Surat Tahaa

Surah: 20

Verse: 85

سورة طه

قَالَ فَاِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَکَ مِنۡۢ بَعۡدِکَ وَ اَضَلَّہُمُ السَّامِرِیُّ ﴿۸۵﴾

[ Allah ] said, "But indeed, We have tried your people after you [departed], and the Samiri has led them astray."

فرمایا! ہم نے تیری قوم کو تیرے پیچھے آزمائش میں ڈال دیا اور انہیں سامری نے بہکا دیا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

(Allah) said: "Verily, We have tried your people in your absence, and As-Samiri has led them astray." Allah informs His Prophet, Musa, of what happened to the Children of Israel after he left them, and their deification of the calf that As-Samiri had made for them. During this time period, Allah wrote for Musa the Tablets, which contained the Tawrah. Allah said, وَكَتَبْنَا لَهُ فِى الاٌّلْوَاحِ مِن كُلِّ شَىْءٍ مَّوْعِظَةً وَتَفْصِيلً لِّكُلِّ شَىْءٍ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُواْ بِأَحْسَنِهَا سَأُوْرِيكُمْ دَارَ الْفَـسِقِينَ And We wrote for him on the Tablets the lesson to be drawn from all things and the explanation for all things (and said): "Hold unto these with firmness, and enjoin your people to take the better therein. I shall show you the home of evildoers." (7:145) This means, "I will show you the final outcome of what will happen to those who abandon My obedience and oppose My command." Concerning Allah's statement,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

85۔ 1 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد سامری نامی شخص نے بنی اسرائیل کو بچھڑا پوجنے پر لگا دیا، جس کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کو دی کہ سامری نے تیری قوم کو گمراہ کردیا ہے، فتنے میں ڈالنے کی نسبت اللہ نے اپنی طرف باحیثیت خالق کے کی ہے، ورنہ اس گمراہی کا سبب تو سامری ہی تھا۔ جیسا کہ اضلھم السامری سے واضح ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٩] جب کوہ طور پر عبادت میں مصروف تھے اور اس انتظار میں تھے کہ چالیس دن پورے ہونے پر اللہ تعالیٰ کتاب ہدایت عطا فرمائیں تو اسی دوران آپ کی قوم نے آپ کے بعد پھر سے بچھڑے کی عبادت شروع کردی۔ سامری نے ان کے لئے ایک بچھڑا تیار کیا اور یہ لوگ اس کی پوجا پاٹ میں لگ گئے۔ اس واقعہ کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وہیں کوہ طور پردے دی۔ آپ کو اس طلاع سے اپنی قوم پر غصہ تو بہت آیا مگر وہاں کا قیام بھی انتہائی ضروری تھا۔ لہذا آپ نے اپنے نفس پر جہر کرکے معینہ مدت تک وہیں رکے رہے۔ لفظ السامری سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ اس شخص کا اصلی نام نہیں تھا۔ بلکہ کوئی خاص سامری شخص تھا۔ جیسا کہ پہلے تعریف کا ال موجود ہے۔ دوسرے آخر میں یائے نسبتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ سامر یا تو اس کے وطن کا نام تھا یا پھر سامر یا سمر اس کے کسی جد امجد کا نام تھا۔ جیسا کہ عرب میں اس کا عام دستور ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ ۔۔ : یہ فاء تعلیل کے لیے ہے، یعنی تمہارا قوم کو چھوڑ کر چلے آنا اور مفسدوں کے لیے موقع فراہم کردینا اس کا باعث بنا کہ تمہارے بعد ہم نے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے انھیں گمراہ کردیا۔ یہاں ایک بات یاد رہنی چاہیے کہ انھیں بچھڑا بنا کر سامری نے گمراہ کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کی صراحت بھی فرما دی کہ انھیں سامری نے گمراہ کردیا، مگر تمام اسباب کا خالق چونکہ اللہ تعالیٰ ہے اور تمام دل اس کے ہاتھ میں ہیں، اس لیے آزمائش میں ڈالنے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی۔ مِنْۢ بَعْدِكَ : موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو تیس دنوں کے اعتکاف کا بتا کر گئے تھے، جسے اللہ تعالیٰ نے چالیس دنوں کے ساتھ مکمل فرمایا تو قوم اس سے بیخبر تھی، انھیں معلوم نہ تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کب آئیں گے ؟ اس مدت سے فائدہ اٹھا کر سامری نے کیا جو کچھ کیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ” بَعْدِكَ “ سے پہلے مِنْ ‘ کا لفظ زیادہ فرمایا، جو ” بعض “ کے معنی میں ہے، یعنی تمہارے بعد کے عرصے میں سے کچھ عرصے میں سامری نے انھیں گمراہ کردیا۔ (بقاعی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Who was Samiri? Some people have said that Samiri was an Egyptian Copt who lived next door to Sayyidna Musa (علیہ السلام) and had accepted the True Faith. When Sayyidna Musa (علیہ السلام) took the Bani Isra&i out of Egypt he also joined the exodus. Others have said that he was the chief of one of the clans of Bani Isra&il called Samira which is still well-known in Syria. According to Sayyidna Said Ibn Jubair (رض) he was a Persian from the Kirman province. Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) says that he belonged to a nation of cow-worshippers who somehow reached Egypt and pretended to join the religion of Bani Isra&il whereas in actual fact he was an hypocrite (Qurtubi). Another version is that he was a Hindu from India who worshipped cows, adopted the religion of Sayyidna Musa Ali truly, and later returned to his infidel faith, or had accepted the true faith in hypocrisy. Samiri&s name, as generally believed, was Musa Ibn Zafar. Ibn Jarir has related from Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) that Samiri was born in the year when under the orders of the Pharaoh all male Isra&ili children were to be killed. His mother, fearing the worst, put him in the hallow of a cave and covered its mouth. She would visit him from time to time and feed him as best as she could. On the other hand Allah appointed Jibra&il (علیہ السلام) to look after the child and provide him nourishment. Jibra&il (علیہ السلام) brought honey on one finger, butter on the second finger and milk on the third finger which he fed to the child. He lived in the cave until he grew to manhood and, as has already been narrated above, became an unbeliever, involved the Bani Isra&il in a great disaster and himself suffered a terrible fate as a punishment from Allah. A poet has made a reference to this story in the following two couplets: اذا المرء لم یخلق سعیدا تحیَّت عقول مربّیہ و خاب المؤمل فموسی الذی ربّاہ جبریل کافر و موسیٰ الذی ربّاہ فرعون مرسل If a person is not fortunate in his birth then the minds of those who bring him up are bewildered and those who attach high hopes on him are disillusioned. Lo! The Musa whom Jibra&il brought up became an infidel and the Musa who was raised by the Pharaoh became the Prophet of Allah.

سامری کون تھا : بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ آل فرعن کا قبطی آدمی تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے پڑوس میں رہتا تھا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا اور جب بنی اسرائیل کو لے کر موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے نکلے تو یہ بھی ساتھ ہو لیا۔ بعض نے کہا کہ یہ بنی اسرائیل ہی کے ایک قبیلہ سامرہ کا رئیس تھا اور قبیلہ سامرہ ملک شام میں معروف ہے۔ حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ یہ فارسی شخص کرمان کا رہنے والا تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ ایک ایسی قوم کا آدمی تھا جو گائے کی پرستش کرنے والی تھی یہ کسی طرح مصر پہنچ گیا اور بظاہر دین بنی اسرائیل میں داخل ہوگیا مگر اس کے دل میں نفاق تھا (قرطبی) حاشیہ قرطبی میں ہے کہ یہ شخص ہندوستان کا ہندو تھا جو گائے کی عبادت کرتے ہیں۔ انتہی۔ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا پھر اپنے کفر کی طرف لوٹ گیا یا پہلے ہی سے منافقانہ طور پر ایمان کا اظہار کیا واللہ اعلم مشہور یہ ہے کہ سامری کا نام موسیٰ ابن ظفر تھا۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ موسیٰ سامری پیدا ہوا تو فرعون کی طرف سے تمام اسرائیلی لڑکوں کے قتل کا حکم جاری تھا اس کی والدہ کو خوف ہوا کہ فرعونی سپاہی اس کو قتل کردیں گے تو بچہ کو اپنے سامنے قتل ہوتا دیکھنے کی مصیبت سے یہ بہتر سمجھا کہ اس کو جنگل کے ایک غار میں رکھ کر اوپر سے بند کردیا (کبھی کبھی اس کی خبر گیری کرتی ہوگی) ادھر اللہ تعالیٰ نے جبرئیل امین کو اس کی حفاظت اور غذا دینے پر مامور کردیا وہ اپنی ایک انگلی پر شہد ایک پر مکھن ایک پر دودھ لاتے اور اس بچہ کو چٹا دیتے تھے یہاں تک کہ یہ غار ہی میں پل کر بڑا ہوگیا اور اس کا انجام یہ ہوا کہ کفر میں مبتلا ہوا اور بنی اسرائیل کو مبتلا کیا پھر قہر الٰہی میں گرفتا ہوا۔ اسی مضمون کو کسی شاعر نے دو شعروں میں اس طرح ضبط کیا ہے۔ (از روح المعانی) اذا المرء لم یخلق سعیدا تحیرت عقول مربیہ و خاب المومل فموسی الذی رباہ جبریل کافر و موسیٰ الذی رباہ فرعون مرسل (ترجمہ) جب کوئی شخص اصل پیدائش میں نیک بخت نہ ہو تو اس کے پرورش کرنے والوں کی عقلیں بھی حیران رہ جاتی ہیں اور اس سے امید کرنے والا محروم ہوجاتا ہے۔ دیکھو جس موسیٰ کو جبرائیل امین نے پالا تھا وہ تو کافر ہوگیا اور جس موسیٰ کو فرعون لعین نے پالا تھا وہ خدا کا رسول بن گیا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَاَضَلَّـہُمُ السَّامِرِيُّ۝ ٨٥ فتن أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] ( ف ت ن ) الفتن دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ السَّامِرِيُّ : منسوب إلى رجل . رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے غضب الغَضَبُ : ثوران دم القلب إرادة الانتقام، ولذلک قال عليه السلام : «اتّقوا الغَضَبَ فإنّه جمرة توقد في قلب ابن آدم، ألم تروا إلى انتفاخ أوداجه وحمرة عينيه» «2» ، وإذا وصف اللہ تعالیٰ به فالمراد به الانتقام دون غيره : قال فَباؤُ بِغَضَبٍ عَلى غَضَبٍ [ البقرة/ 90] ، وَباؤُ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ [ آل عمران/ 112] ، وقال : وَمَنْ يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِي [ طه/ 81] ، غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ [ المجادلة/ 14] ، وقوله : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ [ الفاتحة/ 7] ، قيل : هم اليهود «3» . والغَضْبَةُ کالصّخرة، والغَضُوبُ : الكثير الغضب . وتوصف به الحيّة والنّاقة الضجور، وقیل : فلان غُضُبَّةٌ: سریع الغضب «4» ، وحكي أنّه يقال : غَضِبْتُ لفلان : إذا کان حيّا وغَضِبْتُ به إذا کان ميّتا «5» . ( غ ض ب ) الغضب انتقام کے لئے دل میں خون کا جوش مارنا اسی لئے آنحضرت نے فرمایا ہے اتقو ا الغضب فانہ جمرۃ توقدئی قلب ابن ادم الم ترو الی امتقاخ اوداجہ وحمرتۃ عینیہ کہ غصہ سے بچو بیشک وہ انسان کے دل میں دہکتے ہوئے انگارہ کی طرح ہے تم اس کی رگوں کے پھولنے اور آنکھوں کے سرخ ہوجانے کو نہیں دیکھتے لیکن غضب الہیٰ سے مراد انتقام ( اور عذاب ) ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَباؤُ بِغَضَبٍ عَلى غَضَبٍ [ البقرة/ 90] تو وہ اس کے ) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہوگئے ۔ وَباؤُ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ [ آل عمران/ 112] اور وہ خدا کے غضب ہی گرمحتار ہوگئے ۔ وَمَنْ يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِي [ طه/ 81] اور جس پر میرا غصہ نازل ہوا ۔ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ [ المجادلة/ 14] اور خدا اس پر غضب ناک ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ [ الفاتحة/ 7] نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا ۔ میں بعض نے کہا کہ مغضوب علیھم سے یہود مراد ہیں اور غضبۃ کے معنی سخت چٹان کے ہیں ۔ المغضوب بہت زیادہ غصے ہونے والا یہ سانپ اور تزر مزاج اونٹنی پر بھی بولا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ فلاں غضبۃ کے معنی ہیں فلاں بہت جلد غصے ہونے والا ہے ۔ بعض نے بیان کیا ہے کہ غضیت لفلان کے معنی کسی زندہ شخص کی حمایت میں ناراض ہونا ہیں اور غضبت بہ کے معنی کیس مردہ شخص کی حمایت کے لئے غضب ناک ہونا ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] أسِف الأَسَفُ : الحزن والغضب معاً ، وقد يقال لکل واحدٍ منهما علی الانفراد، وحقیقته : ثوران دم القلب شهوة الانتقام، فمتی کان ذلک علی من دونه انتشر فصار غضبا، ومتی کان علی من فوقه انقبض فصار حزنا، ولذلک سئل ابن عباس عن الحزن والغضب فقال : مخرجهما واحد واللفظ مختلف فمن نازع من يقوی عليه أظهره غيظاً وغضباً ، ومن نازع من لا يقوی عليه أظهره حزناً وجزعاً ، وقوله تعالی: فَلَمَّا آسَفُونا انْتَقَمْنا مِنْهُمْ [ الزخرف/ 55] أي : أغضبونا . ( ا س ف ) الاسف ۔ حزن اور غضب کے مجموعہ کو کہتے ہیں کبھی آسف کا لفظ حزن اور غضب میں سے ہر ایک پر انفراد ابھی بولا جاتا ہے اصل میں اس کے معنی جذبہ انتقام سے دم قلب کے جوش مارنا کے ہیں ۔ اگر یہ انتقام سے دم قلب کے جوش مارنا کے ہیں ۔ اگر یہ کیفیت اپنے سے کمزور آدمی پر پیش آئے تو پھیل کر غضب کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور اگر اپنے سے قوی آدمی پر ہو تو منقبض ہوکر حزن بن جاتی ہے اس لئے جب حضرت ابن عباس سے حزن اور غضب کی حقیقت دریافت کی گئی تو انہوں نے فرمایا : لفظ دو ہیں مگر ان کی اصل ایک ہی ہے جب کوئی شخص اپنے سے کمزور کے ساتھ جھگڑتا ہے تو غیظ و غضب کا اظہار کرتا ہے اور جب اپنے سے قوی کے ساتھ جھگڑتا ہے تو واویلا اور غم کا اظہار کرتا ہے اور آیت کریمہ :۔ { فَلَمَّا آسَفُونَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ } ( سورة الزخرف 55) کے معنی یہ ہیں کہ جب انہوں نے ہمیں غضب ناک کیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خيٰر و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ حسن الحُسْنُ : عبارة عن کلّ مبهج مرغوب فيه، وذلک ثلاثة أضرب : مستحسن من جهة العقل . ومستحسن من جهة الهوى. ومستحسن من جهة الحسّ. والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ( ح س ن ) الحسن ہر خوش کن اور پسندیدہ چیز کو حسن کہا جاتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں ۔ ( 1) وہ چیز جو عقل کے اعتبار سے مستحسن ہو ۔ ( 2) وہ جو خواہش نفسانی کی رو سے پسندیدہ ہو ۔ ( 3) صرف نگاہ میں بھی معلوم ہو ۔ الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ طول الطُّولُ والقِصَرُ من الأسماء المتضایفة كما تقدّم، ويستعمل في الأعيان والأعراض کالزّمان وغیره قال تعالی: فَطالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ [ الحدید/ 16] ، سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، ويقال : طَوِيلٌ وطُوَالٌ ، و عریض وعُرَاضٌ ، وللجمع : طِوَالٌ ، وقیل : طِيَالٌ ، وباعتبار الطُّولِ قيل للحبل المرخيِّ علی الدّابة : طِوَلٌ «3» ، وطَوِّلْ فرسَكَ ، أي : أَرْخِ طِوَلَهُ ، وقیل : طِوَالُ الدّهرِ لمدّته الطَّوِيلَةِ ، وَتَطَاوَلَ فلانٌ: إذا أظهر الطُّولَ ، أو الطَّوْلَ. قال تعالی: فَتَطاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ [ القصص/ 45] ، وَالطَّوْلُ خُصَّ به الفضلُ والمنُّ ، قال : شَدِيدِ الْعِقابِ ذِي الطَّوْلِ [ غافر/ 3] ، وقوله تعالی: اسْتَأْذَنَكَ أُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ [ التوبة/ 86] ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا[ النساء/ 25] ، كناية عمّا يصرف إلى المهر والنّفقة . وطَالُوتُ اسمٌ عَلَمٌ وهو أعجميٌّ. ( ط و ل ) الطول یہ اسمائے اضافیہ سے ہے ۔ اور اس کے معنی دراز اور لمبا ہونا کے ہیں یہ القصر کے مقابلہ میں آتا ہے اور اعیان واعرراض مثلا زمانہ وغیرہ سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ فَطالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ [ الحدید/ 16] پھر ان پر لمبا عرصہ گزر گیا ۔ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] بہت لمبے شغل ( ہوتے ہیں ) طول طول جیسے عریض و عریض دراز لمبا اس کی جمع طوال آتی ہے اور بعض نے طیال بھی کہا ہے اور لمبا ہونے کی مناسبت سے جانور کی پچھاڑی کی رسی کو طول کہا جاتا ہے طول کہا جاتا ہے طول فرسک اپنے گھوڑے کی پچھاڑی باندھ دے ۔ طوال الدھر عرصہ دارز ۔ تطاول فلان درازی یا وسعت کو ظاہر کرنا ۔ قرآن میں ہے ۔ فَتَطاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ [ القصص/ 45] پھر ان پر لمبا عرسہ گزر گیا ۔ اور طول کا لفظ خاص کر فضل و احسان کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ شَدِيدِ الْعِقابِ ذِي الطَّوْلِ [ غافر/ 3] سخت عذاب دینے والا اور صاحب کرم ہے ۔ اور آیت کریمہ : اسْتَأْذَنَكَ أُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ [ التوبة/ 86] تو جو ان میں دولتمند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں میں اولوالطول سے خوش حال طبقہ مراد ہے اور آیت کریمہ : وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا[ النساء/ 25] اور جو شخص تم میں سے مقدر نہ رکھے ۔ میں طولا کنایہ ہے اس مال سے ( جو عورت کو ) مہر میں یا نان ونفقہ کے طور پر دینا پڑتا ہے ۔ طالوت یہ اسم عجمی ہے اور بنی اسرائیل کے ایک با اقبال بادشاہ کا نام تھا ۔ عهد العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً. قال : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] ، أي : أوفوا بحفظ الأيمان، قال : لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] ( ع ھ د ) العھد ( ض ) کے معنی ہیں کسی چیز کی پیہم نگہہ داشت اور خبر گیری کرنا اس بنا پر اس پختہ وعدہ کو بھی عھد کہاجاتا ہے جس کی نگہداشت ضروری ہو ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی ۔ یعنی اپنی قسموں کے عہد پورے کرو ۔ لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] کہ ظالموں کے حق میں میری ذمہ داری پوری نہیں ہوسکتی ۔ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ خُلف ( عهد شكني) والخُلْفُ : المخالفة في الوعد . يقال : وعدني فأخلفني، أي : خالف في المیعاد بما أَخْلَفُوا اللَّهَ ما وَعَدُوهُ [ التوبة/ 77] ، وقال : إِنَّ اللَّهَ لا يُخْلِفُ الْمِيعادَ [ الرعد/ 31] ( خ ل ف ) خُلف الخلف کے معنی وعدہ شکنی کے میں محاورہ ہے : اس نے مجھ سے وعدہ کیا مگر اسے پورا نہ کیا ۔ قرآن میں ہے ۔ بِما أَخْلَفُوا اللَّهَ ما وَعَدُوهُ [ التوبة/ 77] کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اسکے خلاف کیا ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يُخْلِفُ الْمِيعادَ [ الرعد/ 31] بیشک خدا خلاف وعدہ نہیں کرتا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٥) اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ارشاد ہوا ہم نے تمہارے کوہ طور پر چلے جانے کے بعد تمہاری قوم کو گوسالہ کی پرستش میں مبتلا کردیا ہے اور اس گمراہی کے اختیار کرنے کا ان کو سامری نے حکم دیا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٥ (قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَکَ مِنْم بَعْدِکَ ) ” اگرچہ یہاں صراحت کے ساتھ ایسے الفاظ استعمال نہیں ہوئے مگر انداز سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کی اس عجلت پسندی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کی قوم کو فتنے میں مبتلا کردیا۔ (وَاَضَلَّہُمُ السَّامِرِیُّ ) ” اس انداز تخاطب میں یہ تفصیل بھی مضمر ہے کہ اگر آپ ( علیہ السلام) اپنی قوم کے ساتھ ساتھ رہتے ‘ ان کا تزکیہ کرتے رہتے ‘ وہ لوگ آپ ( علیہ السلام) کی تعلیم و تربیت سے مسلسل بہرہ مند ہوتے رہتے تو یقیناً ان کی عقل و فہم مزید پختہ ہوتی اور اس طرح اس فتنے کی نوبت نہ آتی۔ لیکن جب آپ ( علیہ السلام) انہیں چھوڑ کر آگئے تو اس کے نتیجے میں ایک فتنہ گر شخص کو اپنا شیطانی کھیل کھیلنے کا موقع مل گیا۔ سامری کے بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اس کا تعلق قبطی قوم سے تھا اور کسی وجہ سے وہ بنی اسرائیل کے ساتھ مل چکا تھا۔ لیکن اس سلسلے میں معتبر رائے یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے ہی تھا مگر منافق تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اسے خاص کد تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے ابو عامر راہب کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کد تھی۔ ابو عامر راہب کا ذکر سورة التوبہ کے مطالعے کے دوران آیا تھا۔ بنیادی طور پر وہ خزرجی تھا۔ ابتدائی عمر میں بہت نیک اور عبادت گزار تھا ‘ بعد میں اس نے عیسائیت قبول کر کے رہبانیت اختیار کرلی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسے خصوصی طور پر بغض تھا اور اس کا یہ بغض اس حد تک بڑھا ہوا تھا کہ وہ اپنی ساری زندگی آپ ( علیہ السلام) کے خلاف جدوجہد اور سازشوں میں مصروف رہا۔ چناچہ جیسا کردار ابوعامر راہب کا امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں رہا ‘ اس سے ملتا جلتا کردار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں سامری کا تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

63. It is obvious from the last Arabic letter ‘ya’that Samiri was not the proper name of the person, for this Arabic letter is always added to show a person’s connection with his race or clan or place. Moreover, the prefix al (definite article ‘the’) in the original Arabic text clearly denotes that the Samiri was a particular man from among many other persons of the same race or clan or place, who had propagated the worship of the golden calf. In fact, this does not require any further explanation than this, but this has been necessitated because many Christian missionaries and the Western Orientalists have tried to criticize the Prophet (peace be upon him) and the Quran on this account. They say, (God forbid,) "This is a proof of the grievous ignorance of history on the part of Muhammad (peace be upon him), the author of the Quran, and is one of the anachronisms of the Quran. They base this absurd criticism on the assumption that this Samiri was the inhabitant of Samaria, the capital of the ancient kingdom of Israel, which was built in 925 B.C. long after this happening; then centuries after this, a generation of the Samaritans came into existence as a result of inter-marriage between the Israelites and the non-Israelites. As the Samaritans worshiped the golden calf, the critics accuse the Prophet (peace be upon him) of inventing this story on the basis of mere hearsay. They say that the Prophet (peace be upon him) might have heard something like this from the neighboring Jews and inserted it in the Quran. That is not all. They also criticize that Haman who was a courtier of Cyrus has been mentioned in the Quran as a minister of Pharaoh. It is a pity that these so called scholars seem to think that in the ancient times there used to be only one person bearing one name in a clan or a place, and there was absolutely no possibility of another person or persons having the same name. They do not know, or pretend they do not know, that during the time of Prophet Abraham (peace be upon him), a famous people known as the Sumerians inhabited Iraq and the neighboring regions, and it is just possible that during the time of Prophet Moses (peace be upon him) there were some people known as the Samiris who might have migrated to Egypt from Iraq. Besides this, according to the Bible (1 Kings, 16: 24), Samaria itself was built on a hill which was bought from Shemer and named Samaria after him. This is a clear proof that there were people named Shemer (or Sumer) even before Samaria came into existence and it is also just possible that some clans might have been called Samiri

سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :63 یہ اس شخص کا نام نہیں ہے ، بلکہ یائے نسبتی کی صریح علامت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہرحال کوئی نہ کوئی نسبت ہی ہے ، خواہ قبیلے کی طرف ہو یا نسل کی طرف یا مقام کی طرف ۔ پھر قرآن جس طرح السامری کہہ کر اس کا ذکر کر رہا ہے اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں سامری قبیلے یا نسل یا مقام کے بہت سے لوگ موجود تھے جن میں سے ایک خاص سامری وہ شخص تھا جس نے بنی اسرائیل میں سنہری بچھڑے کی پرستش پھیلائی ۔ اس سے زیادہ کوئی تشریح قرآن کے اس مقام کی تفسیر کے لیے فی الحقیقت درکار نہیں ہے ۔ لیکن یہ مقام ان اہم مقامات میں سے ہے جہاں عیسائی مشنریوں ، اور خصوصاً مغربی مستشرقین نے قرآن پر حرف گیر کی حد کر دی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ، معاذ اللہ ، قرآن کے مصنف کی جہالت کا صریح ثبوت ہے ، اس لیے کہ دولت اسرائیل کا دارالسلطنت سامریہ اس واقعہ کے کئی صدی بعد 965 ق م کے قریب زمانے میں تعمیر ہوا ، پھر اس کے بھی کئی صدی بعد اسرائیلیوں اور غیر اسرائیلیوں کی وہ مخلوط نسل پیدا ہوئی جس نے سامریوں کے نام سے شہرت پائی ۔ ان کا خیال یہ ہے کہ ان سامریوں میں چونکہ دوسری مشرکانہ بدعات کے ساتھ ساتھ سنہری بچھڑے کی پرستش کا رواج بھی تھا ، اور یہودیوں کے ذریعہ سے محمد ( صلی اللہ علیہ و سلم ) نے اس بات کی سن گن پالی ہو گی ، اس لئے انہوں نے لے جا کر اس کا تعلق حضرت موسیٰ کے عہد سے جوڑ دیا اور یہ قصہ تصنیف کر ڈالا کہ وہاں سنہری بچھڑے کی پرستش رائج کرنے والا ایک سامری شخص تھا ۔ اسی طرح کی باتیں ان لوگوں نے ہامان کے معاملہ میں بنائی ہیں جسے قرآن فرعون کے وزیر کی حیثیت سے پیش کرتا ہے ، اور عیسائی مشنری اور مستشرقین اسے اخسویرس ( شاہ ایران ) کے درباری امیر ہامان سے لے جا کر ملا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ قرآن کے مصنف کی جہالت کا ایک اور ثبوت ہے ۔ شاید ان مدعیان علم و تحقیق کا گمان یہ ہے کہ قدیم زمانے میں ایک نام کا ایک ہی شخص یا قبیلہ یا مقام ہوا کرتا تھا اور ایک نام کے دو یا زائد اشخاص یا قبیلہ و مقام ہونے کا قطعاً کوئی امکان نہ تھا ۔ حالانکہ سُمیری قدیم تاریخ کی ایک نہایت مشہور قوم تھی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں عراق اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر چھائی ہوئی تھی ، اور اس بات کا بہت امکان ہے کہ حضرت موسیٰ کے عہد میں اس قوم کے ، یا اس کی کسی شاخ کے لوگ مصر میں سامری کہلاتے ہوں ۔ پھر خود اس سامریہ کی اصل کو بھی دیکھ لیجیے جس کی نسبت سے شمالی فلسطین کے لوگ بعد میں سامری کہلانے لگے ۔ بائیبل کا بیان ہے کہ دولت اسرائیل کے فرمانروا عمری نے ایک شخص سمر نامی سے وہ پہاڑ خریدا تھا جس پر اس نے بعد میں اپنا دار السلطنت تعمیر کیا ۔ اور چونکہ پہاڑ کے سابق مالک کا نام سمر تھا اس لیے اس شہر کا نام سامریہ رکھا گیا ( سلاطین 1 ، بابا 16 ۔ آیت 24 ) ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ سامریہ کے وجود میں آنے سے پہلے سمر نام کے اشخاص پائے جاتے تھے اور ان سے نسبت پا کر ان کی نسل یا قبیلے کا نام سامری ، اور مقامات کا نام سامریہ ہونا کم از کم ممکن ضرور تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

32: سامری ایک جادوگر تھا جو بظاہر حضرت موسیٰ پر ایمان لے آیا تھا۔ اور اسی لیے ان کے ساتھ لگ گیا تھا، مگر حقیقت میں وہ منافق تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٨٥۔ ٨٧:۔ بنی اسرائیل کا یہ بچنا بچھڑے کی پوجا کے سبب سے تھا یہ بچھڑے کی پوجا کا قصہ سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل جس رات مصر سے چلے اس رات ایک شادی کا بہانہ کرکے انہوں نے فرعون کی قوم کے لوگوں سے کچھ زیور مانگ لیا تھا تاکہ فرعون کی قوم کو شادی کا یقین ہوجائے اور بنی اسرائیل سفر کی تیاری میں تمام رات جو جاگتے رہے اس کو فرعون کی قوم کے لوگ شادی میں کا جاگنا سمجھ کر سفر کی تیاری میں کچھ فتور نہ ڈالیں اس رات کی صبح کو فرعون کی قوم کے لوگ تو سب ڈوب کر مرگئے اس لیے وہ زیور بنی اسرائیل کے ہی پاس رہ گیا اور دشمنوں کے ہلاک ہوجانے بعد اگرچہ وہ زیور غنیمت کا مال ہوگیا تھا لیکن صحیح بخاری ومسلم ١ ؎ کے حوالہ سے جابر (رض) بن عبداللہ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ امت محمدیہ سے پہلے کسی امت کو غنیمت کا مال حلال نہیں تھا اس لیے ہارون (علیہ السلام) کو جب اس زیور کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم ایک گڑھا کھود کر زیور اس میں دبا دو بنی اسرائیل نے ایسا ہی کیا لیکن بنی اسرائیل میں سامری نام کا جو ایک ستارا تھا اس نے اس زیور کو گڑھے میں سے نکال کر گلا ڈالا اور اس کا بچھڑا بنا دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور مجاہد کے قول کے موافق جبرئیل کے گھوڑے کے قدم کے نیچے کی مٹی جو سامری نے اٹھا رکھی تھی وہ اس نے اس بچھڑے کے منہ میں ڈال دی جس سے وہ بچھڑا گائے کی آواز کی طرح آواز نکالنے لگا اور بنی اسرائیل اس بچھرے کی پوجا کرنے لگے کوہ طور پر جب یہ قصہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جتلایا اور قصہ کو سن کر موسیٰ (علیہ السلام) کو غصہ آیا موسیٰ (علیہ السلام) کے اس غصہ اور رنجیدہ ہونے کا ذکر ان آیتوں میں ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے موسیٰ ( علیہ السلام) تمہارے پیچھے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے بچھڑے کی بلا بھیج کر آزمایا لیکن وہ آزمائش میں پورے نہ اترے اور سامری کے بہکانے سے بہک گئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس قصہ کا حال سن کر کوہ طور سے بہت ہی غصہ اور رنج میں الٹے پھرے اور قوم کے لوگوں سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو میری معرفت کیا تمہاری دین ودنیا کی بہبودی کے لیے کتاب آسمانی تورات کے نازل فرمانے کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا تھا جس کتاب کے لینے کے لیے میں تم سے دین پر قائم رہنے کا عہد لے کر کوہ طور پر گیا تھا پھر اس کتاب کے نازل ہونے سے پہلے تم نے سامری کا کہنا کیوں مانا اور بلا سند بچھڑے کو اپنا معبود کیوں ٹھہرایا کیا مجھ کو کوہ طور پر برسوں کا عرصہ گزر گیا تھا جو تم میرا انتظار نہ کرسکے اور جب تم نے میرے عہد کو توڑا تو کیا تم نے اللہ کے غضب میں گرفتار ہونے کا ارادہ بھی دل میں ٹھان لیا تھا کیونکہ اللہ کے رسول کی مخالفت کے سبب سے فرعون اور اس کی قوم کے سب لوگ جس طرح غضب الٰہی میں گرفتار ہوئے وہ ماجرا اب تک تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ قوم کے لوگوں نے جواب دیا اے رسول اللہ کے ہم نے جان بوجھ کر تمہارے عہد کو نہیں توڑا بلکہ قبطی قوم کا وہ زیور جو ہمارے پاس رہ گیا تھا ہارون (علیہ السلام) کے کہنے سے پہلے تو ہم نے اور سامری نے سب نے مل کر وہ زیور ایک گڑھے میں دبا دیا تھا لیکن اس کے بعد پھر سامری نے اس زیور کا بچھڑا بنا کر ہم کو ایسا بہکایا کہ بالکل بےقابو کردیا۔ فرمایا انسان کے تمام جسم میں جس طرح سے خون پھرتا ہے ٢ ؎۔ اسی طرح بہکانے کے وقت ہر شخص کے تمام جسم میں شیطان جگر لگاتا ہے ترمذی وغیرہ کے حوالہ سے حارث اشعری کی صحیح حدیث بھی گزر چکی ہے ٣ ؎ جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بغیر یاد الٰہی کے آدمی کو شیطان کے پھندے سے اور کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔ ان حدیثوں میں آگئے کہ انہوں نے ہارون (علیہ السلام) کی یاد الٰہی کی نصیحت کو نہیں مانا جس سے شیطان کے پھندے میں پھنس گئے۔ ١ ؎ مشکوٰۃ ص ٥١٢ باب فضائل سید المرسلین۔ ٢ ؎ مشکوٰۃ ص ١٨ باب فی الوسوستہ۔ ٣ ؎ ص ٣٦٩ ج ٣۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(20:85) فانا۔ میں الفاء تعقیب کے لئے ہے ای فتنا ہم بعد ان جئت کہ تیرے آنے کے بعد ہم نے ان کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ فتناماضی جمع متکلم فتنۃ مصدر (باب ضرب) فتنااصل میں فتننا تھا نون کو نون میں مدغم کیا گیا ہے۔ ہم نے ان کو آزمائش میں ڈالا

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یعنی زبوروں سے بنے ہوئے ایک بچھڑے کی پوجا کرنے پر لگا دیا۔ (دیکھیے اعراف آیت 4) یہ سامری تبیلہ علج کا ایک شخص تھا جو اصل میں کرمانی تھا اور مصر پہنچ گیا تھا وہ دل میں گائے کا پجاری تھا لیکن بظاہر حضرت موسیٰ پر ایمان کا دم بھرتا تھا مگر صحیح یہ ہے کہ سامرہ قبیلہ سے تھا جو بنی اسرائیل کے اشراف تھے۔ (شوکانی کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قال فانا قدفتنا قومک من بعدلک واضلھم السامری (٠٢ : ٥٨) ” فرمایا اچھا تو سنو ، کہ ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا ار سامری نے انہیں گمراہ کر ڈالا۔ “ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس ابتلاء کا پتہ نہ تھا۔ اللہ کے ساتھ ملاقات میں پہلی بار ان کو پتہ چلا۔ حضرت موسیٰ نے یہ تختیاں لیں۔ ان میں ہدایت تھی۔ اس میں بنی اسرائیل کی زندگی کی تعمیر کے لئے ایک ایسا دستور تھا جو انہیں اس مقصد کے لئے تیار کر کے دیا گیا تھا جس کے لئے انہیں اٹھایا گیا تھا۔ یہاں کوہ طور موسیٰ (علیہ السلام) کی مناجات کا منظر جلدی سے لپیٹ دیا جاتا ہے تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ان تاثرات کو قلم بند کیا جائے جو ان پر وقم کی گمراہی کی خبر سن کر طاری ہوئے۔ واپسی کے لئے ان کی جلدی بھی منظر پر آئے اور یہ دکھایا جائے کہ وہ کس قدر غیض و غضب میں ہیں۔ اس قوم کو تو انہوں نے حال ہی میں فرعون کی غلامی سے چھڑایا تھا اور بت پرستی کی ذلت سے نجات دلائی تھی۔ پھر اللہ نے صحرا میں ان کے لئے کھانے پینے کی سہولتیں مہیا کیں اور صاف صاف ہدایات بھی دیں کہ گمراہی سے بچنا اور گمراہی کے عواقب اور نتائج بھی بتا دیئے۔ لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ وہ پہلی ہی پکار پر بت پرست بن گئے اور پھر مصنوعی گو سالہ کی پرستش میں لگ گئے۔ یہاں قرآن مجید صراحت کے ساتھ یہ نہیں بتاتا کہ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی ضلالت کی تفصیلات بتا دی تھی یا نہیں لیکن واپسی پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا غیض و غضب کا اظہار کرنا ، نہایت ہی ناراض ہونا ، بھائی پر غصہ ہونا اور قوم کو ملامت کرنا ، یہ سب امور یہ بتلاتے ہیں کہ اللہ نے ان کو سب کچھ بتلا دیا تھا اور وہ جان گیء تھے کہ بنی اسرائیل نے کسی نہایت ہی بری حرکت کا ارتکاب کیا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

56:۔ یعنی تم تو ادھر آگئے۔ اور تمہارے پیچھے ہم نے تمہاری قوم کو ایک آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے ان کو گمراہ کردیا ہے ای اختبرنا ھم بما فعل السامری (روح ج 16 ص 243) ۔ سامری چونکہ منافق تھا اور قوم کو گمراہ کرنے اور ان میں شرک پھیلانے کے موقعوں کی تلاش میں رہتا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں عدم موجودگی کو غنیمت سمجھ کر لوگوں سے زیورات لے کر ان کو ڈھال کر گوسالے کی شکل کا بت تیار کیا۔ جو گو سالے کی طرح آواز نکالتا تھا اور لوگوں سے کہا کہ تمہارا رب تو یہ ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) (عیاذا باللہ) بھول میں ہیں۔ جو کوہ طور پر رب سے ہم کلام ہونے چلے گئے مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورة بقرہ ص 36 حاشیہ 112) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

85 اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے تیری قوم کو تیرے نکل آنے کے بعد ایک فتنے اور بلا میں مبتلا کر دیا اور ایک جانچ میں ڈال دیا اور ان کو سامری نے گمراہ کردیا۔ سامری نے ان کو گمراہ کیا اور ہم نے ان کو ایک امتحان میں مبتلا کردیا۔ یہ نسبت انا قد فتنا کی باعتبار تخلیق اپنی جانب فرمائی واقعہ کی تفصیل آگے مذکور ہے۔