Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 108

سورة طه

یَوۡمَئِذٍ یَّتَّبِعُوۡنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہٗ ۚ وَ خَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ فَلَا تَسۡمَعُ اِلَّا ہَمۡسًا ﴿۱۰۸﴾

That Day, everyone will follow [the call of] the Caller [with] no deviation therefrom, and [all] voices will be stilled before the Most Merciful, so you will not hear except a whisper [of footsteps].

جس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے جس میں کوئی کجی نہ ہوگی اور اللہ رحمٰن کے سامنے تمام آوازیں پست ہوجائیں گی سوائے کھسر پھسر کے تجھے کچھ بھی سنائی نہ دے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَوْمَيِذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لاَ عِوَجَ لَهُ ... On that Day mankind will follow strictly Allah's caller, no crookedness will they show him. On the Day, they see these conditions and these frightening sights, they will hastily respond to the caller. Wherever they are commanded to go, they will rush to it. If they had been like this in the worldly life, it would have been more beneficial for them, but here it does not benefit them. This is as Allah says, أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا How clearly will they see and hear, the Day when they will appear before Us! (19:38) Allah also says, مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ hastening towards the caller. (54:8) Concerning Allah's statement, ... وَخَشَعَت الاَْصْوَاتُ لِلرَّحْمَنِ ... And all voices will be humbled for the Most Gracious, Ibn Abbas said, "This means they will be silent." As-Suddi also said the same. ... فَلَ تَسْمَعُ إِلاَّ هَمْسًا And nothing shall you hear except Hamsa. Sa`id bin Jubayr related that Ibn Abbas said, "This means the steps of feet." Ikrimah, Mujahid, Ad-Dahhak, Ar-Rabi` bin Anas, Qatadah, Ibn Zayd and others all said the same. Ali bin Abi Talhah said that Ibn Abbas said, فَلَ تَسْمَعُ إِلاَّ هَمْسًا (And nothing shall you hear except Hamsa), "Hamsa means a hidden voice." This has also been reported from Ikrimah and Ad-Dahhak. Sa`id bin Jubayr said, فَلَ تَسْمَعُ إِلاَّ هَمْسًا (And nothing shall you hear except Hamsa), "Hamsa means the secret speech and the steps of feet."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

108۔ 1 یعنی جس دن اونچے نیچے پہاڑ، وادیاں، فلک بوس عمارتیں، سب صاف ہوجائیں گی، سمندر اور دریا خشک ہوجائیں گے، اور ساری زمین صاف چٹیل میدان ہو جائی گی۔ پھر ایک آواز آئیگی، جس کے پیچھے سارے لوگ لگ جائیں گے یعنی جس طرف وہ بلائے گا، جائیں گے۔ 108۔ 2 یعنی اس بلانے والے سے ادھر ادھر نہیں ہو نگے۔ 108۔ 3 یعنی مکمل سناٹا ہوگا سوائے قدموں کی آہٹ اور کھسر پھسر کے کچھ سنائی نہیں دے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٦] یہ داعی اللہ کا مقرر کردہ فرشتہ اسرافیل ہوگا۔ اس دنیا میں تو ان لوگوں نے اللہ کے داعی کی بات کو سننا بھی گوارا نہ کیا بلکہ اس کی مخالفت ہی کرتے رہے مگر اس دن اللہ کے داعی کی آواز پر سراپا عمل بن جائیں گے اور جو کچھ وہ کہے گا ٹھیک اسی طرح کرتے جائیں گے۔ وہ کہے گا کہ چلو میدان حشر کی طرف تو سب ادھر دوڑ پڑیں گے۔ اور اس داعی کی آواز اور حکم کو پوری طرح سمجھ بھی رہے ہوں گے۔ ] ـ٧٧] اس دن سب لوگ اللہ تعالیٰ کی یا اس فرشتہ کی آواز اور حکم کو ہمہ تن گوش بن کر سن رہے ہوں گے، کسی کو اونچی آواز سے کسی دوسرے سے کوئی بات پوچھنے کی بھی ہمت نہ رہے گی۔ اس دن یا تو ان کے قدموں کی چاپ کی آواز سنائی دے سکے گی یا اس کھسر پسر اور کانا پوسی کی آواز جو وہ اس دن کی ہولناکیوں سے بچنے کے لئے آپس میں کریں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ۭيَوْمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِيَ ۔۔ : یعنی قیامت کے دن سب لوگ حشر کے لیے قبروں سے نکل کر پکارنے والے کی آواز کی طرف نہایت تیزی کے ساتھ سر اٹھائے ہوئے دوڑتے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا : ( مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ ) [ إبراہیم : ٤٣ ] ” اس حال میں کہ تیز دوڑنے والے، اپنے سروں کو اوپر اٹھانے والے ہوں گے۔ “ اس کی طرف جانے میں کوئی کجی نہ ہوگی، یعنی تیر کی طرح سیدھے جائیں گے اور ذرہ بھر ادھر ادھر نہ ہوں گے۔ اس حالت کا نقشہ سورة ابراہیم (٤٢، ٤٣) ، سورة قمر (٦ تا ٨) اور سورة قٓ (٤١، ٤٢) میں دیکھیے۔ ” لَا عِوَجَ لَهٗ “ کا دوسرا معنی یہ ہے کہ پکارنے والے کی پکار میں کوئی کجی نہ ہوگی کہ کسی تک پہنچے اور کسی تک نہ پہنچے، ہر شخص تک سیدھی پہنچے گی۔ ۚ وَخَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ ۔۔ : یعنی اتنی بیشمار مخلوق کے دوڑنے اور اکٹھے ہونے پر کوئی شور و غل نہ ہوگا۔ سب آوازیں رحمٰن کے لیے پست ہوجائیں گی۔ ” رحمان “ کے لیے پست ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس بیحد رحم والے رب کی رحمت اور اس کے کرم کی طلب میں سب عاجزی سے خاموش ہوں گے۔ ” هَمْسًا “ ہلکی سے ہلکی آواز یا قدموں کی ہلکی سے ہلکی آہٹ، کھسکھساہٹ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَوْمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَہٗ۝ ٠ۚ وَخَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا ہَمْسًا۝ ١٠٨ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلك قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ خشع الخُشُوع : الضّراعة، وأكثر ما يستعمل الخشوع فيما يوجد علی الجوارح . والضّراعة أكثر ما تستعمل فيما يوجد في القلب ولذلک قيل فيما روي : روي : «إذا ضرع القلب خَشِعَتِ الجوارح» «2» . قال تعالی: وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعاً [ الإسراء/ 109] ، وقال : الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خاشِعُونَ [ المؤمنون/ 2] ، وَكانُوا لَنا خاشِعِينَ [ الأنبیاء/ 90] ، وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ [ طه/ 108] ، خاشِعَةً أَبْصارُهُمْ [ القلم/ 43] ، أَبْصارُها خاشِعَةٌ [ النازعات/ 9] ، كناية عنها وتنبيها علی تزعزعها کقوله : إِذا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا [ الواقعة/ 4] ، وإِذا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزالَها [ الزلزلة/ 1] ، يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً وَتَسِيرُ الْجِبالُ سَيْراً [ الطور/ 9- 10] . ( خ ش ع ) الخشوع ۔ ( ان ) کے معنی ضواعۃ یعنی عاجزی کرنے اور جھک جانے کے ہیں ۔ مگر زیادہ تر خشوع کا لفظ جوارح اور ضراعت کا لفظ قلب کی عاجزی پر بولا جاتا ہے ۔ اسی لئے ایک روایت میں ہے :۔ (112) اذا ضرعت القلب خشعت الجوارح جب دل میں فروتنی ہو تو اسی کا اثر جوارح پر ظاہر ہوجاتا ہے قرآن میں ہے : وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعاً [ الإسراء/ 109] اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پید اہوتی ہے ۔ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خاشِعُونَ [ المؤمنون/ 2] جو نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیں ۔ وَكانُوا لَنا خاشِعِينَ [ الأنبیاء/ 90] اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے ۔ وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ [ طه/ 108] آوازیں پست ہوجائیں گے ۔ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی ۔ أَبْصارُها خاشِعَةٌ [ النازعات/ 9] یہ ان کی نظروں کے مضطرب ہونے سے کنایہ ہے ۔ جیسا کہ زمین وآسمان کے متعلق بطور کنایہ کے فرمایا ۔ إِذا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا [ الواقعة/ 4] جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے ۔ وإِذا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزالَها [ الزلزلة/ 1] جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی ۔ يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً وَتَسِيرُ الْجِبالُ سَيْراً [ الطور/ 9- 10] جس دن آسمان لرزنے لگے کپکپا کر۔ اور پہاڑ اڑانے لگیں ( اون ہوکر ) صوت الصَّوْتُ : هو الهواء المنضغط عن قرع جسمین، وذلک ضربان : صَوْتٌ مجرّدٌ عن تنفّس بشیء کالصَّوْتِ الممتدّ ، وتنفّس بِصَوْتٍ ما . والمتنفّس ضربان : غير اختیاريّ : كما يكون من الجمادات ومن الحیوانات، واختیاريّ : كما يكون من الإنسان، وذلک ضربان : ضرب بالید کصَوْتِ العود وما يجري مجراه، وضرب بالفم . والذي بالفم ضربان : نطق وغیر نطق، وغیر النّطق کصَوْتِ النّاي، والنّطق منه إما مفرد من الکلام، وإمّا مركّب، كأحد الأنواع من الکلام . قال تعالی: وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ لِلرَّحْمنِ فَلا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْساً [ طه/ 108] ، وقال : إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْواتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ [ لقمان/ 19] ، لا تَرْفَعُوا أَصْواتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِ [ الحجرات/ 2] ، و تخصیص الصَّوْتِ بالنّهي لکونه أعمّ من النّطق والکلام، ويجوز أنه خصّه لأنّ المکروه رفع الصَّوْتِ فوقه، لا رفع الکلام، ورجلٌ صَيِّتٌ: شدید الصَّوْتِ ، وصَائِتٌ: صائح، والصِّيتُ خُصَّ بالذّكر الحسن، وإن کان في الأصل انتشار الصَّوْتِ. والإِنْصَاتُ : هو الاستماع إليه مع ترک الکلام . قال تعالی: وَإِذا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا [ الأعراف/ 204] ، وقال : يقال للإجابة إِنْصَاتٌ ، ولیس ذلک بشیء، فإنّ الإجابة تکون بعد الإِنْصَاتِ ، وإن استعمل فيه فذلک حثّ علی الاستماع لتمکّن الإجابة . ( ص و ت ) الصوات ( آواز ) اس ہوا کو کہتے ہیں جو وہ جسموں کے ٹکرانے سے منضغظ یعنی دب جائے اس کی دو قسمیں ہیں ( 1 ) وہ صورت جو ہر قسم کے تنفس سے خالی ہوتا ہے جیسے صورت جو ہر قسم کے تنفس سے خالی ہوتا ہے جیسے صورت ممتد ( 2 ) وہ صورت جو تنفس کے ساتھ ملا ہوتا ہے پھر صورت متنفس دو قسم پر ہے ایک غیر اختیاری جیسا کہ جمادات حیوانات سے سرز د ہوتا ہے ۔ دو م اختیاری جیسا کہ انسان سے صادر ہوتا ہے جو صورت انسان سے صادر ہوتا ہے پھر دو قسم پر ہے ایک وہ جو ہاتھ کی حرکت سے پیدا ہو جیسے عود ( ستار ) اور اس قسم کی دوسری چیزوں کی آواز ۔ دوم وہ جو منہ سے نکلتا ہے اس کی پھر دو قسمیں ہیں ایک وہ جو نطق کے ساتھ ہو دوم وہ جو بغیر نطق کے ہو جیسے نے یعنی بانسری کی آواز پھر نطق کی دو صورتیں ہیں ایک مفرد دوم مرکب جو کہ انواع کلام میں سے کسی ایک نوع پر مشتمل ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ لِلرَّحْمنِ فَلا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْساً [ طه/ 108] اور خدا کے سامنے آوازیں لسبت ہوجائیں گی تو تم آواز خفی کے سوا کوئی اور آواز نہ سنو گے إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْواتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ [ لقمان/ 19] ان انکر الا ضوات لصوات الحمیر کیوں کہ سب آوازوں سے بری آواز گدھوں کی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَرْفَعُوا أَصْواتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِ [ الحجرات/ 2] اپنی آوازیں پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز سے بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ یہ نطق و کلام سے عام ہے اور ہوسکتا ہے کہ ممانعت کا تعلق صوت یعنی محض آواز کے ساتھ ہو نہ کہ بلند آؤاز کے ساتھ کلام کرنے سے نیز اس کی وجہ تخصیص یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آنحضرت کے آواز سے بلند آواز کرنے کی کراہت ظاہر کرنا مقصود ہو اور مطلق بلند آوازو الا آدمی رجل صائت چیخنے والا الصیت کے اصل منعی مشہور ہونے کے ہیں مگر استعمال میں اچھی شہرت کے ستاھ مخصوص ہوچکا ہے الانصات کے معنی چپ کر کے توجہ کے کسی کی بات سننا کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا [ الأعراف/ 204] اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو بعض نے کیا ہے کہ انصات کے معنی جواب دینا بھی آتے ہیں لیکن یہ آیت نہیں ہے کیونکہ جواب تو انصات یعنی بات سننے کے بعد ہوتا ہے اور اگر اس معنی میں استعمال بھی ہو تو آیت میں اس امر پر تر غیب ہو کی کہ کان لگا کر سنوتا کہ اسے قبول کرنے پر قوت حاصل ہو ۔ همس الْهَمْسُ : الصوت الخفيّ ، وهَمْسُ الأقدام : أخفی ما يكون من صوتها . قال تعالی: فَلا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْساً [ طه/ 108] . ( ھ م س ) الھمس کے معنی خفی آواز کے ہیں اور ھمس الااقدام کے معنی ہیں پاؤں کی ہلکی آہٹ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَلا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْساً [ طه/ 108] تو تم خفی آواز کے سوا کوئی آواز نہ سنو گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٨) قیامت کے دن سب خدائی بلانے والے کے ساتھ تیزی سے ہو لیں گے اس کے سامنے کوئی دائیں اور بائیں جانب نہیں مڑے گا اور تمام آوازیں اللہ تعالیٰ کی ہیبت اور جلال کی وجہ سے دب جائیں گی، آپ ماسوا پاؤں کی آہٹ کے جیسا کہ اونٹوں کے پیروں کی آواز ہوتی ہے اور کچھ آواز نہ سنیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٨ (یَوْمَءِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہٗ ج) ” تمام انسانوں کو اس دن جب اکٹھے ہونے کے لیے پکارا جائے گا تو ہر کوئی اس پکار پر لبیک کہے گا۔ کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا کہ اس حکم کو نظر انداز کر کے ادھر ادھر ہو سکے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

84. The original Arabic word hams is used for the sound of footsteps, the sound of whispering and other low sounds. What it implies here is that the people will be so awestricken on that Day that there will be no sound other than that of footsteps and whispering.

سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :84 اصل میں لفظ ہَمْس استعمال ہوا ہے ، جو قدموں کی آہٹ ، چپکے چپکے بولنے کی آواز ، اونٹ کے چلنے کی آواز اور ایسی ہی ہلکی آوازوں کے لیے بولا جاتا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ وہاں کوئی آواز ، بجز چلنے والوں کے قدموں کی آہٹ اور چپکے چپکے بات کرنے والوں کی کھسر پسر کے نہیں سنی جائے گی ۔ ایک پر ہیبت سماں بندھا ہوا ہو گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٠٨:۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دوسرے صور کے وقت بد لوگوں کو ایک آگ گھیر کر ان کی قبروں سے میدان محشر تک لیجائے گی یہ حدیث لا عوج لہ کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ آگ میدان محشر کے راستہ سے بچ کر اور کوئی ٹیڑھا راستہ انہیں چلنے نہ دے گی اس واسطے سورة المعارج میں فرمایا کہ دوسرے صور کی آواز سن کر جب یہ لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو جس طرح اب بتوں کی طرف پوجا کے لیے سیدھے دوڑتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن میدان محشر کی طرف حساب و کتاب کے لیے دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ سے روایت ہے ١ ؎ جس کا حاصل یہ ہے کہ میدان محشر میں گرمی اور پسینے سے جب لوگ بہت گھبرائیں گے تو آدم (علیہ السلام) سے عیسیٰ ( علیہ السلام) تک کے انبیاء کے پاس اس التجا کے لیے جائیں گے کہ یہ انبیاء اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حساب و کتاب کے شروع ہوجانے کی سفارش کردیں یہ سب انبیاء جواب دیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ کے غصہ کی وہ حالت ہے کہ آج سے پہلے کبھی ہوئی اور نہ اس کے بعد کبھی ہوگی اس لیے ہم اس سفارش کے بات میں کچھ نہیں کرسکتے۔ آخر خاتم الانبیاء محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سفارش کو اپنے ذمہ لیں گے اور آپ کی سفارش سے حساب و کتاب شروع ہوجائے گا آپ کی یہ سفارش تمام امتوں کے حق میں ہو وے گی اس واسطے اس سفارش کو بڑی سفارش کہتے ہیں۔ آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ میدان محشر میں اللہ تعالیٰ کے جلال کے سبب سے سب کی آوازیں ایسی دب جائیں گی کہ سوائے قدموں کی کھس کھس کی آواز کے کسی کے بولنے کی آواز نہ آئے گی۔ اس حدیث سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جلال کے سبب سے سوائے خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور انبیاء بھی اس میدان میں اللہ تعالیٰ کے روبرو اور کچھ نہیں بول سکیں گے۔ ١ ؎ مشکوٰۃ ص ٤٨٣ باب الحشر۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:108) یتبعون مضارع جمع مذکر غائب۔ پیچھے چلیں گے۔ اتباع کریں گے۔ پیروی کریں گے۔ ضمیر یتبعون الناس کے لئے ہے تمام خلقت ۔ الداعی۔ بلانے والا۔ پکارنے والا۔ دعاء سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ یہاں پکارنے والے سے مراد فرشتہ اسرافیل ہے جو صور پھونکنے پر مامور ہے۔ لا عوج لہ۔ اس سے کوئی کجی نہیں برتے گا۔ یعنی اس کے حکم کی کوئی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ کوئی حکم عدولی نہیں کرے گا۔ جن کو وہ پکارے گا وہ بالکل سیدھے اس کے پیچھے ہو لیں گے ۔ کوئی ادھر ادھر نہیں ہوگا۔ خشعت۔ دب گئی۔ نیچی ہوگئی۔ پست ہوگئی۔ عاجز ہوگئی۔ خشوع مصدر۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ یہاں ماضی بمعنی مستقبل مستعمل ہے۔ الخشوع کے معنی ضراعۃ یعنی عاجزی کرنے اور جھک جانے کے ہیں مگر زیادہ تر خشوع کا لفظ جوارح اور ضراعۃ کا لفظ قلب کی عاجزی پر بولا جاتا ہے۔ چناچہ ایک روایت میں ہے اذا ضرعت القلب خشعت الجوارح۔ جب دل میں فروتنی ہو تو اس کا اثر جوارح پر ظاہر ہوجاتا ہے اور قرآن مجید میں آیا ہے ویزیدہم خشوعا (17:109) اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے اور خاشعۃ ابصارہم (68:109) اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے اور خاشعۃ ابصارہم (68:43) ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ اور آیت ہذا میں وخشعت الاصوات آوازیں پست ہوجائیں گی۔ للرحمن۔ رحمن کے سامنے۔ اس کے خوف وہیبت کی وجہ سے۔ ھمسا۔ اسم مصدر منصوب (باب ضرب) قدم کی چاپ۔ آہٹ۔ مدہم آواز۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی قبر سے زندہ ہو کر ایسے نہ رہیں گے، جیسے دنیا میں انبیاء (علیہم السلام) کے سامنے ٹیڑھے رہتے تھے کہ تصدیق نہ کرتے تھے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ محشر کے دن لوگوں کی حالت۔ جونہی اسرافیل صور میں پھونک مارے گا تو جن و انس اس آواز کی طرف بھاگے جا رہے ہوں گے۔ اس آواز میں اس قدر کشش اور خوف ہوگا کہ کوئی شخص دائیں، بائیں جانے اور ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے صرف اس آواز کی طرف ہی سرپٹ چلا جا رہا ہوگا۔ لوگوں پر محشر کا خوف اس قدر حاوی ہوگا کہ کوئی بھی رب رحمٰن کے سامنے اونچی بولنے کی سکت نہیں کر پائے گا۔ لوگ اس قدر خوفزدہ ہوں گے کہ ان کے چلنے اور بولنے کی آواز ایک سرسراہٹ کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔ اس دن مشرک اور کافر کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ نہیں دے گی اور نہ کوئی ان کے حق میں سفارش کرسکے گا۔ البتہ ایسے لوگوں کے لیے سفارش کرنے والے کی سفارش مفید ثابت ہوگی جن سے بتقاضائے بشریت چھوٹے بڑے گناہ ہوئے ہوں گے مگر ان کے لیے بھی وہی شخص سفارش کر پائے گا جس کو رب رحمٰن اجازت دے گا اور سفارشی وہی انداز اور الفاظ اختیار کرے گا۔ جیسے اللہ تعالیٰ سننا پسند فرمائیں گے۔ اس فرمان میں ایک طرف یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ اے لوگو ! آج تم داعی حق کی بات سننے اور قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ لیکن ایساوقت آنے والا ہے کہ جب تم ایک داعی کی آواز پر بےچوں و چراں اپنے رب کے حضور دوڑے چلے آؤ گے۔ لیکن مجرموں کو اس دن داعی کی دعوت قبول کرنے کا عذاب کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ یہاں مجرموں کے اس عقیدہ کی نفی بھی کردی گئی ہے۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے دن ہمارے معبود اور بزرگ ہمیں اللہ کی گرفت سے بچالیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی سفارش کو مسترد نہیں کر پائے گا۔ ان کی نفی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کوئی چھوٹا ہو یا بڑا، بزرگ ہو یا اللہ کا رسول۔ کوئی بھی رب رحمٰن کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکے گا۔ سفارش وہی کرسکے گا جسے رحمٰن اپنے کرم سے اجازت عطا فرمائے گا۔ اجازت ملنے کے باوجود سفارش کرنے والا اسی کے حق میں سفارش کرپائے گا جس کے لیے اللہ تعالیٰ اجازت مرحمت فرمائے گا۔ اس کے لیے یہ شرط بھی لازم ہوگی کہ وہ وہی الفاظ اور انداز اختیار کرے جو انداز اور الفاظ آداب خداوندی کے مطابق ہوں گے۔ کسی کو سفارش کرنے کی اجازت دینے کا یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ مجرم کے حالات سے بیخبر ہوگا۔ وہ تو لوگوں کے ماضی، حال اور مستقبل کو پوری طرح جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم کا کوئی بھی احاطہ نہیں کرسکتا۔ غلط سفارش کی نفی کرتے ہوئے قرآن مجید نے گفتگو کا ایسا پر جلال اور دو ٹوک انداز اختیار فرمایا ہے جس میں ابہام کا دور دور تک تصور نہیں پایا جاتا۔ اس نفی میں اس قدر انتباہ اور خوف کا انداز پایا جاتا ہے کہ جس کے دل میں کھوٹ اور اس کے سامنے کوئی مفاد نہیں وہ اس عقیدہ کے خلاف زبان کھولنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ آئیں قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے ان پر ایمانداری کے ساتھ غور کریں۔ (مَنْ ذَالَّذِیْ ےَشْفَعُ عِنْدَہُ إِلَّا بِإِذْنِہٖ ) [ البقرۃ : ٢٥٥] کون ہے جو اسکی جناب میں اسکی اجازت کے بغیرسفارش کرے۔ (ےَوْمَءِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ إلِاَّ مَنْ اَذِنَ لَہُ الَّرحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہُ قَوْلًا۔ ) [ طہ : ١٠٩] ” اس روز شفاعت فائدہ مندنہ ہوگی، اِلا یہ کہ کسی کو رحمٰن اس کی اجازت دے اور اسکی بات سننا پسند کرے۔ “ (ےَوْمَ ےَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰءِکَۃُ صَفًّا لَّا ےَتَکَلَّمُوْنَ إِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا۔ ذَالِکَ الْےَوْمُ الْحَقُّ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ إِلٰی رَبِّہٖ مَاٰ با۔ ) [ النبا : ٣٨ تا ٣٩] ” جس دن جبریل اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہونگے کوئی نہ بولے گا سوائے اس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور وہ ٹھیک بات کہے۔ وہ دن برحق ہے اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرے۔ “ (ےَوْمَءِذٍ ےَتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہُ وَخَشَعَتِ الْاَصْوَات للرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا ھَمْسًا۔ ےَوْمَءِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ إِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہُ قَوْلًا۔ ) [ طہ : ١٠٨، ١٠٩] ” اس روز سب لوگ منادی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے کوئی ذرا اکڑ نہ دکھا سکے گا اور آوازیں رحمٰن کے آگے دب جائیں گی ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔ اس روز شفاعت فائدہ مندنہ ہوگی إلا یہ کہ کسی کو رحمٰن اسکی اجازت دے اور اسکی بات سننا پسند کرے۔ “ (اَ ےُشْرِکُوْنَ مَا لَا ےَخْلُقُ شَےْأً وَّ ھُمْ ےُخْلَقُوْنَ وَلَا ےَسْتَطِےْعُوْنَ لَھُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَھُمْ ےَنْصُرُوْنَ وَإِنْ تَدْعُوْھُمْ إِلَی الْھُدٰی لَا ےَتَّبِعُوْکُمْ سَوَآءٌ عَلَےْکُمْ اََدَعَوْتُمُوْ ھُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ إِنَّ الَّذِےْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْھُمْ فَلْےَسْتَجِےْبُوْا لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِےْنَ ) [ الاعراف : ١٩١ تا ١٩٤] ” کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہودونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے۔ تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے مانگ کردیکھو یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں۔ “ روز محشر نیک لوگوں کی سفارش گنہگاروں کے بارے میں سوفیصد برحق ہے۔ شفاعت کا انکار کرنا کسی صاحب علم کے لیے ممکن نہیں مگر کچھ علما یہ مسئلہ بیان کرتے ہوئے شعوری یا غیر شعوری طور پر ان اصولوں کو فراموش کردیتے ہیں حالانکہ سفارش کرنے والا بال برابر بھی ان سے انحراف نہیں کرسکے گا۔ مسائل ١۔ قیامت کے دن لوگ داعی کی آواز پر بےچوں و چراں اکٹھے ہوں گے۔ ٢۔ کوئی شخص رب رحمٰن کے سامنے اونچی آواز سے بولنے کی سکت نہیں پائے گا۔ ٣۔ قیامت کے دن کوئی بھی رب رحمٰن کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کرسکے گا۔ ٤۔ سفارش کرنے والا رب رحمٰن کی اجازت کے مطابق ہی سفارش کرے گا۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کے علم کا کوئی بھی احاطہ نہیں کرسکتا۔ تفسیر بالقرآن سفارش کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ضابطے : ١۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں ہوسکے گی۔ (البقرۃ : ٢٥٥) ٢۔ سفارش بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوگی۔ (النبا : ٣٨) ٣۔ اللہ تعالیٰ اپنی پسند کی بات ہی قبول فرمائیں گے۔ (طٰہٰ : ١٠٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ نہایت خوفناک منظر ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اور گرد و غابر بنا کر اڑا دیئے جائیں گے۔ اب بلندیوں کی جگہ ایک سیدھا میدان ہوگا۔ ایسا میدان جس میں کوئی نشیب و فرازنہ ہوگا۔ زمین بالکل ہموار ہوگی۔ یعنی تیز ہوا پہاڑوں کو دھوئیں کی طرح اڑا کر زمین کو بالکل میدان کر دے گی۔ تمام اگلے پچھلے لوگ اس چٹیل میدان میں کھڑے ہوں گے۔ لوگوں کی بات اور ان کی حرکت نہایت ہی خاموش اور بےآواز ہوگی۔ جب بھی کوئی منادی پکارنے والا ان کو کسی طرف بلائے گا تو بھیڑوں کے گلے کی طرح اس کے پیچھے نہایت اطاعت کے ساتھ چل پڑیں گے۔ یتبعون الداعی (٠٢ : ٨٠١) ” منا دی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے۔ ‘ یعنی جس طرح زمین ہموار ہوگی اس طرح ان کے دل بھی ہموار ہوں گے ، فوراً حکم کی تعمیل کریں گے۔ اس فضا میں پوری طرح خاموشی ہوگی ، نہایت ہی خوفناک خاموشی وخشعت الاصوات للرحمٰن فلا تسمع الاھمسا (٠٢ : ٨٠١) ” اور آوازیں رحمن کے آگے دب جائیں گی ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

76:۔ ” الداعی الخ “ سے حضرت اسرافیل (علیہ السلام) مراد ہیں جو قیامت کے دن صورت پھونکیں گے۔ صور کی آواز پر تمام مردے زندہ ہو کر ہر طرف سے سیدھے آواز کی جانب چل پڑیں گے۔ یردی اسرافیل (علیہ السلام) اذا نفخ فی الصور (لا عوج لہ) ای عن دعائہ لا یزیغون ولا ینحرفون بل یسرعون الیہ ولا یحیدون عنہ (قرطبی ج 11 ص 246) ۔ اس دن تمام بنی آدم پر ہیبت طاری ہوگی اور کوئی شخص اونچی آواز سے بات بھی نہیں کرسکے گا۔ ہیبت خداوندی اور ہول قیامت کی وجہ سے تمام مخلوق سہمی ہوئی ہوگی۔ ای خفیت لمھابتہ تعالیٰ وشدۃ ھول المطلع (روح ج 16 ص 296) ۔ ” ھَمْسًا “ یعنی نہایت پست۔ اس دن جو بھی بات کرے گا۔ نہایت پست اور خفی آواز سے کرے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

108 اس دن تمام لوگ بغیر کسی انحراف کے ایک بالنے اور پکارنے والے کی آواز اور کہنے پر چل پڑیں گے اور تمام آوازیں رحمان کے سامنے پست ہوجائیں گی اور اے مخاطب تو سوائے پائوں کے چلنے کی آہٹ اور کھس کھساہٹ کے کوئی آواز نہیں سنے گا۔ یعنی اس دن حضرت اسرافیل کے بلانے پر سب لوگ بغیر کسی انحراف اور بغیر کسی اکڑکے قبروں سے نکل کر چل پڑیں گے نہ بلانے والے کی بات میں کوئی ٹیڑھ نہ حاضر ہونے والوں کی چال میں کوئی اکڑ اور امینٹھ اور خوف وہیبت کے مارے تمام آوازیں پست ہوجائیں گی لوگوں کے چلنے کی کھس کھساہٹ اور کھس کھس کی آواز کے کوئی آواز تو اے مخاطب نہ سنے گا۔