حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ أَأَشْتَرِطُ ؟ قَالَ: نَعَمْ ، قَالَتْ: فَكَيْفَ أَقُولُ ؟ قَالَ: قُولِي: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، وَمَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي .
Ibn Abbas said: Duba`ah, daughter of al-Zubair bin Abd al-Muttalib, came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم I want to perform Hajj; may I make a provision? He said Yes. She asked how should I say? He replied: Say “ Labbaik Allahumma Labbaik (I am at Thy service, Oh Allah, I am at Thy service). The place where I took off Ihram will be where Thou restrainest me. ”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں حج میں شرط لگانا چاہتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ( لگا سکتی ہو ) ، انہوں نے کہا: تو میں کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو! «لبيك اللهم لبيك، ومحلي من الأرض حيث حبستني» حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں، اور میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الحج ۱۷ (۹۴۱)، سنن النسائی/الحج ۶۰ (۲۷۶۷)، ( تحفة الأشراف: ۵۷۵۴، ۶۲۱۴، ۶۲۳۲)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ۱۵ (۱۲۰۸)، سنن ابن ماجہ/المناسک ۲۴ (۲۹۳۶)، مسند احمد (۱/۳۳۷، ۳۵۲)، سنن الدارمی/المناسک ۱۵ (۱۸۵۲) (حسن صحیح)
1776
Sahih