TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Surat ul Mursilaat 77:28 – Tafaseer

The tafseer of Surat ul Mursilaat, verse 28, from every tafseer on this site - read one or compare them with each other.

وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۲۸﴾
Woe, that Day, to the deniers.
اس دن جھوٹ جاننے والوں کے لئے وائے اور افسوس ہے ۔
Bookmark
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Info

Woe that Day to the deniers! meaning, woe to whoever reflects upon these created things which demonstrate the greatness of their Creator, then after that continues to reject Him and disbelieve in Him.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Info
Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Info

[١٨] اسی طرح یہی زمین یا اس کے متبادل کوئی اللہ کی نئی پیدا کردہ زمین اپنے اندر مدفون تمام امانتوں اور بالخصوص انسانی مدوں کو اگل دے گی۔ پھر ان کو سنبھال کر بھی رکھے گی۔ آج جن لوگوں کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی اس دن ان کے لیے حسرت، ندامت اور تباہی ہی تباہی ہوگی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Info
Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Info
Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Info

وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ۝ ٢٨ ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا ظالِمِينَ [ الأنبیاء/ 46] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا طاغِينَ [ القلم/ 31] . ( و ی ل ) الویل اصمعی نے کہا ہے کہ ویل برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور حسرت کے موقع پر ویل اور تحقیر کے لئے ویس اور ترحم کے ویل کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ اور جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ویل جہنم میں ایک وادی کا نام ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ان پر افسوس ہے اس لئے کہ بےاصل باتیں اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور پھر ان پر افسوس ہے اس لئے کہ ایسے کام کرتے ہیں وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] اور کافروں کے لئے سخت عذاب کی جگہ خرابی ہے ۔ ۔ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] سو لوگ ظالم ہیں ان کی خرابی ہے ۔ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ناپ تول میں کمی کر نیوالا کے لئے کر ابی ہے ۔ وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغلخور کی خرابی ہے ۔ يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52]( اے ہے) ہماری خواب گا ہوں سے کسی نے ( جگا ) اٹھایا ۔ يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا ظالِمِينَ [ الأنبیاء/ 46] ہائے شامت بیشک ہم ظالم تھے ۔ يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا طاغِينَ [ القلم/ 31] ہائے شامت ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے ۔ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وہ دن بڑی مشکل کا دن ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یا ددلاؤ۔ میں ایام کی لفظ جلالت کی طرف اضافت تشریفی ہے اور ا یام سے وہ زمانہ مراد ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے فضلو انعام کے سمندر بہا دیئے تھے ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Info
Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Info
Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Info

آیت ٢٨ { وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ } ” (ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ “ ان تمام آیات میں تذکیر بآلاء اللہ کا انداز ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرتوں ‘ نعمتوں اور اس کے احسانات کے ذکر سے یاد دہانی کرائی جا رہی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Info

16 Here, this sentence signifies that the people who deny the coming of the Hereafter and regard it as impossible and irrational in spite of seeing these manifest signs of Allah's power and wisdom, may remain lost in their vain imaginations if they so like. But the Day when all this takes place against their expectations, they will realize that they have earned ruin on account of their own folly.

سورة الْمُرْسَلٰت حاشیہ نمبر :16 یہاں یہ فقرہ اس معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ جو لوگ خدا کی قدرت اور حکمت کے یہ کرشمے دیکھ کر بھی آخرت کے ممکن اور معقول ہونے کا انکار کر رہے ہیں اور اس بات کو جھٹلا رہے ہیں کہ خدا اس دنیا کے بعد ایک دوسری دنیا پیدا کرے گا اور اس میں انسان سے اس کے اعمال کا حساب لے گا ، وہ اپنی اس خام خیالی میں مگن رہنا چاہتے ہیں تو رہیں ۔ جس روز یہ سب کچھ ان کی توقعات کے خلاف پیش آ جائے گا اس روز انہیں پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے یہ حماقت کر کے خود اپنے لیے تباہی مول لی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Info
Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Info
Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Info

(77:28) ویل یؤمئذ للمکذین۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کیلئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Info
Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Info
Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Info
Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Info
Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Info
Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Info
Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Info
Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Info
Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

Info

(28) اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔