TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of al- maghazi. - کتاب غزوات کے بیان میں - Book 65 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 65 of Sahih Bukhari, with 78 chapters and 525 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

525 Hadith · 78 Chapters
(62) CHAPTER. The sending Ali bin Abi Talib and Khalid bin Al-Walid Yemen before Hajjat-al-Wada'.
حجۃالوداع سے پہلے علی بنابیطالب اور خالدبنولید رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ،سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى الْيَمَنِ ، قَالَ : ثُمَّ بَعَثَ عَلِيًّا بَعْدَ ذَلِكَ مَكَانَهُ ، فَقَالَ : مُرْ أَصْحَابَ خَالِدٍ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ أَنْ يُعَقِّبَ مَعَكَ فَلْيُعَقِّبْ ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُقْبِلْ ، فَكُنْتُ فِيمَنْ عَقَّبَ مَعَهُ ، قَالَ : فَغَنِمْتُ أَوَاقٍ ذَوَاتِ عَدَدٍ .
Narrated Al-Bara: Allah's Apostle sent us to Yemen along with Khalid bin Al-Walid. Later on he sent `Ali bin Abi Talib in his place. The Prophet said to `Ali, Give Khalid's companions the choice of either staying with you (in Yemen) or returning to Medina. I was one of those who stayed with him (i.e. `Ali) and got several Awaq (of gold from the war booty.
مجھ سے احمد بن عثمان بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف بن اسحاق بن ابی اسحاق نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن بھیجا، بیان کیا کہ پھر اس کے بعد ان کی جگہ علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے انہیں ہدایت کی کہ خالد کے ساتھیوں سے کہو کہ جو ان میں سے تمہارے ساتھ یمن میں رہنا چاہے وہ تمہارے ساتھ پھر یمن کو لوٹ جائے اور جو وہاں سے واپس آنا چاہے وہ چلا آئے۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو یمن کو لوٹ گئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے غنیمت میں کئی اوقیہ چاندی کے ملے تھے۔
4349
Sahih
(62) CHAPTER. The sending Ali bin Abi Talib and Khalid bin Al-Walid Yemen before Hajjat-al-Wada'.
حجۃالوداع سے پہلے علی بنابیطالب اور خالدبنولید رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدٍ لِيَقْبِضَ الْخُمُسَ ، وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا وَقَدِ اغْتَسَلَ ، فَقُلْتُ لِخَالِدٍ : أَلَا تَرَى إِلَى هَذَا ؟ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : يَا بُرَيْدَةُ ، أَتُبْغِضُ عَلِيًّا ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : لَا تُبْغِضْهُ ، فَإِنَّ لَهُ فِي الْخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ .
Narrated Buraida: The Prophet sent `Ali to Khalid to bring the Khumus (of the booty) and I hated `Ali, and `Ali had taken a bath (after a sexual act with a slave-girl from the Khumus). I said to Khalid, Don't you see this (i.e. `Ali)? When we reached the Prophet I mentioned that to him. He said, O Buraida! Do you hate `Ali? I said, Yes. He said, Do you hate him, for he deserves more than that from the Khumlus.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن سوید بن منجوف نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے اور ان سے ان کے والد (بریدہ بن حصیب) نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جگہ علی رضی اللہ عنہ کو ( یمن ) بھیجا تاکہ غنیمت کے خمس ( پانچواں حصہ ) کو ان سے لے آئیں۔ مجھے علی رضی اللہ عنہ سے بہت بغض تھا اور میں نے انہیں غسل کرتے دیکھا تھا۔ میں نے خالد رضی اللہ عنہ سے کہا تم دیکھتے ہو علی رضی اللہ عنہ نے کیا کیا ( اور ایک لونڈی سے صحبت کی ) پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے آپ سے بھی اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ( بریدہ ) کیا تمہیں علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بغض ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا علی سے دشمنی نہ رکھنا کیونکہ خمس ( غنیمت کے پانچویں حصے ) میں اس سے بھی زیادہ حق ہے۔
4350
Sahih
(62) CHAPTER. The sending Ali bin Abi Talib and Khalid bin Al-Walid Yemen before Hajjat-al-Wada'.
حجۃالوداع سے پہلے علی بنابیطالب اور خالدبنولید رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا ، قَالَ : فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ بَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ ، وَأَقْرَعَ بْنِ حابِسٍ ، وَزَيْدِ الْخَيْلِ ، وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ : كُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهَذَا مِنْ هَؤُلَاءِ ، قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَلَا تَأْمَنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ ، يَأْتِينِي خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً ؟ قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ ، نَاشِزُ الْجَبْهَةِ ، كَثُّ اللِّحْيَةِ ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ ، مُشَمَّرُ الْإِزَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اتَّقِ اللَّهَ ، قَالَ : وَيْلَكَ ، أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ ، قَالَ : ثُمَّ وَلَّى الرَّجُلُ ، قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ ؟ قَالَ : لَا ، لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ يُصَلِّي ، فَقَالَ خَالِدٌ : وَكَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ ، وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ ، قَالَ : ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُقَفٍّ ، فَقَالَ : إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ رَطْبًا لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، وَأَظُنُّهُ قَالَ : لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ .
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: `Ali bin Abi Talib sent a piece of gold not yet taken out of its ore, in a tanned leather container to Allah's Apostle . Allah's Apostle distributed that amongst four Persons: 'Uyaina bin Badr, Aqra bin H`Abis, Zaid Al-Khail and the fourth was either Alqama or Amir bin at-Tufail. On that, one of his companions said, We are more deserving of this (gold) than these (persons). When that news reached the Prophet , he said, Don't you trust me though I am the truth worthy man of the One in the Heavens, and I receive the news of Heaven (i.e. Divine Inspiration) both in the morning and in the evening? There got up a man with sunken eyes, raised cheek bones, raised forehead, a thick beard, a shaven head and a waist sheet that was tucked up and he said, O Allah's Apostle! Be afraid of Allah. The Prophet said, Woe to you! Am I not of all the people of the earth the most entitled to fear Allah? Then that man went away. Khalid bin Al-Wahd said, O Allah's Apostle! Shall I chop his neck off? The Prophet said, No, for he may offer prayers. Khalid said, Numerous are those who offer prayers and say by their tongues (i.e. mouths) what is not in their hearts. Allah's Apostle said, I have not been ordered (by Allah) to search the hearts of the people or cut open their bellies. Then the Prophet looked at him (i.e. that man) while the latter was going away and said, From the offspring of this (man there will come out (people) who will recite the Qur'an continuously and elegantly but it will not exceed their throats. (They will neither understand it nor act upon it). They would go out of the religion (i.e. Islam) as an arrow goes through a game's body. I think he also said, If I should be present at their time I would kill them as the nations a Thamud were killed.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع بن شبرمہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی نعیم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ یمن سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیری کے پتوں سے دباغت دئیے ہوئے چمڑے کے ایک تھیلے میں سونے کے چند ڈلے بھیجے۔ ان سے ( کان کی ) مٹی بھی ابھی صاف نہیں کی گئی تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سونا چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا۔ عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ رضی اللہ عنہم تھے یا عامر بن طفیل رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے اس پر کہا کہ ان لوگوں سے زیادہ ہم اس سونے کے مستحق تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ اس اللہ نے مجھ پر اعتبار کیا ہے جو آسمان پر ہے اور اس کی جو آسمان پر ہے وحی میرے پاس صبح و شام آتی ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، دونوں رخسار پھولے ہوئے تھے، پیشانی بھی ابھری ہوئی تھی، گھنی داڑھی اور سر منڈا ہوا، تہبند اٹھائے ہوئے تھا، کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! اللہ سے ڈرئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس تجھ پر، کیا میں اس روئے زمین پر اللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں؟ راوی نے بیان کیا پھر وہ شخص چلا گیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کیوں نہ اس شخص کی گردن مار دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں شاید وہ نماز پڑھتا ہو اس پر خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بہت سے نماز پڑھنے والے ایسے ہیں جو زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کے دل میں وہ نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا حکم نہیں ہوا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کھوج لگاؤں اور نہ اس کا حکم ہوا کہ ان کے پیٹ چاک کروں۔ راوی نے کہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( منافق ) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے وہ لوگ اس طرح نکل چکے ہوں گے جیسے تیر جانور کے پار نکل جاتا ہے اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں ان کے دور میں ہوا تو ثمود کی قوم کی طرح ان کو بالکل قتل کر ڈالوں گا۔
4351
Sahih
(62) CHAPTER. The sending Ali bin Abi Talib and Khalid bin Al-Walid Yemen before Hajjat-al-Wada'.
حجۃالوداع سے پہلے علی بنابیطالب اور خالدبنولید رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ عَطَاءٌ ، قَالَ جَابِرٌ : أَمَر النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا أَنْ يُقِيمَ عَلَى إِحْرَامِهِ ، زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ عَطَاءٌ : قَالَ جَابِرٌ : فَقَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِسِعَايَتِهِ ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِمَ أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ ؟ قَالَ : بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ ، قَالَ : وَأَهْدَى لَهُ عَلِيٌّ هَدْيًا .
Narrated 'Ata: Jabir said, The Prophet ordered `Ali to keep the state of Ihram. Jabir added, Ali bin Abi Talib returned (from Yemen) when he was a governor (of Yemen). The Prophet said to him, 'With what intention have you assumed the state of Ihram?' `Ali said, I have assumed Ihram with an intention as that of the Prophet. Then the Prophet said (to him), 'Offer a Hadi and keep the state of Ihram in which you are now.' `Ali slaughtered a Hadi on his behalf.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے کہ عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے ( جب وہ یمن سے مکہ آئے ) فرمایا تھا کہ وہ اپنے احرام پر باقی رہیں۔ محمد بن بکر نے ابن جریج سے اتنا بڑھایا کہ ان سے عطاء نے بیان کیا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا علی رضی اللہ عنہ اپنی ولایت ( یمن ) سے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ علی! تم نے احرام کس طرح باندھا ہے؟ عرض کیا کہ جس طرح احرام آپ نے باندھا ہو۔ فرمایا پھر قربانی کا جانور بھیج دو اور جس طرح احرام باندھا ہے، اسی کے مطابق عمل کرو۔ بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قربانی کے جانور لائے تھے۔
4352
Sahih
(62) CHAPTER. The sending Ali bin Abi Talib and Khalid bin Al-Walid Yemen before Hajjat-al-Wada'.
حجۃالوداع سے پہلے علی بنابیطالب اور خالدبنولید رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ ، أَنَّهُ ذَكَرَ لِابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ ، فَقَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَأَهْلَلْنَا بِهِ مَعَهُ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ : مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً ، وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ ، فَقَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ الْيَمَنِ حَاجًّا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِمَ أَهْلَلْتَ ، فَإِنَّ مَعَنَا أَهْلَكَ ؟ قَالَ : أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَمْسِكْ ، فَإِنَّ مَعَنَا هَدْيًا .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet assumed the state of Ihram for Umra and Hajj, and we to assumed it for Hajj with him. When we arrived at Mecca, the Prophet said, Whoever does not possess a Hadi should regard his Ihram for Umra only. The Prophet had a Hadi with him. `Ali bin Abi Talib came to us from Yemen with the intention of performing Hajj. The Prophet said (to him), With what intention have you assumed the Ihram, for your wife is with us? `Ali said, I assumed the lhram with the same intention as that of the Prophet . The Prophet said, Keep on the state of lhram, as we have got the Hadi.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے، کہا ہم سے بکر بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا تھا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ حج ہی کا احرام باندھا تھا۔ پھر ہم جب مکہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ کا احرام کر لے ( اور طواف اور سعی کر کے احرام کھول دے ) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کا جانور تھا۔ پھر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یمن سے لوٹ کر حج کا احرام باندھ کر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم نے کس طرح احرام باندھا ہے؟ ہمارے ساتھ تمہاری زوجہ فاطمہ بھی ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اسی طرح کا احرام باندھا ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنے احرام پر قائم رہو، کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کا جانور ہے۔
4353
Sahih
(62) CHAPTER. The sending Ali bin Abi Talib and Khalid bin Al-Walid Yemen before Hajjat-al-Wada'.
حجۃالوداع سے پہلے علی بنابیطالب اور خالدبنولید رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ ، أَنَّهُ ذَكَرَ لِابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ ، فَقَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَأَهْلَلْنَا بِهِ مَعَهُ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ : مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً ، وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيٌ ، فَقَدِمَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ الْيَمَنِ حَاجًّا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِمَ أَهْلَلْتَ ، فَإِنَّ مَعَنَا أَهْلَكَ ؟ قَالَ : أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَمْسِكْ ، فَإِنَّ مَعَنَا هَدْيًا .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet assumed the state of Ihram for Umra and Hajj, and we to assumed it for Hajj with him. When we arrived at Mecca, the Prophet said, Whoever does not possess a Hadi should regard his Ihram for Umra only. The Prophet had a Hadi with him. `Ali bin Abi Talib came to us from Yemen with the intention of performing Hajj. The Prophet said (to him), With what intention have you assumed the Ihram, for your wife is with us? `Ali said, I assumed the lhram with the same intention as that of the Prophet . The Prophet said, Keep on the state of lhram, as we have got the Hadi.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے، کہا ہم سے بکر بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا تھا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ حج ہی کا احرام باندھا تھا۔ پھر ہم جب مکہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ کا احرام کر لے ( اور طواف اور سعی کر کے احرام کھول دے ) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کا جانور تھا۔ پھر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یمن سے لوٹ کر حج کا احرام باندھ کر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم نے کس طرح احرام باندھا ہے؟ ہمارے ساتھ تمہاری زوجہ فاطمہ بھی ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اسی طرح کا احرام باندھا ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنے احرام پر قائم رہو، کیونکہ ہمارے ساتھ قربانی کا جانور ہے۔
4354
Sahih
(63) CHAPTER. Ghazwa Dhul-Khalasa.
غزوہ ذوالخلصہ کا بیان
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا بَيَانٌ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : كَانَ بَيْتٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، يُقَالُ لَهُ : ذُو الْخَلَصَةِ ، وَالْكَعْبَةُ الْيَمانِيَةُ ، وَالْكَعْبَةُ الشَّأْمِيَّةُ ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ، فَنَفَرْتُ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ رَاكِبًا فَكَسَرْنَاهُ ، وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَدَعَا لَنَا وَلِأَحْمَسَ .
Narrated Jarir: In the Pre-lslamic Period of Ignorance there was a house called Dhu-l-Khalasa or Al-Ka`ba Al- Yamaniya or Al-Ka`ba Ash-Shamiya. The Prophet said to me, Won't you relieve me from Dhu-l- Khalasa? So I set out with one-hundred-and-fifty riders, and we dismantled it and killed whoever was present there. Then I came to the Prophet and informed him, and he invoked good upon us and Al- Ahmas (tribe) .
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے بیان کیا، ان سے بیان بن بشر نے بیان کیا، ان سے قیس نے اور ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذوالخلصہ سے مجھے کیوں نہیں بےفکری دلاتے! میں نے عرض کیا میں حکم کی تعمیل کروں گا۔ چنانچہ قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو ساتھ لے کر میں روانہ ہوا۔ یہ سب اچھے سوار تھے، لیکن میں سواری اچھی طرح نہیں کر پاتا تھا۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا جس کا اثر میں نے اپنے سینہ میں دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔
4355
Sahih
(63) CHAPTER. Ghazwa Dhul-Khalasa.
غزوہ ذوالخلصہ کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، قَالَ : قَالَ لِي جَرِيرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ؟ ، وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى الْكَعْبَةَ الْيَمانِيَةَ ، فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ ، وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ ، فَضَرَبَ فِي صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ أَصَابِعِهِ فِي صَدْرِي ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَكَسَرَهَا ، وَحَرَّقَهَا ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ جَرِيرٍ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ ، قَالَ : فَبَارَكَ فِي خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ .
Narrated Qais: Jarir said to me, The Prophet said to me, Won't you relieve me from Dhu-l-Khalasa? And that was a house (in Yemem belonging to the tribe of) Khatham called Al-Ka`ba Al Yamaniya. I proceeded with one-hundred and-fifty cavalry from Ahmas (tribe) who were horse riders. I used not to sit firm on horses, so the Prophet stroke me over my chest till I saw the mark of his fingers over my chest, and then he said, 'O Allah! Make him (i.e. Jarir) firm and one who guides others and is guided on the right path. So Jarir proceeded to it dismantled and burnt it, and then sent a messenger to Allah's Apostle. The messenger of Jarir said (to the Prophet), By Him Who sent you with the Truth, I did not leave that place till it was like a scabby camel. The Prophet blessed the horses of Ahmas and their men five times.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعد قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا، کہا مجھ سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے ذوالخلصہ سے کیوں نہیں بےفکر کرتے؟ یہ قبیلہ خثعم کا ایک بت خانہ تھا۔ اسے کعبہ یمانیہ بھی کہتے تھے۔ چنانچہ میں ڈیڑھ سو قبیلہ احمس کے سواروں کو لے کر روانہ ہوا۔ یہ سب اچھے شہسوا ر تھے۔ مگر میں گھوڑے کی سواری اچھی طرح نہیں کر سکتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا یہاں تک کہ میں نے آپ کی انگلیوں کا اثر اپنے سینے میں پایا۔ پھر آپ نے دعا کی کہ اے اللہ! اسے گھوڑے کا اچھا سوار بنا دے اور اسے راستہ بتلانے والا اور خود راستہ پایا ہوا بنا دے۔ پھر وہ اس بت خانے کی طرف روانہ ہوئے اور اسے ڈھا کر اس میں آگ لگا دی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اطلاع بھیجی۔ جریر کے ایلچی نے آ کر عرض کیا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، میں اس وقت تک آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے نہیں چلا جب تک وہ خارش زدہ اونٹ کی طرح جل کر ( سیاہ ) نہیں ہو گیا۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے گھوڑوں اور لوگوں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی۔
4356
Sahih
(63) CHAPTER. Ghazwa Dhul-Khalasa.
غزوہ ذوالخلصہ کا بیان
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى ، فَانْطَلَقْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ ، وَكَانُوا أَصْحَابَ خَيْلٍ ، وَكُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَضَرَبَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ يَدِهِ فِي صَدْرِي ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا ، قَالَ : فَمَا وَقَعْتُ عَنْ فَرَسٍ بَعْدُ ، قَالَ : وَكَانَ ذُو الْخَلَصَةِ بَيْتًا بِالْيَمَنِ لِخَثْعَمَ وَبَجِيلَةَ ، فِيهِ نُصُبٌ تُعْبَدُ ، يُقَالُ لَهُ : الْكَعْبَةُ ، قَالَ : فَأَتَاهَا ، فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ وَكَسَرَهَا ، قَالَ : وَلَمَّا قَدِمَ جَرِيرٌ الْيَمَنَ كَانَ بِهَا رَجُلٌ يَسْتَقْسِمُ بِالْأَزْلَامِ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَا هُنَا ، فَإِنْ قَدَرَ عَلَيْكَ ضَرَبَ عُنُقَكَ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا هُوَ يَضْرِبُ بِهَا إِذْ وَقَفَ عَلَيْهِ جَرِيرٌ ، فَقَالَ : لَتَكْسِرَنَّهَا ، وَلَتَشْهَدَنَّ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَوْ لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَكَ ، قَالَ : فَكَسَرَهَا وَشَهِدَ ، ثُمَّ بَعَثَ جَرِيرٌ رَجُلًا مِنْ أَحْمَسَ يُكْنَى أَبَا أَرْطَاةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ بِذَلِكَ ، فَلَمَّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ ، قَالَ : فَبَرَّكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ .
Narrated Qais: Jarir said Allah's Apostle said to me, Won't you relieve me from Dhul-Khalasa? I replied, Yes, (I will relieve you). So I proceeded along with one-hundred and fifty cavalry from Ahmas tribe who were skillful in riding horses. I used not to sit firm over horses, so I informed the Prophet of that, and he stroke my chest with his hand till I saw the marks of his hand over my chest and he said, O Allah! Make him firm and one who guides others and is guided (on the right path).' Since then I have never fallen from a horse. Dhul-l--Khulasa was a house in Yemen belonging to the tribe of Khatham and Bajaila, and in it there were idols which were worshipped, and it was called Al-Ka`ba. Jarir went there, burnt it with fire and dismantled it. When Jarir reached Yemen, there was a man who used to foretell and give good omens by casting arrows of divination. Someone said to him. The messenger of Allah's Apostle is present here and if he should get hold of you, he would chop off your neck. One day while he was using them (i.e. arrows of divination), Jarir stopped there and said to him, Break them (i.e. the arrows) and testify that None has the right to be worshipped except Allah, or else I will chop off your neck. So the man broke those arrows and testified that none has the right to be worshipped except Allah. Then Jarir sent a man called Abu Artata from the tribe of Ahmas to the Prophet to convey the good news (of destroying Dhu-l-Khalasa). So when the messenger reached the Prophet, he said, O Allah's Apostle! By Him Who sent you with the Truth, I did not leave it till it was like a scabby camel. Then the Prophet blessed the horses of Ahmas and their men five times.
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو خبر دی ابواسامہ نے، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے، انہیں قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذوالخلصہ سے مجھے کیوں نہیں بےفکری دلاتے! میں نے عرض کیا میں حکم کی تعمیل کروں گا۔ چنانچہ قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو ساتھ لے کر میں روانہ ہوا۔ یہ سب اچھے سوار تھے، لیکن میں سواری اچھی طرح نہیں کر پاتا تھا۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا جس کا اثر میں نے اپنے سینہ میں دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ”اے اللہ! اسے اچھا سوار بنا دے اور اسے ہدایت کرنے والا اور خود ہدایت پایا ہوا بنا دے۔“ راوی نے بیان کیا کہ پھر اس کے بعد میں کبھی کسی گھوڑے سے نہیں گرا۔ راوی نے بیان کیا کہ ذوالخلصہ ایک ( بت خانہ ) تھا، یمن میں قبیلہ خثعم اور بجیلہ کا، اس میں بت تھے جن کی پوجا کی جاتی تھی اور اسے کعبہ بھی کہتے تھے۔ بیان کیا کہ پھر جریر وہاں پہنچے اور اسے آگ لگا دی اور منہدم کر دیا۔ بیان کیا کہ جب جریر رضی اللہ عنہ یمن پہنچے تو وہاں ایک شخص تھا جو تیروں سے فال نکالا کرتا تھا۔ اس سے کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی یہاں آ گئے ہیں۔ اگر انہوں نے تمہیں پا لیا تو تمہاری گردن مار دیں گے۔ بیان کیا کہ ابھی وہ فال نکال ہی رہے تھے کہ جریر رضی اللہ عنہ وہاں پہنچ گئے۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ یہ فال کے تیر توڑ کر کلمہ لا الٰہ الا اللہ پڑھ لے ورنہ میں تیری گردن مار دوں گا۔ راوی نے بیان کیا اس شخص نے تیر وغیرہ توڑ ڈالے اور کلمہ ایمان کی گواہی دی۔ اس کے بعد جریر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ احمس کے ایک صحابی ابوارطاط رضی اللہ عنہ نامی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا جب وہ خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے اس وقت تک نہیں چلا جب تک اس بت کدہ کو خارش زدہ اونٹ کی طرح جلا کر سیاہ نہیں کر دیا۔ بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے گھوڑوں اور سواروں کے لیے پانچ مرتبہ برکت کی دعا فرمائی۔
4357
Sahih
(64) CHAPTER. The Ghazwa of Dhat-us-Salasil, which is the Ghazwa of Lakhm and Judham.
غزوہ ذاتالسلاسل کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : عَائِشَةُ ، قُلْتُ : مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ : أَبُوهَا ، قُلْتُ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : عُمَرُ ، فَعَدَّ رِجَالًا فَسَكَتُّ مَخَافَةَ أَنْ يَجْعَلَنِي فِي آخِرِهِمْ .
Narrated Abu `Uthman: Allah's Apostle sent `Amr bin Al As as the commander of the troops of Dhat-us-Salasil. `Amr bin Al- `As said, (On my return) I came to the Prophet and said, 'Which people do you love most?' He replied, `Aisha.' I said, 'From amongst the men?' He replied, 'Her father (Abu Bakr)'. I said, 'Whom (do you love) next?' He replied, `Umar.' Then he counted the names of many men, and I became silent for fear that he might regard me as the last of them.
ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا، کہا ہم کو خالد بن عبداللہ نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے، انہیں ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو غزوہ ذات السلاسل کے لیے امیر لشکر بنا کر بھیجا۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( غزوہ سے واپس آ کر ) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پوچھا کہ آپ کو سب سے زیادہ عزیز کون شخص ہے؟ فرمایا کہ عائشہ، میں نے پوچھا اور مردوں میں؟ فرمایا کہ اس کے والد، میں نے پوچھا، اس کے بعد کون؟ فرمایا کہ عمر۔ اس طرح آپ نے کئی آدمیوں کے نام لیے بس میں خاموش ہو گیا کہ کہیں آپ مجھے سب سے بعد میں نہ کر دیں۔
4358
Sahih
(65) CHAPTER. The departure of Jarir to Yemen.
حضرت جریر بنعبداللہ بجلی رضیاللہعنہ کا یمن کی طرف جانا
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : كُنْتُ بِالْيَمَنِ فَلَقِيتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ : ذَا كَلَاعٍ ، وَذَا عَمْرٍو ، فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ ذُو عَمْرٍو : لَئِنْ كَانَ الَّذِي تَذْكُرُ مِنْ أَمْرِ صَاحِبِكَ لَقَدْ مَرَّ عَلَى أَجَلِهِ مُنْذُ ثَلَاثٍ ، وَأَقْبَلَا مَعِي حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ رُفِعَ لَنَا رَكْبٌ مِنْ قِبَلِ الْمَدِينَةِ ، فَسَأَلْنَاهُمْ ، فَقَالُوا : قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ وَالنَّاسُ صَالِحُونَ ، فَقَالَا : أَخْبِرْ صَاحِبَكَ أَنَّا قَدْ جِئْنَا وَلَعَلَّنَا سَنَعُودُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَرَجَعَا إِلَى الْيَمَنِ ، فَأَخْبَرْتُ أَبَا بَكْرٍ بِحَدِيثِهِمْ ، قَالَ : أَفَلَا جِئْتَ بِهِمْ ؟ فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ ، قَالَ لِي ذُو عَمْرٍو : يَا جَرِيرُ ، إِنَّ بِكَ عَلَيَّ كَرَامَةً ، وَإِنِّي مُخْبِرُكَ خَبَرًا : إِنَّكُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا كُنْتُمْ إِذَا هَلَكَ أَمِيرٌ تَأَمَّرْتُمْ فِي آخَرَ ، فَإِذَا كَانَتْ بِالسَّيْفِ كَانُوا مُلُوكًا يَغْضَبُونَ غَضَبَ الْمُلُوكِ ، وَيَرْضَوْنَ رِضَا الْمُلُوكِ .
Narrated Jarir: While I was at Yemen, I met two men from Yemen called Dhu Kala and Dhu `Amr, and I started telling them about Allah's Apostle. Dhu `Amr said to me, If what you are saying about your friend (i.e. the Prophet) is true, then he has died three days ago. Then both of them accompanied me to Medina, and when we had covered some distance on the way to Medina, we saw some riders coming from Medina. We asked them and they said, Allah's Apostle has died and Abu Bakr has been appointed as the Caliph and the people are in a good state.' Then they said, Tell your friend (Abu Bakr) that we have come (to visit him), and if Allah will, we will come again. So they both returned to Yemen. When I told Abu Bakr their statement, he said to me, I wish you had brought them (to me). Afterwards I met Dhu `Amr, and he said to me, O Jarir! You have done a favor to me and I am going to tell you something, i.e. you, the nation of 'Arabs, will remain prosperous as long as you choose and appoint another chief whenever a former one is dead. But if authority is obtained by the power of the sword, then the rulers will become kings who will get angry, as kings get angry, and will be delighted as kings get delighted.
مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ عبسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( یمن سے واپسی پر مدینہ آنے کے لیے ) میں دریا کے راستے سے سفر کر رہا تھا۔ اس وقت یمن کے دو آدمیوں ذوکلاع اور ذوعمرو سے میری ملاقات ہوئی میں ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کرنے لگا اس پر ذوعمرو نے کہا: اگر تمہارے صاحب ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) وہی ہیں جن کا ذکر تم کر رہے ہو تو ان کی وفات کو بھی تین دن گزر چکے۔ یہ دونوں میرے ساتھ ہی ( مدینہ ) کی طرف چل رہے تھے۔ راستے میں ہمیں مدینہ کی طرف سے آتے ہوئے کچھ سوار دکھائی دئیے، ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں۔ آپ کے خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ منتخب ہوئے ہیں اور لوگ اب بھی سب خیریت سے ہیں۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ اپنے صاحب ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) سے کہنا کہ ہم آئے تھے اور ان شاءاللہ پھر مدینہ آئیں گے یہ کہہ کر دونوں یمن کی طرف واپس چلے گئے۔ پھر میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کی باتوں کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا کہ پھر انہیں اپنے ساتھ لائے کیوں نہیں؟ بہت دنوں بعد خلافت عمری میں ذوعمرو نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا کہ جریر! تمہارا مجھ پر احسان ہے اور تمہیں میں ایک بات بتاؤں گا کہ تم اہل عرب اس وقت تک خیر و بھلائی کے ساتھ رہو گے جب تک تمہارا طرز عمل یہ ہو گا کہ جب تمہارا کوئی امیر وفات پا جائے گا تو تم اپنا کوئی دوسرا امیر منتخب کر لیا کرو گے۔ لیکن جب ( امارت کے لیے ) تلوار تک بات پہنچ جائے تو تمہارے امیر بادشاہ بن جائیں گے۔ بادشاہوں کی طرح غصہ ہوا کریں گے اور انہیں کی طرح خوش ہوا کریں گے۔
4359
Sahih
(66) CHAPTER. The Ghazwa of the sea-coast.
غزوہ سیفالبحر کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا قِبَلَ السَّاحِلِ ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ ، فَخَرَجْنَا وَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ فَنِيَ الزَّادُ ، فَأَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِأَزْوَادِ الْجَيْشِ ، فَجُمِعَ ، فَكَانَ مِزْوَدَيْ تَمْرٍ فَكَانَ يَقُوتُنَا كُلَّ يَوْمٍ قَلِيلٌ قَلِيلٌ حَتَّى فَنِيَ ، فَلَمْ يَكُنْ يُصِيبُنَا إِلَّا تَمْرَةٌ تَمْرَةٌ ، فَقُلْتُ : مَا تُغْنِي عَنْكُمْ تَمْرَةٌ ، فَقَالَ : لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَنِيَتْ ، ثُمَّ انْتَهَيْنَا إِلَى الْبَحْرِ ، فَإِذَا حُوتٌ مِثْلُ الظَّرِبِ ، فَأَكَلَ مِنْهَا الْقَوْمُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ، ثُمَّ أَمَرَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِضِلَعَيْنِ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَنُصِبَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَاحِلَةٍ فَرُحِلَتْ ، ثُمَّ مَرَّتْ تَحْتَهُمَا فَلَمْ تُصِبْهُمَا .
Narrated Wahab bin Kaisan: Jabir bin `Abdullah said, Allah's Apostle sent troops to the sea coast and appointed Abu 'Ubaida bin Al-Jarrah as their commander, and they were 300 (men). We set out, and we had covered some distance on the way, when our journey food ran short. So Abu 'Ubaida ordered that all the food present with the troops be collected, and it was collected. Our journey food was dates, and Abu Ubaida kept on giving us our daily ration from it little by little (piecemeal) till it decreased to such an extent that we did not receive except a date each. I asked (Jabir), How could one date benefit you? He said, We came to know its value when even that finished. Jabir added, Then we reached the sea (coast) where we found a fish like a small mountain. The people (i.e. troops) ate of it for 18 nights (i.e. days). Then Abu 'Ubaida ordered that two of its ribs be fixed on the ground (in the form of an arch) and that a she-camel be ridden and passed under them. So it passed under them without touching them.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے وہیب بن کیسان نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساحل سمندر کی طرف ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ اس میں تین سو آدمی شریک تھے۔ خیر ہم مدینہ سے روانہ ہوئے اور ابھی راستے ہی میں تھے کہ راشن ختم ہو گیا، جو کچھ بچ رہا تھا وہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں روزانہ تھوڑا تھوڑا اسی میں سے کھانے کو دیتے رہے۔ آخر جب یہ بھی ختم کے قریب پہنچ گیا تو ہمارے حصے میں صرف ایک ایک کھجور آتی تھی۔ وہب نے کہا میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ایک کھجور سے کیا ہوتا رہا ہو گا؟ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا وہ ایک کھجور ہی غنیمت تھی۔ جب وہ بھی نہ رہی تو ہم کو اس کی قدر معلوم ہوئی تھی، آخر ہم سمندر کے کنارے پہنچ گئے۔ وہاں کیا دیکھتے ہیں بڑے ٹیلے کی طرح ایک مچھلی نکل کر پڑی ہے۔ اس مچھلی کو سارا لشکر اٹھارہ راتوں تک کھاتا رہا۔ بعد میں ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے اس کی پسلی کی دو ہڈیاں کھڑی کی گئیں وہ اتنی اونچی تھیں کہ اونٹ پر کجاوہ کسا گیا وہ ان کے تلے سے نکل گیا اور ہڈیوں کو بالکل نہیں لگا۔
4360
Sahih
(66) CHAPTER. The Ghazwa of the sea-coast.
غزوہ سیفالبحر کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : الَّذِي حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِائَةِ رَاكِبٍ أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِيرَ قُرَيْشٍ ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ ، فَسُمِّيَ ذَلِكَ الْجَيْشُ جَيْشَ الْخَبَطِ ، فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ دَابَّةً ، يُقَالُ لَهَا : الْعَنْبَرُ ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهِ حَتَّى ثَابَتْ إِلَيْنَا أَجْسَامُنَا ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ ، فَنَصَبَهُ فَعَمَدَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ مَعَهُ ، قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ ، فَنَصَبَهُ وَأَخَذَ رَجُلًا وَبَعِيرًا فَمَرَّ تَحْتَهُ ، قَالَ جَابِرٌ : وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ ، ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ ، ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ ، ثُمَّ إِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ نَهَاهُ ، وَكَانَ عَمْرٌو يَقُولُ : أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ ، قَالَ لِأَبِيهِ : كُنْتُ فِي الْجَيْشِ ، فَجَاعُوا ، قَالَ : انْحَرْ ، قَالَ : نَحَرْتُ ، قَالَ : ثُمَّ جَاعُوا ، قَالَ : انْحَرْ ، قَالَ : نَحَرْتُ ، قَالَ : ثُمَّ جَاعُوا ، قَالَ : انْحَرْ ، قَالَ : نَحَرْتُ ، ثُمَّ جَاعُوا ، قَالَ : انْحَرْ ، قَالَ : نُهِيتُ .
Narrated Jabir bin `Abdullah: Allah's Apostle sent us who were three-hundred riders under the command of Abu Ubaida bin Al- Jarrah in order to watch the caravan of the Quraish pagans. We stayed at the seashore for half a month and were struck with such severe hunger that we ate even the Khabt (i.e. the leaves of the Salam, a thorny desert tree), and because of that, the army was known as Jaish-ul-Khabt. Then the sea threw out, an animal (i.e. a fish) called Al-`Anbar and we ate of that for half a month, and rubbed its fat on our bodies till our bodies returned to their original state (i.e. became strong and healthy). Abu Ubaida took one of its ribs, fixed it on the ground; then he went to the tallest man of his companions (to let him pass under the rib). Once Sufyan said, He took a rib from its parts and fixed it, and then took a man and camel and they passed from underneath it (without touching it). Jabir added: There was a man amongst the people who slaughtered three camels and then slaughtered another three camels and then slaughtered other three camels, and then Abu 'Ubaida forbade him to do so. Narrated Abu Salih: Qais bin Sa`d said to his father. I was present in the army and the people were struck with severe hunger. He said, You should have slaughtered (camels) (for them). Qais said, I did slaughter camels but they were hungry again. He said, You should have slaughtered (camels) again. Qais said, I did slaughter (camels) again but the people felt hungry again. He said, You should have slaughtered (camels) again. Qais said, I did slaughter (camels) again, but the people again felt hungry. He said, You should have slaughtered (camels) again. Qais said, But I was forbidden (by Abu 'Ubaida this time).
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے عمرو بن دینار سے جو یاد کیا وہ یہ ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا اور ہمارا امیر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ تاکہ ہم قریش کے قافلہ تجارت کی تلاش میں رہیں۔ ساحل سمندر پر ہم پندرہ دن تک پڑاؤ ڈالے رہے۔ ہمیں ( اس سفر میں ) بڑی سخت بھوک اور فاقے کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک نوبت پہنچی کہ ہم نے ببول کے پتے کھا کر وقت گذارا۔ اسی لیے اس فوج کا لقب پتوں کی فوج ہو گیا۔ پھر اتفاق سے سمندر نے ہمارے لیے ایک مچھلی جیسا جانور ساحل پر پھینک دیا، اس کا نام عنبر تھا، ہم نے اس کو پندرہ دن تک کھایا اور اس کی چربی کو تیل کے طور پر ( اپنے جسموں پر ) ملا۔ اس سے ہمارے بدن کی طاقت و قوت پھر لوٹ آئی۔ بعد میں ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی نکال کر کھڑی کروائی اور جو لشکر میں سب سے لمبے آدمی تھے، انہیں اس کے نیچے سے گزارا۔ سفیان بن عیینہ نے ایک مرتبہ اس طرح بیان کیا کہ ایک پسلی نکال کر کھڑی کر دی اور ایک شخص کو اونٹ پر سوار کرایا وہ اس کے نیچے سے نکل گیا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لشکر کے ایک آدمی نے پہلے تین اونٹ ذبح کئے پھر تین اونٹ ذبح کئے اور جب تیسری مرتبہ تین اونٹ ذبح کئے تو ابوعبیدہ نے انہیں روک دیا کیونکہ اگر سب اونٹ ذبح کر دیتے تو سفر کیسے ہوتا اور عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ ہم کو ابوصالح ذکوان نے خبر دی کہ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے ( واپس آ کر ) اپنے والد ( سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ) سے کہا کہ میں بھی لشکر میں تھا جب لوگوں کو بھوک لگی تو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اونٹ ذبح کرو، قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ذبح کر دیا کہا کہ پھر بھوکے ہوئے تو انہوں نے کہا کہ اونٹ ذبح کرو، میں نے ذبح کیا، بیان کیا کہ جب پھر بھوکے ہوئے تو کہا کہ اونٹ ذبح کرو، میں نے ذبح کیا، پھر بھوکے ہوئے تو کہا کہ اونٹ ذبح کرو، پھر قیس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس مرتبہ مجھے امیر لشکر کی طرف سے منع کر دیا گیا۔
4361
Sahih
(66) CHAPTER. The Ghazwa of the sea-coast.
غزوہ سیفالبحر کا بیان
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : غَزَوْنَا جَيْشَ الْخَبَطِ وَأُمِّرَ أَبُو عُبَيْدَةَ فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا ، فَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا لَمْ نَرَ مِثْلَهُ ، يُقَالُ لَهُ : الْعَنْبَرُ ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهُ ، فَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : كُلُوا ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : كُلُوا رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ أَطْعِمُونَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ ، فَأَتَاهُ بَعْضُهُمْ ، فَأَكَلَهُ .
Narrated Jabir: We set out in the army of Al-Khabt and Abu Ubaida was the commander of the troops. We were struck with severe hunger and the sea threw out a dead fish the like of which we had never seen, and it was called Al-`Anbar. We ate of it for half a month. Abu Ubaida took (and fixed) one of its bones and a rider passed underneath it (without touching it). (Jabir added:) Abu 'Ubaida said (to us), Eat (of that fish). When we arrived at Medina, we informed the Prophet about that, and he said, Eat, for it is food Allah has brought out for you, and feed us if you have some of it. So some of them gave him (of that fish) and he ate it.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابن جریر نے بیان کیا، انہیں عمرو بن دینار نے خبر دی اور انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم پتوں کی فوج میں شریک تھے۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمارے امیر تھے۔ پھر ہمیں شدت سے بھوک لگی، آخر سمندر نے ایک ایسی مردہ مچھلی باہر پھینکی کہ ہم نے ویسی مچھلی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اسے عنبر کہتے تھے۔ وہ مچھلی ہم نے پندرہ دن تک کھائی۔ پھر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ہڈی کھڑی کروا دی تو اونٹ کا سوار اس کے نیچے سے گزر گیا۔ ( ابن جریر نے بیان کیا کہ ) پھر مجھے ابو الزبیر نے خبر دی اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا اس مچھلی کو کھاؤ پھر جب ہم مدینہ لوٹ کر آئے تو ہم نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ روزی کھاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجی ہے۔ اگر تمہارے پاس اس میں سے کچھ بچی ہو تو مجھے بھی کھلاؤ۔ چنانچہ ایک آدمی نے اس کا گوشت لا کر آپ کی خدمت میں پیش کیا اور آپ نے بھی اسے تناول فرمایا۔
4362
Sahih
(67) CHAPTER. The Hajj in which Abu Bakr led the people in the 9th year (of Al-Hijrah)
حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ کا لوگوں کے ساتھ سنہ ۹ھ میں حج کرنا
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَهُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ : لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ .
Narrated Abu Huraira: That during the Hajj in which the Prophet had made Abu Bakr As Siddiq as chief of the, Hajj before the Hajj-ul-Wida,' on the day of Nahr, Abu Bakr sent him along with a group of persons to announce to the people. No pagan is permitted to perform Hajj after this year, and nobody is permitted to perform the Tawaf of the Ka`ba naked.
ہم سے سلیمان بن داؤد ابوالربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا کہ ان سے زہری نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حجۃ الوداع سے پہلے جس حج کا امیر بنا کر بھیجا تھا، اس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے کئی آدمیوں کے ساتھ قربانی کے دن ( منیٰ ) میں اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک ( بیت اللہ ) کا حج کرنے نہ آئے اور نہ کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرے۔
4363
Sahih
(67) CHAPTER. The Hajj in which Abu Bakr led the people in the 9th year (of Al-Hijrah)
حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ کا لوگوں کے ساتھ سنہ ۹ھ میں حج کرنا
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ كَامِلَةً بَرَاءَةٌ ، وَآخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ خَاتِمَةُ سُورَةِ النِّسَاءِ : يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 .
Narrated Al-Bara: The last Sura which was revealed in full was Baraa (i.e. Sura-at-Tauba), and the last Sura (i.e. part of a Sura) which was revealed was the last Verses of Sura-an-Nisa':-- They ask you for a legal decision. Say: Allah directs (thus) About those who have No descendants or ascendants As heirs. (4.177)
مجھ سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سب سے آخری سورۃ جو پوری اتری وہ سورۃ برات ( توبہ ) تھی اور آخری آیت جو اتری وہ سورۃ نساء کی یہ آیت ہے «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة‏» ۔
4364
Sahih
(68) CHAPTER. The delegation of Bani Tamim.
بنیتمیم کے وفد کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَتَى نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا ، فَرُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، فَجَاءَ نَفَرٌ مِنْ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : اقْبَلُوا الْبُشْرَى ، إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ، قَالُوا : قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ .
Narrated `Imran bin Hussein: A delegation from Banu Tamim came to the Prophet . The Prophet said, Accept the good tidings, O Banu Tamim! They said, O Allah's Apostle! You have given us good tidings, so give us (something). Signs of displeasure appeared on his face. Then another delegation from Yemen came and he said (to them), Accept the good tidings, for Banu Tamim refuses to accept them. They replied, We have accepted them, O Allah's Apostle!
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ان سے ابوصخرہ نے، ان سے صفوان بن محرز مازنی نے اور ان سے عمران بن حصین نے بیان کیا کہ بنو تمیم کے چند لوگوں کا ( ایک وفد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔“ وہ کہنے لگے کہ بشارت تو آپ ہمیں دے چکے، کچھ مال بھی دیجئیے۔ ان کے اس جواب پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناگواری کا اثر دیکھا گیا، پھر یمن کے چند لوگوں کا ایک ( وفد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے بشارت نہیں قبول کی، تم قبول کر لو۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم کو بشارت قبول ہے۔
4365
Sahih
(69) CHAPTER.
محمد بن اسحاق نے کہا کہ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلَاثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا فِيهِمْ : هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ ، وَكَانَتْ فِيهِمْ سَبِيَّةٌ عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَ : أَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ ، فَقَالَ : هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمٍ أَوْ قَوْمِي .
Narrated Abu Huraira: I have not ceased to like Banu Tamim ever since I heard of three qualities attributed to them by Allah's Apostle (He said): They, out of all my followers, will be the strongest opponent of Ad-Dajjal; `Aisha had a slave-girl from them, and the Prophet told her to manumit her as she was from the descendants of (the Prophet) Ishmael; and, when their Zakat was brought, the Prophet said, This is the Zakat of my people.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اس وقت سے ہمیشہ بنو تمیم سے محبت رکھتا ہوں جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کی تین خوبیاں میں نے سنی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا تھا کہ بنو تمیم دجال کے حق میں میری امت کے سب سے زیادہ سخت لوگ ثابت ہوں گے اور بنو تمیم کی ایک قیدی خاتون عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے آزاد کر دو کیونکہ یہ اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے اور ان کے یہاں سے زکوٰۃ وصول ہو کر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک قوم کی یا ( یہ فرمایا کہ ) یہ میری قوم کی زکوٰۃ ہے۔
4366
Sahih
(69) CHAPTER.
محمد بن اسحاق نے کہا کہ
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُم : أَنَّهُ قَدِمَ رَكْبٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَمِّرْ الْقَعْقَاعَ بْنَ مَعْبَدِ بْنِ زُرَارَةَ ، قَالَ عُمَرُ : بَلْ أَمِّرْ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَا أَرَدْتَ إِلَّا خِلَافِي ، قَالَ عُمَرُ : مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ ، فَتَمَارَيَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا ، فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُقَدِّمُوا سورة الحجرات آية 1 حَتَّى انْقَضَتْ .
Narrated Ibn Abi Mulaika: `Abdullah bin Az-Zubair said that a group of riders belonging to Banu Tamim came to the Prophet, Abu Bakr said (to the Prophet ), Appoint Al-Qa'qa bin Mabad bin Zurara as (their) ruler. `Umar said (to the Prophet). No! But appoint Al-Aqra bin H`Abis. Thereupon Abu Bakr said (to `Umar). You just wanted to oppose me. `Umar replied. I did not want to oppose you. So both of them argued so much that their voices became louder, and then the following Divine Verses were revealed in that connection:-- O you who believe ! Do not be forward in the presence of Allah and His Apostle... (till the end of Verse)...(49.1)
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے اور انہیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ بنو تمیم کے چند سوار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ آپ ہمارا کوئی امیر منتخب کر دیجئیے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قعقاع بن معبد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو امیر منتخب کر دیجئیے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بلکہ آپ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر منتخب فرما دیجئیے۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تمہارا مقصد صرف مجھ سے اختلاف کرنا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں میری غرض مخالفت کی نہیں ہے۔ دونوں اتنا جھگڑے کی آواز بلند ہو گئی۔ اسی پر سورۃ الحجرات کی یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا‏» آخر آیت تک۔
4367
Sahih
(70) CHAPTER. The delegation of Abdul-Qais.
وفد عبدالقیس کابیان
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : إِنَّ لِي جَرَّةً يُنْتَبَذُ لِي نَبِيذٌ فَأَشْرَبُهُ حُلْوًا فِي جَرٍّ ، إِنْ أَكْثَرْتُ مِنْهُ ، فَجَالَسْتُ الْقَوْمَ ، فَأَطَلْتُ الْجُلُوسَ خَشِيتُ أَنْ أَفْتَضِحَ ، فَقَالَ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا النَّدَامَى ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ مُضَرَ ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ ، حَدِّثْنَا بِجُمَلٍ مِنَ الْأَمْرِ إِنْ عَمِلْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ ، وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا ، قَالَ : آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : الْإِيمَانِ بِاللَّهِ ، هَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : مَا انْتُبِذَ فِي الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ .
Narrated Abu Jamra: I said to Ibn `Abbas, I have an earthenware pot containing Nabidh (i.e. water and dates or grapes) for me, and I drink of it while it is sweet. If I drink much of it and stay with the people for a long time, I get afraid that they may discover it (for I will appear as if I were drunk). Ibn `Abbas said, A delegation of `Abdul Qais came to Allah's Apostle and he said, Welcome, O people! Neither will you have disgrace nor will you regret. They said, O Allah's Apostle! There are the Mudar pagans between you and us, so we cannot come to you except in the sacred Months. So please teach us some orders on acting upon which we will enter Paradise. Besides, we will preach that to our people who are behind us. The Prophet said, I order you to do four things and forbid you from four things (I order you): To believe in Allah...Do you know what is to believe in Allah? That is to testify that None has the right to be worshipped except Allah: (I order you also to offer prayers perfectly to pay Zakat; and to fast the month of Ramadan and to give the Khumus (i.e. one-fifth of the booty) (for Allah's Sake). I forbid you from four other things (i.e. the wine that is prepared in) Ad-Dubba, An-Naquir, Az-Hantam and Al-Muzaffat. (See Hadith No. 50 Vol. 1)
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوعامر عقدی نے خبر دی، کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ میرے پاس ایک گھڑا ہے جس میں میرے لیے نبیذ یعنی کھجور کا شربت بنایا جاتا ہے۔ میں وہ میٹھے رہنے تک پیا کرتا ہوں۔ بعض وقت بہت پی لیتا ہوں اور لوگوں کے پاس دیر تک بیٹھا رہتا ہوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں فضیحت نہ ہو۔ ( لوگ کہنے لگیں کہ یہ نشہ باز ہے ) اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے آئے نہ ذلیل ہوئے، نہ شرمندہ ( خوشی سے مسلمان ہو گئے نہ ہوتے تو ذلت اور شرمندگی حاصل ہوتی ) انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے اور آپ کے درمیان میں مشرکین کے قبائل پڑتے ہیں۔ اس لیے ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینے ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وہ احکام و ہدایات سنا دیں کہ اگر ہم ان پر عمل کرتے رہیں تو جنت میں داخل ہوں اور جو لوگ ہمارے ساتھ نہیں آ سکے ہیں انہیں بھی وہ ہدایات پہنچا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں۔ میں تمہیں حکم دیتا ہوں اللہ پر ایمان لانے کا، تمہیں معلوم ہے اللہ پر ایمان لانا کسے کہتے ہیں؟ اس کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، نماز قائم کرنے کا، زکٰوۃ دینے کا، رمضان کے روزے رکھنے اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ( بیت المال کو ) ادا کرنے کا حکم دیتا ہوں اور میں تمہیں چار چیزوں سے روکتا ہوں یعنی کدو کے تونبے میں اور کریدی ہوئی لکڑی کے برتن میں اور سبز لاکھی برتن میں اور روغنی برتن میں نبیذ بھگونے سے منع کرتا ہوں۔
4368
Sahih

Chapters

78
01
(1) CHAPTER. The Ghazwa of Al-'Ushaira or Al-Usaira.
غزوہعشیرہ یا عسرہ کا بیان
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Prophet's prediction about whom he thought would be killed at Badr.
بدر کی لڑائی میں فلاں فلاں مارے جائیں گے ۔ اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشینگوئی کا بیان
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. The story of the Ghazwa of Badr.
غزوہبدر کا بیان
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. The Statement of Allah: “(Remember) when you sought help of your Lord and He answered you (saying: 'I will help you with a thousand of a angels each behind the other (following one another) in succession.' Allah made it only as glad tidings, and that your hearts be at rest therewith. And there is no victory except from Allah. verily, Allah is All-Mighty, All-Wise. (Remember) when He covered you with a slumber as a security from Him, and He caused water (rain) to descend on you from the sky, to clean you thereby and to remove from you the Rijz (whispering, evil-suggestions) of Shaitan (Satan), and to strengthen yor hearts, and make your feet firm thereby. (Remember) when your Lord revealed to the angels, 'Verily, I am with you so keep firm those who have believed. I will cast terror into the hearts of those who have disbelived, so strike them over the necks, and smite over all their fingers and toes.' This is because they defined and disobeys Allah and His Messenger, then verily, Allah is Severe in punisllment.” (V.8:9-13)
اللہ تعالیٰ کا فرمان
5 Hadith
05
(5) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
55 Hadith
06
(6) CHAPTER. The number of the warriors of Badr.
جنگبدر میں شریک ہونے والوں کا شمار
5 Hadith
07
(7) CHAPTER. Invoking evil of the Prophet on the disbelievers of Quraish, (Shaiba, Utba, Al-Walid and Abu jahl, etc.) and (the mention of) their death.
کفار قریش ، شیبہ ، عتبہ ، ولید اور ابوجہل بنہشام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بددعا کرنا اور ان کی ہلاکت کا بیان
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. The killing of Abu Jahl.
( بدر کے دن ) ابوجہل کا قتل ہونا
21 Hadith
09
(9) CHAPTER. The superiority of those who fought the battle of Badr.
بدر کی لڑائی میں حاضر ہونے والوں کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
10
(12) CHAPTER.
جنگبدر میں فرشتوں کا شریک ہونا
1 Hadith
11
(14) CHAPTER. The story of Bani An-Nadir.
بنو نضیر کے یہودیوں کے واقعہ کا بیان
8 Hadith
12
(15) CHAPTER. The killing of Kab bin Al-Ashraf.
کعببناشرف یہودی کے قتل کا قصہ
2 Hadith
13
(16) CHAPTER. The killing of Abu Rafi, Abdullah bin Abi Al-Huqaiq.
ابورافع ۔ یہودی عبداللہبنابی الحقیق کے قتل کا قصہ
2 Hadith
14
(17) CHAPTER. The Ghazwa of Uhud.
غزوہاحد کا بیان
11 Hadith
15
(18) CHAPTER: “When two parties from among you were about the lose heart, but Allah was their Wali (Protector and Supporter).” (V.3:122)
جب تم میں سے دو جماعتیں ایسا ارادہ کر بیٹھتی تھیں کہ ہمت ہار دیں حالانکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا اور ایماندار وں کو تو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے
14 Hadith
16
(22) CHAPTER. (Allah's Statement): “Not for you (O Muhammad , but for Allah) is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the Zalimun (polytheists, and wrong-doers, disobedients).” (V.3:128)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں ۔
2 Hadith
17
(23) CHAPTER. Narration regarding Umm Salit.
حضرت امسلیط رضیاللہعنہا کا تذکرہ
1 Hadith
18
(24) CHAPTER. The martyrdom of Hamza bin Abdul-Muttalib .
حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضیاللہعنہ کی شہادت کا بیان
1 Hadith
19
(25) CHAPTER. The wounds inflicted on the Prophet on the day (of the battle) of Uhud.
غزوہاحد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو زخم پہنچے تھے ان کا بیان
2 Hadith
20
(26) CHAPTER. (Allah's Statement):- “Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger (Muhammad )... (V.3:172)
وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی آواز کو عملاً قبول کیا ( یعنی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل کے لیے فوراً تیار ہو گئے )
1 Hadith
21
(27) CHAPTER. The Muslims who were killed on the day (of the battle) of Uhud.
جن مسلمانوں نے غزوہاحد میں شہادت پائی ان کا بیان ۔
5 Hadith
22
(28) CHAPTER. “Uhud is a mountain that loves us and is loved by us.”
ارشاد نبوی کہ احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے ۔
3 Hadith
23
(29) CHAPTER. The Ghazwa (i.e., battle) of Ar-Raji, Ril, Dhakwan and Bir Mauna.
غزوہ رجیع کا بیان
11 Hadith
24
(30) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Khandaq which is called Al-Ahzab Battle.
غزوہخندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہاحزاب ہے ۔
20 Hadith
25
(31) CHAPTER. The return of the Prophet from (the battle of) the Ahzab (Confederates) and his going out to Bani Quraiza and his besieging them.
غزوہاحزاب سے نبی کریم کا واپس لوٹنا اور بنوقریظہ پر چڑھائی کرنااور ان کا محاصرہ کرنا
8 Hadith
26
(32) CHAPTER. The Ghazwa (i.e., battle) of Dhat-ur-Riqa.
غزوہ ذاتالرقاع کا بیان
13 Hadith
27
(33) CHAPTER. The Ghazwa of Banu Al-Mustaliq which belongs to the tribe of Khuzaa. It is also called the Ghazwa of Al- Muraisi.
غزوہ بنو المصطلق کا بیان جو قبیلہ بنو خزاعہ سے ہوا تھا اور یہی غزوہ مریسیع ( بھی کہلاتا ) ہے
2 Hadith
28
(34) CHAPTER. The Ghazwa of Anmar.
غزوہ انمار کا بیان
1 Hadith
29
(35) CHAPTER. The narration of AI-Ifk.
واقعہ افک کا بیان
7 Hadith
30
(36) CHAPTER. The Ghazwa of Al- Hudaibiya.
غزوہ حدیبیہ کا بیان
44 Hadith
31
(37) CHAPTER. The story of (the tribes of) 'Ukl and 'Uraina.
قبائل عکل اور عرینہ کا قصہ
2 Hadith
32
(38) CHAPTER. Ghazwa Dhat-Qarad.
ذات قرد کی لڑائی کا بیان
1 Hadith
33
(39) CHAPTER. Ghazwa of Khaibar.
غزوہخیبر کا بیان
49 Hadith
34
(40) CHAPTER. The appointment of a ruler for Khaibar by the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیبر والوں پر تحصیل دار مقرر فرمانا
4 Hadith
35
(41) CHAPTER. The dealing of the Prophet with the people of Khaibar.
خیبر والوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ طے کرنا
1 Hadith
36
(42) CHAPTER. The sheep which was poisoned (and presented) to the Prophet at Khaibar.
اس بکری کا گوشت جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر میں زہر دیا گیا تھا ۔ اس کو عروہ نے عائشہ رضیاللہعنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔
1 Hadith
37
(43) CHAPTER. The Ghazwa of Zaid bin Haritha.
غزوہ زیدبنحارثہ کا بیان
1 Hadith
38
(44) CHAPTER. The Umra Al-Qada.
عمرہ قضاء کا بیان
9 Hadith
39
(45) CHAPTER. The Ghazwa of Mu'tah in the land of Sham.
غزوہموتہ کا بیان جو سرزمین شام میں سنہ 8ھ میں ہوا تھا
9 Hadith
40
(46) CHAPTER. The despatch of Usama bin Zaid by the Prophet towards Al-Huraqat, (a place of the tribe of Juhaina).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بنزید رضیاللہعنہ کو حرقات کے مقابلہ پر بھیجنا
4 Hadith
41
(46) CHAPTER. The despatch of Usama bin Zaid by the Prophet towards Al-Huraqat, (a place of the tribe of Juhaina).
غزوہ فتح مکہ کا بیان
5 Hadith
42
(48) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Fath (was fought) during Ramadan.
غزوہ فتح مکہ کا بیان جو رمضان سنہ 8 ھ میں ہوا تھا
2 Hadith
43
(49) CHAPTER. Where did the Prophet fix the flag on the day of the conquest of Makkah?
فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا کہاں گاڑا تھا ؟
9 Hadith
44
(50) CHAPTER. The entrance of the Prophet from the upper part of Makkah.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر کے بالائی جانب سے مکہ میں داخل ہونا
3 Hadith
45
(52) CHAPTER.
فتح مکہ کے دن قیام نبوی کا بیان
5 Hadith
46
(53) CHAPTER. The stay of the Prophet in Makkah during the period of the Conquest (of Makkah).
فتح مکہ کے زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں قیام کرنا
3 Hadith
47
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: (“Truly, Allah has given you victory on many battlefields), and on the day of Hunain (battle) when you rejoiced at your great number… (up to)… Oft-Forgiving, Most Merciful.” (V.9:22-27)
جنگ حنین کابیان
9 Hadith
48
(56) CHAPTER. The Ghazwa of Autas.
غزوہ اوطاس کا بیان
1 Hadith
49
(57) CHAPTER. The Ghazwa of At-Ta'if was in the month of Shawwal, during the 8th year (of Al-Hijrah).
غزوہطائف کا بیان جوشوال سنہ 8ھ میں ہوا ۔ یہ موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیاہے
14 Hadith
50
(58) CHAPTER. The Sariya (i.e., an army unit sent by the Prophet ) which was sent towards Najd.
نجد کی طرف جو لشکرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا ، اس کا بیان
1 Hadith
51
(59) CHAPTER. The Prophet sent Khalid bin Al-Walid (to fight) with Banu Jadhima.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خالدبنولید ر ضی اللہ عنہ کو بنیجذیمہ قبیلے کی طرف بھیجنا
1 Hadith
52
(60) CHAPTER. The Sariya of Abdullah bin Hudhafa As-Sahmi and Alqama bin Majazziz Al-Mudliji, and it is said that it was called the Sariya of the Ansar.
عبداللہبنحذافہ سہمی رضی اللہ عنہ
1 Hadith
53
(61) CHAPTER. The sending of Abu Musa and Mu'adh to Yemen before the Hajjat-al-Wada.
حجۃالوداع سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوموسیٰاشعری اور حضرت معاذبنجبل رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
8 Hadith
54
(62) CHAPTER. The sending Ali bin Abi Talib and Khalid bin Al-Walid Yemen before Hajjat-al-Wada'.
حجۃالوداع سے پہلے علی بنابیطالب اور خالدبنولید رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
6 Hadith
55
(63) CHAPTER. Ghazwa Dhul-Khalasa.
غزوہ ذوالخلصہ کا بیان
3 Hadith
56
(64) CHAPTER. The Ghazwa of Dhat-us-Salasil, which is the Ghazwa of Lakhm and Judham.
غزوہ ذاتالسلاسل کا بیان
1 Hadith
57
(65) CHAPTER. The departure of Jarir to Yemen.
حضرت جریر بنعبداللہ بجلی رضیاللہعنہ کا یمن کی طرف جانا
1 Hadith
58
(66) CHAPTER. The Ghazwa of the sea-coast.
غزوہ سیفالبحر کا بیان
3 Hadith
59
(67) CHAPTER. The Hajj in which Abu Bakr led the people in the 9th year (of Al-Hijrah)
حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ کا لوگوں کے ساتھ سنہ ۹ھ میں حج کرنا
2 Hadith
60
(68) CHAPTER. The delegation of Bani Tamim.
بنیتمیم کے وفد کا بیان
1 Hadith
61
(69) CHAPTER.
محمد بن اسحاق نے کہا کہ
2 Hadith
62
(70) CHAPTER. The delegation of Abdul-Qais.
وفد عبدالقیس کابیان
4 Hadith
63
(71) CHAPTER. The delegation of Banu Hanifa and the narration of Thumama bin Uthal.
وفد بنو حنیفہ اور ثمامہبناثال کے واقعات کابیان
6 Hadith
64
(72) CHAPTER. The story of Al- Aswad Al-Ansi.
اسودعنسی کا قصہ
2 Hadith
65
(73) CHAPTER. The story of the people of Najran (Christians).
نجران کے نصاریٰ کا قصہ
3 Hadith
66
(74) CHAPTER. The story of Oman and Al-Bahrain.
عمان اور بحرین کاقصہ
1 Hadith
67
(75) CHAPTER. The arrival of Al-Ashariyun and the people of Yemen.
قبیلہ اشعر اور اہلیمن کی آمد کابیان
8 Hadith
68
(76) CHAPTER. The story of Daus and Tufail bin Amr Ad-Dausi.
قبیلہدوس اور طفیل بنعمر و دوسی رضیاللہعنہ کا بیان
2 Hadith
69
(77) CHAPTER. The delegation of Taiy, and the narration of Adi bin Hatim.
قبیلہ طے کے وفد اور عدی بنحاتم رضیاللہعنہ کا قصہ
1 Hadith
70
(78) CHAPTER. Hajjat-ul-Wada.
حجۃالوداع کابیان
20 Hadith
71
(79) CHAPTER. The Ghazwa of Tabuk, which is also called Ghazwa AI-Usrah (i.e., the battle of hardship).
غزوہتبوک کا بیان ، اس کا دوسرا غزوہ عسرت یعنی ( تنگی کا غزوہ ) بھی ہے ۔
3 Hadith
72
(80) CHAPTER. The narration of Kab bin Malik.
حضرت کعب بنمالک رضیاللہعنہ کے واقعہ کا بیا ن
1 Hadith
73
(81) CHAPTER. The dismounting of the Prophet at (the place called) Al-Hijr.
حجر بستی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گزرنا
2 Hadith
74
(83) CHAPTER. The letter of the Prophet to Kisra (Khosrau) and Qaiser (Caesar).
کسریٰ ( شاہایران ) اور قیصر ( شاہروم ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطوط لکھنا
4 Hadith
75
(84) CHAPTER. The sickness of the Prophet and his death.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان
35 Hadith
76
(85) CHAPTER. The last statement, the Prophet spoke.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ جو زبان مبارک سے نکلا
4 Hadith
77
(88) CHAPTER. The despatch of Usama bin Zaid by the Prophet during his fatal illness.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کااسامہ بنزید رضیاللہعنہ کو مرضالموت میں ایک مہم پر روانہ کرنا
1 Hadith
78
(90) CHAPTER. How many Ghazawat the Prophet fought.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کل کتنے غزوے کئے ہیں ؟
3 Hadith
No chapter matched that.