Surat ul Mominoon

Surah: 23

Verse: 12

سورة المؤمنون

وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿ۚ۱۲﴾

And certainly did We create man from an extract of clay.

یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Sign of Allah in the progressive creation of Man from Clay then from Nutfah and thereafter Allah tells: وَلَقَدْ خَلَقْنَا الاِْنسَانَ مِن سُلَلَةٍ مِّن طِينٍ And indeed We created man out of an extract of Tin. Allah tells us how He initially created man from an extract of Tin. This was Adam, peace be upon him, whom Allah created from sounding clay of altered black smooth mud. Ibn Jarir said, "Adam was called Tin because he was created from it." Qatadah said, "Adam was created from Tin." This is the more apparent meaning and is closer to the context, for Adam, upon him be peace, was created from a sticky Tin, which is a sounding clay of altered black smooth mud, and that is created from dust, as Allah says: وَمِنْ ءَايَـتِهِ أَنْ خَلَقَكُمْ مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنتُمْ بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ And among His signs is this that He created you (Adam) from dust, and then -- behold you are human beings scattered! (30:20) Imam Ahmad recorded from Abu Musa that the Prophet said: إِنَّ اللهَ خَلَقَ ادَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الاَْرْضِ فَجَاءَ بَنُو ادَمَ عَلَى قَدْرِ الاَْرْضِ جَاءَ مِنْهُمُ الاَْحْمَرُ وَالاَْبْيَضُ وَالاَْسْوَدُ وَبَيْنَ ذلِكَ وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَبَيْنَ ذلِك Allah created Adam from a handful which He picked up from throughout the earth, so the sons of Adam came forth accordingly, red and white and black and in between, evil and good and in between. Abu Dawud and At-Tirmidhi recorded something similar. At-Tirmidhi said, "It is Sahih Hasan."

انسان کی پیدائش مرحلہ وار اللہ تعالیٰ انسانی پیدائش کی ابتدا بیان کرتا ہے کہ اصل آدم مٹی سے ہیں ، جو کیچڑ کی اور بجنے والی مٹی کی صورت میں تھی پھر حضرت آدم علیہ السلام کے پانی سے ان کی اولاد پیدا ہوئی ۔ جیسے فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کرکے پھر انسان بنا کر زمین پر پھیلادیا ہے ۔ مسند میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو خاک کی ایک مٹھی سے پیدا کیا ، جسے تمام زمین پر سے لیا تھا ۔ پس اسی اعتبار سے اولاد آدم کے رنگ روپ مختلف ہوئے ، کوئی سرخ ہے ، کوئی سفید ہے ، کوئی سیاہ ہے ، کوئی اور رنگ کا ہے ۔ ان میں نیک ہیں اور بد بھی ہیں ۔ آیت ( ثم جعلنہ ) ۔ میں ضمیر کا مرجع جنس انسان کی طرف ہے جیسے ارشاد ہے آیت ( ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ Ď۝ۚ ) 32- السجدة:8 ) ۔ اور آیت میں ہے ( اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ 20؀ۙ ) 77- المرسلات:20 ) پس انسان کے لئے ایک مدت معین تک اس کی ماں کا رحم ہی ٹھکانہ ہوتا ہے جہاں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف اور ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے ۔ پھر نطفے کی جو ایک اچھلنے والا پانی ہے جو مرد کی پیٹ سے عورت کے سینے سے نکلتا ہے شکل بدل کر سرخ رنگ کی بوٹی کی شکل میں بدل جاتا ہے پھر اسے گوشت کے ایک ٹکڑے کی صورت میں بدل دیا جاتا ہے جس میں کوئی شکل اور کوئی خط نہیں ہوتا ۔ پھر ان میں ہڈیاں بنادیں سر ہاتھ پاؤں ہڈی رگ پٹھے وغیرہ بنائے اور پیٹھ کی ہڈی بنائی ۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انسان کا تمام جسم سڑ گل جاتا ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے ۔ اسی سے پیدا کیا جاتا ہے اور اسی سے ترکیب دی جاتی ہے ۔ پھر ان ہڈیوں کو وہ گوشت پہناتا ہے تاکہ وہ پوشیدہ اور قوی رہیں ۔ پھر اس میں روح پھونکتا ہے جس سے وہ ہلنے جلنے چلنے پھرنے کے قابل ہوجائے اور ایک جاندار انسان بن جائے ۔ دیکھنے کی سننے کی سمجھنے کی اور حرکت وسکون کی قدرت عطا فرماتا ہے ۔ وہ بابرکت اللہ سب سے اچھی پیدائش کا پیدا کرنے والا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب نطفے پر چار مہنیے گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھجتا ہے جو تین تین اندھیریوں میں اس میں روح پھونکتا ہے یہی معنی ہے کہ ہم پھر اسے دوسری ہی پیدائش میں پیدا کرتے ہیں یعنی دوسری قسم کی اس پیدائش سے مراد روح کا پھونکا جانا ہے پس ایک حالت سے دوسری اور دوسری سے تیسری کی طرف ماں کے پیٹ میں ہی ہیر پھیر ہونے کے بعد بالکل ناسمجھ بچہ پیدا ہوتا ہے پھر وہ بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ جوان بن جاتا ہے پھر ادھیڑپن آتا ہے پھر بوڑھا ہوجاتا ہے پھر بالکل ہی بڈھا ہوجاتا ہے الغرض روح کا پھونکا جانا پھر ان کے انقلابات کا آنا شروع ہوجاتا ہے ۔ واللہ اعلم ۔ صادق ومصدوق آنحضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع ہوتی ہے پھر چالیس دن تک خون بستہ کی صورت میں رہتا ہے پھر چالیس دن تک وہ گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور بحکم الہٰی چار باتیں لکھ لی جاتی ہیں روزی ، اجل ، عمل ، اور نیک یا بد ، برا یا بھلا ہونا پس قسم ہے اس کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ ایک شخص جنتی عمل کرتا رہتا یہاں تک کہ جنت سے ایک ہاتھ دور رہ جاتا ہے لیکن تقدیر کا وہ لکھا غالب آجاتا ہے اور خاتمے کے وقت دوزخی کام کرنے لگتا ہے اور اسی پر مرتا ہے اور جہنم رسید ہوتا ہے ۔ اسی طرح ایک انسان برے کام کرتے کرتے دوزخ سے ہاتھ بھر کے فاصلے پر رہ جاتا ہے لیکن پھر تقدیر کا لکھا آگے بڑھ جاتا ہے اور جنت کے اعمال پر خاتمہ ہو کر داخل فردوس بریں ہوجاتا ہے ۔ ( بخاری ومسلم وغیرہ ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں نطفہ جب رحم میں پڑتا ہے تو وہ ہر ہر بال اور ناخن کی جگہ پہنچ جاتا ہے پھر چالیس دن کے بعد اس کی شکل جمے ہوئے خون جیسی ہوجاتی ہے ۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب سے باتیں بیان کررہے تھے کہ ایک یہودی آگیا تو کفار قریش نے اس سے کہا یہ نبوت کے دعویدار ہیں اس نے کہا اچھا میں ان سے ایک سوال کرتا ہوں جسے نبیوں کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ۔ آپ کی مجلس میں آکر بیٹھ کر پوچھتا ہے کہ بتاؤ انسان کی پیدائش کس چیز سے ہوتی ہے؟ آپ نے فرمایا مرد عورت کے نطفے سے ۔ مرد کا نطفہ غلیظ اور گاڑھا ہوتا ہے اس سے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں اور عورت کا نطفہ رقیق اور پتلا ہوتا ہے اس سے گوشت اور خون بنتا ہے ۔ اس نے کہا ۔ آپ سچے ہیں اگلے نبیوں کا بھی یہی قول ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب نطفے کو رحم میں چالیس دن گزر جاتے ہیں تو ایک فرشتہ آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کرتا ہے کہ اے اللہ یہ نیک ہوگا یا بد؟ مرد ہوگا یا عورت؟ جو جواب ملتا ہے وہ لکھ لیتا ہے اور عمل ، عمر ، اور نرمی گرمی سب کچھ لکھ لیتا ہے پھر دفتر لپیٹ لیا جاتا ہے اس میں پھر کسی کمی بیشی کی گنجائش نہیں رہتی بزار کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہے جو عرض کرتا ہے اے اللہ اب نطفہ ہے ، اے اللہ اب لوتھڑا ہے ، اے اللہ اب گوشت کا ٹکڑا ہے ۔ جب جناب باری تعالیٰ اسے پیدا کرنا چاہتا ہے وہ پوچھتا ہے اے اللہ مرد ہو یا عورت ، شکی ہو یا سعید؟ رزق کیا ہے ؟ اجل کیا ہے؟ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ سب چیزیں لکھ لی جاتی ہیں ان سب باتوں اور اتنی کامل قدرتوں کو بیان فرما کر فرمایا کہ سب سے اچھی پیدائش کرنے والا اللہ برکتوں والا ہے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے رب کی موافقت چار باتوں میں کی ہے جب یہ آیت اتری کہ ہم نے انسان کو بجتی مٹی سے پیدا کیا ہے تو بےساختہ میری زبان سے فتبارک اللہ احسن الخالقین نکلا اور وہی پھر اترا ۔ زید بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالیٰ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اوپر والی آیتیں لکھوا رہے تھے اور آیت ( ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ ۭفَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ 14؀ۭ ) 23- المؤمنون:14 ) تک لکھوا چکے تو حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمایا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیسے ہنسے ؟ آپ نے فرمایا اس آیت کے خاتمے پر بھی یہی ہے اس حدیث کی سند کا ایک راوی جابر جعفی ہے جو بہت ہی ضعیف ہے اور یہ روایت بالکل منکر ہے ۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاتب وحی مدینے میں تھے نہ کہ مکے میں حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام کا واقعہ بھی مدینے کا واقعہ ہے اور یہ آیت مکے میں نازل ہوئی ہے پس مندرجہ بالا روایت بالکل منکر ہے واللہ اعلم ۔ اس پہلی پیدائش کے بعد تم مرنے والے ہو ، پھر قیامت کے دن دوسری دفعہ پیدا کئے جاؤگے ، پھر حساب کتاب ہوگا خیروشر کا بدلہ ملے گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

121مٹی سے پیدا کرنے کا مطلب، ابو البشر حضرت آدم (علیہ السلام) کی مٹی سے پیدائش ہے یا انسان جو خوراک بھی کھاتا ہے وہ سب مٹی سے ہی پیدا ہوتی ہیں، اس اعتبار سے اس نطفے کی اصل، جو خلقت انسانی کا باعث بنتا ہے، مٹی ہی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١] ضَلاَلَۃٌ بمعنی خلاصہ، نچوڑ، ست، جوہر، کسی بھی چیز سے نکالا ہوا کارآمد حصہ (مفردات القرآن) اور انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کرنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا پتلا مٹی سے بنایا گیا۔ پہلے یہ خشک مٹی تھی۔ پھر اس میں پانی ملایا گیا تو یہ گاڑا بن گیا۔ پھر اس کا خمیر اٹھایا گیا جس میں بدبو پیدا ہوگئی۔ پھر اسے گوندھ کر اس کا چیکدار اور لیسدار حصہ لیا گیا اور اسے خشک کرلیا گیا۔ پھر اسے حرارت پہنچائی گئی حتیٰ کہ وہ ٹن کی طرح بجنے لگا۔ جبکہ مٹی کے برتن اور ان کی مختلف شکلیں بنائی اور آگ میں پکائی جاتی ہیں۔ اور ان میں مٹی کا صرف چیکدار اور کارآمد حصہ ہی استعمال ہوتا ہے۔ اسی مٹی سے آدم کا پتلا تیار ہوا جس میں اللہ نے اپنی روح سے پھونکا تو جیتا جاگتا انسان وجود میں آگیا۔ پھر آئندہ آدم کی نسل توالد و تناسل اور نطفہ سے چلی۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے نطفہ بذات خود انسان کے جسم میں انھیں غذاؤں سے بنتا ہے جو زمین سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے نطفہ بھی بالآخر زمین ہی کا جوہر ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ : ” سُلٰـلَـةٍ “ ” سَلَّ یَسُلُّ “ کوئی چیز نرمی کے ساتھ کھینچتے ہوئے نکالنا۔ ” سَلَلْتُ السَّیْفَ “ ” میں نے میان سے تلوار نکالی۔ “ ” اَلسُّلَالَۃُ “ بمعنی ” اَلشَّيْ ءُ الْمَسْلُوْلُ “ یعنی کسی چیز کا خلاصہ۔ ” فُعَالَۃٌ“ کے وزن میں قلت کا مفہوم پایا جاتا ہے، جیسے ” قُلَامَۃٌ“ قلم کا تراشہ اور ” صُبَابَۃٌ“ تھوڑا سا گرا ہوا پانی۔ 3 ان آیات کی پچھلی آیات کے ساتھ مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاح پانے والے مومنوں کے فردوس کے وارث ہونے کا ذکر فرمایا، تو ظاہر ہے کہ یہ قیامت کے دن ہی ہوگا، اس لیے قیامت اور موت کے بعد زندگی کی دلیل کے طور پر انسان کی پہلی دفعہ پیدائش کا ذکر فرمایا، پھر کائنات میں اس سے بھی بڑی مخلوقات آسمان و زمین اور ان میں موجود نعمتوں کا ذکر دلیل کے طور پر فرمایا کہ جس نے یہ سب کچھ پہلی دفعہ پیدا کیا وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ پھر اللہ کی توحید اور دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کے منکروں کے انجام بد سے ڈرایا، چناچہ سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم کے انکار اور ان پر آنے والے عذاب کا ذکر فرمایا۔ واللہ اعلم (نظم الدرر للبقاعی) مِنْ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ : ” طِيْنٍ “ کی تنوین تحقیر کے لیے ہے اور ” سُلٰـلَـةٍ “ میں بھی قلت کا مفہوم موجود ہے، یعنی یہ انسان جسے تم چلتے پھرتے اور ہنستے مسکراتے دیکھتے ہو اس کی ابتدا حقیر مٹی کے تھوڑے سے خلاصے کے ساتھ ہوئی۔ ابوموسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَھَا مِنْ جَمِیْعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُوْ آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْھُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْیَضُ وَالْأَسْوَدُ وَ بَیْنَ ذٰلِکَ وَالسَّھْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ ) [ أبو داوٗد، السنۃ، باب في القدر : ٤٦٩٣ ] ” اللہ عزو جل نے آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا ہے، جسے اس نے تمام روئے زمین سے جمع فرمایا تھا۔ چناچہ آدم کی اولاد اس مٹی کے لحاظ سے ہوئی ہے، کئی سرخ ہیں اور کئی سفید، کئی سیاہ ہیں اور کئی ان کے بین بین۔ کئی نرم خو ہیں اور کئی سخت طبیعت۔ کئی بری طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اور کئی اچھی اور عمدہ طبیعت والے۔ “ اس آیت میں آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکر ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In the earlier verses it was explained that man can achieve falah (success) in this world and in the Hereafter by spending his time in assiduously worshipping Allah and, in compliance with His commands, by keeping his body and soul pure at all times and by discharging the claims and duties which he owes to fellow human beings. The present verse gives an account of the universal and supreme power of Allah the Almighty and a manifestation of His power in the process leading to the creation of the human race. If a person whom Allah has given wisdom and intelligence ponders seriously the meanings of these verses, he must necessarily choose the path which would lead him to falah in this world and in the Hereafter. وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ And We have created man from an extract of clay. - 23:12 The word سُلَالَةٍ sulalah means |"extract|" and طِينٍ means |"wet earth|" or clay and the verse means that man was created from some special elements extracted from earth. Creation of mankind began with Sayyidna &Adam (علیہ السلام) who was himself created from this essence of earth. Therefore the first creation has been related to earth after which the seed of one man becomes the means of another man&s creation. Seven stages of the creation of man In the above verse seven stages in the creation of man have been described. These are: (1) سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ (an extract of clay). (2) نُطْفَةً (sperm-drop), (3) عَلَقَةَ (clot), (4) مُضْغَةَ (foetus-lump), (5) عِظَامَ (bones), (6) clothing bones with flesh, and (7) completion of the process of creation by blowing the spirit into the child. A very interesting story about Sayyidna ` Abbas (رض) Qurtubi in his commentary has related a very interesting story in which Sayyidna ` Abbas (رض) is said to have determined the exact date of the Night of Majesty (لَیلَۃُ القَدر) and based his reasoning on this verse: The story goes likes this. One day Sayyidna ` Umar (رض) & while sitting in the company of some eminent companions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، asked them on what date of the month of Ramadan the Night of Majesty (Lailatulqadr) would fall. None of them was able to mention a specific date so they all said that only Allah knew the answer. Sayyidna Umar (رض) then turned to Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) who was the youngest among them and asked him if he had an answer to the question. Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) then said, |"0 Amir ul-Mominin! Allah created seven skies and seven earths. He created man in seven stages and provided him sustenance from seven sources. Therefore in my opinion the Night of Majesty (لَیلَۃُ القَدر) will surely fall on the twenty-seventh night of the month of Ramadan.|" When Sayyidna Umar (رض) heard this reasoning, he said to the companions, |"See, this lad has given an answer which none of you could give|". This story is reproduced at length in the Musnad of Ibn Abi Shaibah. When Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) mentioned the seven stages of man&s creation, he was obviously alluding to this verse. As for the seven sources of human sustenance, the reference is to the verse in Surah ` Abas عبس : وَفَاكِهَةً وَأَبًّا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا وَعِنَبًا وَقَضْبًا فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا And therein made the grains to grow and vines, and reeds, and olives, and palms, and dense-tree gardens, and fruits, and pastures. 80:27 - 31 This verse mentions eight items of which the first seven are food for human beings and the eighth provides fodder for animals. The supreme beauty and eloquence of the Qur&anic language is evident from the fact that the seven stages of the creation of man have not all been described in the same manner. In describing the metamorphosis of the human foetus from one stage to the next, the word ثُمّ (afterwards) has been used at some place which is a suggestion of some delay in the process, while at other places the particle فَ has been used as a prefix indicating uninterrupted succession in the process of change. Some of the changes in the human foetus in mother&s womb take a long time to take place whereas other changes occur in relatively shorter periods. Thus the word ثُمّ has been used in the context of the first two changes. First there is سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ

خلاصہ تفسیر (اول بیان ہے ایجاد انسان کا) اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ (یعنی غذا) سے بنایا (یعنی اول مٹی ہوتی ہے پھر اس سے بذریعہ نباتات کے غذا حاصل ہوتی ہے) پھر ہم نے اس کو نطفہ سے بنایا جو کہ (ایک مدت معینہ تک) ایک محفوظ مقام (یعنی رحم) میں رہا (اور وہ غذا سے حاصل ہوا تھا) پھر ہم نے اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنایا پھر ہم نے اس خون کے لوتھڑے کو (گوشت کی) بوٹی بنادیا پھر ہم نے اس بوٹی (کے بعض اجزاء) کو ہڈیاں بنادیا پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا (جس سے وہ ہڈیاں ڈھک گئیں) پھر (ان سب انقلابات کے بعد) ہم نے (اس میں روح ڈال کر) اس کو ایک دوسری ہی (طرح کی) مخلوق بنادیا (جو حالات سابقہ سے نہایت ہی متمائز و متبائن ہے کیونکہ اس سے پہلے سب انقلابات ایک جماد بےجان میں ہو رہے تھے اور اب یہ ایک ذی حیات زندہ انسان بن گیا) سو کیسی شان ہے اللہ کی جو تمام صناعوں سے بڑھ کر ہے (کیونکہ دوسرے صناع تو اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں جوڑ توڑ کر کے ہی بنا سکتے ہیں۔ زندگی پیدا کرنا یہ خاص اللہ ہی کا کام ہے اور نطفہ پر مذکورہ انقلاب کی تفصیل اسی ترتیب کے ساتھ قانون وغیرہ کتب طبیہ میں بھی مذکور ہے آگے انسان کے آخری انجام فنا کا بیان ہے) پھر تم بعد اس (تمام قصہ عجیبہ) کے ضرور ہی مرنے والے ہو (آگے بیان ہے اعادہ کا یعنی) پھر تم قیامت کے روز دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے (اور جس طرح ہم نے تم کو ابتداء وجود عطا فرمایا اسی طرح تمہاری بقا کا سامان بھی کیا کہ) ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان (جن میں ملائکہ کے آمد و رفت کیلئے راہیں ہیں) بنائے (کہ اس سے تمہاری بھی بعض مصلحتیں متعلق ہیں) اور ہم مخلوق (کی مصلحتوں) سے بیخبر نہ تھے۔ (بلکہ ہر مخلوق کو مصالح و حکم کی رعایت کر کے بنایا) اور ہم نے (انسان کی بقاء اور نشو و نما کے لئے آسمان سے (مناسب) مقدار کے ساتھ پانی برسایا پھر ہم نے اس کو (مدت تک) زمین میں ٹھہرایا (چنانچہ کچھ پانی تو زمین کے اوپر رہتا ہے اور کچھ اتر جاتا ہے جو وقتاً فوقتاً نکلتا رہتا ہے) اور ہم (جس طرح اس کے برسانے پر قادر ہیں اسی طرح) اس (پانی) کے معدوم کردینے پر (بھی) قادر ہیں (خواہ ہوا کی طرف مستحیل کر کے خواہ اتنی دور زمین کی گہرائی میں اتار کر کہ آلات کے ذریعہ سے نہ نکال سکو مگر ہم نے باقی رکھا) پھر ہم نے اس (پانی) کے ذریعہ سے باغ پیدا کئے کھجوروں کے انگوروں کے تمہارے واسطے ان (کھجوروں انگوروں) میں بکثرت میوے بھی ہیں (جبکہ ان کو تازہ تازہ کھایا جاوے تو میوہ سمجھا جاتا ہے) اور ان میں سے (جو بچا کر خشک کر کے رکھ لیا جاتا ہے اس کو بطور غذا کے) کھاتے بھی ہو اور (اسی پانی سے) ایک (زیتون کا) درخت بھی (ہم نے پیدا کیا) جو کہ طور سینا میں (بکثرت) پیدا ہوتا ہے جو اگتا ہے تیل لئے ہوئے اور کھانے والوں کے لئے سالن لئے ہوئے (یعنی اس کے پھل سے دونوں فوائد حاصل ہوتے ہیں خواہ روشن کرنے والوں کے لئے سالن لئے ہوئے (یعنی اس کے پھل سے دونوں فوائد حاصل ہوتے ہیں خواہ روشن کرنے کے اور مالش کرنے کے کام میں لاؤ خواہ اس میں روٹی ڈبو کر کھاؤ یہ سامان مذکور پانی اور نباتات سے تھا) اور (آگے حیوانات کے ذریعہ انسان کے منافع اور آسانیوں کا بیان ہے کہ) تمہارے لئے مواشی میں (بھی) غور کرنے کا موقع ہے کہ ہم تم کو ان کے جوف میں کی چیز (یعنی دودھ) پینے کو دیتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں (کہ ان کے بال اور اون کام آتی ہے) اور (نیز) ان میں سے بعض کو کھاتے بھی ہو اور ان (میں جو باربرداری کے قابل ہیں ان) پر اور کشتی پر لدے لدے پھرتے (بھی) ہو۔ معارف و مسائل پچھلی آیات میں انسان کی فلاح دنیا و آخرت کا طریقہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے احکام کی تعمیل میں اپنے ظاہر و باطن کو پاک رکھنے اور تمام انسانوں کے حقوق ادا کرنے سے بیان کیا گیا تھا۔ آیات مذکورہ میں اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ اور بنی نوع انسان کی تخلیق میں اس کے مظاہر خاص کا ذکر ہے جس سے واضح ہوجائے کہ انسان جس کو عقل و شعور ہو وہ اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ اختیار کر ہی نہیں سکتا۔ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ ، سلالہ بمعنے خلاصہ اور طین، گیلی مٹی، جس کے معنے یہ ہیں کہ زمین کی مٹی کے خاص اجزاء نکال کر اس سے انسان کو پیدا کیا گیا۔ انسان کی تخلیق کی ابتداء حضرت آدم (علیہ السلام) سے اور ان کی تخلیق اس مٹی کے خلاصہ سے ہوئی اس لئے ابتدائی تخلیق کو مٹی کی طرف منسوب کیا گیا۔ اس کے بعد ایک انسان کا نطفہ دوسرے انسان کی تخلیق کا سبب بنا۔ اگلی آیت میں اسی کا بیان ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً سے فرمایا ہے مطلب یہ ہے کہ ابتدائی تخلیق مٹی سے ہوئی پھر آگے سلسلہ تخلیق اسی مٹی کے جزء لطیف یعنی نطفہ سے جاری کردی گئی۔ جمہور مفسرین نے آیت مذکورہ کی تفسیر یہی لکھی ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ سے مراد بھی نطفہ انسانی ہو کیونکہ وہ غذا سے پیدا ہوتا ہے اور غذا انسانی مٹی سے بنتی ہے۔ واللہ اعلم۔ تخلیق انسانی کے سات مدارج : آیات مذکورہ میں انسان کی تخلیق کی سات دور ذکر کئے گئے ہیں۔ سب سے پہلے سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ ، دوسرے درجہ میں نطفہ، تیسرے میں علقہ، چوتھے میں مضغہ پانچویں میں عظام یعنی ہڈیاں، چھٹے دور میں ہڈیوں پر گوشت چڑھانا، ساتواں دور تکمیل تخلیق کا ہے یعنی روح پھونکنا۔ ایک لطیفہ عجیبہ از حضرت ابن عباس : تفسیر قرطبی میں اس جگہ حضرت عبداللہ بن عباس سے اسی آیت سے استدلال کر کے ایک عجیب لطیفہ شب قدر کی تعیین میں نقل کیا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت فاروق اعظم نے ایک مرتبہ اکابر صحابہ کے مجمع سے سوال کیا کہ شب قدر رمضان کی کون سی تاریخ میں ہے ؟ سب نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ اللہ اعلم کوئی تعیین بیان نہیں کی۔ حضرت ابن عباس ان سب میں چھوٹے تھے ان سے خطاب فرمایا کہ آپ کیا کہتے ہیں تو ابن عباس نے فرمایا کہ امیر المومنین اللہ تعالیٰ نے آسمان سات پیدا کئے، زمینیں سات پیدا کیں، انسان کی تخلیق سات درجات میں فرمائی۔ انسان کی غذا سات چیزیں بنائیں اس لئے میری سمجھ میں تو یہ آتا ہے کہ شب قدر ستائیسویں شب ہوگی۔ فاروق اعظم نے یہ عجیب استدلال سن کر اکابر صحابہ سے فرمایا کہ آپ سے وہ بات نہ ہوسکی جو اس لڑکے نے کی جس کے سر کے بال بھی ابھی مکمل نہیں ہوئے۔ یہ حدیث طویل ابن ابی شیبہ کے مسند میں ہے۔ حضرت ابن عباس نے تخلیق انسانی کے سات درجات سے مراد وہی لیا ہے جو اس آیت میں ہے اور انسان کی غذا کی سات چیزیں سورة عبس کی آیت میں ہیں فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا، وَّعِنَبًا وَّقَضْبًا، وَّزَيْتُوْنًا وَّنَخْلًا، وَّحَدَاۗىِٕقَ غُلْبًا، وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا، اس آیت میں آٹھ چیزیں مذکور ہیں جن میں پہلی سات انسان کی غذا ہے اور آخری یعنی اب یہ جانوروں کی غذا ہے۔ (قرطبی) پھر تخلیق انسانی پر جو سات دور گزرتے ہیں قرآن کریم کی بلاغت دیکھئے کہ ان سب کو ایک ہی انداز سے بیان نہیں فرمایا بلکہ کہیں ایک دور سے دوسرے دور تک انقلاب کو لفظ ثم سے تعبیر کیا ہے جو تراخی یعنی کچھ دیر سے ہونے پر دلالت کرتا ہے کہیں اس انقلاب کا ذکر حرف فاء سے کیا ہے جو بلا تاخیر ہونے پر دلالت کرتا ہے اس میں اشارہ اس ترتیب کی طرف ہے جو ایک انقلاب سے دوسرے انقلاب کے درمیان فطرةً ہوتی ہے کہ بعض انقلابات انسانی عقل کے لحاظ سے بہت مشکل اور بہت دیر طلب ہوتے ہیں۔ بعض اتنے دیر طلب نہیں ہوتے چناچہ قرآن کریم نے ابتدائی تین دور کو لفظ ثم کے ساتھ بیان کیا ہے اول سلالہ طین پھر اس کو نطفہ کی صورت میں تبدیل کرنا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـۃٍ مِّنْ طِيْنٍ۝ ١٢ۚ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے سل سَلُّ الشیء من الشیء : نزعه، كسلّ السّيف من الغمد، وسَلُّ الشیء من البیت علی سبیل السّرقة، وسَلُّ الولد من الأب، ومنه قيل للولد : سَلِيلٌ. قال تعالی: يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، وقوله تعالی: مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طِينٍ [ المؤمنون/ 12] ، أي : من الصّفو الذي يُسَلُّ من الأرض، وقیل : السُّلَالَةُ كناية عن النطفة تصوّر دونه صفو ما يحصل منه . والسُّلُّ «1» : مرض ينزع به اللّحم والقوّة، وقد أَسَلَّهُ الله، وقوله عليه السلام : «لا إِسْلَالَ ولا إغلال» «2» . وتَسَلْسَلَ الشیء اضطرب، كأنه تصوّر منه تَسَلُّلٌ متردّد، فردّد لفظه تنبيها علی تردّد معناه، ومنه السِّلْسِلَةُ ، قال تعالی: فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُها سَبْعُونَ ذِراعاً [ الحاقة/ 32] ، وقال تعالی: سَلاسِلَ وَأَغْلالًا وَسَعِيراً [ الإنسان/ 4] ، وقال : وَالسَّلاسِلُ يُسْحَبُونَ [ غافر/ 71] ، وروي : «يا عجبا لقوم يقادون إلى الجنّة بالسّلاسل» «3» . وماء سَلْسَلٌ: متردّد في مقرّه حتی صفا، قال الشاعر :۔ أشهى إليّ من الرّحيق السَّلْسَلِ «4» وقوله تعالی: سَلْسَبِيلًا[ الإنسان/ 18] ، أي : سهلا لذیذا سلسا حدید الجرية، وقیل : هو اسم عين في الجنّة، وذکر بعضهم أنّ ذلک مركّب من قولهم : سل سبیلا «5» ، نحو : الحوقلةوالبسملة ونحوهما من الألفاظ المرکّبة، وقیل : بل هو اسم لكلّ عين سریع الجرية، وأسلة اللّسان : الطّرف الرّقيق . ( س ل ل ) سل ( ن ) الشی من الشی کے معنی ایک چیز کے دوسری سے کھینچ لینے کے ہیں جیسے تلوار کا نیام سے سونتنا ۔ یا گھر سے کوئی چیز چوری کھسکا لینا ۔ قرآن میں ہے ۔ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ۔ اسی مناسبت سے باپ کے نطفہ پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے : ۔ جیسے فرمایا :۔ مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طِينٍ [ المؤمنون/ 12] خلاصے سے ( یعنی ) حقیر پانی سے پیدا کی ۔ یعنی وہ ہر جوہر جو غذا کا خلاصہ ہوتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں بطور کنایہ نطفہ مراد ہے ۔ اور نطفہ پر اس کا اطلاق اس جوہر کے لحاظ سے ہے جس سے نطفہ بنتا ہے ۔ السل : سل کی بیماری کیونکہ یہ انسان سے گوشت اور قوت کو کھینچ لیتی ہے اور اسلہ اللہ کے معنی ہیں |" اللہ تعالیٰ نے اسے سل کی بیماری میں مبتلا کردیا |" ۔ حدیث میں ہے لا اسلال ولا اغلال کہ چوری اور خیانت نہیں ہے ۔ تسلسل الشئی کے معنی کسی چیز کے مضطرب ہونے کے ہیں گویا اس میں بار بار کھسک جانے کا تصور کر کے لفظ کو مکرر کردیا ہے تاکہ تکرار لفظ تکرار معنی پر دلالت کرے اسی سے سلسلۃ ہے جس کے معنی زنجیر کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُها سَبْعُونَ ذِراعاً [ الحاقة/ 32]( پھر ) زنجیر سے جس کی ناپ ستر گز ہے ( جکڑ دو ) ۔ سلسلہ کی جمع سلاسل آتی ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَلاسِلَ وَأَغْلالًا وَسَعِيراً [ الإنسان/ 4] زنجیریں اور طوق اور دہکتی آگ ( تیار کر رکھی ہے ) وَالسَّلاسِلُ يُسْحَبُونَ [ غافر/ 71] اور زنجیر میں ہوں گی اور گھسیٹے جائیں گے ۔ ایک حدیث میں ہے «يا عجبا لقوم يقادون إلى الجنّة بالسّلاسل» اس قوم پر تعجب ہے جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے جنت کی طرف کھینچنے جا رہے ہیں ۔ اور ماء سلسل اس پانی کو کہتے ہیں جو اپنی قرار گاہ میں مضطرب ہو کر صاف ہوجائے ۔ شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) ( 232 ) أشهى إليّ من الرّحيق السَّلْسَلِ اور آیت سَلْسَبِيلًا[ الإنسان/ 18] میں سلسبیل کے معنی تیزی سے بہتے ہوئے صاف لذیذ اور خوشگوار پانی کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ جنت کے ایک چشمہ کا نام ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ سل اور سبیل سے بنا ہے اور حوقلۃ و بسملۃ وغیرہ کی طرح الفاظ مرکبہ کے قبیل سے ہے ۔ بعض کا خیال ہے کہ ہر تیز رو چشمے کو سلسبیل کہا جاتا ہے ۔ اور زبان کے باریک سرے کو اسلۃ اللسان کہتے ہیں ۔ طين الطِّينُ : التّراب والماء المختلط، وقد يسمّى بذلک وإن زال عنه قوّة الماء قال تعالی: مِنْ طِينٍ لازِبٍ [ الصافات/ 11] ، يقال : طِنْتُ كذا، وطَيَّنْتُهُ. قال تعالی: خَلَقْتَنِي مِنْ نارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ [ ص/ 76] ، وقوله تعالی: فَأَوْقِدْ لِي يا هامانُ عَلَى الطِّينِ [ القصص/ 38] . ( ط ی ن ) الطین ۔ پانی میں ملی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں گو اس سے پانی کا اثر زائل ہی کیوں نہ ہوجائے اور طنت کذا وطینتہ کے معنی دیوار وغیرہ کو گارے سے لینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ مِنْ طِينٍ لازِبٍ [ الصافات/ 11] چپکنے والی مٹی سے ۔ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ [ ص/ 76] اور اسے مٹی سے بنایا ۔ فَأَوْقِدْ لِي يا هامانُ عَلَى الطِّينِ [ القصص/ 38] ہامان امیر لئے گارے کو آگ لگو اکر اینٹیں تیار کرواؤ

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢۔ ١٤) اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ یعنی غذا سے بذریعہ آدم (علیہ السلام) پیدا کیا پھر ہم نے اس خلاصہ یعنی غذا کو منی بنادیا جو چایس دن تک ایک محفوظ مقام یعنی رحم میں رہا پھر ہم نے اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنادیا جو چالیس روز تک اسی حالت میں رہا پھر ہم نے اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کی بوٹی بنادی جو چالیس دن تک اسی حالت میں رہی، پھر ہم نے اس بوٹی کے بعض اجزا کو ہڈیاں بنادیا پھر ہم نے ان بوٹیوں پر گوشت اور رگ اور پٹھے چڑھائے، پھر ہم نے اس میں روح ڈال کر ایک دوسری طرح کی مخلوق بنا دیا، سو کیسی بڑی شان ہے اللہ کی جو تمام ہنرمندوں سے بڑھ کر ہے۔ شان نزول : ( آیت ) ”۔ ولقد خلقنا الانسان “۔ (الخ) اور ابن ابی حاتم (رح) نے حضرت عمر (رض) سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں نے چار باتوں میں اپنے رب کے ساتھ موافقت کی چناچہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے کہا کہ ہم بھی لوٹائے جائیں گے، ( آیت) ” فتبارک اللہ احسن الخالقین “۔ تو یہی الفاظ قرآن کریم میں نازل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اب جو مضمون آ رہا ہے وہ اس سے پہلے سورة الحج کی آیت ٥ میں بھی آچکا ہے ‘ مگر وہاں اختصار کے ساتھ آیا تھا ‘ جبکہ یہاں زیادہ وضاحت اور جامعیت کے ساتھ آیا ہے۔ اس سے سورة الحج کے ساتھ اس سورت کی مشابہت کا پہلو بھی نظر آتا ہے۔ آیت ١٢ (وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ ) ” تلوار کو نیام سے باہر کھینچنے کے عمل کو ” سَلَّ یَسُلُّ “ جبکہ نیام سے باہر نکلی ہوئی ننگی تلوار کو ” مَسْلُوْل “ کہا جاتا ہے۔ کسی بھی چیز کا اصل جوہر جو اس میں سے کشید کیا گیا ہو ” سُلَالَۃ “ کہلاتا ہے۔ چناچہ اس آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو براہ راست مٹی کے جوہر سے تخلیق کیا گیا اور پھر پوری نسل انسانی چونکہ ان کی اولاد تھی اس لیے اپنی تخلیق کے حوالے سے ہر انسان کو گویا اسی مادہ تخلیق یعنی مٹی سے نسبت ٹھہری۔ لیکن میرے نزدیک اس کی زیادہ صحیح تعبیر یہ ہے کہ مرد کے جسم میں بننے والا نطفہ دراصل مٹی سے کشید کیا ہوا جوہر ہے۔ اس لیے کہ انسان کو خوراک تو مٹی ہی سے حاصل ہوتی ہے ‘ چاہے وہ معدنیات اور نباتات کی شکل میں اسے براہ راست زمین سے ملے یا نباتات پر پلنے والے جانوروں سے حاصل ہو۔ اس خوراک کی صورت میں گارے اور مٹی کے جوہر کشید ہو کر انسانی جسم میں جاتے ہیں اور اس سے وہ نطفہ بنتا ہے جس سے بالآخر بچے کی تخلیق ممکن ہوتی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

9: انسان کا مٹی سے پیدا ہونا یا تو اس اعتبار سے ہے کہ تمام انسانوں کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا کیے گئے تھے، پھر تمام انسان ان کی پشت سے پیدا ہوئے، اس لیے بالواسطہ تمام انسانوں کی اصل مٹی ہے، یا پھر اس کا مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انسان کی تخلیق منی کے قطرے سے ہوتی ہے، اور وہ غذا سے پیدا ہوتی ہے جس کے اگنے اور بننے میں مٹی کا دخل واضح ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٢۔ ١٧:۔ ابوداود، ترمذی کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی روایت جس روایت کو ابن حبان نے صحیح بتلایا ٢ ؎ ہے اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کی مٹی ساری زمین سے ہر طرح کی اچھی بری ‘ سخت نرم سب سے لی تھی ‘ اسی تاثیر سے مختلف مزاج مختلف عادت کے انسان اولاد آدم میں پیدا ہوئے اور قیامت تک پیدا ہوں گے ‘ غرض اب دیکھنے میں اگرچہ آدمی کی پیدائش نطفہ سے ہے لیکن اس کی پیدائش میں مٹی کا اثر بھی ہے جو حضرت آدم سے لے کر قیامت تک سلسلہ بہ سلسلہ چلا آتا ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انسان کی پیدائش کی اصل مٹی اور منی دونوں چیزیں فرمائی ہیں ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ مسند بزار ‘ صحیح ابن حبان میں جو حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ٣ ؎ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کی مٹی لے کر اس کا خمیر کیا ‘ پھر پتلا بنا کر چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس پتلے کی مٹی خوب سوکھ کر کھن کھن بولنے لگی ‘ جب اس میں روح پھونکی پہلے پہل روح حضرت آدم ( علیہ السلام) کی آنکھوں اور ناک نتھنوں میں آئی جس سے حضرت آدم ( علیہ السلام) کو چھینک آئی اور انہوں نے الحمد للہ کہا اور خود اللہ تعالیٰ نے یرحمک اللہ فرمایا ‘ روح پھونکنے سے پہلے اس پتلے کو شیطان نے دیکھ کر کہا تھا کہ یہ پتلا کسی بڑے کام کے لیے بنایا گیا ہے۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ٤ ؎ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ پتلے کو اندر سے خالی دیکھ کر شیطان یہ بھی کہا کرتا تھا کہ اگر اس پتلے میں جان پڑی تو اس کے پیٹ میں بات نہ ٹھہرے گی۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ (رض) بن مسعود کی جو روایت ٥ ؎ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عورتوں کو خوش اخلاقی سے رکھنا چاہیے ‘ عورتوں کے مزاج میں ایک طرح کی کجی اس وجہ سے ہے کہ عورت کی پیدائش پسلی سے ہے اور پسلی کی ہڈی ٹیڑھی ہی ہوتی ہے۔ سیرت ابن اسحاق کی روایت اور روایتوں ٦ ؎ میں اس حدیث کی صراحت یوں آئی ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے حضرت آدم ( علیہ السلام) کی بائیں پسلی سے حضرت حوا ( علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی اب حضرت آدم ( علیہ السلام) اور حوا ( علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد اللہ تعالیٰ نے دنیا عالم اسباب میں انسان کا یہ سبب ٹھہرا دیا ہے کہ عورت اور مرد میں مباشرت ہو کر دونوں کے نطفے سے انسان کی نسل بڑھی ‘ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ٧ ؎ کا حاصل یہ ہے کہ نطفہ چالیس روز تک عورت کے رحم میں رہ کر جما ہوا خون ہوجاتا ہے ‘ پھر اس خون کا گوشت بن جاتا ہے اور ہڈیاں اسی گوشت سے بن کر ان ہڈیوں پر گوشت کا غلاف چڑھا دیا جاتا ہے اور پتلا تیار ہوجاتا ہے ‘ غرض چار ساڑھے چار مہینے میں یہ سب کچھ ہو کر پتلے میں اللہ کے حکم سے جان پڑجاتی ہے اور رحم پر جو فرشتہ تعینات ہے اس کو اس پتلے کی عمر ‘ رزق ‘ نیک وبد لکھنے کا اللہ کا حکم جس طرح ہوتا ہے وہ فرشتہ اس کہ موافق لکھ لیتا ہے ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس عادتی سبب نطفہ سے جو انسان پیدا ہوتے ہیں ‘ ان کا اور حضرت آدم ( علیہ السلام) اور حوا ( علیہ السلام) بغیر اس سبب عادتی کے پیدا ہوئے تھے ‘ ان دونوں کا ذکر فرمایا ہے تاکہ حشر میں کسی کو شک نہ رہے اور سمجھنے والا سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کسی طرح کی پیدائش باہر نہیں ہے۔ اس آیت اور صحیح حدیث سے جب یہ معلوم ہوگیا کہ انسان کی پیدائش نطفہ سے ہے تو اس کے مخالف اہل تشریح نے محض عقل سے یہ جو کہا ہے کہ مرد کے نطفہ کو بچہ کی پیدائش میں کچھ زیادہ دخل نہیں ہے ‘ بچہ تو حیض کے خون سے بنتا ہے۔ مرد کا نطفہ ایک ضامن ہے جو عورت کی منی کو جما دیتا ہے ‘ وہ ایک غلط قول ہے کیونکہ ایسی غیب کی باتیں محض عقل و قیاس سے صحیح طور پر معلوم نہیں ہوسکتی ہیں صحیح وہی ہے جو خود خالق انسان اور خالق کے رسول صاحب وحی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ‘ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عمر (رض) سے جو روایت ١ ؎ ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ جب یہ انسان کی پیدائش کی آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر (رض) کی زبان سے نکلا فتبارک اللہ احسن الخلقین یہ ٹکڑا آخر آیت کا اللہ تعالیٰ نے پھر حضرت عمر (رض) کے اس قول کے موافق نازل فرمایا ثم انشانہ خلقا اخر کی تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کے قول کے موافق یہ ہے کہ پتلے کے تیار ہوجانے کے بعد پھر اس پتلے میں روح پھونکی گئی ‘ حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اسی کو صحیح ٹھہرایا ٢ ؎ ہے ‘ آگے فرمایا اس انسان کا اس طرح پیدا کرنا اور اس کی عمر کی ایک مدت کا ٹھہرانا کھیل تماشہ کے طور پر نہیں ہے کہ ہر شخص جب مر کر خاک ہوجاوے تو پھر اس کی خبر نہ لی جاوے کہ عمر بھر اس نے اپنی پیدائش کے بعد دنیا بھر کے لوگوں کو ایک ہی دفعہ دوبارہ پیدا کیا جا کر نیکی وبدی کو جزا وسزا کا فیصلہ کیا جاوے گا۔ آگے آسمانوں کی پیدائش کے شکریہ میں اپنے پیدا کرنے والے کی مرضی کے موافق کچھ کام کیے یا نہیں اس لیے دنیا کی عمر ختم ہوجانے اور اس کے اجڑ جانے کا ذکر فرما کر یہ جتلایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اس حال سے بیخبر نہیں کہ وہ گر کر زمین اور اہل زمین کو برباد نہ کردیں ‘ اسی طرح ہر شخص کے نیک وبد کاموں سے بھی وہ غافل نہیں ہے اس کو سب کے عملوں کی خبر ہے جس کا نتیجہ وقت مقررہ پر سب کو معلوم ہوجائے گا۔ طریقہ کے معنی راستہ کے ہیں ‘ طرائق اسی کی جمع ہے ‘ کئی منزل کی عمارت کو اہل عرب طرائق اسی لیے کہتے ہیں کہ اوپر کی منزل کا راستہ نیچے کی منزل میں سے ہوا کرتا ‘ ساتوں آسمانوں کی بناوٹ بھی کئی منزل کی عمارت کی طرح ہے کیونکہ پہلا آسمان جس طرح سے دنیا کی چھت ہے اسی طرح ہر ایک آسمان دوسرے مسلمان کی چھت ہے اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانسو برس کے راستہ کا فاصلہ ہے اسی واسطے سات آسمانوں کو سات راہیں فرمایا ‘ مسند امام احمد ترمذی وغیرہ میں چند صحابہ (رض) سے روایتیں ١ ؎ ہیں ‘ جن میں ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانسو برس کے راستہ کا فاصلہ ہے۔ (٢ ؎ فتح الباری ص ٢١٩ ج ٣ ) (٣ ؎ صتح الباری بات حلق آدم وزریتہ ص ٢١٩ ج ٣ ) (٤ ؎ ایضا ) (٥ ؎ صحیح بخاری بروایت حضرت ابوہریرہ (رض) (٦ ؎ فتح الباری ص ٢٢٢ ج ٣ ) (٧ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٢٤١ ج ٣ و صحیح بخاری مع الفتح ص ٢٣٢ ج ٣۔ ) ١ ؎ الدر المنثورص ٧ ج ٥ و تفسیر ابن کثیر ص ٢٤١ ج ٣ ) (٢ ؎ تفسیر ابن جریر ص ١١ ج ١٨۔ ) (١ ؎ فتح الباری ص ١٨٨ ج ٣ باب ماجاء فی سبع ارضین الخ۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(23:12) سللۃ۔ سل سے اسم مشتق ہے ۔ سل کے معنی ہیں کسی چیز کو کسی چیز سے کھینچنا اور نچوڑنا۔ جیسے تلوار کا نیام سے سونتنا۔ یا کوئی شے چوری کھسکا لینا۔ جیسے یتسللون منکم لواذا (24:63) جو تم میں سے آنکھ بچا کر کھسک گئے۔ سلالۃ من طین مٹی کا جوہر۔ مٹی سے نچوڑ کر حاصل کیا ہوا خلاصہ ۔ صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔ مٹی کے خمیر سے جو جوہر نکلا اس سے آدم (علیہ السلام) کا جسم پاک تیار ہوا۔ پھر آپ سے جو نسل انسانی چلی اس کے لئے نطفہ اصل قرار پایا جو ان غذائوں سے پیدا ہوتا ہے جو مٹی سے اگتی ہیں اس لئے جنس انسانی کی تخلیق کے متعلق فرمایا کہ اسے مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

9 ۔ یا ہم نے انسان کو (یعنی آدم علیہ السلام) کو منتخب مٹی سے پیدا کیا۔ “

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 12 تا 16 : سلالۃ (سل) (منتخب چیز۔ خلاصہ۔ نچوڑ) ‘ طین (مٹی) ‘ نطفۃ (ٹپکی ہوئی بوند) ‘ قرار مکین (محفوظ مقام) ‘ علقۃ (جما ہوا خون) ‘ مضغۃ (بوٹی۔ لوتھڑا) ‘ عظام (عظم) (ہڈیاں) ‘ کسونا (ہم نے پہنایا۔ ہم نے چڑھایا) ‘ لحم (گوشت) ‘ انشأنا (ہم نے اٹھا کھڑا کیا) ‘ خلق (مخلوق) ‘ احسن (زیادہ بہتر۔ زیادہ خوبصورت) ‘ میتون (مرنے والے) ‘ تبعثون (تم اٹھائے جائو گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 12 تا 16 : موجودہ دور سائنسی ترقیات ‘ ٹیکنالوجی اور نت نئی مشینوں کی ایجاد کا دور ہے۔ معلومات کی دنیا میں انسان کے قدم ہر روز آگے بڑھ رہے ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سائنسی ترقیات سے دین اسلام کے کسی اصول کی نفی یا تردید نہیں ہورہی ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات کی حقانیت اور سچائی دن کی روشنی کی طرح پھیلتی چلی جارہی ہے۔ مثلاً آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے یہ بات ناممکن اور ایک پوشیدہ حقیقت تھی کہ جو بچہ کسی ماں کے پیٹ میں پرورش پارہا ہے اور جن مرحلوں سے گذر رہا ہے اس کی کیفیات کیا ہیں۔ اس کے لئے کچھ اندازے کر لئے جاتے تھے اور ان پر ہی فیصلے کئے جاتے تھے۔ لیکن نت نئی مشینوں کی ایجاد نے ان تمام کیفیات کے مشاہدے کو آسان کردیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی تخلیق اور اس کی بناوٹ کو اللہ نے جیسے ترتیب دیا ہے اور ان کو مختلف مرحلوں سے گذارا جاتا ہے جبان کو مشینی آنکھ سے مشاہدہ کیا جاتا ہے تو ان میں کوئی تضاد یا اختلاف نظر نہیں آتا۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ قرآن کریم اللہ کا سچا کلام ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جدید سائنسی تحقیقات اور قرآن کریم کے بیان میں حیرت انگیز یکسانیت نہ ہوتی۔ ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ ایک انسانی بچہ ماں کے پیٹ میں سات مختلف مرحلوں سے گذر کر جسمانی تکمیل تک پہنچتا ہے ۔ اگر آدمی اپنی پیدائش کے نازک اور پر پیچ مرحلوں پر ہی غور کرلے تو اس کے لئے اللہ پر ایمان لانا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ (1) فرمایا کہ پہلا مرحلہ ” سلالۃ من طین “ ہے۔ عربی میں سلالۃ کے معنی منتخب اور چینی ہوئی چیز کے آتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو انتخاب کی ہوئی مٹی اور اس کے چنے ہوئے اجزاء سے پیدا کیا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے دنیا کے سب سے پہلے انسان حضرت آدم کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا تھا۔ جن سے انسانی تخلیق و پیدائش کا آغاز ہوا۔ پھر اللہ نے حضرت حوا کو پیدا کر کے ان دونوں سے دنیا کے انسانوں کو پھیلادیا۔ اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ (2) اب اسی چنی ہوئی اور مٹی کے منتخب اجزاء سے یا انسانی غذاؤں سے نطفہ بنتا ہے۔ جو رحم مادر میں ایک مناسب وقت تک رہتا ہے اور قرار پاتا ہے اور (3) رحم مادر میں کچھ دن پڑا رہنے کے بعد وہ جمے ہوئے خون کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ (4) پھر یہ جما ہوا خون گوشت کی بوٹی جیسا بن جاتا ہے۔ (5) پھر اسی گوشت کی بوٹی میں سے ہڈیوں کا ڈھانچہ پھوٹنا شروع ہوجاتا ہے۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ تیار ہونے کے بعد (6) ان ہڈیوں پر گوشت چڑھا یا جاتا ہے۔ اس طرح انسانی ڈھانچے کی شکل بن جاتی ہے۔ (7) اب وہ مرحلہ آجاتا ہے کہ جہاں اس انسانی ڈھانچے میں اللہ کی طرف سے روح پھونکی جاتی ہے۔ پھر تکمیل کے ان مختلف مرحلوں سے گذر کر مکمل انسانی شکل اختیار کر کے اس زمین پر قدم رکھتا ہے یہ تما مرحلے اللہ کے حکم ‘ علم اور قدرت سے تکمیل تک پہنچتے ہیں۔ اتنے مختلف مرحلوں سے گذر کر انسانی بچہ دنیا میں قدم رکھتا ہے نوجوانی ‘ جوانی اور ادھیڑ عمری کے مرحلوں سے گذر کر وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جاتا ہے اور آخر کا طبعی عمر گذار نے کے بعد موت کی آغوش میں جا کر سو جاتا ہے۔ قبر میں ایک لمبی سی نیند لے کر پھر اللہ کے حکم سے دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور میدان حشر میں زندگی کے ہر لمحے کا حساب لیاجائے گا۔ فرمایا کہ انسان پیدائش ‘ زندگی ‘ موت اور پھر زندہ کئے جانے کے جن مرحلوں کو طے کرتا ہوا گذرتا ہے وہ سب کے سب اللہ کے علم اور قدرت سے تکمیل تک پہنچتے ہیں۔ فرمایا کہ جس کو اس بات پر یقین ہے کہ اللہ ہی ہے جو انسان کو ان مختلف مرحلوں سے گذار کر جیتا جاگتا انسان بنانے پر پوری قدرت و طاقت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا خالق نہیں ہے تو وہی اللہ انسان کے مرجانے کے بعد اس کے ان ہی اجزاء کو جمع کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت کیوں نہیں رکھتا ؟ یقیناً اسی ایک اللہ کی یہ قدرت ہے جو تمام انسانوں کو دوبارہ پیدا فرمائے گا۔ جو اللہ ایک قطرہ سے زندہ انسان بنانے پر قدرت رکھتا ہے تو کیا وہ انسان کے مرجانے کے بعد اس کو دوبارہ پیدا کرنے سے عاجز اور بےبس ہو سکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ وہی اللہ بہترین تخلیق کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ اور وہی سب پیدا کرنے والوں میں سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر جنت میں داخل فرمایا اس لیے جنت الفردوس کے ذکر کے بعد انسان کو اس کی تخلیقی مراحل سے آگاہ فرما کر اس کے حقیقی خالق کی پہچان کروائی گئی ہے۔ انسانِ اوّل یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا۔ مٹی کو مختلف مراحل سے گزار کر اس سے آدم (علیہ السلام) کا ڈھانچہ تیار کیا اس لیے جب حضرت آدم یا انسان کی تخلیق کا ذکر ہوتا ہے تو کبھی ایک مرحلہ سے اس کا آغاز کیا جاتا ہے اور کبھی دوسرے مرحلہ سے ابتداء کی جاتی ہے ایک جگہ فرمایا کہ انسان کو ہم نے کھڑکھڑاتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ دوسرے موقعہ پر فرمایا ہم نے انسان کو بدبودار مٹی سے پیدا کیا۔ یہاں فرمایا کہ ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ گویا کہ موقعہ کی مناسبت سے انسان کو اس کے تخلیقی مراحل سے آگاہ کرنے کے لیے مختلف مراحل کا ذکر کیا جاتا ہے تاکہ انسان اپنی تخلیق کو یاد کرکے اپنے مالک اور خالق کو پہچاننے کی کوشش کرے۔ یہاں انسان کا معنٰی عام انسان لیاجائے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہر انسان کی خوراک مٹی سے متعلقہ ہے اس لیے انسان کو اصلیت یاد کروائی جاتی ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر اس بات کی اس طرح تشریح فرمائی۔ (عَن أَبِیْ مُوسَی الْأَشْعَرِیِ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَہَا مِنْ جَمِیعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْہُمْ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْیَضُ وَالْأَسْوَدُ وَبَیْنَ ذٰلِکَ وَالسَّہْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِیثُ وَالطَّیِّبُ ) [ رواہ ابو داود : کتاب السنہ، باب فی القدر ] ” حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی کی ایک مٹھی سے پیدا کیا۔ جو ساری زمین سے لی گئی لہٰذا آدم کی اولاد زمین کے مطابق ہے۔ ان میں سرخ، سفید، سیاہ اور ان میں درمیانی رنگت کے لوگ ہیں۔ کچھ سخت اور کچھ نرم طبیعت کے لوگ ہیں اسی طرح کچھ نیک اور کچھ بد ہیں۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ قَدْ أَذْہَبَ اللَّہُ عَنْکُمْ عُبِّیَّۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ وَفَخْرَہَا بالآبَاءِ مُؤْمِنٌ تَقِیٌّ وَفَاجِرٌ شَقِیٌّ وَالنَّاسُ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ ) [ رواہ الترمذی : باب فی فضل الشام والیمن ] ” حضرت ابوھریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ نے تم سے جاہلیت کے فخروغرور کو مٹا دیا ہے جو تم اپنے آباء کے نام سے کیا کرتے تھے۔ مومن پرہیزگار ہوتا ہے اور فاجر بدبخت ہوتا ہے۔ تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے تھے۔ “

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولقد تبعثون (١٢ تا ١٦) یہ انداز تخلیق ، یہ منظم انداز نشونما اس کے اندر پایا جانے وا لا تسلسل ۔ سب سے پہلے تو یہ بتاتا ہے کہ اس پورے نظام کا ایک خالق ہے اور پھر اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا عمل اس کے ارادہ مدبرہ کے مطابق ہے۔ یہ نہایت ہی پچیدہ عمل محض اتفاق سے یونہی نہیں ہوجاتا اور نہ یہ پورا عمل بغیر کسی ارادے اور تدبیر کے یونہی اتفاقاً ہوتا ہے۔ خصوصاً اس کا یہ پہلو کہ اس پورے نظام واقعات میں کبھی بھی یہ سلسلہ منقطع نہیں ہوتا۔ انسان کا یہ نظام تخلیق عقلاً کئی دوسرے طریقوں سے ممکن ہے لیکن کبھی یہ طریق کار تبدیلی کو قبول نہیں کرتا۔ یہ پہلوخصوصاً ٓاس بات کا اظہار کرتا ہے کہ ایک مخصوص ارادہ جو اس نظام کی پشت پر ہے۔ حیات انسانی کی یہ تدریجی نشونما اپنے اس تسلسل کے ساتھ بظاہر ایک اعجوبہ ہے اور اسے صرف اس صورت میں حل کیا جاسکتا ہے کہ اس سورة کے مطابق ایک انسان سیدھی طرح اللہ پر ایمان لے آئے۔ بس یہی ایک طریقہ ہے جس سے اس تخلیق اور اس نشو نما کو اپنے کمال تک پہنچانے کا تصور دیا جاسکتا ہے۔ صرف ایمان باللہ ہی کی صورت میں دنیا و آخرت کی زندگی با معنی اور با مقصد ہوسکتی ہے۔ صفات مومنین کے بعد یہاں زندگی کی اس عجیب نشونما کے مدارج کو کیوں لایا گیا ہے ؟ ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین (٢٣ : ١٢) ” ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا ، پھر ایک محفوظ جگہ ٹپی کی ہوئی بوند میں تبدیل کیا “۔ یہ آیت انسانی زندگی کی نشونما کے انداز کو نہایت ہی تعین کے ساتھ بتاتی ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان موجود انسانی شکل تک کئی مراحل طے کرکے پہنچتا ہے۔ یو وہ پہلے مٹی سے انسان تک پہنچا ، کیچڑ گویا انسان کی تخلیق درجہ اول ہے۔ اور انسان اپنی موجودہ شکل میں اس عمل تخلیق کا فائنل مرحلہ ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کی قرآن کریم صراحت کرتا ہے۔ ہم انسان کے اس عمل تخلیق کی تصدیق ان سائنسی مشاہدات سے کرنا نہیں چاہتے جنہوں نے اس عمل کو تخلیقی کا بڑی باریکی سے مشاہدہ کیا ہے کہ انسانی زندگی کس طرح نشونما پاتی ہے۔ قرآن کریم نے تخلیق کس قدر پچیدہ ہے ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ کیچڑ سے انسان کی تخلیق تک کس قدر تبدیلی ہے ۔ قرآن کریم نے اس سے زیادہ تفصیلات نہیں دی ہیں کیونکہ قرآن کریم کا مقصد ان موٹے موٹے مدارج تخلیق کے ذکر ہی سے پورا ہوجاتا ہے ۔ رہے موجودہ سائنسی مشاہدات تو ان کے پیش نظر نشونما کے نہایت ہی مفصل مدارج کا بیان ہوتا ہے تاکہ وہ کیچڑ سے مکمل انسان کی تخلیق تک مدارج کو تفصیل سے لیں۔ سائنس دانوں کے مشاہدات درست بھی ہوسکتے ہیں اور بعض اوقات وہ غلط مشاہدات بھی کرتے ہیں۔ آج زیادہ وہ مدارج بتاتے ہیں اور کل ان میں کمی کردیتے ہیں کیونکہ آلات مشاہدہ میں آئے دن تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ۔ قرآن کریم کبھی تو ان مدارج کو اختصار کے ساتھ بیان کرتا ہے اور کبھی ان کی تفصیلات دیتا ہے۔ بعض اوقات صرف یہ فقرہ ہوتا ہے۔ و بدا خلق الانسان من طین (٣٢ : ٧) ” انسان کی ابتدائی تخلیق مٹی سے کی گئی “۔ اب اس میں مراحل کا ذکر بالکل نہیں ہے اور جس آیت میں تفصیلات دی گئی ہیں اس میں کہا ہے۔ من سللۃ من طین (٢٣ : ١٢) ” دوسری آیت میں اختصار سے کام لیا گیا ہے۔ رہی یہ بات کہ انسان مٹی سے کس طرح تسلسل کے ساتھ اپنی موجودہ کامل حالت تک پہنچاتو قرآن کریم نے اس کی تفصیلات نہیں دی ہیں اور جیسا کہ ہم نے دوسری جگہ تفصیلات دے دی ہیں یہ امور قرآن کریم کے مقاصد میں شامل ہی نہیں ہیں۔ قرآن کریم نے جو مدارج حیات بیان کیے ہیں وہ سائنسی مشاہدات کے مطابق بھی ہوسکتے ہیں اور خلاف بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ عمل کسی نامعلوم ذریعہ سے ہوا ہو اور ابھی بھی انسان نے اسے دریافت نہ کیا ہو یا کچھ ایسے فیکٹر ہوں جو ابھی انسان کے علم سے باہر ہوں۔ لیکن قرآن انسان کو جس نظر سے دیکھتا ہے اور یہ دوسرے سائنسی نظریات اسے جن مقاصد کے لیے مشاہدہ کرتی ہیں ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قرآن کریم انسان کو ایک نہایت ہی مکرم اور برگزیدہ مخلوق قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس ذات کے اندر اللہ کی روح پھونگی گئی ہے اور اس روح ہی نے اسے مٹی سے انسان بنادیا اور اسے دو خصوصیات عطا کیں جن کی وجہ سے انسان کہلایا اور حیوان سے ممتاز قرار پایا یوں قرآن کا نقطہ نظر انسان کے بارے میں مادہ پرستوں سے بالکل جدا ہے اور اللہ کا قول تمام لوگوں سے زیادہ سچا ہے۔ (دیکھئے الانسان بین المادیۃ والاسلام محمد قطب) یہ ہے جنس انسانی کی اصل تخلیق مٹی کے ست سے۔ رہا بعد کا سلسلہ نسل انسانی تو اس کا طریق کا بالکل کار بالکل جدا ہے اور ایک معروف اور مشاہدہ کیا ہواطریقہ ہے۔ ثم جعلنہ نطفۃ فی قرار مکین (٢٣ : ١٣) ” پھر ہم نے اسے ایک محفوظ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کردیا ”۔ اللہ نے جنس انسانی (آدم) کو تو مٹی کے ست بنایا۔ رہا سلسلہ تناسل تو اس سلسلے کو اللہ تعالیٰ نے پانی کے ایک قطرے سے چلایا۔ پانی کا یہ قطرہ مرد صنب سے نکلتا ہے۔ یہ قطرہ رحم مادر میں ٹھرتا ہے۔ یہ پانی کا نہایت ہی چھوٹا نکتہ ہوتا ہے بلکہ یہ ہزار ہا خلیوں میں سے ایک خلیہ ہوتا ہے اور پانی کے اس قطرے میں یہ خلیے ہزار ہا کی تعداد میں ہوتے ہیں۔ فی قرار مکین (٢٣ : ١٣) ” محفوظ جگہ میں “ یہ نقطہ رحم میں جاکر رحم کی ہڈیوں کے درمیان ایسی جگہ محفوظ جگہ میں ہوتا ہے کہا اس پر جسم کی حرکات کا کو ئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ جگہ ایسی ہوتی ہے کہ انسان کی پیٹھ اور پیٹ کو جھٹکے اور چوٹیں اور حرکات اور تاثرات پہنچتے ہیں یہ جگہ ان سے محفوظ ہوتی ہے۔ قرآن کریم اس نقطے کو انسان کی تخلیق کا ایک مرحلہ قرار دیتا ہے اس نقطے سے بڑھ کر انسان ایک مکمل انسان بنتا ہے ۔ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے لیکن یہ عجیب اور قابل غور حقیقت ہے۔ جب اس عظیم الحبثہ انسان کو ہم مختصص کرکے اس نقطے کے اندر وہ تمام انسانی خصائص پائے جاتے ہیں تو پھر ایک کامل انسان اندر سے اس قسم کے اور جینز تخلیق ہوتے رہتے ہیں ۔ سلسلہ تخلیق کا یہ ایک عجیب نظام ہے۔ اس نقطے سے انسان پھر علفہ بن جاتا ہے یعنی خون کا ایک لوتھڑا۔ اس مرحلے میں مرد کا جرثومہ عورت کے انڈے کے ساتھ مکس ہوجاتا ہے اور ابتداء میں رحم مادر کے ساتھ معلق یہ ایک باریک نقطہ ہی ہوتا ہے ۔ یہ نقطہ رحم مادر کے خون سے غذاپاتا ہے۔ علقہ سے پھر المضغۃ ” خون کی بوٹی “ کی شکل میں آجاتا ہے ۔ بوٹی کی شکل میں اب یہ نقطہ قدرے بڑا ہے ۔ اب یہ گوشت کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے ۔ یہ خون کا ایک موٹا ٹکڑا ہوتا ہے ۔ یہ چھوٹی سی مخلوق اپنی اس راہ پر چلتی ہے۔ یہ اپنی ڈگر تبدیل نہیں کرتی۔ نہ اپنی راہ سے ادھر ادھر جاتی ہے ۔ اس کی حرکت معظم اور مرتب ہوتی ہے اور یہ اس ناموس کے مطابق ہوتی ہے جو پہلے سے اللہ نے مقرر کردیا ہے۔۔ یعنی اللہ کی تدبیر و تقدیر کے مطابق ۔ اس کے بعد ہڈیوں مرحلہ آتا ہے۔ فخلقنا المضغۃ عظما (٢٣ : ١٣) پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں۔ اور اس کے بعد یہ مرحلہ آیا کہ ہڈیوں پر گوشت چڑھ آیا۔ فکسونا العظم لحما (٢٣ : ٣١) ” پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا “۔ ان مراحل کو پڑھ کر اور پھر دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے کہ قرآن کریم نے کے ان مراحل کو جس تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے وہ سائنس دانوں کے مشاہدے میں بہت بعد میں آئی ہے ۔ سائنس دانوں نے بعد میں یہ بات معلوم ہوئی کہ ہڈیوں کے خلیے اور ہیں ۔ اور گوشت کے خلیے اور ہیں۔ اور یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ جنین کے اندر ہڈیوں کے خلیے پہلے چڑھتے ہیں اور بعد میں ان پر گوشت کے خلیے چڑھتے ہیں اور جب تک ہڈیوں کے خلیے مکمل نہیں ہوتے اس وقت تک گوشت کے خلیے پاپید ہوتے ہیں اور بعد میں جنین کا ڈھانچہ بنتا ہے۔ یہ حیران کن حقیقت ہے جسے جسے قرآن کریم ریکارڈ کرتا ہے۔ فخلقنا المضغۃ عظما فکسونا العظم لحما (٢٣ : ١٤) ” پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں “ اور پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا ۔ ثم انشانہ خلقا اخر (٢٣ : ١٤) ” پھر اسے ایک دوسری مخلوق بنا کھڑا کیا “۔ اور یہ مخلوق انسان ہے۔ یہ امتیازی خصوصیات کا حامل ہے ۔ ابتداء مین انسان کا جنین اور حیوان کا جنین جسمانی ساخت کے اعتبار سے ایک جیسے نظر آتے ہیں لیکن آخر میں جاکر انسان کا جنین ایک دوسری مخلوق کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ یہ ایک مکرم اور صاحب امتیاز مخلوق ہوتی ہے اور یہ ارتقاء اور ترقی کی بےپناہ استعداد اپنے اندر رکھتی ہے ۔ حیوان کا جنین حیوان کے ہی درجے میں رہ جاتا ہے۔ وہ انسانی خصائص کو اخذ نہیں کرسکتا۔ اور ان کمالات تک نہیں پہنچ پاتا جن تک انسان پہنچتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ انسانی جنین کو متعین اور مخصوص خصوصیات دی گئی ہیں اور یہی خصوصیات ہیں جو بعد کے زمانے مین انسان کو انسانیت کی راہ پر ڈالتی ہیں۔ اس طرح انسان ” ایک دوسری “ مخلوق بن جاتا ہے ۔ اور یہ اس وقت ہی بن جاتا ہے جب یہ جنین اپنے آخری دور میں نشونما میں ہوتا ہے۔ حیوان اپنے آخری دور میں انسان سے پیچھے رہ جاتا ہے اس لیے کہ اس کو انسانی خصوصیات نہیں دی گئیں۔ چناچہ کسی حیوان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے حیوانی مقام سے آگے بڑھ پائے اور اس طرح آگے بڑھتے بڑھتے حیوان سے انسان بن جائے جیسا کہ مادی نطریہ کے قائلین اس پر یقین رکھتے ہیں لیکن انسان اپنی انسانی خصوصیات کے اعتبار سے ایک مقام جا کر رک جاتا ہے اور انسان خلق آخر بن جاتا ہے اور ان ذمہ داریوں کے اٹھانے کے قابل بن جاتا ہے جو اس نے اس کرہ ارض پر ادا کرنی ہیں۔ یہ فرق ان امتیازی خصوصیات کی وجہ سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہیں ۔ اس معاملے میں یہ نظریہ بالکل غلط ہے کہ حیوانات نے ترقی کرتے کرتے درجہ انسانی تک بلندی حاصل کی ہے۔ نظریہ ارتقاء اسلام کے نظریہ سے متضاد تصور پر قائم ہے۔ یہ نظریہ فرض کرتا ہے کہ موجودہ انسان حیوانی ارتقاء کا ایک درجہ ہے ۔ اور یہ کہ حیوان بھی ترقی کرکے انسان بن سکتا ہے لیکن واقعی صورت حالات یہ ہے کہ واضح طور پر یہ کہ نظریہ محض مفروضہ اور جھوٹ نظر آتا ہے ۔ حیوان کبھی بھی انسانی خصوصیات کا حامل نہیں ہوسکتا ۔ وہ ہمیشہ ہی اپنی حدود میں رہتا ہے ان سے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ یہ ممکن ہے کہ کسی نوع کے اندر شکلی اعتبار سے کوئی نوع حیوان ترقی کرلے جس طرح ڈرائون کہتا ہے۔ لیکن ہر نوع اپنے نوع اپنے نوعی حدود کے اندر رہتی ہے وہ نوعی خصوصیات بدل نہیں سکتی کیونکہ ہر نوع حیوانی کی خصوصیات علیحدہ ہوتی ہیں اور کسی خارجی قوت نے اسے دی ہوتی ہیں جبکہ نوع انسانی بالکل ایک علیحدہ نوعیت اور خصوصیات کی حامل ہے اور یہ خصوصیات اسے بعض مخصوص مقاصد کے لیے اللہ کی قوت نے دی ہیں۔ فتبرک اللہ احسن الخلقین (٢٣ : ١٤) ” بس بڑا ہی با برکت ہے اللہ ، سب کا کاریگروں سے اچھا کاریگر “۔ جس نے انسان کے جنین کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے وہ اس انداز نشونما کے مطابق ایک خود کار نظام کے مطابق آگے برھتا ہے۔ ایک نہایت ہی پچیدہ سنت الیہ کے مطا بق جس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نہ اس کے مراحل میں سے مرحلہ حذف ہوتا ہے یہاں تک کہ انسان ترقی و کمال مقررہ درجہ کمال تک پہنچ جاتا ہے ۔ لوگ سائنس کے انکشافات کو معجزہ قرار دیتے ہیں اور ان کو سن سن کر تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔ خصوصا جب انسان ایک ایسا آلہ یا مشین تیار کرتا ہے جو خود کار طریقے کے مطابق چلتا ہے اور انسان کی مداخلت کے بغیر کام کرتا ہے ۔ کیا یہ لوگ اس جنین کو نہیں دیکھتے کہ یہ نہایت ہی خود کار طریقے کے مطابق اپنے مختلف مراحل طے کرتا چلا جاتا ہے۔ بظاہر ان مراحل سے گزرنے میں اسے گزارنے والا نظر نہیں آتا ۔ جب ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو اس کی ماہیت میں بھی مکمل تبدیلی آجاتی ہے۔ پھر نظر آتا ہے کہ ان دونوں مراحل میں اس کے اندر ایک تبدیلی آگئی ہے۔ لوگ رات دن ان تغیرات اور واقعات کو دیکھتے ہیں لیکن اپنی آنکھیں بند کرکے چلے جاتے ہیں ، ان کے دل و دماغ اس عظیم خود کار نظام پر غور نہیں کرتے۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ ہم اس نظام کے عادی ہوگئے ہیں حالانکہ یہ اپنی جگہ حیرت انگیز نظام ہے۔ محض انسان کی اس پچیدہ تخلیق پر غور و فکر ہی انسان کی ہدایت کے لیے کافی ہے جس کی تمام خصوصیات ، تمام خدوخال ، اس چھوٹے نکتے کے اندر موجود ہوتے ہیں جو اس قدر چھو ٹا ہوتا ہے کہ انسان خوردبین کے بغیرا سے دیکھ نہیں سکتا ۔ یہ تمام خصوصیات اور تمام خدو خال آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں اور اپنے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے پھر ہماری نظروں میں آجاتے ہیں ۔ جب انسان بچے کی صورت میں ہوتا ہے تو انسان کے انسانی خصائص نمودار ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ پھر ہر بچہ عام انسانی خصائص کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کی مخصوص خصوصیات کو بھی وراثت میں پاتا ہے اور یہ دونوں قسم کی خصوصیات اس چھوٹے سے نکتے کے اندر مرکوز ہوتی ہیں۔ غرض یہ عمل جو رات اور دن ہمارے درمیان اور ہمارے سامنے قدرت دہراتی ہے ، انسان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے اور انسانی غورو فکر کے لیے اس میں عظیم مواد موجود ہے۔ اب سیاق کلام ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے تاکہ زندگی کے اس سفر کو انتہا تک پہنچا دے ۔ اب زندگی کے ایک نئے مرحلے کا ذکر ہوتا ہے ۔ کیونکہ یہ زندگی جس کی تخلیق اس متی سے کی گئی ہے اس دنیا ہی میں ختم نہیں ہوجاتی کیونکہ یہ صرف مٹنی نہیں ہے بلکہ اس میں روح کا آمیزہ کیا گیا ہے ، لہذا اس کو اس سے بھی آگے بڑھنا ہے۔ اس زندگی میں چونکہ عالم بالا کی طرف سے روح پھونکی گئی ہے اس لیے اس کا آخری منزل یہی جسمانی منزل نہیں ہے ۔ خون اور گوشت کی اس قریبی منزل سے آگے اور جہان بھی ہیں ۔ چناچہ زندگی کا آخری مرحلہ سامنے آتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت، تخلیق انسانی کا تدریجی ارتقاء حیات دنیاوی کے بعد موت، پھر وقوع قیامت ان آیات میں تخلیق انسانی کے مختلف ادوار بتائے ہیں اور آخر میں فرمایا ہے کہ دنیا کا وجود دائمی نہیں ہے آخر مرجاؤ گے اور یہاں سے چلے جاؤگے، اور مرنے پر ہی بس نہیں ہے اس کے بعد قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔ (پھر زندگی کے اعمال کا حساب ہوگا) اولاً حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق بیان فرمائی جو اول الانسان ہیں اور فرمایا کہ ہم نے انسان کو طین یعنی کیچڑ کے خلاصہ سے پیدا کیا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے پوری زمین سے ایک مٹھی مٹی لے لی (اس مٹھی سے انسان کا پتلا بنایا پہلے خشک مٹی تھی پھر پانی ڈالا گیا تو کیچڑ بن گئی پھر اس کیچڑ سے پتلا بنایا گیا۔ پھر اس میں روح پھونک دی) سو آدم کی اولاد زمین کے اسی حصہ کے مطابق وجود میں آئی جس کو زمین کا حصہ پہنچ گیا۔ ان میں سرخ بھی ہیں سفید بھی، کالے بھی اور ان کے درمیان بھی (یہ رنگ کے اعتبار سے ہوا) نرم بھی ہیں اور سخت بھی، اور خبیث بھی اور طیب بھی (یہ فرق مزاج اور طبیعت کے اعتبار سے ہوا۔ ) (رواہ الترمذی و ابو داؤد، مشکوٰۃ المصابیح ص ٢٢) یہ جو زمین سے مٹی لی گئی تھی جس سے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی اسے (سُلاَلَۃٍ مِّنْ طینٍ ) (کیچڑ کا خلاصہ فرمایا) یہ تفسیر اس صورت میں ہے جبکہ الانسان سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی شخصیت مراد لی جائے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ سلالۃ من طین سے غذائیں مراد ہیں جنہیں انسان کھاتا ہے پھر ان سے خون بنتا ہے پھر خون سے منی کا نطفہ بنتا ہے پھر اس نطفہ سے اولاد پیدا ہوتی ہے پھر فرمایا کہ اس کے بعد ہم نے انسان کو (یعنی کچھ مدت کے بعد پیدا ہونے والے بچہ کو) نطفہ بنایا نطفہ کی حالت میں ٹھہرنے کی جگہ یعنی ماں کے رحم میں رکھ دیا۔ یہ نطفہ رحم مادر میں مقرر وقت تک رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس نطفہ کو علقہ یعنی جما ہوا خون بنا دیتا ہے پھر کچھ عرصہ کے بعد یہ جما ہوا خون اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے مضغہ یعنی بوٹی بن جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس بوٹی کے بعض حصوں کی ہڈیاں بنا دیتا ہے، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیتا ہے، پھر اس میں اللہ کے حکم سے روح پھونک دی جاتی ہے شروع میں تو نطفہ بےجان تھا پھر اتنے ادوار سے گزرا پھر ماں کے پیٹ سے باہر آیا تو کان آنکھ ناک والی بنی بنائی جاندار مورتی سامنے آگئی،

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

11:۔ ” وَلَقَدْ خَلَقْنَا الخ “ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے اور اس سے نفی شرک فی التصرف مقصود ہے۔ ” وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَان “ تا ” یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ “ میں انسانی زندگی کے مختلف چار ادوار کا ذکر کیا گیا ہے۔ (1) رحم مادر میں رہنے کا زمانہ (2) دنیوی زندگی کا دور (3) برزخی زندگی کا دور (4) اخروی زندگی کا دور۔ مقصد یہ ہے کہ انسانی زندگی کے یہ تمام انقلابات خداوند تعالیٰ کے اختیار و تصرف میں ہیں اور کسی غیر اللہ کو ان میں کوئی دخل نہیں لہذا وہی سب کا کارساز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا تفصیل سے ذکر کرکے انسان کو اس طرف متوجہ فرمایا کہ ہم نے کس طرح تجھے پیدا فرمایا۔ کیا اس طرح کوئی کرسکتا ہے لیکن پھر بھی مشرکین اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں حالانکہ جانتے ہیں کہ خالق اللہ کے سوا کوئی نہیں جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ “ (زخرف رکوع 7) اس سے معلوم ہوا کہ دلیل میں حصر ہے یعنی اس عجیب و غریب طریقہ سے میں نے انسان کو پیدا کیا ہے اس طرح اور کوئی نہیں کرسکتا۔ ” الانسان “ میں لام عہد کے لیے اور اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں جو تمام نوع بشر کے جد امجد ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے مٹی کے خلاصے اور ست سے پیدا فرمایا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(12) اور بلاشبہ ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے اور نچوڑ سے بنایا یعنی آدم (علیہ السلام) کو منتخب مٹی سے بنایا جو مختلف زمین کے حصوں سے لی گئی تھی یا یہ کہ جنس انسان مراد ہو سب سے پہلا انسان خالص مٹی سے بلاواسطہ بنایا گیا پھر بہ واسطہ غذا جو مٹی سے پیدا ہوتی ہے اور اس غذا سے خون اور منی نکلتی ہے جیسا کہ آگے فرمایا۔ قرآن شریف کے بعض نسخوں میں حضرت شاہ صاحب (رح) کا منہیہ ملا وہ فرماتے ہیں خلاصہ سلالہ بمعنی نچڑا پانی یعنی منی اور جو چیز کہ باہر نکالی جائے کسی چیز سے اور منی آدمی کی۔ 12 خلاصہ ! یہ ہے کہ جو کسی چیز سے نکالا جائے جیسے جوہر یاست۔