Commentary In the earlier verses it was explained that man can achieve falah (success) in this world and in the Hereafter by spending his time in assiduously worshipping Allah and, in compliance with His commands, by keeping his body and soul pure at all times and by discharging the claims and duties which he owes to fellow human beings. The present verse gives an account of the universal and supreme power of Allah the Almighty and a manifestation of His power in the process leading to the creation of the human race. If a person whom Allah has given wisdom and intelligence ponders seriously the meanings of these verses, he must necessarily choose the path which would lead him to falah in this world and in the Hereafter. وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ And We have created man from an extract of clay. - 23:12 The word سُلَالَةٍ sulalah means |"extract|" and طِينٍ means |"wet earth|" or clay and the verse means that man was created from some special elements extracted from earth. Creation of mankind began with Sayyidna &Adam (علیہ السلام) who was himself created from this essence of earth. Therefore the first creation has been related to earth after which the seed of one man becomes the means of another man&s creation. Seven stages of the creation of man In the above verse seven stages in the creation of man have been described. These are: (1) سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ (an extract of clay). (2) نُطْفَةً (sperm-drop), (3) عَلَقَةَ (clot), (4) مُضْغَةَ (foetus-lump), (5) عِظَامَ (bones), (6) clothing bones with flesh, and (7) completion of the process of creation by blowing the spirit into the child. A very interesting story about Sayyidna ` Abbas (رض) Qurtubi in his commentary has related a very interesting story in which Sayyidna ` Abbas (رض) is said to have determined the exact date of the Night of Majesty (لَیلَۃُ القَدر) and based his reasoning on this verse: The story goes likes this. One day Sayyidna ` Umar (رض) & while sitting in the company of some eminent companions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، asked them on what date of the month of Ramadan the Night of Majesty (Lailatulqadr) would fall. None of them was able to mention a specific date so they all said that only Allah knew the answer. Sayyidna Umar (رض) then turned to Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) who was the youngest among them and asked him if he had an answer to the question. Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) then said, |"0 Amir ul-Mominin! Allah created seven skies and seven earths. He created man in seven stages and provided him sustenance from seven sources. Therefore in my opinion the Night of Majesty (لَیلَۃُ القَدر) will surely fall on the twenty-seventh night of the month of Ramadan.|" When Sayyidna Umar (رض) heard this reasoning, he said to the companions, |"See, this lad has given an answer which none of you could give|". This story is reproduced at length in the Musnad of Ibn Abi Shaibah. When Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) mentioned the seven stages of man&s creation, he was obviously alluding to this verse. As for the seven sources of human sustenance, the reference is to the verse in Surah ` Abas عبس : وَفَاكِهَةً وَأَبًّا وَحَدَائِقَ غُلْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا وَعِنَبًا وَقَضْبًا فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا And therein made the grains to grow and vines, and reeds, and olives, and palms, and dense-tree gardens, and fruits, and pastures. 80:27 - 31 This verse mentions eight items of which the first seven are food for human beings and the eighth provides fodder for animals. The supreme beauty and eloquence of the Qur&anic language is evident from the fact that the seven stages of the creation of man have not all been described in the same manner. In describing the metamorphosis of the human foetus from one stage to the next, the word ثُمّ (afterwards) has been used at some place which is a suggestion of some delay in the process, while at other places the particle فَ has been used as a prefix indicating uninterrupted succession in the process of change. Some of the changes in the human foetus in mother&s womb take a long time to take place whereas other changes occur in relatively shorter periods. Thus the word ثُمّ has been used in the context of the first two changes. First there is سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ
خلاصہ تفسیر (اول بیان ہے ایجاد انسان کا) اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ (یعنی غذا) سے بنایا (یعنی اول مٹی ہوتی ہے پھر اس سے بذریعہ نباتات کے غذا حاصل ہوتی ہے) پھر ہم نے اس کو نطفہ سے بنایا جو کہ (ایک مدت معینہ تک) ایک محفوظ مقام (یعنی رحم) میں رہا (اور وہ غذا سے حاصل ہوا تھا) پھر ہم نے اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنایا پھر ہم نے اس خون کے لوتھڑے کو (گوشت کی) بوٹی بنادیا پھر ہم نے اس بوٹی (کے بعض اجزاء) کو ہڈیاں بنادیا پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا (جس سے وہ ہڈیاں ڈھک گئیں) پھر (ان سب انقلابات کے بعد) ہم نے (اس میں روح ڈال کر) اس کو ایک دوسری ہی (طرح کی) مخلوق بنادیا (جو حالات سابقہ سے نہایت ہی متمائز و متبائن ہے کیونکہ اس سے پہلے سب انقلابات ایک جماد بےجان میں ہو رہے تھے اور اب یہ ایک ذی حیات زندہ انسان بن گیا) سو کیسی شان ہے اللہ کی جو تمام صناعوں سے بڑھ کر ہے (کیونکہ دوسرے صناع تو اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں جوڑ توڑ کر کے ہی بنا سکتے ہیں۔ زندگی پیدا کرنا یہ خاص اللہ ہی کا کام ہے اور نطفہ پر مذکورہ انقلاب کی تفصیل اسی ترتیب کے ساتھ قانون وغیرہ کتب طبیہ میں بھی مذکور ہے آگے انسان کے آخری انجام فنا کا بیان ہے) پھر تم بعد اس (تمام قصہ عجیبہ) کے ضرور ہی مرنے والے ہو (آگے بیان ہے اعادہ کا یعنی) پھر تم قیامت کے روز دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے (اور جس طرح ہم نے تم کو ابتداء وجود عطا فرمایا اسی طرح تمہاری بقا کا سامان بھی کیا کہ) ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان (جن میں ملائکہ کے آمد و رفت کیلئے راہیں ہیں) بنائے (کہ اس سے تمہاری بھی بعض مصلحتیں متعلق ہیں) اور ہم مخلوق (کی مصلحتوں) سے بیخبر نہ تھے۔ (بلکہ ہر مخلوق کو مصالح و حکم کی رعایت کر کے بنایا) اور ہم نے (انسان کی بقاء اور نشو و نما کے لئے آسمان سے (مناسب) مقدار کے ساتھ پانی برسایا پھر ہم نے اس کو (مدت تک) زمین میں ٹھہرایا (چنانچہ کچھ پانی تو زمین کے اوپر رہتا ہے اور کچھ اتر جاتا ہے جو وقتاً فوقتاً نکلتا رہتا ہے) اور ہم (جس طرح اس کے برسانے پر قادر ہیں اسی طرح) اس (پانی) کے معدوم کردینے پر (بھی) قادر ہیں (خواہ ہوا کی طرف مستحیل کر کے خواہ اتنی دور زمین کی گہرائی میں اتار کر کہ آلات کے ذریعہ سے نہ نکال سکو مگر ہم نے باقی رکھا) پھر ہم نے اس (پانی) کے ذریعہ سے باغ پیدا کئے کھجوروں کے انگوروں کے تمہارے واسطے ان (کھجوروں انگوروں) میں بکثرت میوے بھی ہیں (جبکہ ان کو تازہ تازہ کھایا جاوے تو میوہ سمجھا جاتا ہے) اور ان میں سے (جو بچا کر خشک کر کے رکھ لیا جاتا ہے اس کو بطور غذا کے) کھاتے بھی ہو اور (اسی پانی سے) ایک (زیتون کا) درخت بھی (ہم نے پیدا کیا) جو کہ طور سینا میں (بکثرت) پیدا ہوتا ہے جو اگتا ہے تیل لئے ہوئے اور کھانے والوں کے لئے سالن لئے ہوئے (یعنی اس کے پھل سے دونوں فوائد حاصل ہوتے ہیں خواہ روشن کرنے والوں کے لئے سالن لئے ہوئے (یعنی اس کے پھل سے دونوں فوائد حاصل ہوتے ہیں خواہ روشن کرنے کے اور مالش کرنے کے کام میں لاؤ خواہ اس میں روٹی ڈبو کر کھاؤ یہ سامان مذکور پانی اور نباتات سے تھا) اور (آگے حیوانات کے ذریعہ انسان کے منافع اور آسانیوں کا بیان ہے کہ) تمہارے لئے مواشی میں (بھی) غور کرنے کا موقع ہے کہ ہم تم کو ان کے جوف میں کی چیز (یعنی دودھ) پینے کو دیتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں (کہ ان کے بال اور اون کام آتی ہے) اور (نیز) ان میں سے بعض کو کھاتے بھی ہو اور ان (میں جو باربرداری کے قابل ہیں ان) پر اور کشتی پر لدے لدے پھرتے (بھی) ہو۔ معارف و مسائل پچھلی آیات میں انسان کی فلاح دنیا و آخرت کا طریقہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے احکام کی تعمیل میں اپنے ظاہر و باطن کو پاک رکھنے اور تمام انسانوں کے حقوق ادا کرنے سے بیان کیا گیا تھا۔ آیات مذکورہ میں اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ اور بنی نوع انسان کی تخلیق میں اس کے مظاہر خاص کا ذکر ہے جس سے واضح ہوجائے کہ انسان جس کو عقل و شعور ہو وہ اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ اختیار کر ہی نہیں سکتا۔ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ ، سلالہ بمعنے خلاصہ اور طین، گیلی مٹی، جس کے معنے یہ ہیں کہ زمین کی مٹی کے خاص اجزاء نکال کر اس سے انسان کو پیدا کیا گیا۔ انسان کی تخلیق کی ابتداء حضرت آدم (علیہ السلام) سے اور ان کی تخلیق اس مٹی کے خلاصہ سے ہوئی اس لئے ابتدائی تخلیق کو مٹی کی طرف منسوب کیا گیا۔ اس کے بعد ایک انسان کا نطفہ دوسرے انسان کی تخلیق کا سبب بنا۔ اگلی آیت میں اسی کا بیان ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً سے فرمایا ہے مطلب یہ ہے کہ ابتدائی تخلیق مٹی سے ہوئی پھر آگے سلسلہ تخلیق اسی مٹی کے جزء لطیف یعنی نطفہ سے جاری کردی گئی۔ جمہور مفسرین نے آیت مذکورہ کی تفسیر یہی لکھی ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ سے مراد بھی نطفہ انسانی ہو کیونکہ وہ غذا سے پیدا ہوتا ہے اور غذا انسانی مٹی سے بنتی ہے۔ واللہ اعلم۔ تخلیق انسانی کے سات مدارج : آیات مذکورہ میں انسان کی تخلیق کی سات دور ذکر کئے گئے ہیں۔ سب سے پہلے سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ ، دوسرے درجہ میں نطفہ، تیسرے میں علقہ، چوتھے میں مضغہ پانچویں میں عظام یعنی ہڈیاں، چھٹے دور میں ہڈیوں پر گوشت چڑھانا، ساتواں دور تکمیل تخلیق کا ہے یعنی روح پھونکنا۔ ایک لطیفہ عجیبہ از حضرت ابن عباس : تفسیر قرطبی میں اس جگہ حضرت عبداللہ بن عباس سے اسی آیت سے استدلال کر کے ایک عجیب لطیفہ شب قدر کی تعیین میں نقل کیا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت فاروق اعظم نے ایک مرتبہ اکابر صحابہ کے مجمع سے سوال کیا کہ شب قدر رمضان کی کون سی تاریخ میں ہے ؟ سب نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ اللہ اعلم کوئی تعیین بیان نہیں کی۔ حضرت ابن عباس ان سب میں چھوٹے تھے ان سے خطاب فرمایا کہ آپ کیا کہتے ہیں تو ابن عباس نے فرمایا کہ امیر المومنین اللہ تعالیٰ نے آسمان سات پیدا کئے، زمینیں سات پیدا کیں، انسان کی تخلیق سات درجات میں فرمائی۔ انسان کی غذا سات چیزیں بنائیں اس لئے میری سمجھ میں تو یہ آتا ہے کہ شب قدر ستائیسویں شب ہوگی۔ فاروق اعظم نے یہ عجیب استدلال سن کر اکابر صحابہ سے فرمایا کہ آپ سے وہ بات نہ ہوسکی جو اس لڑکے نے کی جس کے سر کے بال بھی ابھی مکمل نہیں ہوئے۔ یہ حدیث طویل ابن ابی شیبہ کے مسند میں ہے۔ حضرت ابن عباس نے تخلیق انسانی کے سات درجات سے مراد وہی لیا ہے جو اس آیت میں ہے اور انسان کی غذا کی سات چیزیں سورة عبس کی آیت میں ہیں فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا، وَّعِنَبًا وَّقَضْبًا، وَّزَيْتُوْنًا وَّنَخْلًا، وَّحَدَاۗىِٕقَ غُلْبًا، وَّفَاكِهَةً وَّاَبًّا، اس آیت میں آٹھ چیزیں مذکور ہیں جن میں پہلی سات انسان کی غذا ہے اور آخری یعنی اب یہ جانوروں کی غذا ہے۔ (قرطبی) پھر تخلیق انسانی پر جو سات دور گزرتے ہیں قرآن کریم کی بلاغت دیکھئے کہ ان سب کو ایک ہی انداز سے بیان نہیں فرمایا بلکہ کہیں ایک دور سے دوسرے دور تک انقلاب کو لفظ ثم سے تعبیر کیا ہے جو تراخی یعنی کچھ دیر سے ہونے پر دلالت کرتا ہے کہیں اس انقلاب کا ذکر حرف فاء سے کیا ہے جو بلا تاخیر ہونے پر دلالت کرتا ہے اس میں اشارہ اس ترتیب کی طرف ہے جو ایک انقلاب سے دوسرے انقلاب کے درمیان فطرةً ہوتی ہے کہ بعض انقلابات انسانی عقل کے لحاظ سے بہت مشکل اور بہت دیر طلب ہوتے ہیں۔ بعض اتنے دیر طلب نہیں ہوتے چناچہ قرآن کریم نے ابتدائی تین دور کو لفظ ثم کے ساتھ بیان کیا ہے اول سلالہ طین پھر اس کو نطفہ کی صورت میں تبدیل کرنا۔