Surat un Najam

Surah: 53

Verse: 61

سورة النجم

وَ اَنۡتُمۡ سٰمِدُوۡنَ ﴿۶۱﴾

While you are proudly sporting?

۔ ( بلکہ ) تم کھیل رہے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

While you are Samidun. Sufyan Ath-Thawri reported that his father narrated that Ibn Abbas said about Samidun, "Singing; in Yemenite dialect `Ismidfor us' means `Sing for us."' Ikrimah said something similar. In another narration from Ibn Abbas, he said that, سَامِدُونَ (Samidun) means, "Turning away." Similar was reported from Mujahid and Ikrimah. Allah the Exalted ordered His servants to prostrate to Him, worship Him according to the way of His Messenger, and to fulfill the requirement of Tawhid and sincerity, فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ ” سمد یسمد سمودا “ (ن) کھیل کود میں مشغول ہونا ، غافل ہونا ، گانا ، تکبر سے سر اٹھا کر چلنا ، یعنی بجائے رونے کے تم کھیل کود ، گانے بجانے اور اپنے تکبر میں غافل رہ کر ہنستے پھرتے ہو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَأَنتُمْ سَامِدُونَ (while you are engaged in vain play?....53:61). Samidun is the plural of |"samid|" from the root word sumud which literally denotes to be heedless. Samidun is used in the sense of ghafilun, meaning unmindful. Some of the Imams have interpreted the word sumud to mean to sing. That meaning can equally fit or apply in this context.

وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ ، سمود کے لغوی معنی غفلت و بےفکری کے ہیں، سامدون بمعنی غافلون ہے، اور ایک معنی سمود کے گانے بجانے کے بھی آتے ہیں وہ بھی اس جگہ مراد ہو سکتے ہیں (کما فسرہ بہ بعض الائمہ)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ۝ ٦١ سمد السَّامِدُ : الّلاهي الرّافع رأسه، من قولهم : سَمَدَ البعیر في سيره . قال : وَأَنْتُمْ سامِدُونَ [ النجم/ 61] ، وقولهم : سَمَدَ رَأْسَهُ وسبد أي : استأصل شعره . ( س م د ) السامد غافل تکبر سے سر اٹھانے والا یہ سمد البعیر فی سیرہ کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی اونٹ کے گردن اٹھا کر تیز چلنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَنْتُمْ سامِدُونَ [ النجم/ 61] اور تم غفلت میں پڑے رہے ہو ۔ اور سمد راسہ وسبد کے معنی سر کے بالوں کو جڑ سے مونڈ ڈالنے کے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦١{ وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ ۔ } ” اور تم خوش فعلیاں کر رہے ہو ! “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

54 Two meanings have been given of the word samidun by the lexicographers. Ibn `Abbas, `Ikrimah and Abu.`Ubaidah, the grammarian, are of the view that in the Yarnanite tongue sumud means singing and playing, and the verse alludes that the disbelievers of Makkah, in order to suppress the recitation of the Qur'an and to divert the people's attention away from it, would start singing in a loud voice. The other meaning of it given by lbn `Abbas and Mujahid is: `Sumud means bending down the head out of arrogance; when the disbelievers of Makkah passed by the Holy Prophet, they would pass by him angrily with their faces lifted up. " Raghib Isphahani in his Mafradat also has adopted the same meaning; accordingly, Qatadah has translated samidun into ghafilun and Said bin Jubair into mu'ridun.

سورة النَّجْم حاشیہ نمبر :54 اصل میں لفظ سَامِدُوْنَ استعمال ہوا ہے جس کے دو معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں ۔ ابن عباس عکرمہ اور ابو عبیدہ نحوی کا قول ہے کہ یمنی زبان میں سُمُود کے معنی گانے بجانے کے ہیں اور آیت کا اشارہ اس طرف ہے کہ کفار مکہ قرآن کی آواز کو دبانے اور لوگوں کی توجہ دوسری طرف ہٹانے کے لیے زور زور سے گانا شروع کر دیتے تھے ۔ دوسرے معنی ابن عباس اور مجاہد نے یہ بیان کیے ہیں کہ السّمود البرْطَمَۃ وھی رفع الراس تکبرا ، کانوا یمرون علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم غضا بامبرطمین ۔ یعنی سُمود تکبر کے طور پر سر نیوڑھانے کو کہتے ہیں ، کفار مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جب گزرتے تو غصے کے ساتھ منہ اوپر اٹھائے ہوئے نکل جاتے تھے ۔ راغب اصفہانی نے مفردات میں بھی یہی معنی اختیار کیے ہیں ، اور اسی معنی کے لحاظ سے سامدُون کا مفہوم قتادہ نے غافِلون اور سعید بن جبیر نے معرضون بیان کیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(52:61) وانتم سمدون : جملہ اسمیہ تبکون کے فاعل سے حال ہے۔ سمدون کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تفہیم القرآن رقمطراز ہیں :۔ اہل لغت نے اس کے دو معنی بیان کئے ہیں :۔ (1) حضرت ابن عباس اور عکرمہ اور ابو عبیدہ نحوی کا قول ہے کہ یمنی زبان میں سمود کے معنی گانے بجانے کے ہیں اور آیت کا اشارہ اس طرف ہے کہ کفار مکہ قرآن کی آواز کو دبانے اور لوگوں کی توجہ دوسری طرف ہٹانے کے لئے زور زور سے گانا شروع کردیتے تھے۔ (2) حضرت ابن عباس اور مجاہد نے بیان کئے ہیں کہ :۔ السمود البرطمۃ وہی رفع الرأس تکبرا۔ کانوا یمرون علی النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غضابا مبرطین۔ یعنی سمود تکبر کے طور پر سر نیوڑھانے کو کہتے ہیں ۔ کفار مکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے جب گزرتے تو غصے کے ساتھ منہ اوپر اٹھاتے ہوئے نکل جاتے تھے۔ راغب اصفہانی نے مفردات میں بھی یہی معنی بیان کئے ہیں۔ اور اس معنی کے لحاظ سے سامدون کا مفہوم قتادہ نے غافلون اور حضرت سعید بن جبیر نے معرضون بیان کیا ہے۔ (تفہیم القرآن جلد پنجم سورة النجم آیت 61)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 سمد سے مراد ایسی غفلت ہے جس کے ساتھ رنگ رلیاں بھی ہوں۔ صالح ابی اقلیل کہتے ہیں کہ جب سے یہ آیت اتری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی نے ہنستے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ دنیا سے یہ رخصت ہوگئے۔ (شو کانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(61) اور تم متکبرانہ برتائو کرتے ہو۔ حدیث سے مراد قرآن ہے یعنی اس قرآن میں تعجب کرتے ہو اور خوف کی باتیں سن کر بھی اس قرآن پر استہزاء ہنستے ہو روتے ہیں اور تم اس قرآن کی اطاعت سے متکبرانہ برتائو کرتے ہو یا اس قرآن سے کھیل کرتے ہو اور کھلاڑیاں کرتے ہو یا غل مچاتے ہو یا گانے بجانے کا شور کرتے ہو بجائے رونے اور اپنے انجام پر غور کرنے کے تمہاری یہ حرکات ہیں۔