Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 7

سورة البقرة

خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ عَلٰی سَمۡعِہِمۡ ؕ وَ عَلٰۤی اَبۡصَارِہِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫ وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ٪﴿۷﴾  1

Allah has set a seal upon their hearts and upon their hearing, and over their vision is a veil. And for them is a great punishment.

اللہ تعالٰی نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر کر دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Meaning of Khatama Allah said, خَتَمَ اللّهُ عَلَى قُلُوبِهمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عظِيمٌ Allah has set a seal on their hearts and on their hearing, and on their eyes there is a covering. Theirs will be a great torment. As-Suddi said that, خَتَمَ اللّهُ (Khatama Allah) means, "Allah has sealed." Qatadah said that this Ayah means, "Shaytan controlled them when they obeyed him. Therefore, Allah sealed their hearts, hearing and sight, and they could neither see the guidance nor hear, comprehend or understand." Ibn Jurayj said that Mujahid said, خَتَمَ اللّهُ عَلَى قُلُوبِهمْ (Allah has set a seal on their hearts), "A stamp. It occurs when sin resides in the heart and surrounds it from all sides, and this submersion of the heart in sin constitutes a stamp, meaning a seal." Ibn Jurayj also said that the seal is placed on the heart and the hearing. In addition, Ibn Jurayj said, that Abdullah bin Kathir narrated that Mujahid said, "The stain is not as bad as the stamp, the stamp is not as bad as the lock which is the worst type." Al-Amash said, "Mujahid demonstrated with his hand while saying, `They used to say that the heart is just like this - meaning the open palm. When the servant commits a sin, a part of the heart will be rolled up - and he rolled up his index finger. When the servant commits another sin, a part of the heart will be rolled up' - and he rolled up another finger, until he rolled up all of his fingers. Then he said, `Then, the heart will be sealed.' Mujahid also said that this is the description of the Ran (refer to 83:14)." Al-Qurtubi said, "The Ummah has agreed that Allah has described Himself with sealing and closing the hearts of the disbelievers, as a punishment for their disbelief. Similarly, Allah said, بَلْ طَبَعَ اللّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ (Nay, Allah has set a seal upon their hearts because of their disbelief), (4:155)." He then mentioned the Hadith about changing the hearts, (in which the Prophet supplicated), يَا مُقَلِبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلى دِينِك O You Who changes the hearts, make our hearts firm on Your religion. He also mentioned the Hadith by Hudhayfah recorded in the Sahih, in which the Messenger of Allah said, تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ كَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُكِتَ فِيه نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ حَتى تَصِيرَ عَلَى قَلْبَيْنِ عَلى أَبْيَضَ مِثْلِ الصَّفَا فَلَ تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالاَْرْضُ وَالاْخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا كَالْكُوزِ مُجَخِّيًا لاَ يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلاَ يُنْكِرُ مُنْكَرًا The Fitan (trials, tests) are offered to the hearts, just as the straws that are sewn into a woven mat, one after another. Any heart that accepts the Fitan, then a black dot will be engraved on it. Any heart that rejects the Fitan, then a white dot will be engraved on it. The hearts will therefore become two categories: white, just like the barren rock; no Fitnah shall ever harm this category as long as the heavens and earth still exist. Another category is black, just as the cup that is turned upside down, for this heart does not recognize righteousness or renounce evil. Ibn Jarir said, "The truth regarding this subject is what the authentic Hadith from the Messenger of Allah stated. Abu Hurayrah narrated that the Messenger of Allah said, إِنَّ الْمُومِنَ إِذَا أَذْنَبَ ذَنْبًا كَانَتْ نُكْتَةً سَوْدَاءَ فِي قَلْبِهِ فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَعْتَبَ صَقِلَ قَلْبُهُ وَإِنْ زَادَ زَادَتْ حَتَّى تَعْلُوَ قَلْبَهُ فَذلِكَ الرَّانُ الَّذِي قَالَ اللهُ تَعَالى When the believer commits a sin, a black dot will be engraved on his heart. If he repents, refrains and regrets, his heart will be polished again. If he commits more errors, the dots will increase until they cover his heart. This is the Ran (stain) that Allah described, كَلَّ بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَّا كَانُواْ يَكْسِبُونَ Nay! But on their hearts is the Ran (stain) which they used to earn." (83:14) At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Majah recorded this Hadith, and At-Tirmidhi said that it is Hasan Sahih. The Meaning of Ghishawah Reciting the Ayah, خَتَمَ اللّهُ عَلَى قُلُوبِهمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ (Allah has set a seal on their hearts and on their hearing), then pausing, then continuing with, وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ (And on their eyes there is a Ghishawah (covering)) is accurate, for the stamp is placed on the heart and the hearing while the Ghishawah, the covering, is appropriately placed on the eyes. In his Tafsir, As-Suddi said that Ibn Abbas and Ibn Mas`ud said about Allah's statement, خَتَمَ اللّهُ عَلَى قُلُوبِهمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ (Allah has set a seal on their hearts and on their hearing), "So that they neither understand nor hear. Allah also said that He placed a covering on their sight, meaning eyes, and so, they do not see."

مہر کیوں لگا دی گئی؟ حضرت سدی فرماتے ہیں ختم سے مراد طبع ہے یعنی مہر لگا دی حضرت قتادہ فرماتے ہیں یعنی ان پر شیطان غالب آگیا وہ اسی کی ماتحتی میں لگ گئے یہاں تک کہ مہر لگا دی حضرت قتادہ فرماتے ہیں یعنی ان پر شیطان غالب آگیا وہ اسی کی ماتحتی میں لگ گئے یہاں تک کہ مہر الٰہی ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر لگ گئی اور آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ۔ ہدایت کو نہ دیکھ سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں ، نہ سمجھ سکتے ہیں ۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ گناہ لوگوں کے دلوں میں بستے جاتے ہیں اور انہیں ہر طرف سے گھیر لیتے ہیں ۔ بس یہی طبع اور ختم یعنی مہر ہے ۔ دل اور کان کے لئے محاورہ میں مہر آتی ہے ۔ مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں قرآن میں ران کا لفظ ہے طبع کا لفظ ہے اور اقفال کا لفظ ہے ۔ ران طبع سے کم ہے اور طبع اقفال سے کم ہے ، اقفال سب سے زیادہ ہے ۔ حضرت مجاہد نے اپنا ہاتھ دکھا کر کہا کہ دل ہتھیلی کی طرح ہے اور بندے کے گناہ کی وجہ سے وہ سمٹ جاتا ہے اور بند ہو جاتا ہے ۔ اس طرح کہ ایک گناہ کیا تو گویا چھنگلیا بند ہو گئی پھر دوسرا گناہ کیا دوسری انگلی بند ہو گئی یہاں تک کہ تمام انگلیاں بند ہوگئیں اور اب مٹھی بالکل بند ہو گئی جس میں کوئی چیز داخل نہیں ہو سکتی ۔ اسی طرح گناہوں سے دل پر پردے پڑ جاتے ہیں مہر لگ جاتا ہیں مہر لگ جاتی ہے پھر اس پر کسی طرح حق اثر نہیں کرتا ۔ اسے زین بھی کہتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ تکبر کی وجہ ان کا حق سے منہ پھیر لینا بیان کیا جا رہا ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص اس بات کے سننے سے بہرا بن گیا ۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ تکبر اور بےپرواہی کر کے اس نے اس بات کی طرف دھیان نہیں دیا ۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں یہ مطلب ٹھیک نہیں اس لئے کہ یہاں تو خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ۔ زمحشری نے اس کی تردید کی ہے اور پانچ تاویلیں کی ہیں لیکن سب کی سب بالکل بےمعنی اور فضول ہیں اور صرف اپنے معتزلی ہونے کی وجہ سے اسے یہ تکلفات کرنے پڑے ہیں کیونکہ اس کے نزدیک یہ بات بہت بری ہے کہ کسی کے دل پر اللہ قدوس مہر لگا دے لیکن افسوس اس نے دوسری صاف اور صریح آیات پر غور نہیں کیا ۔ ایک جگہ ارشاد ہے آیت ( فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ ) 61 ۔ الصف:5 ) یعنی جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دئیے اور فرمایا آیت ( وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ ) 6 ۔ الانعام:110 ) ہم ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو الٹ دیتے ہیں گویا کہ وہ سرے سے ایمان ہی نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے ہی چھوڑ دیتے ہیں ۔ اس قسم کی اور آیتیں بھی ہیں ۔ جو صاف بتاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور ہدایت کو ان سے دور کر دیا ہے ۔ حق کو ترک کرنے اور باطل پر جم رہنے کی وجہ سے جو یہ سراسر عدل و انصاف ہے اور عدل اچھی چیز ہے نہ کہ بری ۔ اگر زمخشری بھی بغور ان آیات پر نظر ڈالتے تو تاویل نہ کرتے ۔ واللہ اعلم ۔ قرطبی فرماتے ہیں ۔ امت اجماع ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی ایک صفت مہر لگانا بھی بیان کی ہے جو کفار کے کفر کے بدلے ہے ۔ فرمایا ہے آیت ( بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا ) 4 ۔ النسآء:155 ) بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان پر مہر لگا دی ۔ حدیث میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ دلوں کو الٹ پلٹ کرتا ہے ۔ دعا میں ہے حدیث ( یا مقلب القلوب ثبت قلوبنا علی دینک ) یعنی اے دلوں کے پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنے دین پر قائم رکھ ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دلوں پر فتنے اس طرح پیش ہوتے ہیں جیسے ٹوٹے ہوئے بورے کا ایک ایک تنکا جو دل انہیں قبول کر لیتا ہے اس میں ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اور جس دل میں یہ فتنے اثر نہیں کرتے ، اس میں ایک سفید نکتہ ہو جاتا ہے جس کی سفیدی بڑھتے بڑھتے بالکل صاف سفید ہو کر سارے دل کو منور کر دیتی ہے ۔ پھر اسے کبھی کوئی فتنہ نقصان نہیں پہنچا سکتا اسی طرح دوسرے دل کی سیاہی ( جو حق قبول نہیں کرتا ) پھیلتی جاتی ہے یہاں تک کہ سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے ۔ اب وہ الٹے کوزے کی طرح ہو جاتا ہے ۔ نہ اچھی بات اسے اچھی لگتی ہے نہ برائی بری معلوم ہوتی ہے ۔ امام ابن جریر کا فیصلہ وہی ہے جو حدیث میں آ چکا ہے کہ مومن جب گناہ کرتا ہے اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر وہ باز آ جائے توبہ کر لے اور رک جائے تو وہ نکتہ مٹ جاتا ہے اور اس کا دل صاف ہو جاتا ہے اور اگر وہ گناہ میں بڑھ جائے تو وہ سیاہی بھی پھیلتی جاتی ہے یہاں تک کہ سارے دل پر چھا جاتی ہے ، یہی وہ ران ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے آیت ( كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ ) 83 ۔ المطففین:14 ) یعنی یقیناً ان کے دلوں پر ران ہے ، ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے ( ترمذی ۔ نسائی ۔ ابن جریر ) امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے تو معلوم ہوا کہ گناہوں کی زیادتی دلوں پر غلاف ڈال دیتی ہے اور اس کے بعد مہر الٰہی لگ جاتی ہے جسے ختم اور طبع کہا جاتا ہے ۔ اب اس دل میں ایمان کے جانے اور کفر کے نکلنے کی کوئی راہ باقی نہیں رہتی ۔ اسی مہر کا ذکر اس آیت آیت ( ختم اللہ ) الخ میں ہے ، وہ ہماری آنکھوں دیکھی حقیقت ہے کہ جب کسی چیز کا منہ بند کر کے اس پر مہر لگا دی جائے تو جب تک وہ مہر نہ ٹوٹے نہ اس میں کچھ جا سکتا ہے نہ اس سے کوئی چیز نکل سکتی ہے ۔ اسی طرح جن کفار کے دلوں اور کانوں پر مہر الٰہی لگ چکی ہے ان میں بھی بغیر اس کے ہٹے اور ٹوٹے نہ ہدایت آئے ، نہ کفر جائے ۔ سمعھم پر پورا وقف ہے اور آیت ( علی ابصارھم غشاوۃ ) الگ پورا جملہ ہے ۔ ختم اور طبع دلوں اور کانوں پر ہوتی ہے اور غشاوت یعنی پردہ آنکھوں پر پڑتا ہے ۔ جیسے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت عبداللہ بن مسعود اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے ۔ قرآن میں ہے آیت ( فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ يَخْتِمْ عَلٰي قَلْبِكَ ۭ وَيَمْــحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ ) 42 ۔ الشوری:24 ) اور جگہ ہے آیت ( وختم علی سمعہ وقلبہ وجعل علی بصرہ غشاوۃ ان آیتوں میں دل اور کان پر ختم کا ذکر ہے اور آنکھ پر پردے کا بعض نے یہاں غشاوۃ زبر کے ساتھ بھی پڑھا ہے تو ممکن ہے کہ ان کے نزدیک فعل جعل مقصود ہو اور ممکن ہے کہ نصب محل کی اتباع سے ہو جیسے آیت ( وحورعین ) میں ۔ شروع سورت کی چار آیتوں میں مومنین کے اوصاف بیان ہوئے پھر ان دو آیتوں میں کفار کا حال بیان ہوا ۔ اب منافقوں کا ذکر ہوتا ہے جو بظاہر ایماندار بنتے ہیں لیکن حقیقت میں کافر ہیں چونکہ ان لوگوں کی چالاکیاں عموماً پوشیدہ رہ جاتی ہیں ۔ اس لئے ان کا بیان ذرا تفصیل سے کیا گیا اور بہت کچھ ان کی نشانیاں بیان کی گئیں انہی کے بارے میں سورۃ برات اتری اور انہی کا ذکر سورۃ نور وغیرہ میں کیا گیا تاکہ ان سے پورا بچاؤ ہو اور ان کی مذموم خصلتوں سے مسلمان دور رہیں ۔ پس فرمایا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

ف 1 یہ ان کے عدم ایمان کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ کفر و معصیت کے مسلسل ارتکاب کی وجہ سے ان کے دلوں سے قبول حق کی استعداد ختم ہوچکی ہے اور ان کے کان حق کی بات سننے کے لئے آمادہ نہیں اور ان کی نگاہیں کائنات میں پھیلی ہوئی رب کی نشانیاں دیکھنے سے محروم ہیں تو اب وہ ایمان کس طرح سے لاسکتے ہیں ؟ ایمان تو ان ہی لوگوں کے حصے آیا ہے اور آتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتے اور ان سے مغفرت حاصل کرتے ہیں۔ اس کے برعکس لوگ تو اس حدیث کا مصداق ہیں جس میں بیان کیا گیا ہے کہ مومن جب گناہ کر بیٹھتا ہے تو اس کے دل میں سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے اگر وہ توبہ کر کے گناہ سے باز آجاتا ہے تو اس کا دل پہلے کی طرح صاف اور شفاف ہوجاتا ہے اگر وہ توبہ کی بجائے گناہ پر گناہ کرتا جاتا ہے تو وہ نقطہ سیاہ پھیل کر اس کے پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ وہ زنگ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے (كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 14؀) 083:014 یعنی ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے جو ان کی مسلسل بداعمالیوں کا منطقی نتیجہ ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١] مہر کیسے کافروں کو لگتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ مہر صرف ان کافروں کے دلوں پر لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادات کو خوب سمجھ لینے کے بعد محض اپنی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے ٹھکرا دیتے ہیں۔ جیسے ایک دوسرے مقام پر فرمایا : آیت (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ 14۝ۧ) 27 ۔ النمل :14) اور ان لوگوں نے ہٹ دھرمی اور تکبر کی بنا پر (ان حقائق کا) انکار کردیا جن پر ان کے دل یقین کرچکے تھے اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا : آیت (كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ ١٠١۔ ) 7 ۔ الاعراف :101) && جس بات کو پہلے ایک دفعہ جھٹلا چکے تھے اس پر ایمان لانے کے لیے آمادہ نہ ہوئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔ && رہے عام کافر تو ان میں سے کثیر تعداد مسلمان ہوتی ہی رہی ہے۔ [١٢] دل کا کام بات کو سمجھنا اور کان کا کام سننا ہے اور یہ دونوں اعضاء کسی مخصوص جانب کے پابند نہیں۔ لیکن آنکھ صرف سامنے سے ہی دیکھ سکتی ہے۔ لہٰذا دلوں اور کانوں پر تو مہر کا ذکر کیا گیا اور آنکھ پر صرف پردے کا۔ ایسے لوگ حقائق کو سمجھنے کے لیے کیا تیار ہوں گے جنہیں ان کا سننا اور دیکھنا بھی گوارا نہ ہو۔ کیونکہ کان اور آنکھ ہی تو دل کے دو بڑے دروازے ہیں جن سے دل کو ہر طرح کی معلومات فراہم ہوتی ہیں۔ مہرکیوں اور کب لگتی ہے ؟ انسان کو اللہ تعالیٰ نے آنکھیں، کان اور دل اس لیے نہیں دیئے تھے کہ وہ ان اعضاء سے صرف اتنا ہی کام لے جتنا دوسرے حیوان لیتے ہیں اور جانوروں کی طرح صرف اپنے کھانے پینے اور دنیاوی مفادات پر ہی نظر رکھے۔ کیونکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے فہم و دانش کی دوسرے جانوروں سے بہت زیادہ قوتیں عطا فرمائی ہیں۔ انسان کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابیں نازل فرمائیں جو انسان کی توجہ کو کائنات میں ہر سو اللہ تعالیٰ کی بکھری ہوئی نشانیوں کی طرف مبذول کرتی ہیں۔ تاکہ انسان ان سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرے۔ پھر اگر انسان کانوں سے قرآن کی آیات کو سننا تک گوارا نہ کرے اور کائنات میں بکھری ہوئی آیات کو آنکھوں سے دیکھنے کی بھی زحمت گوارا نہ کرے تو اس کی ہدایت کی کوئی صورت باقی رہ جاتی ہے ؟ اور اس سے بھی بدتر صورت حال ان لوگوں کی ہے جو اللہ کی آیات سن بھی لیتے ہیں اور ان کے دل انہیں سمجھ بھی لیتے ہیں، لیکن وہ اپنی چودھراہٹوں یا بعض دوسرے دنیوی مفادات کی خاطر حق کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے، بلکہ الٹا مخالفت اور تعصب پر اتر آتے ہیں تو ایسے لوگوں کی آئندہ ہدایت پانے کی بھی کوئی صورت باقی نہیں رہ جاتی اور اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے دلوں اور کانوں پر مہر لگانے اور آنکھوں پر پردہ ڈالنے سے تعبیر فرمایا ہے اور اسی بات کی تائید درج ذیل مرفوع حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے۔ پھر اگر وہ گناہ چھوڑ دے اور استغفار کرے اور توبہ کرے تو اس کا دل صاف کردیا جاتا ہے اور اگر دوبارہ کرے تو نقطہ بڑھ جاتا ہے حتیٰ کہ دل پر چھا جاتا ہے اور یہی وہ زنگ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آیت (كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 14؀) 83 ۔ المطففین :14) (ترمذی، ابو اب التفسیر) مہر لگانے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں ؟ رہی یہ بات کہ اگر کافروں کے دلوں اور کانوں پر مہر ان کی اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے لگتی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو اپنی طرف منسوب کیوں کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اللہ ہی کا قانون ہے کہ جن اعضاء یا جن قویٰ سے انسان کام لینا چھوڑ دیتا ہے یا ان کی فراہم کردہ معلومات کو پس پشت ڈال دیتا ہے تو ان اعضاء اور قویٰ کی استعداد از خود زوال پذیر ہو کر ختم ہوجاتی ہے۔ مثلاً انسان اگر اپنے بازو سے کچھ مدت کوئی کام نہ لے اور اسے حرکت تک نہ دے تو وہ از خود شل ہوجائے گا، اس میں حرکت کرنے کی استعداد باقی ہی نہیں رہے گی اور یہ قانون بھی چونکہ اللہ تعالیٰ ہی کا بنایا ہوا ہے۔ لہٰذا اس فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف درست ہوئی۔ اگرچہ یہ انسان کے اپنے ہی شامت اعمال کے نتیجہ میں واقع ہوتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ان کے کفر اور اعمال بد کے نتیجے میں ان کے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں اور قبول حق کی استعداد جو فطرتاً ہر شخص میں رکھی گئی ہے، ان سے چھن چکی ہے۔ یہ مہر اگرچہ اللہ تعالیٰ نے لگائی ہے، مگر اس کا باعث ان کا عمل ہے، فرمایا : (بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا) [ النساء : ١٥٥ ] ” بلکہ اللہ نے ان پر ان کے کفر کی وجہ سے مہر کردی۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے، پھر جب وہ باز آجائے استغفار کرے اور توبہ کرے تو اس کا دل چمک جاتا ہے اور اگر دوبارہ گناہ کرے تو نکتہ بڑھا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے، یہی وہ زنگ ہے جو اللہ نے ذکر فرمایا ہے : (كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْن) [ المطففین : ١٤ ]” ہرگز نہیں، بلکہ زنگ بن کر چھا گیا ہے ان کے دلوں پر جو وہ کماتے ہیں۔ “ [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورة ویل للمطففین ۔۔ : ٣٣٣٤، عن أبی ہریرۃ (رض) و حسنہ الألبانی ] ” غشاوۃ “ پر تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ” بھاری پردہ “ کیا گیا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Favour withdrawn by Allah is a punishment These two verses tell us that the other world is the place where one would receive the real punishment for one&s disbelief or for some of one&s sins. One may, however, receive some punishment for certain sins even in this world. Such a punishment sometimes takes a very grievous form - that is, the divine favour which helps one to reform oneself is withdrawn, so that, ignoring how one&s deeds are to be assessed on the Day of Judgment, one keeps growing in disobedience and sin, and finally comes to lose even the awareness of evil. In delineating such a situation certain elders have remarked that one punishment for an evil deed is another evil deed which comes after, and one reward for a good deed is another good deed which comes after. According to a Hadith, when a man commits a sin, a black dot appears on his heart; this first dot disturbs him just as a smudge on a white cloth is always displeasing to us; but if, instead of asking Allah&s pardon for the first sin, he proceeds to commit a second, another dot shows up, thus, with every new sin the black dots go on multiplying till the whole heart turns dark, and now he can no longer see good as good nor evil as evil, and grows quite incapable of making such distinctions. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) added that The Holy Qur&an uses the term Ra&n or Rain (rust) for this darkness: as in Mishkat from the Musnad of Ahmad and Tirmidhi. كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ No. But what they did has rusted their hearts (83:14) According to another authentic Hadith reported by Tirmidhi from the blessed Companion Abu Hurairah (رض) the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said, |"When a man commits a sin, his heart grows dark, but if he seeks Allah&s pardon, it becomes clear again|". (See Qurtubi) It should be carefully noted that in announcing that it is all one whether the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ` warns the disbelievers or not, the Holy Qur&an adds the condition ` Alaihim علیھم (for them), which clearly indicates that it is all one for the disbelievers alone, and not for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) for he would in any case get a reward for bringing the message of Allah to his fellow-men and for his efforts to teach and reform them. That is why there is not a single verse in the Holy Qur&an which should dissuade the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) from calling even such people to Islam. From this we may infer that the man who strives to spread the Word of Allah and to reform his fellow-men does always get a reward for his good deed, even if he has not been effective. A doubt is removed We may also answer a question which sometimes arises in connection with the second of these two verses that speaks of the hearts and the ears of the disbelievers having been sealed and of their eyes being covered. We find a similar statement in another verse of the Holy Qur&an: كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ No. But what they did has rusted their hearts (83:14) which makes it plain that it is their arrogance and their evil deeds themselves that have settled do their hearts as a rust رَان . In the verse under discussion, it is this very rust which has been described as &a seal& or &a covering&. So, there is no occasion here to raise the objection that if Allah Himself has sealed their hearts and blocked their senses, they are helpless and cannot be held responsible for being disbelievers, and hence they should not be punished for what they have not themselves chosen to do. If we consider the two verses (2:7 and 83:14) together, we can easily see why they should be punished in adopting the way of arrogance and pride they have, willfully and out of their own choice, destroyed their capacity for accepting the truth, and thus they themselves are the authors of their own ruin. But Allah, being Creator of all the actions of His creatures, has in verse 2:7 attributed to Himself the setting of a seal on the hearts and the ears of the disbelievers, and has thus pointed out that when these people insisted, as a matter of their own choice, on destroying their aptitude for receiving the truth, Allah produced, as is His way in such cases, the state of insensitivity in their hearts and senses.

(١) گناہوں کی دنیوی سزا سلب توفیق : ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ کفر اور ہر گناہ کی اصل سزا تو آخرت میں ملے گی مگر بعض گناہوں کی کچھ سزا دنیا میں بھی مل جاتی ہے پھر دنیا کی سزا بعض اوقات یہ شکل اختیار کرتی ہے کہ اصلاح حال کی توفیق سلب ہوجاتی ہے، انسان آخرت کے حساب و کتاب سے بےفکر ہو کر اپنی نافرمانیوں اور گناہوں میں بڑہتا چلا جاتا ہے اور اس کی برائی کا احساس بھی اس کے دل سے جاتا رہتا ہے ایسے حال کے متعلق بعض بزرگوں کا ارشاد ہے ان من جزاء السۃ السیۃ بعدھا وان من جزاء الحسنۃ الحسنۃ بعدھا یعنی گناہ کی ایک سزا یہ بھی ہوتی ہے کہ ایک گناہ دوسرے گناہ کو کھینچ لاتا ہے جس طرح نیکی کا نقد بدلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک نیکی دوسری نیکی کو کھینچ لاتی ہے، اور ایک حدیث میں ہے کہ انسان جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے قلب پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اور جس طرح سفید کپڑے پر ایک سیاہ نقطہ انسان کو ناگوار نظر آتا ہے پہلے نقطہ گناہ سے بھی انسان پریشان ہوتا ہے لیکن اگر اس نے اس گناہ سے توبہ نہ کی اور دوسرا گناہ کرلیا تو ایک دوسرا نقطہ سیاہ لگ جاتا ہے، اور اسی طرح ہر گناہ پر سیاہ نقطے لگتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ یہ سیاہی سارے قلب پر محیط ہوجاتی ہے، اور اب اس کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ وہ نہ کسی اچھی چیز کو اچھا سمجھ سکتا ہے نہ بری چیز کو برا غرض نیکی بدی کا امتیاز اس کے دل سے اٹھ جاتا ہے اور پھر فرمایا کہ اسی ظلمت وسیاہی کا نام قرآن کریم میں ران یا راین آیا ہے كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ (مشکوٰۃ ازمسند احمد و ترمذی) اور ترمذی نے سند صحیح کے ساتھ بروایت ابوہریرہ نقل کیا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ انسان جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے پھر اگر وہ توبہ کرلے جو صاف ہوجاتا ہے (قرطبی) (٢) نصیحت ناصح کے لئے ہر حال میں مفید ہے مخاطب قبول کرے یا نہ کرے : اس آیت میں ازلی کافروں کے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وعظ و نصیحت کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر قرار دئیے گئے ہیں مگر ان کے ساتھ علیہم کی قید لگا کر بتلا دیا کہ یہ برابری کفار کے حق میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حق میں نہیں بلکہ ان کو تو تبلیغ وتعلیم اور اصلاح خلق کی کوشش کا ثواب بہرحال ملے گا اسی لئے پورے قرآن کریم کی کسی آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسے لوگوں کو بھی دعوت ایمان دینے سے روکا نہیں گیا اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دعوت دین اور اصلاح کا کام کرتا ہے خواہ مؤ ثر ہو یا نہ ہو اس کو بہرحال اپنے عمل کا ثواب ملتا ہے، ایک شبہ کا جواب : اس آیت کا مضمون وہی ہے جو سورة مطففین کی اس آیت کا ہے كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ (١٤: ٨٣) یعنی ایسا نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر ان کے زنگ بیٹھ گیا ہے جس میں حقیقت واضح کردی گئی ہے کہ ان بداعمالیاں اور سرکشی ہی ان کے دلوں کا زنگ بن گیا ہے اسی زنگ کو آیت مذکورہ میں مہر یا پردہ کے لفظوں سے تعبیر کیا گیا ہے اس لئے اس پر یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہی ان کے دلوں پر مہر کردی اور جو اس کو ماؤف کردیا ہے تو یہ اپنے کفر میں معذور ہوگئے پھر ان کو عذاب کیسا ؟ وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے شرارت وعناد کر کے باختیار خود اپنی استعداد برباد کرلی ہے اس لئے اس تباہی استعداد کے فاعل اور مسبب یہ خود ہیں البتہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے تمام افعال کے خالق ہونے کی حیثیت سے اس جگہ مہر کرنے کو اپنی طرف نسبت کر کے یہ بتلادیا کہ جب ان لوگوں نے قبول حق کی صلاحیت و استعداد کو اپنے اختیار سے تباہ کرنا چاہا تو سنت الٓیہ کے مطابق ہم نے وہ بد استعداد کی کیفیت ان کے قلوب اور حواس میں پیدا کردی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

خَتَمَ اللہُ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰي سَمْعِہِمْ۝ ٠ ۭ وَعَلٰٓي اَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌ۝ ٠ ۡوَّلَھُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۝ ٧ ۧ ختم الخَتْمُ والطّبع يقال علی وجهين : مصدر خَتَمْتُ وطبعت، وهو تأثير الشیء کنقش الخاتم انتهيت إلى آخره، فقوله : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وقوله تعالی: قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصارَكُمْ وَخَتَمَ عَلى قُلُوبِكُمْ [ الأنعام/ 46] ، إشارة إلى ما أجری اللہ به العادة أنّ الإنسان إذا تناهى في اعتقاد باطل، أو ارتکاب محظور۔ ولا يكون منه تلفّت بوجه إلى الحقّ- يورثه ذلك هيئة تمرّنه علی استحسان المعاصي، وكأنما يختم بذلک علی قلبه، وعلی ذلك : أُولئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصارِهِمْ [ النحل/ 108] ، وعلی هذا النّحو استعارة الإغفال في قوله عزّ وجلّ : وَلا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنا [ الكهف/ 28] ، واستعارة الكنّ في قوله تعالی: وَجَعَلْنا عَلى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ [ الأنعام/ 25] ، واستعارة القساوة في قوله تعالی: وَجَعَلْنا قُلُوبَهُمْ قاسِيَةً [ المائدة/ 13] ، قال الجبّائيّ : يجعل اللہ ختما علی قلوب الکفّار، ليكون دلالة للملائكة علی كفرهم فلا يدعون لهم ولیس ذلک بشیء فإنّ هذه الکتابة إن کانت محسوسة فمن حقّها أن يدركها أصحاب التّشریح، وإن کانت معقولة غير محسوسة فالملائكة باطّلاعهم علی اعتقاداتهم مستغنية عن الاستدلال . وقال بعضهم : ختمه شهادته تعالیٰ عليه أنه لا يؤمن، وقوله تعالی: الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلى أَفْواهِهِمْ [يس/ 65] ، أي : نمنعهم من الکلام، وَخاتَمَ النَّبِيِّينَ [ الأحزاب/ 40] ، لأنه خَتَمَ النّبوّة، أي : تمّمها بمجيئه . وقوله عزّ وجلّ : خِتامُهُ مِسْكٌ [ المطففین/ 26] ، قيل : ما يختم به، أي : يطبع، وإنما معناه : منقطعه وخاتمة شربه، أي : سؤره في الطيّب مسك، وقول من قال يختم بالمسک «3» أي : يطبع، فلیس بشیء، لأنّ الشّراب يجب أن يطيّب في نفسه، فأمّا ختمه بالطّيب فلیس ممّا يفيده، ولا ينفعه طيب خاتمه ما لم يطب في نفسه . ( خ ت م ) الختم والطبع ۔ کے لفظ دو طرح سے استعمال ہوتے ہیں کبھی تو ختمت اور طبعت کے مصدر ہوتے ہیں اور اس کے معنی کسی چیز پر مہری کی طرح نشان لگانا کے ہیں اور کبھی اس نشان کو کہتے ہیں جو مہر لگانے سے بن جا تا ہے ۔ مجازا کبھی اس سے کسی چیز کے متعلق وتوق حاصل کرلینا اور اس کا محفوظ کرنا مراد ہوتا ہے جیسا کہ کتابوں یا دروازوں پر مہر لگا کر انہیں محفوظ کردیا جاتا ہے ۔ کہ کوئی چیز ان کے اندر داخل نہ ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ وَخَتَمَ عَلى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ [ الجاثية/ 23] اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی ۔ اور کبھی کسی چیز کا اثر حاصل کرلینے سے کنایہ ہوتا ہے جیسا کہ مہر نقش ہوجاتا ہے اور اسی سے ختمت القرآن کا محاورہ ہے ۔ یعنی قرآن ختم کرایا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگادی اور آیت : ۔ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصارَكُمْ وَخَتَمَ عَلى قُلُوبِكُمْ [ الأنعام/ 46]( ان کافروں سے ) کہو بھلا دیکھو تو اگر خدا تمہارے کان یا دو آنکھیں چجین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے ۔ میں عادت الہیہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب انسان اعتقاد باطل بامحرمات کے ارتکاب میں حد کو پہنچ جاتا ہے اور کسی طرح حق کی طرف ( التفات نہیں کرنا تو اس کی ہیئت نفسانی کچھ ایسی بن جاتی ہے کہ گناہوں کو اچھا سمجھنا اس کی خوبن جاتی ہے ۔ گویا اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے ۔ چناچہ اس ی معنی میں فرمایا : ۔ أُولئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصارِهِمْ [ النحل/ 108] یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اسی طرح آیات کریمہ : ۔ وَلا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنا [ الكهف/ 28] اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے ۔۔۔ اس کا کہا نہ ماننا۔ وَجَعَلْنا عَلى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ [ الأنعام/ 25] اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں ۔ وَجَعَلْنا قُلُوبَهُمْ قاسِيَةً [ المائدة/ 13] اور ان کے دلوں سخت کردیا ۔ میں اعفال کن اور قساوۃ سے بھی علی الترتیب یہی معنی مراد ہیں ۔ جبائی کہتے ہیں کہ اللہ کے کفار کے دلوں پر مہر لگانے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انکے دلوں پر ایسی علامت قائم کردیتے ہیں کہ فرشتے انکے کفر سے آگاہ ہوجاتے ہیں اور ان کے حق میں دعائے خیر نہیں کرتے ۔ لیکن یہ بےمعنی سی بات ہے ۔ کیونکہ اگر یہ کتابت محسوس ہو تو اصحاب التشریح ( ) کو بھی اس کا ادراک ہونا ضروری ہے اور اگر سراسر عقلی اور غیر محسوس ہے تو ملائکہ ان کے عقائد باطلہ سے مطلع ہونے کے بعد اس قسم کی علامات سے بےنیاز ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مہر لگانے کے معنی ان کے ایمان نہ لانے کی شہادت دینے کے ہیں ۔ اور آیت کریمہ :۔ الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلى أَفْواهِهِمْ [يس/ 65] آج ہم ان کے موہوں پر مہر لگادیں ۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ کلام نہیں کرسکیں گے اور آیت میں آنحضرت کو خاتم النبین فرمانے کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت نے اپنی آمد سے سلسلہ نبوت کی مکمل کردیا ۔ ہے ( اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ) اور آیت کریمہ :۔ خِتامُهُ مِسْكٌ [ المطففین/ 26] جسکی مہر مسک کی ہوگی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ ختام کے معنی مایختم بہ کے ہیں یعنی وہ چیز جس سے مہر لگائی جائے مگر آیت کے معنی یہ ہیں کہ اس کا آخری لطف اور برین میں باقی ماندہ جھوٹ مسک کی طرح مہ کے گا اور بعض نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ اس پر کستوری کی مہر لگی ہوئی ہوگی مگر یہ بےمعنی سی بات ہے ۔ کیونکہ شراب کو بذات خود لذت ہونا چاہیے اگر وہ بذات خود لذت لذیذ نہ ہو تو اس پر مسک کی مہر لگانا چنداں مفید نہیں ہوسکتا ، اور نہ ہی اس کی لذت میں اضافہ کا باعث بن سکتا ہے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔ بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔ غشي غَشِيَهُ غِشَاوَةً وغِشَاءً : أتاه إتيان ما قد غَشِيَهُ ، أي : ستره . والْغِشَاوَةُ : ما يغطّى به الشیء، قال : وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23] ( غ ش و ) غشیۃ غشاوۃ وغشاء اس کے پاس اس چیز کی طرح آیا جو اسے چھپائے غشاوۃ ( اسم ) پر دہ جس سے کوئی چیز ڈھانپ دی جائے قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23] اور اس کی آنکھوں پر پر دہ ڈال دیا ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا عظیم وعَظُمَ الشیء أصله : كبر عظمه، ثم استعیر لكلّ كبير، فأجري مجراه محسوسا کان أو معقولا، عينا کان أو معنی. قال : عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] ، قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] ، ( ع ظ م ) العظم عظم الشئی کے اصل معنی کسی چیز کی ہڈی کے بڑا ہونے کے ہیں مجازا ہر چیز کے بڑا ہونے پر بولا جاتا ہے خواہ اس کا تعلق حس سے یو یا عقل سے اور عام اس سے کہ وہ مادی چیز ہو یا مون ی قرآن میں ہے : ۔ عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] بڑے سخت دن کا عذاب ) تھا ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] کہہ دو کہ وہ ایک سخت حادثہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧) اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کے کانوں اور آنکھوں پر پردہ ہے اور آخرت میں ان کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔ شان نزول : (آیت) ” ان الذین کفروا “۔ (الخ) ابن جریر (رح) نے ابن اسحاق (رح) ، محمد بن ابی (رح) ، عکرمہ (رح) ، سعید بن جبیر (رح) ، حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کے واسطے سے اللہ تعالیٰ کے فرمان (آیت) ” ان الذین کفروا “۔ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ دو آیات مدینہ منورہ کے یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اور ابن جریر ہی نے ربیع بن انس (رض) کے ذریعے سے روایت کیا ہے کہ (آیت) ” ان الذین کفرو “۔ سے (آیت) ” ولھم عذاب عظیم “۔ تک یہ دو آیات غزوہ احزاب کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧ (خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَعَلٰی سَمْعِھِمْ ط) ایسا کیوں ہوا ؟ ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر ابتدا ہی میں نہیں لگا دی گئی ‘ بلکہ جب انہوں نے حق کو پہچاننے کے بعدردّکر دیا تو اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی اور ان کی سماعت پر بھی۔ (وَعَلٰی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌز یہ مضمون سورة یٰسٓ کے شروع میں بہت شرح و بسط کے ساتھ دوبارہ آئے گا۔ (وَّلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ) ‘ یہ دوسرے گروہ کا تذکرہ ہوگیا۔ ایک رکوع (کل سات آیات) میں دو گروہوں کا ذکر سمیٹ لیا گیا۔ ایک وہ گروہ جس نے قرآن کریم کی دعوت سے صحیح صحیح استفادہ کیا ‘ ان میں طلب ہدایت کا مادہ موجود تھا ‘ ان کی فطرتیں سلیم تھیں ‘ ان کے سامنے دعوت آئی تو انہوں نے قبول کی اور قرآن کے بتائے ہوئے راستے پر چلے۔ وہ گلستان محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گل سرسبد ہیں۔ وہ شجرۂ قرآنی کے نہایت مبارک اور مقدس پھل ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جس نے حق کو پہچان بھی لیا ‘ لیکن اپنے تعصبّ یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس کو ردّ کردیا۔ ان کا ذکر بھی بہت اختصار کے ساتھ آگیا۔ ان کا تفصیلی ذکر آپ کو مکی سورتوں میں ملے گا۔ اب آگے تیسرے گروہ کا ذکر آ رہا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

10. This does not mean that their rejection of the Truth is a consequence of God sealing their hearts. What is meant is that God sealed their hearts and ears as a consequence of their decision to reject the fundamentals of faith, of their deliberate choice of a path divergent from that charted out by the Qur'an. Anyone who has worked for the dissemination of the Truth often finds that if, after full consideration, a person decides against a doctrine, his mind begins to move in a completely opposite direction so that he fails to appreciate anything that is explained to him. His ears become deaf, his eyes are blinded to the merits of that doctrine, and one gets the distinct impression that the person's heart has indeed been sealed.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :10 اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ نے مُہر لگا دی تھی ، اس لیے انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کیا ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے ان بنیادی امور کو رد کر دیا جن کا ذکر اُوپر کیا گیا ہے ، اور اپنے لیے قرآن کے پیش کردہ راستہ کے خلاف دُوسرا راستہ پسند کر لیا ، تو اللہ نے ان کے دِلوں اور کانوں پر مُہر لگا دی ۔ اس مُہر لگنے کی کیفیت کا تجربہ ہر اس شخص کو ہوگا جسے کبھی تبلیغ کا اتفاق ہوا ہو ۔ جب کوئی شخص آپ کے پیش کردہ طریقے کو جانچنے کے بعد ایک دفعہ رد کر دیتا ہے ، تو اس کا ذہن کچھ اس طرح مخالف سمت میں چل پڑتا ہے کہ پھر آپ کی کوئی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی ، آپ کی دعوت کے لیے اس کے کان بہرے ، اور آپ کے طریقے کی خوبیوں کے لیے اس کی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں ، اور صریح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ فی الواقع اس کے دل پر مُہر لگی ہوئی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

(٩) اس آیت میں یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ ضد اور ہٹ دھرمی بڑی خطرناک چیز ہے، اگر کوئی شخص ناواقفیت یاغفلت وغیرہ کی وجہ سے کسی غلطی کا ارتکاب کرے تو اس کی اصلاح کی امید ہوسکتی ہے ؛ لیکن جو شخص غلطی پر اڑ جائے اور تہیہ کرلے کہ کسی بھی حالت میں بات نہیں ماننا ہے، تو اس کی ضد کا آخری انجام یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے دل پر مہر لگادی جاتی ہے جس کے بعد اس سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی ختم ہوجاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس حالت سے محفوظ رکھے، لہذا اس پر شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ جب خود اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پر مہر لگادی تو معذور ہوگئے اس لئے کہ یہ مہر لگانا خود انہی کی ضد اور تہیہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ حق بات نہیں ماننی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:7) ختم ماضی واحد مذکر غائب۔ ختم (باب ضرب) مصدر سے۔ اس نے مہر لگائی۔ اس نے مہر لگا دی۔ امام راغب فرماتے ہیں۔ الختم ۔ الطبع کے لفظ دو طرح سے استعمال ہوتے ہیں ۔ کبھی تو ختمت۔ اور طبعت کے مصدر ہوتے ہیں اور اس کے معنی کسی چیز پر مہر کی طرف نشان لگانے کے ہیں۔ اور کبھی اس نشان کو کہتے ہیں جو مہر لگانے سے بن جاتا ہے۔ اور مجازاً کبھی اس سے کسی چیز کے متعلق وثوق حاصل کرلینا۔ اور اس کا محفوظ کرلینا مراد ہوتا ہے جیسا کہ کتابوں یا دروازوں پر مہر لگا کر انہیں محفوظ کردیا جاتا ہے کہ کوئی چیز ان کے اندر داخل نہ ہو۔ یہاں آیت ہذا میں بھی ختم اللہ علی قلوبھم کے معنی ہیں : خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگا رکھی ہے (کہ نصیحت و پندار کا ان میں دخل نہیں ہوتا) ۔ وعلی سمعھم : واؤ عاطفہ ہے۔ علی سمعھم معطوف ہے علی قلوبھم پر۔ ای و ختم اللہ علی سمعھم اور اللہ تعالیٰ نے ان کے کانوں پر مہر لگا دی۔ سمع اصل میں مصدر ہے اور مصادر جمع کی صورت میں نہیں لائے جاتے اس لئے یہاں لفظ سمع مفرد لایا گیا ہے۔ ابصارھم مضاف مضاف الیہ، ان کی آنکھیں۔ ابصار۔ بصر کی جمع ہے اور اس کا معنی ہے کسی چیز کا آنکھ سے ادراک کرنا۔ لیکن کبھی اس کا اطلاق قوت باصرہ پر بھی ہوا کرتا ہے۔ کبھی نفس آنکھ کو بھی بصر کہتے ہیں۔ غشاوۃ : غشی یغشی (باب سمع) کا مصدر ہے۔ غشیہ، غشاوۃ، وغشاء اس کے پاس اس چیز کی طرح آیا جو اسے چھپائے۔ غشاوۃ (اسم) وہ پر وہ جس سے کوئی چیز ڈھانپ دی جائے۔ وعلی ابصارھم غشاوۃ : اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وجعل علی بصرہ غشاوۃ (45:23) اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اور واللیل اذا یغشی (92:1) رات کی قسم جو (دن کو) چھپالے۔ فائدہ : علامہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں ختم اللہ ۔۔ الخ۔ یہ اس دعوی کی (کہ ان پر ہدایت کا کچھ اثر نہ ہوگا۔ وعظ کرنا نہ کرنا برابر ہے) دلیل ہے اور یہ دلیل اس لئے بیان ہوئی ہے کہ بظاہر اس دعوی کا ثبوت نظر نہیں آتا تھا۔ اس کے ثبوت میں فرمایا کہ یہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر کردی ہے۔ اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے یعنی ان کی جبلت میں تاریکی ہے اور بہمیت کی اندھیریوں نے ان کو ہر طرف سے محیط ہو کر اس امر کے قابل ہی نہ رکھا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی گنا ہوں کو کثرت سے ان کتے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں اور قبول حق کے استعداد جو فطرتا ہر شخص میں ودیعت کی گئ ہے ان سے سلب ہوچکی ہے اباان حق ناحق کی تمیز باقی نہیں ر ہی گویا ان کے دل ایسے ہوگئے ہیں فی سے کسی چیز کو بند کرکے اس پر مہر لگا دی جائے گا یا یہ کہا جائے کہ ختم ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مگر ہے ان کے مسلسل گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے چناچہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مر فو عا مروی ہے کہ جب مومن گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے پھر اس نے توبہ کرلی تو بڑھنے سے رک گیا اور گناہ سے بچنے کی کوشش کی تو اس کا دل صاف ہوگیا۔ اور اگر وہ گنا پر گنا کرتا گیا تو وہ سیاہ نقطہ پھیل کر سارے دل پر چھا گیا۔ فرمایا یہی زنگ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے۔ ( ابن جریر)3 یعنی گناہوں کو کثرت سے ان کے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں اور قبول حق کے استعداد جو فطرتا ہر شخص میں ودیعت کی گئ ہے ان سے سلب ہوچکی ہے اباان حق ناحق کی تمیز باقی نہیں ر ہی گویا ان کے دل ایسے ہوگئے ہیں فی سے کسی چیز کو بند کرکے اس پر مہر لگا دی جائے گا یا یہ کہا جائے کہ ختم ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مگر ہے ان کے مسلسل گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے چناچہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مر فو عا مروی ہے کہ جب مومن گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے پھر اس نے توبہ کرلی تو بڑھنے سے رک گیا اور گناہ سے بچنے کی کوشش کی تو اس کا دل صاف ہوگیا۔ اور اگر وہ گناہ پر گناہ کرتا گیا تو وہ سیاہ نقطہ پھیل کر سارے دل پر چھا گیا۔ فرمایا یہی زنگ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے۔ ( ابن جریر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم وعلی ابصارھم غشاوۃ ولھم عذاب عظیم۔ ان کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی ہے کانوں پر بھی اور ساتھ ہی آنکھوں پر بھی پردہ ڈال دیا ہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے ہم دل کو ایک پمپنگ مشین سمجھتے تھے مگر یہ تو بری شے نکلا۔ ذرا سوچیں تو دماغ کیا ہے ؟ رگوں کا ایک مجموعہ ۔ مگر اس میں کیا کچھ خزانے دفن ہیں اور کس قدر علوم کو سیکھنے کی قوت ہے کس قدر یاداشتیں اور کتنی وسعت ہے اپنے سارے کمال کے باوجود خطاب الٰہی کا سزاوار نہ ٹھہرا مگر یہ نعمت دل کے حصے میں آئی فرمایا ، نزل بہ الروح الامین علی قلبک یعنی کلام الٰہی کا نزول قلب پر ہوا گویا قلب کی استعداد اس سے کروڑوں گنازیادہ نکلی اس کی دست ناپیدا کنار اور عظمت ناپ کے پیمانوں سے بالا تر نکلی نہ صرف لوتھڑا نہیں اور نہ صرف مشین ہے بلکہ ایک وسیع کائنات ہے ایک مکمل جہان ہے۔ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے قلوب فیضان باری کو قبول کرتے اور تقسیم کرتے ہیں اور مومنین کے قلوب ان سے انوار کو اخذ کرتے ہیں۔ مگر کفر ایسی بلا ہے جو قلوب سے استعداد چین لیتی ہے جیسے خود کشی کرنے والا جب اپنے آپ کو گولی مارتا ہے تو موت تو اسے اللہ ہی دیتا ہے مگر اس کا سبب وہ خود بنا۔ اسی طرح ایک غلط کار انسان کی مسلسل غلط کاری دل کی موت کا سبب بن جاتی ہے اور اللہ اس کے دل پر مہر کردیتا ہے جس کا سبب اس کا اپنا کردار ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نقطہ پیدا ہوجاتا ہے اگر توبہ کرے تو خیر ورنہ ہر گناہ سے سیاہی بڑھتی رہتی ہے جو آخر کار سارے دل کو سیاہ کردیتی ہے اسی کا دل کا اندھا پن اور دل کی موت کہا گیا ہے اگر انسان جسمانی زندگی سے زندہ بھی رہا تو کیا ہوا ؟ بیشمار جانور یہ زندگی گزار رہے ہیں اس کی اصل فضیلت تو اس کی روحانی زندگی تھی جسے اس کی نادانی نے کھو دیا۔ یہاں ایک لطیفہ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ خالق اور مخلوق خدا کے درمیان ایک تعلق ایسا لطیف تر ہے جو ان کا ذاتی ہے اور بجز ذات باری کوئی نہیں جانتا۔ حتیٰ کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی تب اطلاع ہوئی جب اللہ نے بتایا کہ ان افراد یا اس قسم کے افراد کے ساتھ میرا تعلق اس حد تک گزر چکا ہے کہ اب ان کو تو بہ نصیب نہ ہوگی تو یہ تعلق چونکہ ہر انسان کا علیحدہ ہے اس لئے ہر آدمی پر نزول رحمت بھی الگ طرح سے ہوتا ہے۔ اجتماعی ذکر کی حکمت : یہی وجہ ہے کہ مشائخ اجتماعی ذکر کی تلقین فرماتے ہیں کہ ایک شخص پر ایک رنگ کی رحمت ہوگی تو دوسرے پر دوسری طرح کے انوار ، لہٰذا کافی لوگ ہوئے تو انوار بھی رنگارنگ ہوں گے گویا ایک گلدستہ بن رہا ہے اور یہ راز صلوٰۃ باجماعت میں بھی ہے۔ یہ سب انعامات دل کی دنیا میں ہیں جنہوں نے یہ دولت ہی ضائع کردی ایا اس طرف متوجہ ہی نہ ہوئے ان کو اس وقت خبر ہوگی جب مادی جہان اور اس کی نعمتیں نہ رہیں گی اور صرف وہ انعامات باقی ہوں گے جن کا مدار دل کی زندگی ، روح کی زندگی اور اس کی استعداد پر ہے۔ دماغ اور زبان کا اقرار عنداللہ اس وقت تک معتبر نہیں جب تک تصدیق قلبی ساتھ نہ ہو تو گویا جس طرح جسم مادی دنیا میں پیدا ہوتا ہے۔ پیغام الٰہی کی تصدیق کرکے دل بھی زندگی کے میدان میں وارد ہوا مگر اس کے بعد لوگ صرف جسم کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں اور یہ نومولود قلب سسکتا بلکتارہ جاتا ہے اور بالآخر چند ہچکیاں لے کر موت کی اٹھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتا ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ لوگ مسلمان گھرانوں میں جنم لینے کے بعد کس کس طرح کفر کی دلدل میں پھنس رہے ہیں۔ اعضا ظاہری کی سلامتی کے ساتھ بےچارے دل اور اس کے سمع بصر کو کھو بیٹھے۔ اعاذن اللہ منھا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ انہوں نے شرارت وعناد کر کے باختیار خود اپنی استعداد برباد کرلی ہے سو اس تباہی و استعداد کا سبب وفاعل تو وہ خود ہی ہیں مگر چونکہ بندوں کے جمیع افعال کا خالق اللہ سبحانہ وتعالی ہے اس لیے اس آیت میں اپنے خالق ہونے کا بیان فرمادیا کہ جب وہ تباہی استعداد کے فاعل ہوئے اور اس کو بقصد خود اختیار کرنا چاہا تو ہم نے بھی وہ بداستعدادی کی کیفیت ان کے قلوب وغیرہ میں پیدا کردی بند لگانے سے اسی بداستعدادی کا پیدا کرنا مراد ہے ان کا یہ فعل اس ختم کا سبب ہو ختم الہی اس فعل کا سبب نہیں ہوا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

دوسرے مقام پر قرآن مجید نے واضح فرمایا ہے کہ ان کے گناہوں اور کفر کی وجہ سے ان کے کان بہرے، آنکھیں اندھی اور دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں۔ (الاعراف : ١٧٩) ان آیات میں کفر و شرک کے مریض کی حالت اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بھر پورکوششوں کا نقشہ پیش فرما کر رب کریم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے اور انکار کرنے والوں پر ہمیشہ کی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان کو اس قدر ہولناک اور اذیت ناک عذاب ہوگا کہ وہ دنیا کی سب نعمتوں اور سہولتوں کو بھول جائیں گے۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یُؤْتٰی بِأَنْعَمِ أَھْلِ الدُّنْیَا مِنْ أَھْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُصْبَغُ فِی النَّارِ صَبْغَۃً ثُمَّ یُقَالُ یَاابْنَ آدَمَ ھَلْ رَأَیْتَ خَیْرًا قَطُّ ھَلْ مَرَّبِکَ نَعِیْمٌ قَطُّ فَیَقُوْلُ لَاوَاللّٰہِ یَارَبِّ وَیُؤْتٰی بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْیَا مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیُصْبَغُ صَبْغَۃً فِي الْجَنَّۃِ فَیُقَالُ لَہٗ یَا ابْنَ آدَمَ ھَلْ رَأَیْتَ بُؤْسًا قَطُّ ھَلْ مَرَّ بِکَ شِدَّۃٌ قَطُّ فَیَقُوْلُ لَا وَاللّٰہِ یَارَبِّ مَا مَرَّ بِيْ بُؤْسٌ قَطُّ وَلَا رَأَیْتُ شِدَّۃً قَطُّ ) (رواہ مسلم : کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب صبغ أنعم أھل الدنیا فی النار .....) ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : روز قیامت دنیا میں سب سے زیادہ ناز و نعمت میں پلنے والے جہنمی کو لا کر آگ میں غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے کبھی کوئی بہتری دیکھی ؟ کیا تجھے کوئی نعمت ملی ؟ تو وہ کہے گا : اللہ کی قسم ! اے میرے رب میں نے کوئی نعمت نہیں دیکھی۔ پھر ایک جنتی کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ تکلیفوں میں رہا اسے جنت میں داخل کر کے پوچھا جائے گا اے ابن آدم ! کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف اور سختی دیکھی ؟ وہ عرض کرے گا نہیں اللہ کی قسم ! مجھے کبھی کوئی تکلیف اور مصیبت نہیں آئی۔ “ مسائل ١۔ کفر پر پکے لوگوں کو سمجھانا یا نہ سمجھانا ایک جیسا ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن جن لوگوں کے دلوں پر اللہ نے مہریں لگائی ہیں : ١۔ کفار۔ (الأعراف : ١٠١) ٢۔ خواہشات کا بندہ۔ (الجاثیۃ : ٢٣) ٣۔ مجرم۔ (یٰس : ٦٥) ٤۔ یہودی۔ ( النساء : ١٥٥) ٥۔ منافقین۔ (التوبۃ : ٨٧، ٩٣) ٦۔ جاہل بےعلم۔ ( الروم : ٥٩) ٨۔ حد سے تجاوز کرنے والا۔ ( یونس : ٧٤) ٩۔ دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دینے والا۔ ( النحل : ١٠٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

خَتَمَ اللہ ُ عَلٰی قُلُوبِہِم وَ عَلٰٓی سَمعِہِم ” اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے ۔ “ جس کی وجہ سے وہ حقیقت رشد وہدایت پانے اور حق کی آواز سننے کے قابل نہیں رہے ۔ وَ عَلٰٓی اَبصَارِھِم غِشَاوَةٌ ز ” اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ لہٰذا وہ نور ہدایت دیکھنے سے محروم ہیں ۔ چونکہ انہوں نے اپنی غلط روش سے مسلسل انذار وتبشیر کو ٹھکرادیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی اس روش پر انہیں دنیا ہی میں سخت سزادی کہ ان کے دلوں پر مہر لگادی ، آنکھوں پر پردے پڑگئے اور ان کے کان صدائے صداقت کے لئے بہرے ہوگئے ہیں ۔ یوں ان کے لئے وعظ وتبلیغ اور انہیں خبردار کرنا نہ کرنا برابر ہوگیا۔ یہ نہایت کرخت ، جامد اور تاریک تصویر ہے ، جو ان لوگوں کے دل و دماغ کی گہری تاریکی وسیاہی اور مسلسل اندھے پن اور بہرے پن کی روش اختیار کرنے کی وجہ سے منقش ہوکر ہمارے سامنے جلوہ گر ہوتی ہے ۔ وَّلَہُم عَذَابٌ عَظِیمٌ” اور وہ سخت عذاب کے مستحق ہیں ۔ “ کیونکہ یہی ان کی معاندانہ اور کافرانہ روش کا قدرتی انجام ہے ، جو لوگ ڈرانے والے کی بات کو مان کر نہیں دیتے اور جن کو ڈرانا یا نہ ڈرانا یکساں ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں بھی یہ بات ہوتی ہے کہ یہ لوگ آخر تک اپنی اس روش پر قائم رہیں گے ۔ وہ اسی انجام کے مستحق ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

11 ۔ یہ جملہ معللہ ہے اور ماقبل کی علت اور اس کا سبب بیان کر رہا ہے۔ اعلم انہ تعالیٰ لما بین فی الایۃ انھم لا یومنون اخبر فی ھذہ الایۃ باالسبب الذی لاجلہ لم یومنوا وھو الختم (تفسیر کبیر ص 270 ج 1) خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ استیناف تعلیلی لما سبق من الحکم (ابو السعود ص 288 ج 1 اشارۃ الی برھان لمی للحکم السابق (روح المعانی ص 131 ج 1) یعنی پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انذار کے باوجود ایمان نہیں لائیں گے۔ کیونکہ ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگ چکی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑچکا ہے۔ قبول حق کی تمام راہیں ان پر بند ہوچکی ہیں اس لیے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اور اس دولت سے ہمیشہ کے لیے محروم رہیں گے۔ اب یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ہی نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اور اس طرح ان پر قبول ہدایت کی تمام راہیں روک دیں تو پھر اگر وہ ایمان نہیں لائے اور کفر پر مرگئے تو انہیں سزا کس قصور پر دی جائے گی ؟ کیونکہ مہر خداوندی کی وجہ سے وہ کفر پر مرنے پر مجبور تھے۔ لہذا یہ بات عدل و انصاف کے منافی ہے کہ ایسے لوگوں کو سزا دی جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ہے، وہ کسی کو بلا قصور سزا نہیں دیتا اس آیت میں ان کافروں کا جو انجام بیان کیا گیا ہے وہ خود ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا۔ دیکھنے سننے کے لیے اسے آنکھیں اور کان دئیے غور وفکر اور سوچ بچار کیلئے اسے دل و دماغ اور عقل و شعور کی دولت سے مالا مال فرمایا۔ ارشاد ہے۔ وَاللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَـيْـــًٔـا ۙ وَّجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ( سورة نحل رکوع 11) پھر آفاق وانفس کے واضح اور روشن دلائل کے دفتر اس کے سامنے کھول دئیے تاکہ وہ اپنے حواس کے ذریعے ان میں غور وفکر کر کے حق و باطل میں امتیاز کرسکے۔ سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ (حم السجدہ رکوع 6) اور پھر اس پر ہی بس نہیں کی بلکہ سیدھی راہ دکھانے اور عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ حق سمجھانے کے لیے پیغمبر بھی بھیجے جنہوں نے دن رات اللہ کا پیغام انہیں سنایا اور ان کے تمام شبہات دور کر کے اللہ کی حجت ان پر قائم کی۔ رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ ( سورة نساء رکوع 23) لیکن اس کے باوجود کہ حق ان پر واضح ہوگیا۔ اور انہوں نے حق کو اچھی طرح پہچان لیا۔ انہوں نے حق کو نہ مانا بلکہ محض ضد وعناد کی وجہ سے کفر و انکار پر ڈٹے رہے۔ نہ آنکھوں سے کام لیا نہ کانوں سے۔ نہ عقل و شعور ہی کو استعمال کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ کفر و انکار ان کے رگ وریشہ میں سرایت کر کے ان کی طبیعت ثانیہ بن گیا۔ ان کے حواس بیکار ہوگئے اور حق کا احساس و شعور ہمیشہ کیلئے ان سے رخصت ہوگیا۔ اور ان پر گمراہی کی ایک ایسی تاریکی اور ظلمت چھا گئی کہ اب وہ اس سے باہر نہیں آسکتے۔ گمراہی کی اس کیفیت کو مہر سے تعبیر کیا گیا ہے تو یہ مہر جو لگی ہے تو وہ قانونِ تکوینی کے تحت اپنے اسباب وعلل کی بنا پر لگی ہے۔ جب کوئی شخص حق کو پہچاننے کے بعد محض ضد وعناد کی وجہ سے اپنے ارادے اور اختیار سے کفر کو ایمان پر ترجیح دیتا ہے تو اس سے ایمان کی توفیق چھین لی جاتی ہے اور اس کے حواس بیکار ہوجاتے ہیں اور وہ جدھر جانا چاہے اسے ادھر ہی کو دھکیل دیا جاتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ اَبْصَارُهُمْ وَلَآ اَفْــِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَيْءٍ اِذْ كَانُوْےَجْـحَدُوْنَ ۙبِاٰيٰتِ اللّٰهِ ( سورة احقاف رکوع 3) اور دوسری جگہ ارشاد ہے۔ وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا ( سورة نساء رکوع 17) اس سے معلوم ہوا کہ ان کے حواس پر مہر کا لگنا، اور سعادتِ ایمان سے ان کی ابدی محرومی، یہ ان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہیں۔ ان کے جحود و انکار اور ضدوعناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس مہر کی وجہ سے انہیں کفر پر مجبور کیا گیا ہے۔ حضرت شیخ روح اللہ روحہ اسے مہرجباریت " سے تعبیر فرمایا کرتے تھے۔ اور عارف رومی (رح) کا یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔ ایں نہ جبر و معنی جباریست معنی جابریت رازاری ست اب یہاں ایک اور سوال باقی رہ جاتا ہے کہ خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ میں مہر لگانے کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ مہر لگنا ان کے اعمال کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اہل سنت کے نزدیک تمام افعال عباد کا خالق خدا تعالیٰ ہے اور ہر کام کیلئے فاعل مباشر اور سبب کا ہونا ضروری ہے اور کام کو چونکہ تینوں سے نسبت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے مخلوق ہونے کی نسبت، فاعل سے صدور کی اور سبب سے ترتب کی۔ اس لیے فعل کو تینوں کی طرف منسوب کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کو قتل و غارت گری کے جرم میں پھانسی دے دی جاتی ہے تو اس پر لوگ مختلف عبارتوں سے رائے زنی کریں گے۔ کوئی کہے گا " اللہ نے اس کا بیڑا غرق کردیا " کوئی کہے گا۔ اس نے خود ہی اپنا خانہ خراب کردیا۔ اور کوئی یوں گویا ہوگا کہ بد اعمالیاں اسے لے ڈوبیں۔ اپنی اپنی جگھ تینوں فقرے صحیح ہیں۔ جس نے اس مجرم کی تباہی کو خدا کی طرف منسوب کیا ہے اس کی ہرگز یہ غرض نہیں اور نہ ہی سامعین نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس کی تباہی کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ مجرم بری الذمہ اور بےقصور ہے بلکہ اس کی تباہی کو اللہ کی طرف اس لیے منسوب کیا گیا ہے کہ وہ خالق الافعال ہے۔ باقی رہی اس کی تباہی تو وہ اس کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح مہر لگانے کو مختلف نسبتوں کی وجہ سے مختلف ذوات کی طرف منسوب کیا گیا ہے مہر لگنے کا اصل سبب چونکہ ان کے اپنے اعمال تھے اس لیے کبھی اس کیفیت کو ان کے اعمال سے وابستہ کیا گیا۔ كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ (تطفیف) اور کبھی ان معاندین نے اس مہر کی سی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے سب کچھ اپنی ہی طرف منسوب کرلیا۔ وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ وَفِيْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّمِنْۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ (حم السجدۃ رکوع 1) اور اللہ تعالیٰ چونکہ خالق الافعال، علۃ العلل اور مسبب الاسباب ہے اس لیے اس لحاظ سے مہر لگانے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف بھی کی گئی ہے جیسا کہ زیر بحث آیت میں ہے اس لیے مہر لگانے کو اللہ کی طرف منسوب کرنے سے ایمان سے ان کی محرومی، کفر پر موت اور ابدی عذاب کی ذمہ داری اللہ پر عائد نہیں ہوتی یہ سب کچھ ان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے اور ان کا اپنا ہی کیا دھرا ہے۔ تیسری جماعت (منافقین) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ظاہری طور پر اسلام تو قبول کرلیا مگر باطن میں کافر ہی رہے۔ ان لوگوں نے زبان سے تو اسلام کا اقرار کیا۔ مگر دل سے انکار کیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر کردی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لئے بہت بڑی سزا ہے۔ ( تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جس طرح ظاہری بدپرہیزی اور عد م احتیاط کے باعث انسانی جسم مختلف امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا مریض کے مرض میں اضافہ ہوجاتا ہے اسی طرح ایک انسان کی بد اعمالی اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی مخالفت انسان کو روحانی امراض میں مبتلا کردیتی ہے یا روحانی مریض کے مرض میں اضافہ کا موجب ہوجاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص نے ترشی کا استعمال کیا اور اس کو زکام ہوگیا ۔ طیب نے اس کو دوا بتائی اور پرہیز کی تاکید کی لیکن وہ برابر بد پرہیزی کرتا رہا اور اس نے دوا استعمال نہیں کی یہاں تک کہ زکام بگڑ گیا اور بخار رہنے لگا پھر بھی وہ اپنی بد پرہیزی سے باز نہ آیا پھر مرض اور بڑھا یہاں تک کہ اس کو دق ہوگئی لیکن وہ کھانے پینے میں برابر بےاحتیاطی کرتا چلا گیا اور باوجود اطباء کے سمجھانے اور تیمارداروں کی درخواست کے وہ اپنی بدپرہیزی اور بےاحتیاطی میں بڑھتا چلا گیا اور اپنی ضد اور اصرار میں ایسا بڑھا کہ سمجھانے والوں کو بیوقوف سمجھنے لگا اور اپنی بےاحتیاطی اور بد پرہیزی کو اچھا سمجھنے اور اس کی تحسین اور درست ہے اور میں صحت کی طرف ترقی کر رہا ہوں اسی حالت میں اسکی دق آخری مرتبہ پر پہنچ گئی اور ایک دن اس کے مرض نے اسکو موت کے گھاٹ اتار دیا اس مریض کی مثال کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے جس طرح یہ امراض جسمانیہ کی حالت ہے ٹھیک اسی طرح روحانی امراض کو سمجھ لیجئے۔ جس کے لئے روحانی اطبا یعنی انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے ہیں اور ان کا کام اور ان کا وظیفہ ہی یہ ہے کہ وہ بندوں کی روحانی اصلاح کریں ، اگرچہ ان کو جسمانی امراض کے علاج میں بھی داخل ہے جیسا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعدد امراض کا علاج مروی ہے لیکن ان کا اصلی وظیفہ اور ان کا حقیقی کام انسانوں کی روحانی تربیت ہی ہے اور جس طرح جسمانی امراض میں دق اور سل ، زکام اور کھانسی ، نمونیہ اور میعادی بخار وغیرہ مشہور ہیں ۔ اسی طرح روحانی امراض میں کفر اور شرک ، فسق اور فجوز ، نفاق اور استہزا وغیرہ مشہور و معروف ہیں اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا یہی کام ہے کہ وہ انسانوں کی روح اور ان کے قلوب کو ان امراض باطنیہ سے محفوظ رکھیں اور جوان امراض میں مبتلا ہوں ان کی مناسب دوا اور ان کے لئے مناسب پرہیز بتائیں ۔ جسمانی امراض کی ابتداء جس طرح کبھی قبض سے اور کبھی زکام سے اور کبھی خوراک کی کثرت سے ہوتی ہے اور بڑھتے بڑھتے مریض کے تغافل سے آخر وہ ملک اور لا علاج امراض میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ بالکل اسی طرح روحانی امراض کی ابتداء بھی قلب کی سیاہی سے ہوتی ہے اور بڑھتے بڑھتے مریض اپنی ضد اور ہٹ سے خطرناک اور افسوس ناک حالت پر پہنچ جاتا ہے۔ فرض کیجئے ایک شخص کو ابتداء میں زکام ہوا پھر اس کی بےاحتیاطی کے باعث اس زکام نے کھانسی کی صورت اختیار کرلی۔ شروع شروع میں تبجیز ہوئی پھر ہڈیوں میں بخار رہنے لگا ۔ پھر کھانسی اور بخار نے دق کی شکل اختیار کرلی اور آگے چل کرمریض کی نا لائقی اور بےاحتیاطی کے باعث اس کی دق چہارم درجے پر پہنچ گئی یہاں تک کہ اس کا مرض لا علاج ہوگیا اور ایک دن مرگیا ۔ بالکل اسی طرح روحانی مریض کی ابتداء قلب کی سیاہی سے شروع ہوتی ہے ، جیسا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص بلا عذر ایک جمعہ میں غیر حاضرہو جاتا ہے اور جمعہ کی نماز نہیں پڑھتا تو اس کے قلب پر ایک سیاہ نقطہ ہوجاتا ہے اگر دوسرے جمعہ کو بھی وہ غیر حاضر رہا تودو سیاہ نقطے ہوجاتے ہیں اور تیسرے جمعہ کی غیر حاضری پر پورا قلب سیاہ ہوجاتا ہے پھر قلب پر زنگ آنا شروع ہوجاتا ہے جیسا کہ فرماتے ہیں ۔ کلا بل ران علی قلوبھم ما نوا یکسبون اس حالت کے بعد بھی اگر بندے ن اپنی اصلاح نہ کی اور برابر نافرمانی کرتا رہا تو اس کا دل خدا کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے ارشاد ہوتا ہے ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن زکرنا اسکے بعد بھی اگر بندہ باز نہیں آیا تو اس کے قلب میں سختی پیدا ہوجاتی ہے ارشاد فرماتے ہیں وجعلنا قلوبھم قاسیہ اب بھی اگر باز نہیں آتا تو قلب پر مہر کردی جاتی ہے فرماتے ہیں ۔ بل طبع اللہ علیھا بکفرھم اس پر بھی اگر بد پرہیزی یعنی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی جاری رہی تو اس پر سے اپنی توفیق کا ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور جو وہ کرتا ہے اسکو کرنے دیتے ہیں ۔ فرماتے ہیں ۔ نولہ ما تولیٰ جس طرح دق کے مریض کے آخری درجے کو چوتھا درجہ کہتے ہیں اسی طرح روحانی مریض کے آخری درجے کو حیولۃ کہتے ہیں ۔ وہ حالت وہ ہوتی ہے جب کسی بدنصیب کے قلب کے لئے حضرت حق خود ردک بن جاتے ہیں ۔ ارشاد ہوتا واعلموا ان اللہ یحول بین المرء و قلبہ بعض دفعہ جسمانی مرض کی یہ نبوت ہوجاتی ہے کہ بہتر سے بہتر دوا اور غذا مریض کو بجائے سود مند ہونے کے مضر اور نقصان دہ ہونے لگتی ہے اسی طرح روحانی مریض کی کبھی یہ نوبت ہوجاتی ہے کہ آیات قرآنی بجائے نفع اس کے مرض کی زیادتی کا سبب بن جاتی ہے۔ سورة توبہ کے آخری رکوع میں فرماتے ہیں ۔ فاما الذین فی قلوبھم مرض فزادتھم رجسا ً البی رجسھم وما تواوھم کافرون ۔ جسمانی مریض کی کبھی یہ حالت بھی ہوتی ہے کہ اسکو اپنی بدپرہیز بھی معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی بےاحتیاطی کے متعلق یہ خیال کرتا ہے کہ وہ کوئی اچھا کام کام کر رہا ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ مریض کی یہ حالت بڑی خطرناک ہے اور ایسے مریض کو شفا ناممکن ہے ٹھیک اسی طرح روحانی مریض کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ افمن زین لہ سوء عملہ فرآہ حسنا اور سورة کہف میں فرماتے ہیں یحسبون انھم یحسنون ضعا اسی بناء پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سائل کے جواب میں جو ایمان کے متعلق سوال کر رہا تھا ارشاد فرمایا تھا ۔ اذا سرتک حسنتک وساء تک سیئتک فانت مومن یعنی جب تجھ کو تیری نیکی خوش کرے اور تیرا گناہ تجھ کو ملول کرے تو بس تو مومن ہے ۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب تک نیکی اور بدی کا قلب میں احساس موجود ہے۔ اس وقت تک ایمان موجود ہے اور جس وقت نیکی اور بدی کا احساس جاتا رہے تو سمجھو کہ اب ایمان خطرے میں ہے ۔ قرآن نے روحانی مریض کی اس خطرناک حالت کو بطور استعارہ مہر اور پردے سے تعبیر کیا ہے۔ روحانی مریض کا اس خطرناک حالت پر پہنچ جانا خود اسکی اپنی نافرمانی اور ہٹ دھرمی کے باعث ہوتا ہے اور اس کے گناہوں کے باعث اس کی حالت دن بدن خراب ہوتی چلی جاتی ہے اور یہ حالت کا خراب ہونا خدا کی طرف سے ایک قسم کا عتاب ہوتا ہے۔ اس لئے کہاجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مہر کردی اور ہم نے ان کو اپنی یاد سے غافل بنادیا اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا ۔ ورنہ جو اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ سب بندے کے ہاتھوں کی کمائی کے باعث مرتب ہوتے ہیں ۔ آیت زیر بحث میں جس مہر اور پردے کو بطور استعارہ ذکر کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری اعتبار سے تو کان اور آنکھیں اور دل سلامت ہیں اور اپنا اپنا کام کرتے ہیں لیکن حق بات کے سننے اور سمجھنے اور دیکھنے کیلئے آنکھیں ایسی ہیں جیسے ان کے آگے پردہ پڑا ہوا ہے اور دل اور کان ایسے ہیں جیسے ان پر مہریں لگا دی ہیں ۔ اس لئے نہ حق بات کو سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں نہ دیکھتے ہیں ۔ ختم کے اصلی معنی تو کتم یعنی چھپانے کے ہیں لیکن مہر چونکہ آخر میں لگائی جاتی ہے اور مہر لگانا ایک ایسا فعل ہے جو حفاظت اور بچائو کی غرض سے سب سے آخر میں کیا جاتا ہے اس لئے یہاں قلوب وغیرہ کی محرومی اور آخری بدنصیبی کو مہر سے تعبیر فرمایا ہے جس طرح مہر کے بعد اندر کوئی چیز داخل نہیں ہوسکتی اسی طرح ان کے قلوب اور ان کے کان اور ان کی آنکھیں حق بات کو قبول نہیں کرتیں ۔ گویا ان کے عناد ان کی سزا کشی اور ان کے غرور وتکبر کی وجہ سے جو حالت ان کے دل اور کانوں اور آنکھوں کی ہوگئی ہے وہ ایسی ہے جیسے کسی مہر زدہ چیز کی ہوتی ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کو کفر پر مجبور کیا جا رہا ہے یہ اب معذور ہیں اور ان سے کسی باز پرس کا حق نہیں ہے۔ یہ تقریر جو میں نے عوام کیلئے عرض کی ہے اگر اس کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیا گیا تو انشاء اللہ آئندہ نہ کوئی اشکال پیش آئے گا اور نہ کسی شبہ کی وجہ سے پریشانی ہوگی ۔ اس مضمون کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ یاد کرلینا چاہئے ۔ میں وقتاً فوقتاً آئندہ اس مضمون کی طرف اشارہ کرتا رہوں گا ۔ انشاء اللہ تعالیٰ اب مخلص مسلمانوں اور کھلے کافروں کا ذکر کرنے کے بعد منافقوں کا ذکر فرماتے ہیں ۔ منافق جو زبان سے اسلام کی صداقت خدا کی توحید اور رسول کی رسالت کا اقرار کرے لیکن دل سے اعتقاد نہ رکھے۔ اس قسم کے مخالف ابتدائے اسلام میں تو نہ ہونے کے برابر تھے لیکن جب مسلمان زور پکڑ گئے اور مسلمانوں کی قوت و شوکت بڑھ گئی اور کافروں کو کھلم کھلا مخالفت کی جرأت نہ ہوئی تو بدبختوں نے نفاق کا طریقہ اختیار کیا ، چناچہ عام طور سے مدنی سورتوں میں منافقوں کا ذکر زیادہ آتا ہے۔ ( تسہیل)