TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of al- maghazi. - کتاب غزوات کے بیان میں - Book 65 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 65 of Sahih Bukhari, with 78 chapters and 525 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

525 Hadith · 78 Chapters
(70) CHAPTER. The delegation of Abdul-Qais.
وفد عبدالقیس کابیان
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ وَقَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ ، فَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ ، فَمُرْنَا بِأَشْيَاءَ نَأْخُذُ بِهَا وَنَدْعُو إِلَيْهَا مَنْ وَرَاءَنَا ، قَالَ : آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : الْإِيمَانِ بِاللَّهِ ، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَعَقَدَ وَاحِدَةً ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَأَنْ تُؤَدُّوا لِلَّهِ خُمْسَ مَا غَنِمْتُمْ ، وَأَنْهَاكُم عَنْ : الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ .
Narrated Ibn `Abbas: The delegation of `Abdul Qais came to the Prophet and said, O Allah's Apostle We belong to the tribe of Rabi`a. The infidels of Mudar tribe intervened between us and you so that we cannot come to you except in the Sacred Months, so please order us some things we may act on and invite those left behind to act on. The Prophet said, I order you to observe four things and forbid you from four things: (I order you) to believe in Allah, i.e. to testify that None has the right to be worshipped except Allah. The Prophet pointed with finger indicating one and added, To offer prayers perfectly: to give Zakat, and to give one-fifth of the booty you win (for Allah's Sake). I forbid you to use Ad-Dubba', An-Naquir, Al-Hantam and Al-Muzaffat, (Utensils used for preparing alcoholic liquors and drinks).
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ بیان کرتے تھے کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم قبیلہ ربیعہ کی ایک شاخ ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کے قبائل پڑتے ہیں۔ ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں میں ہی حاضر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے آپ چند ایسی باتیں بتلا دیجئیے کہ ہم بھی ان پر عمل کریں اور جو لوگ ہمارے ساتھ نہیں آ سکے ہیں، انہیں بھی اس کی دعوت دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں ( میں تمہیں حکم دیتا ہوں ) اللہ پر ایمان لانے کا یعنی اس کی گواہی دینے کا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی انگلی سے ) ایک اشارہ کیا، اور نماز قائم کرنے کا، زکٰوۃ دینے کا اور اس کا کہ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ( بیت المال کو ) ادا کرتے رہنا اور میں تمہیں دباء، نقیر، مزفت اور حنتم کے برتنوں کے استعمال سے روکتا ہوں۔
4369
Sahih
(70) CHAPTER. The delegation of Abdul-Qais.
وفد عبدالقیس کابیان
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، وَقَالَ بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، أَرْسَلُوا إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، فَقَالُوا : اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَإِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّيهَا ، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَكُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ النَّاسَ عَنْهُمَا ، قَالَ كُرَيْبٌ : فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي ، فَقَالَتْ : سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَأَخْبَرْتُهُمْ ، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا ، وَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيَّ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْخَادِمَ ، فَقُلْتُ : قُومِي إِلَى جَنْبِهِ ، فَقُولِي : تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ أَسْمَعْكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ ، فَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا ، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي ، فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ ، فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ ، سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، إِنَّهُ أَتَانِي أُنَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ ، فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ .
Narrated Bukair: That Kuraib, the freed slave of Ibn `Abbas told him that Ibn `Abbas, `Abdur-Rahman bin Azhar and Al-Miswar bin Makhrama sent him to `Aisha saying, Pay her our greetings and ask her about our offering of the two-rak`at after `Asr Prayer, and tell her that we have been informed that you offer these two rak`at while we have heard that the Prophet had forbidden their offering. Ibn `Abbas said, I and `Umar used to beat the people for their offering them. Kuraib added, I entered upon her and delivered their message to her.' She said, 'Ask Um Salama.' So, I informed them (of `Aisha's answer) and they sent me to Um Salama for the same purpose as they sent me to `Aisha. Um Salama replied, 'I heard the Prophet forbidding the offering of these two rak`at. Once the Prophet offered the `Asr prayer, and then came to me. And at that time some Ansari women from the Tribe of Banu Haram were with me. Then (the Prophet ) offered those two rak`at, and I sent my (lady) servant to him, saying, 'Stand beside him and say (to him): Um Salama says, 'O Allah's Apostle! Didn't I hear you forbidding the offering of these two rak`at (after the `Asr prayer yet I see you offering them?' And if he beckons to you with his hand, then wait behind.' So the lady slave did that and the Prophet beckoned her with his hand, and she stayed behind, and when the Prophet finished his prayer, he said, 'O the daughter of Abu Umaiya (i.e. Um Salama), You were asking me about these two rak`at after the `Asr prayer. In fact, some people from the tribe of `Abdul Qais came to me to embrace Islam and busied me so much that I did not offer the two rak`at which were offered after Zuhr compulsory prayer, and these two rak`at (you have seen me offering) make up for those.
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے، کہا مجھ کو عمرو بن حارث نے خبر دی اور بکر بن مضر نے یوں بیان کیا کہ عبداللہ بن وہب نے عمرو بن حارث سے روایت کیا، ان سے بکیر نے اور ان سے کریب (ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام) نے بیان کیا کہ ابن عباس، عبدالرحمٰن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ نے انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور کہا کہ ام المؤمنین سے ہم سب کا سلام کہنا اور عصر کے بعد دو رکعتوں کے متعلق ان سے پوچھنا اور یہ کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ انہیں پڑھتی ہیں اور ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پڑھنے سے روکا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں ان دو رکعتوں کے پڑھنے پر عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ( ان کے دور خلافت میں ) لوگوں کو مارا کرتا تھا۔ کریب نے بیان کیا کہ پھر میں ام المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کا پیغام پہنچایا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اس کے متعلق ام سلمہ سے پوچھو، میں نے ان حضرات کو آ کر اس کی اطلاع دی تو انہوں نے مجھ کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا، وہ باتیں پوچھنے کے لیے جو عائشہ سے انہوں نے پچھوائی تھیں۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے خود بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ عصر کے بعد دو رکعتوں سے منع کرتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ عصر کی نماز پڑھی، پھر میرے یہاں تشریف لائے، میرے پاس اس وقت قبیلہ بنو حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ یہ دیکھ کر میں نے خادمہ کو آپ کی خدمت میں بھیجا اور اسے ہدایت کر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑی ہو جانا اور عرض کرنا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا ہے: یا رسول اللہ! میں نے تو آپ سے ہی سنا تھا اور آپ نے عصر کے بعد ان دو رکعتوں کے پڑھنے سے منع کیا تھا لیکن میں آج خود آپ کو دو رکعت پڑھتے دیکھ رہی ہوں۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ سے اشارہ کریں تو پھر پیچھے ہٹ جانا۔ خادمہ نے میری ہدایت کے مطابق کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ پیچھے ہٹ گئی۔ پھر جب آپ فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوامیہ کی بیٹی! عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق تم نے سوال کیا ہے، وجہ یہ ہوئی تھی کہ قبیلہ عبدالقیس کے کچھ لوگ میرے یہاں اپنی قوم کا اسلام لے کر آئے تھے اور ان کی وجہ سے ظہر کے بعد کی دو رکعتیں میں نہیں پڑھ سکا تھا یہ وہی دو رکعتیں ہیں۔
4370
Sahih
(70) CHAPTER. The delegation of Abdul-Qais.
وفد عبدالقیس کابیان
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَوَّلُ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ بَعْدَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ عَبْدِ الْقَيْسِ بِجُوَاثَى يَعْنِي قَرْيَةً مِنَ الْبَحْرَيْنِ .
Narrated Ibn `Abbas: The first Friday (i.e. Jumua) prayer offered after the Friday Prayer offered at the Mosque of Allah's Apostle was offered at the mosque of `Abdul Qais situated at Jawathi, that is a village at Al Bahrain .
مجھ سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عبدالملک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، (یہ طہمان کے بیٹے ہیں۔) ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد یعنی مسجد نبوی کے بعد سب سے پہلا جمعہ جواثی کی مسجد عبدالقیس میں قائم ہوا۔ جواثی بحرین کا ایک گاؤں تھا۔
4371
Sahih
(71) CHAPTER. The delegation of Banu Hanifa and the narration of Thumama bin Uthal.
وفد بنو حنیفہ اور ثمامہبناثال کے واقعات کابیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ ، يُقَالُ لَهُ : ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ؟ فَقَالَ : عِنْدِي خَيْرٌ يَا مُحَمَّدُ ، إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ ، فَسَلْ مِنْهُ مَا شِئْتَ ، فَتُرِكَ حَتَّى كَانَ الْغَدُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ؟ قَالَ : مَا قُلْتُ لَكَ : إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ ، فَتَرَكَهُ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ ، فَقَالَ : مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ؟ فَقَالَ : عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ ، فَقَالَ : أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ ، فَانْطَلَقَ إِلَى نَجْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ إِلَيَّ ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِكَ ، فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيَّ ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْ بَلَدِكَ ، فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلَادِ إِلَيَّ ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ ، فَمَاذَا تَرَى ؟ فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ ، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ ، قَالَ لَهُ قَائِلٌ : صَبَوْتَ ، قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ أَسْلَمْتُ مَعَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا وَاللَّهِ لَا يَأْتِيكُمْ مِنْ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet sent some cavalry towards Najd and they brought a man from the tribe of Banu Hanifa who was called Thumama bin Uthal. They fastened him to one of the pillars of the Mosque. The Prophet went to him and said, What have you got, O Thumama? He replied, I have got a good thought, O Muhammad! If you should kill me, you would kill a person who has already killed somebody, and if you should set me free, you would do a favor to one who is grateful, and if you want property, then ask me whatever wealth you want. He was left till the next day when the Prophet said to him, What have you got, Thumama? He said, What I told you, i.e. if you set me free, you would do a favor to one who is grateful. The Prophet left him till the day after, when he said, What have you got, O Thumama? He said, I have got what I told you. On that the Prophet said, Release Thumama. So he (i.e. Thumama) went to a garden of date-palm trees near to the Mosque, took a bath and then entered the Mosque and said, I testify that None has the right to be worshipped except Allah, and also testify that Muhammad is His Apostle! By Allah, O Muhammad! There was no face on the surface of the earth most disliked by me than yours, but now your face has become the most beloved face to me. By Allah, there was no religion most disliked by me than yours, but now it is the most beloved religion to me. By Allah, there was no town most disliked by me than your town, but now it is the most beloved town to me. Your cavalry arrested me (at the time) when I was intending to perform the `Umra. And now what do you think? The Prophet gave him good tidings (congratulated him) and ordered him to perform the `Umra. So when he came to Mecca, someone said to him, You have become a Sabian? Thumama replied, No! By Allah, I have embraced Islam with Muhammad, Apostle of Allah. No, by Allah! Not a single grain of wheat will come to you from Jamaica unless the Prophet gives his permission.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف کچھ سوار بھیجے وہ قبیلہ بنو حنیفہ کے ( سرداروں میں سے ) ایک شخص ثمامہ بن اثال نامی کو پکڑ کر لائے اور مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور پوچھا ثمامہ تو کیا سمجھتا ہے؟ ( میں تیرے ساتھ کیا کروں گا؟ ) انہوں نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! میرے پاس خیر ہے ( اس کے باوجود ) اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو آپ ایک شخص کو قتل کریں گے جو خونی ہے، اس نے جنگ میں مسلمانوں کو مارا اور اگر آپ مجھ پر احسان کریں گے تو ایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو ( احسان کرنے والے کا ) شکر ادا کرتا ہے لیکن اگر آپ کو مال مطلوب ہے تو جتنا چاہیں مجھ سے مال طلب کر سکتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے آئے، دوسرے دن آپ نے پھر پوچھا: ثمامہ اب تو کیا سمجھتا ہے؟ انہوں نے کہا، وہی جو میں پہلے کہہ چکا ہوں، کہ اگر آپ نے احسان کیا تو ایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو شکر ادا کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر چلے گئے، تیسرے دن پھر آپ نے ان سے پوچھا: اب تو کیا سمجھتا ہے ثمامہ؟ انہوں نے کہا کہ وہی جو میں آپ سے پہلے کہہ چکا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ثمامہ کو چھوڑ دو ( رسی کھول دی گئی ) تو وہ مسجد نبوی سے قریب ایک باغ میں گئے اور غسل کر کے مسجد نبوی میں حاضر ہوئے اور پڑھا «أشهد أن لا إله إلا الله،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأشهد أن محمدا رسول الله» اور کہا اے محمد! اللہ کی قسم روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرے سے زیادہ میرے لیے برا نہیں تھا لیکن آج آپ کے چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ میرے لیے محبوب نہیں ہے۔ اللہ کی قسم کوئی دین آپ کے دین سے زیادہ مجھے برا نہیں لگتا تھا لیکن آج آپ کا دین مجھے سب سے زیادہ پسندیدہ اور عزیز ہے۔ اللہ کی قسم! کوئی شہر آپ کے شہر سے زیادہ برا مجھے نہیں لگتا تھا لیکن آج آپ کا شہر میرا سب سے زیادہ محبوب شہر ہے۔ آپ کے سواروں نے مجھے پکڑا تو میں عمرہ کا ارادہ کر چکا تھا۔ اب آپ کا کیا حکم ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بشارت دی اور عمرہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ جب وہ مکہ پہنچے تو کسی نے کہا کہ تم بےدین ہو گئے ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایمان لے آیا ہوں اور اللہ کی قسم! اب تمہارے یہاں یمامہ سے گیہوں کا ایک دانہ بھی اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دے دیں۔
4372
Sahih
(71) CHAPTER. The delegation of Banu Hanifa and the narration of Thumama bin Uthal.
وفد بنو حنیفہ اور ثمامہبناثال کے واقعات کابیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَدِمَ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ ، يَقُولُ : إِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ تَبِعْتُهُ ، وَقَدِمَهَا فِي بَشَرٍ كَثِيرٍ مِنْ قَوْمِهِ ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِطْعَةُ جَرِيدٍ ، حَتَّى وَقَفَ عَلَى مُسَيْلِمَةَ فِي أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : لَوْ سَأَلْتَنِي هَذِهِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتُكَهَا ، وَلَنْ تَعْدُوَ أَمْرَ اللَّهِ فِيكَ ، وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّكَ اللَّهُ ، وَإِنِّي لَأَرَاكَ الَّذِي أُرِيتُ فِيهِ مَا رَأَيْتُ ، وَهَذَا ثَابِتٌ يُجِيبُكَ عَنِّي ، ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ .
Narrated Ibn `Abbas: Musailima Al-Kadhdhab came during the lifetime of the Prophet and started saying, If Muhammad gives me the rule after him, I will follow him. And he came to Medina with a great number of the people of his tribe. Allah's Apostle went to him in the company of Thabit bin Qais bin Shammas, and at that time, Allah's Apostle had a stick of a date-palm tree in his hand. When he (i.e. the Prophet ) stopped near Musailima while the latter was amidst his companions, he said to him, If you ask me for this piece (of stick), I will not give it to you, and Allah's Order you cannot avoid, (but you will be destroyed), and if you turn your back from this religion, then Allah will destroy you. And I think you are the same person who was shown to me in my dream, and this is Thabit bin Qais who will answer your questions on my behalf. Then the Prophet went away from him.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی حسین نے، کہا ہم کو نافع بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مسیلمہ کذاب آیا، اس دعویٰ کے ساتھ کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے بعد ( اپنا نائب و خلیفہ ) بنا دیں تو میں ان کی اتباع کر لوں۔ اس کے ساتھ اس کی قوم ( بنو حنیفہ ) کا بہت بڑا لشکر تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک ٹہنی تھی۔ جہاں مسیلمہ اپنی فوج کے ساتھ پڑاؤ کئے ہوئے تھا، آپ وہیں جا کر ٹھہر گئے اور آپ نے اس سے فرمایا اگر تو مجھ سے یہ ٹہنی مانگے گا تو میں تجھے یہ بھی نہیں دوں گا اور تو اللہ کے اس فیصلے سے آگے نہیں بڑھ سکتا جو تیرے بارے میں پہلے ہی ہو چکا ہے۔ تو نے اگر میری اطاعت سے روگردانی کی تو اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کر دے گا۔ میرا تو خیال ہے کہ تو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا۔ اب تیری باتوں کا جواب میری طرف سے ثابت بن قیس دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے۔
4373
Sahih
(71) CHAPTER. The delegation of Banu Hanifa and the narration of Thumama bin Uthal.
وفد بنو حنیفہ اور ثمامہبناثال کے واقعات کابیان
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَسَأَلْتُ عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكَ أُرَى الَّذِي أُرِيتُ فِيهِ مَا أَرَيْتُ ، فَأَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، رَأَيْتُ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا ، فَأُوحِيَ إِلَيَّ فِي الْمَنَامِ أَنِ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا ، فَطَارَا ، فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ بَعْدِي ، أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةُ .
I asked about the statement of Allah's Apostle : You seem to be the same person who was shown to me in my dream, and Abu Huraira informed me that Allah's Apostle said, When I was sleeping, I saw (in a dream) two bangles of gold on my hands and that worried me. And then I was inspired Divinely in the dream that I should blow on them, so I blew on them and both the bangles flew away. And I interpreted it that two liars (who would claim to be prophets) would appear after me. One of them has proved to be Al Ansi and the other, Musailima.
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے متعلق پوچھا کہ ”میرا خیال تو یہ ہے کہ تو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا۔“ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا، میں نے اپنے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن دیکھے، مجھے انہیں دیکھ کر بڑا دکھ ہوا پھر خواب ہی میں مجھ پر وحی کی گئی کہ میں ان میں پھونک مار دوں۔ چنانچہ میں نے ان میں پھونکا تو وہ اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر دو جھوٹوں سے لی جو میرے بعد نکلیں گے۔ ایک اسود عنسی تھا اور دوسرا مسیلمہ کذاب، جن ہر دو کو خدا نے پھونک کی طرح ختم کر دیا۔
4374
Sahih
(71) CHAPTER. The delegation of Banu Hanifa and the narration of Thumama bin Uthal.
وفد بنو حنیفہ اور ثمامہبناثال کے واقعات کابیان
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، أُتِيتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ ، فَوُضِعَ فِي كَفِّي سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَكَبُرَا عَلَيَّ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا ، فَذَهَبَا فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, While I was sleeping, I was given the treasures of the earth and two gold bangles were put in my hands, and I did not like that, but I received the inspiration that I should blow on them, and I did so, and both of them vanished. I interpreted it as referring to the two liars between whom I am present; the ruler of Sana and the Ruler of Yamaha.
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے ان سے ہمام نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خواب میں میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے۔ یہ مجھ پر بڑا شاق گزرا۔ اس کے بعد مجھے وحی کی گئی کہ میں ان میں پھونک ماروں۔ میں نے پھونکا تو وہ اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر دو جھوٹوں سے لی جن کے درمیان میں، میں ہوں یعنی صاحب صنعاء ( اسود عنسی ) اور صاحب یمامہ ( مسیلمہ کذاب ) ۔“
4375
Sahih
(71) CHAPTER. The delegation of Banu Hanifa and the narration of Thumama bin Uthal.
وفد بنو حنیفہ اور ثمامہبناثال کے واقعات کابیان
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَهْدِيَّ بْنَ مَيْمُونٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ ، يَقُولُ : كُنَّا نَعْبُدُ الْحَجَرَ ، فَإِذَا وَجَدْنَا حَجَرًا هُوَ أَخْيَرُ مِنْهُ أَلْقَيْنَاهُ وَأَخَذْنَا الْآخَرَ ، فَإِذَا لَمْ نَجِدْ حَجَرًا جَمَعْنَا جُثْوَةً مِنْ تُرَابٍ ، ثُمَّ جِئْنَا بِالشَّاةِ فَحَلَبْنَاهُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ طُفْنَا بِهِ ، فَإِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَجَبٍ ، قُلْنَا : مُنَصِّلُ الْأَسِنَّةِ ، فَلَا نَدَعُ رُمْحًا فِيهِ حَدِيدَةٌ وَلَا سَهْمًا فِيهِ حَدِيدَةٌ إِلَّا نَزَعْنَاهُ وَأَلْقَيْنَاهُ شَهْرَ رَجَبٍ .
Narrated Abu Raja Al-Utaridi: We used to worship stones, and when we found a better stone than the first one, we would throw the first one and take the latter, but if we could not get a stone then we would collect some earth (i.e. soil) and then bring a sheep and milk that sheep over it, and perform the Tawaf around it. When the month of Rajab came, we used (to stop the military actions), calling this month the iron remover, for we used to remove and throw away the iron parts of every spear and arrow in the month of Rajab.
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے مہدی بن میمون سے سنا کہ میں نے ابورجاء عطاردی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ ہم پہلے پتھر کی پوجا کرتے تھے اور اگر کوئی پتھر ہمیں اس سے اچھا مل جاتا تو اسے پھینک دیتے اور اس دوسرے کی پوجا شروع کر دیتے۔ اگر ہمیں پتھر نہ ملتا تو مٹی کا ایک ٹیلہ بنا لیتے اور بکری لا کر اس پر دوہتے اور اس کے گرد طواف کرتے۔ جب رجب کا مہینہ آ جاتا تو ہم کہتے کہ یہ مہینہ نیزوں کو دور رکھنے کا ہے۔ چنانچہ ہمارے پاس لوہے سے بنے ہوئے جتنے بھی نیزے یا تیر ہوتے ہم رجب کے مہینے میں انہیں اپنے سے دور رکھتے اور انہیں کسی طرف پھینک دیتے۔
4376
Sahih
(71) CHAPTER. The delegation of Banu Hanifa and the narration of Thumama bin Uthal.
وفد بنو حنیفہ اور ثمامہبناثال کے واقعات کابیان
وَسَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ ، يَقُولُ : كُنْتُ يَوْمَ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا أَرْعَى الْإِبِلَ عَلَى أَهْلِي ، فَلَمَّا سَمِعْنَا بِخُرُوجِهِ فَرَرْنَا إِلَى النَّارِ إِلَى مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ .
Abu Raja' added: When the Prophet sent with (Allah's) Message, I was a boy working as a shepherd of my family camels. When we heard the news about the appearance of the Prophet, we ran to the fire, i.e. to Musailima al-Kadhdhab.
اور میں نے ابورجاء سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو میں ابھی کم عمر تھا اور اپنے گھر کے اونٹ چرایا کرتا تھا پھر جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح ( مکہ کی خبر سنی ) تو ہم آپ کو چھوڑ کر دوزخ میں چلے گئے، یعنی مسیلمہ کذاب کے تابعدار بن گئے۔
4377
Sahih
(72) CHAPTER. The story of Al- Aswad Al-Ansi.
اسودعنسی کا قصہ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ نَشِيطٍ وَكَانَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ ، فَنَزَلَ فِي دَارِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، وَكَانَ تَحْتَهُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ كُرَيْزٍ وَهِيَ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : خَطِيبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضِيبٌ ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ ، فَكَلَّمَهُ ، فَقَالَ لَهُ مُسَيْلِمَةُ : إِنْ شِئْتَ خَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْأَمْرِ ثُمَّ جَعَلْتَهُ لَنَا بَعْدَكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ سَأَلْتَنِي هَذَا الْقَضِيبَ مَا أَعْطَيْتُكَهُ ، وَإِنِّي لَأَرَاكَ الَّذِي أُرِيتُ فِيهِ مَا أُرِيتُ ، وَهَذَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ وَسَيُجِيبُكَ عَنِّي ، فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Ubaidullah bin `Abdullah bin `Utba: We were informed that Musailima Al-Kadhdhab had arrived in Medina and stayed in the house of the daughter of Al-Harith. The daughter of Al-Harith bin Kuraiz was his wife and she was the mother of `Abdullah bin 'Amir. There came to him Allah's Apostle accompanied by Thabit bin Qais bin Shammas who was called the orator of Allah's Apostle. Allah's Apostle had a stick in his hand then. The Prophet stopped before Musailima and spoke to him. Musailima said to him, If you wish, we would not interfere between you and the rule, on condition that the rule will be ours after you... The Prophet said, If you asked me for this stick, I would not give it to you. I think you are the same person who was shown to me in a dream. And this is Thabit bin Al-Qais who will answer you on my behalf.
ہم سے سعید بن محمد جرمی نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا مجھ سے ان کے والد ابراہیم بن سعد نے، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن عبیدہ بن نشیط نے، دوسرے موقع پر (ابن عبیدہ رضی اللہ عنہ) کے نام کی تصریح ہے یعنی عبداللہ اور ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ جب مسیلمہ کذاب مدینہ آیا تو بنت حارث کے گھر اس نے قیام کیا، کیونکہ بنت حارث بن کریز اس کی بیوی تھی۔ یہی عبداللہ بن عبداللہ بن دعامر کی ماں ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے یہاں تشریف لائے ( تبلیغ کے لیے ) آپ کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ثابت رضی اللہ عنہ وہی ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب کے نام سے مشہور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آ کر ٹھہر گئے اور اس سے گفتگو کی اور اسے اسلام کی دعوت دی۔ مسیلمہ نے کہا کہ میں اس شرط پر مسلمان ہوتا ہوں کہ آپ کے بعد مجھ کو حکومت ملے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم مجھ سے یہ چھڑی مانگو گے تو میں یہ بھی نہیں دے سکتا اور میں تو سمجھتا ہوں کہ تم وہی ہو جو مجھے خواب میں دکھائے گئے تھے۔ یہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ہیں اور میری طرف سے تمہاری باتوں کا یہی جواب دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔
4378
Sahih
(72) CHAPTER. The story of Al- Aswad Al-Ansi.
اسودعنسی کا قصہ
قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي ذَكَرَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ ، أُرِيتُ أَنَّهُ وُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَفُظِعْتُهُمَا وَكَرِهْتُهُمَا ، فَأُذِنَ لِي فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا ، فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ ، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ الَّذِي قَتَلَهُ فَيْرُوزُ بِالْيَمَنِ ، وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ.
The Prophet then went away. I asked Ibn `Abbas about the dream Allah's Apostle had mentioned. Ibn `Abbas said, Someone told me that the Prophet said, When I was sleeping, I saw in a dream that two gold bangles were put in my hands, and that frightened me and made me dislike them. Then I was allowed to blow on them, and when I blew at them, both of them flew. Then I interpreted them as two liars who would appear.' One of them was Al-`Ansi who was killed by Fairuz in Yemen and the other was Musailima Al-Kadhdbab.
عبیداللہ بن عبداللہ نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے متعلق پوچھا جس کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا کہ میرے ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے ہیں۔ میں اس سے بہت گھبرایا اور ان کنگنوں سے مجھے تشویش ہوئی، پھر مجھے حکم ہوا اور میں نے انہیں پھونک دیا تو دونوں کنگن اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر دو جھوٹوں سے لی جو خروج کرنے والے ہیں۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک اسود عنسی تھا، جسے فیروز نے یمن میں قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ کذاب تھا۔
4379
Sahih
(73) CHAPTER. The story of the people of Najran (Christians).
نجران کے نصاریٰ کا قصہ
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : جَاءَ الْعَاقِبُ ، وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدَانِ أَنْ يُلَاعِنَاهُ ، قَالَ : فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : لَا تَفْعَلْ ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَاعَنَّا لَا نُفْلِحُ نَحْنُ ، وَلَا عَقِبُنَا مِنْ بَعْدِنَا ، قَالَا : إِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَنَا ، وَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا وَلَا تَبْعَثْ مَعَنَا إِلَّا أَمِينًا ، فَقَالَ : لَأَبْعَثَنَّ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ، فَاسْتَشْرَفَ لَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، فَلَمَّا قَامَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ .
Narrated Hudhaifa: Al-`Aqib and Saiyid, the rulers of Najran, came to Allah's Apostle with the intention of doing Lian one of them said to the other, Do not do (this Lian) for, by Allah, if he is a Prophet and we do this Lian, neither we, nor our offspring after us will be successful. Then both of them said (to the Prophet ), We will give what you should ask but you should send a trustworthy man with us, and do not send any person with us but an honest one. The Prophet said, I will send an honest man who Is really trustworthy. Then every one of the companions of Allah's Apostle wished to be that one. Then the Prophet said, Get up, O Abu 'Ubaida bin Al-Jarrah. When he got up, Allah's Apostle said, This is the Trustworthy man of this (Muslim) nation.
مجھ سے عباس بن حسین نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے صلہ بن زفر نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نجران کے دو سردار عاقب اور سید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرنے کے لیے آئے تھے لیکن ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ اللہ کی قسم! اگر یہ نبی ہوئے اور پھر بھی ہم نے ان سے مباہلہ کیا تو ہم پنپ نہیں سکتے اور نہ ہمارے بعد ہماری نسلیں رہ سکیں گی۔ پھر ان دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جو کچھ آپ مانگیں ہم جزیہ دینے کے لیے تیار ہیں۔ آپ ہمارے ساتھ کوئی امین بھیج دیجئیے، جو بھی آدمی ہمارے ساتھ بھیجیں وہ امین ہونا ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایک ایسا آدمی بھیجوں گا جو امانت دار ہو گا بلکہ پورا پورا امانت دار ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منتظر تھے، آپ نے فرمایا کہ ابوعبیدہ بن الجراح! اٹھو۔ جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس امت کے امین ہیں۔
4380
Sahih
(73) CHAPTER. The story of the people of Najran (Christians).
نجران کے نصاریٰ کا قصہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : ابْعَثْ لَنَا رَجُلًا أَمِينًا ، فَقَالَ : لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ، فَاسْتَشْرَفَ لَهُ النَّاسُ ، فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ .
Narrated Hudhaifa: The people of Najran came to the Prophet and said, Send an honest man to us. The Prophet said, I will send to you an honest man who is really trustworthy. Everyone of the (Muslim) people hoped to be that one. The Prophet then sent Abu Ubaida bin Al-Jarrah.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابواسحاق سے سنا، انہوں نے صلہ بن زفر سے اور ان سے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہل نجران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے ساتھ کوئی امانت دار آدمی بھیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ایسا آدمی بھیجوں گا جو ہر حیثیت سے امانت دار ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم منتظر تھے، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔
4381
Sahih
(73) CHAPTER. The story of the people of Najran (Christians).
نجران کے نصاریٰ کا قصہ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ ، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ .
Narrated Anas: The Prophet said, Every nation has an Amin (i.e. the most honest man), and the Amin of this nation is Abu 'Ubaida bin Al-Jarrah.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر امت میں امین ( امانتدار ) ہوتے ہیں اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن الجراح ہیں۔“
4382
Sahih
(74) CHAPTER. The story of Oman and Al-Bahrain.
عمان اور بحرین کاقصہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ الله رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثًا ، فَلَمْ يَقْدَمْ مَالُ الْبَحْرَيْنِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَىأَبِي بَكْرٍ أَمَرَ مُنَادِيًا ، فَنَادَى : مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنِي ، قَالَ جَابِرٌ : فَجِئْتُ أَبَا بَكْرٍ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثًا ، قَالَ : فَأَعْطَانِي ، قَالَ جَابِرٌ : فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَسَأَلْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَلَمْ يُعْطِنِي ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّالِثَةَ فَلَمْ يُعْطِنِي ، فَقُلْتُ لَهُ : قَدْ أَتَيْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي ، ثُمَّ أَتَيْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي ، ثُمَّ أَتَيْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي ، فَإِمَّا أَنْ تُعْطِيَنِي ، وَإِمَّا أَنْ تَبْخَلَ عَنِّي ، فَقَالَ : أَقُلْتَ تَبْخَلُ عَنِّي وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ قَالَهَا ثَلَاثًا ، مَا مَنَعْتُكَ مِنْ مَرَّةٍ إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُعْطِيَكَ ، وَعَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : جِئْتُهُ ، فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ : عُدَّهَا ، فَعَدَدْتُهَا ، فَوَجَدْتُهَا خَمْسَ مِائَةٍ ، فَقَالَ : خُذْ مِثْلَهَا مَرَّتَيْنِ .
Narrated Jabir bin `Abdullah: Allah's Apostle said to me, If the revenue of Al-Bahrain should come, I will give you so much and so much, repeating so much thrice. But the revenue of Al-Bahrain did not come till Allah's Apostle had died. When the revenue came during the rule of Abu Bakr. Abu Bakr ordered an announcer to announce, Whoever had any debt or promise due upon the Prophet, should present himself to me (i.e. Abu Bakr). I came to Abu Bakr and informed him that the Prophet had said (to me), If the revenue of Al-Bahrain should come, I will give you so-much and so much, repeating so much thrice. So Abu Bakr gave me (in another narration Jaibir said,). I met Abu Bakr after that and asked him (to give me what the Prophet had promised me) but he did not give me. I again went to him but he did not give me. I again went to him (for the third time) but he did not give me; On that I said to him, I came to you but you did not give me, then I came to you and you did not give me, and then again I came to you, but you did not give me; so you should either give me or else you are like a miserly to me, on that, Abu Bakr said, Do you say, 'You are like a miserly to me?' There is no worse disease than miserliness. Abu Bakr said it thrice and added, Whenever I refused to give you, I had the intention of giving you. (In another narration) Jabir bin `Abdullah said, I went to Abu Bakr (and he gave me a handful of money) and told me to count it, I counted and found it five-hundred, and then Abu Bakr said (to me), Take the same amount twice.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ انہوں نے محمد بن المنکدر سے سنا، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا جب میرے پاس بحرین سے روپیہ آئے گا تو میں تمہیں اتنا اتنا تین لپ بھر کر روپیہ دوں گا، لیکن بحرین سے جس وقت روپیہ آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی تھی۔ اس لیے وہ روپیہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہوں نے اعلان کروا دیا کہ اگر کسی کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض یا کسی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی وعدہ ہو تو وہ میرے پاس آئے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ان کے یہاں آ گیا اور انہیں بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر بحرین سے میرے پاس روپیہ آیا تو میں تمہیں اتنا اتنا تین لپ بھر کر دوں گا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ان سے ملاقات کی اور ان سے اس کے متعلق کہا لیکن انہوں نے اس مرتبہ مجھے نہیں دیا۔ میں پھر ان کے یہاں گیا اس مرتبہ بھی انہوں نے نہیں دیا۔ میں تیسری مرتبہ گیا، اس مرتبہ بھی انہوں نے نہیں دیا۔ اس لیے میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کے یہاں ایک مرتبہ آیا۔ آپ نے نہیں دیا، پھر آیا اور آپ نے نہیں دیا۔ پھر تیسری مرتبہ آیا ہوں اور آپ اس مرتبہ بھی نہیں دے رہے ہیں۔ اگر آپ کو مجھے دینا ہے تو دے دیجئیے ورنہ صاف کہہ دیجئیے کہ میرا دل دینے کو نہیں چاہتا، میں بخیل ہوں۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے کہا ہے کہ میرے معاملہ میں بخل کر لو، بھلا بخل سے بڑھ کر اور کیا عیب ہو سکتا ہے۔ تین مرتبہ انہوں نے یہ جملہ دہرایا اور کہا میں نے تمہیں جب بھی ٹالا تو میرا ارادہ یہی تھا کہ بہرحال تمہیں دینا ہے۔ اور اسی سند سے عمرو بن دینار سے روایت ہے، ان سے محمد بن علی باقر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں حاضر ہوا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک لپ بھر کر روپیہ دیا اور کہا کہ اسے گن لو۔ میں نے گنا تو پانچ سو تھا۔ فرمایا کہ دو مرتبہ اتنا ہی اور لے لو۔
4383
Sahih
(75) CHAPTER. The arrival of Al-Ashariyun and the people of Yemen.
قبیلہ اشعر اور اہلیمن کی آمد کابیان
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ فَمَكَثْنَا حِينًا مَا نُرَى ابْنَ مَسْعُودٍ وَأُمَّهُ إِلَّا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ مِنْ كَثْرَةِ دُخُولِهِمْ وَلُزُومِهِمْ لَهُ .
Narrated Abu Musa: My brother and I came from Yemen (to Medina) and remained for some time, thinking that Ibn Masud and his mother belonged to the family of the Prophet because of their frequent entrance (upon the Prophet) and their being attached to him.
مجھ سے عبداللہ بن محمد اور اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ میں اور میرے بھائی ابورحم یا ابوبردہ یمن سے آئے تو ہم ( ابتداء میں ) بہت دنوں تک یہ سمجھتے رہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہما دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہیں کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رات دن بہت آیا جایا کرتے تھے اور ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتے تھے۔
4384
Sahih
(75) CHAPTER. The arrival of Al-Ashariyun and the people of Yemen.
قبیلہ اشعر اور اہلیمن کی آمد کابیان
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ أَبُو مُوسَى أَكْرَمَ هَذَا الْحَيَّ مِنْ جَرْمٍ وَإِنَّا لَجُلُوسٌ عِنْدَهُ وَهُوَ يَتَغَدَّى دَجَاجًا ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ جَالِسٌ ، فَدَعَاهُ إِلَى الْغَدَاءِ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ ، فَقَالَ : هَلُمَّ فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ ، فَقَالَ : إِنِّي حَلَفْتُ لَا آكُلُهُ ، فَقَالَ : هَلُمَّ أُخْبِرْكَ عَنْ يَمِينِكَ ، إِنَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ فَاسْتَحْمَلْنَاهُ ، فَأَبَى أَنْ يَحْمِلَنَا ، فَاسْتَحْمَلْنَاهُ ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُتِيَ بِنَهْبِ إِبِلٍ ، فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ ، فَلَمَّا قَبَضْنَاهَا ، قُلْنَا : تَغَفَّلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا نُفْلِحُ بَعْدَهَا أَبَدًا ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا وَقَدْ حَمَلْتَنَا ، قَالَ : أَجَلْ ، وَلَكِنْ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا .
Narrated Zahdam: When Abu Musa arrived (at Kufa as a governor) he honored this family of Jarm (by paying them a visit). I was sitting near to him, and he was eating chicken as his lunch, and there was a man sitting amongst the people. Abu Musa invited the man to the lunch, but the latter said, I saw chickens (eating something (dirty) so I consider them unclean. Abu Musa said, Come on! I saw the Prophet eating it (i.e. chicken). The man said I have taken an oath that I will not ea (chicken) Abu Musa said. Come on! I will tell you about your oath. We, a group of Al-Ash`ariyin people went to the Prophet and asked him to give us something to ride, but the Prophet refused. Then we asked him for the second time to give us something to ride, but the Prophet took an oath that he would not give us anything to ride. After a while, some camels of booty were brought to the Prophet and he ordered that five camels be given to us. When we took those camels we said, We have made the Prophet forget his oath, and we will not be successful after that. So I went to the Prophet and said, O Allah' Apostle ! You took an oath that you would not give us anything to ride, but you have given us. He said, Yes, for if I take an oath and later I see a better solution than that, I act on the later (and gave the expiation of that oaths
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالسلام بن حرب نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے زہدم نے کہ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ( کوفہ کے امیر بن کر عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ) آئے تو اس قبیلہ جرم کا انہوں نے بہت اعزاز کیا۔ زہدم کہتے ہیں ہم آپ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ مرغ کا ناشتہ کر رہے تھے۔ حاضرین میں ایک اور صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی کھانے پر بلایا تو ان صاحب نے کہا کہ جب سے میں نے مرغیوں کو کچھ ( گندی ) چیزیں کھاتے دیکھا ہے، اسی وقت سے مجھے اس کے گوشت سے گھن آنے لگی ہے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آؤ بھائی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ ان صاحب نے کہا لیکن میں نے اس کا گوشت نہ کھانے کی قسم کھا رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم آ تو جاؤ میں تمہیں تمہاری قسم کے بارے میں بھی علاج بتاؤں گا۔ ہم قبیلہ اشعر کے چند لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ( غزوہ تبوک کے لیے ) جانور مانگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سواری نہیں ہے۔ ہم نے پھر آپ سے مانگا تو آپ نے اس مرتبہ قسم کھائی کہ آپ ہم کو سواری نہیں دیں گے لیکن ابھی کچھ زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ غنیمت میں کچھ اونٹ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے پانچ اونٹ ہم کو دلائے۔ جب ہم نے انہیں لے لیا تو پھر ہم نے کہا کہ یہ تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکا دیا۔ آپ کو غفلت میں رکھا، قسم یاد نہیں دلائی۔ ایسی حالت میں ہماری بھلائی کبھی نہیں ہو گی۔ آخر میں آپ کے پاس آیا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے تو قسم کھا لی تھی کہ آپ ہم کو سواری نہیں دیں گے پھر آپ نے سواری دے دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے لیکن جب بھی میں کوئی قسم کھاتا ہوں اور اس کے سوا دوسری صورت مجھے اس سے بہتر نظر آتی ہے تو میں وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے ( اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں ) ۔
4385
Sahih
(75) CHAPTER. The arrival of Al-Ashariyun and the people of Yemen.
قبیلہ اشعر اور اہلیمن کی آمد کابیان
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ : جَاءَتْ بَنُو تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ ، قَالُوا : أَمَّا إِذْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ ، قَالُوا : قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ .
Narrated `Imran bin Husain: The people of Banu Tamim came to Allah's Apostle, and he said, Be glad (i.e. have good tidings). O Banu Tamim! They said, As you have given us good tidings then give us (some material things). On that the features of Allah's Apostle changed (i.e. he took it ill). Then some people from Yemen came, and the Prophet said (to them) Accept good tidings as Banu Tamim have not accepted them. They said, We accept them, O Allah's Apostle!
مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا۔ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصخرہ جامع بن شداد نے بیان کیا، کہا ہم سے صفوان بن محرز مازنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنو تمیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو کچھ روپے بھی عنایت فرمائیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر یمن کے کچھ اشعری لوگ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے بشارت قبول نہیں کی، یمن والو! تم قبول کر لو۔ وہ بولے ہم نے قبول کی یا رسول اللہ۔
4386
Sahih
(75) CHAPTER. The arrival of Al-Ashariyun and the people of Yemen.
قبیلہ اشعر اور اہلیمن کی آمد کابیان
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْإِيمَانُ هَا هُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْيَمَنِ وَالْجَفَاءُ ، وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ .
Narrated Abu Masud: The Prophet beckoned with his hand towards Yemen and said, Belief is there. The harshness and mercilessness are the qualities of those farmers etc, who are busy with their camels and pay no attention to the religion (is towards the east) from where the side of the head of Satan will appear; those are the tribes of Rabi`a and Mudar.
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان تو ادھر ہے اور آپ نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا اور بےرحمی اور سخت دلی اونٹ کی دم کے پیچھے پیچھے چلانے والوں میں ہے، جدھر سے شیطان کے دونوں سینگ نکلتے ہیں ( یعنی مشرق ) قبیلہ ربیعہ اور مضر کے لوگوں میں۔
4387
Sahih
(75) CHAPTER. The arrival of Al-Ashariyun and the people of Yemen.
قبیلہ اشعر اور اہلیمن کی آمد کابیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَأَلْيَنُ قُلُوبًا ، الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَصْحَابِ الْإِبِلِ ، وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ ، وَقَالَ غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ : سَمِعْتُ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, The people of Yemen have come to you and they are more gentle and soft-hearted. Belief is Yemenite and Wisdom is Yemenite, while pride and haughtiness are the qualities of the owners of camels (i.e. bedouins). Calmness and solemnity are the characters of the owners of sheep.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ذکوان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے یہاں اہل یمن آ گئے ہیں، ان کے دل کے پردے باریک، دل نرم ہوتے ہیں، ایمان یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمن کی اچھی ہے اور فخر و تکبر اونٹ والوں میں ہوتا ہے اور اطمینان اور سہولت بکری والوں میں۔ اور غندر نے بیان کیا اس حدیث کو شعبہ سے، ان سے سلیمان نے، انہوں نے ذکوان سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
4388
Sahih

Chapters

78
01
(1) CHAPTER. The Ghazwa of Al-'Ushaira or Al-Usaira.
غزوہعشیرہ یا عسرہ کا بیان
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Prophet's prediction about whom he thought would be killed at Badr.
بدر کی لڑائی میں فلاں فلاں مارے جائیں گے ۔ اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشینگوئی کا بیان
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. The story of the Ghazwa of Badr.
غزوہبدر کا بیان
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. The Statement of Allah: “(Remember) when you sought help of your Lord and He answered you (saying: 'I will help you with a thousand of a angels each behind the other (following one another) in succession.' Allah made it only as glad tidings, and that your hearts be at rest therewith. And there is no victory except from Allah. verily, Allah is All-Mighty, All-Wise. (Remember) when He covered you with a slumber as a security from Him, and He caused water (rain) to descend on you from the sky, to clean you thereby and to remove from you the Rijz (whispering, evil-suggestions) of Shaitan (Satan), and to strengthen yor hearts, and make your feet firm thereby. (Remember) when your Lord revealed to the angels, 'Verily, I am with you so keep firm those who have believed. I will cast terror into the hearts of those who have disbelived, so strike them over the necks, and smite over all their fingers and toes.' This is because they defined and disobeys Allah and His Messenger, then verily, Allah is Severe in punisllment.” (V.8:9-13)
اللہ تعالیٰ کا فرمان
5 Hadith
05
(5) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
55 Hadith
06
(6) CHAPTER. The number of the warriors of Badr.
جنگبدر میں شریک ہونے والوں کا شمار
5 Hadith
07
(7) CHAPTER. Invoking evil of the Prophet on the disbelievers of Quraish, (Shaiba, Utba, Al-Walid and Abu jahl, etc.) and (the mention of) their death.
کفار قریش ، شیبہ ، عتبہ ، ولید اور ابوجہل بنہشام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بددعا کرنا اور ان کی ہلاکت کا بیان
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. The killing of Abu Jahl.
( بدر کے دن ) ابوجہل کا قتل ہونا
21 Hadith
09
(9) CHAPTER. The superiority of those who fought the battle of Badr.
بدر کی لڑائی میں حاضر ہونے والوں کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
10
(12) CHAPTER.
جنگبدر میں فرشتوں کا شریک ہونا
1 Hadith
11
(14) CHAPTER. The story of Bani An-Nadir.
بنو نضیر کے یہودیوں کے واقعہ کا بیان
8 Hadith
12
(15) CHAPTER. The killing of Kab bin Al-Ashraf.
کعببناشرف یہودی کے قتل کا قصہ
2 Hadith
13
(16) CHAPTER. The killing of Abu Rafi, Abdullah bin Abi Al-Huqaiq.
ابورافع ۔ یہودی عبداللہبنابی الحقیق کے قتل کا قصہ
2 Hadith
14
(17) CHAPTER. The Ghazwa of Uhud.
غزوہاحد کا بیان
11 Hadith
15
(18) CHAPTER: “When two parties from among you were about the lose heart, but Allah was their Wali (Protector and Supporter).” (V.3:122)
جب تم میں سے دو جماعتیں ایسا ارادہ کر بیٹھتی تھیں کہ ہمت ہار دیں حالانکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا اور ایماندار وں کو تو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے
14 Hadith
16
(22) CHAPTER. (Allah's Statement): “Not for you (O Muhammad , but for Allah) is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the Zalimun (polytheists, and wrong-doers, disobedients).” (V.3:128)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں ۔
2 Hadith
17
(23) CHAPTER. Narration regarding Umm Salit.
حضرت امسلیط رضیاللہعنہا کا تذکرہ
1 Hadith
18
(24) CHAPTER. The martyrdom of Hamza bin Abdul-Muttalib .
حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضیاللہعنہ کی شہادت کا بیان
1 Hadith
19
(25) CHAPTER. The wounds inflicted on the Prophet on the day (of the battle) of Uhud.
غزوہاحد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو زخم پہنچے تھے ان کا بیان
2 Hadith
20
(26) CHAPTER. (Allah's Statement):- “Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger (Muhammad )... (V.3:172)
وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی آواز کو عملاً قبول کیا ( یعنی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل کے لیے فوراً تیار ہو گئے )
1 Hadith
21
(27) CHAPTER. The Muslims who were killed on the day (of the battle) of Uhud.
جن مسلمانوں نے غزوہاحد میں شہادت پائی ان کا بیان ۔
5 Hadith
22
(28) CHAPTER. “Uhud is a mountain that loves us and is loved by us.”
ارشاد نبوی کہ احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے ۔
3 Hadith
23
(29) CHAPTER. The Ghazwa (i.e., battle) of Ar-Raji, Ril, Dhakwan and Bir Mauna.
غزوہ رجیع کا بیان
11 Hadith
24
(30) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Khandaq which is called Al-Ahzab Battle.
غزوہخندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہاحزاب ہے ۔
20 Hadith
25
(31) CHAPTER. The return of the Prophet from (the battle of) the Ahzab (Confederates) and his going out to Bani Quraiza and his besieging them.
غزوہاحزاب سے نبی کریم کا واپس لوٹنا اور بنوقریظہ پر چڑھائی کرنااور ان کا محاصرہ کرنا
8 Hadith
26
(32) CHAPTER. The Ghazwa (i.e., battle) of Dhat-ur-Riqa.
غزوہ ذاتالرقاع کا بیان
13 Hadith
27
(33) CHAPTER. The Ghazwa of Banu Al-Mustaliq which belongs to the tribe of Khuzaa. It is also called the Ghazwa of Al- Muraisi.
غزوہ بنو المصطلق کا بیان جو قبیلہ بنو خزاعہ سے ہوا تھا اور یہی غزوہ مریسیع ( بھی کہلاتا ) ہے
2 Hadith
28
(34) CHAPTER. The Ghazwa of Anmar.
غزوہ انمار کا بیان
1 Hadith
29
(35) CHAPTER. The narration of AI-Ifk.
واقعہ افک کا بیان
7 Hadith
30
(36) CHAPTER. The Ghazwa of Al- Hudaibiya.
غزوہ حدیبیہ کا بیان
44 Hadith
31
(37) CHAPTER. The story of (the tribes of) 'Ukl and 'Uraina.
قبائل عکل اور عرینہ کا قصہ
2 Hadith
32
(38) CHAPTER. Ghazwa Dhat-Qarad.
ذات قرد کی لڑائی کا بیان
1 Hadith
33
(39) CHAPTER. Ghazwa of Khaibar.
غزوہخیبر کا بیان
49 Hadith
34
(40) CHAPTER. The appointment of a ruler for Khaibar by the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیبر والوں پر تحصیل دار مقرر فرمانا
4 Hadith
35
(41) CHAPTER. The dealing of the Prophet with the people of Khaibar.
خیبر والوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ طے کرنا
1 Hadith
36
(42) CHAPTER. The sheep which was poisoned (and presented) to the Prophet at Khaibar.
اس بکری کا گوشت جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر میں زہر دیا گیا تھا ۔ اس کو عروہ نے عائشہ رضیاللہعنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔
1 Hadith
37
(43) CHAPTER. The Ghazwa of Zaid bin Haritha.
غزوہ زیدبنحارثہ کا بیان
1 Hadith
38
(44) CHAPTER. The Umra Al-Qada.
عمرہ قضاء کا بیان
9 Hadith
39
(45) CHAPTER. The Ghazwa of Mu'tah in the land of Sham.
غزوہموتہ کا بیان جو سرزمین شام میں سنہ 8ھ میں ہوا تھا
9 Hadith
40
(46) CHAPTER. The despatch of Usama bin Zaid by the Prophet towards Al-Huraqat, (a place of the tribe of Juhaina).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بنزید رضیاللہعنہ کو حرقات کے مقابلہ پر بھیجنا
4 Hadith
41
(46) CHAPTER. The despatch of Usama bin Zaid by the Prophet towards Al-Huraqat, (a place of the tribe of Juhaina).
غزوہ فتح مکہ کا بیان
5 Hadith
42
(48) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Fath (was fought) during Ramadan.
غزوہ فتح مکہ کا بیان جو رمضان سنہ 8 ھ میں ہوا تھا
2 Hadith
43
(49) CHAPTER. Where did the Prophet fix the flag on the day of the conquest of Makkah?
فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا کہاں گاڑا تھا ؟
9 Hadith
44
(50) CHAPTER. The entrance of the Prophet from the upper part of Makkah.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر کے بالائی جانب سے مکہ میں داخل ہونا
3 Hadith
45
(52) CHAPTER.
فتح مکہ کے دن قیام نبوی کا بیان
5 Hadith
46
(53) CHAPTER. The stay of the Prophet in Makkah during the period of the Conquest (of Makkah).
فتح مکہ کے زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں قیام کرنا
3 Hadith
47
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: (“Truly, Allah has given you victory on many battlefields), and on the day of Hunain (battle) when you rejoiced at your great number… (up to)… Oft-Forgiving, Most Merciful.” (V.9:22-27)
جنگ حنین کابیان
9 Hadith
48
(56) CHAPTER. The Ghazwa of Autas.
غزوہ اوطاس کا بیان
1 Hadith
49
(57) CHAPTER. The Ghazwa of At-Ta'if was in the month of Shawwal, during the 8th year (of Al-Hijrah).
غزوہطائف کا بیان جوشوال سنہ 8ھ میں ہوا ۔ یہ موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیاہے
14 Hadith
50
(58) CHAPTER. The Sariya (i.e., an army unit sent by the Prophet ) which was sent towards Najd.
نجد کی طرف جو لشکرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا ، اس کا بیان
1 Hadith
51
(59) CHAPTER. The Prophet sent Khalid bin Al-Walid (to fight) with Banu Jadhima.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خالدبنولید ر ضی اللہ عنہ کو بنیجذیمہ قبیلے کی طرف بھیجنا
1 Hadith
52
(60) CHAPTER. The Sariya of Abdullah bin Hudhafa As-Sahmi and Alqama bin Majazziz Al-Mudliji, and it is said that it was called the Sariya of the Ansar.
عبداللہبنحذافہ سہمی رضی اللہ عنہ
1 Hadith
53
(61) CHAPTER. The sending of Abu Musa and Mu'adh to Yemen before the Hajjat-al-Wada.
حجۃالوداع سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوموسیٰاشعری اور حضرت معاذبنجبل رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
8 Hadith
54
(62) CHAPTER. The sending Ali bin Abi Talib and Khalid bin Al-Walid Yemen before Hajjat-al-Wada'.
حجۃالوداع سے پہلے علی بنابیطالب اور خالدبنولید رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
6 Hadith
55
(63) CHAPTER. Ghazwa Dhul-Khalasa.
غزوہ ذوالخلصہ کا بیان
3 Hadith
56
(64) CHAPTER. The Ghazwa of Dhat-us-Salasil, which is the Ghazwa of Lakhm and Judham.
غزوہ ذاتالسلاسل کا بیان
1 Hadith
57
(65) CHAPTER. The departure of Jarir to Yemen.
حضرت جریر بنعبداللہ بجلی رضیاللہعنہ کا یمن کی طرف جانا
1 Hadith
58
(66) CHAPTER. The Ghazwa of the sea-coast.
غزوہ سیفالبحر کا بیان
3 Hadith
59
(67) CHAPTER. The Hajj in which Abu Bakr led the people in the 9th year (of Al-Hijrah)
حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ کا لوگوں کے ساتھ سنہ ۹ھ میں حج کرنا
2 Hadith
60
(68) CHAPTER. The delegation of Bani Tamim.
بنیتمیم کے وفد کا بیان
1 Hadith
61
(69) CHAPTER.
محمد بن اسحاق نے کہا کہ
2 Hadith
62
(70) CHAPTER. The delegation of Abdul-Qais.
وفد عبدالقیس کابیان
4 Hadith
63
(71) CHAPTER. The delegation of Banu Hanifa and the narration of Thumama bin Uthal.
وفد بنو حنیفہ اور ثمامہبناثال کے واقعات کابیان
6 Hadith
64
(72) CHAPTER. The story of Al- Aswad Al-Ansi.
اسودعنسی کا قصہ
2 Hadith
65
(73) CHAPTER. The story of the people of Najran (Christians).
نجران کے نصاریٰ کا قصہ
3 Hadith
66
(74) CHAPTER. The story of Oman and Al-Bahrain.
عمان اور بحرین کاقصہ
1 Hadith
67
(75) CHAPTER. The arrival of Al-Ashariyun and the people of Yemen.
قبیلہ اشعر اور اہلیمن کی آمد کابیان
8 Hadith
68
(76) CHAPTER. The story of Daus and Tufail bin Amr Ad-Dausi.
قبیلہدوس اور طفیل بنعمر و دوسی رضیاللہعنہ کا بیان
2 Hadith
69
(77) CHAPTER. The delegation of Taiy, and the narration of Adi bin Hatim.
قبیلہ طے کے وفد اور عدی بنحاتم رضیاللہعنہ کا قصہ
1 Hadith
70
(78) CHAPTER. Hajjat-ul-Wada.
حجۃالوداع کابیان
20 Hadith
71
(79) CHAPTER. The Ghazwa of Tabuk, which is also called Ghazwa AI-Usrah (i.e., the battle of hardship).
غزوہتبوک کا بیان ، اس کا دوسرا غزوہ عسرت یعنی ( تنگی کا غزوہ ) بھی ہے ۔
3 Hadith
72
(80) CHAPTER. The narration of Kab bin Malik.
حضرت کعب بنمالک رضیاللہعنہ کے واقعہ کا بیا ن
1 Hadith
73
(81) CHAPTER. The dismounting of the Prophet at (the place called) Al-Hijr.
حجر بستی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گزرنا
2 Hadith
74
(83) CHAPTER. The letter of the Prophet to Kisra (Khosrau) and Qaiser (Caesar).
کسریٰ ( شاہایران ) اور قیصر ( شاہروم ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطوط لکھنا
4 Hadith
75
(84) CHAPTER. The sickness of the Prophet and his death.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان
35 Hadith
76
(85) CHAPTER. The last statement, the Prophet spoke.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ جو زبان مبارک سے نکلا
4 Hadith
77
(88) CHAPTER. The despatch of Usama bin Zaid by the Prophet during his fatal illness.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کااسامہ بنزید رضیاللہعنہ کو مرضالموت میں ایک مہم پر روانہ کرنا
1 Hadith
78
(90) CHAPTER. How many Ghazawat the Prophet fought.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کل کتنے غزوے کئے ہیں ؟
3 Hadith
No chapter matched that.