TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Surat ul Aeyraaf - سورة الأعراف | Verse Number 178 Tafaseer

The tafseer of Surat ul Aeyraaf, verse 178, from every tafseer on this site - read one or compare them with each other.

مَنۡ یَّہۡدِ اللّٰہُ فَہُوَ الۡمُہۡتَدِیۡ ۚ وَ مَنۡ یُّضۡلِلۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۷۸﴾
Whoever Allah guides - he is the [rightly] guided; and whoever He sends astray - it is those who are the losers.
جس کو اللہ ہدایت کرتا ہے سو ہدایت پانے والا وہی ہوتا ہے اور جس کو وہ گمراہ کردے سو ایسے ہی لوگ خسارے میں پڑنے والے ہیں ۔
Bookmark
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Info

Allah says, مَن يَهْدِ اللّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِي وَمَن يُضْلِلْ فَأُوْلَـيِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ Whomsoever Allah guides, he is the guided one, and whomsoever He sends astray, -- then those! They are the losers Allah says, whomever He leads aright, then none can lead him to misguidance, and whomever He leads astray, will have acquired failure, loss and sure misguidance. Verily, whatever Allah wills occurs; and whatever He does not will, does not occur. A Hadith narrated from Abdullah bin Mas`ud reads, إِنَّ الْحَمْدَ للهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَهْدِيهِ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّيَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَهْدِ اللهُ فَلَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللهُ فَلَ هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُه All praise is due to Allah, Whom we praise and seek help, guidance and forgiveness from. We seek refuge with Allah from the evils within ourselves and from the burden of our evil deeds. He whom Allah guides, will never be misled; and he whom He misguides, will never have one who will guide him. I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah without partners and that Muhammad is His servant and Messenger. The complete Hadith was collected by Imam Ahmad and the collectors of Sunan and others.

بہترین دعا رب جنہیں راہ دکھائے انہیں کوئی بےراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ ہی غلط راہ پر ڈال دے اس کی شومی قسمت میں کیا شک ہے ؟ اللہ کا چاہا ہوتا ہے اس کا نہ چاہا کبھی نہیں ہو سکتا ۔ ابن مسعود کی حدیث میں ہے کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے ہدایت طلب کرتے ہیں اور اسی سے بخشش مانگتے ہیں ۔ ہم اپنے نفس کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے بھی ۔ اللہ کے راہ دکھائے ہوئے کو کوئی بہکا نہیں سکتا اور اس کے گمراہ کئے ہوئے کو کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ معبود صرف اللہ ہی ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میری گواہی ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ ( مسند احمد وغیرہ )

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Info

[١٧٨] علم گمراہی کا سبب بھی بن سکتا ہے :۔ یعنی انسان کو اس کا علم و فضل صرف اس صورت میں فائدہ دے سکتا ہے جبکہ اللہ کی طرف سے اس علم پر عمل کرنے کی توفیق بھی نصیب ہو لہذا کسی شخص کو اپنی علمی قابلیت اور فضیلت پر نازاں نہ ہونا چاہیے۔ بلکہ عقل کی کجروی سے بچنے اور سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ شیطان علم کی راہ سے بھی انسانوں کو گمراہ کرسکتا ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ سب گمراہ فرقوں کے قائدین عموماً ذہین و فطین اور عالم لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Info

مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِيْ ۚ۔۔ : ہدایت کا نور اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، وہ اس کا مالک ہے، جسے چاہے عطا کر دے اور جسے چاہے عطا نہ کرے اور وہ ضلالت کے اندھیروں میں بھٹکتا رہے۔ یہ مسئلۂ تقدیر ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس پر بھی ایمان لانا واجب ہے کہ وہ کسی کو ہدایت نہ دے تو ظالم نہیں، کیونکہ مالک جسے چاہے اپنی چیز دے جسے چاہے نہ دے اور وہ تو ایسا مالک ہے جس سے کوئی پوچھنے کی جرأت بھی نہیں کرسکتا، فرمایا : (لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْــَٔــلُوْن) [ الأنبیاء : ٢٣ ] ” اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھا جاتا ہے۔ “ ہاں، یہ بات ضرور ہے کہ اس نے جو کچھ کیا ہے وہ عین عدل ہے، کیونکہ وہ ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا، فرمایا : ( وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ ) [ حٰم آ السجدۃ : ٤٦ ] ” اور تیرا رب اپنے بندوں پر ہرگز کوئی ظلم کرنے والا نہیں۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہر خطبہ میں حمد و ثنا کے بعد فرمایا کرتے تھے : ( مَنْ یَّھْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ھَادِیَ لَہُ ) [ مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ : ٨٦٨، عن ابن عباس (رض) ] ” جسے اللہ سیدھی راہ پر لگائے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی سیدھی راہ پر نہیں لگا سکتا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Info

The main theme of the verse 178 is that guidance and misguidance both are from Allah. He is the creator of good and evil, guidance and misguidance. The guided are those whom Allah has given guidance and losers are those whom Allah lets go astray. This theme has been mentioned repeatedly by the Qur&an in many other verses to make the mankind know that Allah has created good and evil and has provided with clear instructions to distinguish one from the other, and with a kind of free will to choose one of the two paths. Those who willfully choose the right path and do good deeds get their reward from Allah while those who willfully take to the other path and do evil deeds are punished and sent to Hell. Here we note that the above verse has mentioned the people of guidance in singular person while the people who are wrong and misguided have been mentioned in plural. This indicates that the path of guidance is the one true faith which was followed by all the prophets right from Adam (علیہ السلام) to the last of all Prophets (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The basic message of all the prophets has been one and the same. That is to say, the fundamentals preached by all the prophets were all same in every age. Therefore, people of any age and denomination who believed in their prophets and followed the teachings preached by them are considered by Allah belonging to one and the same category - that is, the guided. On the contrary, the ways of misguidance have been thousands in number, hence mentioned in plural in this verse. Another point to be noted in this verse is that the people following the path of misguidance have been mentioned along with their punish¬ment of Hell, while no mention has been made of any reward of the people following the right path. The verse mentioned them saying that they are &the guided&. This implies that guidance, in itself, is the greatest blessing of all, which encompasses all the rewards and boun¬ties existing in this world or in the Hereafter. The reward of guidance requires no specific mention of other rewards which are embodied therein. For example, some great king assures some individual that he is a close friend of the king and he shall be heard and trusted by him. Certainly he enjoys the highest position among the royal officials. He does not require the achievement of a formal rank or position. Simi¬larly, when Allah has given the title of being &the guided& to any one, he has got all the rewards of the world. The elders have therefore said that the remembrance and worship of Allah are themselves the reward of the worship, because they are the great favour of Allah. Any one engaged in the worship of Allah is receiving the greatest reward of Allah at the same time. Other blessings which wait for him in this world and in Paradise are second to it, as they are the fruit of this guidance. This also explains the meaning of another Qur&anic verse in which the believers are promised to receive from their Lord their reward. It said جَزَاءً مِّن رَّ‌بِّكَ عَطَاءً |"A recompense from your Lord, a gift.|" Here the reward of the believers has been expressed by two different words جَزَاءً a recompense and Ata which is gift. The word جَزَاءً signifies something offered in return of some service while the word: عَطَاءً ‘Ata is a gift offered without any service or performance. This leads us to the fact that things which we take to be rewards of our performance or attain¬ments are, in fact, the gift from our Lord. For the performance which has drawn this reward was in itself a gift from Allah Almighty who let us perform that particular service.

خلاصہ تفسیر جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت کرتا ہے سو ہدایت پانے والا وہی ہوتا ہے اور جس کو گمراہ کردے سو ایسے ہی لوگ (ابدی) خسارہ میں پڑجاتے ہیں (پھر ان سے توقع ہدایت کی کرنا اور ہدایت نہ ہونے سے مغموم ہونا بیکار) اور (جب وہ لوگ اپنے قوٰی مُدرکہ سے کام ہی نہیں لیتے تو ہدایت کہاں سے ہو، سو ان کے نصیب میں تو دوزخ ہی ہے چنانچہ) ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسان دوزخ (ہی میں رہنے) کے لئے پیدا کئے ہیں جن کے (نام کو تو) دل (ہیں مگر) ایسے ہیں جن سے (حق بات کو) نہیں سمجھتے (چونکہ اس کا ارادہ ہی نہیں کرتے) اور جن کے (نام کو تو) آنکھیں (ہیں مگر) ایسی ہیں جن سے (نظر استدلال کے طور پر کسی چیز کو) نہیں دیکھتے اور جن کے ( نام کو تو) کان (ہیں مگر) ایسے ہیں جن سے ( متوجہ ہو کر حق بات کو) نہیں سنتے (غرض) یہ لوگ (آخرت کی طرف متوجہ ہونے میں) چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ (اس حیثیت سے کہ چوپایوں کو آخرت کی طرف متوجہ ہونے کا مکلف تو نہیں بنایا گیا سو ان کا متوجہ نہ ہونا مذموم نہیں اور ان کو تو اس کا حکم ہے پھر بھی بےتوجہی کرتے ہیں سو اس اعتبار سے) یہ لوگ (ان چوپایوں سے بھی) زیادہ بےراہ ہیں (کیونکہ) یہ لوگ (باوجود توجہ دلانے کے آخرت سے) غافل ہیں (بخلاف چوپایوں کے، جیسا اوپر بیان ہوا) معارف ومسائل پہلی آیت کا مضمون یہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے صحیح راستہ کی ہدایت کردی وہ ہی ہدایت پانے والا ہے اور جن کو گمراہ کردیا تو وہ ہی خسارے اور نقصان میں پڑنے والے ہیں۔ یہ مضمون قرآن مجید کی بہت سی آیات میں بار بار آیا ہے، جس میں بتلایا گیا ہے کہ ہدایت اور گمراہی اور ہر خیر و شر، اچھے برے کا خالق صرف اللہ جل شانہ ہے، انسان کے سامنے اچھے برے، صحیح غلط دونوں راستے کردیئے گئے ہیں اور اس کو ایک خاص قسم کا اختیار دیا گیا ہے وہ اپنے اس اختیار کو اگر اچھے اور صحیح راستہ میں خرچ کرتا ہے تو ثواب اور جنت کا مستحق ہوتا ہے، برے اور غلط راستے میں لگاتا ہے تو عذاب اور جہنم میں ٹھکانا ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہدایت پانے والے کو بصیغہ مفرد ذکر کیا گیا اور گمراہی اختیار کرنے والوں کو بصیغہ جمع، اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ہدایت کا راستہ صرف ایک ہی دین حق ہے جو آدم (علیہ السلام) سے شروع ہو کر خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک سب انبیاء (علیہم السلام) کا طریق رہا ہے، اصول سب کے مشترک اور ایک ہیں، اس لئے حق کی پیروی کرنے والے خواہ کسی زمانہ میں اور کسی نبی کی امت میں اور کسی دین و مذہب سے متعلق ہوں وہ سب ایک ہیں۔ اور گمراہی کے ہزاروں راستے الگ الگ ہیں اس لئے گمراہوں کو بصیغہ جمع (آیت) فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ فرمایا گیا۔ نیز اس آیت میں یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ گمراہی اختیار کرنے والوں کی سزا اور انجام بد کا ذکر کیا گیا کہ وہ لوگ خسارہ میں پڑنے والے ہیں، اس کے بالمقابل ہدایت یافتہ حضرات کی کسی خاص جزاء کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا گیا کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ہدایت ایسی عظیم الشان نعمت ہے جو دین و دنیا کی ساری نعمتوں اور رحمتوں پر حاوی ہے، دنیا میں حیات طیبہ اور آخرت میں جنت کی لازوال نعمتیں سب ہدایت ہی کے ساتھ وابستہ ہیں، اس لحاظ سے ہدایت خود ایک بھاری نعمت اور بہت بڑا انعام ہے جس کے بعد ان نعمتوں کے شمار کرنے کی ضرورت نہیں رہتی جو ہدایت کے صلہ میں ملنے والی ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کوئی بڑی حکومت و سطلنت کا مالک کسی شخص کو یہ کہہ دے کہ تم ہمارے مقرب ہو ہم تمہاری بات سنیں اور مانیں گے تو ہر جاننے والا جانتا ہے کہ اس سے بڑا کوئی عہدہ و منصب یا کوئی دولت اس کے لئے نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح جب اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کو ہدایت یافتہ کا خطاب دے دیا تو اس کو دین و دنیا کی ساری نعمتیں حاصل ہوگئیں، اسی لئے بزرگان سلف نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر و عبادت خود ہی اپنی جزاء اور اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان عطا ہے، جو شخص ذکر اللہ میں مشغول ہے وہ اسی وقت اللہ تعالیٰ کا انعام نقد پارہا ہے، آخرت و جنت کا انعام دوسری نعمت ہے، اسی سے قرآن کریم کی اس آیت کا مفہوم بھی سمجھ میں آجاتا ہے جس میں فرمایا (آیت) جَزَاۗءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَاۗءً ، کہ ایک ہی چیز کو جزاء بھی فرمایا گیا اور عطاء بھی، حالانکہ دونوں چیزیں الگ الگ ہیں، جزاء کسی عمل کا معاوضہ ہوتا ہے اور عطاء بلا معاوضہ۔ اس میں جزاء وعطاء کی حقیقت بتلادی کہ جس چیز کو تم جزاء اور عمل کا بدلہ سمجھتے ہو وہ بھی درحقیقت ہماری عطاء و انعام ہی ہے کیونکہ جس عمل کا یہ بدلہ ملا ہے وہ عمل خود ہمارا انعام تھا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Info

مَنْ يَّہْدِ اللہُ فَہُوَالْمُہْتَدِيْ۝ ٠ ۚ وَمَنْ يُّضْلِلْ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْخٰسِـرُوْنَ۝ ١٧٨ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] ، وقوله : وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ [ التغابن/ 11] الرّابع : الهداية في الآخرة إلى الجنّة المعنيّ بقوله : سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5] ، وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43]. ( ھ د ی ) الھدایتہ کے معنی لطف وکرم کے ساتھ کسی کی رہنمائی کرنے کے ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے چار طرف سے ہدایت کیا ہے ۔ ( 1 ) وہ ہدایت ہے جو عقل وفطانت اور معارف ضروریہ کے عطا کرنے کی ہے اور اس معنی میں ہدایت اپنی جنس کے لحاظ سے جمع مکلفین کا و شامل ہے بلکہ ہر جاندار کو حسب ضرورت اس سے بہرہ ملا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى[ طه/ 50] ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر مخلوق کا اس کی ( خاص طرح کی ) بناوٹ عطا فرمائی پھر ( ان کی خاص اغراض پورا کرنے کی ) راہ دکھائی ۔ ( 2 ) دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر تمام انسانوں کو راہ تجارت کی طرف دعوت دی ہے چناچہ ایت : ۔ وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا[ الأنبیاء/ 73] اور ہم نے بنی اسرائیل میں سے ( دین کے ) پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ( لوگوں کو ) ہدایت کرتے تھے ۔ میں ہدایت کے یہی معنی مراد ہیں ۔ ( 3 ) سوم بمعنی توفیق خاص ایا ہے جو ہدایت یافتہ لوگوں کو عطا کی جاتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً [ محمد/ 17] جو لوگ ، وبراہ ہیں قرآن کے سننے سے خدا ان کو زیادہ ہدایت دیتا ہے ۔ ۔ ( 4 ) ہدایت سے آخرت میں جنت کی طرف راہنمائی کرنا مراد ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بالَهُمْ [ محمد/ 5]( بلکہ ) وہ انہیں ( منزل ) مقصود تک پہنچادے گا ۔ اور آیت وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ [ الأعراف/ 43] میں فرمایا ۔ اهْتِدَاءُ يختصّ بما يتحرّاه الإنسان علی طریق الاختیار، إمّا في الأمور الدّنيويّة، أو الأخرويّة قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] ، وقال : إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ لا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا[ النساء/ 98] ويقال ذلک لطلب الهداية نحو : وَإِذْ آتَيْنا مُوسَى الْكِتابَ وَالْفُرْقانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ [ البقرة/ 53] ، الاھتداء ( ہدایت پانا ) کا لفظ خاص کر اس ہدایت پر بولا جاتا ہے جو دینوی یا اخروی کے متعلق انسان اپنے اختیار سے حاصل کرتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِها [ الأنعام/ 97] اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور در یاؤ کے اندھیروں میں ان سے رستہ معلوم کرو ( ضل)إِضْلَالُ والإِضْلَالُ ضربان : أحدهما : أن يكون سببه الضَّلَالُ ، وذلک علی وجهين : إمّا بأن يَضِلَّ عنک الشیءُ کقولک : أَضْلَلْتُ البعیرَ ، أي : ضَلَّ عنّي، وإمّا أن تحکم بِضَلَالِهِ ، والضَّلَالُ في هذين سبب الإِضْلَالِ. والضّرب الثاني : أن يكون الإِضْلَالُ سببا لِلضَّلَالِ ، وهو أن يزيّن للإنسان الباطل ليضلّ کقوله : لَهَمَّتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَما يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ [ النساء/ 113] ، أي يتحرّون أفعالا يقصدون بها أن تَضِلَّ ، فلا يحصل من فعلهم ذلك إلّا ما فيه ضَلَالُ أنفسِهِم، وقال عن الشیطان : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] ، وقال في الشّيطان : وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيراً [يس/ 62] ، وَيُرِيدُ الشَّيْطانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 60] ، وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ ص/ 26] ، وإِضْلَالُ اللهِ تعالیٰ للإنسان علی أحد وجهين : أحدهما أن يكون سببُهُ الضَّلَالَ ، وهو أن يَضِلَّ الإنسانُ فيحكم اللہ عليه بذلک في الدّنيا، ويعدل به عن طریق الجنّة إلى النار في الآخرة، وذلک إِضْلَالٌ هو حقٌّ وعدلٌ ، فالحکم علی الضَّالِّ بضَلَالِهِ والعدول به عن طریق الجنّة إلى النار عدل وحقّ. والثاني من إِضْلَالِ اللهِ : هو أنّ اللہ تعالیٰ وضع جبلّة الإنسان علی هيئة إذا راعی طریقا، محمودا کان أو مذموما، ألفه واستطابه ولزمه، وتعذّر صرفه وانصرافه عنه، ويصير ذلک کالطّبع الذي يأبى علی الناقل، ولذلک قيل : العادة طبع ثان «2» . وهذه القوّة في الإنسان فعل إلهيّ ، وإذا کان کذلک۔ وقد ذکر في غير هذا الموضع أنّ كلّ شيء يكون سببا في وقوع فعل۔ صحّ نسبة ذلک الفعل إليه، فصحّ أن ينسب ضلال العبد إلى اللہ من هذا الوجه، فيقال : أَضَلَّهُ اللهُ لا علی الوجه الذي يتصوّره الجهلة، ولما قلناه جعل الإِضْلَالَ المنسوب إلى نفسه للکافر والفاسق دون المؤمن، بل نفی عن نفسه إِضْلَالَ المؤمنِ فقال : وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَداهُمْ [ التوبة/ 115] ، فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ [ محمد/ 4- 5] ، وقال في الکافروالفاسق : فَتَعْساً لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمالَهُمْ [ محمد/ 8] ، وما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفاسِقِينَ [ البقرة/ 26] ، كَذلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكافِرِينَ [ غافر/ 74] ، وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ [إبراهيم/ 27] ، وعلی هذا النّحو تقلیب الأفئدة في قوله : وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ [ الأنعام/ 110] ، والختم علی القلب في قوله : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وزیادة المرض في قوله : فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] . الاضلال ( یعنی دوسرے کو گمراہ کرنے ) کی دوصورتیں ہوسکتی ہیں ۔ ایک یہ کہ اس کا سبب خود اپنی ضلالت ہو یہ دو قسم پر ہے ۔ (1) ایک یہ کہ کوئی چیز ضائع ہوجائے مثلا کہاجاتا ہے اضللت البعیر ۔ میرا اونٹ کھو گیا ۔ (2) دوم کہ دوسرے پر ضلالت کا حکم لگانا ان دونوں صورتوں میں اضلال کا سبب ضلالۃ ہی ہوتی ہے ۔ دوسری صورت اضلال کا سبب ضلالۃ ہی ہوتی ہے ۔ دوسری صورت اضلال کی پہلی کے برعکس ہے یعنی اضلال بذاتہ ضلالۃ کا سبب بنے اسی طرح پر کہ کسی انسان کو گمراہ کرنے کے لئے باطل اس کے سامنے پر فریب اور جاذب انداز میں پیش کیا جائے جیسے فرمایا : لَهَمَّتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَما يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ [ النساء/ 113] ، ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کرچکی تھی اور یہ اپنے سوا کسی کو بہکا نہیں سکتے۔ یعنی وہ اپنے اعمال سے تجھے گمراہ کرنے کی کوشش میں ہیں مگر وہ اپنے اس کردار سے خود ہی گمراہ ہو رہے ہیں ۔ اور شیطان کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا رہوں گا ۔ اور شیطان کے بارے میں فرمایا : ۔ وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيراً [يس/ 62] اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا ۔ وَيُرِيدُ الشَّيْطانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 60] اور شیطان تو چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے ۔ وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ ص/ 26] اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے رستے سے بھٹکادے گی ۔ اللہ تعالیٰ کے انسان کو گمراہ کرنے کی دو صورتیں ہی ہوسکتی ہیں ( 1 ) ایک یہ کہ اس کا سبب انسان کی خود اپنی ضلالت ہو اس صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف اضلال کی نسبت کے یہ معنی ہوں گے کہ جب انسان از خود گمرہ ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں اس پر گمراہی کا حکم ثبت ہوجاتا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آخرت کے دن اسے جنت کے راستہ سے ہٹا کر دوزخ کے راستہ پر ڈال دیا جائے گا ۔ ( 2 ) اور اللہ تعالٰ کی طرف اضلال کی نسببت کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ باری تعالیٰ نے انسان کی جبلت ہی کچھ اس قسم کی بنائی ہے کہ جب انسان کسی اچھے یا برے راستہ کو اختیار کرلیتا ہے تو اس سے مانوس ہوجاتا ہے اور اسے اچھا سمجھنے لگتا ہے اور آخر کا اس پر اتنی مضبوطی سے جم جاتا ہے کہ اس راہ سے ہٹا نایا اس کا خود اسے چھوڑ دینا دشوار ہوجاتا ہے اور وہ اعمال اس کی طبیعت ثانیہ بن جاتے ہیں اسی اعتبار سے کہا گیا ہے کہ عادت طبعہ ثانیہ ہے ۔ پھر جب انسان کی اس قسم کی فطرت اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہے اور دوسرے مقام پر ہم بیان کرچکے ہیں کہ فعل کی نسبت اس کے سبب کی طرف بھی ہوسکتی ہے لہذا اضلال کی نسبت اللہ تعالیٰ کیطرف بھی ہوسکتی ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہکر دیا ور نہ باری تعالیٰ کے گمراہ کر نیکے وہ معنی نہیں ہیں جو عوام جہلاء سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اللہ تعالیٰ کی طرف گمراہ کرنے کینسبت اسی جگہ کی ہے جہاں کافر اور فاسق لوگ مراد ہیں نہ کہ مومن بلکہ حق تعالیٰ نے مومنین کو گمراہ کرنے کی اپنی ذات سے نفی فرمائی ہے چناچہ ارشاد ہے ۔ وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَداهُمْ [ التوبة/ 115] اور خدا ایسا نہیں ہے کہ کسی قومکو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کردے ۔ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ [ محمد/ 4- 5] ان کے عملوں کر ہر گز ضائع نہ کریگا بلکہ ان کو سیدھے رستے پر چلائے گا ۔ اور کافر اور فاسق لوگوں کے متعلق فرمایا : فَتَعْساً لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمالَهُمْ [ محمد/ 8] ان کے لئے ہلاکت ہے اور وہ ان کے اعمال کو برباد کردیگا : وما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفاسِقِينَ [ البقرة/ 26] اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو ۔ كَذلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكافِرِينَ [ غافر/ 74] اسی طرح خدا کافررں کو گمراہ کرتا ہے ۔ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ [إبراهيم/ 27] اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کردیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ [ الأنعام/ 110] اور ہم ان کے دلوں کو الٹ دیں گے ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے انکے دلوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] ان کے دلوں میں ( کفر کا ) مرض تھا خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کردیا ۔ میں دلوں کے پھیر دینے اور ان پر مہر لگا دینے اور ان کی مرض میں اضافہ کردینے سے بھی یہی معنی مراد ہیں ۔ خسر ويستعمل ذلک في المقتنیات الخارجة کالمال والجاه في الدّنيا وهو الأكثر، وفي المقتنیات النّفسيّة کالصّحّة والسّلامة، والعقل والإيمان، والثّواب، وهو الذي جعله اللہ تعالیٰ الخسران المبین، وقال : الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] ، ( خ س ر) الخسروالخسران عام طور پر اس کا استعمال خارجی ذخائر میں نقصان اٹھانے پر ہوتا ہے ۔ جیسے مال وجاء وغیرہ لیکن کبھی معنوی ذخائر یعنی صحت وسلامتی عقل و ایمان اور ثواب کھو بیٹھنے پر بولا جاتا ہے بلکہ ان چیزوں میں نقصان اٹھانے کو اللہ تعالیٰ نے خسران مبین قرار دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] جنہوں نے اپنے آپ اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈٖالا ۔ دیکھو یہی صریح نقصان ہے ۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Info

(١٧٨۔ ١٧٩) جسے وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) اپنے دین کی ہدایت دے، وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ اپنے دین سے بےراہ کردے وہ عذاب کے وجوب سے خسارے میں ہے اور یہ سچی بات کو بالکل نہیں سمجھتے اور یہ سچی بات کو بالکل نہیں سمجھتے اور یہ سچائی کے سمجھنے میں چوپایوں سے بھی زیادہ بےراہ ہیں کیوں کہ یہ انکار کرنے والے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ آخرت کو بھی نہیں مانتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Info

آیت ١٧٨ (مَنْ یَّہْدِ اللّٰہُ فَہُوَ الْمُہْتَدِیْج وَمَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ ) عہد الست کے حوالے سے ہم پر یہ بات واضح ہوگئی کہ انسان کا ایک وجود روحانی ہے اور دوسرا مادی یعنی حیوانی۔ اگر انسان کی توجہ اور ساری دلچسپیاں حیوانی وجود کی ضروریات پوری کرنے تک محدود رہیں گی تو پھر وہ بلعم بن باعوراء کی مثال بن جائے گا۔ یہ انفرادی سطح پر بھی ہوسکتا ہے اور قومی و اجتماعی سطح پر بھی۔ اس ضمن میں حکمت قرآنی کا تیسرا نکتہ اگلی آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ انسانوں میں سے اکثر وہ ہیں جو صرف اپنے حیوانی جسم کی پرورش میں مصروف ہیں۔ وہ اگرچہ بظاہر تو انسان ہی نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں حیوانوں کی سطح پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Info

١٧٨۔ یہ اللہ پاک نے اس بات کی صراحت فرمائی کہ ہدایت اور گمراہی دونوں خدا کے ہاتھ میں ہیں جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو ہدایت کرتا ہے وہ ہدایت پا جاتا ہے ایسا نہیں ہوتا کہ جس کو خدا ہدایت کرے وہ گمراہ کا گمراہ ہی رہے اور جس کو وہ گمراہ کردیتا ہے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے اور ایسے لوگ بڑا نقصان اٹھاتے ہیں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود (رض) کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ماں پیٹ میں جب بچے کا پتلا چار مہینے کے عرصہ میں بن کر تیار ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے علم ازلی کے موافق یہ لکھ لیا جاتا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد یہ بچہ نیک اٹھے گا یا بد اس لکھنے کے موافق جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم میں نیک ٹھہر چکے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ دنیا میں نیک کام لیتا ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں بدقرار پاچکے ہیں ان کو مجبور کیا جا کر راہ راست پر لانا منظور الٰہی نہیں ١ ؎ ہے کیونکہ دنیا نیک وبد کے اس امتحان کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ دنیا میں کون شخص اپنے اختیار سے نیک کام کرتا ہے اور کون شخص بڑے کاموں میں اپنی عمر گذارتا ہے مجبوری کی حالت میں یہ امتحان باقی نہیں رہتا اس لئے مجبور کر کے کسی کو راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے برخلاف ہے اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے اسی لئے کہ آیت اور حدیث کو ملا کر یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ اپنے علم ازلی کے موافق اللہ تعالیٰ نیکوں کو نیک کام میں لگا دیتا ہے اور جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار پاچکے ہیں ان کو راہ راست پر لانے کے لئے مجبور کرنا اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے جس سے وہ عمر بھر بدی میں لگے رہیں گے اور اس بدی کی سزا کے سبب سے ان کو عقبے میں بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا :۔ ١ ؎ صحیح بخاری ج ٢ ص ٩٧٦ کتاب القدر۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Info

(7:178) المھتدی۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ معرفہ۔ ہدایت یاب۔ ومن یضلل۔ ای ومن یضلل اللہ۔ اور جن کو اللہ گمراہ کر دے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Info

ف 9 ان کو کوئی بھی سیدھی راہ پر نہیں لگاسکتا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے خطبہ میں بھی حمدو ثنا کے بعد فرمایا کرتے، من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضللم فلا ھادی لہ یعنی جسے اللہ تعالیٰ سیدھی راہ پر لگائے اسے جوئی کوئی نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کوئی سیدھی راہ پر نہیں لگا سکتا۔ ( سلم نسائی وغیرہ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Info

تشریح : آیت نمبر 178 تا 179 انسان دو طرح کے ہیں ۔ ایک وہ جو اپنی فطری صلاحیتوں کا صرف اپنے اہل و عیال اور خوشی و مسرت اور عیش و آرام کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ ان کی ساری تگ و دود صرف دنیاوی مفادات حاصل کنے کیلئے ہوتی ہے۔ دوسرے وہ ہیں جو آخرت کو حاصل کرنے کے لئے دنیا کو ایک سیڑھی کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ آخر کمانے کے لئے صرف اتنی ہی دنیا کماتے ہیں جو ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کردے۔ ان دونوں میں سے ایک کا مقصد زندگی برائے زندگی ہے اور دوسرے کا مقصد زندگی برائے بندگی ہے۔ یہاں ان لوگوں کو جانوروں سے تشبیہ دی گئی ہے جو صرف کھانے پینے اور عیش و آرام ہی کو زندگی کا مقصد بنا کر اس کے پیچھے دوڑ رہے ہیں انہیں آخرت کی کوئی فکر نہیں ہے ان کے پاس جو دل ہے وہ فکر آخرت سے محروم ہے۔ ان کے کان ہیں مگر وہ دین کی بات سننے کے لئے نہیں ان کی آنکھیں ہیں مگر حقیقت کو دیکھنے کے لئے نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جہنم میں جانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ لیکن وہ لوگ جن کا مقصد آخرت اور اس کی ابدی راحتیں ہیں ان کے قلب و نظر اور فکر کا دائرہ آخرت تک وسیع ہے اور یقینا یہی وہ لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی کامیابیاں حاصل کرنے والے ہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Info

اس شخص کی مثال جسے اللہ نے اپنی ہدایات دیں مگر وہ ان سے نکل گیا ، تبصرہ یہ ہے کہ ہدایت در اصل وہی ہوتی ہے جو من جانب اللہ ہو ، جسے اللہ ہدایت دینا چاہے وہی ہدایت پر ہے اور جسے اللہ ہدایت دینا چاہے وہی ہدایت پر ہے اور جسے اللہ گمراہ کردے وہ ہمیشہ کے لیے خسارے میں پڑجاتا ہے۔ اب وہ کسی معاملے میں بھی نفع نہیں کما سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ صرف اس شخص کو ہدایت دیتا ہے جو ہدایت کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ دوسری سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے والذین جاھدوا فینا لنہدینہم سبلنا۔ جو لوگ ہمارے بارے میں جدوجہد کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے راستوں کی طرف راہنمائی کریں گے۔ اور دوسری جگہ ہے۔ ان اللہ لایغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسہم۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کے بدلنے کی سعی نہ کرے اور دوسری جگہ ہے۔ ونفس و ما سواہا فالہمہا فجورہا وتقواھا قد افلح من زکاھا و قد خاب من دساھا۔ اور وہ نفس کی اور یہ جو اسے برابر کیا اور اسے برائی اور خدا خوفی سے آگاہ کیا۔ وہ کامیاب ہوا جس نے اس نفس کو پاک کیا اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے ناپاک کیا "۔ جو شخص دلائل ہدایت کو ترک کرکے اپنے لیے راہ ضلالت کو پسند کرلیتا ہے۔ اللہ بھی اسے گمراہ کردیتا ہے کیونکہ ایسا شخص اپنے دل ، اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں کو ہدایت کے لیے بند کردیتا ہے اور اسی سیاق وسباق میں درج ذیل آیت اسی مفہوم کو ظاہر کر رہی ہے۔ اور دوسری جگہ فرمایا گیا فی قلوبھم مرض فزادھم اللہ مرضا۔ ان کے دل میں بیماری ہے ، پس اللہ نے بھی ان کی بیماری کو زیادہ کردیا "۔ اور ایک دوسری آیت میں ہے۔ ان الذین کفروا و ظلموا لم یکن اللہ لیغفرلہم ولا لیھدیہم طریقا الا طریق جھنم خالدین فیہا " وہ لوگ جنہوں نے کفر کو اختیار کیا اور اپنی جانوں پر ظلم کیا ، اللہ بھی ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں صحیح راستے کی ہدایت دیتا ہے ، ما سوائے جہنم کے راستے کے جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے "۔ ان تمام آیات پر غور وفکر کرنے کے بعد جن میں ہدایت و ضلالت کا ذکر ہے اور ان کے مفہوم کے اندر تطبیق اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے بعد صرف ایک ہی تشریح و تطبیق ممکن ہے جس میں دل کا اطمینان بھی ہے اور وہ ان لاہوتی جدلیات سے بھی پاک ہے جن میں اسلامی متکلمین ، یہودی مسیحی اور دوسرے مذاہب فلسفہ ہمیشہ باہم دست و گریبان رہے ہیں ، وہ یہ کہ اس کائنات میں اللہ کا نظام قضا و قدر اللہ کی مشیت کے ایک وسیع دائرے کے اندر کام کرتا ہے۔ اس دائرے کے اندر انسان کی تخلیق ہوئی ہے اور اس نظام قدر کے مطابق انسان کے اندر ہدایت اور ضلالت کی دہری صلاحیت رکھ دی گئی ہے۔ انسان کی فطرت مخلوق کے اندر ہی یہ فطری عہد رکھ دیا گیا ہے کہ وہ اللہ وحدہ کی معرفت حاصل کرے اور ربوبیت کا اعتراف کرے ، پھر انسان کو ہدایت و ضلالت کی دہری صلاحیت کے ساتھ عقل کی قوت تمیزہ بھی دی گئی ہے جو ہدایت و ضلالت کو پہچانتی ہے۔ اس پر مستزاد اسے رسولوں کے ذریعے دلائل و نشانات ہدایت بھی سمجھا دیے گئے تاکہ اگر اس کی فطرت پر موٹی تہ جم گئی ہو تو اسے صاف کرتا جائے لیکن ان تمام انتظامات کے ساتھ ساتھ اس میں قبولیت ہدایت و ضلالت کی دہری صلاحیت قائم رہتی ہے اور یہ تمام انتظام اللہ کے دائرہ مشیت ، وسیع تر دائرہ مشیت کے اندر ہے۔ اللہ کی مشیت کے اندر اللہ کا نظام قضا و قدر جاری رہتا ہے اور اپنا کام کرتا ہے لہذا اس دائرے کے اندر جو شخص ہدایت کا انتخاب کرتا ہے وہ ہدایت کی راہ لیتا ہے ، تقدیر اسے ہدایت دیتی ہے اور اگر وہ دلائل ہدایت اور اشارات فطرت کے مطابق نہیں چلتا تو یہ تقدیر اسے راہ ضلالت پر ڈال دیتی ہے۔ اس لیے کہ اس شخص نے اس عقل سے کام نہ لیا جو اسے عطا ہوئی تھی۔ اپنی آنکھوں اور کانوں سے کام نہ لیا جو اس کائنات کے اندر بکھری ہوئی نشانیوں کو دیکھنے کے لیے اسے دی گئی تھی۔ پھر ان ہدایات میں بھی موجود تھیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں۔ لیکن کوئی شخص جو راہ بھی اختیار کرکے وہ اللہ کے دائرہ مشیت کے اندر رہتا ہے اور جو واقعہ بھی ہوتا ہے اللہ کے نظام قضا و قدر کے اندر رہتا ہے اور اللہ کی قوت کے برعکس نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ کسی انسان کا کسی طرح کا علم بھی چلتا ہو اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر ہی رہتا ہے ، کیونکہ جو کچھ ہوتا ہے تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ کیونکہ کائنات میں صرف اللہ کی مشیت کام کرتی ہے اور تقدیر اس دائرے کے اندر ہے۔ کیونکہ اللہ کی قوت کے سوا کوئی اور قوت نہیں ہے جو اس قسم کے نظام و واقعات کو جود میں لا سکتی ہو۔ غرض انسان اس وسیع دائرے کے اندر متحرک ہے اور اسی دائرے کے اندر وہ جو راہ چلتا رہتا ہے۔ یہ ہے وہ تصور جو ان تمام آیات کے مطالعے سے ذہن میں آتا ہے بشرطیکہ ان آیات کو ایک دوسرے کے بالمقابل بطور مناظرہ نہ پیش کیا جائے اور انہیں یکجا پڑھ کر ان کی تطبیق کرکے ان کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ (تفصیلات کے لیے دیکھئے کتاب الخصائص التصور الاسلامی) آخر میں یہ تبصرہ آتا ہے۔ من یہد اللہ فھو المہتد و من یضلل اللہ فاولئک ہم الخسرون۔ جسے اللہ ہدایت بخشے بس وہی راہ راست پر ہے اور جس کو اللہ اپنی رہنمائی سے محروم کردے وہی ناکام و نامراد ہوکر رہتا ہے۔ یعنی مذکورہ بالا تفسیر کے مطابق جو راہ ہدایت لیتا ہے تو اللہ اسے ہدایت دے دیتا ہے ، وہ اپنے مطلوب تک پہنچ جاتا ہے۔ اسے راستہ بھی معلوم ہوتا ہے ، وہ اسی راستے پر چلتا ہے۔ اور دنیا و آخرت میں فلاح پاتا ہے۔ اور جسے اللہ اپنی سنت کے اصولوں کے مطابق گمراہ کرتا ہے۔ وہ گمراہ ہوتا ہے۔ تو وہ ہمہ پہلو خسارے میں رہتا ہے اگرچہ وہ بظاہر مالدار نظر آئے۔ لیکن وہ خسارے میں ہوتا ہے ، کیونکہ اس کی دولت بےحقیقت ہوتی ہے ، محض ہوا ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس شخص نے اپنی ذات کو گنوا دیا ہے ، اور جس کی شخصیت گم ہوجائے ، اپنی ذات کو ہار جائے اسے کیا نفع ہوگا۔ مذکورہ بالا آیات کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ کہا ہے۔ اس کی تائید اگلی آیت سے بھی ہوتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Info

جسے اللہ ہدایت دے، سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور وہ جسے گمراہ کرے تو یہ لوگ ہیں نقصان میں پڑنے والے، اور تحقیق ہم نے پیدا کیا جہنم کے لیے بہت سے جنات کو اور بہت سے انسانوں کو، ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں، یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں، بلکہ یہ ان سے بڑھ کر بےراہ ہیں، ایسے لوگ غفلت والے ہی ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Info

176: یہ پہلے دعوے سے متعلق ہے یعنی آپ کی جرات و استقلال سے توحید کی تبلیغ کرتے رہیں۔ ہدایت اور گمراہی اللہ کے اختیار میں ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

Info

178 جس شخص کی اللہ تعالیٰ رہنمائی فرمائے تو وہی صحیح راہ پانے والا ہے اور جس کی رہنمائی سے وہ دست کش ہوجائے اور گمراہی میں چھوڑ دے تو ایسے ہی لوگ زیاں کار اور نقصان اٹھانے والے ہیں۔