CHAPTER: Regarding The Sacrificial Animal Being Unable To Continue Traveling Before Reaching Makkah. - باب: ہدی کا جانور اپنے مقام ( مکہ ) پر پہنچنے سے پہلے ہلاک ہو جائے تو کیا کیا جائے ؟ - The rites of hajj (kitab al-manasik wa'l-hajj) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation
Chapter 18 of The rites of hajj (kitab al-manasik wa'l-hajj) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Narrated Najiyah al-Aslami: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent sacrificial camels with him (as offering to the Kabah). He then said: If any one of them becomes fatigued, slaughter it, dip its shoes in its blood, and leave it for the people (to eat).
ناجیہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہدی بھیجا اور فرمایا: اگر ان میں سے کوئی مرنے لگے تو اس کو نحر کر لینا پھر اس کی جوتی اسی کے خون میں رنگ کر اسے لوگوں کے واسطے چھوڑ دینا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج ۷۱ (۹۱۰)، سنن النسائی/الکبری /الأطعمة (۶۶۳۹)، سنن ابن ماجہ/المناسک ۱۰۱ (۳۱۰۶)، ( تحفة الأشراف: ۱۱۵۸۱)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ۴۷(۱۴۸)، مسند احمد (۴/۳۳۴)، سنن الدارمی/المناسک ۶۶ (۱۹۵۰) (صحیح)
Ibn Abbas said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent a man of al-Aslam tribe and sent with him eighteen sacrificial camels (as offering to Makkah). What do you think if any one of them becomes fatigued. He replied: You should sacrifice it then dye its shoe with its blood, then mark with it on its neck. But you or any of your companions should not eat out of it. Abu Dawud said: The following words of this tradition are not supported by any other tradition “You should not eat of it yourself nor any of your companions”. The version of Abdal Warith has the words “then hang it in its neck” instead of the words “mark or strike with it”. Abu Dawud said I heard Abu Salamah say if the chain of narrators and the meaning are correct, it is sufficient for you.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں اسلمی کو ہدی کے اٹھارہ اونٹ دے کر بھیجا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کوئی ( چلنے سے ) عاجز ہو جائے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے نحر کر دینا پھر اس کے جوتے کو اسی کے خون میں رنگ کر اس کی گردن کے ایک جانب چھاپ لگا دینا اور اس میں سے کچھ مت کھانا ۱؎ اور نہ ہی تمہارے ساتھ والوں میں سے کوئی کھائے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: «من أهل رفقتك» یعنی تمہارے رفقاء میں سے کوئی نہ کھائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالوارث کی حدیث میں «اضربها» کے بجائے «ثم اجعله على صفحتها» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے ابوسلمہ کو کہتے سنا: جب تم نے سند اور معنی درست کر لیا تو تمہیں کافی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج ۶۶ (۱۳۲۵)، سنن النسائی/الکبری /الحج (۴۱۳۶)، وانظر أیضا ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ۶۵۰۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۱۷، ۲۴۴، ۲۷۹) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : تاکہ یہ الزام نہ آئے کہ ہدی کے جانور کو کھانا چاہتا تھا، اس لئے نحر (ذبح) کر ڈالا۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sacrificed the camels, he sacrificed thirty of them with his own hand, and then commanded me (to sacrifice them), so I sacrificed the rest of them.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی کے اونٹوں کا نحر کیا تو اپنے ہاتھ سے تیس ( ۳۰ ) اونٹ نحر کئے پھر مجھے حکم دیا تو باقی سارے میں نے نحر کئے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ۱۰۲۲۱) (منکر) (یہ روایت صحیح مسلم کی روایت کے خلاف ہے جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (۶۳) اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کئے، باقی علی رضی اللہ عنہ نے کئے)