ ہر قبیلہ کا ایک ایک آدمی پتھر کے پاس کھڑا رہ جاتا اور لکڑی لگتے ہی وہ بہنے لگتا اور پھر دوسری لکڑی لگتے ہی خشک ہو جاتا بنی اسرائیل آپس میں کہنے لگے کہ اگر یہ پتھر گم ہو گیا تو ہم پیاسے مرنے لگیں گے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم لکڑی نہ مارو صرف زبانی کہو تاکہ انہیں یقین آ جائے واللہ اعلم ۔ ہر ایک قبیلہ اپنی اپنی نہر کو اس طرح جان لیتا کہ ہر قبیلہ کا ایک ایک آدمی پتھر کے پاس کھڑا رہ جاتا اور لکڑی لگتے ہی اس میں سے چشمے جاری ہو جاتے جس شخص کی طرف جو چشمہ جاتا وہ اپنے قبیلے کو بلا کر کہہ دیتا کہ یہ چشمہ تمہارا ہے یہ واقعہ میدان تیہہ کا ہے سورۃ اعراف میں بھی اس واقعہ کا بیان ہے لیکن چونکہ وہ سورت مکی ہے اس لئے وہاں ان کا بیان غائب کی ضمیر سے کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو احسانات ان پر نازل فرمائے تھے وہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرائے ہیں اور یہ سورت مدنی ہے اس لئے یہاں خود انہیں خطاب کیا گیا ہے ۔ سورۃ اعراف میں فانبجست کہا اور یہاں فانفجرت کہا اس لئے کہ وہاں اول اول جاری ہونے کے معنی میں ہے اور یہاں آخری حال کا بیان ہے واللہ اعلم ۔ اور ان دونوں جگہ کے بیان میں دس وجہ سے فرق ہے جو فرق لفظی بھی ہے اور معنوی بھی زمخشری نے اپنے طور پر ان سب وجوہ کو بیان کیا ہے اور حقیقت اس میں قریب ہے واللہ اعلم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

(1) یہ واقعہ بعض کے نزدیک تیہ کا اور بعض کے نزدیک صحرائے سینا کا ہے وہاں پانی کی طلب ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اپنی لاٹھی پتھر پر مار۔ چناچہ پتھر سے بارہ چشمے جاری ہوگئے قبیلے بھی بارہ تھے۔ ہر قبیلہ اپنے اپنے چشمے سے سیراب ہوتا۔ یہ بھی ایک معجزہ تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٦] بارہ چشموں کا پھوٹنا :۔ یہ واقعہ بھی اسی وادی سینا میں پیش آیا۔ سایہ اور غذا کے علاوہ انہیں پانی کی بھی شدید ضرورت تھی اور وہاں دور تک کہیں پانی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پانی کی شکایت کی تو موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے پانی کے لیے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک چٹان سے اتنی کثیر اور وافر مقدار میں پانی نکالا جو اس لاکھوں کے لشکر کی روزانہ ضروریات کے لیے کافی ہوتا تھا۔ یہ قوم بارہ قبیلوں میں منقسم تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس چٹان میں ١٢ ہی چشمے رواں کردیے۔ کوئی شگاف بڑا تھا، کوئی چھوٹا اور یہی صورت ان بارہ قبیلوں کے افراد کی تعداد کی تھی۔ پانی کی اس طرح تقسیم سے ان میں پانی پر باہمی جھگڑے کے امکانات ختم ہوگئے۔ یہ چٹان اب بھی جزیرہ نمائے سینا میں موجود ہے۔ جسے سیاح جا کر دیکھتے ہیں اور چشموں کے شگافوں کے نشان اب بھی اس میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ [٧٧] یعنی یہ خداداد مفت کی نعمتیں جو تمہیں مہیا ہیں۔ ایک دوسرے سے چھین کر یا چرا کر خواہ مخواہ فتنہ اور جھگڑے کے مواقع پیدا نہ کرتے رہنا۔ فساد فی الارض کیا ہے ؟ فساد فی الارض کی مذمت تو سبھی کرتے ہیں، مگر فساد فی الارض ہے کیا چیز ؟ اس بات کی تعیین میں ہر شخص کے نقطہ نظر کے مطابق اختلاف واقع ہوجاتا ہے۔ عموماً فساد فی الارض کا مطلب چوری، ڈاکہ، لوٹ مار، قتل و غارت اور ایک دوسرے کے حقوق کو غصب کرنا ہی سمجھا جاتا ہے۔ اور یہ فساد فی الارض کا صرف ایک پہلو ہے۔ مدینہ کے مسلمانوں نے منافقوں سے کہا کہ زمین میں فساد نہ کرو، تو وہ کہنے لگے کہ ہم مفسد کب ہیں ؟ بلکہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ (٢ : ١١) موسیٰ (علیہ السلام) فرعون، قارون اور ہامان کو مفسد قرار دیتے تھے تو فرعون اور اس کے درباری سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کو فسادی قرار دیتے تھے۔ فرعون کے درباریوں نے فرعون سے کہا کہ کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ وہ زمین میں فساد مچاتے پھریں اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں ؟ && تو اس فرعون نے اس قسم کے فساد فی الارض کی اصلاح کا طریقہ سوچ کر کہا کہ && ہم لوگ ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھیں گے اور ہم ان لوگوں پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔ && (٧ : ١٢٧) ان آیات سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کے نقطہ نظر کے مطابق فساد فی الارض اور اصلاح دونوں کا مفہوم بدل جاتا ہے۔ اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ فساد فی الارض حقیقتاً ہے کیا چیز ؟ اس سوال کا جواب بالکل آسان ہے اور وہ یہ ہے کہ حکومت اور اس کے نظام امن میں خلل ڈالنے والا مفسد یا فسادی ہوتا ہے۔ فرعون کو چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم سے بغاوت کا خطرہ تھا۔ لہذا اس نے انہیں مفسد قرار دے دیا اور شرعی نقطہ نظر سے حاکم مطلق اور مقتدر اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لحاظ سے جو شخص بھی اللہ کے اور بندوں کے آپس میں باہمی حقوق پر ڈاکہ ڈالے گا۔ وہ فساد فی الارض کا مجرم ہوگا اور اسی لحاظ سے اللہ کے ساتھ شرک کرنا فساد فی الارض کی سب سے بڑی قسم قرار پاتا ہے اور اللہ کے دین کے خلاف معاندانہ سرگرمیاں یا خفیہ مشورے کرنا یا بغاوت کرنا بھی اتنا ہی شدید جرم ہے جتنا ڈاکہ ڈالنا یا چوری و زنا کرنا۔ اس فرق کو ہم یوں بھی واضح کرسکتے ہیں کہ شرک اور زنا بالرضا ایک دنیا دار معاشرہ میں جرم نہیں سمجھا جاتا۔ جب کہ شرعی نقطہ نظر سے یہی باتیں فساد فی الارض میں سرفہرست شمار ہوتی ہیں۔ نیز ایک دین بیزار حکومت کے خلاف جہاد کرنا اس حکومت کے نظریہ کے مطابق بغاوت اور بہت بڑا جرم ہے۔ جبکہ شرعی نقطہ نظر سے یہ فساد فی الارض کے خاتمہ کا آغاز ہوتا ہے۔ اس وضاحت سے آپ قرآن میں مختلف مقامات پر مذکور فساد فی الارض کا مفہوم آسانی سے سمجھ سکیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(الْحَجَرَ ) کا ترجمہ ” اس پتھر پر “ اس لیے کیا ہے کہ ” الف لام عہد “ کا ہے ” الف لام “ جنس کا مانیں تو کوئی بھی پتھر مراد ہوسکتا ہے۔ تفہیم القرآن میں ہے : ” وہ چٹان اب تک جزیرہ نمائے سینا میں موجود ہے، سیاح اسے جا کر دیکھتے ہیں اور چشموں کے شگاف اس میں اب بھی پائے جاتے ہیں۔ بارہ چشموں میں یہ مصلحت تھی کہ بنی اسرائیلی قبیلے بھی بارہ ہی تھے، اللہ تعالیٰ نے ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ نکال دیا، تاکہ ان کے درمیان پانی پر جھگڑا نہ ہو۔ “ مگر ہزاروں سال کے بعد یہ بات یقین کے ساتھ کس طرح کہی جاسکتی ہے کہ یہ وہی چٹان ہے اور بعد میں نہیں بنی، جب کہ اس کی کوئی سند بھی نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

This incident too belongs to the story of the wanderings of the Israelites in the wilderness. Parched with thirst, they requested Sayyidna Musa (رح) ، 1t to pray to Allah for water. Allah commanded him to strike a certain rock with his staff. As he did so, twelve streams gushed forth out of the rock, one for each of the twelve tribes. Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) (Jacob) had twelve sons, and each had a large family of his own. So, the families were considered as tribes, each with its own administrative organisation and its own head. Hence, the number twelve ]. What they have been asked to eat is the Mann مَن and the Salwa سلوا (manna and quails), and the water is, of course, the one which had come out of the rock. The Israelites have, in this verse, been asked not to spread disorder which in this context signifies disobedience to Allah and transgression of His Commandments. The great Commentator al-Qadi al-Baydawi (رح) points out that it is a great error22 to deny miracles. When Allah has given a certain stone the unusual property of drawing iron to itself, it cannot be, logically and rationally speaking, impossible that He should also give another stone the property of absorbing water from the earth and of releasing it again. Even this explanation is meant for those who take a superficial view of things. Otherwise, it is in no way impossible that Allah should produce water within a stone itself. Those who call it impossible do not actually understand the technical meaning of the term |"impossible.|" 22. Even a great error in logic. An answer to a doubt about the Israelites It has been asked whether it is necessary, in times of drought, to offer formal prayers in order to beseech Allah for rains. The present verse tells us that Sayyidna Musa (علیہ السلام) just prayed for water, and Allah made a miraculous provision. It shows that the essential thing in beseeching Allah for rains is just a prayer. In the Shari&ah of Sayyidna Musa (علیہ السلام) a mere prayer was considered to be sufficient for the purpose. According to Imam Abu Hanifah (رح) ، this principle holds good for the Islamic Shari` ah too. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has, in this respect, acted differently on different occasions. An authentic hadith reports that once he went outside the city to the open space where the congregational prayers were held on the day of the ` Id عید ، offered formal prayers, delivered a Khutbah خطبہ (address), and then prayed to Allah for rains. According to another hadith reported by Al-Bukhari and Muslim from the blessed Companion Anas (رض) ، once the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) prayed for rains while delivering the Khutbah on Friday, and Allah sent down rains. No matter what form the prayer takes, all the scholars agree that it cannot be effective unless it is accompanied by a repentance for one&s sins, a confession of one&s powerlessness, a sincere expression of humility and an affirmation of servitude to Allah. So long as one persists in sin and transgression, one has no right to hope that the prayer would be answered. But if Allah may, in His mercy and benevolence, grant the prayer without this condition being fulfilled, it is His will, and He is All-Powerful.

خلاصہ تفسیر : اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) نے پانی کی دعا مانگی اپنی قوم کے واسطے، اس پر ہم نے (موسیٰ (علیہ السلام) کو) حکم دیا کہ اپنے اس عصا کو فلاں پتھر پر مارو (اس سے پانی نکل آوے گا) بس (عصا پتھر پر مارنے کی دیر تھی) فورا اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے (اور بنی اسرائیل کے بھی بارہ ہی خاندان تھے چنانچہ) ہر ہر شخص نے اپنے پانی پینے کا موقع معلوم کرلیا اور ہم نے یہ نصیحت کی کہ کھانے کو) کھاؤ اور (پینے کو) پیو اللہ تعالیٰ کے رزق سے اور حد (اعتدال) سے مت نکلو فساد (وفتنہ) کرتے ہوئے سر زمین میں۔ فائدہ : یہ قصہ بھی وادی تیہ میں ہوا وہاں پیاس لگی تو پانی مانگا موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو ایک خاص پتھر کو صرف عصا مارنے سے قدرت خداوندی سے بارہ چشمے نکل پڑے اور ان کے بارہ خاندان اس طرح تھے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ فرزند تھے ہر ایک کی اولاد کا ایک ایک خاندان تھا ان کو انتظامی معاملات میں الگ الگ ہی رکھا جاتا تھا سب کے افسر بھی جدا جدا تھے اس لئے چشمے بھی بارہ ہی نکلے، کھانے سے مراد من وسلویٰ اور پینے سے مراد یہی پانی تھا اور نافرمانی اور ترک احکام کو فتنہ و فساد سے تعبیر فرمایا، قاضی بیضاوی فرماتے ہیں کہ ایسے خوارق (اور معجزات) کا انکار بہت بڑی غلطی ہے جب بعض پتھروں میں اللہ تعالیٰ نے بعید ازقیاس اور خلاف عقل یہ تاثیر رکھی ہے کہ لوہے کو جذب کرتا ہے تو اس پتھر میں اگر یہ تاثیر پیدا کردی ہو کہ اجزاء زمین سے پانی کو جذب کرلے اور اس سے پانی نکلنے لگے تو کیا محال ہے، ہمارے زمانے کے عقلاء کو اس بیان سے سبق حاصل کرنا اور فائدہ اٹھانا چاہئے اور پھر یہ نظیر بھی محض سطحی نظر والوں کے لئے ہے ورنہ خود اگر اس پتھر کے اجزاء ہی میں پانی پیدا ہوجائے تو بھی کون سا محال لازم آتا ہے جو حضرات ایسے امور کو محال کہتے ہیں تو واللہ وہ اب تک محال کی حقیقت ہی کو نہیں سمجھے، معارف و مسائل : آیت مذکورہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لئے استسقاء کی دعاء فرمائی اللہ تعالیٰ نے پانی کا سامان کردیا کہ پتھر پر لاٹھی مارنے سے چشمے ابل پڑے اس سے معلوم ہوا کہ استسقاء کی اصل دعا ہی ہے شریعت موسویہ میں بھی صرف دعا پر اکتفاء کیا گیا جیسا کہ امام اعظم ابوحنیفہ کا ارشاد ہے کہ استسقاء کی اصل پانی کے لئے دعا کرنا ہے یہ دعا کبھی خاص نماز استسقاء کی صورت میں لی گئی ہے جیسا کہ حدیث صحیح میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نماز استسقاء کے لئے عیدگاہ کے میدان میں تشریف لے جانا اور نماز اور خطبہ اور دعا کرنا منقول ہے اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ بغیر کسی خاص نماز کے صرف دعا پر اکتفاء کیا گیا جیسا کہ صحیحین میں حضرت انس کی روایت سے منقول ہے کہ خطبہ جمعہ ہی میں آپ نے دعا فرمائی اللہ تعالیٰ نے بارش نازل فرمادی، اور یہ بات سب کے نزدیک مسلم ہے کہ استسقاء خواہ بصورت نماز کیا جائے یا صرف دعا کی صورت میں اس کے مؤ ثر ہونے کے لئے گناہوں سے توبہ اپنے فقر ومسکنت اور عبودیت کا اظہار ضروری ہے گناہوں پر اصرار اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں پر قائم رہتے ہوئے تاثیر دعا کے انتظار کا کسی کو حق نہیں اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے یوں بھی قبول فرمالیں ان کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رکوع نمبر 7 وَاِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِہٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ۝ ٠ ۭ فَانْفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَيْنًا۝ ٠ ۭ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَھُمْ۝ ٠ ۭ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللہِ وَلَا تَعْثَوْا فِى الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ۝ ٦٠ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ اذا کی مختلف صورتیں ہیں :۔ (1) یہ ظرف زمان ہے۔ ( زجاج، ریاشی) (2) یہ ظرف مکان ہے۔ ( مبرد، سیبوبہ) (3) اکثر و بیشتر اذا شرط ہوتا ہے۔ مفسرین نے تینوں معنوں میں اس کا استعمال کیا ہے۔ (1) ظرف زمان : اور جب تو وہاں ( کی نعمتیں) دیکھے گا۔ تو تجھ کو وہاں بڑی نعمت اور شاہی سازو سامان نظر آئے گا۔ ( تفسیر حقانی) (2) ظرف مکان : اور جدھر بھی تم وہاں دیکھو گے تمہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور وسیع مملکت نظر آئے گی۔ ( تفسیر ضیاء القرآن) (3) اذا شرطیہ۔ اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے توتجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے۔ ( تفسیر ماجدی) اسْتِسْقاءُ والاسْتِسْقاءُ : طلب السّقي، أو الإسقاء، قال تعالی: وَإِذِ اسْتَسْقى مُوسی[ البقرة/ 60] الاستسقاء کے معنی کسی سے پانی طلب کرنے کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے ؟ ۔ وَإِذِ اسْتَسْقى مُوسی[ البقرة/ 60] اور جب موسٰی ( (علیہ السلام) ) نے اپنی قوم کے لئے ( خدا سے ) پانی مانگا ۔ موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ضرب الضَّرْبُ : إيقاعُ شيءٍ علی شيء، ولتصوّر اختلاف الضّرب خولف بين تفاسیرها، كَضَرْبِ الشیءِ بالید، والعصا، والسّيف ونحوها، قال : فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْناقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنانٍ [ الأنفال/ 12] ، فَضَرْبَ الرِّقابِ [ محمد/ 4] ، فَقُلْنا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِها[ البقرة/ 73] ، أَنِ اضْرِبْ بِعَصاكَ الْحَجَرَ [ الأعراف/ 160] ، فَراغَ عَلَيْهِمْ ضَرْباً بِالْيَمِينِ [ الصافات/ 93] ، يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ [ محمد/ 27] ، وضَرْبُ الأرضِ بالمطر، وضَرْبُ الدّراهمِ ، اعتبارا بِضَرْبِ المطرقةِ ، وقیل له : الطّبع، اعتبارا بتأثير السّمة فيه، وبذلک شبّه السّجيّة، وقیل لها : الضَّرِيبَةُ والطَّبِيعَةُ. والضَّرْبُ في الأَرْضِ : الذّهاب فيها وضَرْبُهَا بالأرجلِ. قال تعالی: وَإِذا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ [ النساء/ 101] ، وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ إِذا ضَرَبُوا فِي الْأَرْضِ [ آل عمران/ 156] ، وقال : لا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْباً فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 273] ، ومنه : فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِي الْبَحْرِ [ طه/ 77] ، وضَرَبَ الفحلُ الناقةَ تشبيها بالضَّرْبِ بالمطرقة، کقولک : طَرَقَهَا، تشبيها بالطّرق بالمطرقة، وضَرَبَ الخیمةَ بضرب أوتادها بالمطرقة، وتشبيها بالخیمة قال : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ [ آل عمران/ 112] ، أي : التحفتهم الذّلّة التحاف الخیمة بمن ضُرِبَتْ عليه، وعلی هذا : وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ [ آل عمران/ 112] ، ومنه استعیر : فَضَرَبْنا عَلَى آذانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَداً [ الكهف/ 11] ، وقوله : فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ [ الحدید/ 13] ، وضَرْبُ العودِ ، والناي، والبوق يكون بالأنفاس، وضَرْبُ اللَّبِنِ بعضِهِ علی بعض بالخلط، وضَرْبُ المَثلِ هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ، وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا [ الزخرف/ 57] ، ما ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا[ الزخرف/ 58] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلَ الْحَياةِ الدُّنْيا [ الكهف/ 45] ، أَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحاً [ الزخرف/ 5] . والمُضَارَبَةُ : ضَرْبٌ من الشَّرِكَةِ. والمُضَرَّبَةُ : ما أُكْثِرَ ضربُهُ بالخیاطة . والتَّضْرِيبُ : التّحریضُ ، كأنه حثّ علی الضَّرْبِ الذي هو بعد في الأرض، والاضْطِرَابُ : كثرةُ الذّهاب في الجهات من الضّرب في الأرض، واسْتِضَرابُ الناقةِ : استدعاء ضرب الفحل إيّاها . ( ض ر ب ) الضرب کے معنی ایک چیز کو دوسری چیز پر واقع کرنا یعنی مارنا کے ہیں اور مختلف اعتبارات سے یہ لفظ بہت سے معانی میں استعمال ہوتا ہے (1) ہاتھ لاٹھی تلوار وغیرہ سے مارنا ۔ قرآن میں ہے : فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْناقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنانٍ [ الأنفال/ 12] ان کے سر مارکراڑا دو اور ان کا پور پور مارکر توڑدو ۔ فَضَرْبَ الرِّقابِ [ محمد/ 4] تو انکی گردنین اڑا دو ۔ فَقُلْنا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِها[ البقرة/ 73] تو ہم نے کہا کہ اس بیل کا سا ٹکڑا مقتول کو مارو أَنِ اضْرِبْ بِعَصاكَ الْحَجَرَ [ الأعراف/ 160] اپنی لاٹھی پتھر پر مارو ۔ فَراغَ عَلَيْهِمْ ضَرْباً بِالْيَمِينِ [ الصافات/ 93] پھر ان کو داہنے ہاتھ سے مارنا اور توڑنا شروع کیا ۔ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ [ محمد/ 27] ان کے مونہوں ۔۔۔۔ پر مارتے ہیں ۔ اور ضرب الارض بالمطر کے معنی بارش پر سنے کے ہیں ۔ اور ضرب الدراھم ( دراہم کو ڈھالنا ) کا محاورہ الضرب بالمطرقۃ کی مناسبت سے استعمال ہوتا ہے ۔ اور نکسال کے سکہ میں اثر کرنے کے مناسبت سے طبع الدرھم کہاجاتا ہے اور تشبیہ کے طور پر انسان کی عادت کو ضریبۃ اور طبیعۃ بھی کہہ دیتے ہیں ۔ ضرب فی الارض کے معنی سفر کرنے کے ہیں ۔ کیونکہ انسان پیدل چلتے وقت زمین پر پاؤں رکھتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَإِذا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ [ النساء/ 101] اور جب سفر کو جاؤ ۔ وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ إِذا ضَرَبُوا فِي الْأَرْضِ [ آل عمران/ 156] اور ان کے مسلمان بھائی جب خدا کی راہ میں سفر کریں ۔۔۔۔ تو ان کی نسبت کہتے ہیں ۔ لا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْباً فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 273] اور ملک میں کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ اور یہی معنی آیت : فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِي الْبَحْرِ [ طه/ 77] کے ہیں یعنی انہیں سمندر میں ( خشک راستے سے لے جاؤ ۔ ضرب الفحل ناقۃ ( نرکا مادہ سے جفتی کرنا ) یہ محاورہ ضرب بالمطرقۃ ( ہتھوڑے سے کوٹنا) کی مناسبت سے طرق الفحل الناقۃ کا محاورہ بولا جاتا ہے ۔ ضرب الخیمۃ خیمہ لگانا کیونکہ خیمہ لگانے کیلئے میخوں کو زمین میں ہتھوڑے سے ٹھونکاجاتا ہے اور خیمہ کی مناسبت سے آیت : ۔ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ [ آل عمران/ 112] اور آخر کار ذلت ۔۔۔۔۔۔ ان سے چمٹا دی گئی۔ میں ذلۃ کے متعلق ضرب کا لفظاستعمال ہوا ہے جس کے معنی کہ ذلت نے انہیں اس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا جیسا کہ کیس شخص پر خیمہ لگا ہوا ہوتا ہے اور یہی معنی آیت : ۔ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ [ آل عمران/ 112] اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے ۔ کے ہیں اور آیت : ۔ فَضَرَبْنا عَلَى آذانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَداً [ الكهف/ 11] تو ہم نے غارکئی سال تک ان کے کانوں پر نیند کا پردہ ڈالے ( یعنی ان کو سلائے ) رکھا ۔ نیز آیت کر یمہ : ۔ فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ [ الحدید/ 13] پھر ان کے بیچ میں ایک دیوار کھڑی کردی جائیگی ۔ میں ضرب کا لفظ ضرب الخیمۃ کے محاورہ سے مستعار ہے ۔ ضرب العود والنای والبوق عود اور نے بجان یا نر سنگھے میں پھونکنا ۔ ضرب اللبن : اینٹیں چننا، ایک اینٹ کو دوسری پر لگانا ضرب المثل کا محاورہ ضرب الدراھم ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں : کسی بات کو اس طرح بیان کرنا کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] خدا ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] اور ان سے ۔۔۔۔۔۔۔ قصہ بیان کرو ۔ ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] اور ہم نے ۔۔۔۔۔۔۔ ہر طرح مثال بیان کردی ہے ۔ وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا[ الزخرف/ 57] اور جب مریم (علیہ السلام) کے بیٹے ( عیسٰی کا حال بیان کیا گیا ۔ ما ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا[ الزخرف/ 58] انہوں نے عیسٰی کی جو مثال بیان کی ہے تو صرف جھگڑنے کو وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلَ الْحَياةِ الدُّنْيا[ الكهف/ 45] اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو ۔ أَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحاً [ الزخرف/ 5] بھلا ( اس لئے کہ تم حد سے نکلے ہوے لوگ ہو ) ہم تم کو نصیحت کرنے سے باز رہیں گے ۔ المضاربۃ ایک قسم کی تجارتی شرکت ( جس میں ایک شخص کا سرمایہ اور دوسرے کی محنت ہوتی ہے اور نفع میں دونوں شریک ہوتے ہیں ) المضربۃ ( دلائی رضائی ) جس پر بہت سی سلائی کی گئی ہو ۔ التضریب اکسانا گویا اسے زمین میں سفر کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ الا ضطراب کثرت سے آنا جانا حرکت کرنا یہ معنی ضرب الارض سے ماخوذ ہیں ۔ استضرب الناقۃ سانڈھے نے ناقہ پر جفتی کھانے کی خواہش کی ۔ عصا العَصَا أصله من الواو، لقولهم في تثنیته : عَصَوَانِ ، ويقال في جمعه : عِصِيٌّ. وعَصَوْتُهُ : ضربته بالعَصَا، وعَصَيْتُ بالسّيف . قال تعالی: وَأَلْقِ عَصاكَ [ النمل/ 10] ، فَأَلْقى عَصاهُ [ الأعراف/ 107] ، قالَ هِيَ عَصايَ [ طه/ 18] ، فَأَلْقَوْا حِبالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ [ الشعراء/ 44] . ويقال : ألقی فلانٌ عَصَاهُ : إذا نزل، تصوّرا بحال من عاد من سفره، قال الشاعر : فألقت عَصَاهَا واستقرّت بها النّوى وعَصَى عِصْيَاناً : إذا خرج عن الطاعة، وأصله أن يتمنّع بِعَصَاهُ. قال تعالی: وَعَصى آدَمُ رَبَّهُ [ طه/ 121] ، وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ النساء/ 14] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُيونس/ 91] . ويقال فيمن فارق الجماعة : فلان شقّ العَصَا ( ع ص ی ) العصا : ( لاٹھی ) یہ اصل میں ناقص وادی ہے کیونکہ اس کا تثنیہ عصوان جمع عصی آتی عصوتہ میں نے اسے لاٹھی سے مارا عصیت بالسیف تلوار کو لاٹھی کی طرح دونوں ہاتھ سے پکڑ کت مارا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَلْقِ عَصاكَ [ النمل/ 10] اپنی لاٹھی دال دو ۔ فَأَلْقى عَصاهُ [ الأعراف/ 107] موسٰی نے اپنی لاٹھی ( زمین پر ) ڈال دی ۔ قالَ هِيَ عَصايَ [ طه/ 18] انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے ۔ فَأَلْقَوْا حِبالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ [ الشعراء/ 44] تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔ القی فلان عصاہ کسی جگہ پڑاؤ ڈالنا کیونکہ جو شخص سفر سے واپس آتا ہے وہ اپنی لاٹھی ڈال دیتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 313 ) والقت عصاھا واستقربھا النوی ( فراق نے اپنی لاٹھی ڈال دی اور جم کر بیٹھ گیا ) عصی عصیانا کے معنی اطاعت سے نکل جانے کے ہیں دراصل اس کے معنی ہیں اس نے لاٹھی ( عصا ) سے اپنا بچاؤ کیا ۔ قرآن میں ہے : وَعَصى آدَمُ رَبَّهُ [ طه/ 121] اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم کے خلاف کیا تو ( وہ اپنے مطلوب سے ) بےراہ ہوگئے ۔ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ النساء/ 14] اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا ۔ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ( جواب ملا کہ ) اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ۔ اور اس شخص کے متعلق جو جماعت سے علیدہ گی اختیار کر سے کہا جاتا ہے فلان شق لعصا ۔ حجر الحَجَر : الجوهر الصلب المعروف، وجمعه : أحجار وحِجَارَة، وقوله تعالی: وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجارَةُ [ البقرة/ 24] ( ح ج ر ) الحجر سخت پتھر کو کہتے ہیں اس کی جمع احجار وحجارۃ آتی ہے اور آیت کریمہ : وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجارَةُ [ البقرة/ 24] جس کا اندھن آدمی اور پتھر ہوں گے ۔ فجر الْفَجْرُ : شقّ الشیء شقّا واسعا كَفَجَرَ الإنسان السّكرَيقال : فَجَرْتُهُ فَانْفَجَرَ وفَجَّرْتُهُ فَتَفَجَّرَ. قال تعالی: وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] ، وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] ، فَتُفَجِّرَ الْأَنْهارَ [ الإسراء/ 91] ، تَفْجُرَ لَنا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعاً [ الإسراء/ 90] ، وقرئ تفجر . وقال : فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتا عَشْرَةَ عَيْناً [ البقرة/ 60] ، ومنه قيل للصّبح : فَجْرٌ ، لکونه فجر اللیل . قال تعالی: وَالْفَجْرِ وَلَيالٍ عَشْرٍ [ الفجر/ 1- 2] ، إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كانَ مَشْهُوداً [ الإسراء/ 78] ، وقیل : الفَجْرُ فجران : الکاذب، وهو كذَنَبِ السَّرْحان، والصّادق، وبه يتعلّق حکم الصّوم والصّلاة، قال : حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيامَ إِلَى اللَّيْلِ [ البقرة/ 187] . ( ف ج ر ) الفجر کے معنی کسی چیز کو وسیع طور پر پھا ڑ نے اور شق کردینے کے ہیں جیسے محاورہ ہے فجر الانسان السکری اس نے بند میں وسیع شکاف ڈال دیا فجرتہ فانفجرتہ فتفجر شدت کے ساتھ پانی کو پھاڑ کر بہایا قرآن میں ہے : ۔ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] اور زمین میں چشمے جاری کردیئے ۔ وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی اور اس کے بیچ میں نہریں بہا نکالو ۔ تَفْجُرَ لَنا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعاً [ الإسراء/ 90] جب تک کہ ہمارے لئے زمین میں سے چشمے جاری ( نہ) کردو ۔ اور ایک قرآت میں تفجر ( بصیغہ تفعیل ) ہے ۔ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتا عَشْرَةَ عَيْناً [ البقرة/ 60] تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ۔ اور اسی سے صبح کو فجر کہا جاتا ہے کیونکہ صبح کی روشنی بھی رات کی تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَالْفَجْرِ وَلَيالٍ عَشْرٍ [ الفجر/ 1- 2] فجر کی قسم اور دس راتوں کی ۔ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كانَ مَشْهُوداً [ الإسراء/ 78] کیونکہ صبح کے وقت قرآن پڑھنا موجب حضور ( ملائکہ ) ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ فجر دو قسم پر ہے ایک فجر کا ذب جو بھیڑیئے کی دم کی طرح ( سیدھی روشنی سی نمودار ہوتی ہے دوم فجر صادق جس کے ساتھ نماز روزہ وغیرہ احکام تعلق رکھتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيامَ إِلَى اللَّيْلِ [ البقرة/ 187] یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری رات کی ) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے پھر روزہ ( رکھ کر ) رات تک پورا کرو عين ويقال لذي العَيْنِ : عَيْنٌ وللمراعي للشیء عَيْنٌ ، وفلان بِعَيْنِي، أي : أحفظه وأراعيه، کقولک : هو بمرأى منّي ومسمع، قال : فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنا[ الطور/ 48] ، وقال : تَجْرِي بِأَعْيُنِنا[ القمر/ 14] ، وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنا[هود/ 37] ، أي : بحیث نریونحفظ . وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] ، أي : بکلاء تي وحفظي . ومنه : عَيْنُ اللہ عليك أي : كنت في حفظ اللہ ورعایته، وقیل : جعل ذلک حفظته وجنوده الذین يحفظونه، وجمعه : أَعْيُنٌ وعُيُونٌ. قال تعالی: وَلا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ [هود/ 31] ، رَبَّنا هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ [ الفرقان/ 74] . ويستعار الْعَيْنُ لمعان هي موجودة في الجارحة بنظرات مختلفة، واستعیر للثّقب في المزادة تشبيها بها في الهيئة، وفي سيلان الماء منها فاشتقّ منها : سقاء عَيِّنٌ ومُتَعَيِّنٌ: إذا سال منها الماء، وقولهم : عَيِّنْ قربتک «1» ، أي : صبّ فيها ما ينسدّ بسیلانه آثار خرزه، وقیل للمتجسّس : عَيْنٌ تشبيها بها في نظرها، وذلک کما تسمّى المرأة فرجا، والمرکوب ظهرا، فيقال : فلان يملك كذا فرجا وکذا ظهرا لمّا کان المقصود منهما العضوین، وقیل للذّهب : عَيْنٌ تشبيها بها في كونها أفضل الجواهر، كما أنّ هذه الجارحة أفضل الجوارح ومنه قيل : أَعْيَانُ القوم لأفاضلهم، وأَعْيَانُ الإخوة : لنبي أب وأمّ ، قال بعضهم : الْعَيْنُ إذا استعمل في معنی ذات الشیء فيقال : كلّ ماله عَيْنٌ ، فکاستعمال الرّقبة في المماليك، وتسمية النّساء بالفرج من حيث إنه هو المقصود منهنّ ، ويقال لمنبع الماء : عَيْنٌ تشبيها بها لما فيها من الماء، ومن عَيْنِ الماء اشتقّ : ماء مَعِينٌ. أي : ظاهر للعیون، وعَيِّنٌ أي : سائل . قال تعالی: عَيْناً فِيها تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا[ الإنسان/ 18] ، وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] ، فِيهِما عَيْنانِ تَجْرِيانِ [ الرحمن/ 50] ، يْنانِ نَضَّاخَتانِ [ الرحمن/ 66] ، وَأَسَلْنا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ [ سبأ/ 12] ، فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الحجر/ 45] ، مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الشعراء/ 57] ، وجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ [ الدخان/ 25- 26] . وعِنْتُ الرّجل : أصبت عَيْنَهُ ، نحو : رأسته وفأدته، وعِنْتُهُ : أصبته بعیني نحو سفته : أصبته بسیفي، وذلک أنه يجعل تارة من الجارحة المضروبة نحو : رأسته وفأدته، وتارة من الجارحة التي هي آلة في الضّرب فيجري مجری سفته ورمحته، وعلی نحوه في المعنيين قولهم : يديت، فإنه يقال : إذا أصبت يده، وإذا أصبته بيدك، وتقول : عِنْتُ البئر أثرت عَيْنَ مائها، قال :إِلى رَبْوَةٍ ذاتِ قَرارٍ وَمَعِينٍ [ المؤمنون/ 50] ، فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِماءٍ مَعِينٍ [ الملک/ 30] . وقیل : المیم فيه أصليّة، وإنما هو من : معنت «2» . وتستعار العَيْنُ للمیل في المیزان ويقال لبقر الوحش : أَعْيَنُ وعَيْنَاءُ لحسن عينه، وجمعها : عِينٌ ، وبها شبّه النّساء . قال تعالی: قاصِراتُ الطَّرْفِ عِينٌ [ الصافات/ 48] ، وَحُورٌ عِينٌ [ الواقعة/ 22] . ( ع ی ن ) العین اور عین کے معنی شخص اور کسی چیز کا محافظ کے بھی آتے ہیں اور فلان بعینی کے معنی ہیں ۔ فلاں میری حفاظت اور نگہبانی میں ہے جیسا کہ ھو بمر ا ئ منی ومسمع کا محاورہ ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنا[ الطور/ 48] تم تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہو ۔ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی ۔ وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] اور اس لئے کہ تم میرے سامنے پر دریش پاؤ ۔ اور اسی سے عین اللہ علیک ہے جس کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت اور نگہداشت فرمائے یا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے نگہبان فرشتے مقرر کرے جو تمہاری حفاظت کریں اور اعین وعیون دونوں عین کی جمع ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَلا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ [هود/ 31] ، اور نہ ان کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ ۔ رَبَّنا هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ [ الفرقان/ 74] اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے آ نکھ کی ٹھنڈک عطا فرما ۔ اور استعارہ کے طور پر عین کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جو مختلف اعتبارات سے آنکھ میں پائے جاتے ہیں ۔ مشکیزہ کے سوراخ کو عین کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ہیئت اور اس سے پانی بہنے کے اعتبار سے آنکھ کے مشابہ ہوتا ہے ۔ پھر اس سے اشتقاق کے ساتھ کہا جاتا ہے ۔ سقاء عین ومعین پانی کی مشک جس سے پانی ٹپکتا ہو عین قر بتک اپنی نئی مشک میں پانی ڈالواتا کہ تر ہو کر اس میں سلائی کے سوراخ بھر جائیں ، جاسوس کو عین کہا جاتا ہے کیونکہ وہ دشمن پر آنکھ لگائے رہتا ہے جس طرح کو عورت کو فرج اور سواری کو ظھر کہا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں سے مقصود یہی دو چیزیں ہوتی ہیں چناچنہ محاورہ ہے فلان یملک کذا فرجا وکذا ظھرا ( فلاں کے پاس اس قدر لونڈ یاں اور اتنی سواریاں ہیں ۔ (3) عین بمعنی سونا بھی آتا ہے کیونکہ جو جواہر میں افضل سمجھا جاتا ہے جیسا کہ اعضاء میں آنکھ سب سے افضل ہوتی ہے اور ماں باپ دونوں کی طرف سے حقیقی بھائیوں کو اعیان الاخوۃ کہاجاتا ہے ۔ (4) بعض نے کہا ہے کہ عین کا لفظ جب ذات شے کے معنی میں استعمال ہوجی سے کل مالہ عین تو یہ معنی مجاز ہی ہوگا جیسا کہ غلام کو رقبۃ ( گردن ) کہہ دیا جاتا ہے اور عورت کو فرج ( شرمگاہ ) کہہ دیتے ہیں کیونکہ عورت سے مقصود ہی یہی جگہ ہوتی ہے ۔ (5) پانی کے چشمہ کو بھی عین کہاجاتا ہے ۔ کیونکہ اس سے پانی ابلتا ہے جس طرح کہ آنکھ سے آنسو جاری ہوتے ہیں اور عین الماء سے ماء معین کا محاورہ لیا گیا ہے جس کے معنی جاری پانی کے میں جو صاف طور پر چلتا ہوا دکھائی دے ۔ اور عین کے معنی جاری چشمہ کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : عَيْناً فِيها تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا[ الإنسان/ 18] یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے ۔ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] اور زمین میں چشمے جاری کردیئے ۔ فِيهِما عَيْنانِ تَجْرِيانِ [ الرحمن/ 50] ان میں دو چشمے بہ رہے ہیں ۔ يْنانِ نَضَّاخَتانِ [ الرحمن/ 66] دو چشمے ابل رہے ہیں ۔ وَأَسَلْنا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ [ سبأ/ 12] اور ان کیلئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا ۔ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الحجر/ 45] باغ اور چشموں میں ۔ مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الشعراء/ 57] باغ اور چشمے اور کھیتیاں ۔ عنت الرجل کے معنی ہیں میں نے اس کی آنکھ پر مارا جیسے راستہ کے معنی ہوتے ہیں میں نے اس کے سر پر مارا فادتہ میں نے اس کے دل پر مارا نیز عنتہ کے معنی ہیں میں نے اسے نظر بد لگادی جیسے سفتہ کے معنی ہیں میں نے اسے تلوار سے مارا یہ اس لئے کہ اہل عرب کبھی تو اس عضو سے فعل مشتق کرتے ہیں جس پر مارا جاتا ہے اور کبھی اس چیز سے جو مار نے کا آلہ ہوتی ہے جیسے سفتہ ورمحتہ چناچہ یدیتہ کا لفظ ان ہر دومعنی میں استعمال ہوتا ہے یعنی میں نے اسے ہاتھ سے مارا یا اس کے ہاتھ پر مارا اور عنت البئر کے معنی ہیں کنواں کھودتے کھودتے اس کے چشمہ تک پہنچ گیا قرآن پاک میں ہے :إِلى رَبْوَةٍ ذاتِ قَرارٍ وَمَعِينٍ [ المؤمنون/ 50] ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور ہوا پانی جاری تھا ۔ فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِماءٍ مَعِينٍ [ الملک/ 30] تو ( سوائے خدا کے ) کون ہے جو تمہارے لئے شیریں پانی کا چشمہ بہالائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ معین میں لفظ میم حروف اصلیہ سے ہے اور یہ معنت سے مشتق ہے جسکے معنی ہیں کسی چیز کا سہولت سے چلنا یا بہنا اور پر بھی بولا جاتا ہے اور وحشی گائے کو آنکھ کی خوب صورتی کہ وجہ سے اعین دعیناء کہاجاتا ہے اس کی جمع عین سے پھر گاواں وحشی کے ساتھ تشبیہ دے کر خوبصورت عورتوں کو بھی عین کہاجاتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : قاصِراتُ الطَّرْفِ عِينٌ [ الصافات/ 48] جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں ( اور ) آنکھیں بڑی بڑی ۔ وَحُورٌ عِينٌ [ الواقعة/ 22] اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ۔ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول للمرض في المعنی، كما أنّ النّفي في قولک : ما علم اللہ زيدا يخرج، هو للخروج، وتقدیر ذلک : قد يمرضون فيما علم الله، وما يخرج زيد فيما علم الله، وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) «2» يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔ قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] تمہارے لئے دوگرہوں میں ۔۔۔۔ ( قدرت خدا کی عظیم الشان ) نشانی تھی ۔ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] خدا نے ۔۔ سن لی ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ( اے پیغمبر ) ۔۔۔۔۔ تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی ۔ اور چونکہ یہ فعل ماضی پر تجدد کے لئے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے اوصاف ذاتیہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت : اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں ۔ میں قد لفظا اگر چہ علم پر داخل ہوا ہے لیکن معنوی طور پر اس کا تعلق مرض کے ساتھ ہے جیسا کہ ، ، میں نفی کا تعلق خروج کے ساتھ ہے ۔ اور اس کی تقدریروں ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ شرب الشُّرْبُ : تناول کلّ مائع، ماء کان أو غيره . قال تعالیٰ في صفة أهل الجنّة : وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] ، وقال في صفة أهل النّار : لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمِيمٍ [يونس/ 4] ، وجمع الشَّرَابُ أَشْرِبَةٌ ، يقال : شَرِبْتُهُ شَرْباً وشُرْباً. قال عزّ وجلّ : فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي - إلى قوله۔ فَشَرِبُوا مِنْهُ« وقال : فَشارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ [ الواقعة/ 55] ، والشِّرْبُ : النّصيب منه قال تعالی: هذِهِ ناقَةٌ لَها شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ [ الشعراء/ 155] ، وقال : كُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ [ القمر/ 28] . والْمَشْرَبُ المصدر، واسم زمان الشّرب، ومکانه . قال تعالی: قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُناسٍ مَشْرَبَهُمْ [ البقرة/ 60] . والشَّرِيبُ : الْمُشَارِبُ والشَّرَابُ ، وسمّي الشّعر الذي علی الشّفة العلیا، والعرق الذي في باطن الحلق شاربا، وجمعه : شَوَارِبُ ، لتصوّرهما بصورة الشّاربین، قال الهذليّ في صفة عير : صخب الشّوارب لا يزال كأن وقوله تعالی: وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ [ البقرة/ 93] ، قيل : هو من قولهم : أَشْرَبْتُ البعیر أي : شددت حبلا في عنقه، قال الشاعر : فأشربتها الأقران حتی وقصتها ... بقرح وقد ألقین کلّ جنین فكأنّما شدّ في قلوبهم العجل لشغفهم، وقال بعضهم : معناه : أُشْرِبَ في قلوبهم حبّ العجل، وذلک أنّ من عادتهم إذا أرادوا العبارة عن مخامرة حبّ ، أو بغض، استعاروا له اسم الشّراب، إذ هو أبلغ إنجاع في البدن ولذلک قال الشاعر : تغلغل حيث لم يبلغ شَرَابٌ ... ولا حزن ولم يبلغ سرورولو قيل : حبّ العجل لم يكن له المبالغة، [ فإنّ في ذکر العجل تنبيها أنّ لفرط شغفهم به صارت صورة العجل في قلوبهم لا تنمحي ] وفي مثل : أَشْرَبْتَنِي ما لم أشرب أي : ادّعيت عليّ ما لم أفعل . ( ش ر ب ) الشراب کے معنی پانی یا کسی اور مائع چیز کو نوش کرنے کے ہیں ۔ قرآن نے ہی جنت کے متعلق فرمایا : ۔ وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] اور ان کا پروردگار انہیں نہایت پاکیزہ شراب پلائیگا ۔ اور اہل دوزخ کے متعلق فرمایا : ۔ لَهُمْ شَرابٌ مِنْ حَمِيمٍ [يونس/ 4] ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی ۔ شراب کی جمع اشربۃ ہے اور شربتہ شربا وشربا کے معنی پینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي۔ إلى قوله۔ فَشَرِبُوا مِنْهُ«4» جو شخص اس میں سے پانی پے لے گا وہ مجھ سے نہیں ہے ۔ چناچہ انہوں نے اس سے پی لیا ۔ نیز فرمایا : ۔ فَشارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ [ الواقعة/ 55] اور پیو گے بھی تو ایسے جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں ۔ الشراب پانی کا حصہ پینے کی باری ۔ قرآن میں ہے هذِهِ ناقَةٌ لَها شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ [ الشعراء/ 155] یہ اونٹنی ہے ( ایک دن ) اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین تمہاری باری كُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ [ القمر/ 28] ہر باری والے کو اپنی باری پر آنا چاہیئے ۔ المشرب مصدر ) پانی پینا ( ظرف زمان یا مکان ) پانی پینے کی جگہ یا زمانہ قرآن میں ہے : ۔ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُناسٍ مَشْرَبَهُمْ [ البقرة/ 60] . تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرکے پانی پی لیا ۔ الشراب تم پیالہ یا شراب کو کہتے ہیں اور مونچھ کے بالوں اور حلق کی اندرونی رگ کو شارب کہا جاتا ہے گویا ان کو پینے والا تصور کیا گیا ہے اس کی جمع شوارب آتی ہے ۔ ھزلی نے گورخر کے متعلق کہا ہے ( الکامل ) ( 257 ) صخب الشوارب لا یزال کانہ اس کی مونچھیں سخت گویا وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ [ البقرة/ 93] اور ان ( کے کفر کے سبب ) بچھڑا ( گویا ) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ اشربت البعیر کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی اونٹ کے گلے میں رسی باندھنے کے ہیں شاعر نے کہا ہے ( 258 ) واشرب تھا الاقران حتیٰ وقص تھا بقرح وقد القین کل جنین میں نے انہیں باہم باندھ لیا حتیٰ کہ قرح ( منڈی ) میں لا ڈالا اس حال میں کہ انہوں نے حمل گرا دیئے تھے ۔ تو آیت کے معنی یہ ہیں کہ گویا بچھڑا ان کے دلوں پر باندھ دیا گیا ہے ۔ اور بعض نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں پلادی گئی ہے کیونکہ عربی محاورہ میں جب کسی کی محبت یا بغض دل کے اندر سرایت کر جائے تو اس کے لئے لفظ شراب کو بطور استعارہ بیان کرتے ہیں کیونکہ یہ بدن میں نہایت تیزی سے سرایت کرتی ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( الوافر ) ( 259 ) تغلغل حیث لم یبلغ شرابہ ولا حزن ولم یبلغ سرور اس کی محبت وہاں تک پہنچ گئی جہاں کہ نہ شراب اور نہ ہی حزن و سرور پہنچ سکتا ہے ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں اس قدر زیادہ نہیں تھی تو ہم کہیں گے کیوں نہیں ؟ عجل کا لفظ بول کر ان کی فرط محبت پر تنبیہ کی ہے کہ بچھڑے کی صورت ان کے دلوں میں اس طرح نقش ہوگئی تھی کہ محو نہیں ہوسکتی تھی مثل مشہور ہے ۔ اشربتنی ما لم اشرب یعنی تونے مجھ پر جھوٹا الزام لگایا ۔ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو فسد الفَسَادُ : خروج الشیء عن الاعتدال، قلیلا کان الخروج عنه أو كثيرا،. قال تعالی: لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] ، ( ف س د ) الفساد یہ فسد ( ن ) الشئی فھو فاسد کا مصدر ہے اور اس کے معنی کسی چیز کے حد اعتدال سے تجاوز کر جانا کے ہیں عام اس سے کہ وہ تجاوز کم ہو یا زیادہ قرآن میں ہے : ۔ لَفَسَدَتِ السَّماواتُ وَالْأَرْضُ [ المؤمنون/ 71] تو آسمان و زمین ۔۔۔۔۔ سب درہم برہم ہوجائیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٠) وادی تیہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پانی کی دعا کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پتھر پر جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھا عصا مارنے کا حکم دیا یہ پتھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا تھا اس پر بارہ نشان تھے ہر ایک نشان سے جس وقت اس پر اپنا مارتے تھے ایک نہری جاری ہوجاتی تھی، چناچہ بارہ نہریں جاری ہوگئیں اور ہر ایک قبیلے نے اپنی نہر کو پہچان لیا، اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا ترنجبین اور بٹیر کھاؤ اور ان تمام نہروں سے پانی پیو اور زمین میں فساد نہ کرو اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی نہ کرو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اب یہاں پھر صحراء سینا کے واقعات بیان ہو رہے ہیں۔ ان واقعات میں ترتیب زمانی نہیں ہے۔ اریحا کی فتح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہوئی ‘ جس کا ذکر گزشتہ آیات میں ہوا ‘ لیکن ‘ اب یہاں پھر اس دور کے واقعات آ رہے ہیں جب بنی اسرائیل صحرائے تیہہ میں بھٹک رہے تھے۔ آیت ٦٠ (وَاِذِ اسْتَسْقٰی مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ ط) “ صحرائے سینا میں چھ لاکھ سے زائد بنی اسرائیل پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے اور وہاں پانی نہیں تھا۔ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پانی طلب کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنے عصا سے چٹان پر ضرب لگاؤ۔ (فَانْفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیْنًا ط) ’ “ ” فَجَرَ “ کہتے ہیں کوئی چیز پھٹ کر اس سے کسی چیز کا برآمد ہونا۔ فجر کے وقت کو فجراسی لیے کہتے ہیں کہ اس وقت رات کی تاریکی کا پردہ چاک ہوتا ہے اور سپیدۂ سحر نمودار ہوتا ہے۔ (قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَہُمْ ط) “ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے ‘ اگر ان کے لیے علیحدہ علیحدہ گھاٹ نہ ہوتا تو ان میں باہم لڑائی جھگڑے کا معاملہ ہوتا۔ انہیں بارہ چشمے اسی لیے دیے گئے تھے کہ آپس میں لڑائی جھگڑا نہ ہو۔ پانی تو بہت بڑی چیز ہے اور قبائلی زندگی میں اس کی بنیاد پر جنگ و جدل کا آغاز ہوسکتا ہے۔ ؂ کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا کہیں گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا تو اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے یہ سہولت مہیا کی کہ بارہ چشمے پھوٹ بہے اور ہر قبیلے نے اپنا گھاٹ معین کرلیا۔ ّ (کُلُوْا وَاشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰہِ ) “ (وَلاَ تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ) “ صحرا میں ان کے لیے پینے کو پانی بھی مہیا کردیا گیا اور کھانے کے لیے مَن وسلویٰ اتار دیا گیا ‘ لیکن انہوں نے ناشکری کا معاملہ کیا ‘ جس کا ذکر ملاحظہ ہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

76 That rock can still be seen in the Sinai Peninsula with the twelve holes of the springs. Twelve springs were caused to flow for the Israelites in order to avoid water disputes among their twelve clans.

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

:46 یہ واقعہ بھی اس وقت کا ہے جب بنی اسرائیل میدانِ تِیہ (صحرائے سینا) میں محصور تھے، وہاں پانی کا کوئی چشمہ نہیں تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے ایک معجزے کے طور پر پتھر سے بارہ چشمے پیدا فرمادئیے، حضرت یعقوب (اسرائیل(علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے، ہر بیٹے کی اولاد ایک مستقل قبیلہ بن گئی، اور اس طرح بنی اسرائیل بارہ قبیلوں میں تقسیم ہوگئے۔ اﷲ تعالیٰ نے ہر قبیلے کے لئے الگ چشمہ جاری فرمادیا تاکہ کوئی الجھن پیش نہ آئے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:60) واذ یاد کرو ، جب ، (نیز ملاحظہ ہو 2:49) استسقی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ استسقاء (استفعال) مصدر اس نے پانی مانگا۔ اس نے پانی طلب کیا۔ سقی مادہ۔ السقی والسقیا کے معنی پانی پینے کی چیز دینے کے ہیں ۔ (مثلاً پانی ۔ شربت۔ شراب وغیرہ) ۔ سقی یسقی (باب ضرب) واسقی یسقی (باب افعال) پانی پینے کے لئے دینا۔ قرآن مجید میں اس کی مثالیں (1) باب ضرب سے وسقاھم ربھم شرابا طھورا (76 : 21) اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا۔ (2) باب افعال سے واسقیناکم ماء فراتا (77:27) اور تم کو میٹھا پانی پلایا السقایۃ پینے کا برتن ۔ جعل السقایۃ فی رحل اخیہ (12:70) اس نے اپنے بھائی کے شلیتے یا پالان میں پینے کا برتن رکھ دیا الحجر ۔ پتھر۔ اس میں الف لام عہد کا ہے (یعنی خاص پتھر مراد ہے) بعض کے نزدیک الف لام جنس کا ہے کوئی خاص پتھر نہ تھا۔ بلکہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ تھا کہ جس پتھر پر عصا مارتے اس میں سے چشمے ابل پڑتے فانفجرت۔ فا سببیہ ہے۔ فانفجرت سے قبل عبارت محذوف ہے تقدیر کلام یہ ہے فقلنا اضرب بعصاک الحجر فضرب فانفجرت۔ انفجرت ماضی واحد مؤنث غائب انفجار (انفعال) مصدر ۔ خوب پھوٹ نکلنا ۔ انفجر کے معنی کسی چیز کو وسیع طور پر بھاڑنے اور شق کردینے کے ہیں۔ مثلاً بولتے ہیں فجرتہ فانفجر میں نے پانی کو پھاڑ کر بہایا تو وہ بہہ گیا۔ صبح کو فجر اس لئے بولتے ہیں کہ صبح کی روشنی بھی رات کی تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوتی ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے ۔۔ ان اضرب بعصاک الحجر فانبجست منہ اثنتا عشرۃ عینا (7:16) تو تم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی کو پتھر پر مارو تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ انفجار اور انبج اس میں فرق یہ ہے کہ انبج اس صرف کسی تنگ چیز سے بہہ نکلنے کا نام ہے اور انفجار کا استعمال تنگ مقام ہو یا فراخ دونوں کے متعلق ہوتا ہے۔ کل اناس ۔ اناس جمع جس کی لفظی طور پر واحد نہیں ہے بعض کے نزدیک غیر لفظی طور پر انسان کی جمع ہے یا انس کی۔ اس کے معنی ہیں لوگ۔ یہاں کل اناس کے معنی کل سبط ہر قبیلہ نے ہر گروہ نے۔ مشربھم مضاف مضاف الیہ ۔ مشرب اسم ظرف مکان ہے ھم ضمیر جمع مذکر غائب ہے بنی اسرائیل قوم موسیٰ کے لئے ہے۔ لا تعثوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر، عثی اور عثی (باب سمع) مصدر سے۔ جس کے معنی فساد کرنے کے ہیں ۔ مفسدین۔ اسم فاعل جمع مذکر ، فساد ڈالنے والے، فساد کرنے والے ۔ یہ لا تعثرا کا حال مؤکد ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 ۔ بارہ چشمے اس لیے کہ بنی اسرائیل کے بھی کل بارہ اسباط (قبیلے) تھے اللہ تعالیٰ نے ہر قبیلہ کے لے الگ چشمہ نکال دیا جزیرہ نمائے سینا میں اب بھی ایک چٹان پائی جاتی ہے جس پر چشموں کے شگاف ہیں اور سیاح اسے دیکھنے آتے ہیں اور جس مقام پر یہ چٹان موجود ہے وہ عیون موسیٰ کے نام سے مشہور ہے جس پتھر پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عصا ماتے تھے اس کے متعلق مفسرین عجیب و غریب حکایات نقل کی ہیں کہ وہ پتھر کس شکل کا تھا اور کہاں سے لایا گیا تھا مگر صحیح یہ ہے وہ کوئی سمعین پتھر نہ تھا بلکہ بوقت ضرورت جس پتھر پر بھی عصا مارتے تو اس سے چشمے جاری ہوجاتے حسن بصری سے یہی منقول ہے وھذا اظھر فی المعجز ہ ابین فی القد رہ۔ ( ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیت 60 61 اسرارومعارف توہم نے تمہیں وہ بھی خرق عادت کے طور پر بخشا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنا عصا پتھر میں سے بارہ چشمے جاری ہوگئے اور ہر شخص کو اس کا مشرب یعنی سیراب ہونے کا چشمہ بھی بتادیا گیا۔ کس قدر عنایات ہیں کہ بارہ قبیلوں کے لئے بارہ چشمے جاری فرما دیئے اور وہ بھی خرق عادت کے طور پر کہ امور عادیہ میں نسانی محنت ضروری ہے کہ اگر بارش ہوتی تو اس کے لئے تالاب بناتے پھر پانی صاف نہ رہتا گدلا ہوتا رہتا یا اور کسی طرح کے مصائب بنتے مگر اللہ نے پانی ہی خرق عادت کے طور پر عطا فرمایا اور اس میں بھی اس قدر رعایت برتی کہ ہر قبیلے کے لئے علیحدہ وچشمہ جاری فرمایا اور اسے بتا بھی دیا اور فرمایا کہ اللہ کے عطاء کردہ رزق سے کھائو پیو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ ان سب انعامات کے بدلے اللہ کا شکر ادا کرو۔ ورنہ چینا جھپٹی کرو گے تو روئے زمین پر فساد پیدا ہوگا گویا دنیا کا حسن وزینت اور اس کے آرام و آسائش کا مدار بھی اعمال انسانی پر ہے اگر یہ بدکار ہوگا تو اس کی بدی کے اثرات ماحول کو متاثر کرکے دنیا میں فساد پیدا کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان باوجود ہر طرح کی سائنسی ترقی کے دنیا میں امن قائم کرنے سے قاصر ہے کہ اللہ سے بیگانہ ہوچکا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے بدکار ہے جس کی وجہ سے دنیا کا امن تہ وبالا ہوچکا ہے دراصل یہ دنیا ایک مکان کی مثال ہے اور انسان اس کا مکیں جب یہ خرمستیاں کرتا ہے تو لازمی طور پر ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے۔ کھائو پیو ضرور مگر من رزق اللہ ملحوظ رہے وہ رزق جو اللہ کی طرف سے حلال ومباح ہو جس کے حاصل کرنے کا طریقہ شرعی ہو نہ یہ کہ بغیر حلال و حرام کی تمیز کے جو ملے جھپٹ لیا۔ لکڑہضم ، پتھر ہضم ، تو پھر نہ صرف اپنی تباہی کا سبب بنو گے بلکہ دنیا میں فساد پھیلانے کا ذریعہ جائو گے جو نہایت نامناسب ہے۔ واذقلتم یا موسیٰ ……………ذالک بما عصوا وکانوا یصدون۔ پھر ان سب انعامات کے باوجودتم کہنے لگے ، اے موسیٰ ! یہ روزانہ ایک طرح کی خوراک کچھ مزہ نہیں دیتی اور اس طرح عمر گزارنا بہت مشکل ۔ آپ اپنے رب سے ہمارے لئے دعا کریں کہ کوئی زمینی پیداوار عطا کرے کوئی دال سبزی ، کھیرا ککڑی ہوتا تھوم پیاز ہوں یہ کیا روزانہ کا لگا بندھا کھانا ہے بھئی ! یہ ہمیں منظور نہیں۔ باوجود اس کے کہ یہ ایک بہت بڑی گستاخی تھی اور انتہائی ناشکری بلکہ نعمت کی ناقدری تھی۔ مگر ہم نے تمہاری یہ خواہش بھی پوری کردی حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے تمہیں بہت سمجھایا بھلایا کہ تم اعلیٰ کو چھوڑ کر ادنیٰ کی طرف کیوں جاتے ہو ؟ یعنی صرف یہ نہیں کہ ملنے والا کھانا اعلیٰ ہے بلکہ اس کے ساتھ اصل بات یہ ہے کہ تمہیں بطور خرق عادت نصیب ہوتا ہے اور خوارق میں انسان محنت و کاوش کو دخل نہیں ، یہ محض اللہ کی طرف سے صادر ہوتے ہیں مگر جن چیزوں کے تم طالب بن رہے ہو یہ امور عادیہ کے تحت آتی ہیں اور امور حاویہ میں تمہیں بھی باقاعدہ محنت کرنی ہوگی کہ امور عادیہ بغیر سبب اور محنت انسانی کے حاصل نہیں ہوتے تو کیا عجب حال ہے کہ تمہارا کھانا بھی پہلے سے کم درجے کا ہو اور محنت بھی گلے پڑجائے۔ شکار کا گوشت : پھر ایک بات اور بھی ہے کہ جب اللہ کی طرف سے بطور غرق عادت ملتا تھا تو خالص حلال تھا جب تم محنت کرو گے اور خود کمائو گے تو کیا خبر کہاں نقص واقع ہوجائے اور ابے حرام یا مکروہ کردے کہ جب انسانی لین دین ہوتے ہیں تو عموماً کوتاہیاں سرزد ہوجاتی ہیں۔ اس لئے مولانا محمد اسماعیل شہید (رح) سے کسی نے پوچھا تھا کہ آپ شکار کیوں کرتے ہیں ؟ تو فرمایا شکار کا گوشت لطیب الرزق ہے جو براہ راست اللہ سے مل جاتا ہے کسی آڑھتی یا دکاندار کا اس میں دخل نہیں۔ ان تمام باتوں کو سن کر بھی تم اپنی بات پر اڑے رہے حال تمہارا یہ تھا کہ کہتے تھے موسیٰ ! اپنے رب سے کہو ، یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کا رب ہے تمہارا رب نہیں۔ یہ تک توفیق نہ ہوئی کہہ دیتے ہمارے رب سے سوال کرو ، مگر ہم نے پھر بھی تم پر احسان فرمایا اور تمہاری خواہش پوری کردی۔ حکم دیا چلو کسی بستی میں داخل ہوجائو۔ وہاں تمہیں یہ سب ملے گا اور پھر ڈال دی گئی ان پر ذلت اور محتاجی یعنی مشقت زیادہ اور آمدن و آرام کم۔ پھر یہ ذلت ہمیشہ کے لئے اور احتیاج بھی ابدی کہ طبائع میں وہ اولوالعزمی نہ رہی ایک تو کاشتکاری کا پیشہ ایسا ہے کہ عموماً کام کرنے والے غریب ہی رہتے ہیں اور پھل دوسرے کھاتے ہیں۔ یہود کے تو مزاج ہی میں ذلت ہے کہ رئیس ترین یہودی بھی مسکین ہی بنا پھرے گا۔ نیز ہمیشہ کے لئے حکومت وسلطنت سے محروم ہوگئے ہاں الابحبل ھن اللہ وحبل من الناس ، یعنی کوئی اللہ کی طرف سے اس مصیبت سے کسی حد تک ماموں ہو یا کسی دوسرے انسان یا قوم کے آسرے پر چند روز کی چودھراہٹ بنا بیٹھیں ، جیسے موجودہ اسرائیل کی ریاست کہ درحقیقت امریکہ اور برطانیہ کی چھائونی کی حیثیت رکھتی ہے جو صرف مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور انہیں الجھائے رکھنے کے لئے بنائی گئی ہے ورنہ اس دور سے اب تک اور اب سے ہمیشہ تک یہودی جہاں بھی رہے ذلیل و خوار اور دوسروں کے سہارے رہے اور رہیں گے۔ اس ذلت و محتاجی نے انہیں کہیں نہ نہ رکھا حتیٰ کہ غضب الٰہی کا شکار ہوئے دنیا میں مصروف ہوئے دین رفتہ رفتہ چھوٹتا گیا اور برائی آتی گئی ، حتیٰ کہ اس حد تک پہنچ گئے جہاں اللہ کے غضب کا شکار ہوئے اور حکم الٰہی سے انکار کرنے لگے اور انبیاء کے قتل ناحق میں ملوث ہوتے دین سے بےرغبتی بڑھتے بڑھتے دین سے دشمنی کی حد کو جا پہنچے حتیٰ کہ کسی نبی کی بات برداشت نہ کرسکتے تھے اور اپنے خود ساختہ معاشرتی اصولوں کی حفاظت کے لئے کہ ہر نبی تو اللہ کا قانون رائج کرے گا ہماری رسومات مٹ جائیں گی انبیاء کو قتل تک کردیا۔ بغیر الحق نبی کا قتل تو ہمیشہ ناحق ہی ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتے ہیں اور بےگناہ واجب القتل کیسے ہوسکتا ہے۔ یہاں بغیرالحق فرما کر واضح فرمادیا کہ جانتے وہ خود بھی تھے کہ ہم جو کر رہے ہیں یہ ناق ہے ظلم ہے اور یہ سمجھتے ہوئے بھی اس کے مرتکب اس وجہ سے ہوئے کہ اللہ کے نافرمان تھے اور گناہ آلود زندگی انہیں رفتہ رفتہ اس حد پر لے گئی کہ وہ تمام حدود پھلانگ گئے یہ مسلسل گناہ کا ثمر ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 60 استسقیٰ (پانی مانگا) ۔ اضرب (تو مار، ضرب لگا) ۔ عصا (لاٹھی) ۔ انفجرت (بہ نکلی۔ (بہہ نکلے) ۔ اثنتا عشرۃ (بارہ) ۔ عینا (چشمہ ۔ (پانی کا چشمہ) ۔ قدم علم (یقیناً جان لیا تھا) ۔ کل اناس (سب لوگوں نے) ۔ مشرب (پینے کی جگہ، گھاٹ) ۔ لا تعثوا (نہ پھرو، بکھرے نہ پھرو) ۔ مفسدین (فساد کرنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 60 جب بنی اسرائیل سینا کا ریگستان طے کر کے افیدیم پہنچے تو انہیں پانی نہ ملا، پیاس کی شدت اور سفر کی طوالت اور تکان نے ان کو بےحال اور پریشان کردیا تھا۔ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ اے موسیٰ ہم تو مصر ہی میں اچھے تھے کم از کم زندگی کی بنیادی ضروریات تو مل جایا کرتی تھیں آج ہم پانی کے قطرے قطرے کے لئے سخت پریشان ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی ، فرمایا گیا کہ تم اپنی قوم کے کچھ ذمہ دار بزرگوں کو ساتھ لے کر جاؤ۔ چٹان پر اپنا عصا مارو پانی دے دیا جائے گا۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا اور عصا کے مارتے ہی اس چٹان سے بارہ چشمے بہہ نکلے۔ تمام قبیلے کے لوگوں نے اپنے اپنے پانی کے گھاٹ متعین کر لئے یہ چٹان جس سے بارہ چشمے بہہ نکلے تھے جزیرہ نمائے سینا میں آج تک موجود ہے پادری ڈین اسٹینلے نے انیسویں صدی عیسویں کے وسط میں بائبل کے مقامات مقدسہ کی جغرافیائی تحقیق کے لئے خود فلسطین کی سیر و سیاحت کی اور اپنے مشاہدات و تحقیقات کو شائع کیا۔ اس نے چٹان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ چٹان دس پندرہ فٹ کے درمیان بلند ہے۔ آگے کی طرف مڑی ہوئی ہے اور را آس سفسفہ کے قریب “ یجا ” کی وسیع وادیوں میں واقع ہے۔ بہر کیف اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جہاں بہت سے کرم کئے ان میں یہ بھی ایک بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے ریگستان میں بھی پانی کے چشمے بہا کر یہ بتا دیا کہ اس کائنات کے سارے نظام میں صرف اسی ایک ذات کی قدرت کارفرما ہے۔ لیکن بنی اسرائیل نے جہاں اللہ کی بہت سی عطا کی ہوئی نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری کی اس نعمت کا بھی انہوں نے کوئی احسان نہ مانا اور فساد فی الارض میں کوئی کمی نہ کی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ یہ قصہ وادی تیہ میں ہوا وہاں پیاس لگی تو پانی مانگا موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو ایک خاص پتھر سے صرف عصا مارنے سے اس میں بارہ چشمے بقدرت خداوندی نکل پڑے۔ اور کھانے وے مراد من وسلوی کا کھانا ہے اور پینے سے یہی پانی پینا ہے اور فساد وفتنہ فرمایا نافرمانی اور ترک احکام۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ سواں احسان : قبائل کی تعداد کا لحاظ رکھتے ہوئے ٹھنڈے، میٹھے پانی کے بارہ چشمے جاری فرمائے لیکن اس قوم نے صبح وشام من وسلوی اور ٹھنڈا پانی ملنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کی۔ قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ وہ کسی واقعہ کو زیب داستان اور حکایت گوئی کے لیے بیان نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کے سوا باقی تمام واقعات کو مختلف اجزاء کی صورت میں موقع محل کے مطابق بیان کیا گیا ہے اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ کسی واقعہ کی کڑیوں اور اجزا کو تقدم و تاخر کے ساتھ بیان کرتے ہوئے ایک خاص نصیحت اور کیفیت پیدا کردی جاتی ہے۔ یہاں بھی ایسا ہی کیا گیا ہے تاکہ اس واقعہ میں یہودیوں کے مظالم اور نافرمانیوں کی فہرست یکجا بیان کی جائے قرآن کی تلاوت کرنے والا شخص فاسقوں اور نافرمانوں کی سرشت سے مکمل طور پر آگاہ ہو سکے۔ چناچہ صحرائے سینا میں جب موسیٰ (علیہ السلام) سے پانی کا مطالبہ کیا گیا تو بنی اسرائیل کے قبائل کی تعداد کے مطابق بارہ چشمے جاری کیے گئے اس لیے کہ یہ پانی پینے پلانے پر جھگڑا کرنے کی بجائے پر امن طریقے سے اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں اور دشمن کے خلاف بھرپور انداز میں جہاد کی تیاری کرسکیں لہٰذا حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اکل و شرب سے لطف اندوزی حاصل کرو لیکن دنگا فساد سے بچو۔ اس حکم کے باوجود ناہنجار قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کر ڈالا کہ ایک ہی قسم کے کھانے پر اکتفا کرنا ہمارے لیے ہرگز ممکن نہیں ہمیں تو زمین کی پیدوار، ساگ، ترکاری، کھیرا، ککڑی، گیہوں، لہسن، پیاز اور دال چاہیے۔ جناب موسیٰ (علیہ السلام) نے بہت سمجھایا کہ تم ادنیٰ کو اعلیٰ اور بہتر کو کم تر کے ساتھ بدلنا چاہتے ہو ؟ اس مطالبہ سے باز آجاؤ اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری سے بچو لیکن بنی اسرائیل اپنے مطالبہ پر مصر رہے جس کے نتیجے میں انہیں حکم ہوا کہ شہر میں داخل ہوجاؤ جو کچھ تم نے چاہا ہے وہ تمہیں مل جائے گا۔ لیکن یاد رکھنا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری کی وجہ سے تم پر ذلت اور غربت مسلط کردی گئی ہے اس طرح وہ اللہ کے غضب اور مسکینی کے مستحق ٹھہرے۔ کیونکہ یہ بار بار اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار کرنے والے اور انبیا کو قتل کرنے والے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی ارب پتی ہونے کے باوجود نہ سیر چشم ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی ہوس کی آگ ماند پڑتی ہے اور دنیا میں اس قوم کو کبھی قرار نہیں حاصل ہوا۔ کبھی بخت نصر نے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا اور کبھی اہل روم نے انہیں اپنے ملک سے نکال دیا۔ سورۃ آل عمران آیت : ١١٢ میں وضاحت فرمائی ہے کہ انہیں دنیا میں قرار دو ہی وجہ سے حاصل ہوسکتا ہے اللہ کے ہو کر رہیں یا پھر دوسروں کے دست نگر ہو کر زندگی بسر کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی مدت کے بعد یہودی اسرائیل کے نام پر امریکہ اور یورپ کے سیاسی گداگر بلا کر اسرائیل کی ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ خوردونوش کی فراوانی عطا فرمائے تو دنگا فساد کرنے کی بجائے اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ ٢۔ اعلیٰ کی بجائے ادنیٰ چیز کی طلب کرنا مغضوب قوم کا طریقہ ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری کرنے والے لوگ دنیا میں ذلیل اور آخرت کو سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لئے پانی طلب فرمایا۔ اور انہوں نے یہ درخواست اپنے رب سے کی اور اس نے قبول فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ وہ ایک متعین پتھر کو اپنے عصا سے ماریں ۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی اور پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ۔ یہ بارہ چشمے بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کی تعداد کے مطابق تھے ۔ کیونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پوتوں کے بعد یہ لوگ بارہ قبیلوں میں تقسیم ہوگئے تھے ۔ حضرت یعقوب کا نام اسرائیل تھا جس کی طرف یہ لوگ نسبت کرتے ہیں ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پوتے اسباط کے نام سے مشہور ہیں ، جن کا ذکر باربار قرآن کریم میں آیا ہے ۔ یہ لوگ بنی اسرائیل کے سربراہ تھے ۔ اور قبائلی نظام کے مطابق زندگی بسر کررہے تھے۔ اور قبائلی نظام میں قبیلے کی نسبت اکثر اوقات مورث اعلیٰ کی طرف کردی جاتی ہے۔ چناچہ قرآن کریم کہتا ہے قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَشْرَبَهُمْ ” ہر قبیلے نے جان لیا کہ کون سی جگہ ہے اس کے پانی لینے کی۔ “ یعنی وہ چشمہ جو بارہ چشموں سے ان کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے۔ كُلُوا وَاشْرَبُوا مِنْ رِزْقِ اللَّهِ وَلا تَعْثَوْا فِي الأرْضِ مُفْسِدِينَ ” اس وقت انہیں ہدایت کردی گئی تھی کہ اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ پیو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھر۔ “ بنی اسرائیل کی حالت یہ تھی کہ وہ خشک صحرا کی پتھریلی زمین میں تھے ۔ آسمان اوپر سے آگ کے شعلے برسا رہا تھا ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پتھروں سے پانی نکالا ۔ آسمان سے من وسلویٰ ، شہد وپرندوں کا انتظام فرمایا ، لیکن ان کی فاسد اور گری ہوئی ذہنیت اور گری ہوئی فطرت اور عادات نے انہیں اس بلند مقام تک پہنچنے نہ دیا جس کے لئے انہیں مصر سے نکالا گیا تھا۔ اور اس بےآب وگیا صحرا میں ڈال دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے جس ذلت و خواری سے اس لئے نکالا تھا کہ ارض مقدس دوبارہ ان کے اقتدار میں آجائے اور وہ اس ذلت اور خواری کی زندگی سے باہر نکل آئیں ۔ ظاہر ہے کہ حریت وآزادی اور عزت وآبرو کے حصول کے لئے کچھ قربانیاں دینی پڑتی ہیں ۔ جو امانت کبریٰ ان کے حوالے کی جارہی تھی اس کا کسی قدر شکرانہ بھی لینا مقصود تھا۔ لیکن بنی اسرائیل تو ایسے لوگ تھے جو اس کی کوئی قیمت ادا نہ کرنا چاہتے تھے ۔ نہ وہ تکالیف اور آزمائشوں کو انگیز کرسکتے تھے ۔ اس لئے وہ اس مقام رفیع کا کوئی شکرانہ دینے کے لئے بھی تیارنہ تھے ۔ نہ وہ یہ چاہتے تھے کہ مصر میں وہ جس طرح کی پرکیف اور پر آسائش زندگی بسر کررہے تھے اسے چھوڑ دیں ۔ یہاں تک کہ وہ اس بلند مرتبے کے لئے اپنے مالوف کھانوں اور پینے کی چیزوں کو بھی ترک نہ کرسکتے تھے اور کسی طرح بھی آمادہ نہ تھے کہ عزت وشرف اور حریت وآزادی کے حصول کے لئے ، وہ اپنی زندگی کو کسی قدر نئے سانچے میں ڈھالیں ۔ وہ تو وہی کھانے چاہتے ہیں جن کے وہ مصر میں عادی تھے ۔ اور ساگ ، ترکاری ، گیہوں اور لہسن وغیرہ کے دالدادہ تھے ۔ یہاں مدینہ میں قرآن کریم انہیں ان کے پارسائی کے ان طویل و عریض دعو وں کے جواب میں یہ کہتا ہے کہ ذرا اپنی تاریخ کے اوراق توالٹیں اور دیکھیں کہ انہوں نے کیا کیا کارنامے سر انجام دیئے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

میدان تیہ میں بنی اسرائیل کے لیے پتھر سے پانی کے چشمے پھوٹنا یہ بھی میدان تیہ کا قصہ ہے۔ اس میدان میں جب بنی اسرائیل کو پیاس لگی اور پانی کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پانی کا سوال کیا جب موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں پانی کی درخواست کی تو اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ اپنی لاٹھی کو پتھر پر مارو چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا لاٹھی کا پتھر پر مارنا تھا کہ اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ علامہ بغوی نے معالم التنزیل میں حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ جس پتھر میں لاٹھی مارنے سے چشمے جاری ہوئے تھے یہ ایک ہلکا سا پتھر تھا جو چوکور تھا۔ سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تھیلے میں رہتا تھا۔ جب پانی کی حاجت ہوتی تو اسے زمین پر رکھ کر لاٹھی مار دیتے تھے جس سے چشمے جاری ہوجاتے تھے۔ جب بنی اسرائیل پانی سے سیراب ہوجاتے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کو اٹھا کر تھیلے میں رکھ لیتے تھے اور جب پانی پینا چاہتے تھے تو پھر اس میں لاٹھی مار دیتے تھے۔ جس سے پانی نکلتا، روزانہ چھ لاکھ آدمی اس سے سیراب ہوتے تھے۔ بنی اسرائیل سے بارہ قبیلے تھے ہر قبیلے کے لیے پتھر سے چشمہ پھوٹتا تھا اور ہر قبیلہ اپنے چشمے سے سیراب ہوتا تھا۔ لق و دق میدان میں اللہ جل شانہ، نے بنی اسرائیل کے کھانے کے لیے من وسلوی عطا فرمایا اور ان کے پینے کے لیے پتھر سے چشمے جاری فرمائے یہ اللہ تعالیٰ کا بنی اسرائیل پر بہت بڑا انعام تھا۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بہت بڑا معجزہ بھی تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰہِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ) ” کہ اللہ تعالیٰ کے رزق سے کھاؤ اور پیو اور زمین میں فساد کرنے والے نہ بنو۔ “ (لاَ تَعْثَوْا) عثٰی سے مشتق ہے جو خوب زیادہ بڑا فساد کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی آپس کا قتل و قتال اور ایک دوسرے پر ظلم کرنا بہت بڑا فساد ہے۔ نعمتوں کی ناشکری کرنے سے نعمتوں سے محرومی ہوجاتی ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ نعمتوں کے مقابلہ میں ناشکری اور نافرمانی شرعاً و عقلاً بہت بڑی جہالت اور باعث ہلاکت ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

122 ۔ یہ آٹھواں انعام ہے۔ یہ واقعہ بھی میدانِ تیہ میں پیش آیا۔ وہاں جب اسرائیلیوں کو پیاس لگی تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پانی کا مطالبہ کیا۔ جمہور المفسرین اجمعوا علی ان ھذا الاستسقاء کان فی التیہ (کبیر ص 540 ج 1) تو انہوں نے خدا کے حکم سے پتھر پر عصا مارا جس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۔ الحجر میں الف لام عہد کے لیے ہے۔ اور اس سے کسی مخصوص اور معین پتھر کی طرف اشارہ ہے۔ کان حجرا معینا بدلیل انہ عرفہ بالاف واللام (معالم ص 55 ج 1)123 ۔ اسرائییوں کے بارہ قبیلے تھے اور ان میں باہم منافرت اور نااتفاقی تھی اس لیے ہر قبیلے کے لیے الگ الگ چشمہ جاری کردیا کہ کہیں پیتے پیتے آپس میں برسر پیکار نہ ہوجائیں لکونھم کانوا اثنی عشر سبطا و کان بینہم تضاغن وتنافس فاجری اللہ تعالیٰ لکل سبط عینا یروھا لا یشر کہ فیھا احد من السبط الاخر دفعا لاثارۃ الشحناء (روح ص 271 ج 1) قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَھُمْ ۔ یعنی ہر قبیلے کو اپنی گھاٹ معلوم ہوگئی اور ہر قبیلے کو بتادیا گیا کہ وہ صرف اپنی ہی گھاٹ سے پانی پی سکتے ہیں۔124 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا رزق کھاؤ پیو اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اس کا دیا ہوا رزق کھا پی کر اس کی زمین پر اس کی نافرمانی کر کے شر و فساد مت بپا کرو مفسدین حال موکدہ لعاملہا ہے (شرح شذور الذہب ابن ہشام ص 247)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 اور وہ موقعہ یاد کرو جب حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی طلب کیا اور پانی کے لئے خدا سے دعا کی اور اس پر ہم نے حضرت مسویٰ کو حکم دیا کہ تم اپنی لکڑی اس خاص پتھر پر مارو چناچہ لکڑی مارنے سے اس پتھر میں سے بارہ چشمے بہہ نکلے بنی اسرائیل کے ہر ایک قبیلے نے اپنا اپنا گھاٹ اور پانی پینے کا موقع جان لیا ارشاد ہوا اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روزی میں سے کھائو اور پئیو اور زمین میں فساد نہ برپا کرتے پھرو۔ (تیسرا) یہ واقعہ بھی اسی وادی تیہ میں پیش آیا جب پیاس لگی اور پانی باقی نہ رہا۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے درخواست کی۔ حضرت موسیٰ نے خد تعالیٰ کی جناب میں دعا کی اس پر ارشاد ہوا کہ فلاں پتھر پر لکڑی مارو۔ لکڑی مارنے سے بارہ چشمے بہہ نکلے۔ حضرت یعقوب کے بارہ لڑکے تھے ہر لڑکے کی اولاد ایک خاندان تھا۔ جیسا کہ فرماتے ہیں وقطعنھم اثنتی عشرۃ اسباطا امما۔ یعنی ہم نے ان کو بارہ قبیلوں اور بارہ خاندانوں میں تقسیم کردیا پتھر سے بارہ چشمے نکلے ہر قبیلہ کا ایک چشمہ سب نے اپنا اپنا چشمہ متعین کرلیا ہر قبیلہ اپنے چشمے سے پانی لیتا ۔ حضرت موسیٰ کے عصا کی بابت مشہور ہے کہ وہ جنت کا تھا اور حضرت آدم (علیہ السلام) اپنے ہمراہ لائے تھے اور حضرت آدم کی اولاد میں ہر نبی اس کا محافظ ہوتا تھا یہاں تک کہ حضرت شعیب نے وہ عصا حضرت موسیٰ کے سپرد کیا حضرت موسیٰ کے عصاکا نام علیق یا نبغہ تھا اور اس کا طول دس ذراع تھا واللہ اعلم جس پتھر کو عصا مارنے کا حکم ہوا تھا وہ یا تو کوئی خاص پتھر تھا جیسا کہ ہمارے ترجمے سے ظاہر ہے یا عام پتھر مارنے کا حکم ہوا ہو جیسا کہ بعض لوگوں نے یہی قول اختیار کیا ہے اور معجزے کے اعتبار سے اس کو راجح اور اوفق فرمایا ہے۔ بہرحال یہ حضرت موسیٰ کا معجزہ تھا کہ ایک پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انگلیوں سے بعض غزوات میں پانی کا نکلنا اور اس پانی سے پورے لشکر کا سیراب ہونا ثابت ہے اللہ تعالیٰ کی روزی سے بنی اسرائیل کو کھانے پینے کی اجازت دی گئی چونکہ وہ لوگ ناشکری اور نافرمانی کے خوگر تھے اس لئے فساد برپا کر نیکی ممانعت کی گئی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اسی جنگل میں پانی نہ ملا تو ایک پتھر سے بارہ چشمے نکلے بارہ قوم تھے کسی میں لوگ زیادہ سکی میں کم ہر قوم کے موافق ایک چشمہ تھا اس سے پہچان لیا جب لشکر کوچ کرتا تو پتھر ساتھ اٹھا لیتے جب مقام ہوتا تو رکھ دیتے۔ موضح القرآن (تسہیل)