TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 746 سنن ابوداؤد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 11 in this chapter
CHAPTER:..
باب: جنہوں نے دو رکعت کے بعد اٹھتے وقت رفع یدین کرنے کا ذکر کیا ہے ان کا بیان ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْمَعْنَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِمْرَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ لَاحِقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَوْ كُنْتُ قُدَّامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَأَيْتُ إِبِطَيْهِ ، ‏‏‏‏‏‏زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَقُولُ لَاحِقٌ:‏‏‏‏ أَلَا تَرَى أَنَّهُ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَكُونَ قُدَّامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ وَزَادَ مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ يَعْنِي:‏‏‏‏ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ.
Narrated Abu Hurairah: If I were in front of the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم, I would see his armpits. Ibn Muadh added that Lahiq said: Do you not see, Abu Hurairah could not stand in front of the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم while he was praying. Musa added: When he uttered the takbir, he raised his hands.
بشیر بن نہیک کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہوتا تو ( رفع یدین کرتے وقت ) آپ کی بغل دیکھ لیتا۔ عبیداللہ بن معاذ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ لاحق ( ابومجلز ) کہتے ہیں: کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ نماز میں تھے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نہیں ہو سکتے تھے، ابوداؤد کے شیخ موسیٰ بن مروان رقی نے یہ اضافہ کیا یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تو رفع یدین کرتے۔
746
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 746 In-book reference : Book 2, Hadith 356 English translation : Book 3, Hadith 745
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/التطبیق ۵۱ (۱۱۰۸)، (تحفة الأشراف: ۱۲۲۱۵) (صحیح)

Related Chapters

265
1
آخری دونوں رکعتوں کے لیے اٹھتے وقت رفع یدین کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
2
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
Musnad Ahmad
3
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے قصے کا تذکرہ
Musnad Ahmad
4
(86) CHAPTER. To raise one's hands after finishing the second Raka (on standing for the third Raka).
( چار رکعت نماز میں ) قعدہ اولٰی سے اٹھنے کے بعد رفع یدین کرنا
Sahih Bukhari
5
Chapter: It Is Recommended To Raise The Hands Level With The Shoulders When Saying The Opening Takbir, When Bowing And When Rising From Bowing. But That Is Not To Be Done When Rising From The Prostration
تکبیرتحریمہ اور رکوع کی تکبیر کے ساتھ اور رکوع سے اٹھتے وقت کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھانا مستحب ہےاور یہ کہ جب (نمازی) سجدے سے سر اٹھائے تو رفع الیدین نہ کرے
Sahih Muslim
6
رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
7
رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
8
پہلے سجدہ سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
Chapter: Raising The Hands For the Bowing Position
باب: رکوع کے وقت دونوں ہاتھ اٹھانے (رفع یدین) کا بیان
Jam e Tirmazi
10
(84) CHAPTER. To raise both hands while saying Takbir [on opening As-Salat (the prayer)] , and while bowing and on raising up the head (after bowing).
رفع یدین تکبیر تحریمہ کے وقت ، رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت کرنا ( سنت ہے )
Sahih Bukhari
11
(143) CHAPTER. How to support oneself on the ground while standing after finishing the Raka (after the two prostrations)…
اس بارے میں کہ رکعت سے اٹھتے وقت زمین کا کس طرح سہارا لے
Sahih Bukhari
12
Chapter: Clarifying that it is better to enter Ihram when a person's mount sets off with him, heading towards Makkah, not straight after the two rak'ah
افضل ہے کہ (حج کے لیے جانے والا)احرام اس وقت باندھے جب سواری اسے لے کر کھڑی ہو جائے بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو‘نہ کہ دو رکعت ادا کرنے کے فورا بعد
Sahih Muslim
13
CHAPTER: Those Who Allowed These Two Rak’ahs To Be Prayed If The Sun Is Still High.
باب: ان لوگوں کی دلیل جنہوں نے سورج بلند ہو تو عصر کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کی اجازت دی ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
14
تکبیر تحریمہ کے بعد رفع یدین نہ کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
سجدہ کرتے وقت رفع یدین کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
16
سجدہ کرتے وقت رفع یدین نہ کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
دوسری رکعت سے اٹھتے وقت تکبیر کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
18
آخری دونوں رکعتوں کے لیے اٹھتے وقت دونوں ہاتھوں کو مونڈھوں تک اٹھانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
Chapter: What Has Been Related About The Imam Getting Up Forgetfully After Two Rak'ah
باب: امام دو رکعت کے بعد بیٹھنے کے بجائے بھول کر کھڑا ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Talking After The Two Rak'ah (Before) Fajr
باب: فجر کی دونوں رکعتوں کے بعد گفتگو کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About 'There Is No Salat After Fajr Begins Except For Two Rak'ah'
باب: طلوع فجر کے بعد سوائے فجر کی دو رکعت سنت کے کوئی نماز نہیں
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Two Rak'ah After Az-Zuhr
باب: ظہر کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Two Rak'ah After Al-Maghrib And The Recitation In Them
باب: مغرب کے بعد دو رکعت پڑھنے اور ان میں قرأت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Two Rak'ah After Isha
باب: عشاء کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Salat After Asr (And After Subh) Regarding One Who Performed Tawaf
باب: طواف کے بعد کی دو رکعت کو عصر کے بعد اور فجر کے بعد پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related Abut Raising The Hands For The Funeral (Prayer)
باب: نماز جنازہ میں رفع یدین کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Giving The Salam When Standing And [When] Sitting
باب: مجلس میں بیٹھتے اور اس سے اٹھتے وقت سلام کرنا
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What One Says When Getting Up From His Sitting
باب: مجلس سے اٹھتے وقت کیا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
30
عصر کے بعد مزید دو رکعت نماز پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
31
اسی باب کی ایک فصل اس شخص کی دلیل کے متعلق جس کے خیال کے مطابق تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں ہے
Musnad Ahmad
32
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
33
عصر کے بعد دو رکعتوں کا بیان
Musnad Ahmad
34
مسافر کے سفر سے لوٹنے کے آداب اور اس کا رات کے وقت گھر میں واپس نہ آنا اور (واپس آکر) دو رکعتیں پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
35
عیدین، دس دنوں اور ایام تشریق میں ذکر کرنے، اطاعت کے کام کرنے اور تکبیرات کہنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
36
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
Musnad Ahmad
37
ان خواتین کا تذکرہ جن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کیا،یا جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ہبہ کر دیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ خلوت اختیار نہیں کییا وہ خواتین کہ جن سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نکاح کا وعدہ کیا
Musnad Ahmad
38
(69) CHAPTER. The Prophet offered a two Raka prayer after his seven round (of Tawaf of the Kabah).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طواف کے ساتھ چکروں کے بعد دو رکعتیں پڑھنا
Sahih Bukhari
39
Chapter: Affirming The Takbir For Every Movement Up Or Down In The Prayer, Except When Rising From Ruku' When One Should Say: Sami'aAllahu Liman Hamidah (Allah Hears Those Who Praise Him)
نماز میں ہر بار جھکتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنا ثابت ہے، سوائے رکوع سے سر اٹھانے کے، وہاں صرف سمع الله لمن حمده کہا جائے گا
Sahih Muslim
40
دو رکعتیں جو نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ عصر کے بعد پڑھا کرتے تھے
Sahih Muslim
41
CHAPTER: About The Imam Breaking His Wudu’ After He Rises (From The Prostration) During The Last Rak’ah.
باب: آخری رکعت کے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد امام کا وضو ٹوٹ جائے تو کیا حکم ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
42
CHAPTER: Raising The Hands In The Prayer.
باب: نماز میں رفع یدین ( دونوں ہاتھ اٹھانے ) کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: Shorting The Last Two Rak’ah.
باب: بعد کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: Whoever Said The Doubt Should Be Ignored When One Is Confused Regarding (Whether He Has Prayed) Two Or Three Rak’ah.
باب: جب دو یا تین رکعت میں شک ہو جائے تو شک کو دور کرے ( اور کم کو اختیار کرے ) اس کے قائلین کی دلیل کا ذکر ۔
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: Whoever Said That The Imam Should Lead Every Group In One Rak’ah, Then Say The Taslim And Every Group Should Stand Up And Pray One Rak’ah By Themselves.
باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ہر ٹکڑی کو ایک رکعت پڑھائے پھر وہ سلام پھیر دے اس کے بعد ہر صف کے لوگ کھڑے ہوں اور خود سے اپنی اپنی ایک رکعت ادا کریں ۔
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: The Four Rak’ahs Before And After Dhuhr.
باب: ظہر سے پہلے اور اس کے بعد کی چار رکعت سنت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
47
CHAPTER: Regarding Whoever Reported That He Is Not Asked To Work.
باب: جنہوں نے اس حدیث میں محنت کرانے کا ذکر نہیں کیا ان کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
48
جس کی ظہر کے بعد کی دو رکعت سنت چھوٹ جائے اس کے حکم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
49
ظہر سے پہلے اور اس کے بعد چار چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
50
مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

403
Sunnan Abu Dawood
1412
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ الْمَعْنَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا السُّورَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ:‏‏‏‏ فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اتَّفَقَا، ‏‏‏‏‏‏فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ حَتَّى لَا يَجِدَ أَحَدُنَا مَكَانًا لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ .
Narrated Ibn Umar: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم would recite to us a surah (according to the version of Ibn Numair) outside the prayer (the agreed version goes), then he would prostrate along with him, and none of us could find a place for his forehead.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سورۃ پڑھ کر سناتے ( ابن نمیر کی روایت میں ہے ) نماز کے علاوہ میں ( آگے یحییٰ بن سعید اور ابن نمیر سیاق حدیث میں متفق ہیں ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( سجدہ کی آیت آنے پر ) سجدہ کرتے، ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں سے بعض کو اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ مل پاتی ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
1232
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏ وَوَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ:‏‏‏‏ لَمَّا ثَقُلَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ تَعْنِي:‏‏‏‏ رَقِيقٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَتَى مَا يَقُومُ مَقَامَكَ يَبْكِي، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَسْتَطِيعُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَأَرْسَلْنَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَوْمَى إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَاءَ حَتَّى أَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ .
It was narrated that ‘Aishah said: “When the Messenger of Allah (ﷺ) fell ill with the sickness that would be his last” – (One of the narrators) Abu Mu’awiyah said: “When he was overcome by sickness” – “Bilal came to tell him that it was time for prayer. He said, ‘Tell Abu Bakr to lead the people in prayer.’ We said: ‘O Messenger of Allah! Abu Bakr is a tender-hearted man, and when he takes your place he will weep and not be able to do it. Why do you not tell ‘Umar to lead the people in prayer?’ He said: ‘Tell Abu Bakr to lead the people in prayer; you are (like) the female companions of Yusuf.’” She said: “So we sent word to Abu Bakr, and he led the people in prayer. Then the Messenger of Allah (ﷺ) began to feel a little better, so he came out to the prayer, supported by two men with his feet making lines along the ground. When Abu Bakr realized that he was there, he wanted to step back, but the Prophet (ﷺ) gestured to him to stay where he was. Then (the two men) brought him to sit beside Abu Bakr, and Abu Bakr was following the lead of the Prophet (ﷺ) and the people were following Abu Bakr.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہوئے ( ابومعاویہ نے کہا: جب آپ مرض کی گرانی میں مبتلا ہوئے ) تو بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے، اور نماز نہ پڑھا سکیں گے، لہٰذا اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، ( تو بہتر ہو ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف ( علیہ السلام ) کے ساتھ والیوں جیسی ہو ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں کے سہارے نماز کے لیے نکلے، اور آپ کے پاؤں زمین پہ گھسٹ رہے تھے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی آہٹ محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو ان دونوں آدمیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں پہلو میں بیٹھا دیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے۔
Jam e Tirmazi
256
قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وأبي هريرةَ، ‏‏‏‏‏‏وأبي حُمْيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأبي أُسَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وسَهْلِ بن سعدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وأبي قتادةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأبي موسى الأشعري، ‏‏‏‏‏‏وجابرِ، ‏‏‏‏‏‏وعُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهَذَا يَقُولُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مِنْهُمْ ابْنُ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَأَبُو هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٌ وَابْنُ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنَ التَّابِعِينَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ،‏‏‏‏ وَعَطَاءٌ،‏‏‏‏ وَطَاوُسٌ،‏‏‏‏ وَمُجَاهِدٌ،‏‏‏‏ وَنَافِعٌ،‏‏‏‏ وَسَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَغَيْرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَالِكٌ،‏‏‏‏ وَمَعْمَرٌ،‏‏‏‏ وَالْأَوْزَاعِيُّ،‏‏‏‏ وَابْنُ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ:‏‏‏‏ قَدْ ثَبَتَ حَدِيثُ مَنْ يَرْفَعُ يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَذَكَرَ حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الْآمُلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يَرَى رَفْعَ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ مَعْمَرٌ يَرَى رَفْعَ الْيَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ وسَمِعْت الْجَارُودَ بْنَ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ وَعُمَرُ بْنُ هَارُونَ،‏‏‏‏ وَالنَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِذَا افْتَتَحُوا الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعُوا وَإِذَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ.
Salim narrated: Same as 255 (above) with a different chain
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، وائل بن حجر، مالک بن حویرث، انس، ابوہریرہ، ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ، ابوقتادۃ، ابوموسیٰ اشعری، جابر اور عمیر لیثی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہی صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم جن میں ابن عمر، جابر بن عبداللہ، ابوہریرہ، انس، ابن عباس، عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم وغیرہ شامل ہیں اور تابعین میں سے حسن بصری، عطاء، طاؤس، مجاہد، نافع، سالم بن عبداللہ، سعید بن جبیر وغیرہ کہتے ہیں، اور یہی مالک، معمر، اوزاعی، ابن عیینہ، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۴- عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: جو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہیں ان کی حدیث ( دلیل ) صحیح ہے، پھر انہوں نے بطریق زہری روایت کی ہے، ۵- اور ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے“ والی ثابت نہیں ہے، ۶- مالک بن انس نماز میں رفع یدین کو صحیح سمجھتے تھے، ۷- عبدالرزاق کا بیان ہے کہ معمر بھی نماز میں رفع یدین کو صحیح سمجھتے تھے، ۸- اور میں نے جارود بن معاذ کو کہتے سنا کہ ”سفیان بن عیینہ، عمر بن ہارون اور نضر بن شمیل اپنے ہاتھ اٹھاتے جب نماز شروع کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے“۔
Sahih Muslim
112
وحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ السُّلَمِيُّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ، عَلَى أَنْ يُعْبَدَ اللهُ، وَيُكْفَرَ بِمَا دُونَهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ»
It is narrated on the authority of ('Abdullah) son of 'Umar, that the Prophet (may peace of Allah be upon him) said: (The superstructure of) al-Islam is raised on five (pillars), i. e. Allah (alone) should be worshipped, and (all other gods) beside Him should be (categorically) denied. Establishment of prayer, the payment of Zakat, Pilgrimage to the House, and the fast of Ramadan (are the other obligatory acts besides the belief in the oneness of Allah and denial of all other gods).
یحییٰ بن زکریا نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے سعد بن طارق ( ابو مالک اشجعی ) نے حدیث بیان کی ۔ وہ حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے فرمایا : ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس پر کہ اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے سوا ہر کسی کی عبادت سے انکار کیا جائے ، نماز قائم کرنے ، زکاۃ دینے ، بیت اللہ کاحج کرنے اور رمضان کے روزے رکھنے پر
Sahih Muslim
115
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَقَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا، وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، فَلَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الْإِيمَانِ بِاللهِ ، ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ، فَقَالَ: «شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنَّ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ» زَادَ خَلَفٌ فِي رِوَايَتِهِ: «شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ»، وَعَقَدَ وَاحِدَةً
It is narrated on the authority of Ibn 'Abbas that a delegation of Abdul Qais came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Messenger of Allah, verily ours is a tribe of Rabi'a and there stand between you and us the unbelievers of Mudar and we find no freedom to come to you except in the sacred month. Direct us to an act which we should ourselves perform and invite those who live beside us. Upon this the Prophet remarked: I command you to do four things and prohibit you against four acts. (The four deeds which you are commanded to do are): Faith in Allah, and then he explained it for them and said: Testifying the fact. that there is no god but Allah, that Muhammad is the messenger of Allah, performance of prayer, payment of Zakat, that you pay Khums (one-fifth) of the booty fallen to your lot, and I prohibit you to use round gourd, wine jars, wooden pots or skins for wine. Khalaf b. Hisham has made this addition in his narration: Testifying the fact that there is no god but Allah, and then he with his finger pointed out the oneness of the Lord.
خلف بن ہشام نے بیان کیا ( کہا ) ہمیں حماد بن زید نے ابو جمرہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ( الفاظ انہی کے ہیں ) ہمیں عباد بن عباد نے ابو جمرہ سے خبر دی کہ حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہﷺ کی خدمت میں عبدالقیس کا وفد آیا ۔ وہ ( لوگ ) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! ہم لوگ ( یعنی ) بنو ربیعہ کا یہ قبیلہ ہے ۔ ہمارے اور آپ کے درمیان ( قبیلہ ) مضر کے کافر حائل ہیں اور ہم حرمت والے مہینے کے سوا بحفاظت آپ تک نہیں پہنچ سکتے ، لہٰذا آپ ہمیں وہ حکم دیجیے جس پر خود بھی عمل کریں اور جو پیچھے ہیں ان کو بھی اس کی دعوت دیں ۔ آپﷺ نے فرمایا : ’’ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں : ( جن کا حکم دیتا ہوں وہ ہیں : ) ’’اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ‘ ‘ پھر آپ نے ان کے سامنے ایمان باللہ کی وضاحت کی ، فرمایا : ’’ اس حقیقت کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدﷺ بالیقین اللہ کے رسول ہیں ۔ نماز قائم کرنا ، زکاۃ ادا کرنا اور جومال غنیمت تمہیں حاصل ہو ، اس میں سے خمس ( پانچواں حصہ ) ادا کرنا ۔ اور میں تمہیں روکتا ہوں کدو کے برتن ، سبز گھڑے ، لکڑی کے اندر سے کھود کر ( بنائے ہوئے ) برتن اور ا یسے برتنوں کے استعمال سے جن پر تارکول ملا گیا ہو ۔ ‘ ‘ خلف نےاپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : ’’ اس ( سچائی ) کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ ‘ ‘ اسے انہوں نےانگلی کے اشارے سے ایک شمار کیا ۔
Sunnan Abu Dawood
165
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ الْمَعْنَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مَحْمُودٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَسَحَ أَعْلَى الْخُفَّيْنِ وَأَسْفَلَهُمَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَبَلَغَنِي أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ ثَوْرُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَجَاءٍ.
Narrated Al-Mughirah ibn Shubah: I poured water while the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم performed ablution in the battle of Tabuk. He wiped over the upper part of the socks and their lower part. Abu Dawud said: I have been told that Thawr did not hear this tradition from Raja'.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ تبوک میں وضو کرایا، تو آپ نے دونوں موزوں کے اوپر اور ان کے نیچے مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ثور نے یہ حدیث رجاء بن حیوۃ سے نہیں سنی ہے۔
Sunnan Abu Dawood
188
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ الْمَعْنَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مِسْعَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَخْرَةَ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ضِفْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ ؟ وَقَامَ يُصَلِّ ، ‏‏‏‏‏‏زَادَ الْأَنْبَارِيُّ:‏‏‏‏ وَكَانَ شَارِبِي وَفَى فَقَصَّهُ لِي عَلَى سِوَاكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ.
Narrated Al-Mughirah ibn Shubah: One night I became the guest of the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. He ordered that a piece of mutton be roasted, and it was roasted. He then took a knife and began to cut the meat with it for me. In the meantime Bilal came and called him for prayer. He threw the knife and said: What happened! may his hands be smeared with earth! He then stood for offering prayer. Al-Anbari added: My moustaches became lengthy. He trimmed them by placing a took-stick; or he said: I shall trim your moustaches by placing the tooth-stick there. Al-Anbari said: My moustaches became lengthy. He trimmed them by placing a tooth-stick ; or he said: I shall trim your moustaches by placing the tooth-stick there.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
Sunnan Abu Dawood
362
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَاحَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏بِهَذَا الْمَعْنَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حُتِّيهِ ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ ثُمَّ انْضَحِيهِ.
This tradition has been transmitted by Hisham through a different chain of narrators to the same effect: Rub it off (with a stone), and then scratch it (with finger) by pouring water, then sprinkle water upon it.
اس سند سے بھی ہشام سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے رگڑو پھر پانی سے کھرچ دو اور پھر اسے دھو ڈالو ۔
Sunnan Abu Dawood
385
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ. ح وحَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي أَبِي. ح وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ الْمَعْنَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُنْبِئْتُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّحَدَّثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمْ بِنَعْلِهِ الْأَذَى، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ التُّرَابَ لَهُ طَهُورٌ .
Abu Hurairah reported: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: When any one of you treads with his sandal upon an unclean place, the earth will render it purified.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے جوتے سے نجاست روندے تو ( اس کے بعد کی ) مٹی اس کو پاک کر دے گی ۱؎ ۔