TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Root words of Surat ul Mominoon 23:12, word 5

The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.

Verse 23:12 word by word

Open the verse
Noun

an essence

ست سے۔ خلاصے سے۔ نچوڑ سے۔ مغز سے

Tap any part above to see where else it appears

Verb form

سلل
تَسَلَّلَ
Perfect
يَتَسَلَّلُ
Imperfect
تَسَلَّلْ
Imperative
مُتَسَلِّل
Active participle
-
Passive participle
تَسَلُّل
Verbal noun

Mufradat ul Quran

Imam Raghib Isfahani

سَلُّ (ن) الشَّیئِ مِنَ الشَّیئِ کے معنیٰ ایک چیز کے دوسری سے کھینچ لینے کے ہیں، جیسے تلوار کا نیام سے سونتنا، یا گھر سے کوئی چیز چوری کھسکا لینا۔ قرآن پاک میں ہے: (یَتَسَلَّلُوۡنَ مِنۡکُمۡ لِوَاذًا) (۲۴:۶۳) جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں۔ اسی مناسبت سے باپ کے نطفہ پر بھی یہی لفظ بولا جاتا ہے۔ جیسے فرمایا: (مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ …) (۳۲:۸) خلاصے سے (یعنی) حقیر پانی سے پیدا کی۔ وہ ہر جوہر جو غذا کا خلاصہ ہوتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں بطور کنایہ نطفہ مراد ہے۔ اور نطفہ پر اس کا اطلاق اس جوہر کے لحاظ سے ہے۔ جس سے نطفہ بنتا ے۔ اَلسُّلُّ: سل کی بیماری کیونکہ یہ انسان سے گوشت اور قوت کو کھینچ لیتی ہے اور اَسَلَّہٗ اﷲُ کے معنیٰ ہیں ’’اﷲ تعالیٰ نے اسے سل کی بیماری میں مبتلا کردیا‘‘ حدیث میں ہے۔ (1) (۱۷۷) لَااِسْلَالَ وَلَا اِغْلَالَ کہ چوری اور خیانت نہیں ہے۔ تَسَلْسَلَ الشَّیْئِ کے معنیٰ کسی چیز کے مضطرب ہونے کے ہیں۔ گویا اس میں باربار کھسک جانے کا تصور کرکے لفظ کو مکرر کردیا ہے تاکہ تکرار لفظ تکرار معنیٰ پر دلالت کرے اسی سے سِلْسِلَۃٌ ہے جس کے معنیٰ زنجیر کے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے (فِیۡ سِلۡسِلَۃٍ ذَرۡعُہَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ) (۶۹:۳۲) پھر زنجیر سے جس کی ناپ ستر گز ہے۔ (جکڑ دو) سِلْسِلَۃٌ کی جمع سِلَاسِلُ آتی ہے۔ چنانچہ فرمایا: (سلاسل واغلالا وسعیرا) (۷۶:۱۴) زنجیریں اور طوق اور دہکتی آگ (تیار کررکھی ہے) (والسلاسل یسحبون) (۴۰:۷۱) اور زنجیریں ہوں گی اور گھسیٹے جائیں گے۔ ایک حدیث میں ہے۔ (2) (۱۷۸) یَاعَجَبًا لِّقَوْمٍ یُقَادُوْنَ اِلَی الْجَنَّۃِ بِاالسَّلَاسِلِ: اس قوم پر تعجب ہے جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے جنت کی طرف کھینچے جارہے ہیں۔ اور مَائٌ سَلْسَلٌ اس پانی کو کہتے ہییں جو اپنی قرارگاہ میں مضطرب ہوکر صاف ہوجائے۔ شاعر نے کہا ہے۔ (3) (۲۳۲) اَشْھیٰ اِلَیَّ مِنَ الرَّحِیْقِ السَّلْسَلِ وہ مجھے شفاف شراب سے زیادہ مرغوب ہے۔ اور آیت : (سَلٍَبِیْلًا) (۷۶:۱۸) سلسبیل) کے معنیٰ تیزی سے بہتے ہوئے صاف، لذیذ اور خوشگوار پانی کے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ جنت کے ایک چشمہ کا نام ہے، اور بعض نے کہا یہ کہ یہ سَلْ اور سَبِیْل سے بنا ہے اور حَوْقَلَۃ وَبَسْمَلَۃٌ وغیرہ کی طرح الفاظ مرکبہ کے قبیل سے ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ ہر تیزرو چشمے کو سَلْسَبِیل کہا جاتا ہے۔ اور زبان کے باریک سرے کو اَسْلَۃُ اللِّسَان کہتے ہیں۔

Lemma / Derivative

2 results

سُلالَة
23:12
ست سے۔ خلاصے سے۔ نچوڑ سے۔ مغز سے
an essence
سُلٰـلَـةٍ
32:8
خلاصے
an extract
سُلٰلَةٍ