Every available translation of Surat ul Anaam, verse 91, side by side - Urdu, English, Hindi and Roman - with the Arabic text above them.
|
وَمَا
اور نہیں
|
قَدَرُوا
انہوں نے قدر کی
|
اللّٰہَ
اللہ کی
|
حَقَّ
جس طرح حق ہے
|
قَدۡرِہٖۤ
اس کی قدر کرنے کا
|
اِذۡ
جب
|
قَالُوۡا
انہوں نے کہا
|
مَاۤ
نہیں
|
اَنۡزَلَ
نازل کی
|
اللّٰہُ
اللہ نے
|
عَلٰی بَشَرٍ
کسی انسان پر
|
مِّنۡ شَیۡءٍ
کوئی چیز
|
قُلۡ
کہہ دیجیے
|
مَنۡ
کس نے
|
اَنۡزَلَ
نازل کی
|
الۡکِتٰبَ
کتاب
|
الَّذِیۡ
وہ جو
|
جَآءَ
لائے
|
بِہٖ
اسے
|
مُوۡسٰی
موسی
|
نُوۡرًا
نور
|
وَّ ہُدًی
اور ہدایت تھی
|
لِّلنَّاسِ
لوگوں کے لیے
|
تَجۡعَلُوۡنَہٗ
تم بنا دیتے ہو اسے
|
قَرَاطِیۡسَ
ورق ورق
|
تُبۡدُوۡنَہَا
تم ظاہر کرتے ہو اسے
|
وَتُخۡفُوۡنَ
اور تم چھپاتے ہو
|
کَثِیۡرًا
بہت سا
|
وَعُلِّمۡتُمۡ
اور سکھائے گئےہو تم
|
مَّا
جو
|
لَمۡ
نہیں
|
تَعۡلَمُوۡۤا
تم جانتے تھے
|
اَنۡتُمۡ
تم
|
وَلَاۤ
اور نہ
|
اٰبَآؤُکُمۡ
ابائو اجداد تمہارے
|
قُلِ
کہہ دیجیے
|
اللّٰہُ
اللہ نے (اتارا ہے)
|
ثُمَّ
پھر
|
ذَرۡہُمۡ
چھوڑ دیجیے انہیں
|
فِیۡ خَوۡضِہِمۡ
اپنی بحث میں
|
یَلۡعَبُوۡنَ
وہ کھیلتے پھریں
|
|
وَمَا
اور نہیں
|
قَدَرُوا
انہوں نے قدر پہچانی
|
اللّٰہَ
اللہ تعالیٰ کی
|
حَقَّ
حق ہے
|
قَدۡرِہٖۤ
اسکی قدر کا
|
اِذۡ
جب
|
قَالُوۡا
انہوں نے کہا
|
مَاۤ
نہیں
|
اَنۡزَلَ
نازل کیا
|
اللّٰہُ
اللہ تعالیٰ نے
|
عَلٰی بَشَرٍ
کسی انسان پر
|
مِّنۡ شَیۡءٍ
کچھ بھی
|
قُلۡ
آپ کہہ دیں
|
مَنۡ
کس نے
|
اَنۡزَلَ
اُتاری تھی
|
الۡکِتٰبَ
کتاب
|
الَّذِیۡ
جو
|
جَآءَ
لے کر آئے تھے
|
بِہٖ
اس کو
|
مُوۡسٰی
موسیٰؑ
|
نُوۡرًا
روشنی تھی
|
وَّ ہُدًی
اور ہدایت
|
لِّلنَّاسِ
انسانوں کے لیے
|
تَجۡعَلُوۡنَہٗ
تم بناتے ہواس کو
|
قَرَاطِیۡسَ
چند ورق
|
تُبۡدُوۡنَہَا
تم ظاہرکرتے ہو اس کو
|
وَتُخۡفُوۡنَ
اور تم چھپاتے ہو
|
کَثِیۡرًا
بہت کچھ
|
وَعُلِّمۡتُمۡ
اور سکھائے گئے ہو تم
|
مَّا
جسے
|
لَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا
نہیں تم جانتے
|
اَنۡتُمۡ
تم
|
وَلَاۤ
اور نہ
|
اٰبَآؤُکُمۡ
باپ دادا تمہارے
|
قُلِ
آپ کہہ دیں
|
اللّٰہُ
اللہ تعالیٰ ہی نے
|
ثُمَّ
پھر
|
ذَرۡہُمۡ
آپ چھوڑ دو اُن کو
|
فِیۡ خَوۡضِہِمۡ
ان کی فضول بحثوں میں
|
یَلۡعَبُوۡنَ
وہ کھیلتے ہیں
|
And they did not appraise Allah with true appraisal when they said, " Allah did not reveal to a human being anything." Say, "Who revealed the Scripture that Moses brought as light and guidance to the people? You [Jews] make it into pages, disclosing [some of] it and concealing much. And you were taught that which you knew not - neither you nor your fathers." Say, " Allah [revealed it]." Then leave them in their [empty] discourse, amusing themselves.
اور ان لوگوں نے اللہ کی جیسی قدر کرنا واجب تھی ویسی قدر نہ کی جب کہ یوں کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی آپ یہ کہئے کہ وہ کتاب کس نے نازل کی ہے جس کو موسیٰ لائے تھے جس کی کیفیت یہ ہے کہ وہ نور ہے اور لوگوں کے لئے وہ ہدایت ہے جس کو تم نے ان متفرق اوراق میں رکھ چھوڑا ہے جن کو ظاہر کرتے ہو اور بہت سی باتوں کو چھپاتے ہو اور تم کو بہت سی ایسی باتیں بتائی گئی ہیں جن کو تم نہ جانتے تھے اور نہ تمہارے بڑے ۔ ۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ نے نازل فرمایا ہے پھر ان کو ان کے خرافات میں کھیلتے رہنے دیجئے ۔
ان لوگوں نے اللہ کو ایسے نہیں پہچانا جیسے اسے پہچاننا چاہئے تھا، کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی بشر پر کبھی کچھ نہیں اتارا۔ آپ ان سے پوچھئے : جو کتاب موسیٰ لائے تھے اسے کس نے اتارا تھا ؟ (وہ کتاب) جو لوگوں کے لیے نور اور ہدایت تھی۔ تم نے اسے ورق ورق بنا رکھا ہے۔ ان میں سے کچھ ورق تو ظاہر کرتے ہو اور زیادہ ۔ چھپا جاتے ہو۔ اور اس کتاب سے تمہیں وہ کچھ سکھایا گیا تھا جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے آباؤ اجداد۔ آپ کہہ دیجئے کہ اسے اللہ ہی نے اتارا تھا پھر انہیں چھوڑیئے کہ وہ اپنی فضول بحثوں میں ہی پڑے کھیلتے رہیں
اورانہوں نے اﷲ تعالیٰ کی قدرنہیں پہچانی جیسا اس کی قدرپہچاننے کاحق ہے،جب انہوں نے کہاکہ اﷲ تعالیٰ نے کسی انسان پرکچھ بھی نازل نہیں کیا،آپ کہیں وہ کتاب کس نے اُتاری تھی جوموسیٰ لے کرآئے تھے؟جوانسانوں کے لیے روشنی اورہدایت تھی، تم اسے چند وَرق بناتے ہو،اس میں سے کچھ ظاہرکرتے ہو اور بہت کچھ چھپاجاتے ہواورتمہیں وہ کچھ سکھایاگیا جسے نہ تم جانتے تھے اورنہ تمہارے باپ دادا،آپ کہیں اﷲ تعالیٰ ہی نے،پھرآپ ان کوچھوڑیں وہ اپنی بحثوں میں کھیلتے رہیں۔
And they did not hold Allah in due esteem when they said, |"Allah has not sent down anything on a human be¬ing.|" Say, |"Who has sent down the Book brought by Musa as a light and a guidance for people, which you kept in sheets you displayed, and you concealed a lot? You were taught what you did not know - neither you nor your fathers?|" Say, |"Allah.|" Then leave them play¬ing with what they are indulged in.
اور نہیں پہچانا انہوں نے اللہ کو پورا پہچاننا جب کہنے لگے کہ نہیں اتاری اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز پوچھ تو کس نے اتاری وہ کتاب جو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آیا تھا روشن تھی اور ہدایت تھی لوگوں کے واسطے جس کو تم نے ورق ورق کر کے لوگوں کو دکھلایا اور بہت سی باتوں کو تم نے چھپا رکھا اور تم کو سکھلا دیں جن کو نہ جانتے تھے تم اور نہ تمہارے باپ دادے تو کہہ دے کہ اللہ نے اتاری پھر چھوڑ دے ان کو اپنی خرافات میں کھیلتے رہیں
اور انہوں نے ہرگز اللہ کی قدر نہ پہچانی جیسا کہ اس کا حق تھا جب انہوں نے کہا کہ نہیں اتاری ہے اللہ نے کسی بھی انسان پر کوئی بھی چیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھئے کہ پھر کس نے اتاری تھی وہ کتاب جو موسیٰ لے کر آئے تھے جو خود نور (روشن) تھی اور لوگوں کے لیے ہدایت بھی تھی ؟ تم نے اسے ورق ورق کردیا ہے اس (کے احکام) میں سے کچھ کو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپا کر رکھتے ہو اور تمہیں سکھائی گئی تھیں (تورات کے ذریعے سے ) وہ سب باتیں جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے آباء و اَجداد کہیے (یہ سب نازل کیا تھا ) اللہ نے پھر ان کو چھوڑ دیجیے کہ یہ اپنی کج بحثیوں کے اندر کھیلتے رہیں
They did not form any proper estimate of Allah when they said: 'Allah has not revealed anything to any man.' Ask them: 'The Book which Moses brought as a light and guidance for men and which you keep in bits and scraps, some of which you disclose while the rest you conceal, even though through it you were taught that which neither you nor your forefathers knew -who was it who revealed it?' Say: 'Allah!'- and then leave them to sport with their argumentation.
ان لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے ۔ 59 ان سے پوچھو ، پھر وہ کتاب جسے موسیٰ ( علیہ السلام ) لایا تھا ، جو تمام انسانوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی ، جسے تم پارہ پارہ کر کے رکھتے ہو ، کچھ دکھاتے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو ، اور جس کے ذریعہ سے تم کو وہ علم دیا گیا جو نہ تمہیں حاصل تھا اور نہ تمہارے باپ دادا کو ، آخر اس کا نازل کرنے والا کون تھا ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ 60 بس اتنا کہہ دو کہ اللہ ، پھر انہیں اپنی دلیل بازیوں سے کھیلنے کے لیے چھوڑ دو ۔
اور ان ( کافر ) لوگوں نے جب یہ کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کچھ نازل نہیں کیا تو انہوں نے اللہ کی صحیح قدر نہیں پہچانی ۔ ( ٣٣ ) ( ان سے ) کہو کہ : وہ کتاب کس نے نازل کی تھی جو موسیٰ لے کر آئے تھے ، جو لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی ، اور جس کو تم نے متفرق کاغذوں کی شکل میں رکھا ہوا ہے ۔ ( ٣٤ ) جن ( میں سے کچھ ) کو تم ظاہر کرتے ہو ، اور بہت سے حصے چھپا لیتے ہو ، اور ( جس کے ذریعے ) تم کو ان باتوں کی تعلیم دی گئی تھی جو نہ تم جانتے تھے ، نہ تمہارے باپ دادا؟ ( اے پیغمبر ! تم خود ہی اس سوال کے جواب میں ) اتنا کہہ دو کہ : وہ کتاب اللہ نے نازل کی تھی ۔ پھر ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو کہ یہ اپنی بے ہودہ گفتگو میں مشغول رہ کر دل لگی کرتے رہیں ۔
اور ان لوگوں نے 6 اللہ کو جیسا پہچاننا چاہیے تھا ویسا نہیں پہچانا جب تو (ضد سے) کہنے لگے اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اتارا 6 (اے پیمبر) کہہ دے جس کتاب کو موسیٰ لے کر آئے تھے اس میں لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی اس کو کس نے اتارا تھا تم نے اس کے کوئی ورق (الگ الگ) بنا رکھے ہیں جن کو تم بتلاتے ہو اور بہت سے چھپا رکھتے ہو 7 اور تم کو (قرآن کی طفیل میں) وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور ہن تمہارے باپ داد 8 (اے پیمبر) کہہ دے اللہ ہی نے (وہ کتاب اتاری تھی) پھر ان کو اپنی غلط باتوں میں کھیلنے دے 10
اور ان لوگوں نے اللہ کی قدر نہ جانی جیسی جاننا چاہیے تھی جب انہوں نے یہ کہا کہ اللہ نے کسی انسان (بشر) پر کچھ بھی نازل نہیں فرمایا تو فرمائیے وہ کتاب کس نے نازل فرمائی جس کو موسیٰ (علیہ السلام) لائے تھے جو لوگوں کے لئے نور (روشنی) اور ہدایت تھی جس کو تم نے الگ الگ اوراق (پر نقل) کررکھا ہے اس کے کچھ (حصے) کو ظاہر کرتے ہو اور بہت سے کو چھپاتے ہو اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو تم جانتے تھے نہ تمہارے باپ دادا۔ فرمادیجئے کہ اللہ (نے یہ نازل فرمایا ہے) پھر ان کو چھوڑ دیں کہ اپنی بیہودگی میں کھیلتے رہیں
اور منکرین نے اللہ کی وہ قدر نہ پہچانی جو اس کی قدر پہچاننے کا حق تھا جب انہوں نے یہ کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی۔ آپ ان سے پوچھئے وہ کتاب جو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے وہ کس نے نازل کی تھی۔ جس میں لوگوں کے لئے نور بھی تھا اور ہدایت بھی۔ جسے تم نے متفرق اوراق میں رکھ چھوڑا ہے۔ کچھ تو لوگوں کو دکھاتے ہو اور بہت کچھ چھپالیتے ہو۔ وہ کتاب جس نے تمہیں وہ علم دیا تھا جو نہ تم جانتے تھے نہ تمہارے آباوا جداد جانتے تھے۔ آپ فرمادیجئے کہ یہ کتاب اللہ نے نازل کی ہے۔ بس آپ ان کو چھوڑ دیجئے تاکہ وہ اپنی ہٹ دھرمیوں سے شوق کرتے رہیں۔
اور ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہیئے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور کتاب وغیرہ) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو جو کتاب موسیٰ لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی اور جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے ان (کے کچھ حصے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب کو) خدا ہی نے (نازل کیا تھا) پھر ان کو چھوڑ دیا کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں
And they estimated not Allah with an estimation due unto Him when they said: on no human being hath God sent down aught. Say thou: who sent down the Books wherewith Musa came, a light and a guidance unto mankind, which ye have made into separate parchments. Some of it ye disclose and much thereof ye conceal. And ye were taught that which ye knew not: neither ye nor your fathers. Say thou: Allah, and let them alone, sporting in their vain discourse.
اور انہوں نے اللہ کو نہیں پہنچانا جو اس کے پہچاننے کا حق تھا جب انہوں نے (یہ) کہہ دیا کہ خدا نے کسی بشر پر کوئی بھی چیز نہیں اتاری ۔ آپ کہئے کہ وہ کتاب کس نے نازل کی تھی جسے لے کر موسیٰ (علیہ السلام) آئے تھے (بجائے خود بھی) نور اور لوگوں کے لئے ہدایت بھی جس کو تم نے (مختلف) اوراق کر رکھا ہے کہ ظاہر کردیتے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو اور تم سکھائے گئے وہ جو تم نہیں جانتے تھے نہ تم اور نہ تمہارے باپ دادا آپ کہیے کہ اللہ نے پھر آپ انہیں ان کے مشغلوں میں بیہودگی سے پڑے ہوئے رہنے دیجیے ۔
اور انہوں نے اللہ کی صحیح قدر نہیں پہچانی جبکہ یہ کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر بھی کوئی چیز نہیں اتاری ۔ ان سے پوچھو: وہ کتاب کس نے اتاری ، جس کو موسیٰ روشنی اور لوگوں کیلئے ہدایت کی حیثیت سے لے کر آئے ، جس کو تم ورق ورق کرکے ( کچھ کو ) ظاہر کرتے ہو اور زیادہ کو چھپاتے ہو اور تم کو ان باتوں کی تعلیم دی گئی ، جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا؟ کہہ دو: اللہ ہی نے! پھر ان کو ان کی کج بحثیوں میں چھوڑ دو ، کھیلتے رہیں ۔
اور لوگوں نے جیسی اﷲ ( تعالیٰ ) کی قدر پہنچان ضروری تھی ویسی نہیں پہنچانی جبکہ انہوں نے کہا کہ اﷲ ( تعالیٰ ) نے کسی بشر ( انسان ) پر کوئی بھی چیز نازل نہیں فرمائی آپ ( ﷺ ) فرما دیجئے وہ کتاب جو نور اور لوگوں کیلئے ہدایت تھی جسے موسیٰ ( علیہ السلام ) لے کر آئے وہ کس نے نازل کی جسے تم نے الگ الگ کاغذوں میں کر رکھا ہے جنہیں تم ظاہر کرتے ہو اور بہت کچھ چھپاتے ہو اور تم کو وہ باتیں بتلائی گئیں جنہیں تم اور تمہارے باپ دادا نہیں جانتے تھے آپ ( ﷺ ) فرمادیجئے کہ اﷲ ( تعالیٰ ) نے نازل فرمائی پھر انہیں چھوڑ دیجئے وہ اپنی بیہودہ باتوں میں کھیلتے رہیںگے ۔
اور ان لوگوں نے اللہ کی قدر جیسے جاننی چاہیے تھی نہ جانی، جب انہوں نے کہا کہ اللہ نے انسان پر (وحی اور کتاب) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو کہ جو کتاب موسیٰ لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا ؟ جو لوگوں کے لیے نور اور ہدایت تھی، اور جسے تم نے علیحدہ علیحدہ اوراق پر نقل کر رکھا ہے۔ ان کے کچھ حصہ کو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو، تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو کہ اس کتاب کو اللہ نے ہی نازل کیا ہے۔ پھر ان کو چھوڑ دو کہ اپنی بیہودہ گفتگو میں کھیلتے رہیں۔
اور قدر نہیں کی ان لوگوں نے اللہ (پاک) کی، جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا، جب کہ انہوں نے کہا کہ اللہ نے کسی بھی انسان پر کچھ بھی نہیں اتاراف پوچھو کہ کس نے اتاری وہ کتاب جس کو موسیٰ سے لے آئے تھے ؟ ، ایک عظیم الشان روشنی اور سراسر ہدایت کے طور پر (اپنے زمانے کے) سب لوگوں کیلئے، جس کو تم لوگوں نے اب ورقے ورقے کر رکھا ہے، کچھ کو تم ظاہر کرتے ہو، اور بہت کچھ تم چھپا جاتے ہو، حالانکہ (اس کے ذریعے) تمہیں وہ کچھ سکھایا گیا جو نہ تم جانتے تھے نہ تمہارے باپ دادا، کہو اللہ ہی ہے (اتارنے والا پھر انھیں چھوڑ دو ، کہ یہ اپنی بیہودگی میں پڑے کھیلتے رہیں،
ان لوگوں نے اللہ کو ایسے نہیں پہچاناجیسے اسے پہچاننا چاہیےتھاکہتے ہیں کہ اللہ نے کسی بشر ( آدمی ) پر کبھی کچھ نہیں اتارا آپ کہیےجو کتاب موسیٰ لائے تھے اسے کس نے اتارا؟ ( وہ کتاب ) جولوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی تم نے اس کے کچھ اور اق بنارکھے ہیں جنہیں ظاہر کرتے ہو ، اوراس کا زیاہ حصہ چھپاتے ہواوراس نے تمہیں وہ سکھلایاجوتم اور تمہارے باپ دادا نہیں جانتے تھے ؟آپ کہہ دیجئے ’’اللہ ( نے اتارا ) ‘‘ پھرانہیں چھوڑیئے کہ وہ انہی بحثوں میں ہی پڑے رہتے ہیں
اور یہود نے اللہ کی قدر نہ جانی جیسی چاہیے تھی ( ف۱۸۱ ) جب بولے اللہ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اتارا ، تم فرماؤ کس نے اتاری وہ کتاب جو موسیٰ لائے تھے روشنی اور لوگوں کے لیے ہدایت جس کے تم نے الگ الگ کاغذ بنالیے ظاہر کرتے ہو ( ف۱۸۲ ) اور بہت سے چھپالیتے ہو ( ف۱۸۳ ) اور تمہیں وہ سکھایا جاتا ہے ( ف۱۸٤ ) جو نہ تم کو معلوم تھا نہ تمہارے باپ دادا کو ، اللہ کہو ( ف۱۸۵ ) پھر انہیں چھوڑ دو ان کی بیہودگی میں انہیں کھیلتا ( ف۱۸٦ )
اور انہوں نے ( یعنی یہود نے ) اﷲ کی وہ قدر نہ جانی جیسی قدر جاننا چاہیے تھی ، جب انہوں نے یہ کہہ ( کر رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کر ) دیا کہ اﷲ نے کسی آدمی پر کوئی چیز نہیں اتاری ۔ آپ فرما دیجئے: وہ کتاب کس نے اتاری تھی جو موسٰی ( علیہ السلام ) لے کر آئے تھے جو لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت تھی؟ تم نے جس کے الگ الگ کاغذ بنا لئے ہیں تم اسے ( لوگوں پر ) ظاہر ( بھی ) کرتے ہو اور ( اس میں سے ) بہت کچھ چھپاتے ( بھی ) ہو ، اور تمہیں وہ ( کچھ ) سکھایا گیا ہے جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا ، آپ فرما دیجئے: ( یہ سب ) اﷲ ( ہی کا کرم ہے ) پھر آپ انہیں ( ان کے حال پر ) چھوڑ دیں کہ وہ اپنی خرافات میں کھیلتے رہیں
ان لوگوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جس طرح قدر کرنے کا حق تھا ۔ جب انہوں نے یہ کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی ان سے کہیے کہ وہ کتاب کس نے نازل کی تھی جسے موسیٰ لے کر آئے تھے؟ جو لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت ( کا ذریعہ ) تھی؟ جسے تم نے ورق ورق کر رکھا ہے ۔ اس کا کچھ حصہ تو تم ظاہر کرتے ہو ( مگر ) بہت سا حصہ چھپاتے ہو ۔ حالانکہ تمہیں وہ باتیں سکھائی گئیں ہیں جو نہ تمہیں معلوم تھیں اور نہ تمہارے باپ دادا کو کہیے اللہ نے ( وہ کتاب نازل کی تھی ) ۔ پھر ان کو چھوڑ دیجیے کہ وہ اپنی بے ہودہ نکتہ چینی میں کھیلتے رہیں ۔
No just estimate of Allah do they make when they say: "Nothing doth Allah send down to man (by way of revelation)" Say: "Who then sent down the Book which Moses brought?- a light and guidance to man: But ye make it into (separate) sheets for show, while ye conceal much (of its contents): therein were ye taught that which ye knew not- neither ye nor your fathers." Say: "Allah (sent it down)": Then leave them to plunge in vain discourse and trifling.
They have no true respect of God when they say, "God has not sent anything to a mortal being." (Muhammad), tell them, "Who revealed the Book containing a light and guidance for the people which Moses brought? You wrote down only some parts of the original on paper and hid much, even after having learnt from it, that which neither you nor your fathers knew." Tell them, "God has (revealed the Quran)," and then leave them alone to pursue their useless investigations.
They did not estimate Allah with an estimation due to Him when they said: "Nothing did Allah send down to any human being (by inspiration)." Say: "Who then sent down the Book which Musa brought, a light and a guidance to mankind which you (the Jews) have made into (separate) papersheets, disclosing (some of it) and concealing much. And you were taught that which neither you nor your fathers knew." Say: "Allah (sent it down)." Then leave them to play in their vain discussions.
And they do not assign to Allah the attributes due to Him when they say: Allah has not revealed anything to a mortal. Say: Who revealed the Book which Musa brought, a light and a guidance to men, which you make into scattered writings which you show while you conceal much? And you were taught what you did not know, (neither) you nor your fathers. Say: Allah then leave them sporting in their vain discourses.
And they measure not the power of Allah its true measure when they say: Allah hath naught revealed unto a human being. Say (unto the Jews who speak thus): Who revealed the Book which Moses brought, a light and guidance for mankind, which ye have put on parchments which ye show, but ye hide much (thereof), and (by which) ye were taught that which ye knew not yourselves nor (did) your fathers (know it)? Say: Allah. Then leave them to their play of cavilling.
और उन्होंने अल्लाह के बारे में बहुत ग़लत अंदाज़ा लगाया जब उन्होंने कहा कि अल्लाह ने किसी इंसान पर कोई चीज़ नहीं उतारी, आप कह दीजिए कि वह किताब किसने उतारी थी जिसको लेकर मूसा आए थे जो रौशन थी और रहनुमाई (का ज़रिया) थी लोगों के वास्ते, जिसको तुमने वर्क़-वर्क़ कर रखा है उनमें से कुछ को ज़ाहिर करते हो और बहुत कुछ छुपा जाते हो, और तुमको वे बातें सिखाई गईं जिनको न तुम जानते थे और न तुम्हारे बाप-दादा, कह दीजिए कि अल्लाह ने उतारी, फिर उनको उनके हाल पर छोड़ दीजिए कि वे अपनी बेहूदा गुफ़्तगू में मशग़ूल रह कर दिल्लगी करते हैं।
اور ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی جیسی قدر پہنچاننا واجب تھی ایسی قدر نہ پہچانی جبکہ یوں کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی چیز بھی نازل نہیں کی (2) آپ کہئیے کہ وہ کتاب کس نے نازل کی ہے جس کو موسیٰ لاتے تھے (جس کی یہ کیفیت ہے کہ) وہ نور ہے اور لوگوں کے لیے وہ ہدایت ہے جس کو تم نے متفرق اوراق میں رکھ چھوڑا ہے جن کو ظاہر کردیتے ہو اور بہت سی باتوں کو چھپاتے ہو۔ (3) اور تم کو بہت سی ایسی باتیں تعلیم کی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے بڑے۔ (1) آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ نے (نازل فرمایا ہے) پھر ان کو ان کے مشغلہ میں بیہودگی کے ساتھ لگا رہنے دیجئیے۔ (91)
” اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کا حق تھا۔ جب انہوں نے کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نہیں نازل کی فرما دیں وہ کتاب کس نے اتاری جو موسیٰ لے کر آیا ؟ جو لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی تم اسے الگ الگ ورق بناکر رکھتے ہو کچھ ظاہر کرتے ہو اور بہت سا چھپاتے ہو اور تمہیں علم دیا گیا جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ فرما دیجیے اللہ نے۔ پھر انہیں چھوڑ دیجیے کہ اپنی فضول بحث میں لگے رہیں۔ “ (٩١)
ان لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ۔ ان سے پوچھو ‘ پھر وہ کتاب جسے موسیٰ (علیہ السلام) لایا تھا ‘ جو تمام انسانوں کے لئے روشنی اور ہدایت تھی ‘ جسے تم پارہ پارہ کر کے رکھتے ہو ‘ کچھ دکھاتے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو ‘ اور جس کے ذریعے سے تم کو وہ علم دیا گیا جو نہ تمہیں حاصل تھا اور نہ تمہارے باپ دادا کو ‘ آخر اس کا نازل کرنے والا کون تھا ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس اتنا کہہ دو کہ اللہ ‘ پھر انہیں اپنی دلیل بازیوں سے کھیلنے کے لئے چھوڑ دو ۔
اور لوگوں نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی جیسے پہچاننی تھی جبکہ انہوں نے کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی بھی چیز نازل نہیں فرمائی، آپ فرما دیجیے کہ کس نے اتاری وہ کتاب جسے موسیٰ لے کر آئے جو نور تھی اور لوگوں کے لیے ہدایت تھی۔ تم نے اسے الگ الگ ورقوں میں کر رکھا ہے جنہیں تم ظاہر کرتے ہو اور بہت کچھ چھپاتے ہو، اور تم کو وہ باتیں بتائی گئی ہیں جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہیں جانا۔ آپ فرما دیجیے کہ اللہ نے نازل فرمایا۔ پھر ان کو چھوڑ دیجیے کہ اپنی خرافات میں کھیلتے رہیں گے۔
اور نہیں پہچانا انہوں نے اللہ کو پورا پہچاننا جب کہنے لگے کہ نہیں اتاری اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز پوچھ تو کس نے اتاری وہ کتاب جو موسیٰ لے کر آیا تھا روشن تھی اور ہدایت تھی لوگوں کے واسطے جس کو تم نے ورق ورق کر کے لوگوں کو دکھلایا اور بہت سی باتوں کو تم نے چھپا رکھا اور تم کو سکھلا دیں جن کو نہ جانتے تھے تم اور نہ تمہارے باپ دادے تو کہہ دے کہ اللہ نے اتاری پھر چھوڑ دے ان کو اپنی خرافات میں کھیلتے رہیں
اور منکروں نے اللہ کی وہ قدر نہ پہچانی جو اس کی قدر پہچاننے کا حق تھا جبکہ انہوں نے یوں کہا کہ خدا نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی آپ ان سے پوچھئے وہ کتاب کس نے نازل کی تھی جو موسیٰ لایا تھا جو لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت تھی اور جس کا حال یہ ہے کہ تم نے اس کو مختلف اوراق میں لکھ رکھا ہے تم ان اوراق میں سے کچھ کو تو ظاہر کرتے ہو اور بہت سے اوراق کو چھپائے ہوئے ہو اور اسی کتاب کے ذریعہ سے تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو یہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا آپ فرمایئے۔ اس کتاب کو اللہ نے نازل کیا تھا نہیں آپ ان کو چھوڑیئے کہ یہ اپنی بیہودہ خرافات میں مشغول رہیں